Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 22) Part - 2

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

روحا نے ڈرتے گھبراتے ہوے اپنی آنکھیں کھولی

تو اپنے سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ کر حیران رہ گی ۔۔

ہاہاہاہاہاہہاہاہہاہہہاہا۔

روحا سامنے دیکھ کر قہقہ لگا کر پاگل ہو رہی تھی ۔

ہانی مکیسی پر کورٹ پہنے ہارون کی طرح چلتی ہوی روحا کے سامنے آرہی تھی

ہانی کچھ شرم کر لو

مجھے لگا ہارون آ گے ہے

۔روحا نے قہقہ لگاتے ہوے کہا۔

ہارون تو روحا کو ایسے مسکراتے دیکھ کر حیران تھا

۔آج سے پہلے اس نے کبھی روحا کو ایسے ہستے نہیں دیکھا تھا ۔۔

ہاہاہا۔۔۔

ہاے میری پنک روز میں تو بے شرم ہو تم ہی کہتی ہو ۔

تمہں پتہ ہے پنک کلر میرا فیورٹ ہے تبھی تم میری پنک روز ہو ۔

ہانی نے ہارون کی طرح اپنی انکھ ونک کرتے کہا ۔۔۔

ہاہاہا

۔ہانی بس کرو یار

میں نے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جانا روحا نے مسلسل سرخ چہرے کے ساتھ ہستے ہوے کہا۔۔۔

پنک روز تم مسکراتی ہوی بہت پیاری لگتی ہو میری زندگی میرا عشق ہو تم

۔ہانی نے روحا کا ہاتھ پکڑ کر ہارون کے انداز میں کہا ۔

روحا تو شرم سے پانی پانی ہوگی ۔

یہ ہی حال ہارون کا تھا ۔

💖💖💖💖چل دیا

دل تیرے پیچھے پیچھے❤

دیکھتا میں رہ گیا ۔❤۔

کچھ تو ہے❤

تیرے میرے درمیان❤

ان کہا سا رہ گیا ۔❤

میں جو کبھی کہہ نہ سکا❤

آج کہتا ہو پہلی دفعہ ❤

❤دل میں ہو تم ❤

آنکھوں میں تم ❤

پہلی نظر سے ہی یارا ۔۔❤

یہ عشق کی ❤

ہے سازیشیں

لو آ ملے ہم دوبارہ ۔۔❤

دل میں ہو تم آنکھوں میں تم ❤

پہلی نظر سے ہی یارا ۔۔۔🙈💖💖

ہانی روحا کا ہاتھ گھوما کر اس کے ساتھ کپل ڈانس کر رہی تھی ۔

روحا تو گانے کے بول سن کر حیران رہ گی ۔

کیونکہ ہارون کی حالت ان الفاظ جیسی ہی تھی ۔

ہارون کو یاد کرتے روحا کے چہرے پر مسکرائٹ آگی ۔

اور وہ مسکرائٹ کسی سے چپھی نہ رہ سکی ۔۔

ہاے روح تو شرما گی ۔۔

پری نے روحا کو تنگ کرنے کے لیے کہا ۔۔

دفعہ ہو بے شرم ۔

روحا نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔

اس کے قہقے ہارون کو حیران کر رہے تھے ۔

———————————————-

ویسے ہارون مبارک ہو

تیری بیوی اب بالکل مکمل طور پر تجھ سے راضی ہے۔اسامہ نے انکھ ونک کرتے کہا ۔۔۔

اگر تو چاہتا ہے کہ عمارہ کے پاس آج صیح سلامت پہنچ جاے تو اپنی بکواس بند رکھ ۔

ہارون نے دانت پیستےہوے کہا (گویا ان دانتوں میں اسامہ کو کچا چبا رہا ہو ).

بس کر دے

آگر اللہ نے تمہں اتنی باڈی دی ہے

ہر وقت میرے جیسے معصوم پر ظلم کرنے کو تیار رہتے ہو تم کھڑوس انسان ۔

اسامہ نے ہارون کا کسرتی جسم دیکھ کر ڈرتے ہوے کہا ۔(اسے ڈر تھا واقعی ہارون آج اس کا قمیہ نہ بنا دے ).

———————————————————————-

“جانِ برہان ۔۔

پری جس کے دانت اندر ہی نہیں جا رہے تھے

۔لفظ جانِ برہان سن کر اسے شوک لگا تھا ۔

ادھر ادھر برہان کو ڈھونڈ رہی تھی

۔اسے برہان کہیں نظر آیا ۔۔

سامنے علیزے مکیسی کے اوپر ہی ٹی شرٹ پہنے کھڑی تھی

۔(ہانی نے سب کی آواز ریکاڈ کی ہوی تھی ۔کون اپنی بیوی کو کس نام سے پکارتا ہے وہ ریکاڈرنگ آن کرکے سب کو حیران کر رہی تھی یہ کام اس نے کیسے کیا یہ صرف وہی جانتی تھی).

❤❤تو جو کہہ دے تو میں جننا چھوڑ دو ۔😍

بن سوچے ایک پل سانس لینا چھوڑ دو ۔😍

نہ رہو 😘

نہ جیو 😘

کوئ لمحہ تیرے بن ۔😘

زندگی😘

ہے تھمی😍

تجھ میں ہی کہی ۔😘

تو دعا ہے دعا ہے خواہشوں کی دعا ۔👐❤

تو دعا ہے دعا ہے خواہشوں کی دعا ۔”👐❤

علیزے پری کے ساتھ کپل ڈانس کر رہی تھی ۔

پری شرم سے پاگل ہو رہی تھی ۔

اس کے گال سرخ ٹماٹر جیسے ہورے تھے

۔برہان پری کی حالت دیکھ کو فل انجواۓ کر رہا تھا ۔۔

ہاے میری ٹھرکی بھابھی آج شرما رہی ہے

۔ہانی نے پری کے گالوں کو چھوتے ہوے تنگ کرنے کے لیے کہا ۔۔

دفع ہو موٹی باز آ جا ۔

پری نے مصوعنی غصہ سے کہا ۔۔

ہاہاہاہہاہاہاہاہا ۔۔

باز آ جاے وہ بھی حنین زیان شاہ کبھی نہیں

۔ہانی نےقہقہ لگاتےہوے کہا ۔۔

زیان حنین کے منہ سے اپنا پورا نام سن کر شوک رہ گیا ۔۔

وہی سب نے ہوٹنگ سارٹ کر دی

۔ہانی اور زیان کو سمجھ نہ آی وہ کیا بولے ۔۔

ہانی کے منہ سے زیان نام زرا اچھا نہیں لگا تھا۔۔

اسامہ نے سنجیدگی سے کہا لیکن اس کی آنکھوں میں صاف شرارت دیکھ رہی تھی ۔۔

ہاہاہا بالکل ہارون نے فوری ہامی بھری ۔

دفعہ ہو جاٶ بے غیرتوں

زیان نے دونوں کو کشن مارتے ہوے کہا ۔

اور سب کے قہقے گونج رہے اٹھے

———————————————————————-

”جانِ اسامہ ۔۔

عمارہ جو بلاج کے ساتھ مصروف تھی

۔اسامہ کی آواز سن کر اس کی بھی ہواہیاں اڑگی ۔

لیکن اپنے سامنے پری کو دیکھ کر اس کی ہنسی چھوٹ گی ۔

کیونکہ پری اسامہ کا کرتا پہنے کے چکر میں اپنا حیلہ بگاڑ چکی تھی۔۔۔

عمارہ کو اتنا کھل کر مسکراتے ہوے اسامہ زیان دونوں حیران تھے ۔

کیونکہ وہ اتنا مسکراتی نہیں تھی ۔۔

😋😍😍 طلب ہے تو ہے نشہ۔😘

ہر لمحے دل یہ تیرا ۔😍

کھل کر ذرا جی لو تجھے ۔😍

آجا میری سانسوں میں آ ۔😘

مریضِ عشق ہو میں کر دے دعا ۔👐❤

ہاتھ رکھ لے تو دل پر ذرا “✋❤

پری نے عمارہ کے ساتھ کپل ڈانس کیا

جس میں عمارہ نے خوشی خوشی پورا ساتھ دیا ۔۔

اسامہ کو یاد کر کے ۔

———————————–

ویسے ٹھرکی

ارف پیارے بہنونئ ۔

شکریہ میری بہن کو مکمل کرنے کے لیے اس کے چہرے پر جو خوشی سکون مجھے اب نظر آتا ہے وہ میں نے کبھی نہیں دیکھا ۔۔

زیان نے خوشی سے مسکرا کر کہا ۔

زیان کی بات پر اسامہ خوش ہو گیا ۔۔

شکر ہے

اس کی معصوم بیوی اس سے خوش ہے ۔

———————————————————————–

“جانِ بابر ۔

میری پٹھانی ۔

بابر کی آواز سن کر علیزے پاگلوں کی طرح قہقے لگانے لگی ۔۔

کیونکہ اس کے سامنے ہانی فوجی یونیفارم میں کھڑی بہت کیوٹ لگ رہی تھی ۔

😍💞🙈

محتصر ملاقاتیں😐

عمر بھر کی بے چینی 😕

تیرے عشق نے اکثر راتیں میری چھنی ۔😧

جو کہہ نہ سکے میری مکمل زندگانی ہے تو ۔😍

تیرے چہرے سے اب نظر میری ہٹتی نہیں ۔🙈

تیری دعاوں میں شامل میری دعا ۔رہتی ہے

تجھ سے کہا جدا ہو 😍

میں تجھ پر ہی فنا ہو میں ۔”😍

دونوں نےمل کر مستی کرکے ڈانس کیا

۔علیزے اس کا پورا ساتھ دے رہی تھی ۔۔

بابر یہ سب دیکھ کر قہقہ لگا رہا تھا ۔۔

ویسے زیان تمہاری بیوی پورا پٹاخہ ہے جس کا سپکیر بند نہیں ہوتا ۔

اور موج مستی میں سب سے آگے نظر آتی ہے

۔ہم سب کی بیویاں تو زبان بھی سوچ سمجھ کر استعمال کرتی ہے ۔

کہ کہیں خرچ زیادہ نہ ہو جاے ۔

اور ایک تیری بیوی ہے جو اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتی ۔۔

اسامہ نے ہانی کو دیکھتے ہوے قہقہ لگا کر کہا ۔۔

(

اس کی وجہ سے سب کے چہرے پر رونق آ جاتی ہے ۔

برہان نے ہانی کی طرف محبت سے دیکھ کر کہا ۔۔

(بھای بہن کے پیار جیسا کسی کا پیار ہو نہیں سکتا ۔).

زیان بالکل خاموش تھا

اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کہے

————————————————————

ہانی سب کے ساتھ ہنسی مذاق میں مصروف تھی

۔جب اسے اپنے جسم پر عجیب سا لمس محسوس ہوا ۔

روحا ہانی کو اپنے حصار میں لیے کھڑی تھی ۔

زیان جیسا پولیس یونیفارم پہن کر

ہانی تو روحا کو اس حلیے میں دیکھ کر دنگ رہ گی ۔۔

💓💓💓💕💕تیری یادیں

تیری ملاقاتیں 😍

میں کیسے بھول جاٶ وہ چاہیت کی برسایتں 😍

تو ہی میرا دل ہے تو ہی میری جان 😘

کبھی تو پاس میرے آو 😍

کبھی تو نظریں مجھ سے ملاٶ😍

او جاناں۔😘

میری جان پلیکں یوں نہ جھکانا 😍

۔میری جان مجھ سے دور نہ جانا ۔۔😍

میری جان مجھ کو بھول نہ جانا😍

او جاناں 😘

مجھے لوٹا دے😍

وہ میرا پیار😍

مجھے لوٹا دے😍

وہ میرا پیار ۔۔”😍

روحا ہانی کو زور زور سے گھوما رہی تھی ۔

اور مسلسل اسے کس کیے جا رہی تھی ۔۔

سب کے منہ حیرت سے کھولے ہوے تھے ۔

ہارون کا سب زیادہ برا حال تھا صدمے میں وہ اپنی پنک زور کو دیکھ رہا تھا

۔۔(ہاے میری پنک روز نے کبھی مجھے ایسی کس نہیں کی ۔ہارون نے دل میں افسودگی سے سوچا

۔ آج رات پکا اپنی پنک روز سے کس لو گا ۔”ہاں ”ہارون نے دل میں پختہ ارادہ کیا ۔۔).

گانا ختم ہونے کے بعد سب نے ایک ساتھ قہقہ لگایا ۔۔

—————-*-*-

ویسے ہارون ہانی کو چھوڑ روحا بھابھی نے آج سب کو حیران کر دیا ۔

زیان نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔۔

ہاں یار میں خود حیران ہو ۔

ہارون نے صدمے کی حالت میں کہا ۔۔۔

————————————————————

👯کپڑے ادلے بدلے

👗جوتے بھی چپلے ۔👠👡

ٹاپ جو تو لے گی تھی🎽

تو اپنے پاس ہی رکھ لے 🎽

ویسے تو میری بہناں تیرے لیے مار بھی کھای👢

سیلری دو مہنیے کی تیرے برتھ ڈے پر اڑای ۔🎂

اور اس کیا جو تو برسوں میری ٹھوکی گاڑی ۔🚗

یارا تیری میری یاری سب سے پیاری 👭

یارا تیری میری یاری سب سے پیاری 👯

اب تو دیکھ دیکھ کر دنیا جلنے والی ”😌😏

ہانی علیزے جوش کے ساتھ گانے میں مصروف تھی ۔

گانے کے ساتھ دونوں سیٹپ بھی کر رہی تھی ۔

بابر زیان دونوں ان کی آواز پر دنگ رہ گے ۔

سریلی آواز میں دونوں اپنی دوستی کا اظہار کر رہی تھی

–۔

*———————-

”یار تو رہنے دے 😒

تیرے کہنے پر 😞

میں نے بندے سے جھوٹ بولا😢

گوا جانے کا پلان تھا اس کا ✈

میں نے منع کر کے دل توڑا 💔

اب اس کا جو دو دن بواۓ فرینڈ کرنے والا ۔۔😒😒

پری روحا عمارہ ان دونوں کی حالت دیکھ کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی ۔

کیونکہ دونوں نے ایسا ہی دوستی رومنیس شروع کیا ہوا تھا ۔

ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈال کر ۔۔

————————-

دیکھ زیان بابر تم دونوں کی بیویاں مشکوک لگ رہی ہے ۔

اسامہ نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔۔

دفع ہو بے غیرت

زیان نے اسامہ کے کشن مارتے ہوے مصوعنی غصے سے کہا ۔۔

ہانی کو دیکھ کر زیان بے قابو ہو رہا تھا ۔

وہ بھی سب کی طرح خوش ہونا چاہتا تھا ۔

سب اپنی بیویوں کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے ۔

لیکن ہانی نے اسے اتنا حق نہیں دیا

۔کہ وہ اسے دیکھ کر خوش ہو ۔

زیان نے افسوس سے سوچا ۔۔

———————————

“سنا میں کیسے بھولٶں دوست نہ ملے دنیا میں تمہارے جیسے ۔😍

مجھ پاگل کو کھلاتے ہے اگر ساتھ میں نہیں ہو پیسے 🍕

سالوں ملتے رہو تو پچھڑے یاد آی گی یاری 😢

یارا تیری میری یار سب سے پیاری 👭

اب تو دنیا دیکھ دیکھ کر جلنے والی “😌😏

اب وہ پانچوں ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈال کر ایک ساتھ ڈانس کے سیپٹ کر رہی تھی ۔۔💃💃💃💃💃

وہ سب بہت پیاری لگ رہی تھی ۔

————————-

چلو گیم کھلتے ہے ایک

ہانی نے جوش سے کہا

کیا گیم روحا نے بے چینی سے پوچھا

ہم سب ایک اپنے شوہر کی کوی خواہش بتاے گی

اور اپنی فیلیگز بھی

علیزے نے گیم بتای سب کو ہی پسند آی

——————————-

پہلے روحا آپو بتاے گی

ہانی نے خوش ہوتے ہوے کہا

ہارون کو بیٹا چاہے

روحا نے شرماتے ہوے بتایا

روحا اور ہارون بھی مسکرا رہے تھے

آپو اپ محبت کرتی ہے بھای سے

ہانی نے مسکراتے ہوے پوچھا

بہت بلکہ ان کے بغیر روحا ادھوری ہے

روحا نے شرماتے ہوے بتایا

سب نے ایک ساتھ ہی ہوٹینگ سٹارٹ کردی

——————————

روحا کی بات پر ہارون حیران تھا

کبھی میرے سامنے تو یہ سب کہا نہیں ہارون نےمسکراتے ہوے سوچا

😂😂😂😂😂ہاہاہاہاہاہاہاہاہ

ہارون پھر جلد ہی ہمیں دوبارہ خوشخبری ملے گی چاچو بنے کی

اسامہ نے بےشرمی سے کہا

ہاں بہت جلد

ہارون نے بھی بے شرمی سے جواب دیا

———————–

پری برہان کی تو خواہش دس بچوں کی ہے مجھے پتہ ہے بس تم پوری کردینا

ورنہ میرے ہاتھوں زندہ نی بچ سکو گی

ہانی نے قہقہ لگاتے ہوے دھمکی دی

دفعہ ہو موٹی

جیسا بھای بے شرم ویسی بہن بےشرم

پری نے مصنوعی غصے سے کہا

چل بتا کتنی محبت کرتی ہو میرے بھای سے

روحا نےبے چینی سے پوچھا

برہان کے بغیر پری کا سانس لینا ناممکن ہے

پری نے مسکراتے ہوے کہا

ہانی روحا بہت خوش تھی

اتنی اچھی بیوی ملی ان کے بھای کو

————————-

ہاے سالے صاحب پہلے ہی آپ نے ترقی زیادہ کی ہے سب سے آگے نکل گے ابھی دس بچوں کا سوچوں بھی نہ

ہارون نے آنکھ ونک کرتے ہوے کہا

ہاہاہاہا

برہان نے قہقہ لگایا

پری کے اظہار محبت پر برہان کو دلی سکون ملا تھا

——————

عمارہ اسامہ بھای کی خواہش بتاو

ہانی نے مسکراتے ہوے کہا

انھیں بھی بیٹی چاہے

عمارہ نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوے مسکرا کر کہا

اور اسامہ کے آنے سے میں نے جینا سیکھا ہے

میں پہلے مسکراتی نہں تھی

ان کی وجہ سے اب چہرے پر مسکراہٹ رہتی ہے

وہ میری پہلی نظر کی محبت ہے

عمارہ کے آظہار محبت پر سب حیران تھے

——————–

ٹھرکی

خوش نصیب ہے تو جسے میری بہن جیسی بیوی ملی

زیان نے خوش ہوتے ہوے کہا

ہاں واقعی

اسامہ نے دل سے کہا

جلدی تجھے دوبارہ ماموں بناو گا بے فکر رہے

اسامہ نے بے شرمی سے کہا

تو نہیں سدھر سکتا

ہارون نے افسوس سے کہا

——————————–

چل علیزے شروع ہوجا تو بھی

ہانی نے علیزے کو تنگ کرنے کے لیے کہا

بابر پہلے میری محبت تھے

اب وہ میری چاہت میرا جنون ہے

ان کے بغیر مجھے سکون نہیں آتا بے چین رہیتی ہو

میں نے ایسے ہی شوہر کی خواہش کی تھی

میں شکر گزار ہو اپنے رب کی جس نے مجھے ایسا شوہر عطا کیا

علیزے نے مسکراتے ہوے کہا

سب ہی علیزے کی بات پر مسکرا رہی تھی

جسے فوجی جیسا اچھا انسان ملا تھا

—————-

ویسے پٹھانی آپی علیزے ہے بہت اچھی

اور معصوم

برہان نے دل سے تعریف کی

کوی شک نہیں

بابر نے مسکرا کر کہا

————–

ہانی سے تو کچھ بھی پوچھنا فضول ہے

اسے کونسا زیان بھای کے بارے کچھ پتہ ہو گا

پری نے مذاق سے کہا

میں بلاج کا فیڈر بنا کے لاتی ہو

ہانی فورا وہاں سے چلی گی

پری کیوں کہا ایسا

کچھ تو عقل کرلیا کرو

روحا نے غصے سے کہا

ٹھیک کہا ہے میں نے

تاکہ اسے بھی کچھ احساس ہو

پری نے سنجیدگی سے کہا

اسے برا لگا ہے تبھی گی ہے وہ

روحا نے افسودگی سے کہا

لگنے دو برا پھر ہی عقل آے گی

تم بے فکر رہو

ابھی ہنستی مسکراتی اجاے گی سب بھول کر

یہ تو عادت اس کی

پری نے مسکراتے ہوے کہا

————-

ہارون اسامہ برہان بابر ایک ساتھ کھڑے ہوگے ۔۔

تم سب کدھر جا رہے ہو ۔

زیان نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔

یار آج تو ہماری بیویاں اتنی پیاری لگ رہی ہے زرا صبر نہیں ہوتا اب تو جانا بنتا ہے ان کے پاس ۔

اسامہ نے مسکراتے ہوے کہا۔۔

اسامہ کسے بتا رہا ہے تو جسے اپنی بیوی کے ہونے یا نہ ہونے سے کوی فرق نہیں پڑتا ۔

ہارون نے زیان کو شرم دلانی چاہی ۔

زیان بالکل خاموش رہا ۔۔

برہان تم تو رک جاٶ ۔

ابھی تو دو بچوں کے باپ بننے ہو ۔

ابھی صبر کرو

زیان نے برہان کو سنجیدگی سے کہا

۔باقی سب چلے گے تھے ۔۔

زیان بھای مجھے ابھی دس اور چاہیے

تو میرا جانا بنتا ہے ابھی

۔اور آپ بھی سوچ لے

ہانی کی بچوں کو دیکھنا میری سب سے بڑی خوائش ہے ۔

مجھے انتظار رہے گا ۔

برہان نے نہایت بے شرمی سے کہا اور بھاگ گیا ۔۔

سب کتنے خوش ہے اور ایک میں ہو جسے اس کی بیوی پسند بھی نہیں کرتی

میں کہا سے بچے لے آو

جب بیوی ہی راضی نہیں

زیان نے دکھی ہوتے سوچا

———————

وہ سب ہی باتوں میں مصروف تھی ۔

اچانک اپنے اپنے سامنے شوہر کو دیکھ کر سب حیران رہ گی ۔۔

آپ سب یہاں کیا کر رہے ۔۔

ہانی نے مسکراتے ہوے پوچھا ۔۔

(ان سب میں زیان کا نہ ہونا ہانی کو دکھی کرگیا تھا

لیکن پھر بھی صبر سے وہاں کھڑی تھی ۔)

ہم اپنی بیویوں کو لینے اے ہے کب سے ان پر قبصہ کر کے بیھٹی ہو ۔

آج تو سب ہی پریاں لگ رہی ہے ۔

اور ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے

۔اسامہ نے بے شرمی سے کہا ۔

۔ اور پھر سب اپنی اپنی بیوی کو لے کر چلے گے

۔ہانی وہی خاموش سی کھڑی آنکھوں میں آے آنسو صاف کررہی تھی ۔

اس کے آنسو دیکھ کر زیان کو بہت دکھ ہوا

جب تک تم خود میرے پاس نہیں آو گی میں بھی نہیں آو گا

زیان نے دکھی ہوتے ہوے سوچا

————————————————————

اف آج میں تھک گی سچی

شکر ہے دونوں بچے سو گے ۔

پری نے بیڈ پر لیٹتے ہوے کہا ۔۔

وہ بچوں کو سوتا دیکھ خوش ہوی تھی ۔۔

چل بیٹا پری جلدی سو جا ورنہ برہان نے آ جانا ہے ۔۔

پری نے کپڑے چینج کیے بنا آنکھیں بند کر لی ۔

جب کچھ دیر بعد اپنے اوپر وزن محسوس کرتے آنکھیں کھولی

تو حیران رہ گی اپنے اوپر برہان کو جھکے دیکھ کر ۔۔

آپ یہاں ۔۔۔

چپ آج بہت صبر ازمایا ہے تم نے پری جان

۔ تو تیار ہو جاو میری شدت برداشت کر نے کے لے۔۔

برہان نے بہکے انداز سے پری کی بولتی بند کی ۔

————————————————————

بابر آپ کو حجاب نے تنگ تو نہیں کیا

نہ ویسے تو یہ کچھ نہیں کہتی پھر بھی ۔

عیلزے کپڑے چینج کیے بابر کے سامنے بیھٹی ایک ہی سوال بار بار پوچھ رہی تھی ۔۔

بابر خاموشی سے بس علیزے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔

بابر میں آپ سے ۔۔

اس سے پہلے علیزے کچھ کہتی

جب بابر نے اپنی طرف کھینچ لیا ۔

علیزے بابر کے سینے پر گری ۔۔

میری پٹھانی

مجھے اب بیٹا چاہے بس تیار ہو جاو

آج کوی گنجائش نہیں ۔

بابر نے علیزے کی بولتی بند کرتے ہوے کہا ۔۔

علیزے نے کوی مزاحمت نہیں کی ۔۔

اور بابر کا ساتھ دینے لگی ۔۔

————————————————————

اسامہ آپ نے جنت کو دیکھا کتنی پیاری ہو گی ہے مجھے بہت اچھی لگتی ہے

۔اللہ ہمہں بیٹی دے گا نہ اسامہ

۔عمارہ نے آج اپنے دل کی بات اسامہ کے سامنے شرماتے ہوے کہی

۔(جب سے عمارہ جنت کو دیکھ کر آی تھی اس کے دل میں بھی تمنا جاگی تھی بیٹی کی ).

ہاں ضرور مجھے تو خود بیٹی چاہے

اب برہان دیکھ لو کیسے ترقی کی اس نے ۔

اسامہ نے خوش ہوے عمارہ کو اپنے حصار میں لیے کہا ۔۔

پھر کیا خیال ہے جانِ اسامہ

میں تہمں بتاو گا تم آج کتنی پیاری لگ رہی تھی ۔

اسامہ نے عمارہ کے اوپر حاوی ہوتے کہا ۔۔

عمارہ سر ہاں میں ہلا کر خود سپردگی دیتی آنکھں بند کر گی۔۔۔

————————————————————

اف ہارون نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ میں کیسے ان کے سامنے آو گی ۔۔

جنت بھی سو گی ورنہ اس کو ساتھ سولا لیتی ۔(جب سے روحا مہر ہاوس سے واپس آی تھی ہارون مسلسل اسے گہری نظروں سے دیکھتا رہا ۔جس سے ڈر کر روحا نے جلدی سے آ کر کپڑے چنچ کرنے چاہے لیکن وڈراب میں صرف ایک نائٹی کے سوا کچھ نہ ملا ۔

وجہ ہارون روحا کے سارے کپڑے چھپا چکا تھا ۔۔

ہاے کیسے پہنو میں اس ڈریس میں وہ ایسے دیکھ رہے تھے تو آج رات کیا کرے گے ۔۔

روحا نے یہ سوچتے ہی جھرجھری لی

۔اور مجبور ہو کر نائٹی پہن کر کمرے میں آ گی ۔)

شکر ہے کمرے میں نہیں میں جلدی سے سو جاتی ہو جنت بھی تو سو گی ۔۔

روحا نے کمرے میں ہارون کو نہ دیکھ کر سکون کا سانس لیا اور جلدی سے بیڈ کی طرف ڈور لگا دی ۔۔

اپنے پورے جسم پر اچھے سے کمبل اُڑے لیٹ چکی تھی ۔۔

تھوڑی دیر کے بعد اپنے اوپر وزن محسوس کرتے روحا نے گھبرا کر آنکھیں کھولی ۔

وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گی ہارون شرٹ لیس اس کے اوپر جھکا ہوا تھا ۔۔

ہاروننننننن ۔۔

اٹھے کتنے بھاری ہے آپ ۔

روحا نے چینختے ہوے اپنے ہاتھ کے مکے بنا کر مارتے ہوے کہا۔۔

ہاہاہاہاہا میری پنک روز

واقعی آج پنک روز بنی ہوی ہو

۔ہارون نے روحا کو بے بی پنک کلر نائٹی میں دیکھ کر کہا ۔۔

میرا کمبل کدھر گیا ۔۔

روحا نے اپنے اوپر کمبل نہ دیکھ کر گھبرا کر پوچھا

۔۔جسے ہارون کافی دیر پہلے اتار چکا تھا ۔۔۔

پنک روز آج بڑے موڈ میں کس کیا جا رہا تھا ہانی کو تمہں معلوم میرے معصوم دل پر کیا گزری تھی ۔

۔ہارون نے روحا کی بات ٹالتے ہوے اپنی کہی ۔۔

وہ ہ ہ ۔

۔ہانی تھی میری بہن اسے کس کر سکتی ہو میں

۔روحا نے ہکلاتے اور ہمت جمع کرتے جواب دیا ۔۔

اور میں کون ہو پنک روز

۔ہارون نے روحا کی نائٹی کی ڈوری کو ہاتھ سے پکڑتے ہوے پوچھا ۔۔

آپپپپپپپ شوہررررر ۔

روحا نے اپنے خشک ہوتے حلق کو تر کرتے جواب دیا ۔

۔اس کی نظریں اپنی نائٹی کی ڈوری پر تھی اگر ہارون زرا سی بھی ڈروی کھنچتا نائٹی سرک جاتی ۔۔

تو اپنے پیارے ہیبی کو کس کرو جیسے ہانی کو کی تھی ۔۔مجھے بڑی جلیسی ہوی ہانی سے ۔۔

چلو کرو شاباش ۔

ہارون نے دوبارہ خاموش روحا کو دیکھ کر کہا ۔۔

جانِ روحا میں پنک روز ہو نا آپ کی تو پھر سہی ابھی مجھے بہت نیند آ رہی ہے

۔روحا نے جب دیکھا ہارون کسی طور نہیں مان رہا تو اپنی طرف سے بہلانا چاہا

۔تبھی ہارون کی گردن میں اپنے بازو حائل کیے مسکا لگایا ۔۔

ہاہاہاہاہاہا ۔۔

تم میری واقعی پنک روز ہو آج نہیں چھوڑو گا ۔

۔بہت صبر کر لیا میں نے صبح سے تمہں دیکھ کر

۔۔ہارون جان گیا تھا روحا اسے بہلا رہی ہے تبھی اسے اپنی کہی ۔۔۔

وہ میں ۔۔۔

پنک روز کس می ۔

۔ نہیں تو اگر میں نے کی تو چھوٹی کس نہیں ہو گی ۔۔

ہارون نے روحا کی بات کاٹتے ہوے ڈوری کو کیھنچتے ہوے کہا ۔۔

ہارونننن۔

روحا نے آخری دفعہ ترسی نگاہوں سے دیکھ کر کہا ۔۔

نو پنک روز ۔۔

۔یہ کہنا تھا ہارون نے ڈوری کھینچ دی ۔

روحا نے جیسے ہی محسوس کیا نائٹی سرک رہی ہے تبھی جلدی سے اپنے ہوئٹ ہارون کے لبوں پر رکھ دے ۔۔

وہ جو سمجھ رہی تھی

اس کی جان چھوٹ جاے گی

۔۔لیکن اب ہارون کی شدت دیکھ کر گھبرا گی ۔۔۔

روحا خاموش ہارون کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

آج کی رات ان سب نے اپنی بیویوں کو محبت عشق کا احساس کروایا ۔

وہ سب جانتی تھی ان کے شوہر ان سے کتنی محبت کرتے ہے

۔آج رات سب نے اپنے عمل سے شدت چاہیت سے محسوس کروایا ۔

ان کی عاشقی ان کی بیوی ہے ۔

ان چاروں کی زبان پر اپنی بیوی کے لیے ایک ہی الفاظ تھے ۔۔

(میری عاشقی تم سے ۔۔)