Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 10)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
برہان جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا ۔یہ دیکھ کر حیران رہ گیا پری بیڈ پر بیھٹی اُسی کا انتظار کر رہی تھی ۔۔
“جی آپ یہاں-
۔برہان نے ماتھے پر پسنیہ صاف کرتے ہوۓ پری سے کہا ۔۔
ہاں میں نے سوچا اپنے چھوٹے شوہر کو مل آو خود تو اس نے آنا نہیں—
پری نے محبت پاش نظروں سے برہان کو دیکھ کر مذاق سے کہا ۔۔
“جی وہ میں برہان کو سمجھ نہ آی کیا کہے ۔
اور آس پاس دیکھنے لگا ۔۔۔
ہاۓ بیوی میں ہو شرما تم رہے ہو شوہر ہو کر ۔
پری نے اپنی ہنسی روک کر کہا جو برہان کی حالت دیکھ کر اسے آرہی تھی ۔۔
تمہں مجھ سے ملنے آنا چاہیے تھا —
جیسے ناول کے ہیرو ہیروئن کو ملنے آتے ہے ۔
پری نے برہان کی شرٹ کے بٹن سے کھلیتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“بسسسس ۔
کیا کر رہی یہ آپ —
آپ کی ہمیت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی—
میں اگر برداشت کر رہا توروحا آپو کی وجہ سے ورنہ میں کبھی بھی آپ سے شادی نہ کرتا ۔
برہان کےصبر کی جب حد ہوئی تب پری کو دھکا دیتے ہوۓ غصے سے کہا ۔۔
پری بیڈ پر گری حیران پریشان سی برہان کے غصہ سے بھرے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔
“میں تو
بسسسسسسسس۔
پری نے جیسے ہی کوئ بات کہنی چاہی —
برہان نے فورا روک دیا ۔۔
آپ سے نکاح بس آپ کی مدد کے لیے کیا آپو کے کہنے پر جس دن آپ اس پریشانی سے نکل گی میں اسی دن آپ کو چھوڑ دو گا ۔۔
آپکو مجھ سے بہتر مل جاۓ گا ۔یہ رشتہ صرف عارضی ہے ۔امید ہے آپ میری بات سمجھ گی ہے ۔برہان نے جلدی سے دو ٹوک بات کی۔۔
کافی دیر بعد جب پری نہ بولی—
تو برہان نے اس کی طرف دیکھا–
وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا —
پری بیڈ پر بیھٹی رو رہی تھی۔۔۔
پری کے آنسو دیکھ کر برہان کو اور غصہ آگیا —
اب ڈرامے شروع ہوگے آپ کے–
آپ کو کیا لگتا ہے اپ کے ان آنسو سے میں پگل جاو گا مجھ پر نہیں اثر ہوگے یہ آنسو آپ لڑکیوں کو بس لڑکوں کو اپنے جال میں پھسانا آتا ہے—
اب بھی آپ یہ ڈراما کر رہی کے میں پگل جاو گا ایسا ہرگز نہیں ہے میں کبھی آپ سے محبت نہیں کر سکتا مجھے معلوم ہے آپ بھی محبت نہیں کرتی جلدی خود کی جان چھڑوالو گا آپ سے
اور””””
بسسسسسسسسسسس
پری نے زور سے چلائی–
بہت شکریہ تمہارا جو مجھے میری اوقات بتا دی
میں نے محبت کی ہے تم سے مجھے نہیں معلوم یہ کب ہوا لیکن میں اس محبت میں اتنی اندھی نہیں ہو کہ اپنی عزت نفس کو تمہارے سامنے روندھتی چلی جاو کیا کچھ نہیں کہہ دیا تم نے بنا سوچے سمجھے—
اتنی بھی میں نےمحبت نہیں کی تم سے کہ شادی کا سوچ لیتی مجھے معلوم تھا یہ ناممکن ہے لیکن ہمارا اچانک نکاح ہوجانا اس بات کا اشارہ کہ یہ ہی ہمارا نصیب تھا–
لیکن تمہارے الفاظ سے مجھے تم سے نفرت ہورہی ہے تمہارے ساتھ ساتھ مجھے خود سے نفرت محسوس ہورہی میں نے کیسے انسان سے محبت کرلی جسے لفظ محبت کا مطلب بھی نہیں معلوم—
برہان مہر میں بھی اتنی گری پری نہیں تھی جو نکاح کے لیے فورا مان جاتی —
یہ نکاح صرف روحا کی وجہ سے کیا ہے —
میں نے اسے سمجھایا تھا لیکن اس نے میری ایک نہ سنی —
ارے تم سے اچھا وہ بھابھی کا بھای تھا —
وہ آورہ تھا پر مجھ سے محبت کرتا تھا
اسے اتنا تو معلوم تھا محبت ہے کیا مجھے اب افسوس ہورہا کہ میں نے اس کی محبت کو کیوں ٹھکرایا۔۔۔
میں بھی ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی جو محبت کا لفظ تک نہ جانتا ہو ۔
مجھے جلدی طلاق دے دینا پھر تم اپنے راستے اور میں اپنے —
پری نے برہان کی بات کاٹتے ہوۓ غصے نفرت سے کہا۔۔
نرہان پری کی بات سن کر حیران تھا کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے اس نے تو یہ ہی سمجھا تھا پری محبت نہیں کرتی
چلو آو گھر چھوڑ آوں برہان نے آرام سے کہا–
“شکریہ مسٹر برہان —
میں اپنے گھر جا سکتی ہو ۔
مجھے ایسا ساتھ نہیں چاہیے جو آدھے راستے میں میرا ہاتھ چھوڑ دے ۔۔
پری کہتے ہوۓ کمرے سے نکل گی ۔۔۔
اف یہ میں نے کیا کر دیا ۔
پری کا دل دکھا دیا۔
اتنا کچھ کہہ دیا یہ مجھ سے کیا ہوگیا—
برہان نے افسوس سے سوچتے ہوے کہا ۔۔۔
—————————————————–
عمارہ بس بھی کرے روتی رہے گی کیا ۔–
اس میں آپ کا کوئ قصور نہیں ہے —
بس قسمت میں ہمارا ایسے ہی نکاح ہونا لکھا تھا ۔۔
عمارہ جو کب سے بیھٹی رو رہی تھی زیان کو کیسے بتاۓ گی ۔نکاح کا ۔
اسامہ کو عمارہ کے رونے پر غصہ آرہا تھا لیکن پھر بھی اسے آرام سے سمجھا رہا تھا
لیکن لالہ
میں بات کر لو گا آپ ٹیشن نہ لے–
اسامہ نے جلدی سے عمارہ کی بات کاٹتے ہوۓ کہا ۔۔
چلے آے میں گھر کے اندر تک چھوڑ کر آو آپ کو۔
اسامہ نے گھر کے سامنے گاڑی روکتے ہوۓ کہا ۔۔
“جی آپ —
۔عمارہ نے گھبراتے ہوے کہا–
۔کیوں میں جا نہیں سکتا کیا–
اب تو شوہر ہو آپ کا–
اسامہ نے عمارہ کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے کہا–
جس میں وہ کامیاب بھی ہوا ۔
عمارہ کو شرماتے ہوۓ وہ محسوس کرسکتا تھا۔۔۔
————————————————————
عمارہ اسامہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوۓ —
سامنے صوفے پر بیھٹے زیان کو دیکھ کر حیران رہ گے ۔۔
بھای آپ نہیں گے کیا ۔
عمارہ نے حیران اور خوش ہوتے زیان کے پاس آتے ہوے پوچھا–
ارے گڑیا تم آ گی ۔کیسا رہا فنکشن ۔
زیان نے عمارہ کی بات کو ٹالتے ہوے پوچھا ۔۔
اسامہ تمھارے چہرے پر ہوائیاں کیوں چھائ ہوی ہے
زیان نے اسامہ سے پوچھا جو بڑی گہری نظر سے زیان کو رف حلیے میں دیکھ رہا تھا ۔
جاٶ گڑیا سو جاٶ ۔
میں زارا اس ٹھرکی کو دیکھ لو ۔۔
زیان نے عمارہ کو مسکراتے ہوے کہا–
اور عمارہ فورا چلی گی–
اب بتا کیا مسلہ ہے —
جو ایسے گھور رہے ہو ویسے بھی کتنی دفعہ کہا ہے یہ ٹھرکی نظروں سے مت دیکھا کر مجھے مشکوک بناتے ہو سب کے سامنے ۔
زیان نے کشن اٹھا کر اسامہ کے مارتے ہوے کہا ۔۔۔
کچھ تو گڑبر ہے جو تو اتنے سکون سے بیھٹا ہے —
ورنہ عمارہ کو خود لے آتے —
مجھے کیوں کہا ۔۔۔
نہیں میں جانے والا تھا پھر گڑیا کا سوچا کیسے وہ رہے گئ پوری رات تبھی روک گیا ۔۔۔
چل اب دفع ہو مجھے نیند ا رہی زیان نے اسامہ کو زبرداستی دھکا مارتے ہوے کہا ۔۔
کچھ تو ہے جو تو چھپا رہا ۔
۔اسامہ نے گھر کے دروازے پر روک کر کہا ۔۔
سوچ جو مرضی میں چلا زیان غصے سے کہتا اندر چلا گیا ۔۔
————————————————————
اف میں تھک گی ۔۔
ہاے مجھے اتنی خوشی ہورہی ہے ہانی–
ہمارے بھای کی شادی ہو گی ۔۔
روحا نے خوش ہوتے ہوے کہا–
روحا رات کے وقت بیڈ پر بیھٹی ہانی سے فون پر بات کر رہی تھی ۔۔۔
میں بھی بہت خوش ہو آپو لیکن برہان تو محبت نہیں کرتا پری سے
۔ہانی نے فکر مندی سے کہا ۔۔
شادی کے بعد سب کو محبت ہو جاتی ہے برہان کو بھی ہو جاۓ گی ۔
روحا نے اپنا اندازاہ لگایا ۔۔
پھر آپ کو ہوئ محبت ہارون بھای سے
ہانی نے جان بوجھ کر پوچھا وہ بھی جانتی تھی روحا محبت کرتی ہے پر اپنی نفرت کو آگے لے کر آرہی ہے ۔۔
تم کوئ اور بات کر لو ورنہ میں فون بند کرنے لگی ۔۔۔روحا نے سامنے آتے ہارون کو دیکھ کر ہانی سے غصہ سے کہا ۔۔
اچھا —
میں کوئ بات نہیں کرتی ۔ہانی نے جلدی سے کہا کہئ روحا فون بند نہ کر دے ۔۔
—————————————————–
ہارون ایک گھنٹے سے روحا کو اپنے آپ کو اگنور کرتے اور ہانی سے بات کرتے دیکھ رہا تھا ۔۔
آج میری پنک روز کتنی خوش ہے
ہارون نے روحا کے چہرے پر مسکرائٹ اور لب ہلتے دیکھ کر کہا جو مسلسل ہانی سے بات کرتے ہوے ہل رہے تھے
ہانی میری بات سن رہی ہو کیا -۔
ہانی —
روحا جو ہانی کی ایک دم خاموشی سن کر بول رہی تھی ۔۔
دوسری طرف ہانی بیڈ پر گہری نیند میں سو رہی تھی اس کا موبائل کان پر رکھا ہوا تھا ۔۔(ہانی اور روحا کا زور کا معمول تھا ایسے بات کرنا–
وجہ ہانی اور روحا کو ایک دوسرے کے بنا نیند نہیں آتی تھی جب ہی ان دونوں کا پلان بنا وہ زور بات کر کے سویا کریں گی جیسے روز کی طرح ہانی بات کرتی سو گی )۔ ہاے میری بےبی گرل سو گی ۔
روحا نے ہنستے ہوے کہااور برہان کو فون ملایا ۔۔۔
————————————————————
برہان جو بیڈ پر لیٹا پری کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔جب بھی آنکھیں بند کرتا تب ہی پری کی روی ہوئ آنکھیں سامنے آجاتی ۔۔
نہیں پری کو مجھ سے بہتر مل جاۓ گا ۔
میں اس سے محبت نہیں کرتا ۔
میں چھوڑ دو گا بس بات ختم برہان نے اپنے آپ سے وعدہ کیا ۔۔۔
لیکن میں تو ۔۔۔۔
آپو کا فون خیر ہو کہئ پری نے کچھ بتا تو نہیں دیا ۔۔
برہان اس سے پہلے کچھ اور سوچتا جب روحا کی کال آنی شروع ہوگی ۔۔
جی آپو —
سب ٹھیک ہے برہان نے جلدی سے پوچھا ۔۔۔
ہاں سب ٹھیک میں نے اس لیے فون کیا ہانی بات کرتی سو گی تم جاکر دیکھ لو بیڈ پر ہی لیٹ گی نہ ۔۔۔
روحا نے فکرمندی سے کہا
کیا آپوآپ دونوں ایک ساتھ رہ لیتی
مجھے روز فون کر کے اس موٹی کے کمرے میں بھیج دیتی ہے
۔برہان نے ہستے ہوۓ کہا جو اب ہانی کے روم کے دروازے کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔
اچھا بس زیادہ بولو نہ مجھے پتہ ہے تم پری کو یاد کر رہے تھے میں نے تنگ کر دیا ۔۔۔
روحا نے چہک کر کہا ۔۔
آپو میں دیکھ لو زارا ہانی کو برہان نے بات کو ٹالا ۔۔۔۔
ہاہاہاہا
میرا بھائ شرما گیا ۔۔۔۔
برہان نے روحا کی ہنسنے کی آواز سن کر دل میں دعا کی ۔
میری بہن ہمیشہ ایسے ہی خوش رہے ۔۔
————————————————————
پنک زرو
ایسے ہی خوش رہا کرو میرے ساتھ بھی جیسے اپنے بہن بھائی کے ساتھ رہتی ہو
ہارون نے بیڈ پر لیٹتے ہوۓ کہا ۔۔۔
لائٹ بند کر دے مجھے نیند ا رہی ۔
روحا نے بات کو ٹالتے ہوے کہا اوربیڈ پر لیٹ گی ۔۔۔
جب کچھ دیر بعد روحا نے خود کو ہارون کے حصار میں محسوس کیا
چھوڑے مجھے –
نفرت ہے مجھے ہارون خان
روحا نے ہارون کے سینے پر اپنے چھوٹے ہاتھوں سے مکے مارتے ہوۓ کہا ۔۔۔
کرو نفرت مجھ سے
پر میں دور نہیں ہوگا
تم میرا عشق ہو ہارون نے اپنی گرفت روحا پر اور سخت کر لی ۔
“میں
سو جاٶ پنک روز ورنہ مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا اگر میں نے کچھ اور کیا تو تمیں اچھا نہیں لگے گا ۔
۔ہارون نے تحمل سے روحا کی بات کو کاٹتے ہوے کہا
” نفرت ہے مجھے ہارون خان سے
اور مجھے عشق ہے اپنی روحا سے ۔
ہارون نے پھر بات کاٹتے ہوے کہا ۔۔۔
آنکھیں بند کرو پنک روز–
ورنہ میں اپنے طریقے سے کراٶ گا ۔
۔روحا جو پانچ منٹ سے ویسے ہی ہارون کو گھور رہی تھی جس نے اپنی آنکھیں بند کی تھی ۔۔
روحا نے جلدی سے آنکھیں بند کی اسے امید تھی ہارون کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔۔
—————————————————-
-برہان جب کمرے میں داخل ہوا ہانی کی حالت دیکھ کر اسے افسوس ہوا
پتہ نہیں اس لڑکی کا کیا بنے گا یہاں دل کرتا وہی– سوجاتی ہے کوئی ہوش نہیں ہوتی اسے نیند میں —
ٹھیک کہتی ہے ماما اسے میں نے روحا اپو نے ہی بیگارا ہے برہان نے فکرمندی سے خودکلامی کی–
ہانی آدھی بیڈ پر آدھی زمین پر آ رہی تھی-
جب برہان نے جا کر سیدھا کیا ۔۔۔
اوۓ موٹی کبھی سکون سے سو جایا کر روز آ کر تم کو میں نے سیدھا کرنا ہوتا ہے ۔۔
برہان نے ہانی پر کمبل دیتے ہوۓ کہا جو گہری نیند میں تھی ۔۔
اللہ دونوں ایک دوسرے کے بنا نہیں رہتی پتہ نہیں کیسے یہ اپنے گھر شادی کے بعد رہے گی ۔۔
برہان نے سوئ ہوی ہانی کے ماتھے پر عقیدت سے بوسہ دیتے ہوے کہا۔۔
اوۓ لمبو
میں نے شادی ہی نہیں کرنی تم میری فکر نہ کیا کرو اپنی کرو وہ چڑیل آگی تمہاری زندگی میں
۔ہانی نے کروٹ بدلتے برہان کو آنکھیں بند کیے جواب دیا ۔۔۔
موٹی تو “
برہان جیسے ہی کچھ کہنے لگا خاموش ہوگیا کیونکہ ہانی پھر گہری نیند میں چلی گی ۔۔۔
توبہ اس لڑکی کو نیند کے علاوہ کوئ چیز عزیز نہیں ہے ۔۔۔
————————————————————لالہ آپ سو گے کیا ۔۔
۔زیان جو لیپ ٹاپ پر کام کر کے سونے لگا تھا
جب عمارہ نے کمرے میں آ کر پوچھا۔۔۔
ارے گڑیا خیریت آو ۔
زیان نے پریشانی سے پوچھا
۔اگر آپ سونے لگے تو میں چلی جاتی ہو
۔۔نہیں تم بات کرو میں نہیں سونے والا ابھی
زیان نے عمارہ کا ہاتھ پکڑتے ہوے پاس بیٹھا لیا ۔۔۔
بات ضرروی ہے آپ غصہ تو نہیں کرے گے ۔۔
عمارہ نے سائیڈ پر پڑی زیان کی یونیفارم کے ساتھ گن کو دیکھ ڈرتے ہوے کر کہا ( عمارہ کو ڈر تھا کہیں زیان دوسرے بھائیوں کی طرح غیرت کے نام پر قتل نہ کر دے تبھی وہ گن کو مسلسل دیکھ رہی تھی ۔۔۔)
بتاٶ کیا بات ہے میری جان زیان نے عمارہ کا ڈر دیکھتے ہوے گن دارزمیں رکھ دی ۔۔
“وہ لالہ شادی ۔
عمارہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیسے بات کرے ۔
کیا میری گڑیا کو شادی کرنی ہے
زیان نے ہنستے ہوے کہا ۔
۔پھر میں لڑکا دیکھ لو زیان نے پھر مزاق کیا ۔۔۔
”بھاییییییی عمارہ نے چرتے ہوے کہا
میں چلی جاتی ہو ۔۔
نہیں میری گڑیا بتاو کیا بات ہے
زیان نے اسے دوبارہ کہا ۔۔
وہ بھای عمارہ نے آنکھیں بند کرتے جلدی جلدی سب کچھ بتا دیا ۔۔
جیسے سن کر زیان کے چہرے سے مسکراہیٹ چلی گی ۔۔
تم کیا چاہتی ہو ۔
زیان نے کافی دیر بعد نارمل لہجے سے پوچھا ۔۔
جب عمارہ زیان کے اس ردعمل پر حیران ہو کر رہ گئ ۔۔
آپ کو غصہ نہیں آیا ۔
تم کیا چاہتی ہو زیان نے ایک بار پھر بات دورای ۔۔
میں چاہتی ہو آپ مجھے اپنے ساۓ میں رخصت کرے اسامہ اب میرا شوہر ہے میں انکار کر کے انھیں اور اپنے الللہ کو ناراض نہیں کر سکتی ۔
عمارہ نے تحمل سے ساری بات بتا دی ۔۔
میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہو مجھے حلال رشتے میں باندھ دیا اس نےبھای ۔۔
۔ عمارہ نے سر جھکا کر کہا ۔۔۔
میری بہن خوش ہے میں بھی خوش ہو
جاٶ اب سو جاو زیان نے عمارہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا ۔۔۔
زیان کو بہت غصہ آیا تھا لیکن وہ عمارہ پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اس کے لیے عمارہ کی خوشی پہلے تھی اور اسے اس پولیس والے پر بھی غصہ آرہا تھا جس نے یہ حرکت کی اس نے صبح پتہ لگوانے کا ارادہ کرلیا تھا
———————————————————–
یہ کیا ہو گیا مجھ سے
زیان کو جب پتہ چلے گا
کیا سوچے گا میرے بارے میں کہ کیسا دوست ہو جس نے اسی کی بہن سے شادی کر لی ۔ویسے بھی وہ مجھے ٹھرکی سمجھتا ہے ۔۔
وہ میری کسی بات پر یقین نہیں کرے گا
اسامہ مسلسل گاڑی چلاتے سوچ رہا تھا ۔۔۔
کس کو بتاٶ جو میری بات کا یقین کرے گا ۔۔۔
ہاں روحا بھابھی کو بتاتا ہوں
وہ کھڑوس انسان ویسے ہی مان جاۓ گا ۔
اگر روحا بھابھی مان گی تو
۔۔اسامہ نے سوچتے ہوے گاڑی ہارون پیلس کی طرف موڑ دی ۔۔۔
————————————————————
ہارون روحا کو سوتے ہوے دیکھنے میں مشغول تھا جو اسے ایک معصوم بچی لگ رہی تھی ۔۔۔
میری پنک روز میں تمہیں اتنی محبت دو گا تم خود مجھے آ کر کہو گی کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو ۔میں یہ بھی جانتا ہو تمہارے دماغ میں یہ بات بیٹھ گی تم جس سے محبت کرو گی وہ دور چلا جاے گا ۔۔۔میں تم کو کبھی نہیں چھوڑو گا ۔۔چاہیے میری جان چلی جاے ۔۔۔
ہارون نے روحا کی نوزپن کو چھوتے ہوے کہا ۔۔(ہارون کو اتنا پتہ چل گیا تھا روحا گہری نیند میں سوتی ہے ۔۔) تبھی روزکی طرح ہارون آج بھی روحا کو سوتے ہوےدیکھ کر بات کر رہا تھا ۔۔۔
دروازے کی دستک پر ہارون کے چہرے پر ناگواری آی ۔
سر آپ کا دوست آیا ہے نیچے
۔ملازمہ نے ہارون کو کمرے سے باہر آتے ہوے دیکھ کر کہا ۔۔۔
کون سا دوست
ہارون نے پریشان ہوتے پوچھا
اسامہ سر آے ہے ملازمہ نے جواب دیا
اچھا تم دیکھو میں آتا ہو ۔۔۔
—————-
اوے ٹھرکی
خیریت تو آیا
تمہں نہیں پتہ سب سو رہے ہوتے ہے اس وقت
چل جا صبح بات کرے گے
ہارون نے جلدی سے اپنی کہی وہ نہیں چاہتا تھا روحا جاگ جاۓ ۔۔
کھڑوس انسان میں تم سے نہیں بھابھی سے بات کرنے آیا ہو ۔۔
اسامہ نے سنجیدہ ہو کر کہا ۔۔۔
مجھے بتا دو کیا بات کرنی ہے پنک روز سو رہی ہے میں نہیں چاہتا وہ جاگ جاے ۔۔
ہارون نے صوفے پر بیھٹتے ہوے تحمل سے کہا ۔۔
نہیں تم بھابھی کو بلاٶ
۔میں کہہ رہا نہ مجھے بتا دے ہارون نے ایک دفعہ پھر اسامہ کی بات کاٹی ۔۔۔
کیا مسلہ ہے خودی جواب دے رہے ہو تم اسامہ نے زارا غصے سے کہا ۔۔۔
اچھا بس کر کیوں موت پر رہی تم کو میں جگا دیتا ہو ہارون نے احسان کرتے ہوے کہا ۔۔
چل دفع ہو بھابھی خودی آ گی ہے ۔اسامہ نے سامنے حیران پریشان روحا کو نیچے آتے دیکھا لیا تھا ۔۔۔
”کییییییا
ہارون نے حیران ہو کر کہا ۔
۔کیا ہے کان کے پردے پھاڑ دے گا کھڑوس انسان ۔۔۔ اسامہ نے اپنے کان پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا ۔۔۔
السلام و علیکم اسامہ بھای خیریت آپ یہاں آے
۔روحا نے ہارون کے قریب بیھٹتے ہوے پوچھا۔۔
ہارون تو اسی میں خوش ہوگیا تھا روحا اس کے قریب بیھٹی ہے ۔۔
وعلیکم السلام بھابھی اسامہ نے نظریں جھکاتے ہوے کہا ۔۔۔
جی بھای بتاے کیا بات ہے مجھے ملازمہ نے بتایا آپ کا ۔روحا نے اپنی جمائ روکتے ہوے کہا ۔۔
کیوں کے ملازمہ کو معلوم تھا ہارون نہیں جگاے گا روحا کو تبھی خودی جگانے چلی گی
“جی وہ
ایک منٹ اپ میری طرف دیکھ کر بات کرے روحا نے اسامہ کا جھکا سر دیکھ کر کہا ۔۔
اس کھڑوس انسان
مطلب آپ اپنے شوہر کو کہیں جو مجھے گھوری سے نواز رہا
۔مجھ معصوم کی جان لے گا یہ
۔اسامہ نے تھورا نارمل فیل کرتے ہوے ہارون کی شکایت لگای جو واقعی گھوری سے نواز رہا تھا ۔۔
زیادہ بک نہ جلدی بتا
میری بیوی تیری وجہ سے جاگ رہی ہے ۔
اس سے پہلے روحا کچھ کہتی جب ہارون بولا ۔۔
چل میرے منہ نہ لگ میں صرف بھابھی سے ملنے آیا ہو۔۔اسامہ نے بھی کھری کھری سنائ ۔۔۔
آپ یہ سمجھے یہ مسٹر یہاں نہیں ہے روحا نے روٹھے پن سے کہا اسامہ سے ۔۔
وہ بھابھی
پھر اسامہ نے ساری بات روحا کو بتا دی ۔
۔میں اللہ کا شکرادا کرتا ہو جس نے مجھے اتنی نیک بیوی دی میں عمارہ سے شروع سے محبت کرتا تھا جب سے عمارہ کی آنکھیں دیکھی تھی
بس ڈر یہ تھا
زیان مجھے غلط نہ سمجھے ۔۔
اسامہ نے عقیدت سے عمارہ کا ذکر ہارون اور روحا سے کیا ۔۔
مجھے بڑی خوشی ہوی میں ضررو زیان بھای سے بات کرو گی ۔۔۔
روحا پہلے تو پریشان ہوگی لیکن اسامہ کی بات سن کر اسے بہت خوشی ہوی کہ وہ عمارہ سے محبت کرتا ہے
کچھ دیر بعد ہارون جو حیران پریشان ہو کر ساری بات سن رہا تھا اب ہوش میں آیا ۔۔
تو ماہا ٹھرکی ہی ہے نہ
مطلب اتنی اچھی بکواس کدھر سے سکھ لی ۔
ہارون نے ہنستے ہوے اسامہ کو گلے لگاتے ہوے کہا ۔۔۔
“چل مبا
ہارون جیسے ہی کچھ کہنے لگا اچانک روک گیا ۔۔۔
روحا جو خود مشکل سے نیند سے بے حال ہو رہی تھی اچانک خودی ہارون کے کندھے پر سر رکھ کے سو گی ۔۔۔
ہارون روحا کی اس حرکت پر خوش ہوا ۔۔
چل اب دفع ہو
ہم صبح بات کرے گے زیان سے
اب میری پنک روز سو گی ہے ۔۔
ہارون نے روحا کو اپنی باہوں میں بھر کر اوپر کمرے کی طرف جاتے ہوے کہا ۔۔۔
تو بڑا بے شرم ہو گیا ہے کھڑوس انسان
اسامہ کو خوشی ہوی تھی ہارون کو مسکراتے ہوے دیکھ کر تبھی مذاق سے کہا۔۔۔۔
تجھ سے کم ہو ٹھرکی ۔۔
۔ہارون نے جاتے ہوے اونچی آواز سے کہا ۔۔۔
