Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 14)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
یہ میرا دل اتنا کیوں گھبرا رہاہے ۔۔
اللہ کریں سب ٹھیک ہو
۔آپو برہان ٹھیک ہو ۔
کہیں بابا کو تو کچھ نہیں ہو گیا ۔۔
توبہ توبہ
۔کیا بکواس سوچ رہی ہو ہانی سب ٹھیک ہوگا ۔۔
ہانی نے آنکھں بند کرتےہوے سوچا ۔۔
ہانی کو کب سے بے سکونی بے چینی محسوس ہو رہی تھی زیان بھی اس کی بے چینی کو محسوس کرچکا تھا لیکن انا اڑے آنے کی وجہ سے پوچھ نہ سکا ۔۔۔
آپو کو فون کوتی ہو
۔ہانی نے موبائل اٹھاتے ہوے سوچا
۔۔نہیں آپو کو کیوں کرو فون میں کونسا کچھ لگتی ہو ان کی
۔ہانی نے افسوس سے سوچا ۔۔۔
یہ میری آنکھوں سے آنسو کیوں آ رہے ہے ۔۔
ہانی نے انکھیں صاف کرتے ہوے سوچا ۔۔
روحا کو یاد کرتے ہوے ہانی کی آنکھوں میں کب آنسو آے اسے بھی معلوم نہ ہوا ۔۔
————————————————————
بھابھی آپ کدھر جارہی تھی ۔
۔اپنی حالت دیکھے آپ
اسامہ نے روحا کو بازو سے پکڑتے ہوے پریشان ہو کر پوچھا ۔۔۔
(جب روحا ہاسپتال سے بھاگ رہی تھی اسامہ کو معلوم ہوگیا تھا ۔تبھی وہ اس کے پیچھے گیا تھا ۔)
پلیز بھای مجھے جانے دے تاکہ سب کی جان چھوٹ جاے مجھ سے
۔ہر کوی نفرت کرتا ہے مجھ سے
کوی نہیں ہے میرا میں منحوس ہو ایک بوجھ ہو سب پر
۔روحا اتنا کچھ کہہ کر بے ہوش ہوگی ۔۔۔
————————————————————
دیکھے ہارون سر
۔اپ کو اپنی مسز اگر نارمل چاہیے تو پلیز ان کا ماحول چنچ کریں
ان کو یہاں سے دور لے جاے تاکہ وہ خود کو اور اپنے بچے کو کوی نقصان نہ پہنچا سکے میری ریکوئسٹ ہے آپ سے ۔۔
ڈاکٹر نے ہارون کو پریشان ہوتے ہوے کہا ۔۔۔
ڈاکٹر میری مسز کو ہوا کیا ہے وہ اسے ری ایکٹ کیوں کر رہی ہے ۔۔
ہارون نے کنفیوژ ہوتے ہوے پوچھا۔۔
آپ کی مسز ذہنی ٹارچر کا شکار ہے
۔جس بات کو وہ بھولنے کی کوشش کرتی ہے وہ بات بار بار ان کو یاد کرواکر ان کے دماغی حالت کو تباہ کیا جارہا ہے ۔۔۔
کچھ باتیں ایسی ہوتی ہے انسان کی زندگی میں جو شروع سے اس کے ذہین میں بیٹھ جاے اسے نکالنا مشکل ہوتی ہے خاص کر بری باتیں
۔۔یہ مشکل ضرور ہے پر نامکمن نہیں ۔
۔۔ایسی ہی بات آپ کی مسز کے لونگ ٹرم میموری میں چلی گی ہے ۔
۔اس بات کو وہ خودی اپنے دماغ سے نکال سکتی ہے اس کے لیے انھیں ذہنی سکون چاہیے ۔
اور وہ سکون آپ انھیں اپنی محبت یقین اور اپنی قربت سے دسکتے ہے
۔امید ہے ہارون سر آپ میری بات کو سمجھ گے ہوگے ۔۔
آپ بے فکر رہے ڈاکٹر
میں اپنی مسز کا بہت خیال رکھو گا ۔۔۔
اب اسے اور تکلیف برداشت نہیں کرنے نہیں دو گا ۔۔۔
————————————————————
“کیا ۔۔
کیا۔۔
کیا ۔۔
برہان تم سچ کہہ رہے ہو میں خالہ بننے لگی تم ماموں ۔یاہو۔۔۔
ایم سو ہپیی برہان
کتنی بڑی خوشی ملی ہے مجھے ۔
۔اف برہان میں بہت خوش ہو
۔ہاے وہ مجھے آنی کہے گا ۔
اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پاٶں کتنے پیارے اور کیوٹ ہوگے ۔۔
کیا لمحہ ہوگا وہ جب میرے ہاتھوں میں ہوگا ۔
۔ ہانی نے خوشی سے چہکتے ہوے صوفے پر اچھلتے ہوے خوشی سے کہا ۔۔
برہان نے جب سے ہانی کو بتایا تھا وہ خالہ بننے والی ہے تب سے وی پاگلوں کی طرح صوفے پر کود رہی تھی
۔اور زیان اس کی حرکتوں پر مسکرا رہا تھا ۔۔
(یہ مجھے چشمش اتنا مسکراتی ہوی کیوں اچھی لگ رہی ہے ۔میں تو اس کی آنکھوں میں صرف آنسو دیکھنا چاہتا ہو ۔ زیان نے ہانی کو اچھل کود کرتے دیکھ کر سوچا ).
برہان میں آتی ہو آپو سے ملنے ۔۔
برہان بہت خوش تھا
۔اتنے دنوں بعد ہانی کی ہنسی سن کر اسے سکون ملا تھا
۔اور اس نے اپنی بہن کی خوشیوں کے لیے دل سے دعا کی ۔۔۔
————————————————————
زیان زیان زیان زیان ایم سو ہپی ۔۔
آج مجھے اتنی بڑی خوشخبری ملی ہے میں خالہ بننے والی ہو ۔
ہانی نے زیان کو بیڈ سے اٹھا کر گھوماتے ہوے اچھل کود کرتے ہوے خوشی سے بتایا ۔
۔وہ خوشی میں اتنا بھول گی کہ وہ اپنے دشمن کے ساتھ خوشی شیئر کر رہی ہے
۔زیان کو چکر ہی آگے تبھی وہ جاکر صوفے پر گر گیا ۔۔ اور ہانی ہاسپتال جانے کی تیاری کرنے لگی ۔۔
یہ لڑکی پاگل ہے
کبھی کچھ اور کبھی کچھ ۔۔
زیان نے مسکراتےہوے سوچا ۔۔
(اس لڑکی کے پاگل پن کی وجہ سے ہی تم نے اس کی زندگی برباد کردی اسے اس کے گھر والوں کے سامنے ذلیل کر دیا ۔۔)
زیان شاہ کے اندر سے آواز ای ۔
یہ آواز اس کے ضمیر کی تھی ۔جسے سن کر وہ بے چین ہو گیا ۔۔۔
————————————————————
ہارون نے کسی کی نہ سنی اور روحا کو ہمیشہ کے لیے لے کر امریکہ چلا گیا ۔۔
تاکہ اسے سکون مل سکے ۔۔
روحا کسی سے نہیں ملی اس کے دل میں ہر ایک کے لیے نفرت پیدا ہو گی تھی ۔اپنے ماں باپ بہن بھای تک کو وہ غلط سمجھ رہی تھی ۔۔
مہر صاحب تنزیلہ روحا کے سلوک پر بہت روے روحا ہانی برہان سے بھی نہ ملی ۔اپنے غصے میں وہ ہانی برہان کو بھی فراموش کر گی
۔۔اس ہانی کا بھی نہیں سوچا جو اس کے بنا نہیں رہ سکتی تھی ۔۔۔
ہانی نے بہت شور مچایا روحا کو نہ لے کر جاے لیکن ہارون نے ایک نہ مانی ۔۔
مہر صاحب اور تنزیلہ بیگم کو دکھ ہو رہا تھا
ان کی دونوں بیٹیاں ان سے دور ہو گی تھی ۔۔
برہان بھی دکھی تھا اس کی بہنوں کے ساتھ کیا ہو گیا ۔
ہانی نے اہسپتال آکر صرف برہان سے بات کی تھی اسی سے ملی تھی
————————————————————
تین ماہ بعد ۔۔۔۔
ان تین مہنیوں میں سب بدل گیا تھا
۔۔ہارون نے روحا کا اتنا خیال رکھا تھا کہ روحا سب بھول گی تھی
۔اس کے دل میں ہارون کے لیے محبت بڑھ گئ تھی لیکن اسے ابھی بھی ڈر تھا کہ کہیں اسے ہارون چھوڑ نہ دے ۔ان تین مہنیوں میں روحا نے کسی سے کوی رابطہ نہ رکھا روحا ہارون خود میں مصروف ہوگے تھے
۔۔امریکہ میں ہارون کی بی جان تھی جن کے پاس وہ رہتا تھا
۔انہوں نے ہارون کو سنھبالا تھا وہ بہت اچھی سلیقہ مند خاتون تھی
۔وہ بھی ہارون کا بھرپور ساتھ دےرہی تھی روحا کی حالت بہتر کرنے کے لیے .
———————————————————–
برہان نے اپنی تعلیم چھوڑ دی تھی
۔اور بزنس پر دھیان دینے لگ گیا تھا ۔
کیونکہ مہر صاحب روحا اور حنین کے جانے کی وجہ سے ٹوٹ گیے تھے
ان میں ہمیت نہیں تھی خود کو اور بزنس کو سنھبالنے کی
اس لیے انہٶں نے سب برہان کے حوالے کردیا ۔۔۔
———————————————————–
ان تین مہنیوں میں پریسہ کے دل میں برہان کے لیے نفرت بڑھتی چلی گی
۔۔ ان تین مہنیوں میں وہ مہر ہاوس ایک دن بھی نہ گی
حالانکہ تنزیلہ بیگم نے اسے اتنی بار بلایا لیکن وہ نہ گی ۔اس کا رابطہ ہانی کے ساتھ تھا نہ ہی روحا کے ساتھ
اس لیے اپنے گھر کے کاموں میں ہی مصروف ہو گی ۔۔۔
وہ سارا دن کوکنگ کرتی اور ان گنت کھانے بنانے کی کوشش کرتی ۔۔
اس کا دھیان اب کبھی برہان کی طرف جاتا ہی نہ تھا ۔۔برہان نے بھی پریسہ سے کوی رابطہ نہیں کیا وہ چاہتا تھا پریسہ خودی دور ہو جاے اس سے ۔۔۔
————————————————————
روحا ہارون کے جاتے ہی زیان نے اسامہ عمارہ کو سچ بتا دیا تھا کہ اس نے سب ڈرامہ کیا تھا
۔اور وہ انھیں معاف کر چکا ہے
آج شام کھانے پر عمارہ نے زیان اور ہانی کو ڈنر پر انوائٹ کیا تھا ۔۔۔
————————————————————
بابر نے علیزے کے گھر رشتہ بھیج دیا تھا ۔۔
علیزے کے بھای رشتہ نہیں کرنا چاہیتے تھے
۔انھیں معلوم تھا کہ علیزے کو فوجی پسند ہے لیکن انھیں فوجیوں کے کام ان کے ٹاسک سے ڈر لگتا تھا
۔وہ اپنی بہن سے بہت محبت کرتے تھے
۔۔علیزے اپنے بھائیوں کی جان تھی ۔۔
لیکن بابر نے علیزے کے بھائیوں کو سمجھا لیا تھا ۔
کہ علیزے اس کے ساتھ رہے گی اگر وہ شہید بھی ہو گیا تب بھی علیزے کو کسی قسم کے مصائب کا سامنا نہیں کرنا پرے گا بلکہ یہ اس کے لیے فخر کی بات ہو گی ۔۔۔
شہید والی بات پر علیزے بہت روی اور بابر سے ناراض بھی رہی
لیکن بابر نے اسے سمجھا لیا تھا ۔۔۔
کہ اس کے بھائیوں کو امیریس کرنے کے لیے اس نے یہ بات کی تھی ۔۔
جلد ہی علیزے اور بابر کی شادی ہونے والی تھی ۔۔۔
—————————–
ان تین مہنیوں میں اگر کچھ نہ بدلہ تھا تو وہ تھا ہانی اور زیان کا رشتہ ۔
ہانی زیان نے ایک دوسرے سے لاتعلقی بڑتی ہوی تھی ۔ہانی سٶاے برہان کے کسی سے بات نہیں کرتی تھی ۔۔۔
————————————————————
اور ٹھرکی بتا کیسی گزر رہی ۔ہے
زیان نے اسامہ کو تنگ کرتے ہوے پوچھا ۔۔
دفعہ ہو
بے غیرت انسان
تیری وجہ سے میں پہلے ہی لیٹ ہوگیا ۔۔
۔ اسامہ نے غصے سے کہا ۔۔
اسامہ کی بات کا مطلب سمجھ کر زیان نے زور سے قہیقہ لگایا ۔
چل کوی نہ دیر اے درست اے ۔۔
زیان نے اسامہ کو گلے لگاتے ہوے کہا ۔۔۔
زیان اور ہانی جب اے ان کو یہ خوشخبری سنائ گی وہ ماموں مامی بننے جارہے ہے ۔۔
زیان اس بات پر بہت خوش ہوا اسامہ اور عمارہ کو بہت سی دعا دی ۔۔
ہانی بھی بہت خوش ہوی اس کی انکھوں میں آنسو اگے
۔وہ سوچ رہی تھی روحا پتہ نہیں کس حالت میں ہو گی ۔۔۔
————————————————————
آج بابر اور علیزے کی شادی تھی جس میں صرف ہانی نے شرکت کی تھی
۔کیونکہ زیان مصروف تھا ۔۔
ہانی نے گولڈن لہنگا بلیک کرتی بلیک ڈوپٹہ لیا ہوا تھا ۔۔۔
بالوں میں کلرل ڈالے بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔
علیزے نے ریڈ کلر کا لہنگا پہنا ہوا تھا ۔۔
معصوم سی علیزے دلہن بنی اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
بابر گولڈن شروانی پہنے کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔
بابر اور علیزے ہانی کے چہرے پر سنجیدگی دیکھ کر افسوس کر رہے تھے ۔۔
بابر نے ہانی سے معافی بھی مانگی کہ وہ اس دن اس کی وجہ سے مصیبت میں پھنس گی ۔۔۔
بابر اپنے اپ کو قصوار سمجھ رہا تھا
لیکن ہانی نے بابر کو سمجھایا
اس کی قیسمت میں یہ سب ہی لکھا تھا
اس میں اس کا کوی قصور نہیں ۔۔۔
———————————————————–
علیزے اپنے بھائیوں اور باپ کی دعا
لیتی ہوی رخصت ہو گی ۔۔۔
علیزے اپنے بھائیوں کے گلے لگ کر بہت روی
وہ لوگ بھی بہت روے آخر ان کی جان بستی تھی ۔اپنی بہن میں ۔
اچھے نصیب کی دعا دے کر خوشی خوشی انہوں نے اپنی بہن کو بابر کے دساتھ رخصت کردیا ۔۔۔
—————————————-
السلام و علیکم
بابر نے علیزے کے پاس بھٹتے ہوے اسلام کیا ۔۔
وعلیکم السلام
علیزے نے ہاتھوں کو آپس میں مسلتے ہوے جواب دیا ۔۔۔
بابر علیزے کی معصوم حرکت پر مسکرا اٹھا ۔۔
بابر نے اس کے نرم ملائم سفید ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا
۔۔بابر کے چھوتے ہی علیزے اور گھبرا گی ۔۔
علیزے تم اتنا گھبراو گی تو میرا کیا ہو گا ۔۔
میں محبت کا اظہار کروگا
یا تمھاری گھبرائٹ ختم ہونے کا انتظار کرو گا ۔۔۔
بابر نے ہستے ہوے کہا
علیزے خاموش رہی ۔۔
تمھارا منہ دکھای کا گفٹ ۔
اس غریب کی جتنی حثیت تھی اتنے میں گفٹ لے ایا ۔۔ تمھارے حسن کے سامنے ان کی شان شوکت کم ہے ۔۔
بابر نے علیزے کو گولڈ کا برسیلٹ دیا تھا ۔۔۔
بابر اپ ایسا کیوں کہہ رہے
۔یہ اتنا پیارا خوبصورت ہے میرے لے ان سب چیزوں کی کوی اہمیت نہیں مجھے صرف محبت عزت یقین چاہیے ۔علیزے نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔
دیکھو علیزے میں ایک فوجی ہو
میری زندگی آج ہے کل نہ ہو
اور ۔۔۔
اس سے پہلے بابر کچھ اور کہتا
علیزے نے اس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کو درمیان میں روک دیا ۔۔۔
پلیز بابر اس سے آگے نہیں ۔
میری جان ایک فوجی کی بیوی ہوتم ۔
اب ڈرپوک بن کر نہیں ہمت کرکے جینا ہے
۔بابر نے علیزے کے ہاتھوں کو پکڑ کر چھومتے ہوے کہا ۔۔۔
علیزے میں سچی بات کرتا ہو ۔۔
اگر مجھے تم میں یا اپنے وطن کی مٹی میں سے کسی ایک کو چوننا پڑا
میں اپنے وطن کی مٹی چوننو گا۔۔
کیونکہ میں ایک محافظ ہو
اور یہ میرا فرص ہے
تمھیں اور میرے باپ ماں کو فخر ہو گا
۔اگر میں شہید ہو گیا ۔۔۔
وعدہ کرو میری اولاد کو سنبھالو گی ۔۔۔
اگر مجھے کچھ ہو گیا تو ہمت نہیں ہارو گی مضبوط بن کر حالات کا سامناکرو گی ۔۔
امید ہے تم میرا ساتھ دو گی ۔۔
بابر نے علیزے کے سامنے ہاتھ کرتے ہوے کہا (وعدہ لینے کے لیے).
میں وعدہ کرتی ہو
آپ کا ہر موڑ میں ساتھ دو گی ۔۔۔
آپ کو اپنے فرائض پورے کرنے سے نہیں روکو گی ۔
علیزے نے روتے ہوے کہا ۔۔۔
او علیزے رونا تو بند کرو ۔
فوجی کی بیوی روتی نہیں ہے
۔بلکہ فوجی سے محبت کرتی ہے
۔بابر نے علیزے کو گلے لگاتے ہوے کہا ۔
بابر میں آپ سے بہت محبت کرتی ہو
آپ کے بغیر رہنے کا سوچ کر ہی سانس بند ہوتا محسوس ہوتا ہے
میں دعا کرو گی ہم کبھی الگ نہ ہو
علیزے نے آنسو صاف کرتے ہوے کہا
آمین)
بابر نے علیزے کی پیشانی کو چومتے ہوے کہا
۔اجازت ہے ۔میری جان
نئی زندگی کی شروعات کرنے کی ۔۔
بابر نے اجازت طلب نظروں سے دیکھ کر علیزے سے اجازت مانگی ۔۔۔
علیزے نے مسکرا کر اجازت دے دی ۔۔۔
آج کی رات بھی دومحبت کرنے والوں کی ملن کی رات تھی
۔علیزے خوش تھی اسے اتنی محبت کرنے والا شوہر ملا ۔۔دور چاندی ان کے ملن پر مسکرا رہی تھی ۔۔
دونوں اتنے مگن تھے
۔انھیں یہ بھی معلوم نہیں تھا
۔نصیب ان کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔
————————————————————
اگلی صبح بہت خوشگوار تھی ۔۔
علیزے کے چہرے سے اس کی خوشی کا اندازہ لگا جاسکتا تھا ۔۔۔
علیزے بابر کی محبت میں ایک کھلا گلاب لگ رہی تھی ۔۔
۔ہانی علیزے کو خوش دیکھ کر بہت خوش ہوی ۔۔
علیزے کے ماں باپ بھای خوش تھے علیزے کو اتنا اچھا شوہر ملا ہے ۔۔
علیزے ساری رات اپنے رب کا شکر ادا کرتی رہی اسے بابر جیسا شوہر ملا
۔بابر کے ہر عمل میں شدت چاہیت محبت شامل تھی ۔۔۔
————————————————————
رات کا جانے کونسا پہر تھا ۔۔
جب ایک ہیولہ بلیک ہڈی میں ملبوس کمرے میں داخل ہوا
اور آہستگی سے چلتا ہوا بیڈ کے قریب گیا ۔۔۔
یہاں بکھرے بال چہرے پر معصومیت لے کوی بہت گہری نیند سورہا تھا ۔۔۔
جس میں اس بلیک ہڈی والے کی جان بستی تھی ۔۔۔
لیمپ کی مدھم روشنی میں سونے والے کا چہرہ بہت پر کشش اور معصوم لگ رہا تھا ۔۔۔
بلیک ہڈی والا آہستگی سے اس کے قریب بیٹھ گیا ۔۔
اور اس کے چہرے کے ایک ایک نقش پر اپنا لمس چھوڑتا گیا ۔۔۔
سونے والا نیند میں اس قدر مصروف تھا کہ اسے کچھ معلوم بھی نہ ہو سکا ۔۔
میں تم سے بہت محبت کرتا ہو بلکہ محبت نہیں عشق کرنے لگا ہو ۔۔
لیکن میں خود کو تمھارے قابل نہیں سمجتا
تبھی اپنے دل کی بات اپنے دل میں ہی دبا کر رکھی ہے ۔۔۔(بلیک ہڈی والا ہیولہ کا زور کا معمول تھا اس کے کمرے میں آنا اور سوتے ہوے وجود سے باتیں کرنا اور اپنی تشگنی کو کم کرنا ۔۔۔
