Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 5)

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

آج پھر وہ جاۓ نماز پر بیھٹی اپنے نہ کردہ گناہ کی معافی مانگ رہی تھی ۔۔

جب وہی الفاظ اس کے کانوں میں گونجے جیسے وہ برسوں سے سنتی آئ تھی

روح پری کی بھابھی سے باتوں میں مگن تھی جب اس کو یہ الفاظ سنائی دیے

(ارے یہ وہی لڑکی ہے نہ جس کی وجہ سے سب کچھ ہوا توبہ کیسے شادیاں انجواۓ کر رہی ہے دوسروں کی زندگیاں تباہ کرکے اس کی وجہ سے کسی کا باپ مر گیا اور یہ دیکھو کیسے مزے سے گھوم رہی )

روح یہ سب باتیں سن کر شادی ہال سے چلی گئ تھی ہارون کو وہ بھی دیکھ چکی تھی لیکن اس میں ہارون کا سامنا کرنے کی ہمیت نہ تھی —.

پتہ نہیں کیوں انسان بولتے ہوۓ اپنے الفاظ پر غور نہیں کرتا ۔جس کے الفاظ سے کسی دوسرے انسان کا کتنا دل دکھتا ہے ۔۔ہم ایسے الفاظ پتہ نہیں کتنے اور کہاں استعمال کرتے ہیں ۔۔

ہمشہ کی طرح آج وہ روتے ہوۓ سجدے میں گر کر سو گئ ۔۔۔۔

————————————————————

روحا بیٹی کیا ہوا ہے ۔جو ایسے خاموش ہو ۔تنزیلہ بیگم نے روحا کے گہرے براٶن کمر تک آتے بالوں کی مالش کرتے ہوۓ پوچھا ۔۔

کچھ نہیں ماما–

۔کتنی دفعہ کہا ہے جھوٹ نہیں بولا جاتا تو نہ بولا کرو ۔تنزیلہ بیگم نے روح کی بات کاٹتے ہوۓ کہا ۔۔

کیوں ماما جب بھی میں خوش ہوتی ہو تب ہی مجھے اپنے نہ کردہ گناہ کی یاد دالائی جاتی ہے۔روحا نے روتے ہوۓ کہا ۔۔۔

چھوڑو ان باتوں کو چلو باہر گھوم کر آٶ یا ہانی کو ساتھ لے جاٶ ۔تنزیلہ بیگم نے روحا کا منہ چومتے ہوۓ بہلایا ۔۔۔۔

ماما میں اکیلی چلی جاتی ہو روحا نے آنسو صاف کرتے ہوے کہا اور چلی گئ

————————————————————

روحا ابھی گھر سے نکلتی ہے جب ایک گاڑی میں دو آدمی نکل کر روحا کو زبردستی گاڑی میں بٹھا دیتے ہیں ۔ روحا کو بولنے کا موقع دے بغیر منہ پر رومال رکھ دیا وہی روحا بےہوش ہوگئ

—————————————————–سولہ سال کی لڑ کی روتے ہوۓ گھر میں داخل ہوتی ہے ۔ماما میری دوست مجھے چھوڑ کر

پاکستان سے چلی گئ ۔لڑکی نے روتے ہوۓ اپنی ماں کو بتایا۔۔ تم ہو ہی ایسی جس سے محبت کرو گئ وہ چھوڑ دے گا تمھیں یہ بات اُس کی پھپھو کی بیٹی نے کہی ۔۔۔

آج پھر یہ بایتں اس کے کانوں میں گونج رہی تھی جب اُسے سولہ سال کی عمر میں پتہ چلا تھا اس کا کیا قصور تھا ۔۔۔

گہرا اندھیرا ہرطرف خاموشی میں بیٹھی وہ یہ سب باتیں سوچ رہی تھی ۔جب دروازہ کھول کر وہ شخص اندر داخل ہوا۔

پنک روز کیسی ہو ۔ہارون خان نے تحمل سے روحا کے مقابل زمین پر بھیٹتے ہوۓ پوچھا ۔۔

روحا پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پرے تھے ہارون خان کو سامنے دیکھ کر ۔۔۔

سہ”سر آپ روحا نے ہکلاتے ہوۓ پوچھا ۔۔

میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہو میری زندگئ میں شامل ہو جاٶ تم نے مجھ جیسے انسان کو محبت کرنا سکھایا ہے میں بہت محبت کرنے لگا ہو تم سے وعدہ ہے میرا ہر خوشی تمہیں دوں گا۔ہارون نے روحا کی بات کو نظر انداز کر کے اپنے دل کی بات سامنے رکھی ۔۔۔

روح ہارون کی بات سن کر حیران رہ گئ

میں اپنے ماما پاپا کی مرضی سے نکاح کرو گئ ۔روحا نے پریشانی میں بے ربط الفاظ کہے ۔۔

بس اتنی سی بات ہارون نے مزاق اڑایا۔۔۔

اگر میں نکاح نہ کرو تو روحا نے معصومیت سے کہا ۔۔

تو یہ میری پنک روز مجھے پتہ ہے تمھارے پاپا کہاں اور کس وجہ سے شہر سے باہر گۓ ہے اور تمھارہ بھائی کون سے پارک میں دوستوں کے ساتھ گھوم رہا ہے ۔ہارون نے موبائل سے ویڈیو دیکھاتے ہوۓ کہا جس میں برہان پارک میں گھوم رہا تھا ۔۔۔ہارون کی بات پر روحا گبھرا گئ اسے سمجھ آگئ تھی ہارون کا اشارہ کس طرف ہے

جس دن سے روح نے ہارون کو دیکھا تھا وہ بھی اسی طرح بے چین تھی جس طرح ہارون خان

روح اپنی دل کی بات زبان پے کبھی بھی نہ لانے کا فیصلہ کر چکی تھی وہ خود اپنے جذبات کو سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اب ہارون کی کہی بات پر خوش ہو یا پریشان –

اپنے نصیب کا لکھا سمجھ کر روح دل سے نکاح کے لے رضامند ہو گئ تھی-

لیکن اپنے جذبات کا ہارون سے اظہار نہ کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی –

—————————————————– کچھ دیر بعد روحا مہر سے روحا ہارون بن چکی تھی ۔۔

نفرت ہے مجھے آپ سے روحا نے نکاح نامے پر سائن کرتے ہوۓ ہارون سے کہا ۔۔۔

اور مجھے محبت ہارون نے محبت پاش نگاہوں سے ریڈ حجاب میں روحا کی سرخ آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔۔جو رونے کی وجہ سے اور پر کشش ہوگئ تھی ۔۔۔

——————————-

نکاح سے 3 گنٹھے پہلے

میں اپنے دل کی بات کسے بتاو ہارون نے موبائل نکالتے ہوے سوچا

——————————-

ایک نوجوان لڑکا کالے بال کالی آنکھیں گوری رنگیت پولیس کی وردی پہنے ہوے بھاگ رہا تھا

زیان شاہ——–

وہ آج کسی بھی حال میں اس چور کو پکڑنا چاہتا تھا جس کی کافی دنوں سے اسے شکایت مل رہی تھی —

لیکن آج بھی وہ ناکام ہوا وجہ کسی لڑکی میں ٹکڑانا تھا

جو کالا برقعہ آنکھوں پے چشما لگاے گری ہوئی تھی زیان کی اچانک نظر پڑی تو اسے غلطی کا احساس ہوا تبھی اسے اٹھانے کےلے اگے برھا

زیان ان کالی گہری آنکھوں میں کھو سا گیا برقعہ میں موجود لڑکی کی صرف چشمے کے پیچے چھپی آنکھیں نظر آرہی تھی–

او سانڈ کہیں کہ زارافے اندھے کہیں کہ آپ کو یہ جو دو آنکھیں دی گئی ہے ان کا استمعال بھی کر لیا کرے بس پولیس کی وردی پہین لینا کافی نہیں ہوتا زارافے کہیں کہ

ہانی نے غصے سے سے زیان کی طرف دیکھ کر کہا–

زیان جو ان آنکھوں میں دیکھنے میں مگن تھا ہانی کی باتیں سن کر خیالات سے باہر آیا

اپنے بارے زارافہ اور سانڈ کے لقابات سن کر زیان حیران رہ گیا اتنی اچھی پرسنالٹی جس پر لڑکیاں مرتی ہے اور یہ پاگل لڑکی کیا کچھ کہہ رہی تھی

او چشمیش زبان سمبھال کر بات کرو مجھے زہر لگتی ہے تیزدراز زبان والی لڑکیاں زیان نے ہانی کو غصے سے دیکھتے ہوے کہا—

اور مجھے یہ پولیس والے زہر لگتے ہے جو گھور کر دیکھے

ہانی کی بات پر زیان کو اپنی حرکت پر شرمندگی ہوئی–

چلو زارافے مجھے سوری کرو ہانی نے اپنا چشما ٹھیک کرتے ہوے کہا —

ڈی ایس پی زیان شاہ جس کے غصے سے ہر کوئی ڈر جاتا تھا اور یہ لڑکی اسے معافی مانگنے کا کہہ رہی تھی

زیان کا حیران ہونا بنتا تھا

او چشمش جاو یہاں سے زیان نے بیزاریت سے کہا

منحوس انسان میرا چشما ٹوٹ گیا ہے اس کی ادائیگی کرو معافی مانگ کر

ہانی نے خود ہی چشما توڑ کر زیان پر الزام لگایا

تمہارے اس دو ٹکے کے چشمے کے لے اپنی گڑیا کا صدقہ اتار کر تمہیں دے دوں بتاو کیا قیمت لینا چاہو گئ تم جیسی لڑکیوں کو میں جانتا ہو جو ہم لڑکوں کی توجہ حاصل کرنے کے لے ہم سے ٹکراتی ہے

ہانی کی بات سن کر زیان کو غصہ اگیا تھا تبھی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کہہ کیا رہا ہے

(گڑیا زیان شاہ کی بہن )

(سفید رنگیت سنہری کندھے سے نیچے بال ہلکی گڑے آنکھیں چہرے پے معصومیت جو ہر وقت نقاب میں چھپا رہتا ہے آج تک اسے کسی نے نہیں دیکھا تھا)

عمارہ شاہ—-

( زیان شاہ کی ایک ہی بہن)

چٹاخ چٹاخ چٹاخ

ہانی نے زیان کو سنبھلنے کا موقع دیے بنا ایک ساتھ ہی تین تھپڑ زیان کے چہرے پر رسید کردیے

ہانی کو زیان کی بات پے اتنا غصہ آیا کہ اس کا ہاتھ اٹھ گیا کوئی بھی لڑکی ایسی باتیں برداشت نہیں کرسکتی ہانی کا ردعمل بلکل ٹھیک تھا کسی کو کسی کے بارے کچھ بھی کہنے کا کوئی حق نہیں

تمہاری اتنی ہمیت تم نے مجھے تھپڑ مارا زیان کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا

جس طرح آپ سب لڑکیوں کو ایک جیسا سمجھ کر اتنی بکواس کر سکتے ہے اسی طرح میرا بھی اٹھ سکتا ہے

ہانی نے مسکراتے ہوے جواب دیا

اور ہانی کی مسکراہیٹ سے زیان کو اور غصہ آیا

میں تم سے اس تھپڑ کا بدلہ لے کے رہو گا اپنی اس حرکت پے تم بہت پچتھاو گی

یہ تو وقت بتاے گا زارافے اتنا کہہ کر ہانی وہاں سے چلی گئ——

————————-

دوبئ کے مشہور ریسٹورینٹ میں نوجوان گندمی رنگیت شربتی آنکھیں براون بال جو اس وقت کھانے میں مصروف ہے —

اچانک اس کا فون رنگ ہوتا ے فون پے لکھے نام کو دیکھ کر وہ مسکرانے لگتا ہے –

ہیلو کھروس انسان آج کیسے یاد کر لیا –

اسامہ نے فون اٹھاتے ہی فورا پوچھا-

اسامہ جبران–

جو کام کے سلسلے میں دوبئ گیا ہوا تھا-

ٹھرکی انسان خود تو جیسے بڑا یاد کرتا ہے تو دوبئ جا کر تو بھول ہئ گیا سب ہارون نے اسامہ کو شرم دلاتے ہوے کہا—

کیا بتاو یار یہاں کی شہزادیوں کو ہی دیکھنے سے فرست نہیں ملتی اسامہ نے ہنستے ہوے کہا-

چل اپنی بکواس بند کر اور میری سن –

ہارون نے اسامہ کو شروع سے لے کر سب بتادیا

اسامہ ہارون کی بات سن کر خاموش ہوگیا

ہارون میں پہلے بھی سمجھایا تھا جو کچھ بھی ہوا ہے اس میں اس لڑکی کا کوئی قصور نہیں اگر وہی لڑکی روحا بھابھی ہوئی تم فورا ان سے نکاح کرو کیوں کہ انھیں بھی معلوم ہو گیا تو تمہارے لے مشکل ہوجاے گی اس لے سب باتوں کو چھوڑ کر روحا بھابھی سے نکاح کر لو اسامہ نے سنجیدہ ہوکر کہا–

ہارون کو بھی اسامہ کی بات ٹھیک لگی —

ٹھرکی مشورہ تو اچھا دیا ہے چل میں کچھ کر کے بتاتا ہو ہارون نے ہنستے ہوے کہا—

چل اب بند کر فون میں ذرہ اپنا ٹھرکی پن پورا کر لو

اسامہ نے ہنستے ہوے کہا—

تو نہیں ٹھیک ہوسکتا ٹھرکی ہارون نے افسوس سے کہا-

کھروس انسان میرا چھور یہ بتا وہ سنجیدہ انسان کہا مصروف ہے —

اسامہ نے ہارون سے زیان کے بارے میں پوچھا

وہ کہا مصروف ہو سکتا سواے دو کاموں کے ایک اپنی ڈوٹئ اور دوسری گڑیا

گڑیا کے نام پر اسامہ مسکرانے لگا پتہ نہیں دشمن جان کیسی ہوگئ اسامہ عمارہ کے بارے سوچنے میں اتنا مگن ہو گیا اسے پتہ بھی نہ چلا کب ہارون نے کال کٹ کر دی–

(ہارون زیان اور اسامہ بچپن کے دوست ہے )

————-

سر آپ کو کچھ بتانا ہے گل خان نے ڈرتے ہوے کہا

ہاں بولو —

سر جسے آپ ڈھونڈ رہے تھے وہی روحا میڈم ہے گل خان نے تفصیل سے بتایا–

ہارون پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ گے قسمیت کے فیصلے پر وہ حیران تھا —

اس نے سوچ لیا تھا وہ اپنی محبت کو حاصل کرے گا اور واقعی جو کچھ ہوا اس میں روح کا کوئی قصور نہیں ہے آخر کار ہارون نے آج اس بات کو تسلیم کر لیا تھا روح بے قصور ہے —

سچ کہا کسی نے محبت جب ہو جاے تب کچھ اور نظر نہیں اتا یہ ہی ہارون کے ساتھ ہوا تھا–

ہارون نے روح سے نکاح کا فیصلہ کر لیا

———————

روح گھر آتے ہی اپنے روم میں چلی گئ روح اور ہارون دونوں ہی خوش تھے —

دونوں اس بات سے بے خبر تھے قسمیت کیا کھیل کھیلے گئی ان کے ساتھ

*—————

ہاے میں نے اس پولیس والے کو تھپڑ مار تو دیا کہیں وہ مجھ سے ناول کے ہیرو کی طرح بدلہ نہ لینے اجاے

حنین نے پریشان ہوتے سوچا —

کسے بتاو یہ بات سب مجھے ڈانٹے گے —

علیزے کو بتاتی ہو ہانی نے فون اٹھاتے ہوے سوچا–

(علیزے ہانی کی دوستی کالج ہوی معصوم سی گوری رنگیت براون بال براون آنکھوں والی علیزے حنین کو پہلی ہی نظر میں بہت پسند آئی اور دونوں کی بہت گہری دوستی ہی)

نہیں اسے بتاو گی اس کا تو سوچ سوچ کے بی پی لو ہوجانا ہانی نے افسوس سے سوچا

برہان کو بتاتی ہو وہی میری ہر بات سنتا سمجھتا ہے —

ہانی برہان کے کمرے میں گئ

اوے لمبو تجھے کچھ بتانا ہے ہانی نے کنفیوز ہوتے کہا –

ہاں بول چشمیش اور گھبرا کیوں رہی ہے تجھے پتہ نہ چہرہ دیکھ کر سمجھ جاتا کیا تکلیف تجھے چل بتا کس سے لڑکر آی ہے —

پھر ہانی نے برہان کو سب بتا دیا —

ارے واہ بہت اچھا کیا ایسا ہی کرنا چاہیے ایسے لوگوں ساتھ برہان نے ہانی کی ساری بات سن کر جواب دہا–

لمبو مجھے ڈر ہے وہ بدلہ لینے نہ اجاے ہے بھی پولیس والا –

حنین نے پریشان ہوتے کہا

ارے چشمیش کیوں پریشان ہو رہی اس نے کونسا تمہیں دیکھا ہے —

چلو چھوڑو اس بات کو—-

کچھ کھاتے ہے بھوک لگی ہے مجھے برہان نے ہانی کا ذہین دوسری طرف لانے کے لے کہا–

ہانی ہرہان کی بات سے کافی ریلیکس ہوگی تھی

ہانی بھی انجان تھی کہ اس کی زندگی میں کیا ہونے والا ہے جس کے چہرے پر ہسی آنکھوں میں شرارت رہتی ہے وہاں آنسو اور سنجیدگی آجائے گئ–

——————

جی آپ کون تنزیلہ بیگم اپنے سامنے اس نوجوان کو دیکھ کر پوچھتی ہے

پھوپھو میں ہو آپ کے بھائی کا بیٹا ہارون خان —

ہارون نے ان سے گلے لگتے ہوے کہا

میرا بیٹا میرے بھائی کا بیٹا کہا چلے گے تھے تم تنزیلہ بیگم نے روتے ہوے ہارون کا ماتھا چومتے ہوے کہا

پھوپھو اب میں واپس آگیا ہو کہیں نہیں جاو گا ہارون نے مسکراتے ہوے کہا

پھوپھو امی کا انتقال ہو چکا ہے —

سن کر افسوس ہوا—

پھوپھو میں کچھ بتانے آیا ہو —

ہاں بیٹا بولو—

میں نے روح سے نکاح کر لیا ہے————