Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 9)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 9)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
برہان آپو ٹھیک ہوجاۓ گئ نہ—
ہانی نے روتے ہوۓ برہان سے پوچھا ۔۔
چشمیش رونے کی بجاے اللہ سے دعا کرو—
آپو ٹھیک ہو جاےگئ جلدی إن شاءالله ۔
برہان نے حوصلہ دیتے ہوۓ کہا۔۔
سب جانتے ہے آپو میرے لیے پوری دنیا ہے ۔
میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔
ہانی نے شدت سے روتے ہوۓ کہا ۔۔
اے موٹی پاگل ہو گئ کیا۔
آپو تمہیں اپنا پاور بنک کہتی ہے اگر تم ہی ایساکرو گئ تو انھیں کون سنبھالے گا ۔۔
دعا کرو اللہ سے چلو شاباش—
برہان نے ہمیت دیتے ہوۓ کہا ۔۔
ہانی نے کوئی جواب نہ دیا–
اگر آپو تمہاری دنیا ہے تو میں کیا ہو تمہارا برہان نے مصنوعی ناراضگی دیکھاتے ہوے کہا —
تم تو میری طاقت ہو میرا حوصلہ ہو برہان —
آپو میری دنیا ہے تو تم میری دھڑکن ہو —
تمہارے بغیر میں کچھ نہیں —
ہانی نے روتے ہوے برہان کے گلے لگ کر کہا
دور کھڑے زیان نے یہ منظر نفرت کی نگاہ سے دیکھا–
برہان کی آنکھوں میں آنسو آگے—
وہ اج کل خود حیران تھا —
ہانی اتنی بڑی بڑی باتیں کیسے کررہی ہے–
دونوں بہن بھائی کو کچھ بہت غلط ہونے کا احساس ہورہا تھا —
اور دونوں ہی آنے والے وقت سے انجان تھے–
————-
کیا ہوا ہے روحا بھابی کو—–
ہانی جو برہان کے گلے لگتے رونے میں مصروف تھی عمارہ کی آواز سن کر الگ ہوئی ۔۔
پچھے سے آتے زیان نے یہ منظر نفرت سے دیکھا ۔۔۔
نروس بریک ڈاٶن ہوا ہے–
آپ دعا کریں آپو کے لے —
ہانی نے ایک دفعہ پھر روتے ہوۓ عمارہ سے کہا ۔۔۔
وہ جلدی ٹھیک ہو جاے گی پریشان نہ ہو —
عمارہ نے ہانی کو گلے لگاتے ہوے حوصلہ دیا–
چلو آو کچھ کھاتے ہے —
اب مجھے بھوک لگ گی ہے ۔
برہان نے دوبارہ ہانی کو روتا دیکھ زبردستی اپنے ساتھ لے جاتے ہوے کہا ۔۔۔
———————————————————–
ادھر آٶ ہانی—
جیسے روحا تمہاری بہن ہے ویسے ہی میں بھی بہن ہو ۔پری جو خود روحا کے لیے رو رہی تھی جب ہانی کو مسلسل روتے دیکھا تو اس سے ہانی کا رونا برداشت نہ ہوا تبھی اسے حوصلہ دینے کے لیے ہانی کے پاس آگی ۔۔
چپ ہو جاٶ چڑیل کتنی بری لگ رہی ہو روتے ہوے–
پری نے ہانی کو گلے لگتے ہوۓ مذاق سے کہا تاکہ ہانی کا ذہین کسی اور طرف چلا جاے—۔۔۔
میں چڑیل سہی پری
یہ آپو کتنے سکون سے سو رہی ہے —
انھیں کہے نہ ہانی یاد کر کررہی ہے —
ہانی نے چپ ہو نے کی بجاۓ اور رونا شروع کردیا۔۔۔
(پریسہ اور حنین دونوں اچھی دوست تھی ایک دوسرے کے غم میں شامل ہونے والی لیکن روحا کے مامعلے میں دشمن بن جاتی ۔۔
جیسے آج ایک دوسرے کو سہارا دنیے کےلیے ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔
دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اپنی زندگئ میں مگن )۔
یہ تو وقت ہی بتاۓ گا ان دونوں کے ساتھ کیسا ظلم ہونے والا تھا ۔۔۔
دیکھنا یہ تھا کیا یہ دونوں وقت کے ظلم سے بچ پاتی ہے یا نہیں ۔۔
چلو آو ہارون بھائ کے پاس چلتے ہے
وہاں ڈاکٹر آیا ہے روحا کی حالت کا پوچھتے ہے ان سے پری نے ہانی کا دھیان ڈاکٹر کی طرف دالایا ۔۔۔
————————————————————
پھپھو میں نہیں جانتا کیسے روحا کو پتہ چلا سب کچھ ہارون نے روتے ہوۓ کہا ۔۔
مسٹر ہارون جب ڈاکٹر نے آتے ہوۓ مخاطب کیا ۔۔۔
ڈاکٹر میری بیوی کیسی ہے ۔
ہارون نے جلدی سے پوچھا ۔۔۔
دیکھے آپ کی وائف کا دماغ کوئ رسپونس نہیں دے رہا ایسے لگتا ہے جیسے آپ کی وائف زندگی کی طرف آنا نہیں چاہتی ۔۔
انھیں کوئی گہرا صدمہ لگا ہے شاید ۔
ڈاکٹر نے افسوس سے کہا ۔۔
آپ سب دعا کریں باقی اللہ کی مرضی۔۔
ڈاکٹر ہارون کو حوصلہ دیتے ہوے چلا گیا —
ڈاکٹر کی بات پر ہارون کے پاوں کے نیچے سے زمین نکل گی–
اس کی پنک روز زندگی کی طرف نہیں آنا چاہتی—
یہ سوچتے ہی ہارون کو اپنا سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہوا–
یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہارون بھائی —
نہ آپ آتے آپو کی زندگئ میں نہ آپو اس حال میں ہوتی ۔۔
ہانی نے طش کے عالم میں کہا ۔۔
ہانی “”
نہیں ماما—
آپو پوری زندگئ ڈرتی رہی اس وجہ سے کہ کہیں مہران ماموں کا بیٹا ان سے بدلہ لینے نہ آجاے وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔۔۔
(ہانی اور برہان کو بھی سب حقیقت معلوم ہوگی تھی کہ روحا کا ڈر کیا تھا اور ہارون کون ہے —
پہلے ہانی اور برہان انجان تھے ہر بات سے انھیں بس یہ معلوم تھا روحا کوئی خوف ہے اس خوف کا ذکر ان دونوں سے نہیں کیا گیا تھا لیکن اب پریسہ نے سب بتادیا تھا انھیں)
ہانی نے تنزیلہ کی بات کاٹتے ہوۓ کہا ۔۔۔
————————————————————
الللہ میں تیرا گناہگار بندہ ہو–
تیری ہی بندی سے اُس گناہ پر نفرت کرتا آیا جس میں وہ بے قصور تھی ۔
میں معافی مانگتا ہو تجھ سے مجھے معاف کر دے ۔
میری دعا قبول فرما مجھے میری زندگئ میری روحا واپس لوٹا دے میں وعدہ کرتا ہو روحا کو کبھی کوئ غم دکھ نہیں دو گا اُسے اتنی خوشیاں دو گا وہ اپنا ماضی بھول جاۓ گئ ۔۔
ہارون نے روتے ہوۓ اللہ سے معافی مانگی ۔۔
چوبیس گھنٹے ہارون خان پر عذاب بن کر گزرےتھے ۔
جب ڈاکٹر نے آ کر خوشخبری سنائ ۔
مبارک ہو آپ کی وائف کو ہوش آگیا ہے۔۔
ایک بات کا خاص خیال رکھے گا ۔انھیں کوئی ٹیشن نہ دی جاۓ ۔
ڈاکٹر نے ہارون کی طرف آتے ہوۓ کہا ۔۔۔
جی ہم پوری کوشیش کرے گۓ
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے میری بیٹی کو ہوش اگیا ۔۔
تنزیلہ نے خوشی سے کہا ۔۔
ہارون ڈاکٹر کی بات پر خاموش رہا تبھی تنزیلہ بیگم نے جواب دینا بہتر سمجھا—
پاپا چلے آپو سے ملتے ہے ۔
برہان نے جلدی سے کہا–
ڈاکٹر ہم اپنی بیٹی سے مل سکتے ہے—
مہر صاحب نے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔
جی مل سکتے ہے–
ہوسکے تو خوش رکھے انھیں اب —
ڈاکٹر نے ایک دفعہ پھر یقین دہانی کروائی ۔۔۔
بیٹا آپ بھی آو–
تنزیلہ نے ہارون کو کہا —
جو کب سے سوچ میں کھڑا تھا—
روحا کے سامنے جاۓ یا نہیں ۔۔۔
پھپھو آپ لوگ جاۓ روحا کو ضرورت ہے ۔۔
ہارون نے اپنے آنسو صاف کرتے کہا ۔۔۔۔۔
سوری بھائی
میں نے بلاوجہ اتنا کچھ کہہ دیا غصے میں–
کیسے آپ کو غلط کہہ سکتی ہو
مجھے پتہ ہے آپو عشق ہے آپ کا ۔
ہانی جو کب سے ہارون کو اللہ کے سامنے روتے ہوۓ دیکھ چکی تھی اب پاس آتے ہوۓ ہارون سے معافی مانگی ۔۔۔
ارے پاگل کوئی بات نہیں —
میرے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہے
مجھے بھی اتنی سزا ملنی چاہیے تھی ۔۔
مجھے آج پتہ چلا روحا میری محبت نہیں میرا عشق ہے—–
جو میری روح میں بستا ہے ۔۔
اگر روحا پوری زندگئ نفرت کریں پھر بھی کم ہے–
میرے لیے اتنا بہت ہے اللہ نے مجھے میری پنک روز واپس کر دی ۔۔
میں اتنی محبت دو گا اسے–
وہ سب بھول جاے گی–
اور جلدی اسے بھی مجھ سے محبت ہوجاے گی ۔۔
۔ہارون نے ہانی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا
إن شاءالله–
ہانی نے مسکراتے ہوے کہا—
چلو جاٶ اندر–
میری پنک روز کے پاس —
وہ انتظار کر رہی ہوگی ۔۔۔
ہارون نے ہانی کو کمرے میں بھیجتے ہوے کہا۔۔
———————————————————–
آپو آپ نے اچھا نہیں کیا ہمارے ساتھ–
پتہ کتنا روئی میں–
ہانی نے روحا کے سرہانے بیٹھتے پوۓ کہا ۔۔
اور جو آپ سب نے میرے ساتھ کیا–
مامابابا —
کیا میں اتنی بری تھی جو اُسی شخص سے میری شادی کروا دی جس سے میں ساری زندگی ڈرتی رہی ۔۔
روحا نے ہانی کی بات نظرانداز کرتے تنزیلہ اور مہر سے شکوہ کیا ۔۔
بیٹا آپ ٹھیک ہو جاۓ پھر اس بارے بات کریں گے —
مہر نے روحا کے سر پر ہاتھ رکھ کر بات ٹالتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔
———————————————————–
ہانی مجھے نیند آرہی ہے ۔
ہارون جب کمرے میں داخل ہوا اس کو یہ الفاظ سنے کو ملے ۔۔
کافی دیر سے سب روحا کے پاس کمرے میں تھے ۔۔
جب روحا نے ہارون کو اندر آتے دیکھا تو جان بوجھ کر نیند کا بہانہ بنایا۔۔
کیونکہ وہ ہارون سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی
چلو سارے میری بیٹی نے سونا ہے
۔۔ آرام کرنے دو روحا کو
مہر صاحب نے جلدی سے سب کو کہا تاکے روحا آرام کر سکے —
روحا کے علاوہ کسی نے ہارون کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
میں آپو کے ساتھ بیٹھ جاتی ہو
ہانی نے جانے سے انکار کیا ۔۔۔
نہیں ہانی ہارون شوہر ہے اسے روحا کے پاس رہنا ہے پھر آ جانا تم ۔
تنزیلہ نے زارا غصے سے کہا ۔۔۔
تنزیلہ نے جب ہارون کو دیکھا-
وہ سمجھ گی روح نے نیند کا بہانہ کیا ہے
سب روم سے چلے گے تو ہارون نے خود میں ہمیت پیدا کی —
پنک روز –
ہارون آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوے روحا کے قریب آیا–
اس کے قریب بیٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
جب روحا نے غصے سے منہ موڑ کر آنکھیں بند کر لی ۔۔ہارون نے روحا کی یہ حرکت دیکھ کر زرو سے اپنی آنکھیں بند کی ۔۔
مجھے پتہ تم ناراض ہو نفرت کرتی ہو
۔تم ٹھیک ہو جاٶ میں یہ سب ناراضگی نفرت ختم کردوگا ۔تم میرا عشق ہو تم میری روح میں بستی ہو ۔۔۔
اب میں تمیں کوئی دکھ تکلیف نہیں دو گا ۔۔
جس دن ہارون خان نے روحا ہارون خان کو دکھ دیا وہ دن ہارون کا آخری دن ہو گا ۔۔
میری پنک روز جلدی سے ٹھیک ہو جاٶ —
مجھے معاف کردو ۔
ہارون نے روتے ہوے سب کہا—
اس کا رونا روح کو ذرہ پسند نہ آیا
اپنا خیال رکھنا ۔۔۔
روحاجو منہ موڑے آنکھیں بند کیے ہارون کی باتیں سن رہی تھی ماتھے پر نرم گرم لمس محسوس کرکے آنکھیں فورا کھول لی۔
تب تک ہارون کمرے سے چلا گیا تھا ۔۔۔
نفرت ہے مجھے آپ سے ہارون خان–
روحا نے روتے ہوۓ اپنے آنسو صاف کیے ۔۔۔
————————————————————
“ایک ہفتہ بعد ۔۔۔۔
ایک ہفتہ کے بعد آج روحا کو اچھا محسوس ہوا تھا ۔اِس ایک ہفتے میں ہارون نے بہت خیال رکھا روحا کا لیکن روحا نے ایک دفعہ بھی ہارون کو مخاطب نہیں کیا تھا ۔۔۔
آج پری روحا سے ملنے آی تھی ۔۔۔
پری کچھ ہوا کیا ۔۔ کیوں اتنا خاموش رہنے لگی ہو اب تو ہانی سے بھی نہیں لڑتی تم ۔۔روحانے پوچھا ۔۔
روحا کافی دنوں سے پری کا خاموش رہنا نوٹ کررہی تھی
کچھ نہیں یار ویسے ہی پری نے ٹالتے ہوے کہا۔۔
بکواس کرو کیا مسلہ ہے میں زیادہ منت نہیں کرسکتی ۔روحا نے جان بوجھ کر آنکھوں میں آنسو لاتے ہوۓ کہا ۔۔
(روحا جانتی تھی پری اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتی تھی ۔۔)
پری نے پھر سب کچھ روحا کو بتا دیا وہ اپنی دوست کو پریشان نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔
“پریسہ کی بھابھی اپنے آوارہ عیاش پسند نشئ بھائ سے پری کی شادی کروانا چاہتی تھی ۔
جس کا دباٶ پری کے بھائ ڈال رہے تھے ۔۔
پری یہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
روحا میں شادی ایسے انسان سے نہیں کرسکتی جسے عورت کی عزت نہ کرنی آتی ہو ۔۔
پری نے روتے ہوۓ روحا سے کہا ۔۔
برہان کیسا لگتا ہے پریسہ–
روحا نے سامنے غیر مرئ نقطے کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
دماغ چل گیا تمھارا یا کتے نے کاٹ لیا ہے –
میں کیا بکواس کر رہی اور تم کیا کہہ رہی ہو حد ہے–
پری نے غصے سے روحا کو دھکا مارتے ہوۓ کہا ۔۔۔
زیادہ بنے کی ضرروت نہیں ہے بھابھی جان – –
میں تم کو بچی لگتی ہو
جو برہان کے ذکر پر تمھارے یہ ٹماٹر جیسے سرخ ہوتے گ ال نہ دیکھ سکو۔
روحا نے پری کے گال شررات سے کھنچتے ہوے کہا۔۔۔
کچھ زیادہ بے شرم نہیں ہو گی ہو شادی کے بعد
روح کی بچی دفع ہو میں ہی چلی جاتی ہو ۔۔
پری جو روحا کی ایسی حرکیتں دیکھ کر خوش ہوئی تھی اللہ نے اُسے زندگئ کی طرف واپس موڑ دیا تھا ۔۔
اب مضوعی غصے سے بولی ۔۔
پری بہن بھائ سگے ہوتے ہے کسی دوسرے کو بھائ بہن کہہ دنیے سے بن نہیں جاتے ۔۔
میں نے شروع سے تمھاری آنکھوں میں برہان کے لیے محبت دیکھی ہے ۔ اگر تم خاموش ہو تو اس وجہ سے برہان چھوٹا ہے یہ بھی کوئ مسلہ نہیں ہے چھوٹا بڑا کچھ نہیں ہوتا اگر بڑی عمر کا لڑکا چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کر سکتا ہے تولڑکی کیوں نہیں ۔۔
تم میری بھابھی بنو گی بس بات ختم پری جو کچھ کہنے لگی روحا نے وہی بات ختم کر دی ۔۔
ہاے میرے معصوم بھائ کو چڑیل ملنے لگی ۔۔روحا نے پری کو گلے لگاتے شررات سے کہا ۔۔
دروازے کے پاس کھڑا ہارون یہ ساری باتیں سن رہا تھا ایک ہفتے کے بعد روحا کے ہسنے کی آواز اسے سنای دی تھی ۔۔
سب کے ساتھ میری پنک روز بات کرتی ہے بس میرے ساتھ نہیں کرتی پتہ نہیں کون سا دن ہوگا جب مجھ سے بات کرے گی ۔۔
ہارون افسوس سے سوچتے ہوۓ اسٹڈی کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔
————————————————————
پری کی بچی تجھے اللہ پوچھے کیسی دوست ہے تو لعنتی عورت
روحا نے دروازے کے پاس کھڑے ہوتے پریسہ کوکو دل میں باتیں سنائ ۔
۔(پری نے روحا سے کہا تھا وہ اصغر خان یعنی پری کے پاپا کو مناے۔برہان اور پری کی شادی کے لیے اور یہ کام ہارون کر سکتا تھا تبھی آج روحا ہارون سے بات کرنے آئی تھی )
روحا نے ڈرتے ہوۓ اسٹڈی روم کا دروازہ کھولا جب سامنے صوفے پر بیھٹے وجہہ پرسنلٹی لیے ہارون خان لیپ ٹاپ پر کام کرتا دیکھائ دیا ۔۔۔
“اف ایک خوبصورت اتنے ہے اوپر سے سنجیدہ رہتے ہے ۔یہ میں کیا سوچ رہی نفرت ہے مجھے ہارون خان سے بس پری کے لیے آئ ہو ۔”
روحا گہری سانس لیتے ہوۓ خودکلام ہوئ
۔۔
ہارون جو کہ اپنی سفید انگلیاں لیپ ٹاپ پر چلا رہا تھا جب اچانک رکا ۔۔
جب نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا تو حیران رہ گیا ۔۔۔
روحا جو کب سے سوچ رہی تھی وہ ہارون کو کیسے مخاطب کریے ۔۔
اپنے ہوہٹ کو دانتوں تلے دباۓ سر جھکا کر کھڑی روحا ہارون کو ایک چھوٹی بچی معلوم ہوئ ۔۔
ادھر آو پنک روز ہارون نے ہی روحا کی مشکل آسان کی ۔۔
روحا اچانک ہارون کی آواز سن کر خیالات سے باہر آئی اور ہارون کی طرف چلی آئ ۔۔
یہاں بیٹھ جاٶ ہارون نے روحا کو اپنی تھائ پر بیھٹایا ۔جو روحا اچھے بچوں کی طرح خاموشی سے بیٹھ گئ ۔۔
کیا بات ہے پنک روز ہارون نے روحا کے لب کو دانت سے آزاد کرواتے خودی پوچھا ۔۔
(ہارون کے لیے اتنا کافی تھا ۔روحا نے اس کی بات مان لی اور قریب بیھٹی تھی )
میں اپنی دوست کے لیے آئی ہو کسی غلط فہمی میں نہ رہے آپ ۔
روحا نے روٹھے پن سے کہا ۔۔ پری کی جہ سے ہی ہارون کے کہنے پر اس کے پاس بیٹھی تھی
پھر ساری بات پری اور برہان کی شادی والی بات بتا دی ۔۔
“ہمم چلو تیار ہو جاٶ میں بات کرتا ہو اصغر خان سے ہارون نے ساری بات سن کر جواب دیا ۔۔۔
یہ بات سنتے ہی روحا ایسے بھاگ گئ جسیے گدھے کے سر سے سگنھ ۔۔
ہاہاہاہا “میری معصوم پنک روز ہارون روحا کی یہ حرکت دیکھ کر ہنس پڑا ۔۔۔
—————————————————–آپی آپ یہ کیا کہہ رہی ہے .
آپ نے سوچ بھی کیسے لیا –
برہان نے حیران ہوتے ہوے غصے سے کہا
برہان تم پاگل ہوگۓ ہو اتنا غصہ کس بات کا آرہا تمہیں–
تم اچھے سے جانتے ہو کہ میرے لیے میری دوست میری زندگی میں کیا مقام رکھتی ہے میں اُس مشکل وقت میں اُسے اکیلے نہیں چھوڑ سکتی – —-
یہ بات کرتے ہی روحا کی آنکھوں میں آنسو اگۓ —-
برہان کے چہرے پر پریشانی کے ملے جلے تاثرات تھے وہ اس کشمکش میں مبتلا ہوگیا —-
ایک طرف اس کی زندگی اور ایک طرف اس کی بہن کا مان —–
—————————————-
میں شادی کے لیے تیار ہو برہان نے ہار مانتے ہوۓ کہا ۔۔ روحا برہان ک بات پر خوش ہوگی–
میری دعا ہے تم دونوں خوش رہو گے ۔ روحا نے دل سے دعا دی
یہ شادی صرف آپ کی خوشی کی وجہ سے کررہا ہو میں برہان نے بیزاریت سے کہا–
برہان کی بات پر روحا خاموش رہی
———————-
(روحا ہارون نے تنزیلہ مہر اصغر کو خودی منالیا تھا ۔۔)
پری بہت اچھی لڑکی ہے تم خوش رہو گے اس کے ساتھ روحا نے برہان کو سمجھاتے ہوے کہا۔
چلو سالے صاحب قربانی مطلب نکاح کے لیے تیار ہو جاٶ ۔ہاورن جو کب سے بہن بھائ کی باتیں سنتے بور ہو رہا تھا جب روحا کی گھوری سے نکاح کا بولا ۔۔
ہارون جلیس ہو رہا تھا روحا سب کے ساتھ بات کر رہی تھی سواۓ اس کے ۔۔
کیا نکاح آپی
میری اسٹڈی جاب سب کچھ کرنے والا ہے
مان تو گیا ہو اب بعد میں شادی کر لو گا
۔برہان نے اپنا رونا ڈالا ۔۔
یہ سارا بزنس تمھارا ہی ہے آج اور کل بھی ۔
ویسے بھی پری کو تمھاری ضرروت ہے ابھی۔ہم رخصتی دوسال بعد کر دے گے ۔۔
تب تک تم بھی بزنس سنبھال لو گے ۔۔ روحا نے برہان کو سہولت سے جواب دیا
———————————————————–
ویسے کیسی دلہن ہے خودی ہمارے گھر ا رہی ہے نکاح کے لیے ۔۔
روحا ہانی کے بال بنا رہی تھی جب ہانی نے کہا۔۔
ہانی چپ بھی ہو جایا کرو کیوں لڑتی ہو پری سے اتنی اچھی ہے وہ ۔۔
روحا نے ذرا غصے سے کہا
پر مجھے اچھی نہیں لگتی جب آپ کو پیار کرتی ہے ٹھرکی ۔
۔ہانی نے کیوٹ سے منہ کے زاویے بناتے ہوے کہا۔۔
کیا ٹھرکی اپنی شکل دیکھی ہے موٹی ۔
روحا اور ہانی باتوں میں مصروف تھی جب پری کے آنے کا پتہ نہیں چلا جس نےداخل ہوتے ہانی کی بات سن لی تھی ۔۔
ہاں ٹھرکی ہو تم کبھی میری بہن پر تو کبھی میرے بھائ پر ڈورے ڈالتی ہو ۔
ہانی نے سامنے تیار پری کو ( جوریڈ فراک میں کیوٹ سی لگرہی تھی) کو بغیر شرمندگی سے کہا ۔۔۔
اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے تم سےتو کوئ شادی نہ کرے چشمیش میری محبت کو ٹھرک کہہ رہی
پری نے مذاق سے کہا اور روحا سے ملنے لگی ۔۔
رہنے دو محبت کا نام بدنام کر رہی تم —
خود کتنی بے شرم ہو اپنے نکاح پر کیسے دانت نکال رہی ہو ۔۔
اپنی شادی کا سن کر دلہن شرم سے مرنے والی ہوتی ہے
ہانی نے پری کو شرم دلاتے ہوے کہا۔۔
سوری مجھ میں شرم والا کوئ سسٹم نہیں اور کوئ بکواس کرو —
پری نے ڈوپٹہ سیٹ کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
شرما”
بس کر دو یہ میرے جوڑے ہوے ہاتھ دیکھ لو کیسے مراثیوں کی طرح لڑ رہی ہو کوئ اچھی بات کر لیا کرو جب بھی دیکھا لڑتے ہوۓ دیکھا ہے تم دونوں کو ۔
روحا نے ہانی کی بات کاٹتے ہوۓ غصہ سے کہا ۔۔۔
ہاۓ جانی بکواس یہ کرتی ہے میں تو ہو ہی معصوم پری نے جلدی سے کہا ۔۔
تو اور معصوم بے شرم پریسہ خان ہانی نے جلتے ہوۓ کہا ۔۔۔
شکریہ موٹی اپنے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔
اف توبہ دونوں کو اثر نہیں ہوتا ۔۔
روحا نے دونوں کو دوبارہ لڑتے ہوے دیکھ سر پکڑ لیا ۔۔۔
————————————————————
کچھ دیر کے بعد پریسہ خان سے پریسہ برہان بن چکی تھی ۔۔
مبارک ہو میری بے شرم بھابھی جان ہانی کے پری کو گلے ملتے ہوۓ کہا ۔(ہانی اور روحا دونوں ہی دل سے خوش تھی پری ان کی بھابھی بنی اور برہان کی زندگئ میں پری بن کر شامل ہوی )۔
چل ہٹ موٹی چشمیش
میں تو ٹھرکی ہو جو تیرے بھای کو پھسا لیا ۔
پری نے بے شرمی سے برہان کے سامنے کہا ۔۔
ہر وقت مجھے موٹی کہتی ہو خود اپنے یہ سیب جیسے گال دیکھے جو موٹے ہے( ہانی کے گال بھی پری کی ہی طرح پھولے ہوے تھے تبھی پری اور برہان اسے موٹی کہتے تھے)۔یہ سنے کی دیر تھی جب پری غصہ سے بولی ۔۔
دعا ہے میری
تمھارا شوہر ظالم ہو اور تمہیں بہت مارے ۔۔
پری کو نہیں پتہ تھا کبھی ہمارے منہ سے نکلے الفاظ سچ ہوجاتے ہے
ایسی لیے ہمیں سوچ کر بولنا چاہیے کیونکہ کبھی بھی قبولیت کا وقت ہوتا ہے
کیا بکواس کر رہی ہو پری کبھی تو سوچ سمجھ کر بول لیا کرو ہرہان نے غصے سے کہا–
پری کی بات پر برہان کو خود کا سانس لینا مشکل ہو گیا —
وہ اپنی بہنوں سے بہت محبت کرتا تبھی مذاق میں بھی کچھ برداشت نہیں کرتا تھا۔۔۔
برہان کی بات پر پری کو غلطی کا احساس ہوا
تب تک ہانی آنسو صاف کرتی ہوی چلی گی تھی–
اسے بھی پری کی بات پسند نہ آئی تھی—
————————————————————
یار اسامہ تم گڑیا کو گھر تک چھوڑ آٶ
۔میں کسی کیس کے لیے شہر سے باہر جا رہا ہو ۔زیان جو برہان کے نکاح میں شامل نہیں ہوا تھا ۔
اب پریشانی سے عمارہ کے لیے اسامہ کو کہا ۔۔
اچھا چھوڑ آوں گا ۔۔
اب اسامہ سوچ رہا تھا
کیسے وہ عمارہ کے پاس جاۓ جو حجاب کیے کھڑی زیان کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔
آپ میری ساتھ آے زیان نے کہا میں چھوڑ دو آپ کو—
اسامہ نے گہری سانس لیتے ہوۓ عمارہ کے پاس آ کر کہا ۔۔
جی —
عمارہ صرف ہاں کی ۔۔۔
———————————————————–
ہم ادھر سے چلتے ہے راستہ شارٹ ہے جلدی پہنچ جاۓ گۓ ۔۔
اسامہ نے سنسان راستے پر گاڑی موڑتے ہوۓ کہا ۔۔۔
عمارہ خاموش بیھٹی رہی۔۔
سامنے پولیس والے ناکا لگا کر کھڑے تھے ۔۔
تم دونوں کون ہو اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔
پولیس والے نے سامنے آتی گاڑی کو دیکھ کر روکا ۔۔
“بھائی
۔نہیں میں اپ کا بھائی نہیں ہو–
۔عمارہ نے جیسے ہی پریشان ہوتے اسامہ کو بھای کہا ویسے ہی اسامہ نے ٹوک دیا ۔۔۔
ہم دونوں میاں بیوی ہے اسامہ کے منہ میں جو آیا کہہ دیا ۔۔
یہ کیا کہہ رہے آپ ہوش میں تو ہے—
عمارہ نے پولیس والے کو درو جاتے ہوے دیکھ کر غصے سے اسامہ کوکہا۔۔
“سر یہ دونوں میاں بیوی کہہ رہے پولیس والے نے سایڈ پر آتے ہوے کیسی کو فون پر کہا ۔۔۔
یہ جھوٹ بول رہے تم پلان کے مطابق نکاح کروا دو یہ کہتے ہی فون کاٹ ہو گیا ۔۔۔
تمہارے پاس کوئی ثبوت تو ہوگا نہیں اس وقت —
چلو ابھی نکاح کرو —
ہمیں تم لوگ مشکوک لگ رہے ہو —
ابھی نکاح کرو یا پھر ہمارے ساتھ تھانے چلو–
پولیس والے نے واپس آ کر روب سے اسامہ کو کہا ۔۔۔
نہیں میں کیسے لالہ کو جواب دو گی
۔میں جیل بھی نہیں جاسکتی ۔
۔عمارہ نے خودکلام ہو کر کہا ۔۔۔
اپ کو ایسا کرنا ہو گا ورنہ میرے ساتھ جیل میں رہنا ہو گا ۔اسامہ نے عمارہ کو سمجھایا ۔۔
اسامہ تو خوش ہوگیا تھا نکاح کا سن کر
کچھ دیر بعد عمارہ نے روتے ہوۓ قسمت کا فصیلہ مانتے ہوۓ نکاح نامے پر دستخط کر رے ۔۔۔
“”سر آپ کا کام ہو گیا ۔۔
پولیس والے نے دور جاتی گاڑی کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
گڈ ۔۔۔
