Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 7)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
بیٹا میری بیٹی کا کوئی قصور نہیں
اُسے معاف کردو—
تنزیلہ نے روتے ہوے کہا ۔۔
تم نے روحا سے اس وجہ سے شادی تو نہیں کی بدلہ لے سکو ۔۔
تنزیلہ بیگم نے پریشان ہوتے ہوے پوچھا ۔۔۔
میں معافی چاہتا ہو پھوپھو—-
میں پوری زندگی روحا سے نفرت کرتا آیا
میں نے جب روحا کو پہلی بار دیکھا تھا مجھے اس سے تبھی محبت ہوگی تھی–
مجھے نہیں معلوم تھا روح کون ہے نکاح سے پہلے جب مجھے معلوم ہوا میں خود پرشان تھا کہ کیا کرو–
اس طرح اچانک نکاح اس لیا کیا–
کیونکہ میں جانتا ہو اگر اسے میری سچائی پہلے معلوم ہوجاتی تو وہ کبھی شادی کے لے راضی نہیں ہوتی ۔۔
ہارون نے تحمل سے بتایا-
لیکن آج میں روحا کو اپنی زندگی میں شامل کر چکا ہو ہارون نے روحا سے نکاح کرنے سے لے کر روحا کی وہ بات جس میں کہا( وہ اپنے ماں باپ کے ساۓ میں رخصت ہو گئ والی ساری بات بتا دی )۔۔۔۔
ہمیں بہت خوشی ہوئ جان کر روحا میرے پیارے بیٹے کی دلہن بنی ۔
میری خواہش تھی—-
میری بیٹی تمہاری دلہن بنے —
تم تو پنک روز کہہ کر بلاتے تھے روحا کو تنزیلہ بیگم نے دل کی بات ہارون کے سامنے رکھی—-
مجھے بہت دکھ ہوا تھا جب بھابھی تمہیں اپنے ساتھ لے گی ۔-
لیکن آج میں بہت خوش ہو ۔۔
تنزیلہ بیگم نے ہارون کا ماتھا چومتے ہوۓ کہا ۔۔۔
چلے پھر اپنے بیٹے کی ایک اور بات مان لے پھپھو جان ہارون نے دونوں کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔
ہاں کہو بیٹا مہر صاحب
جو خاموشی سے پھپھو بھتجے کی ساری بات سن رہے تھے اب ہارون کی بات پر سنجیدگئ سے بولے ۔۔
میں کل ہی روحا کی رخصتی چاہتا ہو ۔تاکہ میں اُسے وہ ساری خوشیاں دے سکو ۔جس کی وہ حقدار ہے
۔ ہارون نے تحمل سے ساری بات کی ۔۔
———————————————————–
کیا کرو–
کیسے مامابابا کو بتاٶ —
ہارون نے مجھ سے نکاح کر لیا ہے ۔
روحا بیڈ پر لیٹی یہی سوچ رہی تھی ۔
اگر مامابابا نے مجھے غلط سمجھااپھر میں کیا کرو گی—
اس سے پہلے روحا کچھ اور سوچتی جب داروازے پر دستک ہوئ ۔۔
ارے مامابابا آپ اس وقت–
سب خیریت ہے ۔
روح نے گھبراتے ہوے پوچھا–
جی بیٹا —
ہم نے اپنی دونوں بیٹوں سے کچھ بات کرنی ہے اس۔ لیے آے ہے
۔مہر صاحب نے ہانی کے پاس بیٹھتے ہوۓ کہا
۔جو گہری نیند میں سورہی تھی ۔۔
ماماہانی ابھی سوئ ہے روحا نے تنزیلہ بیگم کو روک دیا جو ہانی کو جگارہی تھی ۔۔۔
نہیں ہانی کو جگانا ضروری ہے ورنہ بعد میں کہے گی مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔
کیا آپو–
خود تو سوتی نہیں ہے سارا دن اور رات بھی جاگتی رہتی ہے کیسے رہ لیتی ہے مجھ سے نہیں ہوتا —
پتہ ہے نہ نیند مجھے کتنی عزیز ہے سونے دے مجھے صبح کالج بھی جانا ہے ہاۓ میری ننھی سی جان کیا کیا کرۓ ۔۔۔
ہاۓ یہ کس نے تھپڑ مارا مجھے —
ہانی جو اپنی آنکھیں بند کیے نان سٹاپ شروع ہوئی تھی تنزیلہ بیگم کے تھپڑ لگتے خاموش ہوئی ۔۔۔
ہاۓ بابا آپ —
ہانی نے جیسے ہی آنکھیں کھولی سامنے بیھٹے مہر صاحب کو دیکھ کر تھپڑ بھول کر اپنے بابا کے گلے لگی ۔۔۔
ہاں ماں تو کچھ نہیں ہے تمھاری جو سامنے کھڑی نظر نہ آئی —
۔تنزیلہ بیگم نے مصوعنی غصہ کرتے ہوۓ کہا ۔۔
آپ مجھے ہر وقت ڈانتی رہتی ہے کبھی پیار نہیں کرتی مجھ سے–
بابا کچھ نہیں کہتے مجھے اور بہت پیار بھی کرتے ہے مجھ سے تبھی میں ان سے بہت پیار کرتی ہو
ہانی نے اپنی ماں سے کو تنگ کرنے کو کہا کہا ۔۔۔
اچھا چھوڑو–
بیگم وہ بات کرتے جس کے لیے آے ہے —
۔مہرصاحب نے اس بات پر متوجہ کروایا جن کے لیے آۓ تھے ۔۔۔
روحا بیٹا ادھر آٶ ہم نے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔
مہر صاحب نے روحا کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا جب وہ اِن کے قریب آ ئی ۔۔
بابامیں نے بھی بات کرنی ہے پرررررر““
روح نے گھبراتے ہوے کہا
آپ بات کرے بیٹا گھبرا کیوں رہی ہے —
ہم تو دوست ہے نہ آپ ہر بات اپنے بابا سے شئیر کرتی ہے بتائیں کیا کہنا ہے آپ نے–
۔مہر نے روحا کو حوصلہ دیتے ہوۓ کہا —
جب روحا نے رونا شروع کر دیا ۔۔
بابا میرا قصور نہیں ہے–
سر ہارون نے یہ سب کیا
بابا آپ کو یقین ہے نہ اپنی بیٹی پر۔۔
میں ڈر گئ تھی بابا مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی میں کیا کرو–
میں آپ سب کو کھونا نہیں چاہتی تھی روحا نے مسلسل روتے ہوۓ کہا ۔۔
آپ کیا کہہ رہی ہمیں سمجھ نہیں آیا کچھ—
تفصیل اور آرام سے بتاو پریشان نہ ہو–
مہر صاحب نے روح کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا
روحا نے ساری بات نکاح والی بتا دی ۔۔
روح کی بات سن کر مہر صاحب مسکرانے لگے
ہم بھی یہی سب پوچھنے آے تھے آپ سے-
ہارون آیا تھا ۔
اُس نے سب کچھ بتا دیا۔
ہمیں اپنی بیٹی پر پورا یقین ہے ا
ب ہماری بیٹی بتاۓ گی وہ خوش ہے کہ نہیں اور کیا چاہتی ہے
ویسے ہارون رخصیتی کا کہہ کرگیا ہے
مہر صاحب نے ساری بات بتا دی ۔۔
روحا بہت حیران اور پریشان تھی اب کیا جواب ديں-
آپ دونوں خوش ہے —
تو میں بھی خوش بابا —
جیسا آپ کو بہتر لگے ویسا کرلے ۔
روحا نے سر تحمل سے کہا ۔۔
ہمیشہ خوش رہو میری بیٹی–
ہمیں یقین تھا ۔تم ہمارا مان رکھو گئ ۔۔
تنزیلہ بیگم نے روحا کا ماتھا چومتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔۔
—————————————————-
کیا آپو کی کل رخصتی
ماما یہ ناا نصافی ہے ۔
میں نے کوئ تیاری بھی نہیں کی ۔
ہاۓ میں نے گلاسز بھی لینے ہے ۔
۔(ہانی کو گلاسز بہت پسند تھے تبھی وہ ہر موقعے پے نیو گلاسز لیتی تھی۔۔)
آپ کو پتہ ہیں نہ میں روحا آپو کی چھوٹی بہن ہو اور مجھے اب بتایا جارہا سب میری ساری تیاری رہتی ہے میں کیسے یہ سب کرو گئ ہانی نے پریشان ہوتے ہوے کہا۔۔۔
ماما ہانی کو سب خرید کر ديں جو کچھ اسے چاہے
آپ کو پتہ ہی ہے حنین میری جان ہے
۔روحا نے تنزیلہ بیگم کو دیکھ کر کہا جو ہانی کو گھوری سے نواز رہی تھی ۔۔۔
ہاۓ اپو تم کتنی اچھی ہو–
بس اس پری سے نہیں مجھ سے زیادہ محبت کیا کرو ۔۔ہانی نے روح کا گال چومتے ہوۓ کہا ۔۔
۔ ایک اور کام کر دو مجھے بھی کوئ اچھا سا اور گھر کےکام کرنے والا شوہر ڈھونڈ دو ۔۔
ہانی نے تنزیلہ بیگم کو غصہ دالانے کے لیے شرارت سے کہا ۔۔
دیکھا اس لڑکی کو شوہر ایسا چاہیے جو کام خود کریں ۔خود کچھ نہ کرنا ایک انڈا بھی نہیں بنانا آتا روح تمہارا برہان کا بہت قصور ہے اسے تم دونوں نے سر پر چڑھا رکھا ہے پتہ نیں کیا بنے گا اس کا ۔۔۔
تنزیلہ بیگم واقعی ہانی کی کلاس لینے لگ لگی ۔۔
ہاں تو جب شوہر کو اتنی خوبصورت بیوی ملے گئ تو وہ خود کام نہیں کرسکتا کیا ۔۔
ہانی نے کندھے اچکاتے ہوۓ کہا ۔۔
تم”
اچھا نہ ماما چھوڑے-
اور آپ دیکھے گا میری ہانی کا نصیب کتنا اچھا ہو گا ۔۔اور تمہیں ایسا شوہر ضررو ملے گا جو سارے کام کرنے کےساتھ تمہیں تیار کریں اور تمہارے بال بھی بنا سکے ۔۔۔روحا نے تنزیلہ بیگم کی بات کاٹتے ہوۓ دعا دی ۔۔۔
(ہانی کا ہر کام روحا اپنے ہاتھوں سے کرتی تھی اُسے تیار کرنے سے لے کر ہانی کے بال بنانے تک ۔ ہانی نے کھبی بال خود نہیں بناے—
روحا کو خوشی ہوتی تھی ہانی کے کام خود کرنے سے تبھی حنین اور روحا کے درمیان بہن والی محبت کےساتھ دوستی بھی تھی ۔ جو ایک دوسرے کے ساتھ ہر بات شیئر کرتی تھی
۔بڑی بہن ماں کے روپ جیسی ہوتی ہے اور روحا حنین کی ماں جیسی تھی جس کا فرض ہانی کی ہر خواہش پوری کرنا تھا ۔۔
حنین روحا کی بےبی گرل تھی ۔۔
—————————————————
“آٹھ گنھٹےپہلے ۔۔۔۔
کیا—
توہمیں اب بتا رہا ہے —
کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے جو شاید تجھ میں نہیں ہے
ہارون تو نے ہمیں بتانا ضرروی نہیں سمجھا ۔
نکاح کر لیا اور رخصتی بھی کروا رہا اب بھی نہ بتاتا رخصیتی ہوجاتی بچے ہوجاتے تب بتادیتا
اور ویسے بھی ہم کونسا کچھ لگتے جو تو بتانا ضروری سمجھتا ہمیں
۔زیان نے غصہ کرتے ہوہے دل کی بھڑاس نکالی ۔۔
کھڑوس انسان ویسے تم کو جلدی کسی بات کی ہے اچانک یہ سب اسامہ نے ہارون سے پوچھا ۔۔
تیرے جیسا میں ٹھرکی نہیں ہو بس لڑکیاں ہی دیکھتا رہو ۔ ہارون نے اسامہ کو شرم دلاتے ہوے کہا–
روحا میری محبت میرا عشق ہے ۔جس کو میں نے اپنی زندگی میں شامل کر لیا ہے ہارون نے عقیدت سے روحا کا ذکر کیا ۔۔۔
اچھا چھوڑ یہ سب تم دونوں آٶ گے آج اور زیان تم گڑیا کو ضررو لے کر آٶ گے ۔۔
ہارون نے عمارہ کا ذکر کیا جب اسامہ کے چہرے پر سنجیدگی آی جو کہ ہارون اور زیان سے چھپی نہ رہ سکی رہی
او ٹھرکی تو کیوں سنجیدہ ہو گیا ہارون نے حیران ہوتے ہوے پوچھا
——
آج سے چار سال پہلے
ارے او سنجیدہ انسان —
کچھ کھانے کو پوچھ لے کب سے آیا ہو تم نے پانی بھی نہیں پوچھا
اسامہ نے زیان کو شرم دلاتے ہوے کہا
جا دفعہ ہو کچن سے لے آ جو لینا ہے مجھے نہیں آتا کچھ بنانے گڑیا کی طعبیت ٹھیک نہیں ورنہ وہ بنا دیتی
زیان نے ٹی وی دیکھتے ہوے کہا
کیا ہوا گڑیا کو اب کیسی ہے ٹھیک ہے نہ وہ اسامہ نے پریشان ہوتے ہوے پوچھا —
اسامہ کا اس طرح پوچھنا زیان کو ایک آنکھ نہ بایا
ہاں ٹھیک ہے وہ–
زیان نے آرام سے جواب دیا جب کہ اسے غصہ آرہا تھا–
چل میں کچھ لے کے آتا ہو اسامہ نے کچن کی طرف جاتے ہوے کہا
اسامہ جارہا تھا جب وہ کسی سے ٹکرایا
عمارہ جو سو کہ اٹھی تھی وہ سمجھی گھر کوئی نہیں ہے تبھی بنا حجاب کے باہر آگئ
لیکن اپنے سامنے اسامہ کو دیکھ کر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا—
اسامہ عمارہ کو دیکھنے میں مصروف تھا–
—————————
اسامہ عمارہ سے بہت محبت کرتا تھا اس کی صرف آنکھوں کو دیکھ کر ہی وہ اس کا دیوانہ تھا آج پہلی بار اسے اپنے سامنے دیکھ کر وہ خود کی حالت سے گھبرا گیا تھا اور اسے ڈر تھا اپنی دوستی کا کہ کہیں زیان اسے غلط نہ سمجھ لے
یہ ہی حال عمارہ کا تھا اس نے بھی اپنے جذبات کو کسی پر ظاہر ہونے نہیں دیا تھا
اپنی دوستی بچانے کے لے اسامہ دوبئ چلا گیا تاکہ اس محبت کو بھول جاے لیکن ایسا نہ ہو سکا دونوں کی محبت زیادہ ہوتی گی
—————————————————–
کیا چشمش روحا آپو کی رخصتی
تم مجھے اب بتا رہی اور ہم دونوں نے تو دیکھا نہیں وہ لڑکا کون کہاں اور کیسا ہو گا ۔
برہان نے بھائ والی فکر سے کہا ۔
ہاۓ یہ تومیں نے بھی نہیں پوچھا ۔۔ہانی نے اپنا دکھ سنایا ۔ چلو ماما سے پوچھتے ہے برہان نے باہر جاتے ہوے کہا—-
ماماماما
اف کیا ہو گیا ہے کیوں دونوں ایسے شور کر ہے ہو تنزیلہ نے غصے سے کہا
ماما ہمیں ہارون خان سے ملنا ہے
میں دیکھنا چاہتا ہو وہ لڑکا کیسا ہےمیری آپو کو خوش رکھ سکے گا یا نہیں
برہان نے تنزیلہ بیگم سے فکرمند ہوتے ہوے پوچھا ۔۔
ہارون مہران خان کا بیٹا ہے—-
کزن ہے تمہارا—-
تمہارے ماموں کا بیٹا ۔
دونوں کا نکاح بچپن میں ہوگیا تھا اب ہارون رخصتی چاہتا ہے ۔
تنزیلہ نے جھوٹ بولا وہ جانتی تھی دونوں بچے حقیقت کو نہیں سمجھ کسے گے۔
پررررررماما “
میں ماں ہو تم لوگوں کی مجھے پتہ ہے کیا کرنا ہے ۔۔ اب جاٶ اپنی تیاری کرو دونوں ۔
تنزیلہ نے حنین کی بات کاٹتے ہوے کہا
—————————————————–
مہر ہاوس میں اس وقت ناچ گانے اور شور کی آوازیں آرہی تھی ۔۔
ہانی اور برہان بہت خوش تھے اپنی بہن کے لے —
خوش روحا بھی بہت تھی لیکن وہ یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی
——————–
دوسری طرف ہارون
ہارون پلیس کو خود اپنے ہاتھو ں سے سجارہا تھا ۔۔
گل خان تم نے دیکھنا ہے ساری چیزیں پوری ہے نہ میری پنک روز کوکوئ پریشانی نہ ہو ۔۔
ہارون نے خوش ہوتے گل خان سے پوچھا ۔
جی سر آپ فکر نہ کرے
میڈم کو سب اچھا لگے گا ۔۔۔
گل خان نے ہارون کو مسکراتے ہوےجواب دیا ۔
۔جو صبح سے ایک ہی سوال ہزار دفعہ پوچھ چکا تھا ۔۔
—————————————————-
ہاۓ برہان یہ تم ہو۔
کتنے خوبصورت لگ رہے ہو ۔۔
برہان جو کہ مہرون کلر کی شرٹ بلیک پنٹ میں بالوں کوجیل سے سیٹ کیے ۔آنکھوں میں چمک لے فون میں باتوں میں مصروف تھا جب پریسہ کی آواز آئ ۔۔
جی باجی
,برہان نے جیسے ہی پری کی طرف موڑ کر جواب دیا پری کو دیکھ کر ہکابکا رہ گیا ۔۔۔
پری مہرون کلر کی فراک پہنے لاہئٹ سے میک اپ پھولے ہوۓ سرخ گال انکھوں میں کاجل لبوں پر ریڈ لیپ اسٹک بالوں کو کرل کیے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی اس کی تیاری کسی کے بھی ہوش اڑانے کے لے کافی تھی ۔۔۔۔
کیا میں باجی لگتی ہو
۔باجی تمہاری صرف روحا اور وہ چڑیل ہانی ہے میں نہیں ۔
تم ستے صرف چار سال بڑی ہو اچھا
۔پری نے غصہ کرتے کہا ۔۔۔
لیکن آپ آپو کی دوست ہے تبھی باجی ہوئ میری
بتاٶ نہ ہانی میں نے کچھ غلط کہا ۔
برہان نے جلدی سے اپنی صفائ دی اور سامنے آتی ہانی ہوی ہانی سے پوچھا ۔
ہاہاہاہاہاہا”
باجی پری اور تم واہ “
ہانی نے ہنستے ہوۓ پری کا مزاق اڑایا ۔۔
ہانی رائل بیلو کلر کی مکیسی پہنے لاہئٹ سے میک اپ ریڈ لپ اسٹک لگاے بالوں کو سٹریٹ کیے بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ہانی نے آج کے فنکشن کی وجہ سےچشما نہیں لگایا تھا اور چشمے کے بغیر وہ اور بھی خوبصورت لگ رہئ تھی برہان نے ہانی کو دیکھ کر ماشاءالله کہا وہ اپنی بہن کے معاملے میں بہت سیریس تھا اسے ہانی پر یقین اور محبت سب سے زیادہ تھی ۔۔۔
تم چپ رہو چڑیل پری نے غصہ سے کہا ۔۔
میں چڑیل خود اپنی شکل دیکھی ہے پتہ نہں روحا آپو نے کیا سوچ کر تم کو دوست بنایا ۔ ہانی نے بھی کھری کھری سنائ ۔
اور تم کو بہن کس نے بنایا ہاے میں بہن ہوتی روحا کی مزہ آجاتا ۔ پری نے بھی غصے سے کہا ۔
روحا کتنی معصوم ,سادہ سی ہے ۔
ایک تم شکل سے ہی معصوم ہو گلاسزکی وجہ سے ورنہ حرکتوں سے تم شیطان ہو پوری ۔
پری نے دل کی بات کی۔۔
“اللہ معاف کرے تم لڑکیوں سے میں تو چلا برہان نے دونوں کے درمیان سے جانا عافیت جانی ۔
اور تم کیا ہو ٹھرکی ہر وقت میرے معصوم بھائی پر نظر رکھتی ہو ۔ہانی نے جواب دیا
۔ تو تمہارا بھائ کوئ سپر سٹار ہے جو میں نظر رکھو گی پری نے نظریں چراتے کہا ۔۔
(پری اور ہانی کی ایک نہ ختم ہونے والی لڑائی شروع ہوچکی تھی ۔جو کہ صرف روحا کے لیے ہوتی تھی ۔۔۔)
———————————-
برہان تم نے فوجی کو بلایا ہے شادی پے ہانی نے جوس پیتے ہوے پوچھا
ہاں میں نے رات ہی انھیں بارات اور ولیمے کا کہہ دیا تھا برہان نے موبائل اٹھاتے ہوے کہا
چلو اچھا ہے آج بی پی لو بھی مل لے گی فوجی سے جیسے مجھے فوجی پسند ہے اسے بھی بہت پسند ہے ہانی نے شرماتے ہوے کہا
اگر تمہیں فوجی کی بجاے کوئ پولیس والا مل گیاتو کیا کرو گی—
برہان نے ہانی کو تنگ کرنے کے لے پوچھا اسے معلوم تھا ہانی کو پولیس والوں سے کتنی نفرت ہے
دیکھ برہان ایسا نہ سوچ کسی پاگل کو قبول کرلو گی لیکن پولیس والے کو نہیں
دونوں بہن بھائی اپنی ہی باتوں پر ہنسنے لگے
کبھی کھبی مذاق میں کی گی باتیں سچ ہوجاتی ہے
———————-
اف یہ بی پی لو ائی کیوں نہں
ہانی نے علیزے کو فون کرتے ہوے کہا
اندھی ہو گئ ہو آج چشمے کے بغیر تم جو میں تمہیں نظر نہیں آرہی-
علیزے نے ہانی کے سر میں مارتے ہوے کہا —
او بی پی لو تم کب آئی ہانی نے علیزے کو گلے لگاتے ہوے پوچھا
جب مجھے ان محنوس لقابات سے نواز رہی تھی
علیزے کو ہانی کا بی پی لو کہنا پسند نہ ایا تبھی فورا برا مان گی
ارے یار تم تو جانو ہو میری پیار سے کہتی ہو بی پی لو ہانی نے قہقہ لگاتے ہوے کہا—
چل دفع ہو چشمیش —
علیزے نے ہنستے ہوے کہا اور ہانی کے گلے لگ گی —
جانو آج وہ فوجی آے گے میں ان سے ملواوں گی تمہں وہ بہت اچھے ہے ہانی نے خوش ہوتے ہوے بتایا—
ہاے سچی آج ہم فوجی سے ملے گی علیزے نے خوش ہوتے ہوے پوچھا–
ہاں بس ان کے سامنے تیرا بی پی نہ لو ہوجاے–
ہانی پھر تنگ کرنے سے باز نہ آئ اور زور سے قہقہ لگایا –
ہانی نہ اتنا ہنساکرو —-
کتنی بار کہا ہے نظر لگ جاے گی —
علیزے نے ہانی کی بات کو نظر انداز کر کے اپنی بات کہہ دی
جانو میری فکر چھوڑو اپنی فکر کرو —
فوجی دیکھ کر بےہوش نہ ہوجاے ہانی نے آنکھ ونک کرتے ہوے کہا
علیزے ہانی کی بات پے شرما گی
بلیک میکسی بالوں کو کرل ڈالے ریڈ لپ اسٹک لگاے سموکی آئی میک اپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی
——–
بارات آگئ بارات آگئ اچانک شور ہونے لگا —
پریسہ حنین علیزے پھول کی پلیٹ لے کر بارات کے ویلکم کے لے چلی گئ —
اچانک ہانی کسی سے ٹکرائی—
ایم سو سوری آپ کو لگی تو نہیں ہانی نے فورا سامنے دیکھتے ہوے معذرت کی —
لیکن ہانی سامنے کھڑی پری پیکر کو دیکھ کر حیران رہ گی-
عمارہ—
جس نے پنک میکسی کے ساتھ حجاب کرکے نقاب کیا ہوا اور ہاتھوں میں وائیٹ گلوز پہنے ہوے تھے–
تھا اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھی–
کوئی بات نہیں مجھے کچھ نہیں ہوا–
عمارہ کے جواب پے ہانی ہوش میں آئی —
چلے تعارف بعد میں کرے گے بارات کو دیکھ لیتے ہے ہانی عمارہ کو زبردستی ساتھ لے گی—
———–
ہارون بلیک شیروانی میں کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہاتھا—-
زیان نے بلیو جینز اور بلیک ٹی شرٹ پر بلیو جیکٹ پہنی ہوی تھی
اسامہ نے وائیٹ پینٹ وائیٹ ٹی شرٹ پر پنک کوڑٹ پہنا ہوا تھا وہ تینوں ہی بہت خوبصورت لگ رہے تھے تینوں کی تیاری بہت سی لڑکیوں کا دل دھڑکانے کے لے کافی تھی
————-
بارات کا بہت اچھا استقبال کیا گیا—
اسامہ عمارہ کو دیکھ کر پہچان گیا تھا عمارہ بھی حیران تھی اسامہ واپس کب آیا—
ہانی اور زیان نے ایک دوسرے کو ابھی نہیں دیکھا تھا —
ہانی اور برہان ہارون کو دیکھ کر بہت خوش ہوے —
جب ان کا تعارف کروایا گیا تو ہانی برہان نے بہت ہنسی مذاق کیا —-
ہارون کو ہانی اور برہان پہلی نظر میں بہت اچھے لگے—
————————-
برہان فوجی آے نہیں انھی تک ہانی نے ہال سے باہر آکر برہان سے پوچھا —–
وہ دیکھو سامنے آرہے ہے —
ہانی کے ساتھ علیزے بھی وہی موجود تھی
وہ بھی فوجی کو دیکھ کر حیران رہ گی تھی
( فوجی بابر خان )
(اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا
گوری رنگیت کالے بال اور کالی ہی آنکھیں
چال میں خانوں والا روب)
بلیک پینٹ شرٹ پہنے چلتا ہوا برہان کے پاس آیا
السلام و علیکم-
ہانی اور علیزے فوجی کی آواز سن کر خیالات سے باہر آئی–
وعلیکم السلام —
تینوں نے ایک ساتھ جواب دیا–
بابر نے جب ہانی اور علیزے کو دیکھا اس کی نظر علیزے پر ہی اٹک گئ–
بلیک کلر بابر کا پسندیدہ کلر تھا علیزے پہلی ہی نظر میں بابر کو پسند آگئ–
آخر دونوں خان تھے کیسے ایک دوسرے کی طرف متوجہ نہ ہوتے–
—————————————————-
بلڈ ریڈ کلر کا لہنگا براڈیل میک اپ گولڈ کی جیولری
پہنے بالوں کو کرل کیے ناک میں نتھ جس کا موتی روحا کے لب کو چھو رہا تھا ۔۔ روحا بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔
آئینے میں خود کو دیکھ کر دہک رہ گی تھی روحا ۔
شازیہ باجی آپ کب آیئ–
روحا نے جیسے ہی دروازے کی طرف دیکھا تو پوچھا ۔۔
تم بہت پیاری لگ رہی ہو روح پر افسوس تم خوش نہیں رہ پاٶ گی ۔۔
روحا کی پھپھو کی بیٹی شازیہ نے جب سے ہال کے سٹیج پر بیھٹے ہارون خان کی وجہہ پرسنلٹی دیکھی تھی تب سے وہ روحا کی قسمت پر رشک کر رہی تھی اور اب روحا کودلہن کے روپ میں دیکھ کر حسد اور جلن محسوس کررہی تھی ۔۔
کیسی باتیں کر رہی باجی–
روحا نے حیران پریشان ہو کر پوچھا ۔۔
کبھی سوچا تمہارے ماموں کا بیٹا تم سےبدلہ لینے آیا تو کیا کرو گئ یا کبھی تمہارے شوہر کو پتہ چلا تمہارا ماضی تب کیا کرو گی ۔۔۔
بس کر دے باجی کتنی دفعہ بتاٶ میرا قصور نہیں کیوں بار بار مجھے یہ سب یاد کروایا جاتا ہے
۔روحا نے روتے ہوۓ غم اور غصے سے بیڈ پر بیٹھ کر کہا ۔۔۔
تمہارے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے —
جب بھی کسی سے محبت کرو گئ وہ انسان ہمیشہ کے لے تم سے دور چلاجاۓ گا ۔۔
یہ ہر دفعہ ہوا ہے تمہارے ساتھ ایسا اور اب بھی ہوگا
شازیہ اپنی بھڑاس نکال کر کمرے سے چلی گی ۔۔
نہیں ایسا نہیں ہو گا میں کبھی نہیں بتاٶ گی ہارون کو میں محبت کرنے لگی ہو ان سے ۔۔۔
روحا نے دل میں سوچ کر سامنے داخل ہوتی پری کو دیکھ کر چہرا صاف کیا ۔۔۔۔
یہ چڑیل کیوں آئ تھی ۔
پری نے غصہ سے شازیہ کو جاتے ہوے دیکھ کر پوچھا ۔۔
چھوڑو—
یہ بتاٶ کدھر دفع تھی صبح سے
پتہ ہے نہ تم ہی میری دوست ہو اس وقت مجھے تمہاری کتنی ضروت ہے اور تم ہو کہ صبح سے غائب ہو–
روحا نے پری کا دھیان دوسری طرف کرنے کے لیے کہا۔۔۔
کوئ دوست نہیں—
اگر ہوتی تو ضررو مجھے نکاح کا بتاتی ۔
پری نے غصے سے کہا ۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا —
پری یہ سب اچانک ہوگیا ۔۔۔
روحا پری کے قریب بیٹھتے ہوۓ روتے ہوۓ کہا ۔۔
یہ دیکھ میرے ہاتھ بس کر دے بہن کیوں مجھ کنواری کو مروانا چاہتی ہو ۔
اگر تمہارے شوہر کو پتہ چل گیا اُس کی پنک روزمیری وجہ سے رو رہی ہے وہ میرا قتل کروا دے گا ۔
اور میں مرنا نہیں چاہتی ۔۔
ہاۓ ابھی میں نے ہیڈسم سے لڑکے کے ساتھ شادی کرنی ہے ۔
پری نے مزاق کرتے روحا کو گلے لگایا ۔۔۔
پری کی جان بستی تھی روحا میں تبھی وہ روحا کو خوش کرنے کے لیے یہ سب باتیں کرتی تھی ۔۔۔
—————————————————–
اسلام آباد کا ایک پوش علاقہ جس میں ھر طرف گہماگہمی اور ناچ گانے کی آوازیں آرہی تھی – —
ھر کوئ خوش گپیوں میں مصروف نظر آرہا تھا—
ایک بڑی سی راہداری کے درمیان میں خوبصورت سٹیج پر ایک حیسن جوڑا بٹھا روحا ریڈ بلڈ رنگ کا لہنگا پہن کر سر پر گھو نگھٹ اُوڑھ کر صرف مسکرارہی تھی —-
ساتھ میں بیھٹا ہارون خان —
کالے رنگ کی شروانی پہنے ھوےؑ ایک ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا جس کی کالی گہری آنکھیں کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کرنے کے لے کافی تھی———-
“سہ سر میرا ہاتھ روحا نے ہارون کی توجہ اپنے ھاتھ کی طرف دالائ جو کب سے ہارون اپنے بھاری سفید ہاتھ میں روحا کا سیفد کومل ھاتھ تھام کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔
کیا پنک روز اب یہ ہاتھ نہیں چھوڑنے والا پوری زندگی کے لیے تھاما ہے اور مجھے سر نہیں ہارون کہو
میری جان–
ہارون نے روحا کے کان میں سرگوشی کرتے ہوے کہا ۔جیسے سن کر روحا کے گال سرخ گلنار ہو گے ۔۔
—————————————————–
برہان کیا ہوا تم رو رہے کیا ۔
ہانی جو خود آج روحا کی رخصتی کا سوچتے ہوۓ دکھی ہوتی برہان کے پاس آی برہان کو روتے ہوۓ دیکھ کر اس سے پوچھا۔۔
نہ کرو ہانی میرا موڈ نہیں ہے برہان نے ٹالتے ہوۓ کہا ۔۔
اے لمبو
میں کچھ نہیں لگتی کیا جو صرف آپو کے لیے رو رہے ہو جس دن میں چلی گی تو کیا کرو گے ۔۔
ہانی برہان کے گلے لگتے ہوۓ دکھی سے کہا ۔۔۔
تمہیں پتہ ہے نہ تم اور آپو میری جان ہو گھر کی رونق ہو آپو آج گھر سے چلی جاۓ گی اس لے اداس ہو ۔برہان نے عقیدت سے ہانی کے ماتھے کو چوم کر کہا ۔۔۔
ہاں میں بھی اداس ہو میں کیسے رہو گی میرے بال کون بناے گا–
ہانی نے آنکھیں صاف کرتے ہوے کہا-
اچھا رونق وہ اور میں کیا برہان کے بچے
۔ہانی نے برہان کا موڈ ٹھیک کرنے کےلیے برہان کو دھکا مارا ۔۔۔
ہاے تم تو چشمش موٹی ہو جس دن تم گھر سے گی اس دن میں نے مٹھائ باٹنی ہے ۔۔
برہان نے اپنی ٹون میں واپس آتے ہوۓ ہانی کو چھڑا ۔۔۔
چل دفع ہو دیکھنا تمہاری بیوی مجھ سے بھی بڑی موٹی اور چڑیل ہوگئ ۔۔
ہانی نے پیار سے برہان کے گال کھیچتے ہوۓ کہا ۔۔۔
اچھا دیکھ کیسے ساری لڑکیاں تم کو دیکھ رہی ہے تم کسی کی طرف نہ دیکھنا خاص کر اس ٹھرکی پری سے دور رہنا —
ہانی اور برہان نے زور سے قہقہ لگایا —
پاس کھڑا زیان یہ سب نفرت سے دیکھ رہا تھا —
( ہانی کی آواز اور آنکھوں کو دیکھ کر زیان اسے پہچان گیا تھا —
دیکھ ہانی نے بھی لیا تھا زیان کو لیکن اس نے ایسے ظاہر کیا جیسے دیکھا نہ ہو)
نفرت ہے مجھے ایسی لڑکیوں سے جو ہر کسی کے گلے کا ہار بنتی ہے افسوس یہ کیسے اس لڑکے کو گلے لگا رہی ہے زیان نے ہانی کو نفرت سے دیکھتے ہوے سوچا–
زیان کو شروع سے ہی لڑکیاں اتنی پسند نہ تھی
جو اس کی جاب تھی اس میں زیادہ تر کیس اس نے لڑکیوں کے ہنڈل کیے تھے جو خود کی عزت کی پرواہ نہیں کرتی تب سے اسے اور بھی نفرت ہوگی لڑکیوں سے—-
اس لیے اس نے عمارہ کو پردہ کرنا سکھایا اسے علماءبنوایا ہر ایک سے دور رکھا —
جب دودھ پلائی کی رسم میں ہانی نے بہت ہنسی مذاق کیا جس میں اسامہ نے اس کا بھر پور ساتھ دیا
تب بھی زیان دونوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا——–
زیان اور ہارون کی نسبیت اسامہ بہت خوش اخلاق انسان تھا وہ جلدی ہر کسی کے ساتھ گھل مل جاتا تھا زیان اور ہارون شروع سے ہی سنجیدہ تھے کچھ ان کے حالات کی وجہ سے کچھ ان کے ماں باپ نہ ہونے کی وجہ سے
زیان ہارون جانتے تھے اسامہ لڑکیوں کی کتنی عزت کرتا ہے پھر بھی جان بوجھ کر اسے ٹھرکی کہتے تھے
——————-
روح اپنے والدین کی دعاوں سے رخصیت ہوگی
سب رسمیں ہارون نے خود کی کوی اور کرنے والا نہ تھا ————-
روح کب سے ہارون کا انتظار کررہی تھی اس نے سوچ لیا تھا وہ ہارون کو ہرگز دل کی بات نہیں بتاے گی
————
ہارون بہت مشکل اسامہ اور زیان سے جان چھڑواکر آیا تھا—–
جب وہ کمرے میں داخل ہوا روح کو دیکھ کر خود میں سکون اترتا محسوس کیا
کیسی ہو پنک روز
ہارون نے روح کا ہاتھ پکڑتے ہوے کہا
ٹھیک —
روح نے گھبراتے ہوے جواب دیا–
یہ تمہاری منہ دیکھائی کا تحفہ–
ہارون نے لاکٹ دیتے ہوے کہا جس پر HR لکھا ہوا تھا روح کو بہت پسند آیا
شکریہ —
روح نے بس اتنا کہنا ہی بہتر سمجھا—
پنک روز بہت پیاری لگ رہی ہو تم خود پے قابو پانا مشکل ہے اب —
ہارون نے مسکراتے ہوے کہا–
روحا میں بہت محبت کرتا ہو تم سے میں تمہں ہر خوشی دوں گا بس مجھ سے دور نہ جانا چاہے جو بھی ہو جاے مجھ پر ہمیشہ یقین رکھنا–
اور میں تب تک تمہارے نزدیک نہیں آو گا جب تک تمہاری خوشی رضا مندی اس میں شامل نہ ہو —
ہارون نے سنجیدہ ہوکر کہا —
( بیٹا شوہر کا سب سے زیادہ ہے اگر شوہر بیوی سے خوش ہوجاے اللہ بھی اس عورت کو اس کا صلہ دیتا گا اس لے جو بھی ہو اپنے شوہر کا پہلے سوچنا اسے اس کا حق ادا ضرور کرنا)—
روح کے کانوں میں تنزیلہ کی باتیں گونجھی جو اسے انے سے پہلے سمجھائی گئ تھی —-
ہارون میں اس رشتے کو دل سے قبول کیا ہے یہ ہی میرا نصیب تھا میں اپنے رب کے کیے گے فیصلے پے خوش ہو اس رشتے میں میری مرضی شامل ہے میں آپ کو اجازت دہتی ہو —-
روح نے ہارون کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
ہارون روح کی بات پر خوش ہوگیا—
آج دو محبت کرنے والے ایک ہوگے تھے —
ہارون کی ہر بات اور ہر عمل سے روح کے لیے محبت نظر آرہی تھی—
روح بھی خوش تھی وہ سمجھ گی تھی روح ہارون کے لیے کیا ہے–
آج کی رات دونوں کے لیے خوشیوں سے بھرپور تھی-تھی–
وہ دونوں انجان تھے ان کی زندگی میں کیا طوفان آنے والا ہے—————
