Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 6)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 6)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
” ماضی ۔۔۔۔۔۔
راشد خان–
جو ایک بزنس مین تھے ۔۔
ان کی شادی کلثوم بیگم سے ہوئ جو نہایت ہی سلجھی ہوئی خاتون تھی ۔۔
راشد خان کو پہلی اولاد بیٹی ہوئ جس کا نام تنزیلہ رکھا—
اور دوسری اولاد بیٹا ہوا جس کا نام مہران رکھا ۔۔۔۔
تنزیلہ اور مہران بہن بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے دوست بھی تھے جو ہر بات شیرکرتے تھے۔۔۔۔
مہران کو اپنی کالج فیلو سے محبت تھی-
اُس نے یہ بات تنزیلہ کو بتائی کہ وہ شادی کس سے کرنا چاہتا ہے ۔۔
تنزیلہ نے اپنے ماں باپ کو منا کر دونوں کی شادی کروادی– ۔۔۔
————————————————————
نسرین ایک اچھی لڑکی تھی–
وہ مہران سے بہت محبت کرتی تھی ۔۔۔۔
نسرین نے ہمیشہ تنزیلہ کا خیال رکھا تھا اور تنزیلہ بھی ,بہن بن کر نسرین کا ساتھ دیتی تھی ۔۔۔
————-
ایک سال بعد اللہ نے نسرین کو خوبصورت بیٹے سے نوازا ۔۔۔۔
جس کا نام ہارون خان رکھا گیا ۔۔۔۔
ہارون خان تنزیلہ کا بے حد لاڈلا تھا ۔۔
ہر وقت ان کے پاس رہتا تھا ۔۔۔۔
ایک سال بعد تنزیلہ کی شادی مہر صاحب سے کر دی ۔۔۔۔ دونوں بہن بھائ اپنی شادی شدہ زندگی میں بے حد خوش تھے ۔۔۔
————————————————————
“چھ سال بعد ۔۔۔۔۔
نسرین تمہاری نند کیسی ہے مطلب تمیں کچھ نہیں کہتی ۔۔۔
ساجدہ جو کہ نسرین کے بھائئ اکبر کی بیوی تھی ۔۔ جس کا کام صرف دوسروں کے ساتھ نفرت اور حسد کرنا تھا ۔ساجدہ خود ان نند بھاوج کے پیار کو دیکھ کر جلتی تھی ۔۔
آپا بہت اچھی ہے بلکل مجھ سے بہن کی طرح محبت کرتی ہے نسرین نے محبت سے بتایا
ہارون تو رہتا ہی آپا کے پاس ہے جیسے اُن کا بیٹا ہو ۔
نسرین نے خوش ہوتے ہوے بتایا–
ایسی ہی ہوتی ہے بہنیں پہلے اتنا لاڈ پیار کرتی ہے بھاوج سے بعد میں جائیداد مانگنے لگ جاتی ہے—
تم دیکھنا مہران سے یہ کہہ کر جائیداد میں زیادہ حصہ لے گی کہ اللہ نے اُسے اولاد سے نہیں نوازا
ساجدہ نے نفرت سے کہا–
ایسی بات نہیں ہے بھابی —
تنزیلہ کو کسی چیز کی کمی نہیں ہے جائیداد میں بیٹوں کا حق ہے —
اب شادی کے چھ سال بعد تنزیلہ کو اللہ اولاد سے نوازنے والا ہے ۔۔۔
اولاد کے بعد کسی چیز کی کمی نہیں ہو گی اسے وہ اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش ہے اگر وہ مہران سے جائیداد میں زیادہ حصہ مانگے گی بھی تو کوئئ مسئلہ نہیں ہے—
نسرین کو ساجدہ کی باتیں بہت بری لگی تبھی ساجدہ کو باتیں سنا دی —
میری دعا ہے– اس کی پہلی اولاد بیٹی ہو ۔ اسے میں اپنے ہارون کے لیے لے لو گئ ہمیشہ کے لیے
نسرین نے خوش ہوتے ہوے کہا
اور ساجدہ کو یہ بات سن کر بہت تکلیف ہوئی
—————————————————–“ایک ماہ بعد—–
چھوٹی سی بچی ڈراک براؤن آنکھوں والی —
جو آنکھوں میں بے شمار آنسوں لے رونے کی تیاری کر رہی تھی—-
۔کمزور جسم والی
بے حد خوبصورت چہرے والی ۔۔
———–
لو آپا—-
میری بیٹی رو پڑی ۔۔
مہران نے اپنی کچھ گھنٹوں کی بھانجی کو پکڑتے ہوۓ اپنی بہن کی طرف دیکھ کر کہا۔
مہران کے ساتھ اس کا چھ سال کا بیٹا بھی اس گڑ یا کو دیکھنے میں مصروف تھا جس کی خو بصورتی دیکھ کر مہران کا بیٹا فدا ہو رہا تھا ۔۔۔۔
بابا یہ کتنی پیاری ہے بلکل پنک روز —
مہران صاحب اپنے بیٹے کی بات سن کر مسکرانے لگے۔۔
——-
تنزیلہ بیگم نے ایک خوبصورت بیٹی کو جنم دیا تھا جو تھی تو کمزور لیکن بہت پیاری تھی ۔۔۔
اپا اس کا نام میں رکھو گا–
مہران نے خوش ہوتے ہوے کہا–
تم ہی رکھ لو نام بتاو اپنی بھانجی کا ہمیں بھی
تنزیلہ نے مسکراتے ہوے پوچھا—
آپا اس کا نام روحا ہوگا–
میری بیٹی میری زندگی ۔۔
یہ میری زندگی ہوگی مہران نے روحا کا منہ چومتے ہوے کہا ۔۔۔
لیکن بابا یہ تو پنک روز لگتی ہے میں اس کو پنک روز کہو گا ۔۔۔
ہارون نے اس چھوٹی پری کو دیکھا جو ان سب کو دیکھ کر رو رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
“ایک دن پہلے ۔۔۔۔۔
میری ایک ڈیل ہے اگر وہ ہوگی تو میری کمپنی کو 50کرڑو کا منافع ہوگا ۔۔۔
مہران صاحب نے ایک فائل دیکھتےہوۓ نسرین کو بتایا۔۔۔
یہ تو اچھی بات ہے —
اس طرح ہمارے بزنس کو ترقی ملے گی۔۔۔
ہاں میں سوچ رہا یہ ڈیل آپا کی ڈیلیوری سے پہلے ہو جاۓ ۔۔۔
—————————————————
کیا تم سچ کہا رہی ہو نسرین —
ساجدہ نے جب یہ ساری بات سنی ڈیل والی —
تو حیران رہ گئ ۔۔۔
جی بھابھی وہ ڈیل کے سارے پیسے ہارون اور روحا کے نام کرنے ہے ۔–
کیونکہ روحا کو مہران اپنی بیٹی مانتے ہے
۔۔نسرین نے پھر ساری بات بتا دی ۔۔۔
—————————————————–
مہران آفس میں بیھٹا تھا جب اکبر آیا ۔۔۔
تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد اکبر نے اپنے آنے کی وجہ بتائ ۔۔
مہران بھائ–
یہ ڈیل کے پیسے مجھے دینا میں اپنے بزنس میں لگاٶ گا ۔۔۔
اکبر نے فورا اپنے مطلب کی بات کی–
اکبر کی بات پر مہران کے ماتھے پر بل پرے —
نہیں—
یہ پیسے میں اپنے ہارون اور روحا کے نام کرو گا ۔۔ مہران نے سہولت سے انکار کیا ۔۔۔
کیوں میرے بچے ہاشم اور کرن آپ کے کچھ نہیں لگتے کیا ۔
اکبر نے برہمی سے کہا ۔۔۔۔
مہران کو اپنا یہ سالہ زرا اچھا نہیں لگتا تھا جو کہ ایک عیاش پسند اور لالچی انسان تھا ۔۔۔۔۔
اگر میں تمہیں برداشت کرتا ہو تو صرف نسرین کو وجہ سے ورنہ مجھے ایسے بھائی اچھے نہیں لگتے جو بہن کی عزت کرنا نہ جانتے ہو اور پھر بھی بےشرموں کی طرح ان سے پیسے مانگتے رہے
مہران نے اکبر کو شرم دلاتے ہوے کہا–
اور اکبر کو آفس سے جانے کا کہا۔۔۔۔۔
————————————————————
مہران روحا کو ہاتھوں میں لیے کل والی اپنی اور اکبر کی بات سوچ رہا تھا ۔۔۔۔
آپا اس کو پکڑے میں اپنی زندگی کے لیے مھٹائی لے کر آیا ۔۔۔۔
مبارک ہو سر ڈیل ہو گی ۔۔
مہران مٹھائی لے کر واپس گاڑی میں بیٹھا اہسپتال کی طرف جارہا تھا جب اسے اصغر نے فون کرکے یہ خوشخبری سنائی–
مہران بہت خوش تھا اسے ایک ساتھ دو دو خوشیاں ملی تھی
آج اس کی ڈیل تھی جو اصغر صاحب نے خود ہیڈل کی ۔۔۔۔۔۔
تمہیں بھی مبارک ہو–
تم نے بہت اچھے طریقے سے سب کچھ ہنڈل کیا ہے مجھے فخر ہے تم پے
مہران نے خوش ہوتے ہوے کہا
شکریہ سر —
سر پیسے میں نے بچوں کے نام کرواديے ہے جو وہ اٹھارہ سال کی عمر میں ہی اکاونٹ سے نکلواسکے گئے
اصغر کو مہران نے پہلے ہی سب بتا دیا تھا کہ اس کی بھانجی ہی ہوگئ اور اس کا وہ نام روحا رکھے گا ڈیل کے ہوتے ہی پیسے بچوں کے نام کروانے ہے
اچھا اصغر تمہیں ایک اور خوشخبری سناتا ہواللہ نے مجھے بیٹی جیسی رحمیت سے ہی نوازا ہے اس کا نام میں نے روحا ہی رکھا ہے ۔۔
مہران نے اپنی خوشی بتائ ۔۔
پھر تو سر ڈبل مبارک اور ڈبل مٹھائی بنتی ہے
اصغر نے خوش ہوتے ہوے کہا–
ہاں ضرور سب کو ڈبل مٹھائی ہی ملے گی چلو پھر جلدی ملتے ہے مہران نے مسکرا کر کہا–
اوکے سر–
اچانک مہران نے فون کاٹ کر نسرین کو فون کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
————————————————————
نسرین میری بات سنو غور سے ۔۔۔
میری ڈیل ہوگئ ہے—
اس ڈیل کے پیسے ہارون اور روحا کے نام کر دے ہے میں نے—
مہران نے اپنے پچھے آتی گاڑی کو دیکھ کر جلدی جلدی بتایا ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے—
آپ نے مجھے پہلے ہی یہ والی بات بتا دی تھی ۔۔
مہران کیوں پریشان ہوتے ہے پیسے بچوں کو ہی ملے گے–
آپ آجاۓ روحا بہت رو رہی ہے پھر بات کر لے گے ۔۔۔ نسرین نے بات کو ٹالتے روحا کی طرف متوجہ کروایا ۔۔۔۔جب کال کاٹ گئ ۔۔
اُدھر مہران کی گاڑی کو زور سےٹکر لگی —
ٹکڑ لگتے ہی گاڑی دور کھائی میں جا گری ۔۔۔۔۔
————————————————————
بھابھی میرے دل کو کچھ ہو رہا جیسے دل پھٹ جاۓ گا ۔۔
تنزیلہ بیگم نے روتے ہوۓ نسرین سے کہا ۔۔
کچھ نہیں ہوا بچے ایسے ہی ہوتےآپا ویسے بھی ہارون کو آپ نے ہی پالا ہے ۔۔
نسرین نے یہ سمجھا تنزیلہ روحا کے رونے کی وجہ سے کہہ رہی ہے کیوں کے روحا مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔
نسرین کو بھی گھبراہیٹ ہورہی تھی اسے محسوس ہورہا تھا جیسے کچھ ہونے والا ہے تنزیلہ کی حالت دیکھ کر نسرین نے اس سے اپنے خیالات کا اظہار نہ کیا جبکہ نسرین تنزیلہ کی بات سن کر اور پریشان ہو گئ تھی
ماما یہ پنک روز کیوں رو رہی ہے ہارون نے اپنی معصوم سی آنکھوں سے پوچھا ۔۔۔
اس سے پہلے نسرین جواب دیتی–
جب خبر آئی—-
مہران اس دنیا میں نہیں رہے ۔۔۔
————————————————————
ماتم جیسا گھر کا ماحول ہو چکا تھا ۔۔۔
ہر کوئ رونے میں مصروف تھا —
سب یہ بھول گۓ کچھ گھنٹے پہلے ایک ننھی سی جان اس دنیا میں آئی ہے-
یہ لڑکی منحوس ہے ۔۔
اس کی وجہ سے مہران آج ہمھارے ساتھ نہیں رہا ساجدہ نے روتے ہوۓ نسرین اور ہارون کی توجہ بیڈ پر سو رہی چھوٹی روحا کی طرف کروائ ۔۔۔۔۔
بھابھی ایسا تو نہ کہے میری معصوم بچی کو کیا پتہ اس کا ماموں اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔۔
تنزیلہ نے روتے ہوۓ غم سے ساجدہ کو کہا ۔۔۔۔۔۔۔
———————————————————–
“ایک ماہ بعد ۔۔۔۔
نسرین ہارون کدھر ہے بات ہی نہیں کرتا ۔
ساجدہ نے فون پر ہارون کا پوچھا اس ایک ماہ میں ساجدہ نے نسرین کو روحا کے خلاف بہت بھڑکایا ۔۔۔
تبھی اس نے ہارون کا پوچھا–
ہارون سارا دن روحا کے آگے پچھے پنک روز کہا کر گھومتا رہتا تھا۔۔۔۔
ہاں وہ روحا کے ساتھ کھیل رہا ہے ۔۔۔
نسرین نے بھی ساجدہ کی باتوں پے یقین کرلیا تھا اسے نفرت تھی روحا سے اب اس کو ڈر تھا ہارون بھی ہاتھ سے نہ نکل جائے ۔۔۔
کتنی دفعہ کہا اس لڑکی سے دور رکھو ہارون کو یہ تمھارے بیٹے کو بھی دور کر دے گئ تم سے ۔۔۔
ساجدہ نے نفرت سے کہا ۔۔۔
————————————————————
تم کتنی پیاری ہو بلکل پنک روز جیسی—
جلدی سے بڑی ہو جاٶ میں تمہیں کہی نی جانے دو گا اپنے پاس رکھو گا ہمیشہ —
تم صرف میری ہو—
“میری پنک روز”
ہارون نے روحا کو گود میں لیتے ہوۓ کہا ۔۔۔
نہیں دور رہو–
اس منحوس کی وجہ سے تم آج یتیم ہو —
نسرین نے ہارون کے پاس آتے غصے سے کہا ۔۔۔
یہ کیا کہہ رہی بھابھی—
میری بیٹی کا اس میں کیا قصور ہے —
نتزیلہ نے غم سے کہا ۔۔۔
یہ ہے ہی منحوس اس کی وجہ سے میرا شوہر نہیں رہا ۔۔ہاۓ وہ اسے اپنی زندگی کہتے تھے یہ واقعی ان کی زندگی لے گی ۔۔۔
اب یہ میرے بیٹے کو بھی کھا جاۓ گی ۔۔
بس بھابی میری بیٹی منحوس نہیں ہے مہران کی اتنی ہی زندگی لکھی تھی سمجھ جاے اس بات کو اب
تنزیلہ نے غصے سے کہا —-
آخر وہ ماں ہے کب تک برداشت کرتی
ہم نہیں رہ سکتے اس گھر میں جہاں میرے شوہر کی قاتل رہتی ہو اج میرا شوہر مر گیا کل کو میرے بیٹے کو بھی مجھ سے چھین لے گی مینے اپنی سب تیاری کر لی ہے میں اب یہاں نہیں رہ سکتی نسرین نے ہارون کا ہاتھ پکرتے ہوے کہا
نہیں بھابھی ایسا نہ کرے میرے بھائی کے خون کو مجھ سے دور نہ کرے میں ہاتھ جوڑتی ہو مت جاے یہ آپ کا ہی گھر ہے —
تنزیلہ نے بہت منتے کی لیکن نسرین پر کوئی اثر نہ ہوا—–
٫ اور پھر نسرین ہارون کو لے کر ہمیشہ کے لے چلی گئ ۔۔۔
