Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 4)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
پاپا میں آجاٶ کیا–
روح نے مہر صاحب کے کمرے میں آتے ہوۓ اجازت مانگی ۔
آجاٶ میری پیاری بیٹی–
کیسا ہے میرا بیٹا مہر صاحب نے روح کو گلے لگاتے ہوۓ پوچھا ۔۔
میں نہیں ٹھیک میں ناراض ہو-
آپ تو ٹائم ہی نہیں دیتے روح نے روٹھے پن سے کہا ۔
ہاہاہاہا
، بیٹا آپ خود مصروف ہوتی ہے اپنی پڑھائی میں مہر صاحب نے ہنستے ہوۓ روح سے کہا
اچھا بابا مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے —
جی بیٹا پوچھو اتنا گھبرا کیوں رہی ہو —
روح کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے پوچھے لیکن پھر بھی ہمیت کرتے ہوے بولی —
پاپا کیاآپ ہارون خان بزنس ٹایئکون کو جانتے ہے –
روح نے کنفثوز ہوتے پوچھا ۔
ہارون خان کا نام سن کر ایک منٹ کے لیے مہر صاحب کے چہرے پر ایک سایہ آیا اور گیا ۔
آپ کیوں پوچھ رہی ہے بیٹا مہر صاحب نے اپنے آپ کو قابو کرتے ہوے روح سے پوچھا ۔
پاپا آپ بھی تو بزنس کرتے ہے شاید جانتے ہو آپ —
میں نے اُن کا والٹ واپس کرنا تھا ۔پری کی شرط پوری کرنے کے چکر میں اُن کا والٹ میرے پاس رہ گیا آپ واپس کر دے انھیں کسی بھی طرح –
روح نے والٹ سامنے پکڑاتے ہوۓ پوری بات بتائ ۔۔۔
جی بیٹا صرف نام سنا ہے میں نے —
مجھے کچھ پتہ لگا تو میں انھیں یہ والٹ دے دوں گا
مہر صاحب نے مسکراتے ہوے جواب دیا
۔اچھا دیکھو برھان اور ہانی کیا کر رہے ہیں ۔مہر صاحب نے روح کا ۔۔
اوکے پاپا روح کہتے ہوۓ روم سے نکل گئ ۔۔۔
ہارون خان کب پاکستان واپس آیا —
۔مہر صاحب پریشان سے سوچ میں پر گۓ ۔۔۔۔
————————————————————
فجر کے وقت قربستان میں ایک قبر کے قریب کھڑا شخص جس کی سرخ نگارا آنکھیں بنی اس کے دل کا حال بیان کر رہی تھی ۔۔۔
بابا آج آپ کو دنیا سے گئے ہوۓ بیس سال ہو گۓ ہے ۔۔
میں ان سالوں میں پل پل مرتا اور جتا رہا ہو –
ہارون کے بات کرتے ہوۓ شدت ضبط کے باوجود آنکھ سے آنسو نکل کر اس کی ہلکی ڈارھی میں گر کر جذب ہوگیا ۔۔
بیلک شرٹ بلیک ہی جنیز اور اوپر بیلک ہی ہڈی پہنے وہ قربستان سے باہر نکلتا ہے ۔۔
جب سامنے سے آتے فقیر کو دیکھ کر روک جاتا ہے تاکہ اسے پیسےدے سکے-
جیسے ہی وہ پیسے د ینے کے لیے والٹ تلاش کرتا ہے –
ہارون کو اچانک یاد آتا ہے —
اوہ والٹ تو پنک روز کے پاس رہ گیا ۔۔
ہارون کو جب یاد آیا اس کے چہرے پر مسکرائٹ آگئ ۔۔
الللہ نے تمھاری زندگی میں اُسے بیھج دیا ہے جو تمھارے دکھ درد کا مرہم بنے گئ ۔۔ ہارون کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر فقیر نے کہا اورچلا گیا ۔۔۔
ہارون فقیر کی بات سن کر خوش ہوگیا اور اس نے وہی اپنے رب سے اپنی پنک روز روح کے لے دعا کی —
————————————————————
ہپیی برتھ ڈے روحا – ہپیی برتھ ڈے روحا یونی کی ساری کلاس روح کو آج برتھ ڈے وش کر رہی تھی ۔۔
آج روحا بیس سال کی ہوگی ۔
لیکن وہ اپنے برتھ ڈے پر کبھی خوش نہیں ہوتی تھی لیکن آج روح کو اس طرح سب کا وش کرنا بہت اچھا لگا تھا اور وہ اس خوشی پر خود حیران تھی —
شکریہ آپ سب کا مجھے اچھا لگا آپ سب نے وش کیا ۔روح نے خوشی سے سب کو کہا ۔
پری روح کے چہرے کو دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ کیسے آج صبح روح اداس تھی ۔اور اب اس کے چہرے پر خوشی صاف نظر آرہی تھی روح سمجھ گئ تھی یہ سب پری نے کیا ہے اس کی خوشی کے لے —
“دوست ایسے ہی ہوتے ہیں اپنے دوست کو خوش کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں ۔دوستی کا دوسرا نام ہی محبت عزت اور احساس ہے ۔اگر دوستی میں محبت عزت اور احساس نہ ہو وہ دوستی نہیں ہوتی ۔ دوستی الللہ کی نعمت ہے اور ایسی نعمت ہر کیسی کو نہیں ملتی ۔۔ جس کو ایسے دوست مل جاۓ جو اپنے دوست کی خوش کےلیے کچھ بھی کرجاے ۔تو وہ بہت خوش نصیب انسان ہے ۔۔”
ایسی ہی دوستی روح اور پری کے درمیان تھی ۔
آج پریسہ نے جب روحا کو اداس دیکھا تو اسے خوش کرنے کےلیے پوری کلاس کے ساتھ مل کر پلان بنایا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روح مجھے پارٹی دو
۔پری نے روح کو کنٹین کی طرف لجاتے ہوۓ کہا ۔
۔اوکے میری جان روح نے پری کو گلے لگاتے ہوے کہا
پری روح کے اس عمل پر حیران ہوئی–
روح تم ٹھیک تو ہونا یہ اج تم نے مجھے گلے کیسے لگا لیا پری نے پریشان ہو کر پوچھا کیونکہ پری جانتی تھی روح کو یہ سب اچھا نہیں لگتا تھا –
پری کی بات سن کر روح مسکرانے لگی
پری تم اچھے سے جانتی ہو کہ ہانی کے بعد تم ہی ہو جس سے میں اپنی ہر بات شیئر کرتی ہو ہانی میری دھڑکن ہے تو تم میرا دل ہو اور میں بھی جانتی ہو کہ تم دونوں میری خوشی کے لے کچھ بھی کر سکتی ہو اور تم دونوں کے بغیر میں کچھ نہیں آج کے لے بہت شکریہ روح نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوے آج پری کو دل کی بات بتا دی —
روح نے آج سے پہلے یہ سب باتیں پری سے نہیں کی تھی کیونکہ اسے ہمیشہ یہ ڈر تھا کہ جس سے وہ محبت کرے گی وہ ہی اس سے دور ہو جاے گا ہانی اور پری روح کے اس ڈر سے واقف تھی
دیکھو روح تم صرف میری ہو مجھے اس چشمیش کے ساتھ نہ ملایا کرو پری نے نروٹھے پن سے کہا—
چلو کچھ کھاتے ہے بھوک لگ گئ مجھے
روح نے پری کی بات پر مسکراتے ہوے کہا –
——————–
وہ دیکھ سر آ رہے ہے پری اور روح جب پزا کھانے لگی تو سامنے آتے ہارون کو دیکھا ۔۔
ہارون جو کے آج روح سے ملنے آیا تھا ۔ اِ ن دونوں کو کینٹین جاتے دیکھ چھکا تھا ۔۔
تبھی وہ بھی وہی آگیا–
السلام و علیکم سر
روح نے ہارون کو مسکراتے ہوے کہا
روح کی مسکراہیٹ دیکھ کر جہاں ہارون خوش ہوا وہی پری حیران ہوکر روح کو دیکھ رہی تھی
روح کا دل آج بہت خوش تھا وہ خود نہیں ھانتی تھی کہ آج خودبخود دل اتنا خوش کیوں ہورہا ہے —
۔ پنک روز کیسی ہو ہارون نے ہنستے ہوۓ روح سے پوچھا ۔۔–
گل خان حیرت سے دیکھ رہ تھا کیسے صبح سے ہارون غصے میں گھوم رہا اور اب روح کو دیکھ کر ہنس رہا ہے ۔۔۔
میں ٹھیک ہو سر آپ کیسے ہے روح نے ہارون سے پوچھا—
پہلے ٹھیک نہیں تھا لیکن اب پرسکون ہو
ہارون کے جواب پر روح نے نا سمجھی سے پری کی طرف دیکھا جسے خود کچھ سمجھ نہ آیا–
سر آج روحا کا برتھ ڈے ہے پری نے ہارون اور
روح میں مداخلت کرنا ضروری سمجھا–
لفظ روحا پر ہارون کے چہرے پر سایہ لہرایا جو روح اور پری سے چھپا نہ رہ سکا-
۔سر آپ کا والٹ اس وقت میرے پاس نہیں وہ میں نے پاپا کو دے دیا تھا تاکہ آپ کو دے دیں اور سوری سر ہم نے کچھ پیسے نکال لے تھے روح نے شرمندہ ہوتے ہارون کو بتایا
روح نے خود سے یہ ہی اندازہ لگایا تھا کہ ہارون والٹ لینے آیا ہے–
کوئی بات نہیں اور
ہپیی برتھ ڈے مس روحا ہارون یہ کہتے ہوے غصے میں چلا گیا ۔۔۔
دیکھا میں نے منع کیا تھا کیسے اب سر غصے سے چلے گۓ انھیں اچھا نہیں لگا ہمارا پیسے نکلانا روح نے روھٹے پن سے پری کو کہا ۔۔۔
————————————————————
گل خان روحا کے بارے کچھ پتہ چلا
۔ہارون نے گاڑی کا دروازہ کھول کر فرنٹ سیٹ پر بیھٹتے ہوے پوچھا
نہیں سر گل خان نے شرمندہ ہوتے کہا ۔۔
اگر پنک روز ہی وہ ہوئ–
۔نہیں ایسا نہیں ہو سکتا —-
ہارون نے پریشانی سے سوچتے ہوۓ گاڑی کی رفتار تیز کر دی ۔۔۔۔
—————————–
ماما میں کیسی لگ رہی ہو ۔
روح نے تنزیلہ بیگم سے پوچھا ۔۔ریڈ شارٹ فراک کے ساتھ بلیک کیپری اور بلیک ریڈ ڈوپٹہ حجاب کے سٹائل میں روح بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔میک اپ کے نام پر صرف لیپ گلوس لگایا تھا ۔۔
آج پری کے بھائی کی شادی تھی روح جانا نہیں چاہتی تھی لیکن پری کی ضد پر روح کو مانا پڑا —
ماشاءالله آپو کتنی پیاری لگ رہی ہے –
۔ہاۓ آپو میں تو فدا ہوگئ ۔ہانی نے کمرے میں داخل ہوتے اپنی جان سے زیادہ پیاری بہن روحا کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔
ماما یہ ہماری ہانی کچھ زیادہ شراتی نہیں ہوگئ روح نے ہانی کو گلے لگاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
کیا آپو میں تعریف کر رہی آپ آگے سے کیا کہا رہی ہے ہانی نے روٹھے پن سے کہا ۔۔
تم بھی چلو ہانی مزہ آۓ گا میں اکیلی کیا کرو گۓ وہاں ۔روح نے اپنے حجاب کو پن لگاتے ہوۓ ہانی سے کہا ۔۔
نہیں آپ جاٶ ویسے بھی آپ کی خوبصورتی دیکھ کر کون میری طرف دیکھے گا ۔ ہانی شرارتی انداز سے کہتے ہوۓ کمرے سے بھاگ گئ ۔۔ کیونکہ اسے پتہ تھا اس بات پے روح اسے کتنی باتیں سناے گئ
ہانی کے بھاگ جانے پر روح نے زور سے قہقہ لگایا –
تنزیلہ بیگم حیران رہ گئ کیونکہ روح کافی دنوں بعد مسکرائی تھی –
روح اپنی ماں کی آنکھوں میں حیرانی دیکھ چکی تھی
ماما پتہ نہیں آج کل میرا دل خودبخود خوش ہورہا ہے روح نے پریشان ہوتے ہوے اپنی ماں کو بتایا
اللہ میری بیٹی کو ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھے امین
تنزیلہ بیگم نے روح کا ماتھا چومتے ہوے دعا دی —
اور میری بیٹی نے وہاں کسی کی بات پر توجہ نہیں دینی ۔تنزیلہ بیگم نے روح کو سمجایا۔۔۔
————————————————————
تم بہت بری ہو روح مہندی پر کیوں نہیں آئ
۔پری نے روح کے گلے لگتے ہوۓ شکوہ کیا ۔
شکر کر میں بارات میں آگئ ۔تمھیں پتہ بھی ہے یہ شور رش مجھے نہیں پسند روح نے آس پاس نظر دوڑا کر کہا ۔۔
کس بات کا ڈر ہے تم کو جو ہر وقت ڈر میں رہتی ہو ۔ تم نے مجھے اچھے سے تمہاری برتھ ڈۓ بھی انجواۓ نہیں کرنے دی ۔۔
پری نے پر شکوہ نگاہ سے روح کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
پری کی بات کا روح کے پاس کوئی جواب نہ تھا
————————————————————
دودن پہلے ۔۔
گہرا اندھیرا ہرطرف سناٹا ہوا عالم وحشت ذدہ ماحول—–
وہ تنہا شخص اپنے بابا کی تصویر لے کر بچوں جیسی سسکیوں سے رو رہا تھا ۔۔
وہ بھول چکا تھا وہ ایک جانا مانا بزنس ٹائیکون ہے بس یاد تھا ۔ تو یہ اسے اس کے بابا سے بچھڑے ہوۓ بیس سال ہوگۓ ہے ۔۔
سہ”سر گل خان نے اسٹڈی کا دروازہ کھلتے ہوۓ ڈرتے ہوۓ ہارون خان کو مخاطب کیا ۔۔
گل خان اس لڑکی کی معلومات پتہ کروائ ۔ہارون نے غصے سے دیکھ کر پوچھا ۔۔
سر اصغر خان کے بیٹے کی شادی ہے انھوں نے آپ کو دعوت دی ہے ۔۔
گل خان نے بات کو ٹالتے ہوۓ کہا ۔۔
تم بتا دو اگر تم سے کام نہیں ہوتا میں کسی اور کو کہہ دیتا ہو ۔ہارون کو گل خان کے بات ٹالنے پر غصہ آیا ۔۔
سر آپ اس شادی میں جاۓ کیا پتہ وہ لڑ کی مل جاۓ گل خان نے لالچ دیتے ہوے کہا ۔۔
(اصغر خان ہارون کی کمینی میں منیجر کی پوسٹ پر کام کرتے ہے انھوں نے اپنے بیٹے کی شادی پر ہارون کو بلایا تھا گل خان چاہتا ہے ہارون اس شادی میں جاۓ )
ہمم” کہہ کر ہارون کمرے کی طرف چلاگیا ۔۔۔
——————————————————–
چلو آٶ میں بھابھی سے ملاتی ہو ۔پری نے روح کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔
بھابھی یہ میری دوست روحا سے ملے ۔پری نے سٹیج پر آتے روح کا تعارف بھابھی سے کروایا ۔۔۔۔
شادی کی بہت مبارک ہو بھابھی روح نے تحفہ دیتے ہوۓ کہا ۔۔
پری تمہاری دوست بڑی خوبصورت اور معصوم ہے جسے سن کر روح شرما گئ ۔
روح تم بات کرو میں بابا کے آفس کے سر نے آنا ہے میں انھیں دیکھ لو ۔۔پری نے معزرت کناں نگاہوں سے روح کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
————————————————————
وہ میں, پری جو روح کے پاس آتی بات کرنے لگی تھی روح کے زرد پڑتے چہرے کو دیکھ کر خاموش ہوگئ ۔۔ پری میں گھر جارہی ۔۔۔روح جلدی سے کہتے ہوۓ سٹیج سے اتر گئ ۔۔۔
روح کے کان میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی وہ تیز تیز سانسوں سے چل رہی تھی ۔اپنے آس پاس دیکھے بنا وہ ہال سے چلی گئ ۔۔
————————————————————
نیلی جنیز وائٹ ٹی شرٹ کے ساتھ نیلی جکیٹ پہنے ہاتھ میں راسٹ واچ آنکھوں میں چمک لے وہ شادی ہال میں انٹر ہوا۔۔
جب سامنے سے آتی حسن کی دیوی کو دیکھ کر مہیوت ہو کر اپنی جگہ رک گیا ۔۔۔۔
روح کو ریڈ شارٹ فراک بلیک کیپری بلیک ڈوپٹہ حجاب کے ساتھ زرد چہرہ آنکھوں میں بے تحاشا آنسو اپنے ہوئٹ کو کاٹتے ہوۓ وہ ہارون کے دل کی ڈکھرکنوں کو دھڑکا گئ تھی ۔۔۔
جیسے ہی ہارون نے بولنے کے لۓ لب وا کیے روح پاس سے نظر انداز کر کے چلی گئ ۔۔۔۔۔
یہ روح کو کیا ہوا ہارون نے پاس آتی پری سے پوچھا ۔۔وہ طبیعت نہیں ٹھیک آپ آۓ میں بابا سے ملوا دیتی ہو ۔پری نے ٹالتے ہوۓ ہارون کی توجہ اندر اصغر خان کی طرف دالائی ۔۔۔۔
