Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 25) Last Episode (Part - 1)

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 25) Last Episode (Part - 1)

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

“7ماہ بعد ۔۔۔

اف پنک روز کیوں غصہ کر رہی ہو ۔

ہارون نے کمرے میں آتے روحا کو غصہ کرتے دیکھ پوچھا لیا ۔۔

ہاروننننن

یہ جنت لگتا ہی نہیں میری بیٹی ہے اتنا تنگ کرتی ہے

۔کوئ کہہ سکتا ہے سال کی بچی ہے ۔سب آپ کا قصور ہے جو اتنا آپ اسے پیار دے رہے ہے ۔۔

زرا ترس نہیں آتا آپ کو اور جنت کو مجھ پر میں عزیز نہیں ہو آپ کے لیے بھی ہارون ۔

روحا نے روٹھے پن اور غصہ سے کہا۔۔

ارے بابا کی جان کیوں ماما کو تنگ کرتی ہو میری پیاری بیٹی

۔ہارون نے روحا کی بات پر توجہ دے بنا جنت کو گود میں اٹھاتے ہوے پیار سے پوچھا ۔۔

جنت صرف اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے ہارون کو گھور رہی تھی ۔۔

گل خان یہ جنت کو ہنیڈل کرو میں زرا اپنی پنک روز کو دیکھ لو ۔

ہارون نے جلدی سے کمرے سے باہر آتے گل خان کو جنت پکڑئ اور بنا سنے کمرے میں بھاگ گیا ۔۔

ہاہاہہاہا سہی کہتے ہے لوگ ہر شوہر اپنی بیوی سے ڈرتا ہے ۔۔

گل خان نے ہارون کی حالت انجواۓ کرتے سوچا ۔۔

ہاں جی تو میری پنک روز کیا کہہ رہی تھی تم اب مجھے عزیز نہیں ہو ۔۔

ہارون نے کمرے میں آکر روحا کو کمر سے پکڑتے ہوے اپنے قریب کرتے ایک ہاتھ سے روحا کا ڈوپٹہ اتار کر بیڈ پر پھکنتے اسکی شہہ رگ کو چومتے ہوے پوچھا ۔۔

جی ہاں ایسا ہی ہے سارا دن آفس ہوتے رات کو جنت کے ساتھ

۔روحا نے روٹھے پن سے کہا ۔

ہاہاہاہاہا میری پنک روز یہ الزام ہے میری بیٹی پر روز ایک گنھٹہ اس کے ساتھ ہوتا باقی کی ساری رات تمہارے ساتھ ہوتا ہو ۔

وہ اس کے دل کے مقام پر لب رکھتے ہوے بولا ۔۔

روحا خاموش رہی ۔۔

بچی ہے یار تنگ تو کرے گی ۔

تم اپنا خیال بھی نہیں رکھتی یار تبھی تم غصہ کرتی ہو اس پر ڈاکٹر نے پہلے ہی کہا تھا تم کمزور ہو بےبی کیری کرنا مشکل ہو گا لیکن تم نے نہیں سنی ۔

ہارون نے روحا کے گال سہلاتے ہوے کہا ۔۔

کچھ نہیں ہوتا مجھے ہارون ویسے بھی آپ کو بیٹا چاہے تھا ۔۔

میں آپ کی یہ خواہش پوری کرنا چاہتی ہو ۔۔

روحا ن نے ہارون کی دونوں آنکھوں کو چومتے ہوے کہا ۔

لیکن پنک روز۔۔

بس ہارون مجھے کچھ نہیں سننا مجھ اپنے آپ سے زیادہ ہانی کی فکر ہے بچی ہے وہ اور زرا خیال نہیں رکھتی وہ ۔روحا نے فکرمند ہوتے کہا ۔۔

اف تم نہ ٹیشن لیا کرو اس کا شوہر ہے اس کے پاس تم مجھ پر توجہ دو ۔۔

ہارون نے روحا کے لبوں کو فوکس لے کہا ۔

نہیں ہارون مجھے سونا۔۔۔

اس سے پہلے روحا کچھ کہتی ہارون اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتے روحا کے وجود میں مدہوش ہو گیا ۔۔

————————————————————

یہ زرافہ ابھی آیا

نہیں چاکلیٹ کھا لیتی ہو ۔

ایک تو سارے میری نیند اور چاکلیٹ کے دشمن ہے

۔روحا آپو بھی ہر وقت بھی بولتی رہتی ہے

۔ہانی نے چاکلیٹ کو کھاتے ہوے کہا ۔

(زیان روحا نے ہانی کو چاکلیٹ کھانے سے منع کیا تھا ۔

لیکن ہانی روز زیان کے جانے کے بعد کھاتی تھی).

ہانی چاکلیٹ کھانے میں مصروف تھی جب اسے زیان کی گاڑی کی آواز آی ۔

اور وہ پریشان ہو گی ۔

اف آج یہ جلدی کیوں آے ابھی تو میں نے اپنی چاکلیٹ بھی نہیں پوری کھای ۔

ہانی نے چاکلیٹ چپھاتے ہوے افسوس سے کہا اور اپنا منہ صاف کر کے بیٹھ گی ۔۔

زیان جب گھر داخل ہوا سامنے ہی ہانی نظر آی ۔

ہانی جاکر زیان کے گلے لگ گی

۔(یہ ہانی کی روٹین تھی زیان جب بھی گھر آتا تھا وہ پہلے اس کے گلے لگتی تھی ).

کیسی ہے میری چشمش

زیان نے ہانی کے ماتھے پر لب رکھتے ہوے پوچھا ۔۔

میں بالکل ٹھیک آپ کیسے ہے ۔

ہانی نے بھی مسکرا کر پوچھا ۔۔

میں بھی ٹھیک ہو

۔زیان نے ہانی کو صوفے پر بیٹھاتے ہوے کہا ۔

تم نے چاکلیٹ کھائ ہے ۔

زیان نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔

زیان کے سوال پر ہانی گھبرا گی ۔۔

نہیں میں کیوں کھاو گی

پاگل ہو میں کیا

ہانی نے نظریں چراتے ہوےجواب دیا ۔۔

تم نے چاکلیٹ کھای ہے سنجیدگی سے پھر پوچھا ۔

نہیں

۔تحمل سے جواب دیا گیا ۔۔

کھای ہے یا نہیں

۔زیان نے اس کے ہونٹوں پر فوکس کیے پوچھا ۔۔

نہیں ہانی نے گبھرا کر جواب دیا ۔۔

زیان کا اس کے ہونٹوں کی طرف دیکھنا کچھ غلط ہونے کا احساس ہو گیا تھا ۔۔

تمہارے چہرے پر چاکلیٹ لگی ہے تم نے کھائ ہے

۔زیان نے افسوس سے کہا ۔

کہاں لگی ہے ہانی نے چہرے پر ہاتھ پھرتے ہوے پوچھا ۔۔

اور زیان ہانی کی بات کا جواب دے بنا اس کے ہونٹوں پر جھک گیا ۔۔۔

آج بھی ہانی زیان کی شدت برادشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی ۔

۔اس لیے گھبرا گی ۔

زیان اپنی پیاس پوری کرتا پیچھے ہٹا ۔۔

ہونٹوں پر لگی تھی میں نے صاف کر دی ۔۔

زیان نے مسکرا کر کہا ۔۔

کتنی کڑوی ہے تم کیسے کھا لیتی ہو ۔۔

زیان نے اپنے ہونٹ صاف کرتے کہا ۔

اسے چاکلیٹ ہمیشہ کڑوی لگتی تھی ۔۔

مجھے عادت ہے تحمل سے جواب دیا ۔۔

حنین کب بڑی ہو گی تم

میں نے کتنا روکا ہے کہ تم نہیں کھاٶ گی

۔پریگنسی کے بعد کھا لینا میں نہیں روکتا

۔تم سوتی بھی بہت ہو

۔میں نے وہ بھی منع کیا لیکن تم نے میری ایک نہ سنی ۔۔اب بات نہ کرنا مجھ سے زیان روٹھے پن سے کہہ کر چلا گیا ۔۔

زیانننننننن۔۔۔

ہانی کی چیخ سے زیان کے قدم وہی رک گے ۔

زیان نے پیچھے موڑ کر دیکھا

ہانی گری ہوی تھی فورًا بھاگ کر ہانی کے پاس آیا ۔۔

(ہانی زیان کی ناراضگی کا سن کر اس کے پیچھے بھاگی منانے کے لیے لیکن چاکلیٹ ریپر کے اوپر پاٶں آنے سے وہ سلیپ ہو کر گر گی).

ہانی انکھیں بند مت کرنا پلیز ۔۔

زیان نے ہانی کو گود میں اٹھایا اور ہاسپٹل لے گیا ۔۔

———————————————————–

برہان روحا ہارون بھی ہاسپیٹل ہی موجود تھے

۔سب ہی پریشان کھڑے تھے ۔۔

ڈاکٹر میری مسز اور بےبی کیسا ہے ٹھیک ہے نہ

آپ کی بیوی کے گرنے کی وجہ سے ان کی کنڈیشن بہت خراب ہے

آپ بس دعا کرے ۔

ڈاکٹر نے ان کو تفصیل سے بتایا ۔۔

ڈاکٹر کی بات سن کر سب پریشان ہو گے ۔۔

زیان کا اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہو ا۔۔

زیان حوصلہ کرو دعا کرو تم ۔

ہارون نے حوصلہ دیا

۔۔برہان اور زیان دونوں کے آنکھوں میں آنسو تھے ۔

اس کی حالت کا سوچ کر ہی دونوں کے رونگھٹے کھڑے ہورہے تھے

۔وہ جانتے تھے معمولی سے بخار میں اس کی حالت کتنی خراب ہوتی ہے ۔

یہ یہ ہی حال روحا کا تھا ۔

تینوں پریشان ہو رہے تھے ۔۔

————————————————————

مسٹر زیان یہ فارم آپکو فل کرنا ہو گا ۔۔

ہم کسی ایک کو بچا ۔۔سکتے ہے

بیوی یا بچہ

۔اگر بیوی کو بچاے گے تو اولاد جیسی نعمت سے محروم ہو جاے گے ۔

کیونکہ بچہ نہ بچانے کے بعد آپ کی بیوی ماں نہیں بن سکے گی ۔۔

اور ویسے آپ کی بیوی کی حالت زیادہ خراب ہے ان کو بچانا مشکل ہوگا

فصیلہ آپ کے ہاتھ میں ہے جلدی کرے ہمارے پاس وقت بہت کم ہے ۔۔

ڈاکٹر کی ساری بات سن کر زیان کے قدموں تلے زمین نکل گی ۔۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے

ایک طرف جان سے زیادہ عزیز بیوی تو دوسری طرف اولاد ۔

جسے پانے کی خوائش کی تھی ۔۔

زیان دونوں طرف پھس گیا تھا ۔۔

برہان روحا دونوں رو رہے تھے ۔

انھیں سمجھ نہیں آ رہی تھی زیان کو حوصلہ کیسے دے ۔۔

زیان نے بنا وقت ضائع کیے ہانی کو بچانے کا فصیلہ کیا ۔۔

ڈاکٹر میری بیوی کو کچھ نہ ہو

مجھے صیح سلامت چاہے اپنی بیوی

۔زیان نے جنون سے کہا ۔

آپ سب دعا کرے اللہ بہتر کرے گا ۔

آپریشن سے پہلے مسٹ زیان آپ سے بات کرنا چاہتی ہو آپ میرے ساتھ آے

ڈاکٹر اتنا کہہ کر چلی گی ۔۔

———————————————-

خیریت آپ نے مجھے یہاں بلایا ۔۔

زیان نے بے چینی سے پوچھا ۔

زیان صاحب آپ کی بیوی جسمانی طور پر کافی کمزور تے ۔ان کے لیے بےبی کیری کرنا مشکل تھا

۔اس لیے ہم نے انھیں پہلے ہے انفارم کر دیا تھا

۔ان کے لیے مشکل ہے بےبی کیری کرنا ابھی

لیکن انہوں نے آپ کی خوشی کا خیال رکھا ۔۔

میری ریکوئسٹ تھی ان سے کہ وہ اپنا اچھے سے خیال رکھے

آپ نے بنا سوچے بیوی کو بچانے کا آپشن چوس کیا مجھے خوشی ہوی آپ اپنی بیوی سے کتنی محبت کرتے ہے

اب انھیں بچانے کے بعد ہو سکتا ہے دوبارہ بے بی نہ ہو

اور اللہ نے چاہا تو ہو بھی سکتا ہے

میں زیادہ امید نہں دے سکتی

ڈاکٹر کی بات سن کر زیان کے قدموں تلے زمین نکل گی ۔

اتنا غافل کیسے ہو سکتا ہو میں

۔کھانے میڈیسن سب کا خیال رکھا مطلب جھوٹ بولا مجھ سے

مجھ سے اتنی بڑی بات چھپای

(ہانی کھانا کھایا میڈیسن لی اچھے سے خیال رکھنا چاکلیٹ نہیں کھانی تھی ۔زیان میں نے سب کھایا ہے ۔)

زیان کے کانوں میں ہانی کی آواز گونج رہی تھی ۔۔

بہت غلط کیا تم نے ہانی تم ابھی تک میری محبت کو نہ سمجھ سکی

زیان نے افسوس سے سوچا

————————————————————

یا الللہ مجھے معاف کر دے میں تیرا گناہگار بندہ ہو ۔

مجھ سے بہت سے غلطیاں ہوی ۔

مجھے معاف کر دے ۔

میں مانتا ہو میں کسی کی بیٹی کے ساتھ غلط کرنے کا سوچا

لیکن میں نے اپنی غلطی کو سیدھا بھی کیا ۔۔

اس سے جائز رشتہ بنا کر میرے رب تو سب جانتا ہے ۔

وہ میرے لیے کیا ہے میرا اس کے بنا سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے ۔۔

مجھ سے میری بیوی اولاد مت چیھن

میرے رب مجھے معاف کر دے ۔۔

ان دونوں کو صحت تندرستی دے

۔میرے رب مجھے معاف کر دے ۔۔

زیان نے روتے ہوے معافی مانگی ۔۔

بھای پلیز مت روے سب ٹھیک ہو جاے گا ۔۔

برہان نے ز یان کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا ۔۔

پھر دونوں پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے

ہانی کے لیے دعا کر رہے تھے ۔۔

————————————————————

پنک روز رونا بند کرو تمہاری اپنی طبعیت خراب ہو جاے گی ۔

۔تم دعا کرو سب ٹھیک ہو جاے گا ۔۔

ہارون نے روحا کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا ۔۔

ہارون سے روحا کا رونا برداشت نہیں ہو رہا تھا

تبھی وہ بار بار روحا کو رونے سے رک رہا تھا ۔۔

کتنا شوق ہے ہانی کو بچوں کا بس اللہ اسے اولاد جیسی نعمت سے محروم نہ کرے ۔

(آمین).

مجھے بہت ٹیشن ہو رہی ہے ہارون میری معصوم بہن نے کتنی تکلیفیں برداشت کی ہے ۔

مجھے سوچ کر ہی رونا آرہا ہے ۔۔

روحا بجاے چپ ہونے کے اور زیادہ روتے ہوے کہہ رہی تھی ۔۔

چپ میری جان تم دعا کرو سب ٹھیک ہو جاے گا

۔تمہاری تو بے بی گرل ہے نہ وہ اللہ ضرور تمہاری سننے گا ۔۔

ہارون نے روحا کو اپنے سینے سے لگاتے ہوے تسلی سے کہا ۔۔

اللہ میری سنے گا نہ ہارون میں دعا کرتی ہو ۔

روحا نے اپنا چہرہ اٹھا کر آنسو صاف کرتے معصومیت سے پوچھا ۔۔

ہاں میری جان دیکھنا تمہاری بے بی گرل کو ضرور بے بی گرل ملے گی

۔۔اور وہ ٹھیک بھی ہوجاے گی

ہارون نے حوصلہ دیتے ہوے کہا ۔

———————————————————–

-پھوپھو انکل اتنی مشکل سے میں نے سنبھالا ہے پنک روز کو

– پلیز آپ لوگ حوصلہ رکھے سب ٹھیک ہو جاے گا ۔۔

رونا تو بند کرے

۔ہارون نے صبر سے سمھجایا ۔۔

کیسے نہ رو بیٹا

میری بیٹی کو ابھی خوشی ملی تھی

میری پھول جیسی بیٹی کو اور اب اتنا بڑا دکھ برداشت نہیں ہو رہا ۔۔

بس میری بیٹی ٹھیک ہوجاے

تنزیلہ بیگم نے روتے ہوے کہا ۔

مہر صاحب روتے ہوے مسجد چلے گے ۔

————————————————————

لالہ حوصلہ رکھے سب ٹھیک ہو جاے گا ۔۔

عمارہ نے زیان کو حوصلہ دیتے ہوے کہا ۔۔

زیان کے آنسو رک نہیں رہے تھے وہ جاے نماز پر بیھٹا روتےدعا مانگ رہا تھا ۔۔

(زیان اگر مجھے کچھ ہوگیا

آپ شادی نہ کرنا

ہماری اولاد کی خود پرورش کرنا

ہانی کیسی باتیں کر رہی کچھ تو سوچ لیا کرو تمہارے بغیر میں کیسے جی سکوں گا میری تو سانس ہی اٹک جاتی ہے جب تم کچھ دیر کے لیے آنکھوں سے دور ہوتی ہو

آج کے بعد یہ سب سوچنا بھی نہ

اور پلیز بات کرتے وقت یہ بھی خیال رکھا کرو مجھے کیسا لگے گا

زیان نے افسودگی سے کہا

زیان کی بات پر ہانی کچھ نہ بولی)

ہانی تم نے اچھا نہیں کیا مجھ سے سب چھپا کر تم نے خود بھی خیال نہ رکھا نہ مجھے رکھنے دیا

بس تم ٹھیک ہوجاو مجھے کچھ نہیں چاہے

زیان نے روتے ہوے دعا کی

————————————————————

برہان حوصلہ رکھے یار

وہ ٹھیک ہو جاے گی ۔

پری نے برہان کو پیار سے ہنیڈل کرتے کہا ۔

وہ ٹھیک ہوجاے تو بہتر ہے

ہم سب کی جان بستی ہے اس میں

بس اللہ اسے اولاد جیسی نعمت سے محروم نہ کرے

ورنہ وہ زندہ رہ کر بھی زندہ نہیں ہوگی ۔۔

وہ ٹھیک ہوجاے گی

اپ دعا کرے پری نے برہان کے آنسو صاف کرتے کہا

پری میں اپنی بہن کے بغیر جینے کا سوچ بھی نہں سکتا میری ہمیشہ ہمت بنی ہے وہ

اس کی وجہ سے ہی تو مجھے آج تک بھای کی کمی محسوس نہیں ہوی

اتنا تو دو بھای کبھی ایک دوسرے کو نہیں سمجھتے ہوگے جیسے ہمیشہ ہانی نے مجھے سمجھا بن کہے ہم دونوں بہن بھای سب سمجھ جاتے ہے

برہان نے روتے ہوے کہا

پری خود رو رہی تھی وہ بھی ہانی سے اتنی محبت کرتی تھی جتنی روحا

ہر کوئ ہانی کے لیے دعا کر رہا تھ

ا سب ہی پریشان تھے ہانی کے لیے ۔

————————————————————

مسڑ زیان مبارک ہو

بیٹی ہوی ہے ۔۔

ڈاکٹر کے ہاتھ میں گلابی کمبل میں لپیٹا وجود دیکھ کر سب حیران تھے ۔۔

ڈاکٹر میری بیوی کیسی ہے ۔

وہ ٹھیک ہے نہ ۔زیان نے بچی کی طرف نہ دیکھتے ہوے بے تابی سے پوچھا ۔۔

زیان کے سوال پر ڈاکٹر نے نظریں جھکا لی

اپ کی بیوی چاہتی تھی ان کی اولاد کو بچایا جاے

ڈاکٹر کی بات پر زیان تو صدمے میں ہی چلا گیا