Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 25) Last Episode (Last Part)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 25) Last Episode (Last Part)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
آپ سب کی دعاوں سے آپ کی بیوی اور بیٹی دونوں بالکل ٹھیک ہے ۔
الللہ کے کرشمے کے سامنے ہم انسان کچھ بھی نہیں
ہم تو اللہ کا کرشمہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہے
۔جو ہمیں ناممکن نظر آ رہا ہوتا ہے وہ اللہ ممکن بنا دیتا ہے ۔۔
آپ کی بیوی کو بچانا نہایت ہی مشکل تھا
جب کہ آپ کی بیٹی بالکل ٹھیک تھی ۔۔
آپ سب کی دعاوں کی وجہ سے آپ کی بیوی بالکل ٹھیک ہے آپ سب مل سکتے ہے ۔۔
ڈاکٹر نے تفصیل سے بتایا
ڈاکٹر کی بات پر سب کے چہرے پر خوشی آگی
زیان برہان خاموشی سے مسجد کی طرف چلے گے
اپنے رب کا شکر ادا کرنے
—–*-*——————————————-
ہانی میری جان کیسی ہو ۔
روحا نے روتے ہوے پوچھا ۔۔
میں ٹھیک آپو روے مت
۔ہانی نے روحا کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا ۔۔
او لمبو
دو بچوں کے باپ بن گے کیسے بچوں کی طرح رو رہے ہو ۔ کچھ عقل کر لو ۔
ہانی نے برہان کو تنگ کرتے ہوے کہا ۔
برہان بھاگ کر ہانی کے گلے لگتے ہی بچوں کی طرح رونے لگا ۔
پھر ہانی روحا برہان تینوں ہی ایک دوسرے کے گلے لگے بہن بھای بچوں کی طرح رو رہے تھے ۔۔
بس کرو تم تینوں
۔پنک روز تم تو چپ کرو طیبعت خراب ہو جاے گی
۔شکر ادا کرو ہانی اب ٹھیک ہے ۔
ہارون نے روحا کو ہانی سے پیچھے کرتے سنجیدگی سے کہا ۔۔
روحا تو ہارون کے گلے لگ کر چپ ہو گی تھی لیکن برہان ابھی تک رو رہا تھا ۔۔
پھر پری کو ہی آگے ہونا پڑا ۔۔
شرم کر لو برہان اس کی طیبعت خراب ہو جاے گی
۔ایسے روتے ہوے تم تینوں پاگل لگ رہے ہو ۔
پری نے سب کا موڈ صیح کرنے کے لیے ان کو تنگ کیا ۔۔
چڑیل بھابھی جل گی ہمارے پیار سے ۔۔
ہانی نے تنگ کرنے کے لیے کہا ۔
سب کے چہرے پر مسکراہٹ آ گی ۔۔
میری بیٹی کیسی ہے اب
مہر صاحب نے ہانی کے سر پر پیار کرتے ہوے پوچھا
بابا میں بالکل ٹھیک ہو مت روے آپ سب پلیز
ہانی نے افسودگی سے کہا
————————————-
سب ہانی نے کو مبارک باد دی ۔
ہانی کی بیٹی بہت خوبصورت تھی ۔
بالکل زیان جیسی
۔سب بہت خوش تھے خاص کر عمارہ روحا آخر وہ اکلوتی پھوپھو خالہ بن گی تھی ۔۔
سب نے ہانی کو دعا دی
۔جس کا انتظار تھا ہانی کو
وہ ابھی تک نہیں آیا تھا ۔۔
ہانی پریشان تھی زیان کیوں نہیں آیا ۔۔
————————————————————
کتنی دیر ہو گی سب مل کر چلے گے زیان کیوں نہیں آے ہانی نے پریشانی سے سوچا رہی تھی
۔۔جب اسے زیان اندر آتا ہوا نظر آیا ۔۔
اسے دیکھ کر ہانی خوش ہو گی ۔۔
زیان سنجیدگی سے کھڑے ہو کر ہانی کو دیکھ رہا تھا ۔۔
اس کی آنکھوں میں غم غصہ دیکھ ہانی حیران رہ گی ۔۔
زیان کہا۔۔
ہانی کی بات پوری ہونے سے پہلے زیان اس کے لبوں پر جھک گیا ۔۔
اس کے عمل میں جنون غصہ تھا
۔زیان نے اپنے دانتوں سے ہانی کا لب کاٹا ۔
ہانی کے لبوں سے خون نکل آیا تھا ۔
ہانی نے مزاحمت کی
لیکن زیان نے نہیں چھوڑا ۔۔
کیوں کیا ایسا
۔زیان نے ہانی کے لبوں سے خون صاف کرتے ہوے پوچھا ۔۔
ہانی جو اپنی سانس بحال کرنے میں مصروف تھی ۔
زیان کے سوال پر حیران رہ گی ۔۔
میں کیا کر دیا اب
ہانی نے ناسمجھی سے پوچھا ۔
جو تم نے کیا اس کی سزا تمہں مل چکی ہے ۔
اب میرے غصے کو مزید ہوا مت دو حنین زیان نے غصے سے کہا ۔۔
ہانی بالکل خاموش رہی ۔۔
جب تمہں پتہ تھا
۔ابھی تم بے بی کیری نہیں کرسکتی تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں مجھے بتاو ۔
زیان نے غصے سے پوچھا ۔۔
ہانی بالکل خاموش رہی ۔
میں نے جب پوچھا تھا کہ کچھ کھایا میڈیسن کھای تم نے جھوٹ بولا ۔
ابھی ڈاکٹر نے مجھے سب بتا دیا ۔۔
ہانی تہمں شرم نہ آی ایسا کرتے ہوے
تم سے بڑھ کر مجھے کچھ نہیں چاہے ۔
اگر اولاد نہ ہوتی مجھے کوی دکھ نہ تھا ۔
یہ تو اللہ کی نعمت ہے جیسے چاہے وہ دے۔
تمہاری زندگی سے بڑھ کر مجھے کچھ نہیں
تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں مجھے روکا کیوں نہیں یہ سب تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے تم کمزور تھی ۔۔
کیوں ہانی کیا میں تمہارے لیے اتنا غیر اہم ہو گیا جیسے بتانا ضروری نہ سمجھا ۔۔
ڈاکٹر سے کہا میں نے وہ تمہں بچاے میں نے اپنی اولاد کی بھی فکر نہ کی ۔۔
رو رو کر اللہ سے دعا کی اور ایک تم ہو تمہں میرا احساس ہی نہیں
جب میں سوچتا ہو میرے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہے ۔
زیان نے روتے ہوے کہا
۔اس کی انکھوں میں آنسو دیکھ کر ہانی فورًا زیان کے گلے لگی ۔
مجھے معاف کر دے زیان
مجھے معلوم تھا آپ کو بچے کتنے پسند ہے آپ کے لیے میں کچھ بھی کر سکتی ہو
زیان آپ کی خوشی کے لیے میں نے سب برادشت کیا ۔
جب آپ نے مجھے بچانے کے لیے ڈاکٹر کو کہا میں ہوش میں تھی تب اور میں نے ڈاکٹر کو کہا تھا میرے بچے کو بچاے
۔ہانی نے روتے ہوے بتایا ۔۔
زیان ہانی کی بات سن کر دنگ رہ گیا۔۔
مجھے ڈاکٹر بتا چکی ہے سب ہی ہانی
مجھے افسوس ہورہا میں ہی شاید اچھے سے خیال نہ رکھ سکا
تم نے ایک دفعہ بھی میرا نہیں سوچا ہانی
یہ تو اللہ کی مہربانی جو تم دونوں بچ گی
۔اگر تمہں کچھ ہو جاتا میرا کیا ہوتا ۔
تم نے نہیں سوچا
۔زیان نے افسوس سے پوچھا ۔۔
مجھے معاف کر دے ہانی نے روتے ہوے کہا ۔
مجھے اپ کا بہت احساس ہے زیان
چلو بس کرو جو ہونا تھا ہو گیا
۔ہم دونوں نے بہت دکھ برداشت کیے ۔
اب ہماری زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں ہوگی
۔اب تم دھیان سے سن لو تم سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔
ایک ہی بیٹی کافی ہے ہمارے لیے ۔
اس نے ہم دونوں مکمل کر دیا ۔
زیان نے اپنی بیٹی کے ماتھے کو چومتے ہوے کہا ۔۔
کتنی پیاری ہے بالکل آپ جیسی ہے
ہانی نے مسکرا کر کہا ۔۔
شکریہ ہانی مجھے آج مکمل کر دیا ۔۔
زیان نے ہانی کا ماتھا چومتے ہوے کہا ۔
شکریہ آپ کا جس نے مجھ جیسی لڑکی کو جینا سکھایا ۔ہانی نے زیان کے سینے پر سر رکھتے ہوے کہا ۔۔
نام تو رکھ لے
۔اب اس کا ہانی نے بچی پکڑتے ہوے کہا ۔
زینہ شاہ زیان شاہ کی بیٹی ۔۔
زیان نے مسکرا کر نام رکھا ۔
ہانی کو نام پسند آیا ۔۔
دونوں نے یہی نام سوچا تھا ۔
ہانی زیان کے سینے پر سر رکھ کر انکھیں موند لی ۔۔
آج ہانی زیان مکمل ہو گے تھے
۔اور دونوں ہی بہت خوش تھے
۔۔
————————————————————
“7 سال بعد ۔۔۔
پنک روز ۔پنک روز ۔پنک روز ۔
ہارون مسلسل روحا کو آواز لگا رہا تھا ۔۔
جی اب آپ کو کیا ہوا۔۔
روحا نے پریشانی سے پوچھا ۔۔
روحا کی پریشانی دیکھ کر ہارون اپنی بات بھول گیا تھا ۔۔
کیوں پریشان ہو میری جان کیا ہوا ہے ۔۔
ہارون نے روحا کی کمر میں ہاتھ ڈالتے پوچھا ۔۔
یہ آپ کی بیٹی کافی ہے مجھے تنگ کرنے کے لیے ۔
ہارون اس نے پریشان کر کے رکھ دیا مجھے ۔۔
روحا نے ہارون کے ہاتھ کمر سے ہٹاتے ہوے بیڈ پر جاکر بیھٹتے ہوے تھکے ہوے انداز سے کہا ۔۔
اب کیا کر دیا میری جنت نے
۔ہارون نے دوبارہ روحا کو اپنے حصار میں لیتے ہوے پوچھا ۔۔
روحان روحاب دونوں کو میں نے تیار کر دیا مجال ہے مجھے تنگ کیا ہو دونوں نے تیار ہونے میں
اور ایک یہ جنت ہے جو مجھے مکمل پاگل کر چکی ہے ۔ابھی تک تیار نہیں ہوی
۔۔روحا نے غصے سے کہا ۔۔
ہاروننننن
۔۔میں آپ سے بات کر رہی ہو
۔ہارون مسلسل روحا کو غصہ میں دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔
جب روحا نے غصہ کرتے اسے متوجہ کیا ۔۔
یار بس کر دیا کرو
ہر وقت اس کے پیچھے پڑی رہتی ہو ۔ہارون نے تحمل سے کہا ۔۔
اچھا میں کیا سوچ رہا تھا ۔
آج تم بہت پیاری لگ رہی ہو کیوں نہ ہم آج گھر ہی رہ لے میں تمہں بتاو گا تم کتنی خوبصورت ہو
۔ہارون نے بہکے ہوے انداز سے کہا ۔۔
شرم کر لے ہارون کچھ تین بچوں کے باپ بن گے لیکن ابھی بھی بے شرم ہے آپ
۔روحا ہارون کی بات کا مطلب سمجھ کر سرخ چہرہ لے بولی ۔۔
ہاہاہاہہاہاا پنک روز پہلے بھی کہا تھا مجھے شرم نہیں آتی ۔ہارون نے روحا کے لبوں پر جھکتے ہوے کہا
۔جب اچانک جنت نے آواز دی ۔
بابا آپ اگے ۔
نو سالہ جنت کندھے سے نیچے جاتے کالے گہرے بال انکھوں پر چشما لگاے کالی گہری انکھوں میں شرارت لے بھاگی ہوی ہارون کے پاس آی اور اس کے گلے لگ گی ۔۔
کیسی ہے بابا کی جان
ہارون نے جنت کو پیار کرتے ہوے پوچھا ۔
میں ٹھیک بابا آپ کیسے ہے
۔جنت نے سمجھداری سے پوچھا ۔۔
آپ کے بابا بھی ٹھیک ہارون نے جنت کا چشما اتارتے ہوے کہا ۔۔
چلو شروع ہو گیا دونوں باپ بیٹی کا پیار میرے لیے روحان اور روحاب ہی اچھے ہے ان کے پاس جا رہی میں روحا نے روٹھے پن سے کہا ۔
جنت بیٹا جاو دیکھو
تمہارے بھای بہن کیا کر رہے ہے ۔
ہارون نے جلدی سے جنت کو کمرے سے بھیجا ۔
جی بابا ۔
۔جنت کہتی بھاگ گی تھی ۔۔
پنک روز میری جان کہاں جا رہی ہو
۔ہارون بے جلدی سے روحا کو اپنے حصار میں لیتے پوچھا جو خود بھی کمرے سے جا رہی تھی ۔۔
روحان اور روحاب کو دیکھنے جا رہی تھی ۔۔
روحا نے روٹھے پن سے کہا ۔۔
یار کنتی دفعہ کہا ہے روحان سے دور رہا کرو مجھے جلیسی ہوتی ہے روحان سے جب تم اس سے پیار کرتی ہو ۔
ہارون نے روحا کے گال چومتے ہوے کہا ۔
ہارون بیٹا ہے وہ ہم دونوں کا روحا نے حیرت سے منہ کھولے کہا ۔۔
تبھی چھوڑ دیتا ہو میں وہ ہمارا بیٹا ہے ۔
ورنہ میں اسے تم سے دور ہاسٹل چھوڑ آتا ۔
۔تم صرف میری ہو پنک روز میری عاشقی بس ۔
۔ تہمارے آس پاس صرف مجھے ہونا چاہے نہ کہ روحان کو ۔
ہارون نے جنونی انداز سے کہا ۔
ہارون بس کردے بچے ہے ہمارے اور آپ
۔روحا نے صدمے سے بولی ۔
ہارون پھر بہکے ہوے انداز سے جھک رہا تھا جب روحا نے رک دیا ۔۔
ہارون کبھی جو آپ کا رومینس کم ہو جایا کرے میں آپ کے سامنے آتی ہی نہیں
نہ آو گی نہ ہی آپ کو رومینس کا دورہ پڑے گا ۔۔
روحا گھبرای شرمای کہتی کمرے سے بھاگ گی ۔۔
ہاہاہا ہاہا۔
آج بھی میری پنک روز شرماتی ہے مجھے سے ہاے میری معصوم سی پنک روز تمہارے بنا میں کچھ نہیں ہو ۔
ہارون نے ہستے ہوے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے بیڈ پر گرتے ہوے کہا ۔۔
روحا 7 سالہ روحان روحاب کو دیکھنے چلی گی تھی جو کھلینے میں مصروف تھے ۔۔
(زینہ کی پیدائش سے ایک ماہ بعد روحا نے روحان اور روحاب کو جنم دیا ۔۔
روحان روحاب سے 5منٹ بڑا تھا
۔دونوں ہی بہت خوبصورت تھے ۔روحان بالکل روحا جیسا تھا ڈارک براٶن آنکھیں ڈارک براٶن بال روحاب بھی بالکل روحان جیسی تھی
۔وہ دونوں سنجیدہ طیبعت کے مالک تھے ۔
روحا ہارون اپنی زندگی میں اپنے بچوں کے ساتھ بے حد خوش تھے ۔۔).
————————————————————
عمارہ تیار کر دیا بچوں کو
اسامہ نے کمرے میں اتے ہوے پوچھا ۔
جی کر دیا ہے ۔
تحمل سے جواب دیا ۔۔
ویسے عمارہ امار بالکل زیان کی کاربن کاپی ہے یار اس کی طرح سنجیدہ ہی رہتا ہے
۔مسکراتا بھی نہیں ہے ۔
ابھی صرف چھ سال کا ہے
اور میں حیران ہو اس کا سنجیدہ پن دیکھ کر ۔
کسی 60سال کے بابے جیسا ہے ۔
اسامہ نے پریشان ہوتے کہا ۔۔
امار زیادہ زیان بھای کے پاس رہ ہے اس لیے ۔
عمارہ نے محبت سے زیان کا ذکر کیا ۔۔
تبھی یہ ایسا ہے کنتی دفعہ کہتاتھا اس سنجیدہ انسان کو دیکھ کر مجھے دورے پڑتے ہے سنجیدہ ہونے کے
ہاے اب میرا بیٹا ایسا ہو گیا ۔۔
اسامہ نے پریشانی سے کہا ۔۔
زیان لالہ بہت اچھے ہے ہر وقت نہ پیچھے پڑ جایا کرے میرے لالہ کے عمارہ نے روٹھے پن سے کہا ۔
ارے ۔۔
اس سے پہلے اسامہ کچھ کہتا جب کمرے میں چھ سالہ اریج نے آتے پکارہ ۔
ارے میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے ۔
سامہ نے مسکراتے ہوے اریج کو پیار کرتے کہا ۔
اریج اسامہ کی بالکل کاربن کاپی تھی ۔ آنکھیں عمارہ جیسی تھی گرے
ہم کب جا رہے ہے مجھ سے ویٹ نہیں ہوتا ۔
زینہ ویٹ کر رہی ہو گی
۔اریج نے بے تابی سے کہا ۔۔
لو پڑ گیا اسے دورہ زینہ کے پاس جانے کا ۔۔
8سالہ آذان نے کمرے میں داخل ہوتے کہا ۔۔
آذان بالکل عمارہ جیسا تھا گرے آنکھوں پر عادیتں اسامہ پر چلی گی تھی ۔۔
اس کی طرح ہنسی مذاق کرنے میں مصروف رہنا اس کا مشغلا تھا۔۔۔
عمارہ نے دو جڑواں بچوں جنم دیا ۔امار اور اریج ۔اریج امار سے بڑی تھی ۔
امار بالکل زیان تھا کوی بھی دیکھ لیتا وہ امار کو زیان کا ہی بیٹا سمجھتا
امار کا زیادہ وقت زیان کے ساتھ ہی گزرتا تھا
زینہ گڑی میں نے کتنی بار کا اس چشمیش سے دور رہا کرو
امار نے زینہ نے ذکر پر غصے سے کہا
اف لالہ بس کردیا کرے ہر وقت میری بیسٹ فرینڈ کے پیچھے نہ پڑجایا کرے
اریج نے نروٹھے پن سے کہا
چلو تنیوں باہر ہم آتے ہے
اسامہ نے سنجیدگی سے کہا
اور تینوں چلے گے
بڑا اتنا شرارتی اور چھوٹے کو دورہ پرا رہتا خاموشی کا
اسامہ نے افسوس سے سوچا
اسامہ امارہ اپنے تینوں بچوں ساتھ بہت خوش تھے ان کی جان بستی تھی اپنے بچوں میں
————————————————————
برہان اپنی ان دونوں نمونیوں کو پکڑ لے کتنی مشکل سے تیار کیا ہے اب مجھے ہونے دے تیار۔
پری نے غصے سے کہا ۔
اف یار پری جان تم غصہ مت کیا کرو تمہارے یہ لال ٹماٹر جیسے گال دیکھ کر میں بے قابو ہو جاتا ہو ۔۔
برہان نے پری کو اپنے حصار میں لیتے ہوے کہا ۔۔
کچھ شرم کر لے تین بچوں کے باپ بن گے ہے ۔
پری نے برہان کو شرم دالانی چاہی ۔ ۔
ابھی سات اور رہتے ہے ۔
برہان نے بے شرمی سے کہا۔۔
بس کر دے بے شرمی میں تو کورس کیا ہے آپ نے ۔
پری نے غصے سے کہا اور تیار ہونے چلی تھی ۔۔
بابا کی جان مت تنگ کیا کرو ماما کو ۔
برہان نے 8سالہ پلوشہ اور 5 سالہ دانین کو پیار کرتے ہوے کہا ۔۔
پلوشہ بالکل روحا جیسی تھی
۔معصوم ڈری سمی سی
۔لیکن دانین بالکل ہانی جیسی تھی
۔شرارتی ہنسی مذاق کرنے والی ۔
8سالہ بلاج بھی بالکل ہانی جیسا شرارتی اور باتونی تھا
جلدی چلتے ہے زینہ ویٹ کر رہی ہوگی دانین اور بلاج نے ایک ساتھ کہا
برہان ان کی بات کا جواب دیے بنا خود تیار ہونے چلا گیا
پری برہان اپنی ملکل زندگی یں بہت خوش تھے۔۔
————————————————————
بابر آپ تیار ہو جاے تب تک میں بچوں کو تیار کر دو ۔
علیزے نے کام میں مصروف ہوتے کہا ۔
یار ابھی پرسوں آیا ہو میں
اور آج ہانی کے گھر جاکر تم آج رات خراب کر رہی ہو
۔تمہں پتہ ہے نہ میں نے پھر پرسوں چلے جانا ہے ۔
بابر نے علیزے کو اپنے حصار میں لیتے ہوے کہا ۔۔
پیچھے ہو جاے بابر بچوں کو تیار کرنا ہے پہلے ہی لیٹ ہو گے ۔
ہانی نے سب کے لیے پارٹی ارینچ کی ہے ۔
چلے تیار ہو جاے
۔علیزے نے بابر سے اپنا آپ چھرواتے ہوے کہا ۔
یہ سبحان کہاں ہے
۔بابر نے سبحان کو تلاش کرتے پوچھا ۔۔
ادھر ہی ہو گا
۔۔ علیزے نے حجاب کو تیار کرتے ہوے کہا ۔
5سالہ سبحان بابر کی فوجی کیپ پہن کر کھڑا تھا ۔
میرا بیٹا کتنا پیارا لگ رہا ہے ۔
بابر نے پیار کرتے ہوے کہا ۔۔
اس کو ابھی سے شوق ہو گیا آرمی میں جانے کا
لیکن میں اسے آرمی نہیں جانے دو گی
۔میں نہیں چاہتی جو سب میں نے برداشت کیا وہ اگے اس کی بیوی برداشت کرے
۔میں ہرگز اپنے بیٹے کو آرمی میں جانے نہیں دو گی ۔علیزے نے دکھی ہوتے کہا
۔اور چلی گی ۔
آپ بے فکر رہو سبحان بابا ہے نہ
وہ ماما کو سمجھا دے گے
۔بابر نے سبحان کو پیار کرتے ہوے کہا ۔
سبحان بالکل علیزے جیسا تھا
لیکن سوچ اس کی ابھی سے سمجھداروں جیسی تھی
آخر فوجی کا بیٹا جو ہوا![]()
———————————————————–
او میری چھوٹی چشمش کتنی پیاری لگ رہی ہے ۔
زیان نے 7سالہ زینہ کو پیار کرتے ہوے کہا ۔
کندھے سے کافی نیچھے جاتے کالے بال زیان جیسی انکھیں اور آنکھوں پر لگا چشما
زینہ بالکل زیان جیسی تھی
لیکن حیرکیتں بالکل ہانی جیسی شرارتی تھی ۔۔
ماما کہاں ہے آپ کی زیان نے زینہ سے پوچھا ۔
ماما تیار ہو رہی ہے
۔چلو اب نیچھے جاو
دیکھو پھوپھو آگی ہے ۔
اذان امار اریج کے پاس جاو ۔
زیان نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔
سچی بابا اریج آ گی میں ابھی جاتی ہو
لیکن وہ سنجیدہ انسان کیوں آیا مجھے ذرا پسند نہیں ہے ۔
زینہ نے اپنی چھوٹی سے ناک چڑاتے ہوے کہا ۔
ایسا نہیں کہتے بھای ہے وہ آپ ک
ا ۔ہرگز نہیں وہ میرا بھای نہیں
جسے بات کرنے کا پتہ نہ ہو ۔
اذان بھای میرے بھای ہے کتنے اچھے سے بات کرتے ہے
میں جارہی اس کے پاس
زینہ خوشی سے چلی گی ۔
بالکل ماں جیسی ہے جو دل میں ہوتا صاف کہہ دیتی ہے یہ بھی نہیں سوچتی سامنے والے کے دل پر کیسی گزرتی ہے ۔زیان نے افسوس سے سوچا ۔
میری چشمیش تیار ہے
زیان نے ہانی کو اپنے حصار میں لیتے پوچھا
جی بالکل تحمل سے جواب دیا گیا
آج بھی پہلے سے زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو
زیان نے ہانی کے بالوں کو چھوتے ہوے کہا
تھینک یو
ہانی نے خوشی سے جواب دیا
ویسے زیان سب کے کتنے بچے ہوگے
ہماری بس ایک ہی ۔
ہانی نے افسودگی سے کہا
ہماری ایک ہی ہماری پوری دنیا ہے
زیان نے مسکراتے ہوے کہا
ڈاکٹر نے کہا تو تھا میں اب بالکل ٹھیک ہو
پھر بھی اپ نے میری نہ سنی
زیان ایک بیٹا ہی ہو جاتا کم سے کم بیٹی کے جانے کے بعد دونوں کو کسی کا اسراہ تو ہوتا
ہانی نے دکھی ہوتے کہا
میرے لیے تم سے بھر کر کچھ نہیں تم ٹھیک یہ کافی ہے تم میرے سامنے ہو میں روز رب کا شکر ادا کرتا ہو
دوبارہ رسک نہیں لے سکتا میں
اور ہماری بیٹی کہیں نہیں جاے گی
اور ہمارہ بیٹا امار ہے نہ بس تم کچھ نہ سوچو
زیان نے سنجیدگی سے کہا
امار ہمارا ہی بیٹا مجھے بہت عزیز ہے وہ ہانی نے خوشی سے کہا
زیان اپ کی محبت آج تک بھی کم نہیں ہوی
ہانی نے مسکراتے ہوے پوچھا
یہ تو کبھی کم نہیں ہوگی بلکہ بڑھتی جاے گی جس کے پاس تم جیسی بیوی ہوگی اس کی محبت کم نہیں ہوگی
زیان نے مسکراکر کہا
زیان ہانی اپنی چھوٹی سی دنیا میں بے حد خوش تھے
————————————————————
سب ہی آچکے تھے ۔
اپنے بچوں کے ساتھ پانچوں کپل بہت خوبصورت لگ رہے تھے ۔
ان کی زندگی مکمل ہو چکی تھی ۔۔
اپنے بچوں کے ساتھ مکمل خوش تھے
لیکن ان سات سالوں میں ان کی محبت کم نہیں ہوی بلکہ بڑھتی چلی گی ۔۔
وہ سب ایک دوسرے سے عاشقی کرتے تھے ۔
ان کا ایک دوسرے کے بغیر کوی وجود نہ تھا ۔۔
————————————————————“![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
ہم تیرے بن اب رہ نہیں سکتے تیرے بنا کیا وجود میرا
تجھ سے جدا اگر ہم ہو جاے گے تو خود سے ہی ہوجاے گے جدا ۔
کیونکہ تم ہی ہو
اب تم ہی ہو
زندگی اب تم ہی ہو ۔
چین بھی میرا درد بھی
میری عاشقی اب تم ہی ہو ۔
تیرے لیے ہی جیا میں خود کو یوں دے دیا ۔
تیری وفا نے مجھ کو سنھبالا
سارے غموں کو دل سے نکالا
۔تیرا ساتھ ہے میرا نصیب جوڑا
مجھ میں ادھورہ میں رہ گیا ۔۔
تم ہی ہو اب تم ہی زندگی اب تم ہی ہو ۔
چین میرا میرا درد بھی
میری عاشقی اب تم ہی ہو ۔۔۔![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
)..
————————–
دانین جنت آپو پلوشہ آپو آپ کتنی پیاری لگ رہی ہے روحاب تم تو پری لگ رہی بالکل آنی جیسی
حجاب آپ بھی کیٶٹ لگ رہی اریج کے سوا سب پیارے لگ رہے
زینہ نے خوشی سے کہا
تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو پرنسیس
ان س نے خوشی سے کہا
یار زینی تم جلتی ہو مجھ سے تبھی ایسی بکواس کرتی ہو اریج نے مسکراتے ہوے کہا
زینی نے دن اتنے برے نہیں جو چڑیلوں سے جل جاے
تحمل سے جواب دیا گیا
چلو شروع ہوگیا ڈرامہ ان کا دانین نے افسوس سے کہا
زینہ اریج ایسے ہی لڑتی تھی لیکن ان دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر ہرگز گزارا نہ تھا
—————————–
وہ ڈرامہ شروع ہوگیا زینی اور ارو کا
اذان نے قہقہ لگاتے ہوے کہا
یار زینی کتنی کیوٹ لگ رہی
بلاج نے خوش ہوتے کہا
کھبی تو شرم کر لیا کرو بلاج
امار نے شرم دلانی چاہی
تمہں کتنی بار کہا سب کو بھای کہا کرو سمجھ نہیں اتی کیا
زینہ نے امار کو غصے سے کہا
زینہ کی آواز پر امار حیران ہوگیا اچانک کہا سے اگی
بھای ہوگے یہ سب تمہارے میرے نہیں میں سگے کو بھی بہیں نہیں کہتا مجھے کہنا پسند نہیں
تحمل سے جواب دیا گیا
لڑو اب دونوں ہم چلتے ہے سبحان نے افسوس سے کہا
چلو روحاب چلتے ہے اذان نے مسکراتے ہوے کہا
اور روحاب کو ساتھ لے گیا
زینہ اور امار لڑنے میں مصروف ہوگے
————————-
یہ دونوں نہیں سدھرے گے ہانی زیان نے افسوس سے سوچا
ختم شدہ
