Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 24)

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

کون تھی وہ لڑکی بابر

سوری آپ تو فرحان ہے نہ ۔۔

علیزے نے غصہ کرتے ہوے کہا ۔۔

میری بات ۔۔۔

آپ مجھے بھای کے گھر چھوڑ کر آے مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ ۔۔

علیزے نے غصہ سے بولتے ہوے بابر کی بات کاٹی ۔۔

ہاہاہا ۔

۔میری جان میری پھٹانی

۔بابر نے اپنی ہنسی روکتے علیزے کو کمر سے پکڑتے ہوے کہا ۔۔

جو غصہ کی وجہ سے لال ٹماٹر ہو رہی تھی۔۔

(آج بابر نے پلان بنایا تھا کہ وہ علیزے اور حجاب کے ساتھ ڈنر کرے گا کیونکہ اگلی صبح اس نے ایک مشن کے لیے جانا تھا ۔۔

لیکن ریسٹوڑنٹ میں لڑکی نے سارا موڈ خراب کر دیا تھا ۔۔ جو بابر کو فرحان کہہ رہی تھی ۔

وجہ وہ بابر کے پاس آ کر باتیں کرنے لگی ۔۔

بابر کو مجبورًا اس کا ساتھ دینا پڑا جس کی وجہ سے علیزے کا موڈ خراب ہوا اب وہ غصہ کر رہی تھی ۔۔).

آپ نے مجھے دھوکا دیا آپ میرے بابر نہیں ہے

۔میں آپ سے ۔۔

علیزے جو بابر کا کالر پکڑتے ہوے غصہ سے چلا رہی تھی اچانک بابر نے اپنے لب علیزے کے لبوں پر رکھ کر بولتی بند کر دی ۔۔

اف لڑکی کتنا بولتی ہو تم

۔۔میری تو سن لو ۔

بابر نے کافی دیر بعد علیزے کو آزاد کرتے ہوے کہا ۔۔

علیزے شرم کے مارے سر جھکا کر کھڑی تھی ۔۔

تہمں پتہ میں ایک فوجی ہو

۔میشن کے لیے مجھے روپ بدلنے پڑتے ہے

۔وہ لڑکی مافیا گنگ کا حصہ تھی ۔

۔میرا مقصد اس کے گنگ تک پہچنا تھا ۔

۔تبھی وہ مجھے فرحان کہہ رہی تھی ۔۔

بابر نے علیزے کو بیڈ پر لٹاتے ہوے بتایا ۔۔

علیزے بابر کی بات سن کر شرمندہ ہو گی وہ کیسے بھول جاتی ہے اس کا شوہر ایک فوجی ہے ۔۔

بابر میں

۔۔خاموش میری جان مجھے آج رات تمہاری محبت محسوس کرنے دو ویسے بھی مشن کے لیے صبح جانا پھر یہ ٹائم اے یا نہیں ۔۔

بابر نے اسے چپ کرواتے اپنے لب علیزے کی گردن پر رکھتے کہا ۔۔

علیزے بھی اب خاموشی سے بابر کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔

————————————————————

اف اسامہ آج تو تم گے ۔

اسامہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا سناٹا محسوس کرتے خود کلام ہوا ۔۔۔

کمرے میں داخل ہوتے دیکھا تو عمارہ کو بیڈ پر لیٹے پایا ۔۔

اسامہ کپڑے چینچ کیے بنا

عمارہ کو اپنے حصار میں لیتا لیٹ گیا ۔۔

دور ہٹھے آپ برے ہے اسامہ میں بات نہیں کرتی

۔۔عمارہ جو خود اسامہ کے لمس کی عادی تھی تبھی جاگ رہی تھی تبھی اپنی کمر پر اسامہ کے ہاتھ کا لمس پاتے ہی روٹھے پن سے کہا ۔۔۔

سوری میری جان میٹنگ اتنی ضروری تھی

۔ختم ہوتے ہوتے رات کا 1 بج گیا ۔۔

اسامہ نے اس کا رخ اپنی طرف کرتے معصومیت سے کہا ۔۔

میں نے لالہ کے گھر جانا تھا آپ کو بتایا بھی تھا ۔

۔ عمارہ کو اچھا نہیں لگا اسامہ کا شرمندہ ہونا تبھی جلدی مان گی ۔

۔(عمارہ نے صبح اسامہ کو بتایا تھا ۔۔اس نے زیان کی طرف جانا ہے تبھی تیار وہ اسامہ کے واپس آنے کا ویٹ کرتی اب تھک کر لیٹ گی تھی ۔).

اس سنجیدہ انسان کے پاس کیوں جانا تھا اب اس کی بیوی آ گی ہے تم مجھ پر توجہ دیا کرو ۔۔

اب بتاو میری بیٹی کب آے گی ۔۔

اسامہ نے عمارہ کی گردن پر لب رکھتے ہوے پوچھا ۔۔۔

اسامہ لالہ سہی کہتے ہے آپ ٹھرکی ہے میں کیا کہہ رہی آپ کیا بول رہے ہے ۔۔

عمارہ غصہ اور حیرت سے بولی ۔۔

اف جان اس انسان کا ذکر مت کیا کرو مجھے سنجیدہ پن کے دورے پڑ جاتے ہے ۔

مجھے ٹائم دو شوہر ہو تمھارا میں ۔۔

اسامہ نے اس کی تھوڑی چومتے ہوے کہا ۔۔

اسامہ میری بات سنے ۔۔

عمارہ نے اسامہ کو اپنی طرف متوجہ کروایا جو اپنے کام میں مصروف تھا ۔

ہممم ۔۔

۔اسامہ یہ بولتے ہوے دوبارہ عمارہ پر جھک گیا ۔۔

آپ میری پہلی نظر کی محبت ہے

اگر ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہے تو صرف ہارون بھای اور روحا بھابی کی وجہ سے نہیں تو کبھی بھی لالہ ہمیں معاف نہیں کرتے ۔۔

مجھے ان کی یاد بھی آرہی ہے

عمارہ کے بات کرتے وقت آنسو آ گے تھے ۔۔

واقعی اس کھڑوس انسان نے مجھ پر احسان کیا

اگر وہ میرا نکاح نہ کرواتا تو کبھی ہم ایک نہ ہوتے ۔

۔اب دیکھو اس کھڑوس انسان کو روحا بھابی ملی جس کی وجہ سے اب یہ ہستا مسکراتا ہے ورنہ بچپن سے میں نے بس اسے کھڑوس اور محبت کے لیے ترسا ہوا دیکھا ہے ۔۔

یہ اتنا کھڑوس تھا ہم بات کرتے بھی ڈرتے تھے ہارون سے اسامہ نے ہستے ہوے بتایا ۔۔

روحا بھابی کتنی معصوم ہے مجھے پہلی نظر میں پیاری لگی انہوں نے میرے لالہ کو معاف کر دیا جبکہ وہ جانتی تھی لالہ نے ہانی کے ساتھ کتنا برا کیا ۔۔

عمارہ نے بھی مسکراتے ہوے روحا کا ذکر کیا ۔۔

اور۔۔

۔ بس مجھے اب بیٹی چاہے

۔برہان کو دیکھ لو اس نے ترقی کی ہے

اسامہ نے یہ کہتے ہی عمارہ کی بولتی بند کر دی

۔۔عمارہ نے بھی کوئ مزاحمت نہیں کی ۔۔

————————————————————

“جانِ برہان ۔۔

کہاں ہو یار ۔

برہان نے کمرے میں آتے پری کو آواز دی

۔جو کمرے میں نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔

یار وہ میری کولیگ تھی اور کچھ نہیں اگر میں اتنا خوبخوبصورت ہو میرا کوئ قصور نہیں ۔

برہان نے کمرے کی ایک طرف پری کو چپھتے دیکھ شرارتی انداز سے کہا ۔۔

پرییییییی آہہہہہہہہ۔۔۔

برہان نے جیسے ہی پری کے پاس جا کر مخاطب کرنا چاہا اچانک اپنے منہ پر مکا کھایا ۔۔

یہ کیا تھا

پری شرم نہیں آی اپنے شوہر کو مارتے ہوے ۔

برہان نے سامنے لال غصہ سے چہرہ لیے پری کو دیکھ کر پوچھا ۔۔

ہاں اگر شوہر ٹھرکی ہو تو مارنا بنتا ہے

۔پری نے دوسرا مکا بناتے ہوے کہا ۔۔

کیا اتنا معصوم شوہر ہو تمھارا ۔

وہ کولیگ تھی ڈیل کی بات پوچھ رہی تھی جب تم نے ہم دونوں کو قریب کھڑے دیکھ لیا ۔۔

برہان نے پری کو اپنی طرف کیھنچتے ہوے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ میں قید کیے کہا ۔۔

کیا معصوم غلط فمہی ہے آپ کی اور ہانی روحا کی یہ تو مجھے پتہ آپ کتنے بے شرم ہے ۔۔

پری نے ہستے ہوے کہا ۔۔

(برہان کے لمس پر ہمیشہ پری کا غصہ جاگ کی طرح بیٹھ جاتا تھا ۔

۔کیونکہ پری کو بے حد محبت تھی برہان سے ).

بے شرمی تو کی ہی نہیں میں نے ابھی ۔

برہان نے انکھ ونک کرتے کہا ۔۔

چلے ہٹے کتنی زور سے مار دیا میں نے مجھے نہیں پسند آپ کے پاس کو ی بھی قریب آے میرے سوا مانا کہ میں بڑی ہ۔۔۔۔

پری برہان کی انکھ کو چوتی ہوی افسودگی کہہ رہی تھی جو سرخ ہو چکی تھی ۔۔

جب برہان نے اچانک پری کی بولتی بند کروا دی ۔۔

کتنی دفعہ کہاہے تم بڑی نہیں ہو

۔برہان نے پری کے لبوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوے کہا ۔

برہان میں ۔۔

چپ اب مجھے ٹرپل بچے چاہے ۔۔

برہان پری پر حاوی ہوتے اپنی کہہ رہا تھا ۔۔

ساری رات برہان اپنے لمس سے پری کو سکون دیتا رہا ۔۔

————————————————————

“HEY sweet heart stop it!!!!!

میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں برداشت کر سکتا کہ میری جان میری پنک روز اپنی آنکھوں پر ظلم ڈھاے ۔

ہارون نے روحا کی آنکھوں کو چومتا ہوا بولا ۔۔

ہارون جیسے ہی کمرے میں آیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا تھا اس کی پنک روز رو رہی ہے ۔۔

تبھی گھبرا کر پاس آتے ہوے بولا ۔۔

ہارون جنت جنت

۔۔روحا نے ہچکیوں سے روتے ہوے کہا

۔۔کیا ہوا جنت کو ہارون نے روحا کے ہاتھوں میں روتی ہوی جنت کو لیتے ہوے پوچھا

جو مسلسل رو رہی تھی ۔۔

جنت چپ نہیں کر کر رہی ہارون میں کیسے چپ کرواں ۔۔

روحا نے روتے ہوے کہا ۔۔

اف میری جان اس میں رونے والی کیا بات ہوی بچی ہے چپ ہو جاے گی

رکو ابھی چپ کرواتا ہو

۔۔ہارون نے روحا اور جنت کو اپنے سینے سے لگاتے ہوے کہا ۔۔

“ہارون۔۔

روحا کافی دیر سے ہارون کو دیکھنے میں مشغول تھی ۔جو اب جنت کو چپ کروا کر کوڈ میں سوتی جنت کو لٹا رہا تھا ۔۔

تبھی روحا نے محبت سے پکارہ ۔

جی میرہ جان میری پنک روز ۔کیا ہوا ۔۔

ہارون نے خوش ہوتے ہوے روحا کو کمر سے پکڑتے ہوے کہا ۔۔

آپ بہت اچھے ہے ہارون خاص کر آپ کی یہ آنکھیں جو اکثر مجھے متوجہ کرتی ہے ۔۔

پتہ کچھ عرصہ سے مجھے ایک خواب آتا تھا شادی والا اس میں یہ کالی گہری آنکھیں دیکھی تھی

۔۔روحا نے ہارون کی دونوں آنکھوں کو چومتے ہوے بتایا ۔۔(روحا جب بھی ہارون کی آنکھوں میں دیکھتی تھی خود کو ڈوبتا محسوس کرتی تھی ان آنکھوں میں ).

ہاہاہاہا میری پنک روز رومینس کر رہی ہے ۔

تم اچھی ہو تبھی میں اچھا یار پوری زندگی محبت کے لیے ترسا ہو شکریہ میری جان میری زندگی میں آی اور مجھے مکمل کر دیا تم نے

۔۔ہارون نے خوش ہوتے روحا کے گال چومتے ہوے کہا ۔۔

مجھے نہیں پتہ اس خواب کا کیا مقصد ہے مجھے خود آرہا ایسا شادی والا خواب جب سے پاکستان آیا ہو لیکن اتنا پتہ ہے شاہد اللہ نے میری قسمیت میں تمہارا آنا لکھا تھا میری جان ۔۔

ہارون نے محبت سے جواب دیا ۔۔

چلو باقی رومینس بعد میں چنیچ کر کے آیا ۔۔۔

ہارون نے روحا کو چھوڑتے ہوے کہا ۔۔

ہاہاہا واقعی بے شرم ہے ۔۔

روحا ہارون کی جلد بازی دیکھ کر ہستے ہوے کہا ۔۔

————————————————————

ہارون جیسے ہی واش روم سے آیا سامنے کا منظر دیکھ کر حیران رہ گیا ۔۔

روحا بلیک کلر کی نائٹی پہنے دوسری طرف منہ کر کے کھڑی تھی ۔۔

نائٹی پیچھے سے بیک لیس تھی ۔جس کی وجہ سے اسکی دوھیا کمر ہارون کے سامنے تھی ۔۔

باقی کی کسر اس کے جوڑے نے پوری کر دی تھی ۔

جس سے روحا کی صاف شفاف خوبصورت گردن نظر آ رہی تھی ۔۔

ہارون خان اسے اس طرح دیکھ کر ہی فیریز ہو گیا تھا ۔۔

کہ کوئ اتنا خوبصورت ہو سکتا ہے جتنی وہ تھی ۔۔۔

وہ ہوش میں آتا اسے پیچھے سے ہگ کر لیا

۔اور اس کے پاس آتا اپنے دونوں ہاتھ اسکے پیٹ پر رکھ کر اسکی کمر کو اپنے ہونیٹوں سے چومنے لگا ۔۔

روحا ڈری ہارون کو پیچھے کرنے لگی ۔

۔ہٹے ہارون میں ناراض ہو ۔

روحا نے روٹھے پن سے کہا ۔۔

میں منا لو گا ۔۔۔

ہارون اس کی کمر کو شدت سے چومتا ہوا گردن کے پیچھلے حصے کو چومنے لگا

۔پھر روحا کا رخ اپنی طرف کرتا اسے اپنے نزدیک کرتے جواب دیا ۔۔

ہارون آپ میرے سارے کپڑے چپھا دیتے ہے مجھے پھر فصول سے نائٹی پہنی پڑتی ہے ۔

روحا نے جب دیکھا ہارون اس کی بات پر توجہ نہیں دے رہا تبھی تھوڑا دور جاتے ہوے بولی ۔۔

میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہے میں تمہارا لباس ہو ۔

اب خاموش رہو

۔مجھے اپنا کام کرنے دو ۔

ہارون اس کی گردن چومتا ہوا شہہ رگ پر دانتوں سے کاٹا اور اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوے کہا ۔۔

تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو

۔سوہیٹ ہارٹ دل کر رہا تہمں کھا جاٶں

۔اپنے سینے میں چھپالو میرے علاوہ تہمں کوی اور نہ دیکھے ۔۔

ہارون روحا کو بیڈ پر لٹاتے ہوے جنونی انداز میں کہہ رہا تھا ۔

۔روحا کی دل کی ڈھرکن تیز ہو رہی تھی ۔۔

روحا خاموش رہی ۔۔

آج تمہارے ہونٹوں اور تمہاری خیر نہیں پنک روز ۔۔

یہ کہتے ہی ہارون نے روحا کے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لیتا شدت سے چومنے لگا ۔۔

روحا نے بھی اپنی مزاحمت کرنا چھوڑ دی تھی ۔۔

————————————————————

“تین ماہ بعد۔۔۔۔۔

آپو میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے کافی دن ہو گے ہے میں نے زیان کو بھی ڈر کی وجہ سے نہیں بتایا

۔۔وہ پریشان ہو جاتے آجکل ان کی ڈیوٹی بھی سخت ہے آپ تیار ہو جاے ہم ہاسپیٹل چلتے ہے

۔۔ہانی نے پریشان ہوتے کہا ۔۔

طبیعت تو میری بھی ٹھیک نہیں ہے چلو چلتے ہے میں تیار ہو تم آ جاو ۔۔

روحا نے جنت کو سلاتے ہوے کہا ۔۔

————————————————————

کیییییییاا سچ کہہ رہی آپ ۔

ہانی نے چہکتے ہوے پوچھا ۔۔

جی بالکل آپ ماں بنے والی ہے

ڈاکٹر نے ہانی کے چہرے پر ہنسی دیکھ کر مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

او ایم ہیپی

ہانی نے اچھلتے ہوے خوشی سے کہا ۔۔

اف پاگل لڑکی آرام سے ایسے کودنا اچھلنا اب بند کر دو ۔روحا نے ہانی کو غصہ کرتے ہوے کہا ۔۔

آپو میں بہت خوش ہو ہانی نے روحا سے گلے ملتے ہوے کہا ۔۔

مبارک ہو میری جان میری بےبی گرل اب تمہارا بھی بے بی ہو گا ۔

۔روحا نے ہانی کا ماتھا چومتے ہوے کہا ۔۔

مجھے بہت خوشی ہوی ہے میں بھی خالہ بنے والی ہو روحا نے خوش ہوتے کہا ۔۔

مسز ہارون

۔آپ کو تو ڈبل خوشی ملی ہے

۔ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا ۔

وہ کیسے ۔روحا نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔

آپ بھی ماں بنے والی ہے مسز ہارون ۔

ڈاکٹر کی بات پر ہانی روحا دونوں دنگ رہ گی ۔۔

ہاے میں صدقے میں واری اب میرا بھانجا آے گا ۔

۔ہانی نے پھر اچھلتےہوے کہا ۔۔

روحا صدمے میں کھڑی تھی

۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کہہ۔۔

آپووووو۔۔

ہانی نے روحا کو ہلاتے ہوے کہا ۔۔

آپو مبارک ہو ہانی نے گلے ملتے ہوے کہا

۔ہانی کی بات پر روحا ہوش میں آی ۔

اور خوشی سے دونوں کی انکھوں میں آنسو آگے (دونوں بہت خوش تھی

۔روحا نے ہانی کے ساتھ ہی چیک اپ کروایا تھا ۔۔

اب دونوں نے پلان بنایا تھا وہ سرپرائز دے گی اپنے ہسبینڈز کو ).

————————————————————

پنک روز پنک روز ۔۔

کہاں ہو یار اچھے سے پتہ ہے گھر آ کر جب تک تہمں نہ دیکھ لو مجھے سکون نہیں ملتا۔۔

ہارون نے روحا کو تلاش کرتے ہوے پریشانی سے کہا ۔۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی ہارون حیران پریشان ہو گا ۔۔کمرے کی سجاوٹ دیکھ کر ۔۔

یہ آج خیر تو ہے جو اتنا اہتمام کیا گیا ہے ۔

ہارون نے ناسمجھی سے سوچا

پنک روز کہاں ہو یار ۔۔

ہارون نے روحا کو آواز لگای ۔۔

اپنے سامنے روحا کو دیکھ کر ہارون کے چودہ طبق روشن ہو گے

۔۔روحا ریڈ بلیک ساڑھی میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔

ہارون

۔۔روحا نے ہارون کو ہلاتے ہوے پکارہ ۔۔

روحا کے پکارنے پر ہارون ہوش میں آیا ۔۔

یہ سب کیا ہے پنک روز

۔ہارون نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔

“HAPPY Marriage 2Nd Aniversary Haroon “💖💖💖

روحا نے ہارون کے ہاتھوں پر لب رکھتے ہوے کہا ۔۔

ہارون تو حیران رہ گیا ۔۔

تمیں یاد تھا پنک روز ۔۔

ہارون نے حیرانی سے پوچھا ۔۔

جی میں یہ دن بھول کیسے سکتی ہو روحا نے ہارون کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوے مسکرا کر کہا ۔۔

پنک روز میں نے پلان کیا تھا اتنا کچھ

لیکن تمہاری تیاری اور سرپیرئز تو بہت خوبصورت ہے ۔

ہارون نے روحا کے ماتھے پر لب رکھتے ہوے کہا ۔۔

تہمں بھی شادی کی دوسری سالگرہ مبارک

ہارون نے روحا کو ڈائمنڈ رنگ پہناتے ہوے کہا ۔۔

بہت خوبصورت ہے یہ

روحا نے خوشی سے کہا ۔۔

لیکن تم سے کم ۔

ہارون نے روحا کے دونوں گالوں پر لب رکھتے ہوے کہا ۔۔

چلو میرا گفٹ دو ۔ہارون نے بے تابی سے کہا ۔۔

آپ کا گفٹ تو خریدا ہی نہیں

۔روحا نے منہ موڑ کر کھڑی ہوتے کہا ۔۔

میرا گفٹ تم ہو میری چاہیت میرا عشق ہارون نے روحا کو اپنے حصار میں لیتے ہوے اپنے لب اس کی گردن پر رکھتے ہوے کہا ۔۔

روحا ہارون کی بات پر مسکرا دی ۔۔

روحا ۔

پنک روز آج بڑی والی لپ کس دے دو پلیز ہارون نے معصوم بچوں کی طرح کہا ۔۔

روحا مسکرانے لگی ۔۔

اور ہارون کو بات کرنے کا موقع دے بنا اپنے لب اس کے ہونٹوں پر رکھ دے ۔۔

روحا کے عمل میں چاہیت محبت تھی ۔۔

دونوں ایک دوسرے کو محسوس کر رہے تھے ۔

ایک دوسرے مگن تھے

۔۔روحا نے نرمی سے ہارون کے ہونٹوں کو چھوڑا اور پیچھے ہوگی ۔۔

ہارون نے دوبارہ روحا کو پکڑ کر اس کے ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دے ۔۔

دونوں ایک بار پھر ایک دوسرے کے وجود میں مدہوش ہو رہے تھے ۔۔

ہارون نے روحا کو باہوں میں بھر کر بیڈ پر لٹایا اور روحا پر جھک گیا ۔۔

ہارون ایک سرپرائز ہے آپ کے لیے

۔روحا نے ہارون کو روکتے ہوے کہا ۔۔

کیسا سرپیرئز پنک روز

ہارون نے بے چینی سے پوچھا ۔۔

کان پاس کرے پھر بتاٶ گی ۔روحا نے مسکرا کر کہا ۔۔

چلو بتاٶ

۔ہارون نے مسکر کر پوچھا ۔

“ایم پریگنیٹ

۔۔روحا نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوے شرما کر کہا ۔۔

کییییییییییاااا ۔۔

تم سچ کہہ رہی ہو ہارون نے خوشی سے چلاتے ہوے پوچھا ۔۔

توبہ ہارون کان کے پردے پھاڑ دینے کیا ۔۔

روحا نے کان پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا ۔۔

میں بہت خوش ہو پنک روز تھینک یو سو مچ

ہارون نے روحا کے ماتھے پر لب رکھتے ہوے کہا ۔۔

شکریہ ہارون میری زندگی میں آنے کے لیے

۔روحا نے پیار سے مسکر کر کہا ۔۔

ہارون آپ واقعی خوش ہے

۔روحا نے ایک دفعہ پھر پوچھا ۔۔

میری ایک شرط ہے پنک روز وہ مان لو پھر میں خوش ہو ۔۔

ہارون نے سنجیدہ ہوتے کہا ۔۔

بتاے میں سن رہی روحا نے پریشان ہوتے پوچھا ۔۔

بیٹا ہوا تو میں اسے سبنھالو گا مطلب ہر کام اس کا میں خود اپنے ہاتھوں سے کرو گا تمہارے پاس آنے نہیں دو گا تاکہ اسے میری عادت ہو تہماری نہیں ۔

ہارون نے شرارتی انداز سے کہا۔۔

آپ اتنی محبت کرتے کیا ہارون اپنے آنے والے بیٹے سے ۔

روحا نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔

ہاہاہاہا وہ پنک روز میں اس کا ہر کام کرو گا تاکہ وہ تہمارے پاس کم آے اور تم مجھ پر توجہ دے سکو ۔

تمہں محبت کرنے چھونے اور محسوس کرنے کا حق صرف ہارون خان کو ہے یہ حق میرے بیٹے کو بھی نہیں ہے ۔۔

ہارون نے روحا کا حیرت سے منہ کھولا دیکھ کر مسکرا کر کہا ۔۔

ہارونننن ۔

۔روحا تو صدمے میں بول بھی نہ سکی ۔

ارے میری پنک روز میں واقعی بہت بہت خوش ہو

۔ہارون نے خوشی سے کہا ۔۔

اور روحا کے اوپر جھک گیا ۔

دونوں ایک دوسرے میں مگن ہو گے ۔۔

————————————————————

ہپی برتھ ڈے ٹو یو

ہپی برتھ ڈے ٹو یو مائ ڈئیر ہبیی

۔ہانی مسکراتی ہوی زیان کو وش کر رہی تھی ۔۔

تھیک یو چشمیش

۔زیان نے ہانی کے ماتھے پر لب رکھتے ہوے کہا ۔۔

ہانی صرف مسکرا رہی تھی ۔۔

اتنی محنت کیوں کرتی ہو یار تہمارا میرے پاس ہونا ہی کافی ہے

۔۔زیان نے ساری سجاوٹ کو دیکھ کر کہا ۔۔

یہ سب کرنا ضروری ہوتا ہے

۔مائ لو

ہانی نے مسکرا کر کہا ۔۔

خیر ہے بڑے موڈ میں لگ رہی ہو آج ویسے تو میرے موڈ کا بھی خیال کرتی نہیں صرف اپنے سونے کی پرواہ ہوتی تہمں

۔زیان نے نروٹھے پن سے کہا ۔۔

ایک تو میری نیند کے دشمن ہے آپ

۔ہانی نے مصوعنی نروٹھے پن سے کہا ۔۔

اور تمہاری نیند میرے جذبات کی دشمن ہے

۔زیان نے قہقہ لگاتے ہوے کہا۔۔

چلو گفٹ دو ۔

زیان نے مسکرا کر کہا ۔۔

ہانی نے زیان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پیٹ پر رکھ دیا ۔۔

زیان اس کے عمل پر حیران تھا ۔۔

حنین جو میں سوچ رہا ہو کیا وہ سچ ہے

۔زیان نے خوش ہوتے پوچھا ۔۔

ہاں وہی سچ ہے

ہانی نے مسکرا کر کہا ۔

زیان نے ہانی کو گلے لگا لیا ۔۔

شکریہ میری جان میں آج بہت خوش ہو بہت اچھا گفٹ دیا آج تم نے مجھے

۔تہمارا شکریہ تم نے میری زندگی میں آ کر مجھے مکمل کر دیا ۔

۔زیان نے خوشی سے کہا اور ہانی کے ہونٹوں پر جھک گیا ۔۔

اپنی تشنگی مٹا کر ہی پیچھے ہٹا ۔۔

مبارک ہو تمہں زیان نے خوش ہوتے کہا ۔۔

آپ کو بھی

۔ہانی نے خوشی سے کہا۔۔

ہانی مجھے بیٹی چاہے ۔

زیان نے بہکے انداز سے کہا ۔۔

إن شاءالله بیٹی ہی ہو گی

۔۔ہانی نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔

اب تم نے اپنا بہت سارا خیال رکھنا ہے یہ فصول چیزیں کھانا چھوڑ دو

۔زیان نے ہدایت کی

۔میری تو سنتی نہیں سو جاتی ہو ۔

اب اپنی بیٹی کے لیے نہیں سونے دو گا ۔۔

اس کا اچھے سے خیال رکھو گی ۔تم ۔

وارننگ دی گی ۔

حد ہے بیٹی آی نہیں ورننگ پہلی دینی شروع کر دی ۔

میری نیند کے پیچھے پڑ جاتے ہے آپ

۔ہانی نے روٹھے پن سے کہا ۔۔

بیٹی سے پہلے ماں ہے ظاہر سی بات ہے ماں کی وجہ سے ہی بیٹی ملے گی

۔میری زندگی تم سے شروع ہو کر تم پر ختم ہوتی ہے ۔۔

میری جان ۔زیان نے مسکرا کر کہا ۔۔

چلے سو جاے اب

۔ہانی نے بیڈ پر جاتے کہا ۔۔

ہرگز نہیں سو گی اپنا ٹائم ٹیبل بناٶ گی اب سے کیا کھانا ہے کیا نہیں اپنا خیال رکھنا ہے تب بھی جب میں گھر سے باہر ہو ۔

جس دن میں گھر ہو گا تمہارا اور اپنی بیٹی کا خیال میں رکھو گا ۔۔

زیان ایک ہی سانس میں سب بول رہا تھا ۔

ہانی تم سن رہی ہو نہ

۔زیان نے یہ کہتے جب ہانی کی طرف دیکھا اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گی ۔۔

یہ لڑکی سدھر نہیں سکتی ہر وقت سونے کی پڑی رہتی ہے

۔زیان نے ہانی کا سر اپنے سینے پر رکھتے ہوے کہا ۔۔

اور آنکھیں موند کر اپنے رب کا شکر ادا کیا ۔

اسے حنین جیسی بیوی ملی اور اب وہ باپ کے عہدے پر فائز ہونے جا رہا تھا ۔۔