Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 23)

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

ہانی رات مہر ہاوس ہی رک گی تھی

۔اسے زیان نے واپس آنے کے لے نہیں کہا تھا ۔۔

اب دوپہر ٹائم ہانی گھر آگی تھی

۔اور اس نے اچھا سا لنچ تیار کیا تھا ۔ زیان کی پسند کا ۔

روحا سے فون پر سب پوچھ کر وہ بنا چکی تھی ۔

اب زیان کا ویٹ کر رہی تھی ۔

زیان ڈیوٹی کے بعد عمارہ کے پاس گیا ہوا تھا ۔۔

ہانی نے بلیک کلر کا ڈریس پہنا ہوا تھا

۔بالوں کا جوڑا بناۓ ہلکے میک اپ میں وہ زیان کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔

لیکن اس کا ویٹ کرنا فصول ہی گیا ۔کیونکہ اب دوپہر سے رات ہو چکی تھی ۔زیان واپس نہیں آیا تھا ۔۔

اچانک موسم خراب ہوتا دیکھ ہانی گھبرا گی ۔

بارش سے اسے بہت ڈر لگتا تھا ۔سانس بند ہونے لگ جاتا تھا ۔۔

بارش کو دیکھ کر ہانی کپکپانے لگ جاتی تھی ۔۔

اب موسم کو خراب دیکھ کر پریشان ہو گی تھی ۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے ۔

علیزے کے کہنے پر وہ کپڑے چینج کرکے بلیک نائٹی پہن چکی تھی ۔۔

جو بالکل نیٹ کی تھی ۔

اس کی لنتھ گھنٹوں سے اوپر تک ہی تھی ۔۔

ہانی نے گاٶن پہنا ہوا تھا ۔۔

کھانا اس نے خود نہیں کھایا تھا ۔۔

اس کا پلان تھا ۔

آج زیان کی عقل ٹھکانے لگا دے گی

۔لیکن موسم دیکھ کر اس کے اپنے رونگھٹے کھڑے ہوچکے تھے ۔۔

———————–*

پنک روز کیا ہوا کیوں پریشان ہو

ہارون نے روحا کو پریشان ہوتا دیکھ کر پیشانی سے پوچھا

ہانی کو فون ملا رہی وہ اٹھا نہیں رہی

موسم اتنا خراب ہورہا ہے

روحا نے پریشانی سے کہا

اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے

ہارون نے نہ سمجھی سے پوچھا

بہت ڈر لگتا ہے اسے ایسے موسم میں بارش دیکھ کر وہ اپنی چینخ و پکار سے سارے گھر کو سر پر اٹھا لیتی ہے۔

اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔

جیسے وہ روتی ہے برہان ہیڈل کر لیتا ہے اچھے سے ۔۔

اب مجھے ٹینشن ہو رہی ہے ۔

روحا نے پریشان ہوتے ہوے کہا۔۔۔

اب اس کی شادی ہو گی ہے زیان ہے اس کے پاس اسے سنبھال لے گا ۔۔

ٹینشن نہ لو ۔

ہارون نے اسے پیار سے سمجایا ۔۔۔

———————————————————————–

برہان کیوں پریشان ہو ۔

پری نے برہان کے چہرے پر پریشانی

دیکھ کر پوچھا ۔۔

یار ہانی فون نہیں اٹھا رہی تمہیں معلوم تو ہے ایسے موسم میں کیسا ری ایکٹ کرتی ہے

۔برہان نے پریشان ہوتے ہوے کہا ۔۔۔

تم زیان بھای کو فون ملاو ۔

پری نے تحمل سے مشورہ دیا ۔۔

برہان نے زیان کا نمبر ملایا ۔۔

ہیلو ۔۔

زیان نے گاڑی ڈراییو کرتے ہوے برہان کی کال رسیو کی ۔۔

بھای کہاں ہے آپ ہانی کیسی ہے ٹھیک ہے نہ وہ

برہان نے بے چینی سے پوچھا ۔۔

میں تو راستے میں ہو گڑیا کی طرف گیا تھا اب گھر جا رہا ہو ۔

ہانی کا مجھےنہیں پتہ وہ تو تم لوگوں کے گھر ہے نہ

۔زیان نے سنجیدگی سے کہا ۔۔

بھای وہ تو دوپہر گھر واپس چلی گی تھی ۔۔

اس نے آپ کو سرپرایز دینا تھا ۔

بھای جلدی جاے وہ ٹھیک نہیں ہے اسے میں بار بار فون کر رہا وہ اٹھا نہیں رہی ۔

برہان نے پریشانی س بتایا ۔۔۔

کیوں کیا ہوا اسے ٹھیک ہے نہ وہ

زیان نے بے چینی سے پوچھا ۔۔

بارش کے متلعق اس کا ڈر برہان تفصیل سے بتاچکا تھا ۔۔

تو زیان حیران پریشان ہو گیا ۔۔

تم فکر نہ کرو میں جلدی گھر جاتا ہو ۔۔

زیان نے جلدی سے کہہ کر برہان کی کال کاٹ کر گاڑی کی رفتا بڑھا دی ۔۔

———————————————————————-

ہارون مجھےسکون نہیں آرہا ایک بار زیان بھای کو فون کر لے ۔پلیز ۔

روحا نے التجا کی ۔

روحا کے کہنے پر ہارون نے زیان کو فون کیا ۔۔۔۔

ہاں زیان کدھر ہو ہانی ٹھیک ہے ۔

زیان کے فون اٹھاتے ہی ہارون نے بے چینی سے پوچھا ۔

یار مجھے معلوم نہ تھا ۔

وہ گھر آ گی ہے میں گڑیا کی طرف گیا تھا ابھی گھر جارہا ہو ۔

برہان نے سب بتا دیا بےفکر رہو میں ہینڈل کر لو گا ۔۔

زیان نے حوصلہ دیتے کہا ۔

اچھا تم دونوں سو رہے تھے معذرت یار ڈسٹرپ کردیا

۔چلو سو جاو

۔ہارون نے جلدی سے کہہ کر کال کاٹ دی ۔۔۔

پنک روز وہ دونوں سو رہے تھے تم بلاوجہ ٹینشن لے رہی تھی

۔چلو اب سو جاٶ ۔۔

ہارون نے بات ٹالتے ہوے کہا وہ نہیں چاہتا تھا روحا پریشان ہو ۔۔

حیریت ہے زیان بھای نے کیسے ہینڈل کر لیا

۔روحا نے حیران ہو کر پوچھا۔۔

وہ اس کا شوہر ہے اور شوہر سب ہینڈل کر سکتا ہے

۔چلو اب سو جاو اب سوچنا چھوڑو ۔

ہارون نے دوبارہ کہا ۔۔۔

لیکن ایک دفعہ میری بات کروا دیتے ہارون ہانی کی آواز سن کر میرے دل کو سکون آ جاتا تو۔۔۔۔

روحا نے ایک دفعہ پھر رونے والے انداز میں التجا کی ۔۔

پنک روز سو جاو ورنہ میں پھر تمہں سونے نہیں دینا ساری رات ۔

ہاورن نے زرا مصوعنی غصے سے کہتے روحا کا سر اپنے سینے پر رکھتے ہوے کہا ۔۔۔

روحا نے بات کا مطلب سمجھتے ہوے جلدی سے اپنی آنکھوں کو بند کر لیا ۔۔

بہت برے ہے آپ ہارون

۔تھوڑی دیر بعد روحا کی آواز گونجی جو روٹھے پن سے کہہ رہی تھی ۔۔۔

ہاہاہا پنک روز سو جاٶ میری جان

۔ہارون نے ہستے ہوے روحا کے ماتھے پر لب رکھتے ہوے کہا ۔۔۔

پھر دونوں نے اپنی آنکھیں موند لی ۔۔

———————————————————————-

روحا آپو ۔

برہان ماما پاپا بچاٶ مجھے آج میں مر جاو گی ۔

یہ گھر کی چھت مجھ پر گر جاے گی ۔۔

سب گر جاے گا مجھے گٹھن ہو رہی ہے ۔

پلیز کوئ تو بچا لو مجھے

۔زیان زیان

کہاں ہے آپ میرا سانس بند ہو رہا ہے ۔۔

ہانی زور زور سے چلا رہی تھی ۔۔

سب کو پکا رہی تھی ۔

اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔

ہانی اپنے بالوں کو نوچ رہی تھی ۔اور گھٹنوں میں سر دے کر کانوں پر ہاتھ رکھ کر اونچی اونچی آواز میں چلا رہی تھی ۔۔

زیان زیان روحا آپو برہان ماما پاپا۔۔۔

وہ مسلسل چلا رہی تھی۔

———————————————————–

زیان جب گھر میں داخل ہوا ہانی کی چیخیں سن کر حیران ہوا اس کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا ۔۔

زیان جب کمرے میں داخل ہوا ۔ہانی کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گیا ۔۔۔

ہانی نائٹی گاٶن اتار چکی تھی ۔

اب بالکل ہی وہ نیٹ کی سلیولیس نائٹی میں ملبوس تھی جو گھٹنوں سے اوپر تک تھی ۔۔

ہانی ۔

۔زیان نے حنین کو آواز دی

۔زیان کی آواز پر ہانی بھاگ کر اس کے گلے لگ گی ۔۔

زیان مجھے بچالو پلیز پلیز مجھے بچالو میں مر جاٶ گی ۔مجھے بچالو ۔۔

ہانی مسلسل روتے ہوے کہہ رہی تھی ۔

خاموش بالکل چپ میں ہو نا کچھ نہیں ہو گا ۔۔

زیان نے ہانی کی کمر سہلاتے ہوے کہا ۔

ہانی نے زیان کی شرٹ کو زور سے پکڑا ہوا تھا ۔۔

زیان کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا دباو کی وجہ سے ۔۔۔

لیکن ہانی کو ہینڈل کرنا زیادہ ضروری تھا ۔۔۔

نہیں آپ کچھ نہیں کر سکتے یہ بارش مجھے مار دے گی ۔۔

ہانی نے زیان کے حصار سے نکلتے ہوے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

زیان اس کی کنڈیشن دیکھ کر حیران پریشان تھا

۔کیسے ہینڈل کرے اس چشمش کو اتنا ڈر لگتاہے بارش سے میں کیسے ہینڈل کرو گا ۔۔

زیان ابھی سوچ ہی رہا تھا جب اچانک ہانی بے ہوش ہو کر گر گی ۔۔۔

ہانی ہانی چشمش ۔۔۔۔

زیان ہانی کو بیڈ پر لٹاتے ہوے مسلسل اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔

——————————————————————–

کیا ڈاکٹر آپ کیا کہہ رہے ہے ۔

زیان نے حیران ہو کر پوچھا ۔۔

کیا مطلب کیا کہہ رہا ہو

۔۔ آپ شوہر ہے ان کے اس میں حیران ہونے والی کیا بات ہوی

۔ڈاکٹر نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔

زیان کو ڈاکٹر کی بات سن کر شرمندگی ہوی کب ان دونوں میں میاں بیوی والا رشتہ تھا ۔۔۔

زیان میں اس طوفانی بارش میں نہیں آ سکتا جو آپ اپنی بیوی کی کنڈیشن بتا رہے ہے اس حساب سے آپکو وہ کرنا ہو گا جو میں نے کہا ہے ۔۔

ان کا باڈی ٹمریچر بگڑ گیا ہے

۔۔اسے نارمل کرے صبح تک ٹھیک ہو جاے گی

۔۔ڈاکٹر نے کہتےہوے فون کال کاٹ دی ۔۔

———————————————————————-

میں نے کبھی اسے ہوش میں ہاتھ نہیں لگایا

۔۔۔اب بے ہوشی میں کیسے کر سکتا ہو ۔۔

یہ مجھے پھر غلط سمجھے گی

۔زیان نے خود کلام ہوتے کہا ۔۔

پہلے کپڑے چینج کر دیتا ہو

۔جو اس کا حیلہ بنا ہوا ہے پکا مجھ سے صبر نہیں ہونا ۔۔

زیان نے ہانی کے گالوں کو چھوتے ہوے مسکرا کر کہا ۔۔

اور لایٹ آف کر کے چینچ کر دے ۔۔

کتنی معصوم ہو تم

جیسی میں بیوی چاہتاتھا

۔بالکل ویسی ہو ۔تم

میری جان ہو تم میری روح میں بستی ہو تمہارے بنا اب گزارا نامکمن ہے۔

۔حنین یہ زیان شاہ اپنی چشمش کے بغیر ادھورا ہے ۔۔

زیان نے ہانی کی پیشانی کو چومتے ہوے پیارسے کہا ۔۔

اور خود شرٹ اتار کر ہانی کے ساتھ لیٹ گیا ۔۔۔

ہانی کو مکمل اپنے حصار میں لے کر اسے اپنے جسم کی گرمائش دے رہا تھا ۔۔۔

تمہارے ہوش و حواس میں ہی اپنی زندگی کی شروعات کرنا چاہتا ہو ۔۔۔

اگر تمہاری صحت کے لیے اب کچھ کیا تو تم غلط سمجھو گی ۔۔۔

زیان نے ہانی کی کمر سہلاتےہوے کہا ۔۔

ساری رات زیان ہانی کو مختلف طریقوں سے گرمائش دیتا رہا ۔۔

کبھی اپنی ٹانگوں میں اس کی ٹانگیں رکھ کر کبھی اپنے سینے سے لگا کر ۔۔

ہانی کو کوئ ہوش نہیں تھی اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے

———————————————————————–

ہانی گہری نیند میں تھی ۔۔

جب اسے اپنی گردن پر گرم سانس محسوس ہوی

۔ہانی نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو دنگ رہ گی ۔۔۔

زیان بالکل اس کے قریب اس کی گردن میں منہ دے سو رہا تھا ۔۔

یہ سب کیا ہے میں ہہاں کیسے میرے کپڑے ہانی نے اپنے کپڑے دیکھ کر حیرانی سے سوچا ۔۔۔

اور اچانک اٹھ کر بیٹھ گی ۔

اس کے اچانک اٹھنے پر زیان کی آنکھ کھول گی ۔۔

چشمش تم ٹھیک ہو اب زیان نے ہانی کے ماتھے کو چھوتے ہوے پوچھا ۔۔۔

کیوں مجھے کیا ہوا تھا

۔۔ہانی نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔

دورہ پڑا تھا رات تمہں بارش دیکھ کر

۔زیان نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔۔

اپنی کنڈیشن سوچ کر ہانی پریشان ہو گی ۔۔

پریشان ہونے والی کوی ضرورت نہیں ہے جب تمہارا شوہر تمہارے ساتھ ہے تمہں ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔

زیان نے ہانی کو اپنی گود میں بھٹاتے ہوے کہا ۔۔

ہانی حیران رہ گی زیان کے عمل پر

۔زیان کیا کر رہے ہے چھوڑے مجھے ۔ہانی نے زیان کے حصار میں ممناتے ہوے کہا ۔۔

رات تمہاری طیبعت خراب تھی ۔

۔۔ ڈاکٹر نے تمہاری طبیعت کے لیے جو حل بتایا تھا (ڈاکٹر کی ساری بات زیان نے ہانی کو بتا دی ).

میں اس پر عمل نہیں کیا میں چاہتا ہو تمہاری دلی رضامندی سے سب ہو ۔

زیان نے ہانی کی لبوں کو چھوتے ہوے کہا ۔۔

زیان کی ساری بات سن کر ہانی شرمندہ ہو گی

۔صیح کہتی ہے ماما مجھے سوتے ہوے کوی ہوش نہیں رہتا

۔ہانی نے اپنے کپڑے دیکھتے ہوے افسوس سے سوچا ۔۔

میں نے لاہٹ بند کر کے چینچ کیے تھے

۔شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں چمشش شوہر ہو تہمارا ۔ہانی کے چہرے پر شر مندگی دیکھ کر زیان نے مسکراتے ہوے کہا ۔

وہ سمجھ گیا تھا ہانی کس بات سے شرمندہ ہو رہی تھی ۔۔

زیان کی بات پر ہانی بالکل خاموش رہی ۔۔

چلو جاو فریش ہو جاو

۔زیان نے مسکراتے ہوے کہا اور ہانی فورًا بھاگ گی ۔۔

ہاہاہاہا پاگل لڑکی ۔۔

————————————————————

اس زرافے کو پنک کلر پسند ہے اب مجھے پنک کلر کی ساڑھی پہنی پڑے گے ۔۔

ہانی نے حیرانی سے سوچا ۔۔

۔میں لڑکی ہو کر مجھے پنک کلر نہیں پسند اور جناب لڑکے ہو کر پنک کلر پسند کرتے ہے ۔

ہانی نے مسکراتے ہوے سوچا ۔۔

چل ہانی پہنی تو پڑے گی ۔۔

یہ ساڑھی یوٹیوب سے دیکھ کر ٹرائ کرتی ہو ۔

ہانی نے موبائل آن کرتے ہوے سوچا ۔۔۔

————————————————————

اف یہ تو ہو ہی نہیں رہا میں کیا کرو ۔

ہانی نے ساڑھی کو پھکنتے ہوے غصہ سے کہا ۔۔

نائٹی ہی پہن لیتی ہو آسانی رہے گی ۔۔

ہانی نے پریشان ہوتے سوچا ۔اور کمرے میں چلی گی ۔۔

————————————————————

اف آج تو تھک گیا ڈیوٹی سے ایک بیوی ایسی ہے جیسے پروا ہی نہیں شوہر کی ۔۔

زیان نے ماتھے کو مسلتے ہوے افسودگی سے سوچا ۔۔۔

پتہ نہیں مجھے کب خوشیاں ملے گی ۔۔

شاید جیسے شروع سے ترپتا رہا ہو خوشیوں کے لیے اب بھی ترستا رہو گا ۔۔

زیان نے دکھی ہوتے سوچا ۔۔

اور گھر جانے کی تیاری کرنے لگا ۔۔۔

زیان گھر میں داخل ہوا اسے عجیب سا سناٹا محسوس ہوا ۔ہر طرف اندھیرہ ہی اندھیرہ تھا ۔۔۔

زیان نے جب لائٹ آن کی تو ہر طرف پھول ہی پھول دیکھ کر حیران رہ گیا ۔۔۔

اس کے کمرے کے راستے تک پھول ہی پھول تھے ۔وہ ان پھولوں پر چلتا ہوا کمرے تک پہنچ کر کمرے کے دروازے پر لکھے الفاظ پڑھ کے زیان مسکرا دیا ۔۔

(دوسرے کمرے میں آپ کے کپڑے ہے وہ پہن کر ہی کمرے میں آنا ).

یہ الفاظ پڑھ کر زیان مسکرتا ہوتا کمرے میں چلا گیا ۔۔۔

————————————————————

پہن ہی نہیں ہو رہی اب کیا کرو ۔

اب تو زیان بھی اگے ہے

ہانی نے پریشان ہو کر سوچا ۔کیونکہ وہ زیان کو آتے دیکھ چکی تھی ۔۔

————————————————————

زیان جب کمرے میں گیا سامنے بیڈ پر اسے وایٹ پنٹ شرٹ پڑی ہوی تھی ۔۔

وایٹ اور پنک کمبنشن زیان کا فیورٹ تھا ۔۔

او لگتا ہے چشمش نے کچھ پلان کیا ہے ۔

زیان نے خوش ہوتے سوچا اور چینچ کرنے چلا گیا ۔۔

زیان تیار ہو کر کمرے میں انٹر ہوا

۔اس پر پھولوں کی برسات ہونی شروع ہوی ۔۔

اپنے اوپر پھول برستے ہوے دیکھ کر زیان کے چودہ طبق روشن ہو گے ۔۔

ہر طرف وایٹ پنک کمنینشن پھول کنڈلیز لایٹ

پردے سب ہی پنک وایٹ کمرے کی ڈیکوریشن دیکھ زیان کو بہت خوشی ہوی ۔

حنین حنین حنین کہاں ہو تم ۔۔

زیان نے بے چینی سے ہانی کو آوازیں دی ۔

————————————————————

😍😍😍پل ایک پل میں ہی تھم سا گیا ۔

تو ہاتھ میں جو ہاتھ دے

چلو میں یہاں جاے تو

داہیں میں میرے باہیں تو

تو رت میں ہواہیں تو ساتھیہاں

ہنسو میں جب گاے تو

رو میں جب مر جھاہیں تو

بیھگو میں برساے تو ساتھہاں ”

ہانی گانا گاتے ہوے چلتی زیان کے پاس آ رہی تھی ۔زیان تو ہانی کا حیلہ دیکھ مہوت رہ گیا ۔۔

———————-

پنک ساڑھی جس کا اگلا گلا ڈیپ تھا اور پیچھے موتیوں کی ڈوری تھی

جس کی وجہ سے ہانی کی کمر ہاف بیک لیس تھی

ہلکے میک اپ کھلے بالوں میں ہانی بہت پیاری لگ رہی تھی

زیان

ہانی نے پیار سے پکارا

ہانی کی آواز پر زیان ہوش میں آیا

چشمیش یہ سب کیا ہے

زیان نے حیرانی ناسمجھی سے پوچھا

آج ہماری زندگی کی شروعات ہوگی اس کو خاص بنانے کے لیے چھوٹی سی کوشیش کی ہے

ہانی نے زیان کے ہاتھ اپنی کمر پر رکھتے ہوے مسکرا کر کہا

اور اپنا سر اس کے سینے پر رکھ دیا

زیان میں بہت لاڈ پیار میں پلی بڑھی ہو میرے گھر والوں نے آج تک مجھے اف بھی نہیں کہا مجھے جو بھی ملا سب نے محبت ہی دی

میں پیار لاڈ کی اتنی عادی ہوگی یہ تک بھول گی گھر سے باہر بھی ایک دنیا ہے یہ ہی بھول گی تھی جو زیادہ لاڈلے ہوتے ہے قسمیت ان کو ضرور رولاتی ہے

آپ کا سلوک اپ کے بدلے نے مجھے بہت رلایا ہے بہت تڑپی ہو میں اپ نے مجھے مارا بھی

ہانی نے سر اٹھا کر زیان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

ہانی کی باتوں پر زیان کو بہت شرمندگی ہوی

ہانی میں

خاموش زیان

آج میں بولوں گی آپ سنے گے

ہانی نے زیان کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بات کاٹتے ہوے کہا

میں بھی آپ سے محبت کرنے لگی تھی آپ کے کوما جانے سے پہلے

لیکن اس دن جو ہوا

اس میں میرا کوی قصور نہیں زیان میں بے قصور ہو

آپ کے کوما جانے کے بعد دن رات رو رو کر آپ کے لیے دعا کی میں نے اپنے رب سے معافی مانگی اپنے کیے کی بہت روی میں میرے دل دماغ میں صرف اپ کا ڈر تھا خوف تھا

میں اپ سے ملنے اس لیے نہیں آتی تھی کیونکہ مجھے شرمندگی ہوتی تھی یہ ہی سوچ کر کہ آپکی حالت کی

ذمہ دار میں ہو

مجھے آپ کہتے رہے کہ نفرت ہے

لیکن آپ کی آنکھوں میں صاف محبت نظر آرہی تھی

زیان ہانی کی سب باتوں پر دنگ رہ گیا

زیان

ہانی نے زیان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے پکارا

میں بہت محبت کرتی ہو آپ سے

ہانی نے زیان کی پیشانی پر لب رکھتے ہوے کہا

ہانی کے لمس سےزیان نے آنکھیں بند کرلی

آپ کے بغیر مجھے سکون نہیں آتا

ہانی نے زیان کی دونوں گالوں پر لب رکھتے ہوے کہا آپ کے بغیر مجھے اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہوتی ہے ہانی نے زیان کی دونوں آنکھوں پر لب رکھتے ہوے کہا

آپ کا میرے پاس ہونے سے میرے دل کو سکون ملتا ہے مجھے اچھا لگتا ہے جب آپ مجھے چھوتے ہے ہانی نے زیان کے لبوں کے پاس اپنے ہونٹ لے جاتے ہوے کہا

اور اپنے نرم دہکتے لب زیان کے ہونٹوں پر رکھ دیے

زیان ہانی کے لمس سے تڑپ گیا وہ بہت بے چین بے قابو ہوریا تھا

ہانی نے زیان کے لبوں کو بہت نرمی سے چھوا اور پیچھے ہوگی

زیان جو آنکھیں بند کیے ہانی کے لمس کو محسوس کرہا تھا ہانی کے پیچھے ہوتے ہی دوبارہ اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا

دونوں ہی آنکھیں بند کرکے کھڑے ایک دوسرے کے وجود کو محسوس کررہے تھے

میں بھی بہت محبت کرتا ہو تم سے میری جان میری روح میں بسنے لگی ہو میری زندگی میری چاہت میرا جنون ہو تم تمہارے بغیر زیان شاہ کا کوی وجود نہیں ہے

زیان نے ہانی کے بالوں پر لب رکھتے ہوے کہا

میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی پلیز مجھے کبھی چھوڑ کر نہ جانا

ہانی نے زیان کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوے سنجیدگی سے کہا

تم سے دور جانا مطلب زیان شاہ کی موت ہے

زیان نے جنونی انداز میں کہا

پلیز ایسا تو نہ کہے اب

ہانی نے تڑپ کر کہا

مجھے معاف کردو ہانی بہت غلط کیا میں نے زیان نے شرمندگی سے کہا

بس زیان آج کے بعد کوی پرانی بات نہیں ہوگی اب جو ہونا تھا ہوگیا

ہانی نے زیان کے گلے لگتے ہوے مسکرا کر کہا

دونوں دوبارہ آنکھیں بند کیے ایک دوسرے کو محسوس کررہے تھے

ہانی کو اپنی کمر پر زیان کی سخت گرفت محسوس ہوی

اس کا بس نہیں چل رہا تھا ہانی کو اپنے اندر ہی سما لے ہانی زیان کے جنون سے واقف تھی اس لیے گھبرا گی

چلے اب چینج کرے مجھے بہت نیند آی ہے سونا ہے میں نے

ہانی نے اپنا آپ چھڑوایا اور بھاگنے لگی

لیکن زیان نے اس کی کوشیش ناکام بنادی اسے پکڑکر کھینچا ہانی زیان کے سینے آلگی

آج رات سونے کی رات نہیں ہے میری جان

آج تو تمہارے وجود کو محسوس کرنے کی رات ہے تمہاری روح جسم دل پر قبضہ ہو گا صرف زیان شاہ کا

بہت تڑپایا ہے مجھے تم نے بہت شدت سے میں اس دن کا انتظار کیا ہےاج تم سب برداشت کرو گی میری شدت دیکھو گی اپنے عمل سے بتاو گا کتنی محبت ہے مجھے تم سے

زیان نے ہانی کے ماتھے پر لب رکھتے ہوے کہا

زیان میں

ہانی کے کچھ بولنے سے پہلے ہی زیان نے اپنے لب اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے زیان کے عمل میں تڑپ تھی جسے محسوس کرکے ہانی کو خود کا سانس بند ہوتا محسوس ہوا

زیان لبوں سے ہوتا گردن تک آگیا گردن پر لمس محسوس کرتے ہی ہانی اپنا اپ چھڑواکر منہ موڑ کر کھڑی ہوگی

اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو سنبھال رہی تھی

زیان نے ہانی کی بیک لیس پر اپنے لب رکھے اور دانتوں سے موتوں کی ڈوری توڑ دی

ہانی کی سانس اٹک گی جب اسے کندھے سے بلاوز سرکتا ہوا محسوس ہوا ہانی اپنی آنکھیں بند کرکے سب برداشت کررہی تھی

شولڈر پر زیان کے ہونٹ رکھنے سے پہلے ہی ہانی پھر بھاگنے لگے

زیان نے ایک جھٹکے سے ہانی کو کھینچ کر ویسٹ سے پکر کر دیوار سے پن کیا

کہا جارہی تھی بھاگ کر

آج تو بھاگ کر نہیں جا سکتی تم

تم نے خو اج میرے سوتے جذبات کو جھگایا ہے

بہت تڑپایا ہے اس کی سزا تو ملنی چایے تمہں

زیان نے جنونی انداز میں کہا

زیان کی بات ہر ہانی کی زیان تالو سے ہی چپک گی

زیان نے اس کی گال پر ہونٹ رکھے اور گال سے شولڈر تک آیا اور وہاں اپنے دانت گاڑھ دیے

وہ اچھلی

زیان چھورے مجھے

وہ بوکھلائی

زیان نے اسے غور سے دیکھا اور اپنی گہری نگاہ سے ہی اسے شرم سے پانی پانی کردیا

کیونکہ اب کی بار زاویہ نگاہ بدلتے ہوے وہ اس کی ایک ایک سجاوٹ کو آنکھوں سے نہار کر اسے اس بناو سنگھار کا خراج بخش رہا تھا

ویسے یہ سب تم نے مجھے منانے کے لیے کیا

تمہارا یہ طریقہ بہت ہی جان لیوا قسم کا ہے

مگر افسوس اب بدلے میں تمہاری ہی جان ہلکان ہوگی میرے سر پر جنون دیوانگی طاری کرچکی ہو

سکون سے کہتے اس کے دل کے مقام پر لب رکھے ہانی کی سانس اٹک گی

زیان پلیز

خاموش جتنا بولوں گی اتنا نقصان اٹھاو گی

زیا نے کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود میں بھنجا

گردن سے سفر کرتے اس کے ہونٹوں نے ہانی کی سانس سینے میں الجھا دی

اس کی بے باکیوں سے گھبرا کر ہانی نے اپنی آنکھیں بند کرلی

ہانی پھر ہمت کرکے اپنا آپ چھرواکر منہ موڑ کر کھڑی ہوگی

زیان نے پیچھے سے اسے نرمی سے باہوں میں بھر کر اس کی گردن پر اپنے جلتے دہکتے لب رکھ دیے ہانی سر سے پاں تک کانپ گی

زیان کے ہاتھ سرکتے ہوے اس کے سینے پر آروکے اور ہانی کو لگا آج اس کا زیان سے بچنا ناممکن ہے

اس کا روخ اپنی طرف کرکے زیان نے اس کے گداز لبوں پر اپنے تشنہ لب رکھ دیے

جسم سے سرکتا بلاوز محسوس ہوتا ہانی نے گھبرا کر زیان کے سینے میں اپنا منہ دے دیا

زیان اسے بازو میں بھر کر بیڈ پر لایا

اور خود اس پر جھکا

اپنے اور اس کے بیج ازار بنتا وہ گلابی پلو ہٹایا اور خود کو اس نرم و گداز وجود میں گم کردیا

ہانی کی سانس سینے میں سینے یں الجھ گی

ساری رات زیان نے اپنے عمل سے ظاہر کیا وہ ہانی سے کتنی محبت کرتا ہے

زیان کی شدت چاہت جنون دیکھ کر ہانی کے چودہ طبق روشن ہوگے

لیکن وہ خوش تھی اسے اتنی محبت کرنے والا شوہر ملا

آج کی رات بھی دو محبت کرنے ولوں کے ملن کی رات تھی دور چاندنی ان کی محبت کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی

( ملتا وہی جو قسمیت میں ہوتا ہے اور ہانی کی قسیمت میں یہ سب ہونا ہی لکھا تھا ہر دکھ تکلیف کے بعد اچھے اور خوشی کے دن بھی آتے ہے)

ہانی لو یو سو مچ

میری عاشقی تم سے 😍

صرف تم سے چشمیش

زیان نے ہانی کی آنکھوں کو چومتے ہوے کہا

اور اپنی گستاخیوں میں مصروف ہوگیا

—————————————-

ہانی او چشمش اٹھ بھی جاٶ

۔زیان نے ہانی کو ہلاتے ہوے کہا

۔جو اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔

۔اس چشمش کی نیند بہت پکی ہے ۔جو مرضی ہو جاے یہ تو اٹھ ہی نہیں سکتی ۔

بے ہوشی کی نیند سوتی ہے

۔زیان نے افسوس سے کہا ۔۔

اور ہانی کے اوپر جھک گیا اس کے ایک ایک نقش پر اپنا لمس چھوڑنے لگا ۔۔

لیکن ہانی کو کچھ محسوس نہ ہوا ۔۔

اف اس لڑکی کی جگہ کوئ اور لڑکی ہوتی اب تک جاگ جاتی لیکن یہ ڈھیٹ لڑکی ۔

زیان کو اب غصہ آ رہا تھا ۔۔

جو کب سے ہانی کو جگا رہا تھا ۔۔

لیکن وہ اٹھ ہی نہیں رہی تھی ۔۔

ہانی نے زیان کی شرٹ پہنی تھی ۔۔

ہانی کو اپنی شرٹ میں دیکھ کر زیان کو شرارت سوجھی ۔۔

زیان ہانی کی شرٹ کے بٹن کھول کر سینے پر اپنے دانت گاڑ دے ۔

اس کے عمل میں اتنی شدت تھی

۔ہانی تڑپ ہی گی ۔۔

درد سے ہانی انکھیں کھولے اپنے اوپر زیان کو جھکے دیکھ کر اسے بہت غصہ آیا ۔۔

زیان کیا حرکت ہے یہ آپ کو شرم نہیں آتی

۔ہانی نے غصہ سے کہا ۔۔

نہیں مجھے شرم نہیں آتی ۔

تحمل سے جواب دیا ۔۔

زیان دوبارہ ہانی پر جھک گیا ۔۔

زیان پیچھے ہو ۔

مجھے سونے دے ساری رات مجھے سونے نہیں دیا ۔۔

اب مجھے نیند آ رہی ہے ابھی تو سوی ہو کچھ دیر پہلے ۔ہانی نے زیان کو اپنے اوپر سے پیچھے کرتے ہوے کہا

۔۔ہانی زیان کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی ۔

اسے شرم آ رہی تھی زیان سے ۔۔

زیان کی محبت میں ہانی آج گلابی پھول لگ رہی تھی ۔۔

اس کے سرخ ہوتے گال اور اس کا شرمانا گبھرانا زیان کو سمجھ آرہا تھا ۔۔

بس کرو لڑکی کتنا سو گی

۔تم تو بے ہوش ہوتی کسی چیز کا کوئ ہوش نہیں تمہں بس کرو سونا اور مجھے پیار کرنے دو ۔

زیان نے ہانی کی پیشانی پر لب رکھتے ہوے کہا ۔۔

زیان پلیز یار

رات آپ کا دل نہیں بھرہ کیا جو اب پھر شروع ہوگے ۔

ہانی نے گھبراتے ہوے کہا ۔۔

ایک رات کیا

میرا دل تو ساری عمر نہیں بھرے گا ۔۔

زیان نے ہانی کا ماتھا چومتے ہوے کہا ۔۔

ہانی میری طرف دیکھو

۔زیان نے ہانی کو چین سے پکڑ کر چہرہ اپنی طرف کرتے ہوے کہا ۔۔

دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے ۔۔

شکریہ حنین میری زندگی میں آنے کے لیے ۔

مجھے مکمل کرنے کے لیے میں بہت خوش ہو آج ۔شکر ہے مجھے خوشی نصیب ہوی ۔

بس اب مجھ سے دور مت جانا

زیان نے ہانی کی دونوں آنکھوں کو چومتے ہوے کہا ۔۔

میں بھی بہت خوش ہو زیان مجھے یقین ہوگیا ہے آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہے

۔تھیک یو سو مچ

۔ہانی نے زیان کی پیشانی پر لب رکھتے ہوے کہا۔۔

میری آج رات کی ڈیوٹی ہے

۔زیان نے ہانی کے سینے پر سر رکھتے ہوے دکھی انداز سے کہا ۔۔

شکر ہے رات کی ڈیوٹی ہے میں سکون سے سو پاو گی

۔۔روز رات کی ڈیوٹی ہونی چاہے ۔۔آپ کی

ہانی نے خوش ہوتے کہا ۔۔

کیا

۔کہہ رہی ہو پاگل لڑکی

۔زیان نے حیران ہوتے ہانی کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔

صیح کہہ رہی ہو

تحمل سے جواب دیا ۔۔۔

بیویاں چاہتی ہے ان کا شوہر رات کو ان کے پاس رہے اور میری بیوی کہہ رہی ہے مجھے رات کی ڈیوٹی کرنی چاہے ۔۔

افسوس ہے چشمش

تمہاری غلط فہمی ہے کہ تمہاری نیند پوری ہو سکے گی ۔۔

رات تم سو سکتی ہو لیکن دن میں تمہں کون بچاے گا مجھ سے ۔۔

بہت کر لی نیندیں پوری جب میں تمہارے ساتھ ہو ہرگز نہیں سونے دو گا ۔۔

زیان نے جنونی ضدی انداز میں کہا اور ہانی کے لبوں پر جھک گیا ۔۔

اپنی پیاس تشنگی مٹاکر ہی پیچھے ہوا ۔۔

زیان آٹھ جاے

میرے اوپر وزن پڑ رہا ہے ۔

ہانی نے زیان کو پیچھے کرتے ہوے کہا ۔۔

نہیں اٹھو تو کیا کرو گی ۔۔

بلکہ میں ناراض ہو تم سے ۔۔

کیسی ناشکری کر رہی ہو تم میری محبت چاہت کی ۔

۔زیان نے افسودگی سے کہا ۔۔

کب ناشکری کی میں نے

۔ہانی نے حیران هوتے ہوے کہا ۔۔

ابھی ناشکری کر رہی ہو تم کہ میں رات کو باہر جاکر ڈیوٹی کرو ۔

اب ایک منٹ بھی تمہارے بنا گزارا مشکل ہے ۔

زیان نے دکھی ہوتے کہا ۔۔

میں تو مذاق کر رہی تھی ۔۔

مجھے کیا پسند ہے آپ کے بغیر رہنا

میں بھی آپ کے بنا نہیں رہ سکتی

ہانی نے زیان کی گردن میں بازو حائل کرتے مسکرا کر کہا ۔۔۔

ہانی تمہارے ساتھ ہر لمحہ گزانا چاہتا ہو ۔

ہر لمحے میں تم میری چاہت محبت شدت جنون برداشت کرو گی ۔

زیان نے مسکرا کر پوچھا ۔۔

آپ کے لیے سب کر سکتی ہو ۔

بس سونے دے میں نیند پر کمپرومانس نہیں کر سکتی ۔ہانی نے شرارتی انداز میں کہا ۔۔

بس جتنا سونا تھا سو لیا اب میرے سامنے تو ہرگز نہیں سو گی ۔

وارننگ دی گی۔۔۔

آپ بھی سوتے ہے ڈیوٹی کے بعد

۔ہانی نے حیرانی سے پوچھا ۔۔

مجھے ویسے بھی سونے کی عادت نہیں ہے میں نیند پر کنٹرول کر سکتا ہو ۔۔

بس جب ہم ساتھ ہو گے دونوں میں سے کوی نہیں سوے گا ۔۔

زیان نے ہانی کی گردن پر لب رکھتے ہوے کہا ۔۔

اچھا ابھی تو سونے دے

۔ہانی نے التجا کی ۔۔

ہرگز نہیں صاف جواب آیا ۔۔

زیان نے ہانی کے شولڈر پر اپنے لب رکھے

ہانی تڑپ گی تھی ۔۔

زیان کو رات والی ٹون میں واپس آتے دیکھ ۔

زیان

ہانی نے زیان کے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ہوے پکارا ۔۔

جی زیان کی جان ۔

زیان نے آنکھوں میں دیکھ کر کہا

جب ہانی زیان پر جھک گی ۔۔

اب سچوئشن یہ تھی ہانی زیان کے اوپر تھی ۔۔

ہانی زیان کے ایک ایک نقش کو چوم رہی تھی ۔۔

ہانی کا لمس پا کر زیان کو سکون محسوس ہو رہا تھا ۔۔

ہانی نے اپنے لب زیان کے دل کے مقام پر بنے H پر رکھ دے ۔۔

زیان مکمل مدہوش ہو رہا تھا ۔۔

زیان کی آنکھیں بند دیکھ ہانی نے بھاگنے کی کوشش کی ۔۔

لیکن زیان نے اس کی کوشش ناکام کر دی ۔

اور کلائ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔۔

وہ زیان پر گر گی ۔۔

اب ہانی نیچے اور زیان اس کے اوپر تھا ۔۔

کہاں جارہی تھی ۔۔

زیان نے غصہ سے کہا ۔۔

دوسرے کمرے میں تاکہ سکون سے سو سکو ۔۔

یہ رومینس بھی اس لیے کر رہی تھی

۔تاکہ آپ کی آنکھیں بند ہو جاے ۔

ہانی نے تحمل سے جواب دیا ۔۔

تمہں ابھی بھی نیند آ رہی کیا ۔۔

زیان نے حیرانی سے پوچھا

۔۔اور کیا مجھے بہت نیند آ رہی ہے ۔۔

ہانی نے تحمل سے جواب دیا ۔۔

روکو میں تمہاری نیند دور کرتا ہو ۔۔

زیان نے ہانی کے دل کے مقام پر لب رکھتے ہوے کہا

پلیز زیان

۔۔ہانی نے مزاحمت کرتے ہوے کہا ۔۔

لیکن زیان نے اس کی نا سنی اور اس کے وجود میں کھو سا گیا ۔۔

ہانی نے بھی خاموشی سے خود سپردگی دی اسے پتہ تھا یہ زرافہ اب سونے نہیں دے گا