Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 22) Part - 1

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

ہانی نے ایک پارٹی ارینج کی تھی

۔جس میں صرف لڑکیوں کو آنے کی اجازت تھی ۔۔

روحا ہارون بھی آگے تھے ۔

روحا بہت خوش تھی اپنے بھتجے بھتجی کو دیکھ کر ۔

عمارہ اسامہ بھی واپس آگے تھے ۔

ہانی نے زبردستی انھہں بلایا تھا

۔عمارہ کو ہانی کی بات مانی ہی پڑی

۔اس لیے برہان کے بچوں کو دیکھنے کے لیے آگی ۔

مہر ہاوس میں ہر طرف خوشیوں کا سما تھا ۔

مہر صاحب اور نتزیلہ بیگم بہت خوش تھے ۔

اپنے گھر میں اتنی رونق دیکھ کر ۔

————————————————————

چل ہانی شروع ہو جا جلدی سے اب

اس نے اپیرن پہنتے ہوے کہا

۔مرد کے دل کا راستہ اس کے پیٹ سے ہو کر گزرتا ہے ۔

روحا کی کہی بات ہانی کے کانوں میں گونج رہی تھی ۔

اف میں کیسے اتنی محنت کرو

اس زرافے کو منانے کے لیے

مجھ سے یہ کام تو ہوتا ہی نہیں ۔

کیوں نہ علیزے کے مشورے پر عمل کر لو

۔ہانی نے بالوں کو سمیٹتے ہوے سوچا اور خودہی اپنی سوچ پر مسکرانے لگی ۔

کیا بناٶ سمجھ نہیں ا رہی

۔ہانی نے پریشان ہو کر سوچا ۔

ہاں بریانی بنا لیتی ہو

وہ تو ہر کوئ شوق سے کھاتا ہے

۔ یہ زرافہ بھی کھا لے گا ۔۔

ہانی نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔

لیکن مجھے تو بنانے نہیں آتی

۔اب کیا کرو ۔

چالوں کو دیکھ کر ہانی بلکل پریشان ہو کر سوچ رہی تھی ۔اسے کھانا بنانا نہیں آتا تھا ۔

روحا آپو کو دیکھا ہی ہے وہ کیسے بناتی تھی

بس تھوڑا یاد کرو گی تو مجھے آجاے گا بنانا ۔

ابھی موبائل بھی نہیں ورنہ آپو سے پوچھ لیتی ۔

ہانی نے سوچتے ہوے کہا ۔

ہانی نے پریشر کوکر میں چاول ابالنے کے لیے رکھ دے

لیکن پریشر کوکر کی سیٹی سنتے ہی ہانی نے چیخیں مارنی شروع کر دی ۔

ہانی اب پریشر کوکر پر پانی ڈال رہی تھی ۔

ہیلو کوکر بھای

پلیز یہ سیٹی بجانا بند کر دے

ورنہ میرا دل بند ہو جاے گا۔۔

ہانی نے کوکر پر اور زیادہ پانی ڈالتے ہوے کہا ۔۔۔

اس سے پہلے کوکر کوی کام سر انجام دیتا ۔

زیان ہانی کو پیچے کی طرف کھینچ چکا تھا ۔۔

اور کوکر کی ٹھاااااا ہر طرف گونچ چکی تھی ۔۔

ہانی نے جب انکھیں کھول کر دیکھا زیان اس پر جھکا ہوا تھا ۔۔

اپنے اوپر زیان کو دیکھ کر ہانی حیران رہ گی ۔۔

آپ یہاں کچن میں تو رومنیس چھوڑ دے ۔

اچھا خاصا میں کام میں مصروف تھی ۔

ہانی نے زیان کی گردن میں بازو حائل کرتے ہوے مسکرا کر کہا ۔۔

ہانی کی بات پر زیان کو چار سو والٹ کا شوک ہی لگ گیا ۔اور فورًا اس کے اوپر سے اٹھ گیا ۔۔

تم پاگل ہو کیا

مجھے کیا ضرورت تم سے رومنیس کرنے کی ۔

وہ بھی کچن میں

چشمش زرا غور سے دیکھو کچن کا کیا حال کر دیا ہے تم نے اگر تمہں نیچے نہ کرتا تو یہ حال تمھارا ہوتا ۔۔

زیان نے اردگرد اشارہ کرتے غصہ سے کہا ۔۔

ہر طرف چاول ہی چاول نظر آرہے تھے

۔ہانی دیکھ کر حیران رہ گی ۔

۔یہ کچن کو کیا ہوا اس ککر بھای کو میں نے کہا بھی تھا اپنی سیٹی بند کرے اس نے میری سنی ہی نہیں

۔ہانی نے گھبراتے ہوے کہا ۔۔

کبھی کچن گی ہو تو پتہ چلے کھانا بناتے کیسے ہے ۔

سارے کچن کا نقشہ ہی بگاڑ دیا ۔

زیان نے افسوس سے کہا ۔۔

ہانی بلکل خاموش کھڑی تھی ۔۔

یہ میں نے کتنی بار کہا ہے بال کھلے مت رکھا کرو

میری ایک بات تمہں سمجھ نہیں آتی ۔

زیان نے ہانی کے بالوں کو چھوتے ہوے غصہ سے کہا ۔۔

میں بھی کتنی بار کہو مجھے بال بنانے نہیں آتے

ایک بار کہی ہوی بات سمجھ میں نہیں آتی کیا ۔

زیان کے انداز میں ہی جواب آیا ۔۔

ہانی کے جواب پر زیان کے لبوں پر مسکراہٹ آگی

کھانا میں بنا لو گا

تم جا کر بال باندھو ۔

زیان نے انکھیں چراتے ہوے کہا ۔

کیا کھانا سچی

آپ بنالو گے ۔۔

ہانی نے خوشی سے چہکتے ہوے پوچھا ۔۔

ہاں کھانا میں بنالو گا

اس میں پاگلوں جیسی حرکیتں کرنے والی کیا بات ہوی ۔۔

زیان نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔

زیان میں بہت خوش ہو

شکر ہے مجھے کھانا نہیں بنانا پرے گا ۔

آپ خود ہی بنا لیا کرے گے

ہانی نے خوشی سے کودتے ہوے کہا ۔۔

پاگل اتنی سی بات پر خوش ہوگی

لڑکیاں جان مانگنے پر آجاتی ہے

اور اس کی سوچ صرف کھانے تک محدود ہے

میری پاگل سی چشمیش

زیان نے ہانی کو دیکھتے ہوے دل میں سوچا

اور خودی مسکرانے لگا

چلو کمرے میں تمہارے بال بناتا ہو ۔

زیان نے ہانی کو کمرے کی طرف لے جاتےہوے کہا ۔

ہاے زیان

آج کیا مجھےمارنے کا اردہ ہے ایک ساتھ انتی خوشیاں میں برداشت نہیں کر سکتی۔

۔ہانی نے زیان کے گلے لگتے ہوے کہا ۔

زیان اس کے عمل پر حیران رہ گیا۔۔

میری کتنی خوائش تھی میرا شوہر کھانا بھی خود بناے اور مجھے تیار بھی وہی کرے ۔

سچی مجھے انتی خوشی ہوی تھی جب برہان کی مہندی پر آپ نے مجھے تیارکیا تھا ۔۔

ہانی نے خوشی سے بتایا

۔زیان ہانی کی بات سن کر بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گیا ۔

ہانی اور زیان سے خوش ناممکن سی بات ہے ۔

زیان نے خود ہی سوچا

اور اس کے لبوں پر مسکرائٹ آگی ۔۔

—————————–

زیان

آپ ناراض تو نہیں مجھ سے

جو اس دن ہوا اس کے لیے سوری

زیان میرا ارادہ آپ کا موڈ خراب کرنے کا نہیں تھا

مجھے یہ سب کرنا نہیں آتا

اس لیے روحا آپو سے سب پوچھا تھا

ہانی نے گھبراتے ہوے کہا

زیان جو ہانی کے بال بنا رہا تھا ہانی کی بات پر اس کے ہاتھ وہی تھم گے

ہانی کے منہ سے سوری

وہ بھی زیان شاہ کے لیے

اف میں آج خوشی سے مر ہی نہ جاو

یہ پاگل آج حیران کرتی جارہی ہے مجھے

زیان نے دل میں سوچا

وہ ہانی کی باتوں پر حیران تھا

زیان آپ نے جواب دیا

ہانی نے کنفیوز ہوتے پوچھا

ہانی کے سوال پر زیان ہوش میں آیا

ہانی میں چاہتا ہو

جو ہوا ہم سب بھول جاے

بس اب بہت ہوا

اور مجھے انتظار ہے اس دن کا جب تم خود قدم بڑھاوں گی

میری طرف خود کی رضامندی سے

بنا کسی کے کہے

زیان نے ہانی کے گالوں کو چھوتے ہوے مسکرا کر کہا

زیان میں

خاموش بالکل خاموش

زیان نے ہانی کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوے کہا

ہانی میں معافی مانگتا ہو

اپنے ہر اس عمل کی جس سے تم ہرٹ ہوئی ہو

میں انتظار کرو گا کب تم مجھے معاف کرو گی

زیان نے شرمندگی سے کہا

ہانی بالکل خاموش تھی

———————————————————————

عمارہ میں تمہارے لیے جو ڈریس لے کر آیا ہو

تم وہی پہنو گی آج ۔

اسامہ نے عمارہ کو اپنےحصار میں لیتے ہوے پیار سے کہا ۔

ظاہر سی بات ہے وہی کپڑے پہنو گی جو آپ لے کر آے ہے ۔

عمارہ نے اسامہ کے ہاتھ کو تھامتے ہوے کہا ۔

عمارہ برہان کی بھی بیٹی ہو گی ہارون کی بھی بیٹی بابر کی بھی بیٹی ہے

۔یار اب مجھے بھی چاہے اپنی بیٹی ۔

اسامہ نے عمارہ کے ماتھے پر لب رکھتےہوے کہا

۔اسامہ آپ اذان کے کپڑے چنج کریں

۔میں تیار ہو کر آی ۔

عمارہ نے بات کو ٹالتے ہوے کہا ۔

اور اسامہ کے حصار سے نکل کر ڈراسنگ روم چلی گی ۔

ہاے میری معصوم سی بیوی ۔ شرما گی

اسامہ نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔

اور آذان کے کپڑے چنج کرنے لگا ۔۔

———————————————————————–

ہارون میں یہ ڈریس نہیں پہنو گی ۔

روحا نے مکیسی کو دیکھ کر صدمے سے کہا جس کا شولڈر باکل سلیولیس تھا ۔

تم آج یہ ہی پہنو گی پنک روز

ورنہ مجھے پہنانے میں زرا شرم نہیں آے گی

۔سو شرافت سے پہن لینا ویسے بھی تم لڑکیوں کی پارٹی ہے کوی اور وہاں نہیں ہو گا

۔تم پریشان مت ہو میری جان

ہانی نے پارٹی رکھی ہے اگر تم ایسا کرو گی وہ ناراض ہو جاے گی ۔

ہارون نے مسکراتے ہوے سمجھایا ۔

ہارون کی بات پر روحا کو کچھ حوصلہ ہوا ۔۔

ہارون جنت آپ کے پاس ہی ہو گی

۔ویسے بھی آپ کے بنا رہتی ہی نہیں ہے آپ اچھے سے سنبھال لے گے

لیکن پھر بھی میں آپ کو بتا دو ۔

جنت کے لیے ایک بیگ تیار کیا ہے جس میں جنت کی ضرورت کی ہر چیز موجود ہے ۔۔

روحا کو ہارون پر پیار آ رہا تھا( جو اپنے دل پر پتھڑ رکھتے ہوے روحا کو جانے کی اجازت دے رہا تھا وہ بھی جانتی تھی ہارون اس کے بنا ایک لمحہ بھی دور نہیں رہ سکتا).

ہارون آپ نے بھی اپنا خیال رکھنا ہے

مجھے زرا یاد نہیں کرنا جانِ روحا ۔

روحا چلتی ہوی ہارون کے پاس آی

اس کی شرٹ کے کالر کو صیح کرتے ہوے کہہ رہی تھی۔

ہارون حیران رہ گیا تھا روحا کے عمل پر ۔

خیر تو ہے پنک روز

آج کل بڑا پیار آ رہا ہے اپنے شوہر پر ۔

ہارون نے روحا کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوے پوچھا ۔

جی بس آج کل مجھے اپنے ہیبی پر پیار آرہا ہے

۔روحا نے اترا کر کہا ۔

پھر تم پارٹی پر نہ جاو پنک روز

آج رات تمہاری واقعی خیر نہیں ہے بچ کےرہنا مجھ سے ۔۔۔

ہارون نےانکھوں میں شرارت لاتےہوے انکھ ونک کر کے کہا ۔۔۔

جنت کا سارا سامان تیار ہے

۔اپنا بھی خیال رکھنا

روحا نےہارون کو پٹری سے اتراتے دیکھ جلدی سےبات کرتے ہوے دوبارہ ساری تفصیل بتای ۔

اور ڈارسنگ روم کی طرف بھاگ گی ۔۔

ہممم اوکے

۔ہارون نے پیچھے سے تحمل سے جواب دیا ۔۔

———————————————————————–

کیا یار بچے میرے ہے

ان کے لے پارٹی ارینج کی گی ہے

اور بچوں کے باپ کو ہی آنے کی اجازت نہیں ہے ۔

برہان نے نروٹھے پن سے کہا ۔۔

ہاہاہاہاہاہا

کیسے بچوں کی طرح ناراض ہو رہے ہے

۔پری نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔۔

تم مذاق بنا لو میرا

تمہاری اپنی بولتی بند ہو جاتی ہے میرے مذاق پر

۔برہان نے انکھ ونک کرتے ہوے کہا ۔

برہان کی بات پر پری خاموش ہو گی ۔۔

جو ڈریس تمہں دیا ہے وہی پہنو گی تم

برہان نے پری کے سہنری بالوں کو چھوتے ہوے پیار سے کہا ۔۔

اگر نہ پہنو تو

۔پری نے برہان کو تنگ کرنے کے لیے پوچھا

پھر تم آج رات اپنی خیر منانا

سر عام دھمکی دی گی

۔بے شرم انسان

۔پری نے برہان کو مکے مارتے ہوے کہا ۔۔

پری کی حالت دیکھ کر برہان نے قہقہ لگایا ۔۔

——————————————————————–

یہ شاور کیوں آن نہیں ہورہا

میں لیٹ ہورہی ہو پہلے ہی

ہانی نے شاور کو دیکھتے ہوے پریشان ہوکر سوچا

ہانی نے غصے سے شاور پر اپنا جوتا مارا اور اسے لگاتار کھنچنے لگی

لیکن پانی نہ آیا

زیان جو ہانی کی حالت دیکھ کر قہقے لگا رہا تھا

پاگل لڑکی

جلد بازی میں اندھی ہوگی ہوکیا

نیچے غور سے دیکھو یہاں سے آن ہوگا شاور

زیان نے ٹیپ کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا

ہانی نے ٹیپ آن کیا پانی ان دونوں پر برسنے لگا

زیان اور ہانی دونوں ہی شاور کے نیچے تھے

ہانی پوری بیھگ چکی تھی

س کا بیھگا پن زیان شاہ کو پاگل کررہا تھا

چلے اب جاے یہاں سے

ہانی نے زیان کو باہر کی طرف اشارہ کرے ہوے کہا

زیان ہانی کی بات کا جواب دیے بنا اپنی شرٹ اتارنے لگا زیان یہ کیا کررہے ہے

ہانی نے نظریں جھکاتے ہوے پوچھا

مل کر نہاتے ہے

زیان نے ہانی کو کمر سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا کر مسکرا کر کہا

زیان کچھ عقل کرلے میں بہت لیٹ ہورہی ہو

ہانی نے اپنا آپ چھڑواتے ہوے کہا

جس میں وہ ناکام رہی

ہانی کے ہونٹوں سے ٹپکتا پانی

زیان کو بالکل ہی مدہوش کر گیا

اور بنا ہانی کی بات کا جواب دیے اپنے دہکتے لب اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے

ہانی حیران پریشان زیان کی جنونیت کو برداشت کررہی تھی

اس کا اپنے قدموں پر کھڑے رہنا مشکل تھا

ہانی نے خوب مزاحمت کی

لیکن زیان نے اسے نہ چھوڑا

اپنی تشگنی مٹا کر ہانی کو چھوڑا

ہانی اپنی سانسوں کو بھال کر رہی تھی

جب اسے اپنی گردن پر نرم دہکتا ہوا لمس محسوس ہوا

زیان لگتار ہانی کو بیک سے چومتا ہوا پاگل ہورہا تھا

زیان پلیز

ہانی نے التجا کی

زیان نہیں

جب ہانی کو اپنے کندھے سے شرٹ سرکتی ہوئی محسوس ہوئی

اس نے زور سے چلاتے ہوے زیان کو دھکا دیا

زیان دھکے پر ہوش میں آیا

اسے اپنے عمل پر شرمندگی ہورہی تھی

سوری ایم سوری

زیان معذرت کرتا چلا گیا

اف ہانی آرام سے بھی تو کہہ سکتی تھی

اب ناراض ہوگے ہو گے

اتنی مشکل سے سب ٹھیک ہونے لگتا ہے

پھر میں کچھ نہ کچھ غلط کر جاتی ہو

ہانی نے دکھی ہوتے ہوے سوچا

پاگل ہو زیان تم

وہ کیا سوچے گی میرے بارے

اب پھر مجھے غلط سمجھ لے گی

ہر بار وہ میرے پاس آنے کی بجاے

مجھ سے دور ہوجاتی ہے

صرف میری وجہ سے

زیان نے افسودگی سے سوچا

اب اسے تب تک ہاتھ نہیں لگاو گا جب تک وہ خود آگے نہیں بڑھے گی

چاہے کچھ بھی ہوجاے اب

نہ اس کی طرف دیکھو گا

اگر مہر ہاوس روکے گی آج تو

اسے واپس آنے کا بھی نہیں کہو گا

زیان نے خود سے عہد کیا

“““““““““““““““““

بابر حجاب کا بیگ میں نے پیک کر دیا ہے

اسے فیڈر ہر دو گھنٹے بعد دینا ہے اسے دودھ گرم ہی دینا ہے ۔

اچھا

علیزے نے ہدایت کی ۔

یار علیزے تم مجھے کل سے تقریباً ہزار بار یہ بتا چکی ہو

۔مجھے تو بات حفظ ہو گی ہے ۔

بابر نے علیزے کو اپنے حصار میں لیتے ہوے کہا ۔۔

آپ بھول جاتے ہے سب علیزے نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔

میرا لایا ہوا ڈریس پسند آیا

۔ بابر نے علیزے کے بالوں کو چھوتے ہوے کہا ۔

ہاں بہت پسند آیا

۔علیزے نے شرماتے ہوے جواب دیا ۔

ویسے ناانصافی ہے تم سب لڑکیاں انجواۓ کرو گی

۔اور ہم لڑکوں کو بچے پکڑا دے ۔

بابر نے مصوعنی نروٹھے پن سے کہا ۔۔

ہاہاہہاہااہاہاہہا

یہ صرف لڑکیوں کا فکنشن ہے ہانی نے ہی ارنیج کیا ہے بس ہم پانچ ہی ہو گی اور کوی نہیں ۔

آپس میں ٹائم گزارنے کے لیے ہانی نے یہ پلان بنایا ہے ۔علیزے نے تفصیل سے بتایا ۔۔

مجھے بھی کہہ دوں بابر اپنا خیال رکھ لینا

بابر نے مسکراتے ہوے کہا

مجھے پتہ ہے

آپ بن کہے اپنا خیال رکھے گے

میرے لیے ااپنی بچی کے لیے

علیزے نے بابر کی پیشانی پر اپنے لب رکھتے ہوے کہا

علیزے کے لمس پر بابر کو سکون محسوس ہوا

مت جاو پارٹی پے

بابر نے بہکے انداز میں کہا

علیزے بابر کے انداز کو دیکھ کر جلدی سے بھاگ گی

ہاہاہاہاہا

میری شرمیلی پٹھانی

بابر کی جان

بابر نے قہقہ لگاتے ہوے کہا

————————————————————

ہانی نے اپنے مہر ہاوس ہی پارٹی ارنیج کی تھی ۔

ساری ڈیکورشن سیٹ اپ خود تیار کیا تھا

پری علیزے ہانی روحا عمارہ نے ریڈ مکیسی پہنی ہوی تھی

۔وہ سب بہت پیاری خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔

بلاج پلوشہ کو ہانی اور روحا نے پکڑا ہوا تھا ۔

عمارہ نے اذان کو پکڑا ہوا تھا ۔ب

چے بہت پیارے لگ رہے تھے ۔۔

————————————————————

یار کتنا برا کیا ہمارے ساتھ ان لڑکیوں نے ۔

خود وہاں انجواۓ کر رہی ہے ہمارے بغیر

۔اور ہم یہاں بور ہو رہے ہیں ۔

ہارون نے افسودگی سے کہا ۔

صیح کہا ہارون بھای آپ کے پاس تو پھر جنت ہے اس سے پیار کرکے آپ کا ذہین دوسری طرف چلا جاے گا

۔لیکن ان ظالم لڑکیوں نے میرے بچے بھی میرے پاس نہ رآنے دیے

میں کیا کرو مجھے اتنی یاد ارہی ہے برہان نے بھی افسودگی سے کہا ۔۔

یار تم دونوں چپ کرو

ابھی میں نے حجاب کو اتنی مشکل سے سلایا ہے ۔

اب اگر اٹھ گی تنگ کرے گی ۔۔

بابر نے سنجیدگی سے کہا ۔۔

کیوں

بابر بھای آپ کو یاد نہیں آ رہی علیزے بھابھی کی ۔

برہان نے تنگ کرنے کے لیے کہا ۔۔

یاد آ رہی ہے پاگل

لیکن میں تم دونوں کی طرح رونا نہیں ڈالا ہوا ۔

بابر نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔۔

یہ ٹھرکی نظر نہیں آرہا

۔ہارون نے اسامہ کی تلاش میں ادھر اٗدھر دیکھتے ہوے پوچھا ۔

میں یہاں ہو سنجیدہ انسان ۔اسامہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوے کہا ۔

اور لیپ ٹاپ ٹیبل پر سیٹ کرنے میں مصروف ہو گیا ۔۔

یہ کیا کر رہے ہو ۔

ہارون نے ناسمجھی سے پوچھا ۔

یہ لڑکیاں خود کو بہت سمارٹ سمجھتی ہے ۔انھیں نہیں پتہ اسامہ ان سے دو قدم آگے ہے ۔

میں نے مہر ہاوس کے لاونج میں کمرہ لگایا تھا ۔

اب ہم دیکھیے گے

آخر یہ سب کر کیا رہی ہے

۔اسامہ نے قہقہ لگاتے ہوے تفصیل سے بتایا ۔۔

تو کدھر جا رہا ہے

۔اسامہ نے زیان کو باہر جاتے دیکھ کر پوچھا ۔۔

مجھے کوئ شوق نہیں تم لوگوں کی طرح فصول کام کرنے کے

دیکھو سب اپنی بیویاں ۔

زیان نے سنجیدگی سے کہا ۔۔

زیان بھای بیٹھ جاے ان سب میں آپ کی بیوی بھی شامل ہے

۔جس کی ہر وقت بے عزتی کرنا شاید آپ کی عادت بن گی ہے

جیسے آپ شوق سے سرانجام دیتے ہے

ثواب سمجھ کر ۔

برہان نے سنجیدگی سے کہا

۔لیکن اس کے لہجے میں غصہ تھا ۔

برہان کی بات پر زیان خاموش ہو گیا ۔۔

چل اسامہ اب لیپ ٹاپ آن کر

ہارون نے بے تابی سے کہا ۔

کر رہا ہو صبر کر لے

اسامہ نے لیپ ٹاپ آن کرتے ہوے کہا ۔۔

لیپ ٹاپ کے کرتے ہی سب اپنی جگہ مہبوت رہ گے

وہ پانچوں ہی آسمان سے اتری ہوی پریاں لگ رہی تھی

یار ناانصافی ہے یہ ہم کیوں ہے یہاں

برہان نے افسودگی سے کہا

————-

پنک روز

روحا کے تو رونگھٹے کھڑے ہوگے

ہارون کی آواز پر

(وہ سب تیار ہوکر اپنے شوہروں کے سامنے نہیں گی تھی )

روحا کو اپنا ڈریس دیکھ کر فکر تھی

ہارون کیا ری ایکٹ کرے گا

اس لیے ہارون کی آواز پر گھبرا گی