Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 20)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
السلام و علیکم پری کیسی ہو ۔۔
روحا نے پری کو فون پر مخاطب کیا ۔۔
وعلیکم السلام جانی
میں ٹھیک تم سناو جنت ہارون کیسے ہے ۔۔۔
پری روحا کی کال دیکھ کر خوش ہو گی تھی ۔۔
سب ٹھیک ہے یار تم بتاو کب میرے بھتجا بھتجی آی رہی ہے ۔۔
(روحا نے جب سے سنا تھا وہ پھپھو بنے والی ہے تب سے بے تابی سے پری کے بچوں کا انتظار کر رہی تھی ۔)
آجاے گے ۔
یار اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تم برہان کی شادی ۔۔۔۔
بکواس بند کرو پری کتنی دفعہ کہو تمہں کچھ نہیں ہو گا ۔۔ روحا نے بات کاٹتے ہوے غصہ کہا۔
اگر آج کے بعدتم نے ایسا کچھ کہا میں نےدوستی ختم کر دینی ہے ۔
روحا نے روتے ہوے کہا ۔۔۔۔
ارے میں مذاق کر رہی تھی ۔
جیسے ہی پری کو محسوس ہوا روحا کا رونا تبھی بات کو ٹالتے ہوے کہا ۔
۔اچھا چھوڑ میں بکواس کرتی ہو یہ بتا تم کب مجھے دوبارہ مامی +خالہ بنا رہی ہو ۔۔
پری نے روحا کا دھیان دوسری طرف کرنا چاہا جس میں وہ کامیاب بھی ہوی ۔۔
کچھ شرم ہی کرلو
روحا نے مصنوعی غصے سے کہا
۔ہاہاہا شرم میرے پاس سے گزار کے گی تھی یار کہتی ہم نے تمھارے پاس نہیں آنا اب مجھ معصوم کا کوی قصور نہیں ۔۔۔
چل بتا نہ اب جانی ۔۔
پری نے بے شرمی سے پھر پوچھا ۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا پری وہ ۔۔۔
روحا کو سمجھ نہ ای وہ کیا کہے ۔۔
ایک منٹ تو یہ تو نہیں کہہ رہی تمھارے اور ہارون کے درمیان ابھی کچھ ٹھیک نہیں ہوا ۔۔۔
پری نے اچانک بولتے ہوے کہا ۔۔۔
”ہممممم“
کیا ہمم شرم کرو کچھ روحا تم ایسی تو نہ تھی کس بات کا ڈر ہے تمھیں یہ بتاو ۔
تمھیں پتہ مجھے سن کر دکھ ہو رہا ہے تم ایسا کیوں کر رہی ہو ۔۔
پری نے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
پری تم غصہ کر رہی ہو
۔روحا نے روٹھے پن سے پوچھا ۔۔۔
نہیں جانی پیار کر رہی میں
اتنا غصہ آرہا دل کر کر رہا ایک تھپڑ لگاو ۔۔
پری نے ڈانٹتے ہوے کہا۔۔۔
پری مجھے خود سمجھ نہیں آرہا ہارون کی محبت دیکھ کر مجھے یقین ہے
لیکن میرا دل ۔۔
روحا نے کنفیوژ ہوتے کہا ۔۔۔
کیا دل تمھارا مجھے بتاو روحا ایک بیٹی کی ماں بن گی ابھی تک ہارون کی محبت محسوس نہ کر سکی ۔۔
ہر دفعہ تم ایسا کرتی ہو ان کی جگہ اور مرد ہوتا تو دوسری لڑکیوں میں متوجہ ہوتا لیکن وہ صرف تمہں چاہتا ہے ۔۔
تمہں عقل نہیں ہے کیا جو ایسے کام کرتی ہو بتاٶ اب میں تمہں کھولے الفاظ میں سب کہو ۔۔۔
تم یہ دیکھو اس دنیا میں تمھارے سوا ان کا کوی نہیں ہے ۔ تمھار پاس تو پھر ماما بابا برہان ہانی سارے رشتے تھے وہ اکیلے رہے ساری زندگی وہ محبت کے لیے ترسا ہے بجاے تم محبت دو ان کو
تم تو پاس ہی نہیں جاتی ۔
کیوں ناشکری ہو رہی ہو اتنی محبت عزت خیال کرنے والا شوہر ملا ہے اور تم۔۔
پری نے آج روحا کو کھری کھری سنائ ۔
“میں نہ شکری نہیں پری بس وہ۔۔۔
روحا کے دل کو بات لگی تھی تبھی ممنانا کر کہا ۔۔
چپ باکل چپ روحا مجھے یہ امید نہیں تھی اتنا خوبصورت مرد ملا تمہں اگر مجھے برہان سے محبت نہ ہوتی میں ہارون سے شادی کرتی ۔۔
پری نے واقعی روحا کو تنگ کرتے کہا ۔۔۔
شرم کر لو پری کچھ میرے اتنے معصوم بھای کو چھوڑ کر تم نے ہارون پر نظر رکھی ہے ۔۔
روحا نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔
ہاں تو تمہں قدر نہیں ہو گی تو میں ایسا ہی کہو گی ۔۔
نہ کرو روحا ایسا ہارون کو محبت دو معاف کر دو اسے یار اگر اللہ نے تمہں اتنا پیارا شوہر دیا ہے تو سنھبال لو ہارون کو ایسا نہ ہو ہارون کا دل تمہاری طرف نہ آے
۔پری نے سمجھداری سے روحا کو سمجھایا ۔۔۔
میں کیا کرو ایسا پری میں بھی اب چاہتی ہو میں اپنی شادی شدہ زندگی میں خوش رہو ۔۔۔
کییییییییا““
پری نے چیخ کر کہا ۔کیا کرو پاگل لڑکی یہ اتنی خوبصورتی لے کر بیھٹی ہو ۔اس کا استعمال کرو تیار ہو میک اپ کرو اچھا سا ڈریس پہنو ۔۔
خوش رہا کرو آج ہی ہارون کو دل سے معاف کرو اور سب ٹھیک کرو تم میری دوست ہو تم غلط ہو روحا تبھی تمہں سمجھا رہی ہو ۔۔
واہ پری میری ٹھرکی پری بھی سمجھدار ہو گی ۔۔۔
روحا نے خوش ہوتے پری کو کہا ۔۔۔
ہاں تمہں قدر نہیں ہے میری اچھا روحا اب تم اچھے سے تیار ہو آج ہارون کو بے ہوش کر دو ۔۔۔![]()
پری نے ہستے ہوے پھر بے شرمی سے کہا ۔۔۔
پتہ نہیں تم میرے معصوم بھای کو کیسے مل گی تم نے پی ایچ ڈی کی ہے بے شرمی میں لعنتی عورت ۔۔
روحا تو پری کی بات سن کر حیران ہو گی تھی ۔تبھی ہستے ہوے کہا ۔۔۔
(برہان اور معصوم کتنی غلط فمہی ہے ان دونوں بہنوں کو اف برہان معصوم ہو ہی نہ جاے بے شرم ).
بس کر دے بہن تمھارا بھای معصوم ہو ہی نہ جاے ۔۔
پری نے اپنے سرخ گلنار چہرے سے کہا جو برہان کے ذکر پر سرخ ہو گیا تھا ۔۔
پری تمم۔۔۔۔
اچھا بس فارغ عورت اپنا کام کرو ۔۔مجھے بھی کام ہے میرا معصوم شوہر آنے والا ہے ۔۔
پری نے پھر روحا کی بات کاٹتے ہوے کہا ۔۔
اور فون کاٹ دیا ۔۔۔
ہاہاہا شرما گی میری ٹھرکی بھابھی ۔۔
روحا نے ہستے ہوے کہا ۔۔۔
چھوٹی باہر کوئ ملنے آیا ہے آپ کو ۔گل خان نے کمرے میں داخل ہوتے جنت کو گود میں لیے روحا کو اطلاع دی ۔۔
اچھا میں مل لیتی ہو ۔آپ مجھے بتا دے ہارون کب تک آے گے گھر ۔۔
روحا نے شرماتے ہوے پوچھا ۔۔۔
ہارون سر آجاے گے جب بھی آپ کال کر لے انہیں ۔
یہ کہتے ہی گل خان نے باہر کی طرف ڈور لگا دی ۔
ہاہاہا ہارون بھی نہ سب کو پتہ چل گیا ہے یہ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہے ۔۔
روحا نے بجاے غصہ کرنے کے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوے ہنس کر سوچا ۔۔
(ہارون کا زور کا معمول تھا جب بھی روحا کال کرتی ہارون سارے کام چھوڑ کر اپنی میٹنگ تک چھوڑ کر واپس گھر آجاتا تھا ).
————————————————————
السلام و علیکم ممانی ۔
روحا نے ہال میں انٹر ہوتے سامنے ساجدہ کو اسلام کیا ۔۔
روحا حیران تھی آج ساجدہ اور کرن کو دیکھ کر پر ہمت کر کے صوفے پر بیٹھ گی ۔۔
(ان کچھ عرصے میں روحا نے اگر معاف نہیں کیا تھا وہ تھی ساجدہ اور ہارون ۔
روحا ہارون آج تک ایک دوست بن کر رہ رہے تھے ۔ہارون نے وعدہ کیا تھا جب تک وہ اسے معاف نہیں کرے گی تب تک ہارون روحا کے قریب نہیں آے گا ۔۔).
تم کیسی ہو کرن ۔روحا نے پریشان ہو کر کرن سے پوچھا جو مسلسل روحا کو گھورنے میں مصروف تھی ۔۔
جو لڑکی میک اپ میں ہر وقت رہتی تھی آج ویران چہرہ لیے آنکھوں کے گرد حلقے اجڑی حالت میں روحا کے سامنے تھی کرن نے کوئ جواب نہیں دیا ۔۔
روحا بیٹا ہم دونوں کو معاف کر دو ۔میں جانتی ہو معافی کے قابل تو نہیں لیکن اگر ہو سکے ہمہں معاف کر دو ۔ساجدہ نے اچانک ہاتھ جوڑتے ہوے معافی مانگی ۔۔کس بات کی معافی ممانی میں کیسی بات کو لے کر پریشان نہیں میرے اللہ نے مجھے اتنا پیارا شوہر اور بیٹی دی ہے میں شکر ادا کرتی ہو آپ معافی نہ مانگے ۔۔
روحا نے ساجدہ کے ہاتھ پکڑتے ہوے کہا ۔
لیکن مجھے معافی چاہے اگر اس دن میں تمہں سب نہ بتاتی تو آج تم دونوں اپنی ازواجی زندگی اچھے سے گزار رہے ہوتے ۔
(میں حسد کرنے لگی تھی نسرین سے پہلے اتنے خوبصورت مرد امیر اکیبر شوہر سےشادی ہو گی وہ بھی پسند سے پھر اتنے اچھے ساس سسر نند جیسی بہن ملی نسرین کو ۔
میں نے بہت کوشش کی تھی نسرین کو تنزیلہ کے خلاف کر سکو لیکن کامیاب نہ ہو سکی ۔۔
پھر مجھے اس ڈیل کا پتہ چلا اور یہ بھی وہ سارے پیسے تمہارے نام بھی لگنے ہے ۔۔
اکبراور میں نے پلان بنایا ہم مہران کو ڈرا دمکھا کر وہ ڈیل والے پیسے حاصل کر لیے گے ۔۔
پر افسوس مہران کی موت ہو گی ۔شاید اس کی قسمت میں ایسا ہی لکھا تھا ۔۔
تمھاری پیدائش پر میں نے جان بوجھ کر نسرین کو تمھارے خلاف کیا اور کامیاب بھی رہی ۔۔
بلکہ سب نے تمھں منحوس کہنا شروع کر دیا ۔۔
وجہ مجھے وہ رقم چاہے تھی ۔لیکن میں بھول گی تھی اللہ کی لاٹی بے آواز ہوتی ہے مجھے اکبر اور کرن کو دنیا ہی میں سزا مل گی۔۔).
ساجدہ نے آج اپنے گناہ کا اعتراف روتے ہوے کیا ۔۔
جس دن مجھے پتہ چلا تم وہ لڑکی ہو جو ہارون کی بیوی ہے تبھی تم دونوں کا رشتہ خراب کرنے کی کوشش میں تمیھں سب بتا دیا ۔۔۔
لیکن بیٹا ہارون کا کوی قصور نہیں ہے تم اس کا عشق ہو وہ سب باتیں بھلا کر اس نے شادی کی ہے تم معاف کر دو بیٹا اسے وہ میرے بچے نے پوری زندگی محبت کے لیے ترس کر گزاری ہے تم اسے وہ محبت دے سکتی ہو روحا ۔۔
اور مجھے معاف کر ۔۔۔ارے آنٹی کیوں مجھے گناہگار بنا رہی ہے اللہ کے سامنے ۔۔
ساجدہ نے روتے ہوے پھر روحا کے پاٶں پکڑ کر معافی مانگنی چاہی جب روحا نے ہاتھ پکڑ لیے ۔۔۔
ارے میری بچی ہیمں معافی مانگنی چاہے دیکھو کرن کو اس کو بھی سزا ملی تمھارا دل دکھا کر ۔۔
کچھ ماہ پہلے میں کرن کی شادی ایک امیر اکیبر لڑکے سے کروا دی ۔۔
ہاےمیری بچی کی قیسمت رخصتی کے وقت اس کا شوہر ایک کار حادثہ میں فوت ہو گیا ۔۔
اس کے بعد میری بچی کو سب نے سبز قدم ۔منحوس بد بخت جیسے دقیانوسی الفاظ سے پکارنا شروع کر دیا ۔۔
کرن سے یہ سب برداشت نہیں ہوا تو دو دفعہ خودکشی کرنے کی کوششش کی ۔
اور زندگی سے تنگ آکر اپنا ذہنی توازن کھو بیھٹی ہے ۔۔۔تبھی تمیھں گھور رہی ہے ۔
ساجدہ نے روتے ہوے کرن پر ہوے ظلم کی داستان سنائ ۔۔
مجھے آج یقین ہوا مکافات عمل بھی ہوتا ہے ۔
آج احساس ہوا ۔تم جب ایسے الفاظ سنتی تھی کیا گزرتی تھی ۔۔
مجھے معاف کر دو روحا ۔۔
روحا جو خود اتنا سب سن کر رو رہی تھی ۔
جب بولی ممانی میں نے ہمیشہ اپنے اللہ کے سامنے معافی مانگی ہے کبھی کسی کو بد دعا نہیں دی ۔۔
روحا نے ساجدہ کے ہاتھ پکڑتے ہوے کہا ۔۔۔
وہ سمجھی تھی ک کہی ساجدہ یہ نہ سمجھے اس کی بددعا سے سب کچھ ہوا ۔۔
نہیں بیٹا تم ۔۔۔
تم پنک روز ہو ہارون کی پنک روز ۔تم تو خوبصورت ہو اور میں بد صورت تم منحوس نہیں منحوس میں ہو ۔
ہارون نے کہا تھا وہ میرا قتل کر دے گا تم کہو مجھ قتل کر دے میں نے نہیں رہنا زندہ اپنے شوہر اور اللہ کے پاس جاٶ گی جہاں سکون ہو گا ۔۔۔
یہ دنیا بہت بری ہے سب برے ہے اچھے نہیں یہاں سب مجھے منحوس بولتے ہے ۔۔
اس سے پہلے ساجدہ کچھ کہتی جب اچانک کرن نے اٹھ کر روحا کے قریب بیٹھ کر روتے ہوے اپنے دل کی بات کی ۔۔
نہیں تم بہت پیاری ہو دیکھنا سہی ہو جاٶ گی تم اور تمھارا شہزدہ بھی آے گا کرن ۔
روحا نے روتے ہوے کرن کے آنسو صاف کیے ۔۔
تم سچ کہہ رہی ہو پنک روز کرن یکدم روحا کے گلے لگتے ہوے خوش ہوتے پوچھا ۔۔
ہاں میری جان ۔
روحا میری بیٹی کو معاف ۔
۔ ممانی اگر میرے معاف کرنےسے آپ اور کرن کو سکون ملتا ہےمیں آپ دونوں کو معاف کیا ۔۔
روحا سے جب برداشت نہیں ہوا کرن کی ایسی حالت دیکھ کر تبھی روتے ہوے کہہ کر کمرے میں بھاگ گی ۔۔پاکستان آ کر روحا نے سب سے معافی مانگی تھی ۔
کیونکہ وہ جانتی تھی ۔امریکہ جا کر اس نے سب کا دل دکھایا تھا ۔۔۔
سب نے روحا کی مجبوری سمجھ کر معاف کر دیا تھا ۔۔
برہان روحا ہانی مہر صاحب تنزیلہ بیگم سب ایک دوسرے کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روے تھے ۔
جو ایک دوسرے سے دور ہو گے تھے ۔۔
ہارون خان آج بھی روحا کی معافی کا طلب گار تھا ۔(روحا نے معاف تو تب ہی کر دیا تھا جس دن اللہ کی رحمت روحا کے ہاتھوں میں ای تھی ۔
لیکن ہارون روحا کے منہ سے سننا چاہتا تھا ۔).
————————————————————
ہارون جب رات کو گھر واپس آیا تھا کافی سناٹا محسوس ہوا ۔تبھی حیرانی سے اوپر کمرے کی طرف بھاگا ۔۔
ارے بابا کی جان جاگ رہی ہے ماماکدھر ہے آپ کی ۔
ہارون نے اندر داخل ہوتے سامنے بیڈ پر لیٹی جنت کی طرف گیا جو کھلونوں کے ساتھ کھیلنے میں مگن تھی ۔۔
پنک روز ۔پنک روز کہاں ہو یار پتہ بھی ہے تمیھں نہ دیکھ لو تب تک میں بے چین رہتا ہو ۔
ہارون نے جنت کو گود میں اٹھے پورے کمرے کی چاروں طرف دیکھ کر روحا کو آوازیں لگائ ۔
تمھاری ماما بہت بری ہے مجھ سے محبت نہیں کرتی ۔ہارون نے جنت کو کس کرتے ہوے شکایت لگائ ۔(جیسے وہ ننھی سی جان سن رہی ہو ) ۔
کیا میں بری ہو آپ کیا ہے ہارون روحا نے اچانک آتے ہوے ہارون کے ہاتھوں سے جنت کو لیتے ہوے پوچھا جو ہارون کی گود میں سو گی تھی ۔۔
ہاے میں بے شرم
میری پیاری پنک روز ۔ہارون نے روحا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر بے حد قریب کرتے ہوے کہا ۔۔
ہارون چلے کھانا کھاتے ہے ۔روحا نے نظریں چراتے ہوے کہا ۔
ہاں چلو پھر میں نے اپنا کام کرنا بھی تو ہے جانِ ہارون ۔
ہارون نے شرافت سے روحا کو چھوڑتے ہوے کہا ۔
————————————————————
کیسے کرو گی میں ہارون ویسے ہی اتنا فدا ہے پتہ نہیں کیا کرے گے ۔۔
روحا کھانے پر کم توجہ دے یہی سوچ رہی تھی جب ہارون نے روحا کو مخاطب کیا ۔۔
پنک روز کیا ہوا ہے خاموش ہو میری جان ۔ہارون نے روحا کے ہاتھ پکڑتے ہوے پوچھا ۔۔
ہاں بس وہ طیبعت نہیں سہی لگ رہی ۔
روحا نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے نظریں چراتے ہوے کہا ۔۔
تم ڈاکٹر ۔۔میں کمرے میں جا رہی ہو ۔
روحا نے ہاتھ نکال کر بنا سنے کمرے میں چلی گی ۔۔
کیا ہوا ہے پنک روز کو میں نے تو اب کچھ نہیں کیا لگتا ہے ۔ہانی لوگوں کو یاد کر رہی ہے ۔۔
ہارون نے خودی یہ سب سوچا ۔
————————————————————
پری میری بات سن میرا دل گھبرا رہا ہے مجھ سےایسا نہیں ہو گا ۔
روحا نے کمرے میں آتے فورًا پری کو کال ملاتے ہوے کہا ۔۔
چل ایک تمھارا دل گھبراتا بہت ہے جان کچھ نہیں ہوتا بس ہارون کے پاس جانا ہے آگے کا کام صرف ہارون کا چلو شاباش تیار ہو جاٶ ۔
پری نے اپنی کہہ کر فون کاٹ دیا ۔۔
یہ ہے ہی بغیرت لڑکی زرا جو میرا احساس کر لے ۔
روحا نے پری کو دل میں کوسا ۔۔
چل روحا بس بات ہی کرنی ہے ہارون کون سا کھا جاۓ گے ۔۔
روحا نے دل میں حوصلہ دیتے واش روم چلی گی ۔
سلور لہنگے سلور چولی فرنٹ گلا ڈیپ بیک لیس بالوں کو کھلا چھوڑے ہلکے میک اپ ریڈ لپسٹک لگاے روحا آج ہارون خان کے لیے دل سے تیار ہوی تھی ۔۔۔(ہارون یہ کیا کس کی شادی کے لیے لے کر آے ہے لنہگا ۔روحا نے پریشان ہوتے سلور کلر کا بے حد خوبصورت لنہگا دیکھ کر پوچھا ۔۔
تمھیں کیسا لگا پنک روز ۔ہارون نے روحا کے چہرے پر نظر رکھتے ہوے پوچھا ۔۔
بے خوبصورت ہے پر میں کس کی شادی میں پہنو گی ۔
اب تو برہان کی بھی شادی ہو گی ۔
روحا نے کیوٹ سے چہرے کے زاویے بناتے ہوے کہا ۔۔
ہاے میری پنک روز یہ تمھارے لیے ہے جس دن مجھے معاف کرو گی اسی دن پہننا میں سمجھ جاٶ گا ۔تم نے معاف کر دیا ۔۔
ہارون نے روحا کے گال کیھچتے ہوے کہا ۔۔)
————————————————————
پریشان سی روحا اب تیار کھڑی سوچ رہی تھی ہارون کو کیسے کمرے میں بلاۓ ۔
جب کمرے کا دروازہ کھلا گیا ۔۔۔
یہ پنک روز کو آج کیا ہوا لگتا ہے میری کسی بات کا برا مان لیا ہو ۔
ہارون نے پریشان ہوتے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوے سوچا ۔۔
پنک روز کہاں ہو اور یہ کمرے میں اندھیرہ کیوں ہے ۔
ہارون نے کمرے میں آتے روحا سے پوچھا جوکہ ہارون کو کہیں نہیں دیکھ رہی تھی ۔
یار ناراض ہو کیا دیکھو تم جانتی ہو میرا ایک سانس بھی تمھارے بنا لینا مشکل ہے کب سے دیکھ رہا تم چھپ رہی ہو مجھ سے میں معافی مانگ لو گا پر پنک روز سامنے تو آو ۔۔
ہارون نے اب پریشان ہوتے روحا کو آوزیں دی ۔۔۔
ہارون خان اپنی آنکھیں بند کرے پھر سامنے آو گی ۔۔
ہارون کو اچانک روحا کی آواز آی ۔تم کہاں ۔۔
میں نے کیا کہا ہے ہارون اگر آپ نے ایسا نہیں کیا میں نے بات نہیں کرنی ۔۔
روحا نے ہارون کی بات کاٹتے اب نروس ہو کر کہا ۔۔۔
جانِ ہارون آ بھی جاو کہاں ہو جلدی آو مجھے بے چینی ہو رہی ہے ۔۔
روح
روحا نے سامنے کھڑے ہارون کو دیکھا جو واقعی انکھں بند کیے روحا کو بولا رہا تھا ۔۔
تبھی روحا تیار سی نروس ہوتی ہارون کی گردن میں اپنی دونوں بازو حائل کیے کان میں سرگوشی کی ہارون خان کو روحا ہارون خان نے آج معاف کیا ۔۔۔“جانِ روحا ”،
یہ سنتے ہی ہارون نے حیران ہوتے انکھیں کھول کر اپنے بے حد قریب کھڑی تیار سی روحا کو دیکھا۔۔
کیییییا۔۔پھر کہنا پنک روز ۔ہارون نے خوش ہوتے روحا کے گال چومتے ہوے پوچھا ۔۔
معاف کیا آپ کو ۔روحا نے ہارون کی حالت دیکھ کر ہستے کہا ۔
نہیں اس کے بعد بتاٶ مجھے ۔ہارون نے بے تابی سے پھر پوچھا ۔۔
جانِ روحا میرا عشق ہارون خان ۔روحا نے آگے بڑھ کر شرماتے ہوے ہارون کی تھوڑی چوم کر کہا ۔۔
اف پنک روز تمھں نہیں پتہ کب سے میں ترس رہا یہ الفاظ سننے کے لیے ۔اب میرا دل کر رہا ہے میں پوری دنیا کو چلا کر کہو “میری عاشقی تم سے صرف تم سے جانِ ہارون ۔
ہارون نے شدت جذبات سے روحا کو ہگ کرتے ہوے کہا ۔۔
ہاہاہاہا بس کریں ہارون اب میں اتنی بھی خوبصورت اور پیاری نہیں کہ آپ کو مجھ سے عشق ہ۔۔۔۔۔روحا نے ہستے ہوے ہارون کی باہوں کا حصار توڑ کر واپس جاتے کہا جب اچانک ہارون نے وہی بازو اپنی طرف کھیچ کر روحا کے لبوں پر اپنے لب رکھ دے ۔
ہارون کے عمل میں روحا کو شدت محسوس ہوی ۔
روحا کو اپنے قدموں پر کھڑا رہنا مشکل ہو رہا تھا ۔وہ کب کی زمین بوس ہوچکی ہوتی اگر ہارون کے مضبوط حصار میں نہ ہوتی ۔۔
————————————————————
کافی دیر بعد روحا کو اپنے منہ میں خون کا ذائقہ محسوس ہوا تبھی ہارون کا کالر زور سے کھینچا۔
ہارون جو اتنے ماہ کی تشنگی ختم کرنے میں مدہوش ہو چکا تھا ۔
روحا کے لبوں کو نرمی سے آزاد کیا ۔
اب نہ کہنا تم میرے لیے کیا ہو ۔زندگی ہو عشق ہو میرا ۔
اب اگر کہا تو اس سے بڑی سزا ملے گی یہ تو بہت کم سزا تھی پنک روز ۔
ہارون نے روحا کے لبوں پر اپنے انگوٹھے سے خون صاف کرتے ہوے کہا ۔۔
مجھے معاف کر دے ہارون میں نے بلاوجہ نفرت کی آپ سے ۔
ارے کیوں معافی میں اس کا حقدار تھا چھوڑو یار پیاری بیویاں روتی نہیں اپنے شوہر سے رومنس کرتی ہے جیسے میں کر رہا ہو ۔
ہارون نے روحا کی گردن پر اپنے دہکتے لب رکھ کر کہا ۔
ہارون روحا کے جسم کی خوشبو میں مدہوش ہو رہا تھا ۔
روحا بھی خاموش کھڑی ہارون کی گستاخیاں برداشت کر رہی تھی ۔
جب جنت کے رونے کی آواز پر دونوں متوجہ ہوے ۔۔
ارے میری بیٹی جاگ گی ۔
ہارون نے جنت کو گود میں لیتے ہوے کہا ۔۔
ہارون میں نے فیڈ کروانا ہے جنت کو اگر آپ روم سے باہر ۔۔
روحا نے جھجکتے ہوے اھوری بات کی ۔
اوکے میری جان تم وعدہ کرو جنت کے ساتھ سو مت جانا ۔
ہارون روحا کی جھجک سمجھ گیا تھا ۔۔
تبھی روم سے باہر چلا گیا ۔
———————————————————–
ایک گھنٹے کے بعد ہارون خودی انتظار کرتا کمرے میں داخل ہوا ۔
روحا جو خودی ہارون کی طرف پشت کیے کھڑکی کے پاس کھڑی تھی ۔جب ہارون نے پیچھے سے ہگ کیا ۔
پنک روز پنک روز میری جان پتہ میں کتنا خوش ہو میں آج مکمل ہو گا تمھارا محبت کا اظہار سن کر ۔
شکریہ میری جان میری زندگی ۔میرا عشق
ہارون نے روحا کا رخ اپنی طرف کرتے ہاتھوں میں روحا کا چہرہ لیے ایک ایک نقش کو چومتے ہوے کہا ۔
ہارون آپ ۔۔۔۔شششش۔
پنک روز آج تم خاموش ہو گی صرف میری عاشقی کو محسوس کرو گی ۔میں تمیھں بتاو گا کتنا ترسا ہو میں تمھاری قربت اور محبت کو میری جان ۔
ہارون نے روحا کو خاموش کرواتے اس کی گردن پر لب رکھے ۔
میں ایک گفٹ لے کر آیا ہو مجھ یقین ہے تمھیں پسند آے گا ۔
ہارون نے خاموش کھڑی روحا کو آنیئے کے سامنے کھڑے کرتے ہوے خود ہی بولا ۔
یہ گفٹ تھا امید ہے پسند آے گا ۔۔پنک روز
ڈائمنڈ کی نوز پن روحا کو پہتے ہوے کہا ۔۔
روحا نے کوئ جواب نہیں دیا ۔۔
ہارون یہ کیا کر رہے ہے ۔
ہارون نے مسلسل خاموش روحا کو دیکھ کر اس کے کندھوں سے ڈوپٹہ سرکا دیا ۔روحا ہوش میں آتی گھبرا کر پوچھا ۔۔
میں نے تمیھں گفٹ دیا ہے تو تم بھی گفٹ دو مجھے ۔
ہارون نے روحا کو کوئ جواب دینے کی بجاۓ اپنی باہوں میں بھرتے ہوے لے جا کر بیڈ پر لیٹاتے ہوے اپنی کہی ۔
گفٹ مجھے بتا دیتے ہارون میں نے کچھ ۔۔۔
روحا نے فکرمندی سے جلدی سے کہتے بات اھوری چھوڑ دی ۔۔
مجھے گفٹ میں بیٹا چاہے تمھارے جیسا خوبصورت ہارون نے روحا کے لب کو سہلاتے ہوے کہا ۔۔
آپ وقعی بے شرم ہو گے ہارون ۔
روحا نے سرخ گلنار چہرے سے کہا ۔
ہاہاہا پنک روز پرانی بات ہوگی ہے ۔کچھ نیا بولو ۔ہارون نے روحا کا سرخ چہرہ دیکھ کر قہیقہ لگایا ۔۔
پھر میں اپنے بیٹے کے ساتھ محبت کرو گی صرف اسے ہی ٹائم دو گی ۔
جیسے آپ جنت کے ساتھ کرتے ہے ۔روحا نے اچانک کروٹ بدلتے ہوے فورًا کہا ۔۔
نہیں تمیں چھونے کا محسوس کرنے کا میرا حق ہے پنک روز ۔میرے بیٹے کو بھی حق نہیں تمھارے قریب آے ۔
اب پلان چنچ
مجھے ایک اور بیٹی چاہے ۔ ہارون نے روحا کا رخ کرتے ہوے جواب دیا ۔۔
اللہ ہارون آپ ابھی سے اپنے بیٹے سے جلیس ہو رہے ہے جو ابھی آیا بھی نہیں ۔
روحا نے ہستے ہوے ہارون کی آنکھوں کو چومتے ہوے پوچھا ۔جو کہ ا ہارون کی کالی گہری آنکیھں روحا کو اپنی طرف متوجہ کرتی تھی ۔۔
ہاں تم صرف میری ہو جانِ ہارون ۔ہارون کو روحا کی یہ حرکت پسند آی تبھی خوش ہوتے کہا ۔۔
چھوڑو یہ سب کیا ساری رات باتیں کرتی گزار دو گی تم ۔
جیسے میری آنکھوں پر کس کیا مجھے ویسی ہی کس اور چاہے ۔
ہارون نے بے شرمی سے روحا کے لبوں کو فوکس لے کہا ۔
ہارون آپ واقعی بے شرم اور برے ہے۔
روحا نے افسوس سے کہتے ہارون کی گردن میں منہ چھپا لیا ۔
ہاہاہا ہارون ہستے ہوے روحا پر حاوی ہوا ۔۔
ساری رات روحا کو ہارون کے ہر عمل میں محبت عشق اور شدت محسوس ہوی ۔
روحا نے بھی خود سپردگی سونپ دی تھی ہارون کو ۔
————————————————————
سورج کی کرنیں کمرے میں داخل ہوتی روحا کے چہرے پر پڑ رہی تھی جو کہ رات ہارون کی شرٹ پہن کر ہارون کی باہوں میں پرسکون سو رہی تھی ۔۔
سورج کی روشنی پڑتے ہی روحا تھوڑی سے کسمائ ۔
جیسے ہی روحا نے آنکھ کھولی تو ہارون کو اپنی طرف دیکھتے حیران رہ گی تھی ۔
ہارون مسلسل روحا کے چہرے کو محبت اور عقیدت سے دیکھ رہا تھا ۔
آپ کب جاگ گے ہارون ۔روحا نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی کیونکہ ہارون نے اپنی گرفت روحا پر مضبوط کی تھی ۔۔
تم جب میرے پاس ہوتی ہو میرا سونے کو دل نہیں کرتا ۔اچھا بتاو رات نیند کیسی آی تمیھں ۔
ہارون نے واپس روحا پر حاوی ہوتے شرراتی انداز سے پوچھا ۔
ہارون پہلے بے شرم تھے یا ابھی ہوے ہے بے شرم ۔روحا نے ہارون کو رات والی ٹون میں واپس آتے گبھرا کر پوچھا ۔۔
ہاے میری پنک روز ابھی بھی شرماتی ہو پتہ نہیں کب تمھاری یہ شرم جاۓ گی ۔
ہارن نے روحا کو گلے لگاتے ہوے پوچھا ۔
روحا نے کوی جواب نہیں دیا اور ہارون کا حصار توڑ کر واش روم جانے لگی جب ہارون نے رک دیا ۔۔
پنک روز یہ شرٹ میری ہے واپس کرو مجھے پھر واش روم جانا ۔
ہارون نے روحا کو شرٹ میں ملبوس دیکھ کر شرارتی پن سے انکھ ونک کرتے کہا ۔۔
روحا کو جیسے ہی ہارون کی بات کا مطلب سمجھ آیا فورًا واش روم بھاگ گی
۔۔۔
————————————————————
فریش ہو کر روحا کمرے میں آی تو ہارون اور جنت کو کمرے میں نہ دیکھ کر گھبرا کر پورے کمرے کو دیکھا ۔۔
یہ باپ بیٹی مجال ہو مجھے سکون لینے دے ۔
روحا نے غصہ کرتے سیڑھاں اترتے ہوے سوچا ۔۔
روحا جیسے ہی کچن میں انٹر ہوی تو حیران رہ گی ۔
ہارون ناشتہ بنانے میں مصروف تھا اور جنت کوڈ میں لیٹی ہارون کو کام کرتے دیکھ مسکرا رہی تھی ۔۔
ہارون جاے میں ناشتہ بنا لیتی نہ ۔روحا نے جنت کو پیار کرتے ہوے کہا۔
آج میں اور جنت تمھارے لیے ناشتہ بناے گے پنک روز ۔ہارون نے روحا کو آٹھتے کچن شلف پر بھٹاتے ہوے کہا ۔
لیکن ۔۔چپ پنک روز بہت بولنے لگ گی ہو جب بولنے کا وقت ہو وہاں خاموش ہو جاتی ہو ۔
ہارون نے بات کاٹتے ہوے کہا ۔
————————————————————
روحا مسلسل ہارون کو دیکھنے میں مصروف تھی ۔بلیک شلوار قیمض میں ہارون فریش سا جنت کو ہیڈل کرتے اور ناشتہ بنانے میں مصروف تھا ۔۔
روحا کی طرف ہارون کی پشت تھی ۔
روحا اپنی قیسمت پر رشک کر رہی تھی ۔جس کو اتنی محبت عزت کرنے والا اور خوبصورت شوہر ملا تھا ۔
یار پنک روز مانا کہ میں خوبصورت ہو اب اتنا بھی نہیں تم مجھے گھورتی جاو ۔
ہارون نے کام میں مصروف ہوتے روحا کی چوری پکڑی ۔
ہاں تو میرے ہی ہے ۔مجھے حق ہے آپ کو دیکھنا اور محبت کرنا ۔
اگر کبھی کسی کی طرف دیکھا آپ نے میں گولی مار دو گی جانِ روحا ۔
روحا نے شرمندہ ہونے کی بجاے اٹھ کر ہارون کو بیک ہگ کرتے ہوے کہا ۔
ارے واہ پنک روز تم میرے ساتھ رہتے ہوے بے شرم ہو گی ہو پنک روز ۔
ہارون کو حیریت ہوی روحا پر ۔
روحا خاموش آنکھیں بند کیے ہارون کا لمس محسوس کر رہی تھی
رہی تھی بولی کچھ نہیں ۔
یار اگر تم ایسے ہی ہگ کرو گی بھول جاٶ میں ناشتہ بنا پاو گا ۔
کافی دیر بعد جب روحا نے ہارون کو نہیں چھوڑ ا۔
تو ہارون نے روحا کو اپنے آگے لاتے ہوے کہا ۔شکریہ ہارون آپ نے مجھے جینا سکھایا ۔مجھے اتنی محبت دی ۔مجھے آج احساس ہوا کوی مجھ سے عشق کرتا ہے کسی کے لیے میں بھی خاص ہو ۔
آپ میری سانس سانس میں بستے ہے ۔ہارون آپ کے بنا میں زندہ نہیں رہ پاو گی ۔وعدہ کرے مجھے کبھی نہیں چھوڑے گے ۔
روحا نے ہارون کو دوبارہ ہگ کرتے روتے ہوے کہا آج کھل کر اپنی محبت کا عتراف کیا ۔۔
رو تو نہ پنک روز تم کیا چاہتی ہو میں ناشتہ نہ بناو ۔اب تم رومنس کرنا چاہتی ہو میرے ساتھ ہاے میں معصوم ۔
ہارون آج بے حد خوش تھا ک آخرکار روحا نے اپنی محبت کا اظہار کر لیا تھا ۔۔
تبھی روحا کو روتے دیکھ ااس کا موٹ ٹھیک کرنا چاہا جس میں وہ کامیاب بھی ہوا تھا ۔۔
ہاں تو آپ سے ہی رومنس کرو گی جانِ روحا ۔
روحا نے اپنی دوبارہ بازو ہارون کی گردن میں حائل کرتے ہوے کہا
روحا نے ہارون کی انکھوں میں شرارت دیکھ چکی تھی ۔
اگر یہ بات ہے تو چلو روم میں میں بھی بتانا چاہت
اس کا موٹ ٹھیک کرنا چاہا جس میں وہ کامیاب بھی ہوا تھا ۔۔
ہاں تو آپ سے ہی رومنس کرو گی جانِ روحا ۔
روحا نے اپنی دوبارہ بازو ہارون کی گردن میں حائل کرتے ہوے کہا
روحا نے ہارون کی انکھوں میں شرارت دیکھ چکی تھی ۔
اگر یہ بات ہے تو چلو روم میں میں بھی بتانا چاہتا ہو تم رات کتنی پیاری لگ رہی تھی ۔
ہارون نے روحا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر بے حد قریب کیے کہا ۔
ہارون جنت دیکھ رہی ہے ۔جیسے ہی ہارون روحا کے لبوں پر جکھنے والا تھا روحا نے عیجب سا بہانہ بنایا ۔۔
پنک روز تم ۔۔۔
ہارون سر وہ تاشہ ملنے آی ہے ۔
گل خان نے اچانک کچن میں داخل ہوتے کہا لیکن وہ گھبرا گیا تھا ہارون روحا کو ایک ساتھ دیکھ کر ۔
گل خان پانچ منٹ کے بعد بھی آسکتے تھے ۔
ہارون نے بیزا سا منہ بناتے ہوے کہا ۔
وہ سوری س۔۔۔
جاو میں آتا ہو ۔
ہارون نے جلدی سے گل خان کو باہر بھجا ۔
سارا موڈ خراب کر دیا میرا ۔ہارون نے بیزایت سے سوچا ۔
پنک روز اس سے آگے ہم رات کو سٹارٹ کریں گے ۔ہارون یہ کہتے ہی کچن سے باہر نکل گیا ۔۔
روحا کے دماغ میں اب لفظ تاشہ اٹک گیا تھا ۔
————————————————————
پری اب میں کیا کرو ۔ناشتہ کے فورًا بعد روحا نے پریشانی سے پری کو فون ملا کر ساری بات بتای ۔دیکھا میں کہتی تھی نہ ہارون کو ٹائم دو لیکن تم سنو نہ پھر وہ دوسری لڑکیوں میں اب۔۔۔پپپپپپپرررریییی شکل اچھی نہ ہو تو بندہ بات ہی اچھی کر لے میں ہی پاگل تھی جو تم سے پوچھ لیا ۔ہانی سے پوچھنا چاہے تھا ۔
پری کو مزہ آیا تھا کہ روحا اب محبت کرنے لگی ہے تبھی روحا کو تنگ کرنے کے لیے کہا لیکن وہ نہیں جاتی تھی روحا سنجیدہ ہو جاے گی ۔
اوے اس موٹی کو فون مت کرنا میں دوست ہو نہ تمھاری اور شکل اچھی ہے تبھی تمھارا بھای میرے لیے دیوا نہ ہے ۔
۔پری نے سرخ چہرے سے برہان کا ذکر کرتے ہوے کہا ۔تم ایسا کرو اس لڑکی کو مار کر گھر سے دفع کرو ۔
اور خود ہارون کو محبت دو بلکہ انیھں ایک بیٹا بھی دے دو جانی ۔۔
پری نے چہک کر کہا ۔
بیغیرت بے شرم میں کیا کہا رہی تم کیا بکواس کر رہی ہو ۔جاو دفع ہو میں خودی ہارون کو اتنی محبت دو گی وہ کسی دوسری لڑکی کو نہیں دیکھے گے ۔۔
روحا نے روتے اور غصہ سے کہتے کال کاٹ دی پری کی سنے بنا ۔۔
ہاہا پاگل پتہ بھی ہے ہارون عشق کرتا پھر بھی ایسا سوچ رہی ہے ۔
پری نے کال کاٹ ہوتے دیکھ سوچ کر ہنس پری ۔۔
————————————————————
گل بھای یہ تاشہ کون ہے ۔روحا نے ہال میں آتے گل خان سے پوچھا ۔
ارے چھوٹی وہ ہارون سر نے جس مالک سے سکول کی جگہ لی تھی اس کی بہن ہے ہارون سر کے پیچھے پڑی ہے ہر وقت گھومتی رہتی ہے ۔
چھوٹی یہ انکھوں کو اتنا ریڈ کیوں ۔۔
گل بھای آپ جنت کو ہیڈل کرے میں دیکھتی ہو کون ہے وہ چڑیل جو میرے ہارون کے پیچھے پڑی ہے ۔ میں بتاتی ہو اسے ہارون صرف میرا ہے آی بڑی میرے ہارون پر نظر رکھنے والی ۔
روحا نے گل خان کی بات کاٹتے ہوے جنت کو پکڑا کر اسٹڈی کی طرف چلی گی ۔۔
جہاں وہ دونوں باتیں کر رہے تھے ۔۔۔
ہاہاہا ہارون سر کا کیا ہو گا آج وہ تو گے پکا ۔۔
گل خان نے ہارون کی حالت سوچ کر ہنس پڑا تھا ۔
————————————————————
السلام و علیکم ۔روحا نے بنا اجازت اسٹڈی میں داخل ہوتے ہارون اور تاشہ کو سلام کیا ۔۔
ہارون تاشہ جو بات کر رہے تھے اچانک روحا کے اسلام کی آواز سن کر چونک گے ۔۔
وعلیکم السلام پنک روز یہاں آو ۔ہارون نے محبت پاش نظروں سے دیکھا جو کھلے بالوں بے بی پنک کلر کی لونگ فراک میں ریڈ انکھیں لیے چلتی آرہی تھی ۔
تاشہ ہو ہاے میں مسز ہارون ۔
روحا نے سامنے بیھٹی تاشہ کو دیکھا جو بے تحاشا میک اپ کیے گندمی رنگ ماڈرن سی لڑکی مسلسل ہارون کو دیکھنے میں مصرف تھی جب روحا کی بات پر شوک ہوی ۔۔
بیوییییییی ۔تاشہ نے حیران ہو کر ایک دفعہ پوچھا ۔ا ۔
ہاں میں ہارون خان کی بیوی روحا ہارون خان ۔
روحا نے تاشہ کی حالت انجواۓ کرتے ہارون کے برابر بیھتے ہوے دوبارہ اپنا تعارف کروایا ۔۔۔
(تاشہ صدمے میں تھی اتنے خوبصورت مرد کی اتنی خوبصورت بیوی دیکھ کر اسے جلیسی ہوی روحا سے تاشہ کو اپنا پتہ کاٹتا محسوس ہوا ).
تم بتا کر آتی صبح صبح آگی ہو میرے گھر ۔
مجھے پرائوسی نام کی کوئ چیز ہوتی ہے ۔
مجھے اچھا نہیں لگا ۔
روحا نے خاموش بیٹھی تاشہ کو اپنی طرف متوجہ کیا جو بار بار ہارون کے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔
ہارون پر آج حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے اپنی پنک روز کی حیرکیتں دیکھ کر ۔
پنک روز ۔۔۔چپ ڈئیڑ ہیبی پتہ ہے نہ میں بات کر رہی ہو آپ بیڈ روم میں جاکر بات کرنا اچھا ۔ “جانِ روحا “
روحا نے تاشہ کی طرف دیکھ کر ہارون کے لبوں پر اپنی انگلی رکھتے ہوے بات کاٹتےہوے کہا ۔۔
روحا کی اس حرکت پر تاشہ غصہ کرتی اٹھ کھڑی ہوی ۔
ہارون سر میں چلتی ہو ۔تاشہ نے ہارون کی طرف دیکھ کر کہا جو خود مسلسل روحا کے چہرے کو محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
ارے میری بیٹی سے مل لیتی نہ تم ۔روحا نے تاشہ کی حالت انجواۓ کیے ایک اور دماھکہ کیا ۔۔
کییییییییاااا بیٹییییی ۔۔۔تاشہ اب وقعی صدمے میں چلی گی تھی ۔۔
کہ ہارون خان کی ایک بیٹی بھی ہے جو پہلے جو چانس تھا ہارون کو حاصل کرنے کا اب وہ بھی ختم ہوتا محسوس ہوا ۔۔۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا ہارون خان جیسے خوبصورت مرد کی بیوی اور بیٹی بھی ہے ۔
ہاں آو میں تمیھں دھکے مطلب باہر تک چھوڑ کر آو۔۔۔
بےبی میں ابھی آی ۔۔روحا نے تاشہ سے بات کرتے اچانک ہارون کو مخاطب کیا جو ابھی بھی حیران پریشان کھڑا تھا ۔۔۔
روحا نے زبردستی تاشہ کا بازو پکڑتے ہوے اسٹڈی سے باہر لے گی ۔۔
———————————————————–
میری بات سنو تم میک اپ کی دوکان ہے تمھارا چہرہ ۔میں نے توڑ دینا ہے اگر کبھی تم میرے ہارون کے آس پاس بھی نظر آی ۔
سمجھی ۔کسی اور پر جاکر اپنی غلیظ نظریں رکھو ۔۔روحا نے شدید غصہ سے تاشہ کو کھری کھری سنای ۔۔
دفع ہو جاو یہاں سے اگر پھر میرے گھر آی تو گولی مار دو گی ۔
تاشہ کا اب یہاں روکنے کا کوی فائدہ نہیں تھا تبھی بھاگ گی ۔۔ اسے پتہ تھا ہارون خان کی زندگی میں صرف روحا ہے ۔۔
آج کل لڑکیوں کا کوئ حال نہیں ہے زمانہ ہی نہیں ہے ۔کیسے میرے معصوم شوہر پر نظر رکھتی ہے ۔۔
پہلے وہ کرن تھی اب یہ چڑیل ہے سو بار سوچے گی ۔میرے گھر آتے ہوے گولی مار دو گی میں اسے ۔۔
کیا میں مار سکتی ہو کیا ۔ہاں ہارون کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہو ۔میرا ہے ہارون صرف اپنی پنک روز کا ہے ہاے ۔۔
روحا یہ سوچتے ہے خودی ہاتھوں میں منہ چھپا کر شرما گی ۔۔۔
ہاہاہا میری پنک زور آج ریڈ روز کیوں بنی ہے ۔
ہارون جو کب سے روحا کی گوہر افشانی سن رہا تھا اب ہستے ہوے روحا کو بیک ہگ کیے پوچھ رہا تھا ۔۔
چلے ہٹے میں بات نہیں کرتی آپ سے آپ کو بڑا شوق ہے رنگ برنگ لڑکیوں کی نظروں میں رہنا ۔۔
کوئ معصوم نہیں آپ ۔۔روحا نے ہارون کا حصار توڑتے ہوے غصہ سے سنا کر کمرے میں چلی گی ۔۔۔
ہاہاہاہا میری شیرنی ۔ہارون نے قہیقہ لگاتے کمرے کی طرف ڈور لگا دی ۔۔
روحا آج واقعی غصہ میں گھوم رہی تھی ۔۔۔
