Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 17)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 17)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
8ماہ بعد
ان آٹھ ماہ میں سب بدل گیا تھا
ہارون کی کوی ایسی رات نہ تھی جس رات اس نے رو رو کر اپنے رب سے معافی نہ مانگی ہو
یہ ہی حال اسامہ حنین کا تھا
ان تینوں کو ان آٹھ مہنوں میں ایک دن بھی سکون نہ آیا
اور نہ ہی زیان کو ہوش
————————————
علیزے اور بابر کراچی شفٹ ہوگے تھے
اسے جب زیان کی حالت کا پتہ چلا اسے بہت دکھ ہورہا تھا لیکن وہ ہانی کے پاس نہیں جا سکتی تھی کیونکہ علیزے کے گھر خوشخبری تھی![]()
بابر بہت خوش تھا اس نے علیزے کا بہت خیال رکھا
علیزے بھی بہت خوش تھی اسے اتنا چاہنے والا خیال رکھنے والا شوہر ملا
بابر پلیز مت جاے
مجھے اس وقت آپ کی بہت ضرورت ہے
علیزے نے روتے ہوے کہا
بابر اپنے مشن کے لیے باڈر کے پار جانے والا تھا اور باڈر پر جانے کا سن کر ہی علیزے نے رونا شروع کردیا
بابر خود نہیں جانا چاہتا تھا اپنی جان سے پیاری بیوی اور بچے کو چھوڑ کر
لیکن اس کی بھی مجبوری تھی
علیزے اگر تم ایسے کروگی تو میں کیسے جا سکو گا
تم میری ہمیت ہو پلیز میری کمزوری نہ بنو
بابر نے علیزے کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا
بابر اپ کے جانے کا سوچ کر ہی مجھے تکلیف ہورہی ہے آپ میری بات مان لے
مت جاے پلیز
میرا نہیں اپنے بچے کا ہی سوچ لے
علیزے نے التجا کرتے ہوے کہا
(ہر لڑکی کو شوق ہوتا اسے فوجی ملے
لیکن فوجی کے ساتھ گزارا ہمیت والی لڑکی ہی کرسکتی ہے ڈرپوک اور نازک دل کی لڑکیوں کے لے فوجی کے ساتھ گزرا مشکل ہے
ایک فوجی اپنی جان اپنی ہتیھلی پر لیے گھومتا ہے کسی بھی وقت اس کی روح پرواز ہوجانے کا ڈر رہتا ہے کس انسان کا دل کرتا ہے اپنے بیوی بچوں سے دور رہنے کا مرد مجبور ہوتا ہے حالات کی وجہ سے خاص کر ایک فوجی )
علیزے میں شوق سے نہیں جارہا
میرا اپنا دل نہیں کررہا تمہیں ایسے چھوڑ کر جانے کا لیکن میں مجبور ہو
تم رونے کی بجاے میرے لیے دعا کرو
اور وعدہ کرو بیٹا ہو یا بیٹی
تم اس کا اچھے سے خیال رکھو گی
اور میں تمہیں اجازت دیتا ہو اگر میں شیہد ہوگیا تم دوسری شادی کرلینا اپنی اولاد کی خاطر
بس بابر بسس
بابر کی بات پر علیزے پھوٹ پھوٹ کر رودی
اور بابر سے بھی صبر نہ ہوا دونوں ہی گلے لگ کر بچوں کی طرح رورہے تھے
میں آپ کی جگہ کسی کو نہیں دے سکتی
اپ جلد واپس آو گے میرے لیے اپنے بچے کے لیے
علیزے نے بابر کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا
علیزے میرا سکون ہو تم مجھے ہمیت دو
تم نے وعدہ کیا تھا تم میرا ساتھ دو گی
مجھے یہ قربت محسوس کربے دوں سکون لینے دوں اپنی پیاس پوری کرنے دوں تمہارے وجود سے آٹھتی خوشبو مجھے محسوس کرنے دو پلیز
بابر نے علیزے کے ایک ایک نقش کو چومتے ہوے کہا اسے ڈر تھا کہ پتہ نہیں یہ سب اسے بعد میں نصیب ہو گا بھی یا نہیں
علیزے بھی بابر کا ساتھ دے رہی تھی اس کے ہر نقش پر اپنا لمس چھوڑ رہی تھی جس سے بابر کو سکون مل رہا تھا
علیزے کی قربت بابر کو مدہوش کر رہی تھی وہ بہک رہا تھا
لیکن اس نے زبردستی خود کو علیزے سے چھڑوایا اور بنا علیزے کی طرف دیکھے چلا گیا
کیونکہ اس کے لیے ملک کے فرائض پورا کرنا سب کاموں سے زیادہ ضروری تھا
اسے معلوم تھا اگر اب اس نے علیزے کی طرف دیکھا تو وہ جا نہیں سکے گا
پیچھے علیزے رو رو کر وہی سو گی یہاں بابر چھوڑ کر گیا تھا—
———————————
ہانی اپنے سر کو ہاتھوں میں پکڑ کر سر نیچے منہ نیچے کرکے بیٹھی تھی چشما اس نے ٹیبل پر رکھا تھا
میں کیسے اس انسان کے بارے میں سوچ سکتی ہو جس نے میری زندگی برباد کردی
ہانی نے آنکھیں بند کرتے ہوے سوچا
ان آٹھ مہنوں میں ہانی ایک دن بھی زیان سے ملنے ہسپتال نہیں گی تھی
لیکن دن رات اس کے لیے دعا ضرور کرتی رہی تھی—-
———————————-
برہان اور پری میں سب ٹھیک ہوچکا تھا
پری نے برہان کو معاف کردیا تھا
برہان نے پری کو اپنی محبت کا یقین کروادیا تھا پری بھی برہان سے محبت کرنے لگی تھی اس لیے اسے معاف کردیا تھا
روحا کو جب ان کی شادی کا پتہ چلا وہ بہت ناراض ہوی لیکن ہارون اپنے طریقے سے سمجھا چکا تھا
دونوں طرف ہی مجبوری تھی اس لے روحا نے برہان کو معاف کردیا اور اسے بہت سی دعا دی
پری کے گھر بھی خوشخبری تھی
—————-
روحا نے ہارون کو بہت مشکل سے سنبھالا تھا
روحا کو معلوم ہوگیا تھا زیان نے کیا
کیا ہے اور ان تینوں کی وجہ سے اس کی یہ حالت تھی روحا کو بہت افسوس ہورہا تھا
روحا نے ہانی اسامہ ہارون کو بہت سمجھایا
ان سے جو ہوا غصے میں ہوا ہے جب زیان ٹھیک ہوگا سب ٹھیک ہوجاے گا
روحا نے بہت اچھے سے سب کو سنبھالا ہوا تھا
————————-
آج سے دو ماہ پہلے روحا نے بہت ہی خوبصورت بیٹی کو جنم دیا تھا
جو بالکل ہارون جیسی تھی
اس کی آنکھیں ہانی جیسی تھی
ہارون روحا بہت خوش تھے
جب ہانی نے اپنی بھانجی کو پکڑا خوشی سے پاگل ہوگی پورے ہسپتال میں چہکنے اور خوشی کی آوازیں سنای دے رہی تھی
روحا اور ہارون نے اپنی بیٹی کا نام جنت رکھا تھا
——————
روحا کی بیٹی میں ہانی نے خود کو مصروف کرلیا تھا
ہر وقت جنت کے ساتھ رہتی تھی
اس کے چہرے پر پھر مسکان نظر آنے لگ گی تھی
روحا اور بریان اپنی بہن کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر بہت خوش تھے
——————————–
اسامہ پریشانی سے ہسپتال میں ٹہل رہا تھا
مسلسل عمارہ کے لیے دعا کررہا تھا
روحا ہارون بھی وہاں موجود تھے
ڈاکٹڑ میری بیوی اور بچہ کیسا ہے وہ ٹھیک ہے نہ اسامہ نے پریشان ہوکر پوچھا
مبارک ہو بیٹا ہوا ہے
اور اپ کی بیوی اور بچہ دونوں ٹھیک ہے
ڈاکٹڑ نے مسکراتے ہوے کہا
اسامہ بہت خوش تھا
مبارک ہو اسامہ
ہارون نے اسامہ کو گلے لگاتے ہوے کہا
تجھے بھی مبارک
تو چاچو بن گیا اسامہ نے خوش ہوتے ہوے کہا
پیچھے ہانی کھڑی رورہی تھی
( یہ اتنی ساری شاپنگ
ہانی نے حیرانی سے شاپنگ بیگ دیکھتے ہوے پوچھا
زیان ڈیوٹی سے واپسی پر کافی زیادہ بےبی شاپنگ کرکے آیا تھا
اپنی گڑیا کے بچے کے لیے شاپنگ کی ہے
اب میرے ماں باپ تو ہے نہں
اس لے میں چاہتا ہو میں سب خوشیاں پوری کرو
تاکہ گڑیا کو بھی کمی محسوس نہ ہو اس کے بچوں کو سب سے زیادہ پیار کرو گا آخر ایک ہی تو بہن ہے میری
زیان نے بےبی سوٹ کو چھوتے ہوے مسکرا کر کہا
زیان آپ کو بچے پسند ہے
ہانی نے مسکراتے ہوے پوچھا
ہاں بہت
زیان نے مسکرا کر جواب دیا
اچھا تم دیکھو سب چیزیں ٹھیک ہے نہ کچھ رہ تو نہں گیا اگر کچھ کمی ہے تو
کل مارکٹ جا کر لے آنا
زیان نے مسکرا کر کہا
پہلی بار دونوں آرام پیار سے بات کررہے تھے)
————————
مبارک ہو عمارہ
اسامہ نے عمارہ کی پیشانی کو چومتے ہوے کہا
آپ کو بھی مبارک ہو
عمارہ نے مسکرا کر کہا
(عمارہ کو زیان کی بہت یاد آرہی تھی کتنا انتظار تھا اسے اس دن کا یہ ہی سوچ کر عمارہ رو رہی تھی )
حنین کدھر ہے
عمارہ نے آنسو صاف کرتے ہوے پوچھا
میں یہی ہو نند صاحبہ
ہانی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوے کہا
مبارک ہو بہت بہت
ہانی نے بےبے کو پکڑتے ہوے کہا
بےبی بالکل عمارہ جیسا تھا اس کی آنکھیں گرے ہی تھی
(ہانی وہ سب سامان لینے گی تھی جو زیان نے خریدا تھا)
تمہیں بھی مبارک ہو تم مامی بن گی
عمارہ نے مسکرا کر رہا
عمارہ اگر آپ کو برا نہ لگے تو بےبی کا نام میں رکھ دوں کیونکہ زیان کی خواہش تھی آپ کے بچے کا نام وہ رکھے گا
ہانی نے بےبی کا ماتھا چومتے ہوے اجازت مانگی
ہمیں کوی اعتراض نہیں بھابھی
اسامہ نے خوشدلی سے اجازت دی
زیان شاہ کا بھانجا اذان![]()
ہانی نے بےبی کے ہاتھوں کو چوم کرکہا
عمارہ اور اسامہ کو نام بہت پسند آیا
—————————
او پاپا کی جان
کیا کررہی ہے
ہارون نے جنت کو پیار کرتے ہوے پوچھا
آپ کی بیٹی صرف اپنی ماں کو تنگ کررہی ہے
ہاہاہاہاہاہاہاہا
کیا پنک روز
ہر وقت میری بیٹی کے پیچھے ہی پڑی رہتی ہو
اتنی پیاری معصوم سی میری بیٹی ہے بالکل اپنے باپ جیسی
ہارون نے روحا کے گالوں کو چھوتے ہوے کہا
آپ ہنس رہے ہے مذاق بنا رہے
اور میں پریشان ہورہی اسے کیسے سنبھالوں گی
اسے ہانی کی اتنی عادت ہوگی ہے کوی کام اس کے بغیر نہیں کرتی
اسی پر چلی گی ہے ہانی جیسی ہی عادتیں ہے ابھی سے اس کی
کون کہہ سکتا ہے دوماہ کی بچی اتنا مسکرا لیتی ہے جتنا شاید چھ ماہ کا بچہ بھی نہ مسکراتا ہو
میں کیسے سنبھالوں اسے
روحا نے پریشان ہوتے ہوے کہا
کیوں پریشان ہورہی ہو پنک روز
ہانی اس کی آنی ہے
اس پر نہیں جاے گی تو کس پر جاے گی تم مت پریشان ہو
ہارون نے جنت کو بیڈ پر لیٹاتے ہوے کہا
اور آپ سے کس نے کہہ دیا آپ معصوم ہے
آپ اس غلط فہمی میں نہ رہ کرے آپ معصوم ہرگز نہیں ہے
روحا نے ہارون کی ناک کو کھنچتے ہو تنگ کرنے کے لے کہا
ہاں ویسے میں معصوم نہیں ہو بےشرم ہو
تو کیوں نہ ایک بار اور بےشرمی کا مظاہرہ کیا جاے جنت کے بھائی کے بارے سوچا جاے
ہارون نے روحا کو اپنے حصار میں لیتے ہوے بےشرمی سے کہا
ہارون کی بات پر روحا تو صدمے میں چلی گی![]()
آپ کو کچھ شرم نہیں ہے
ایک ابھی سنبھالی نہیں جارہی آپ کو دوسرے کی پر گی ہے
بہت ہی بےشرم ہے آپ
روحا افسوس سے کہتی وہاں سے بھاگ گی
روحا کی باتوں پر ہارون کا قہقہ فضا میں گونجا![]()
———————
پری پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگی تھی
برہان اس کا بہت اچھے سے خیال رکھ رہا تھا
اسے برہان کی محبت پر یقین ہوگیا تھا
دونوں کا اب ایک دوسرے کے بغیر گزارا نہ ممکن تھا
————————–
برہان ایک بات کہو
پری نے برہان کے سینے پر سر رکھتے ہوے کہا
جی جان برہان
برہان نے پری کو اپنے حصار میں لیتے ہوے کہا
برہان اگر مجھے کچھ ہوگیا تو آپ دوسری شادی کرلینا اور اپنے بچوں—
پری کی بات پوری ہونے سے پہلے ہے برہان اپنے طریقے سے اس کی بولتی بند کر چکا تھا
برہان کی گستاخیاں بڑھتی جارہی تھی پری اسے روک رہی تھی لیکن اس کی نہ سنی گی
اب پری کو پچتھاوا ہو رہا تھا اس نے وہ بات کی ہی کیوں
(پری جب سے پریگنٹ ہوی تھی
وہ ایسی ہی فضول باتیں سوچتی رہتی تھی
برہان سے کہتی رہتی تھی برہان نے اسے سمجھایا تھا ایسی باتیں نہ سوچا کرو
لیکن پری باز نہ آی
اس لیے برہان نے آج اس کی بولتی بند کرنے کا صیح انتظام کیا تھا
اس لیے اس کی گستاخیوں پر پری خاموش ہوگی
اور آئندہ ایسی بات نہ کرنے کا عہد کرچکی تھی)
ۭۭ“ًٍ”“————————–
اٹھ بھی جاو اب زرافے
دیکھو آپ ماموں بھی بن گے خالوں بھی بن گے میں بہت جلد پھوپھو بن جاو گی اور دوسری بار خالہ بھی ہانی نے زیان کا ہاتھ پکڑکر خوشی سے بتایا
(ان آٹھ مہنوں میں ہانی آج پہلی دفعہ اسے ملنے آئی) تھی)
جلدی سے ٹھیک ہو جاو
ابھی آپ نے مجھ سے معافی بھی مانگنی ہے
ہانی نے زیان کے بالوں کو چھوتے ہوے سنجیدگی سے کہا
(یہ تو قیسمت ہی جانتی ہے کہ زیان کو معافی مانگنے کا موقع ملے گا بھی یا نہیں
ڈاکٹڑ نے ہانی کو بتایا تھا زیان کے زندگی کی طرف آنے کے چانسیس% 10 بھی نہیں ہے
ایسا لگتا ہے جیسے وہ زندگی کی طرف واپس آنا ہی نہں چاہتے
ہانی آٹھ مہنوں میں ملنے نہیں ای تھی لیکن ڈاکٹڑ سے وہ روز زیان کی حالت کا پوچھتی تھی)
اور میں””””””
ہانی اس سے پہلے کچھ بولتی
اسے اپنے ہاتھ پر سخت گرفت محسوس ہوی
اتنی سخت
ہانی کو لگ رہا تھا اس کا ہاتھ ٹوٹ جاے گا
زیان کی حالت خراب ہورہی تھی
زندگی کی لاینز کم ہورہی تھی
ہارٹ بیٹ کی رفتار بھی کم تھی
ایک دم سے زیان کا پورا جسم ٹھنڈا ہوگیا تھا
زیان کی حالت دیکھ کر ہانی نے زور زور سے ڈاکٹر کو پکارنا شروع کردیا
اس کا ہاتھ زیان کے ہاتھ میں تھا اس لیے وہ اٹھ بھی نہ سکی
ہانی کی تو جان ہی حلق پر آگی
زیان کا ٹھنڈا اور سخت جسم محسوس کرکے
ڈاکٹر نے بہت مشکل سے ہانی کا ہاتھ چھڑوایا تھا اور ناامیدی کی نظروں سے ہانی کی طرف دیکھا
زیان کی حالت بہت بگڑ گی تھی
نہیںںںںں
زیان شاہ ایسے نہیں مرسکتے آپ ابھی
ابھی تو آپ نے میری نفرت برداشت کرنی ہے
ابھی تو آپ کو میں نے سزا دینی ہے
ایسے نہیں مجھے چھوڑ کر جاسکتے
نفرت ہے مجھے صرف نفرت
ہانی کی چینخیں پورے ہسپتال میں گونج رہی تھی
