Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 16)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
بی جان ہارون کدھر ہے ۔دو دن ہو گے آپ نے بتایا بھی نہیں نہ انھوں نے فون کیا ۔
روح بی جان سے اپنے بالوں کی مالش کروا رہی تھی اب ہارون کو یاد کرتے ہی اداس ہو کر پوچھ رہی تھی۔۔
کیوں تم یاد کر رہی ہو میرے بیٹے کو ۔
بی جان روحا کے چہرے پر اداسی دیکھ کر سمجھ گی تھی وہ یاد کر رہی ہے ہارون کو تبھی روحا سے پوچھا
۔۔ نہیں میں یاد کیوں کرو گی بس ویسے ہی پوچھا روحا نے چہرے پر اداسی چھپاتے ہوے جھوٹ بولا ۔۔
چلو جاو کھانا کھاو میری بیٹی ایسی حالت میں زیادہ خیال کرتے ہے
۔بی جان نے روحا کی یہ معصوم حرکت دیکھ کر مسکراتے ہوے روحا کو ٹالا ۔۔۔
————————————————————
یہ کیا بکواس ہے آفسر آپ کو پتہ بھی ہے کس کے بارے میں کہہ رہے ہے
۔ہارون جو زیان کو مارنے کے بعد پولیس آسٹیشن آیا تھا ۔۔
(دو دن پہلے ہارون خان کو پاکستان سے کال آی تھی پولیس آسٹیشن کے ایک افسرر نے کہا تھا مہران خان کا قتل کروایا گیا تھا اسی سلسلے میں ہارون پاکستان آیا تھا جب مہر ہاوس کی طرف پہلے چلا گیا سب سے ملنے لیکن وہاں جا کر اسے برہان برہانکی برہان کی شادی دیکھ کر حیرت ہوی اور اب یہاں بیھٹا آفسرر کی بات سن کر بول رہا تھا ۔۔).
ہارون سر آپ فائل دیکھ لے ۔
آفسرر نے آگ بلولا ہو رہے ہارون کی طرف فائل سامنے کی ۔۔
بیس سال پہلے آپ کے بابا کا قتل کروایا گیا تھا وہ حادثہ نہیں تھا ۔۔۔
خاموش بیھٹے ہارون کو دوبارہ آفسرر نے بتایا ۔۔۔
اتنا بڑا دکھوکا جس کو اتنے سال محبت عزت دی وہی میرے بابا کا قاتل نکالا ۔
ہارون نے فائل پر نام پڑھتے ہوے افسوس سے سوچا ۔۔۔
————————————————————
السلام و علیکم ممانی
۔ہارون نے گھر میں داخل ہوتے ساجدہ کو کہا ۔۔
وعلیکم السلام بیٹا تم کب اے پاکستان ساجدہ نے خوش دلی سے پوچھا ۔۔
ماموں کدھر ہے ۔
ہارون نے ساجدہ کی بات کا جواب نہ دیتے ہوے پوچھا ۔۔۔
وہ کمرے میں جاو مل لو اپنے بیٹے سے مل لے گے وہ آج ۔
ہاے ہارون کیسے ہو کافی زیادہ ہیڈسم ہو گے ہو ۔
اس سے پہلے ہارون اکبر کے کمرے میں جاتا کرن نے سامنے آتے ہارون کو مخاطب کیا ۔۔
کرن اپنے سامنے وجہہ پرسلنٹی کا مالک ہارون خان کو دیکھ کر حیران رہ گی تھی ۔
۔جو ان تین مہینوں میں اور زیادہ خوبصورت ہو گیا تھا ۔۔۔
(زیان کے گھر سے واپس آتے ہی ہارون نے اپنے کپڑے تبدیل کے وجہ اس کے کپڑوں پر خون لگا تھا ۔۔۔اب بیلو پنٹ وائٹ ٹی شرٹ میں ہارون کا کسرتی جسم نمایا ہو رہا تھا ۔۔ ).
بکواس بند کرو اپنی میرا راستہ چھوڑو
۔ہارون نے ناگواری سے کرن کو کہا ۔۔۔
جو اس کی بات کا اثر لیے بنا مسلسل ہارون کے چہرے کو دیکھ رہی تھی
۔میں تم سے محبت کرتی ہو ہارون ایسا کیا تمھاری اس منحوس روحا میں جو مجھ میں نہیں ہے
۔دیکھو میں تمھں زیادہ خوش رکھ سکتی ہو ۔تم جب بھی میرے پاس آنا چاہو آسکتے ہو مجھے کوی مسلہ نہیں میں صرف تمھاری محبت چاہتی ہو ۔۔
کرن نے آج پھر بے باک ہو کر ہارون کے سامنے بات کی ۔۔
بکواس بند کرو اپنی
کون سی محبت
تم کو مجھ سے محبت نہیں
۔تم کو ہوس ہے میری اور میرے پیسوں کی اور کتنا بے شرم بنو گی ۔بار بار اپنی عزت نفس کو پیچھے رکھ کر میرے سامنے آجاتی ہو تمھاری کوی عزت نہیں ۔۔۔
ایک بات غور سے سن لو مس کرن آج کے بعد میری پنک روز کو منحوس کہاتو میں تمھارا قتل کرتے ہوے بھی نہیں ڈرو گا سمجھ ای تم کو
۔ہارون نے سرخ انگارہ آنکھوں سے کرن کو دور دھکا مارتے ہوے کہا بنا دیکھے اکبر کے کمرے میں داخل ہو گیا ۔۔۔۔
———————————————————–
بیڈ پر پیھٹے ایک لاغر ذرد پرتے چہرے انکھوں کے نیچے حلقے لیے معذرو اکبر سامنے آتے ہارون کو دیکھ کر خوش ہو گیا ۔۔۔
ارے میرا پیارا بیٹا آیا ہے
۔اکبر نے زرا حیران ہو کر پوچھا کیو نکہ ہارون نے آج اسلام نہیں کیا تھا ۔۔۔
کیا ہوا میرے بیٹے کو اور یہ آنکھیں اتنی ریڈ کیوں
یہ بتاو روحا بیٹی کیسی ہے ۔ایک دفعہ بھی مجھ سے ملانے نہیں لاے
۔اکبر مسلسل خاموش بیھٹے ہارون کو دیکھ کر خودی سوال کر رہے تھے ۔
۔یہ آپ کا چیک ہارون نے کسی بھی بات کا جواب نہ دیتے اکبر کو چیک پکڑایا ۔
۔یہ اتنے پیسوں کا کیا کرنا بیٹا پہلے ہی ہر ماہ دیتے ہو
۔اکبر نے حیران ہوتے پوچھا ۔(ہارون ہر ماہ ایک اکبر کو چیک دیتا جس میں اکبر کے گھر کا راشن وغیرہ آتا تھا یہ سب ہارون اپنے ماموں کی محبت میں کرتا تھا ).
اتنی رقم ہے ماموں کہ آپ کو اب پیسوں کے لیے میرا قتل نہیں کروانا پڑے گا ۔۔
جیسے بیس سال پہلے میرے بابا کا کروایا تھا ۔۔ہارون نے ظنزیہ مسکراتے ہوے اکبر کے ذرد چہرے کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔
نہیں بیٹا تم غلط ۔۔
۔بیٹا نہیں ہو میں آپ کا
میں صرف مہران خان کا بیٹا ہو اُس انسان کا جس کے پیسوں کے لیے قتل کروا دیا ۔
۔جو آج میرے پاس نہیں ۔
سب آپ کی وجہ سے ۔
اب خوش ہو جاے آپ اتنے پیسے دیکھ کر
۔ہارون نے اکبر کی بات کاٹتے ہوے غصہ اور نفرت سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
میں صرف اسے ڈرانا چاہتا تھا میرا مقصد مارنا نہیں تھا ۔میرے رب نے مجھے میرے کیے کی سزا دینا دے دی بیٹا (مہران کی وفات کے کچھ عرصے بعد اکبر کی ایک حادثہ میں دونوں ٹانگیں چلی گی تھی ۔ جو اب معذور کی حالت میں اتنے سال بیڈ پر پڑا رہا ).
اکبر نے روتے ہوے کہا ۔۔۔
ایک دفعہ بس میرے بارے میں سوچتے کہ میں کیسے چھ سال کی عمر میں یہ سب برداشت کرو گا ۔اور اس معاشرے کو کیسے فیس کرو گا ۔ہارون نے غصہ اور نفرت سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
آپ نے مجھے یتیم کیا صرف آپ نے
اتنے سال آپ مجھے خود کہتے آے روحا کا کوی قصور نہیں میں نفرت کرتا رہا اس معصوم کے ساتھ مجھے کیا پتہ تھا آپ اپنا گناہ چپھارہے ہے ۔۔
مجھے محبت تھی آپ سے آپ مجھ سے پیار کرتے ہے پر افسوس وہ ڈارمہ تھا ۔
۔ لیکن اب میں آپ کو معاف نہیں کرو گا
۔۔پیسوں کے لیے اتنا سب کچھ کیا ۔آپ کی وجہ سے میری اور روحا کی زندگی برباد ہوی ۔۔میں نے پوری زندگی یتیم والی اور روحا نے پوری زندگی مجھ سے ڈر کے اور معاشرے کی بایتں سن سن کر گزاری ۔۔
سب آپ کی وجہ سے ہارون نے چلاتے ہوے کہا اور بنا دیکھے کمرے سے نکل گیا ۔۔
————————————————————
ہارون کو کچھ زیادہ ہی نہیں پنک کلر پسند ۔روحا جو خود پنک کلر کے شارٹ ڈریس میں کھڑی اپنی شرٹ کی ڈوری باندھ رہی تھی ۔آس پاس کمرے میں سب چیزوں کو دیکھ کر سوچ رہی تھی ۔۔۔ کیونکہ امریکہ آکر ہارون نے اپنے بیڈ روم کی ساری سٹینگ پنک کلر کی کروائ تھی تاکہ روحا کے ذہین کو سکون مل سکے ۔۔۔۔
پنک کلر تو لڑکیوں کو پسند ہے ۔میری بیٹی کو بھی پنک کلر پسند ہو گا ۔روحا اپنی ایسی عجیب غریب سی خوائش پر مسکرا دی ۔
کیا سوچا جارہا ہے میری پنک روز میں نے سنا بڑا مس کیا جارہا تھا مجھے ۔۔
ہارون نے روحا کو پیچھے اپنے حصار میں لیتے روحا کی گردن پر اپنے لب رکھتے ہوے روحا سے پوچھا جو اپنی سوچوں میں مہویت گم تھی ۔
۔ آپ کب آے ہارون ۔
روحا نے بوکھلاتے ہوے ہارون کو پیچھے ہٹاتے ہوے پوچھا ۔۔۔
جب تم مجھے مس کر رہی تھی جانِ ہارون ۔
ہارون نے پیچھے ہٹنے کی بجاے اپنی گرفت روحا پر مضبوط کرتے ہوے کہا ۔
۔۔ چھوڑے ہارون میں نے نچیے بی جان کے پاس جانا ہے
۔ہارون جس نے روحا کا رخ موڑتے ہوے اس کی شہہ رگ پر اپنے دہکتے ہوے لب رکھے تو روحا نے گھبرا کر کہا ۔۔۔
کیا یار دور جاٶ تو تم مس کرتی ہو پاس آٶ تو تم مجھے دور کرتی ہو
۔ہارون نے روٹھے پن سے روحا کا لال سرخ چہرے کو دیکھ کر کہا جو اتنی سی ہارون کی قربت میں لال ہو چکی تھی ۔۔۔
“ہاہاہا اتنے معصوم ہے نہیں آپ جتنا بنتے کی کوشش کرتے ہے ۔روحا نے ہارون کے کیوٹ سے چہرے کو دیکھ کر کہا ۔ (ہارون کو بہت اچھا لگا تھا روحا اب اپنی زندگی میں خوش تھی ۔۔ اب وہ ہر بات ہارون سے کر لیا کرتی تھی ).
“لو میں نے کب کہا میں معصوم ہو میری جان میں تو بے شرم ہو تمھارے بقول
ہارون نے روحا کی نوز پن چھوتے ہوے کہا ۔۔
۔چھوڑے مجھے ہارون میں نے بی جان سے ملنا ہے ۔
ہارون جو روحا کے لبوں پر جھکنے والا تھا ۔روحا نے زور سے دھکا مارتے ہوے کہا ۔۔۔
آو میں تم کو چھوڑ کر آو ویسے بھی میں نے بھی ملناہے ۔ہارون نے اچانک روحا کو باہوں میں بھرتے ہوے کہا ۔۔۔
ہارون میں
۔۔۔ششش چپ کتنی دفعہ کہا ہے نیچے شفٹ ہو جاٶ میری جان تمھاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ہارون نے روحا کو بولنے سے منع کرتے سیڑھاں اترتے ہوے روحا کا سرخ گلنار چہرے کو دیکھ کر کہا ۔۔
۔ آپ واقعی بے شرم اور برے ہے ہارون روحا سے جب کوی بات نہ بن سکی تبھی پھر یہ کہہ کر ہارون کے سنیے میں منہ چھپا لیا ۔۔۔
ہاہاہا یار اب جیسا بھی ہو ےتمھارا ہی ہو میری جان
ہارون کو روحا کی یہ حرکت بڑی اچھی لگی تبھی خوش ہوتے ہوے کہا ۔۔۔
————————————————————
کافی دیر تک ہارون بی جان کے پاس بیھٹا باتیں کرتا رہا ۔۔ جب اپنی سرخ انگارہ آنکھیں اٹھا کر بی جان کو مخاطب کیا ۔۔
بی جان ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔
روحا بیٹا جاو تم کچن میں میرے لیے پانی لے کر آنا
۔بی جان نے روحا کو اپنے پاس سے بجھنا ضروری سمجھا ۔۔ لیکن بی جان ہارون کی بات سن لیتی میں ۔
۔ روحا نے ہلکا سا منمناتے ہوے کہا
(جب سے ہارون امریکہ آیا تھا روحا کو پریشان لگا تبھی اب ہارون کی بات پر متوجہ ہوی سنے کے لیے ۔)
جاو پنک روز تمھیں میں بات روم میں جاکر سناٶ گا وہ بھی اپنے طریقے سے
۔ہارون نے جان بوجھ کر روحا کا دھیان بٹھکانے کے لیے آنکھ ونک کر کے کہا ۔
۔جس میں وہ کامیاب بھی ہوا ۔۔ روحا نے جیسے ہی ہارون کی بات کا مطلب سمجھا وہ سر پیٹ بھاگ گی ۔۔
ہاہاہا روحا بیٹا دھیان سے طیبعت کا خیال کر لو
۔بی جان نے روحا کی حرکت پر ہسنتے ہوے کہا ۔۔
بتاٶ اب روحا بھی نہیں ہے ببی جان نے ہارون کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر کہا ۔۔
وہ بی جان ۔۔
ہارون نے ساری بات برہان کی شادی سے لے کر اکبر ماموں کے گھر تک بتا دی ۔
بی جان آپ بتاے میں کسے پنک روز سے نظریں ملا پاٶ گا ۔اگر اس کو پتہ چل گیا اس کے اکلوتے بھای کی شادی ہو گی ہے میری وجہ سے وہ آج سب سے دور ہے
۔ہارون نے افسوس سے کہا ۔
۔۔ہر کام میں مصلیحت ہوتی ہے
۔کیا پتہ ایسا روحا کے لیے لکھا گیا ہو تم پریشان مت ہو ۔ایسے تمھیں دیکھ کر وہ پریشان ہو گی ۔۔
جاٶ اب کمرے میں جا کر آرام کرو ۔بی جان نے ہارون کے کالے بال سنوارتے ہوے کہا ۔۔ ہارون اس وقت کافی پریشان تھا تبھی بات مان کر کمرے سے چلا گیا ۔۔۔
———————————————————–
روحا کتنی دیر ہو گی کمرے میں جاٶ
۔روحا اتنی دیر سے کپڑے بدل کر دوبارہ بی جان کے کمرے میں جان بوجھ کر بیٹھی تھی تاکہ ہارون سو جاے
۔۔بی جان میں سوچ رہی تھی آج آپ کے ساتھ سو جاو ۔
روحا نے نروس ہوتے بیڈ پر لیٹ گی ۔۔
دیکھو بچہ جاو ہارون کے پاس تم بیوی ہو اس کی تمھاری ضرورت ہے کیوں ڈرتی ہو آج بھی ہارون کے پاس جانے سے ۔کم از کم دوستی کر لو اگر محبت نہیں کر سکتی اس سے وہ بھی خوش ہو جاے گا میرا بچہ ۔
بی جان نے روحا کے پریشان چہرے کو دیکھ کر کہا ۔۔
۔ روحا کو بی جان کی بات سہی لگی تھی وہ ہارون کے ساتھ دوستی کر کے بات تو سن ہی سکتی تھی نہ اس میں ڈرنے والی کیا بات ہے
۔روحا نے کمرے سے جاتے ہوے سوچا ۔۔۔
————————————————————
ہارون بیڈ پر لیٹا مسلسل ماتھے کو مسلتے ہوے سوچ رہا تھا کیسے روحا کو بتاے سب کچھ جب ماتھے پر نرم سا لمس محسوس ہوا فورًا انکھیں کھول کر دیکھا تو روحا اس کا سر دبا رہی تھی ۔۔
(روحا جب کمرے میں آی تب ہارون کو اپنا سر دباتے دیکھ چکی تھی ۔تبھی اس کے قریب آی ).
پنک روز تم آرام کرو میری جان
۔ہارون نے روحا کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر چومتے ہوے کہا
۔۔ہارون حیران تھا
روحا آج خود چل کر اس کے قریب آی تھی ۔
۔کچھ نہیں ہوا مجھے آپ اور بی جان مجھے ایسا فیل کرواتے ہے جیسے میں بیمار مریض ہو
۔بتاے اب کیا پریشانی ہے
۔روحا نے روٹھے پن سے پوچھا ۔
کچھ نہیں میری جان تم آرام کرو سو جاو
۔ہارون نے روحا کے بالوں کی لٹ انگلی میں لیپٹتے ہوے کہا ۔ جھوٹ بول رہے کوی پریشانی ہے آپ مجھے بتا نہیں رہے کہاں گے تھے کیوں گے اور اب ۔۔۔
۔ روحا جو مسلسل بول رہی تھی جب ہارون نے اچانک اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اپنی طرف جھکایا اور روحا کی بولتی بند کر چکا تھا ۔
۔روحا آنکھیں پھاڑے مسلسل دبی دبی چلارہی تھی ۔کافی دیر بعد ہارون نے روحا کو چھوڑ دیا جو اب لمبے لمبے سانس لے رہی تھی ۔
بہت برے اور بے شرم ہے آپ روحا نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کے مکے بنا کر ہارون کے مضبوط سینے پر مارتے ہوے کہا ۔۔۔
ہاہاہا کتنی دفعہ کہو میری جان جو بھی ہو اب تمھارا ہو ہارون نے روحا کا بازو کھنچتے ہوے اپنے پاس لیٹاتے ہوے کہا ۔۔۔
روحا کچھ نہ بولی
اب وہ پچھتا رہی تھی وہ کیوں آی ہارون کے پاس ۔
اچھا اس ننھے سے دماغ پر زور نہ دو سو جاو
ہارون نے روحا کو گلے لگاتے ہوے کہا
۔۔۔روحا جو کافی دیر سے اب آنکھیں بند کرتی سونے کی کوشش کر رہی تھی جب گردن پر گیلا پن محسوس کرتے فورا آنکھیں کھولی تھی
۔ ہارون کا چہرہ دیکھ کر حیران رہ گی
۔۔ ہارون جو زور کی طرح آج بھی روحا کو سوتا دیکھ اس کی گردن میں منہ چھپا کر سیسکوں سے رو رہا تھا
۔۔۔اسے معلوم بھی نہ ہو سکا روحا جاگ رہی ہے ۔۔
ہارون ۔
ہارون کیا ہوا آپ کو ۔
روحا نے پریشان ہوتے بیٹھ کر پوچھا ۔۔
کچھ نہیں پنک روز تم سو جاو ۔
ہارون نے گبھراتے ہوے کہا ۔۔
بتاے کیا ہوا ہے اور جب سے آے ہے پریشان ہے
۔روحا نے اپنے ہاتھوں میں ہارون کا چہرہ لیتے ہوے پوچھا ۔۔ ہارون جو اس وقت ایک سہارہ ڈھونڈ رہاتھا
۔روحا کی اتنی محبت دیکھ کر سب بتاتا چلا گیا ۔۔ہارون کیا پتہ آپ غلط۔۔
نہیں پنک روز اس شخص نے ہی میرے بابا کا قتل کروایا ہے ۔اس کی وجہ سے ہم دونوں نے اپنی زندگی ایسی گزاری ہے ۔صرف اس کی وجہ سے
۔روحا جو خود شوک میں تھی بات سن کر اب روتے ہوے ہارون کو سمجھنا چاہا جب ہارون نے بات کاٹتے ہوے نفرت سے کہا ۔۔
ہماری قسمیت میں ایسا ہی لکھا تھا ہارون میں اپنی قسمیت کا مان کر سب قبول کر چکی ہو
ہارون آپ اپنے ماموں کو معاف کر دے دیکھے اللہ نے ان کو سزا دیے دی ہے
معاف کرنے سے اللہ خوش ہوتا ہے
۔اور تم نے مجھے کب معاف کرنا ہے پنک روز
ان چار ماہ میں کتنا کچھ ہوا لیکن آج بھی میں تمھاری معافی کا طلب گار ہو
۔ہارون نے پھر روحا کی بات کاٹتے اپنی کہی
۔نہیں ہارون میں آپ کو ابھی معاف نہیں کر سکتی لیکن ہم آچھے دوست بن سکتے ہے ۔
میں نے یہاں آکر اپنے ماما بابا برہان ہانی پری گڑیا زیان بھای اسامہ سب کا دل دکھایا ہے
جب تک ان سے مجھے معافی نہیں مل جاتی میں آپ کو معاف نہیں کر سکتی ۔
روحا نے روتے ہوے ہارون کے ہاتھوں کو چومتے ہوے کہا ۔۔ہارون حیران ہوا روحا کی اس حرکت کو دیکھ کر
۔ دوستوں میں تو چلتا ہے ایسے کیوں دیکھ رہے آپ ۔
روحا نے جان بوجھ کر ایسی حرکت کی کہ ہارون اپنے غم سے باہر نکل آے
۔۔جس میں وہ کامیاب بھی ہو گی تھی ۔۔
چلے چھوڑے کیسے بچوں کی طرح رو رہے ہے کوئ کہہ سکتا ہے یہ باڈی بلڈر جیسا انسان رو سکتا ہے ۔
روحا کے ہارون کے کسرتی جسم کودیکھ کر طنز کرتے ہوے کہا ۔
۔ واقعی کوئ نہیں کہہ سکتا چھ سال کی عمر میں میں نے کیسے اس معاشرے کا سامنا کیا جو آج پوری دینا میں ایک بزنس ٹائیکون کے نام سے فیمس ہے وہ اندر سے کیسا اھورہ ہے
پنک روز آج میں کتنا تنہا ہو ۔ جو میرے دکھ درد کو ختم کر سکے ۔
لیکن پھر تم آی میری زندگی بن کر میرا عشق بن کر تم نے مجھے جینا سکھایا مجھے فیل کروایا میں اس دینا میں اب اکیلا نہیں ہو
پنک روز تم اب میرا دکھ ختم کرنے میں مدد کروگی
۔ہارون نے روحا کا چہرہ دیکھتے ہوے پوچھا ۔۔
ہارون میں آپ کا دکھ سمجھ سکتی ہو
۔ہم دوست ہے آج سے میں آپ کا ہر دکھ ختم کرو گی
۔چلے اب بتاے پاکستان گے آپ سب سے ملے باباماما ہانی برہان پری عمارہ اسامہ زیان بھای
۔میری بے بی گرل
مجھے ضرور یاد کرتی ہو گی ۔
اور پری وہ تم میری دوست ہے اس نے مجھے بتایا دوستی کیسی ہوتی ہے
۔برہان وہ کتنا بڑا ہو چکا ہو گا ہاے میرا بھای
آپ چپ کیوں ہے بتاے نہ ہارون
۔جو مسلسل روحا کی چلتی زبان دیکھ رہا تھا جو ایک منٹ کے لیے بھی ہارون کو بولنے کا موقع دیے اپنی بات کیے جارہی تھی ۔۔
اب ہارون کو غصہ سے بولی جو مسلسل ہستےہوےاسے دیکھ رہا تھا ۔۔
سب ٹھیک ہے میری جان چلو سو جاو
۔ہارون نے پھر اپنی بات درہرای ۔
۔ نہیں سونا مجھےمیرا دم گھٹ رہا ہے
۔ روحا نے ناراضگی سے کہا ۔
۔ کیا طیبعت ٹھیک ہے نہ میں ڈاکٹر کو فون کرتا ہو
۔تم بی جان کے پاس جاٶ تب تک ڈاکٹر آجاے گا
۔ تم نے میڈیسن لی تھی نہ کیایار کبھی جو آرام کر لو تم ۔ہارون نے روحا کی بات کاٹتے ہوے فکرمندی سے کہا
۔“ہاروننننننننن گھٹن کا مطلب ہے مجھے ٹھنڈی ہوا لینی ہے ۔روحا نے ہارون کا فکر مند چہرہ دیکھ کر ہنس کر کہا ۔۔۔
چلو آو ٹیرس چلتےہے اب میں اتنی رات کو بنگلے سے باہر نہیں لے جاسکتا
۔ہارون نے اس کا بازو پکڑتے ہوے کہا ۔۔
—————————————————–
ہاے کتنی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے ہارون مجھے سکون مل رہا روحا جیسے ہی ٹیرس پر آی ہارون کا ہاتھ چھوڑ کر بازو پھیلا کر خوش ہو کر کہہ رہی تھی۔
۔۔ ہارون روحا کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا کہ یہ لڑکی جس سے وہ نفرت کرتا آیا آج وہ اس کا عشق بن کر زندگی میں آی ہے ۔اللہ نے اسے اس کی زندگی واپس کر دی ہے ۔
پرپل کلر کے سلک ٹروزر شرٹ میں روحا ہارون کو بازو پھیلے معصوم بچی لگی ۔۔
“پنک روز ۔
۔۔ ہارون نے بھاری لہجے سے روحا کو اپنے حصار میں لیتےگہرا سانس لے کر روحا کو پکارہ ۔۔۔
ہارون یہ کیا کر رہے ہے چلے اب مجھے نیند آ رہی ہے کمرے میں چلے
۔روحا نے گھبراتے ہوے ہارون کو پیچھے ہٹا کر کہا ۔۔۔
آج نہیں پنک روز
آج مجھے اپنی زندگی کو محسوس کرنے دو آج مت رکو ۔مجھے پنک روز
۔ہارون نے دوبارہ روحا کو اپنی گرفت میں لیتے ہوے بہکے لہجے میں کہا ۔۔۔
مجھے آج بتانے دو تم میری زندگی میرا عشق ہو
۔وہ عشق جو مجھے خود نہیں پتہ کب محبت نے عشق کی منزل پار کی ۔۔۔
ہارون نے روحا کو کمرے میں آتے بیڈ پر لٹاتے ہوے روحا کا لب سہلاتے ہوے کہا ۔۔۔
“ہار۔۔۔
ششش ۔پنک روز کتنا بولتی ہو تم خاموش بس مجھے میرا عشق محسوس کرنے دو
۔ہارون نے روحا پر حاوی ہوتے ہوے کہا ۔۔۔
لیکن ایسا کیسے۔۔۔
اس سے پہلے روحا ایک دفعہ پھر کچھ کہتی جب ہارون روحا کی بولتی بند کرواچکا تھا ۔۔۔
روحا کو آج پھر ہارون کی محبت کی شدت محسوس ہوی ۔۔۔
ہارون نے اپنے دونوں کے اوپر کفرٹر اڑوھ لیا تھا ۔۔۔
—————————————————–
اسامہ ہانی زیان کو لے کر فورًا ہسپتال پہنچے اسے Icu میں منتقل کیا گیا کیونکہ زیان کی حالت بہت خراب تھی اس کے سر سے خون بہت بہہ رہا تھا ۔۔
خون کو دیکھ کر ہانی کو ہمیشہ ڈر لگتا تھ
ا ۔تبھی اس کی اپنی حالت بھی بہت خراب ہو رہی تھی ۔
برہان پری عمارہ فورًا ہسپتال پیچنے ۔۔۔
زیان کی حالت بہت خراب تھی
۔ڈاکٹر کوی اچھی امید نہیں دے رہے تھے
۔۔ عمارہ کا رو روکر برا حال ہو چکا تھا
۔۔ اپنے لالہ کے لیے ۔ہانی کی آنکھ سے ایک بھی آنسو نہیں نکلا تھا ۔
وہ حیران تھی یہ سب کیا ہو گیا ۔۔۔
—————————————————-
عمارہ اور ہانی نماز پڑھ کر زیان کے لیے دعا کر رہی تھی ۔
ڈاکٹر کیا ہوا ہے میرے ہسبنڈ کو
ہانی نے بھاگ کر ڈاکٹر سے پوچھا
جو ابھی آپریشن ٹھیٹر سے باہر آے تھے
برہان اسامہ ہانی کے ری ایکشن پر حیران تھے جو رو ہرگز نہیں رہی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں درد تکلیف سب سے زیادہ تھی
اپکے شوہر کا سر شیشے میں لگنے کی وجہ سے کچھ ٹکڑے ان کے دماغ کے ساتھ ٹچ ہوگے تھے جس کے لیے آپریشن ضروری تھا
ٹکڑے تو نکل گے ہے
لیکن
لیکن کیا
ہانی نے فورا بےچینی سے پوچھا
وہ کوما میں چلے گے ہے
ڈاکٹر نے افسوس سے کہا
سب کے قدموں تلے سے زمین نکل گی اچانک یہ کیا ہوگیا
ہانی اور عمارہ تو سنتے ہی بے ہوش ہوگی
اسامہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے
زیان کی حالت کا سن کر اسامہ کو خود کا دل پھٹتا ہوا محسوس ہوا
کتنی بری غلطی ہوگی ہم سے
اسامہ نے روتے ہوے سوچا
آج زیان کی جو حالت تھی اس کے ذمہ دار ہانی اسامہ ہارون تھے
( بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا حادثہ ضرور ہوتا ہے جو ساری عمر اسے یاد رہتا ہے انسان کی سوچ ہمیشہ حالات کے مطابق ہوتی ہے کم عمری میں انسان جو دیکھتا ہی وہی سے سیکھتا ہے)
———————————
ہارون کو جب اسامہ نے زیان کی کنڈیشن کا بتایا
اسے شدید صدمہ ہوا
یہ اس سے کیا ہوگیا
زیان کی حالت کا سن کر ہارون بچوں کی طرح رو رہا تھا یہ ہی حالت اسامہ کی تھی
( اسامہ ہارون یہ ہی سوچ رہے تھے
آخر کیوں ہم غصے میں اتنا پاگل ہو گے
زیان کی ایک نہ سنی وہ ہم سے معافی مانگتا رہا لیکن ہم نے اس کی بات کو نہ سنا نہ سمجھا )
ہارون نے روحا کو زیان کے ایکسیڈنٹ کا بتایا تھا روحا تو زیان کی حالت کا سن کر روپڑی اسے ہانی کی فکر ہورہی تھی
روحا اب مینٹلی طور پر بالکل ٹھیک تھی تبھی ہارون نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا
——————————-
عمارہ بس کرو
تمہاری طبعیت خراب ہوجاے گی بیٹا اس حالت میں اتنا رونا اچھا نہں ہوتا اپنے معصوم بچے کا ہی خیال کرلو رونا بند کرو
تنزیلہ نے عمارہ کو پیار سے سمجھایا
آنٹی آپ ہانی بھابھی پاس جاے انھیں ابھی تک ہوش نہیں آیا عمارہ کو میں سنبھال لو گا
اسامہ نے روم میں داخل ہوتے ہوے کہا
—————-
چلے جاے یہاں سے
مجھے آپ سے کوی بات نہیں کرنی عمارہ نے نروٹھے پن سے کہا
اسامہ تو عمارہ کی بات سن کر حیران رہ گیا
لیکن کیوں میری جان میں نے کیا کردیا
اسامہ نے عمارہ کے آنسو صاف کرتے ہوے پوچھا
آج بھای جس حالت میں ہے ان کے قصور وار آپ بھی ہے
اسامہ تو حیران پریشان رہ گیا عمارہ کی بات سن کر
اسامہ کے چہرے پر حیرانی پریشانی دیکھ کر عمارہ زخمی نگاہوں سے اسامہ کو دیکھتی رہ گی
حنین کے ساتھ جو کچھ بھی کیا بھای نے وہ سب مجھے بتا دیا تھا جب علیزے بابر کی شادی تھی بھای کو بہت پچتھاوا ہو رہا تھا اپنے کیے پر
بابر کو دیکھ کر ہی میرے بھای نے غلط سمجھا تھا ہانی کو
جو کچھ اس رات ہوا میں مانتی ہو میرے بھای کی غلطی تھی
اس غلطی کو سدھارنے کے لے ہی تو انہوں نے نکاح کیا تھا ہانی سے کوی ایسا گناہ یا کچھ اور غلط نہیں کیا تھا انہوں نے جو آپ لوگوں نے اس حالت تک پہنچا دیا
ہانی کبھی بھی ہارون بھای کو کچھ نہ بتاتی اگر وہ مجبور نہ کرتے جیسے آپ لوگ غصے سے گے تھے مجھے ہانی کو یہ ہی لگا کہ آپ لوگ لالہ کو سمجھاے گے لیکن آپ نے تو انھیں موت تک پہنچا دیا
میں بہن ہوکر معاف کر گی اپنے بھای کو اور آپ لوگ دوست بھای کہتے لالہ کو لیکن آپ لوگ تو ان کے ہی دشمن بن گے
ہانی کا سگا بھاہی بربان سب جانتا ہے وہ صرف ہانی کی وجہ سے خاموش ہے وہ بھی تو آپ کی طرح کچھ بھی کرسکتا تھا لیکن نہیں کیا کچھ
کیونکہ اسے اپنی بہن کی کہی باتوں کا مان رکھنا تھا ہانی نے منع کیا ہوا تھا اسے
آپ نے لالہ کو مارتے وقت یہ بھی نہ سوچا انھیں کچھ ہوگیا تو میرا کیا ہو گا
اپ نے ہارون بھای نے میرا روحا بھابھی کا بھی خیال نہ کیا اپنے غصے کو خود پر حاوی رکھا
(ہارون کو سب بتانے کے بعد ہانی نے سب عمارہ کو بتا دیا تھا لیکن عمارہ کو موقع نہ ملا زیان کی باتیں بتانے کا)
ہانی پر مجھے کوی اعتراض نہیں ایک لڑکی ہوکر اس کی تکلیف سمجھ سکتی ہو میں
اور آپ““““““
اسامہ نے عمارہ کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ دیے بنا کسی کی پرواہ کیے اپنی تشگنی کو مٹا رہا تھا عمارہ نے اسامہ کو دور کرنے کی کوشیش کی
لیکن اسامہ نے اس کی کوشیش ناکام بنادی اسے کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھوں سے گرفت سخت کرکے
اسامہ بہت نرمی سے چھو رہا تھا ہونٹوں کو
تاکہ عمارہ کو تکلیف نہ ہو
اپنی پیاس پوری کرنے کے بعد اسامہ نے آرام پیار سے عمارہ کے لبوں کو چھوڑا
اور اس کے ایک ایک نقش کو اپنے لبوں سے چھوتا رہا
عمارہ بالکل خاموش سب برداشت کررہی تھی اسامہ کو روک کر اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
میرے لالہ ٹھیک ہوجاے گے نہ
عمارہ نے روتے ہوے پوچھا
ہاں بہت جلد ٹھیک ہوجاے گے
اگر اب تم نے رونا بند نہ کیا تو میں یہ بھول جاو گا کہ ہم اس وقت اپنے کمرے میں نہیں ہسپتال ہے
اسامہ نے عمارہ کے آنسو صاف کرتے ہوے سنجیدگی سے کہا
( اسامہ نے عمارہ کا ذہن بھٹکانے کے لیے ہی وہ سب کیا تھا جس میں وہ کامیاب بھی رہا )
اسامہ عمارہ کی باتوں پر حیران بہت تھا اور سوچ رہا تھا کاش ہم بھی زیان کی بات سن لیتے
اسامہ کی آنکھوں میں کب آنسوں آے اسے بھی معلوم نہ ہوا
————————-
آج تین دن ہوگے ہوگے تھے زیان کو کوما میں گے ہوے
روحا ہارون پاکستان آگے تھے
ہانی روحا ایک دوسرے کے گلے لگ کر بہت روی
برہان کو بھی زیان کی حالت دیکھ کر دکھ ہورہا تھا
اسامہ ہارون کو تو چپ ہی لگ گی تھی
