Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 15)

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

اف یہ بھابھی کہاں چلی گی مجھے بتاے بنا ۔۔۔

پری جو ابھی سو کر آٹھی تھی بکھرے بال چہرے پر معصومیت سے کمرے سے باہر آتے اس نے سوچا ۔۔پری نائٹ ڈریس میں ہی تھی ۔۔

کیونکہ آج کافی لیٹ اٹھی تھی ۔۔

اچانک اپنے پیچھے بھاری قدموں کی چاپ سنای دی اور وہ قدم پری کی طرف بڑھ رہے تھے ۔پری نے جب کسی کے انے کو محسوس کیا تو اسے شدید جھٹکا لگا ۔۔۔ اس نے پیھچے رخ موڑ کر دیکھا تو حیران رہ گی ۔۔ کیونکہ اس کی بھابھی کا بھای اسے غلیظ نگاہوں سے دیکھا رہا تھا ۔۔۔

تم ۔۔یہاں کیا کررہے ہو ۔پری نے ہمت کرتے ہوے پوچھا ۔۔۔

تمھیں دیکھنے آیا تھا جان من پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگی ہو ۔۔

میں نے سنا تمھارا نامراد شوہر تم سے محبت نہیں کرتا ۔۔چلو چھوڑو اسے جان من مجھے اپنا بنا لو ۔ میں تم سے بے حد محبت کرتا ہو۔۔

انور نے پری کو دیکھ کر کہا ۔۔ اور اس کو چھونے کے لیے اپنا ہاتھ برھایا اس سے پہلے وہ پری کو ہاتھ لگاتا کسی نے پیچھے سے اکر اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا تھا ۔۔

اور بنا روکے لگاتار مکے مارنے شروع کر دیے ۔۔۔

پری اپنے سامنے برہان کو دیکھ کر حیران رہ گی ۔۔۔

بے غیرت تیری اتنی ہمت میری بیوی کو ہاتھ لگاے اسے گندی نظر سے دیکھے تیری انکھیں نکال دو گا تیرے ہاتھ توڑ دو گا بے غیرت انسان برہان نے انور کو مار مار کر اس کا برا حال کر دیا تھا ۔۔ انور مشکل سے اپنا آپ بچا کر بھاگ گیا تھا ۔۔۔

برہان پری کو دیکھ کر فورًا اس کر طرف آیا ۔۔۔

روک جاو وہی ۔۔ اس سے پہلے برہان اگے اتا جب پری نے وہی روک دیا ۔۔۔

چلے جاو یہاں سے برہان کیسے یاد ا گی آج میں تمھاری بیوی ہو ۔پری نے غصہ سے کہا ۔۔برہان پری کی بات سن کر خاموش رہا ۔۔۔

نہیں چاہیے تمھارے جیسا شوہر جو اپنی بیوی سے منہ موڑ کر بیھٹا ہو ۔۔ اسے اپنی بیوی کی عزت کا کوی خیال نہیں رہا ہو ۔مسٹر برہان جلد ہی مجھے طلاق۔۔

اس سے پہلے پری اپنی بات پوری کرتی برہان اس کی بولتی بند کرچکا تھا ۔اس کی سانس میں اپنی سانس کو منتقل کر رہا تھا ۔۔

اس کے عمل میں اتنی شدت تھی پری کو خود کی جان نکتی ہوی محسوس ہوی ۔پری نے برہان کے کالر کو سختی سے کھنیچا برہان ہوش میں ایا اور پری کے لبوں کو نرمی سے چھوڑا ۔طلاق کا سوچنا بھی نہ پریسہ برہان نے مسکراتے ہوے پری کی گال چھوتے ہوے کہا ۔۔۔

اور پری بنا برہان کی طرف دیکھے کمرے میں بھاگ کر چلی گی ۔۔۔

————————————————————

ان تین مہینوں میں برہان کو پری سے بے اتنہا محبت ہوگی تھی ۔اس کا اب پری کی بنا رہنا نہ ممکن تھا تبھی آج فصیلہ کر کے وہ پری سے ملنے آیاتھا ۔۔۔

————————————————————

پاپا مجھے رخصتی چاہیے جلدی پری کے بھاہیوں سے شادی کی ڈیٹ فکس کرے میں اور انتظار نہیں کرسکتا ۔برہان جب سے گھر ایا تھا تب سے بے چین تھا ۔اگر اج وہ ٹائم سے نہ پہنچتا تو کیا ہو جاتا یہ سوچتے ہی برہان کو خود کی جان نکلتی ہوی محسوس ہورہی تھی ۔۔۔

تم ہوش میں تو ہو کہا کہہ رہے ہو ۔تمھاری دونوں اس وقت مصروف ہے دونوں تم سے ملنا نہیں چاہتی تم شادی کرنا چاہیتے ہو ۔۔

مہر صاحب نے افسوس سے کہا ۔۔۔

پاپا روحا اپی اپنی مرضی سے گی ہے ۔ان کا یہاں سے جانا ضروری تھا ہانی مجھ سے دور نہیں ہے میری بہن میری شادی میں ضرور اے گی ۔۔چاہے اپ لوگ رضامند ہو ہا نہ ہو ۔

آج ہی پری کے گھر جاے اور شادی کی ڈئٹ فکس کرے ۔برہان نے تحمل سے ساری بات کی مہر صاحب کی سنے بنا چلا گیا ۔۔۔

————————————————————

آخر مہر صاحب راضی ہو گے ۔۔برہان کی شادی کے لیے ۔پری بہت حیران تھی اچانک شادی پر اسے سمجھ نہئں ارہا تھا وہ کیا کرے کس سے بات کریں روحا تو اس سے اتنی دور تھی تبھی ہانی کو فون ملایا ۔۔۔

ہانی برہان کی شادی کا سن کر بہت خوش تھی ۔اس کے چہرے اور انکھوں میں خوشی دیکھ کر خوش ہوا تھا ۔۔برہان ہانی سے ملنے گھر ایا تھا ۔۔

برہان پری کا فون آرہا ہے ۔۔۔ہانی نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

سپکیر آن کرکے بات کرو برہان نے جوس پیتے ہوے کہا ۔۔۔۔

ہاے پری چڑیل بھابھی کیسے یاد آگی مجھ معصوم کی ۔۔

ہانی نے فون اٹھاتے ہی مزاحیہ انداز میں پوچھا ۔۔۔

پری تو ہانی کے اتنے چہکتے انداز پر حیران رہ گی اتنے دونٶں بعد اس نے ہانی کی آواز میں خوشی دیکھی تھی ۔۔ہانی میری جان مجھے سکون ملا ہے تمھاری آواز سن کر پری نے آنسو صاف کرتے ہوے کہا ۔۔۔

پری کی بات سن کر برہان کو اتنی خوشی ہوی وہ بھی اتنا پیار کرتی ہے ہانی سے جتنا وہ کرتا ہے ۔۔(لیکن مجھ سے زیادہ کوی تمھیں پیار نہیں کر سکتا ).

برہان نے ہانی کو سر گوشی نما میں کہا ۔۔

ہانی اس کی بات پر مسکرادی ۔۔

چڑیل بھابھی مجھے پتہ ہے تممجھ سے کیا پوچھنا چاہتی ہو مجھے کیوں فون کیا ہے ۔چل شاباش شادی تک کا انتظار کرو سب پتہ چل جاے گا ۔اور ہاں برہان کی پسند کا لہنگا شام تک گھر پہنچ جاے گا ۔۔

ہانی نے بنا پری کی بات سنے کال کاٹ دی ۔۔۔

پری کو ہانی کی حرکت پر بہت غصہ آیا ۔۔۔

پری یہ لڑکی ہے ہی نہیں اس لائق تواس سے محبت اور عزت سے بات کریں پاگل موٹی چشمش کہیں کی ۔پری نے دل میں ہانی کو مختلف لقابات سے نوازا ۔۔۔

آج برہان کی منہدی تھی ۔ہانی نے بھر پور تیاری کی تھی ۔۔ اپنے بھای کی شادی کی ۔روحا کو برہان اور ہانی بہت یاد کررہے تھے ۔انھیں پتہ تھا جب روحا معلوم ہو گا وہ اور غصہ کرے گی لیکن اس کی صحت کی بہتری کے لیے اس سب سے دور رہنا ہی بہتر تھا ۔۔۔

ہانی جب سے مہر ہاوس آی تھی ۔اس نے مہر صاحب اور تنزیلہ بیگم سے کوی بات نہ کی تھی ۔۔

ہانی نے خود ہی ہر کام سنبھالا ہوا تھا ۔۔

ڈیکوریشن سب اس کی مرضی کی کروای گی تھی ۔۔ زیان کے کمرے کی سیٹگ تک ہانی کی مرضی کے مطابق کی گی تھی ۔۔ برہان ہانی کی ہر بات مان رہا تھا ۔۔ اسے روحا کی بہت یاد ارہی تھی ۔ دونوں بہن بھای روحا کو یاد کر کے روہتے اور خود ہی ایک دوسرے کے آنسو صاف کر لیتے تھے ۔۔۔

پری کو بھی روحا بہت یاد ارہی تھی ۔۔ پری نے شادی کے متعلق کسی بات میں کوی حصہ نہ لیا کوی ردعمل ظاہر نہ کیا ۔۔ کیا ہو رہا کیا نہیں اسے زرا فرق نہیں پڑ رہ

ا تھا ۔۔۔

اف میں کیسے تیار ہوگی مجھے تو کچھ کرنے بھی نہیں آتا

کاش آپو یہاں ہوتی

ہانی نے دکھی ہوتے ہوے سوچا

( ہانی اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھی سوچ رہی تھی وہ کیسے تیار ہو گی علیزے اور بابر مری گے ہوے تھے عمارہ بھی نہیں آی تھی اب ہانی سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کرے بھی تو کیا کرے سارا دن کام میں مصروف رہنے کی وجہ سے یہ تو بھول ہی گی تھی کہ روحا یہاں نہیں ہے اور وہ کیسے تیار ہوگی

ہانی نے کسی بیوٹیشن کو بھی نہیں بلایا تھا اب اسے بالکل سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کریں

کمبائن فنکشن تھا مہر ہاوس میں ہی مہندی کا فنکشن تھا پری نے اپنے ہی گھر سے تیار ہوکر آنا تھا اس کا ارادہ نہ تھا مہر ہاوس آکر تیار ہونے کا )

بےبی پنک اور وائٹ کمبونیشن میں ہر طرف پردے بےبی پنک کلر ویسا ہی وال پینٹ بیڈ ڈریسنگ ٹیبل الماری تک سب بےبی کلر کے تھے کوی ہانی کے کمرے میں آجاے تو اسے وہ کمرہ کسی چھوٹی بچی کا ہی لگے گا روحا کی شادی کے بعد برہان نے نے ہانی کے لیے یہ کمرہ تیار کروایا تھا لیکن ہانی کو اس کمرے میں زیادہ دیر رہنا نصیب نہ ہوا

ہانی اپنے خیالات میں اتنی مگن تھی کہ اسے زیان کے آنے کا بھی پتہ نہ چل سکا

زیان وائیٹ شلوار قمیض پر مہندی کلر کی واسکوٹ پہنے بہت ہی خوبصورت پرکشیش لگ رہا تھا

تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی

زیان نے حیران ہوتے ہوے پوچھا

کیسے تیار ہوجاو

مجھے تو تیار ہونے بھی نہیں آتا ہانی نے شرمندہ ہوتے ہوے کہا

تو اس میں پریشان ہونے والی کونسی بات ہے

میں تمہیں تیار کردیتا ہو

زیان نے ہانی کے بالوں کو آزاد کرتے ہوے کہا جو کیچر میں قید تھے

(روحا کی جب سے شادی ہوی تھی ہانی نے ایک دن بھی بال نہیں بناے تھے زیادہ کیچر ہی لگاے رکھتی تھی )

زیان کا چھونا ہانی کو بالکل پسند نہ آیا لیکن ( مصیبت میں گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے)

وہ والا کام ہانی نے کیا کیونکہ وہ مجبور تھی

سچی آپ مجھے تیار کرے گے ہانی تو خوش ہوگی تھی

میں ابھی چینج کرکے آتی ہو ہانی نے واش روم کی طرف جاتے ہوے کہا

پاگل لڑکی اتنی سی بات پر ہی خوش ہوگی

زیان نے یوٹیوب آن کرتے ہوے مسکرا کر کہا

اسے اتنی بھی عقل نہ آئی یوٹیوب سے دیکھ کر ہی تیار ہوجاے ویسے بڑی زبان چلتی ہے اس کی زیان نے قہقہ لگاتے ہوے کہا

کیا بنے گا اس چشمیش کا

—————————————-

پری نے رائل بلیو لہنگے( جس میں کڑھائی تھی کرتی بالکل سادہ تھی )

اورنج جالی دار ڈوپٹے کو سر پر ٹکاے گلابی اور سفید پھولوں کا سیٹ پہنے بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی

برہان نے گولڈن سلک کی شلوار قیمض پر رائل بلیو واسکوٹ (جس پر کڑھائ ہوی تھی) پہنی ہوی تھی دونوں ہی بہت خوبصورت لگ رہے تھے جو بھی دیکھتا پری کی قیسمت پر رشک کررہا تھا اسے اتنا خوبصورت شوہر ملا لیکن پری کو اس بات سے کوی فرق نہیں پررہا تھا کیونکہ وہ وہاں ہوکر بھی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے

———————————

عمارہ نے وائٹ میکسی

کے ساتھ حجاب پہنا ہوا تھا

اسامہ نے وائٹ شلوار قمیض پر بلیک واسکوٹ پہنی ہوی تھی

دونوں ہی بہت خوبصورت لگ رہے تھے

جس شان وشوکت سے وہ دونوں چل رہے تھے ہر کوی ماشاءالله کہہ رہا تھا

————————————–

ییلو لانگ فراک پہنے کمر سے نیچے آتے ہوے کالے لمبے بال آنکھوں پر چشما لگاے

فراک سے الجھتی ہوی واش روم سے باہر آی

کیونکہ اس سے فراک کو کیری کرنا مشکل ہوریا تھا

زیان جو موبائل میں مصروف تھا اچانک ہانی کو دیکھ کر مہبوت رہ گیا

کیونکہ ہانی کسی تیاری کے بغیر ہی بہت خوبصورت لگ رہی تھی

( چشمیش بنا کسی تیاری کے اتنی پیاری لگ رہی اگر اور تیار کردیا تو آج مجھے یہ بالکل پاگل ہی کردے گی )

زیان نے ہانی کو دیکھتے ہوے سوچا

چلے جلدی سے تیار کردے پہلے ہی بہت لیٹ ہوگی ہو

ہانی نے زیپ سے الجھتے ہوے کہا جو اس سے بند نہیں ہورہی تھی

ہانی کی بات پر زیان ہوش میں آیا

اس کے الجھی ہوی حالت کو دیکھ کر خود پر قابو پاتے اس کے پاس گیا

ایک شرط پر تیار کرو گا زیان نے سنجیدگی سے کہا

جو بھی شرط ہے جو بھی کرنا ہے جلدی کرے زیان ٹائم نہیں ہے

ہانی نے ڈراسنگ ٹیبل کے سامنے جاتے ہوے کہا

میں تمہں جیسا بھی تیار کروگا تم اسی میں خوش ہوگی مجھ سے کوی بحث نہیں کرو گی

اوکے

ہانی نے بنا کسی بحث کے جلدی ہامی بھرلی

—————————-

زیان نے ہانی کے چہرے پر سواے بی بی کریم کے کچھ نہ لگایا آنکھوں میں کاجل اور مسکارا لگایا ہونٹوں پر لائٹ پنک گلوز لگایا بالوں کو سٹریٹ کرکے کھولا چھوڑ دیا کیونکہ ہانی کے کھلے بال ہی اسے پسند تھے (آنکھوں پر چشما لگاے رکھنے کی تاکید کی گی )ہانی کے بال اور اس کا چشما ہی زیان شاہ کی کمزوری تھی

—————–

ہانی اپنی اتنی سمپل تیاری دیکھ کر بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گی

زیان میرے بھای کی مہندی ہے کوی سکول فنکشن نہیں جو آپ نے اتنا سمپل تیار کیا ہے

ہانی نے صدمے کی حالت میں کہا😳😂

ہانی کی بات کا جواب دیے بنا ہی زیان اپنے لب اس کی گردن پر رکھ چکا تھا

گرم نرم لمس سے ہانی کو شدید جھٹکا لگا اسے زیان سے ایسی حرکت کی امید نہ تھی

ز ز زیان یہ کیا کر رہے ہے آپ

ہانی نے زیان کو آینئے میں دیکھتے ہوے پوچھا

ہانی کی زبان اور جسم دونوں ہی کانپ رہے تھے

دونوں کالی گہری آنکھیں جب ایک دوسرے سے ٹکرای تو عجیب ہی تاثر پیدا ہوا جسے سمجھنا ان دونوں کے لیے مشکل تھا

زیان نے ہانی کی زیپ بند کرکے اسکا رخ اپنی طرف کیا

زیان نے ہانی کو مکل اپنے حصار میں لیا

ہانی کی تو زبان ہی تالو سے چپک گی وہ آنکھیں بند کرکے کھڑی زیان کا ضبط آزما رہی تھی لیکن وہ خاموش رہ جاے ایسا ہو ہی نہیں سکتا

ہانی نے زیان کو دھکا دیا تو زیان ہوش میں آیا

آپ پاگل ہوگے ہے کیا

ہوش میں تو ہے آپ

ہانی نے غصے سے چلاتے ہوےپوچھا

تم میری بیوی ہو چاہے زبردستی ہی صحیح

تمہں سجھنا سنورنا دیکھنا صرف میرا حق ہے

تمہں اتنا تیار کردیا یہ ہی کافی ہے

مسز زیان شاہ میرے ضبط کو مزید مت آزماو

زیان نے ہانی کی پیشانی پر اپنے لب رکھتے ہوے پیار سے کہا اور ہانی کا جواب سنے بنا ہی کمرے سے چلا گیا

ہانی زیان کی بات اور اس کی حرکتوں کو سمجھنے کی کوشیش کررہی تھی جس کو سمجھنے میں وہ ناکام ہوی

————————————–

مہندی کا فنکشن شروع ہوچکا تھا سب نے بہت انجواے کیا ہانی نے خوب رونق لگای اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر برہان بہت خوش تھا اس نے روحا کو بہت یاد کیا بہنوں کو بھائیوں کی شادی کا بہت شوق ہوتا ہے خاص کر جن کا ایک بھای ہو ان کے بہت ارمان ہوتے ہے ہانی برہان کو یہ فکر تھی جب روحا کو معلوم ہوگا پتہ نہیں کیسا ریکٹ کرے گی

——————————–

بہت خوبصورت لگ رہی ہو پری

برہان نے سرگوشی نما آواز میں کہا

برہان کے کے بھاری گھبر لہجے سے پری کے تو ہوش ہی اڑ گے😂

اس کی تو زبان ہی تالو سے چپک گی جب برہان نے پری کا ہاتھ پکڑا

پری نے برہان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور وہاں سے چلی گی

پیچھے برہان سوچتا رہ گیا اب آگے اسے کیا کرنا چاہے

————————-

آج شادی تھی ہر کوی برات کے آنے کا انتظار کررہا تھا

پری گولڈن اور مہرون کمبونیشن کلر کے لہنگےمیں بہت خوبصورت لگ رہی تھی برہان نے بھی مہرون اور گولڈن شیروانی پہنی ہوی تھی

ہانی نے سکن اور مہرون کمبونیشن شارٹ ڈریس پہنا ہوا تھا آج اسے بیوٹیشن نے تیار کیا تھا اور بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی اس کی تیاری دیکھ کر زیان کو بہت برا لگا وہ اس کی ایک بات بھی نہ مان سکی

زیان اور اسامہ نے بلیک شلوار قمیض پر مہرون واسکوٹ پہنی ہوی تھی عمارہ نے مہرون اور بلیک میکسی گاون پہنا ہوا تھا تینوں کیپل ہی بہت خوبصورت اور پرکشیش لگ رہے تھے

—————————————

زیان اور ہانی ساتھ چلیتے ہوے آرہے تھے مہرصاحب اور تنزیلہ نے دور سے ہی ان کے لیے بری نظر سے بچنے کی دعا کی

پہلی مرتبہ دونوں ساتھ چلتے ہوے آرہے تھے اور ایک آئیڈیل کیپل لگ ریے تھے

برہان کو ہانی کا زیان کے ساتھ آنا زرا پسند نہ آیا کل مہندی کے فنکشن میں برہان جب بھی زیان کو ہانی کے پاس دیکھتا فورا اسے وہاں سے ہٹا دیتا زیان سے برہان کی یہ حرکت چھپی نہ تھی اسے بہت غصہ آرہا تھا برہان پر لیکن ہانی کی وجہ سے خاموش رہا

——————————

سنجیدہ انسان تیرے چہرے پر کب مسکراہٹ نظر آے گی ہر وقت کیوں سرا ہوا بینگن بنا رہتا ہے

اسامہ نے زیان کو دیکھ کر افسوس سے کہا

پتہ نہیں

تحمل سے جواب دیا گیا

چل بتا مجھے کب پھوپھا +چاچو بنا رہا ہے میں نے اور ہارون نے خوشخبری سنا دی اب تیری باری ہے😝😜

اسامہ نے آنکھ ونک کرتے ہوے کہا

میں تیری اور ہارون کی طرح جلدباز نہیں ہو تم دونوں میں تو صبر ہے ہی نہیں

زیان نے قہقہ لگاتے ہوے کہا

بےغیرت بے شرم مرجا ڈوب کر کہیں زیان کی بات کا مطلب سمجھ کر اسامہ نے اسے گالیوں سے نوازا اور وہاں سے بھاگ گیا—–

————————-

اسامہ بھائی

ہانی نے اسامہ کو جاتے ہوے آواز دی

ہانی کی آواز پر اسامہ رک گیا

جی بہناں

اسامہ نے مسکراتے ہوے ہانی کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا

ہارون بھای سے کوی رابطہ ہے آپ کا

ہانی نے دکھی ہوتے ہوے پوچھا

نہیں وہ جب سے گیا اس نے کوی رابطہ نہیں کیا

اسامہ نے افسوس سے بتایا

(ہانی روحا کو بہت یاد کررہی تھی اس سے رابطے کا بھی کوی ذریعہ نہ تھا تبھی اسامہ سے ہارون کا پوچھا اس نے)

ہانی اسامہ کے جواب پر روتی ہوی چلی گی اور زیان سے اس کا رونا برداشت نہ ہوا

جا اس کے پیچھے

اسامہ نے مشورہ دیا

اسامہ روحا بھابھی کو ہم بھابھی کہتے ہے تو عمارہ کو ہارون گڑیا کہتا ہے اور تو ہانی کو بھابھی کہا کر اس کی خوایش ہوگی اسے کوئی بھابھی کہے ہم تینوں ہی تو ایک دوسرے کے بھای ہے

زیان نے اسامہ کو مسکراتے ہوے کہا

ہانی میری بہنوں جیسی ہے اب کچھ اور نہ سمجھی جا بےغیرت

اسامہ نے مکا مارتے ہوے کہا

لعنت تجھ جیسے دوست پر تجھے تو عزت راس نہیں میں اس لیے کہ رہا کیونکہ ہانی کی خواہش تھی اسے کوی بھابھی کہں عمارہ نے بھی اسے بھابھی نہیں کہا کھبی میں تجھے ویسے ہی کہا اور تو مجھے ہی غلط سمجھ گیا

حالانکہ تو اچھے سےجانتا ہے

تو اور ہارون سگے بھائیوں کی طرح ہو میرے لے

زیان افسوس سے کہتا ہوا بنا اسامہ کی سنے چلا گیا

اسامہ اسے آواز لگاتا رہا لیکن اس نے ایک نہ سنی

———–

تمام رسموں کو پورا کرنے کے بعد ہانی پری کو بریان کے کمرے میں چھوڑ ای تھی

برہان کے انتظار میں بیٹھنا پری نے فضول ہی سمجھا تبھی اٹھ کر چینج کرنے چلی گی

———————————-

مجھے پہلے ہی امید تھی یہ میرے انتظار میں نہیں بیھٹے گی ۔۔۔

برہان نے خالی بیڈ دیکھ کر افسوس سے کہا اور خود چنچ کرنے چلا گیا ۔۔۔

پری نائٹ ڈریس میں واش روم سے باہر اتی برہان کو کمرے میں نہ پا کر خوش ہو گی اور فورًا بیڈ کی طرف بھاگی تاکہ جلدی سو سکے ۔لیکن اس کی کوشش ناکام رہی ۔۔ کیونکہ برہان اس کی کلائ پکڑ کر اسے روک چکا تھا ۔۔۔

میری پیاری بیوی آج سونے کی رات تو نہیں ہے ۔برہان نے پری کو اپنی طرف کیچھتے ہوے بے شرمی سے کہا ۔۔۔پری برہان کی بات پر لال ٹماٹر ہو گی ۔۔ اس کے سرخ گالوں کو دیکھ کر بے قابو ہوا اور اپنے دہکتے لبوں سے اس کے گالوں کو چھوا ۔۔

اس سے پہلے برہان اور گستاخی کرتا پری نے برہان کو زور سے دھکا دیا ۔۔

بسسسس“

مجھے چھونے کی کی کوی ضرورت نہیں تمھارے چھونے سے مجھے خود سے نفرت محسوس ہونے لگتی ہے ۔خبردار اگر اب دوبارہ غلطی بھی کی تو ۔پری نے چلاتے ہوے کہا ۔۔

پری کے ریکشن پر برہان نے قہیقہ لگایا ۔۔

بنا پری کے غصے کی پرواہ کیے اسے گلے لگا لیا ۔۔پری دنگ رہ گی ۔اس کی ہمت پر ۔۔

پری تم میری جان ہو تم سے دور کیسے رہ سکتا ہو ۔اب یہ نامکمن ہے جانِ برہان ۔برہان نے پری کے بالوں میں اپنا منہ چپھاتے ہوے بھاری گمبھر لہجے میں کہا ۔۔۔

پری کے لیے خود کے قدموں پر کھڑا رہنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔

اسے سمجھ نہیں آرہی تھی ۔وہ کیا کریں ۔۔

————————————————————

پری میں تم سے بہت محبت کرتا ہو ۔اتنی محبت شاہد تم نہ کی ہو ۔تم میری پہلی نظر کی محبت ہو ۔جب مجھے یہ بھی نہ معلوم تھا محبت ہوتی کیا ہے ۔لیکن میں اس معاشرے اور سماج کی سوچ کی وجہ سے اپنے جذبات کو اندر ہی اندر دبا گیا ۔۔

لیکن اچانک جب تم سے میری شادی کی بات کی گی مجھے سمجھ نہیں ایا کہ خوش ہو یا دکھی ۔۔ کیونکہ مجھے لگا تم مصیبت میں ہو ۔۔

تبھی اس لیے تمھاری شادی کروائ جا رہی ہے ۔میں کسی سے اپنی محبت کی بات کی سواۓ ہانی کے اسے سب معلوم تھا ۔پہلے دن سے اسے معلوم تھا تم میری محبت ہو ۔روحا آپو اس لیے نہیں بتایا تھا کہ آپو مجھے غلط سمجھے کہ میں نے ان کی دوست پر غلط نظر رکھی لیکن انھوں نے میری انکھوں میں تمھارے لیے محبت دیکھ چکی تھی ۔۔ نکاح والے دن میں بہت رویا اور الللہ کا شکر ادا کیا لیکن مجھے دکھ تھا کہ تم اس سے خوش نہیں ہو یہ صرف ضرورت کے تحت نکاح ہوا ہے ۔۔

تمھیں اس دن اتنی باتیں سنانے کا مقصد تمھارے دل میں میرے لیے کوی جذبہ نہ ہو تمھیں مجھ سے نفرت ہو ۔ لیکن تمھارے منہ میرے لیے محبت کا لفظ سن کر مجھے احساس ہوا آگ دونوں طرف لگی ہے ۔۔

میں کیسے تمھاری انکھوں میں محبت نہی دیکھ سکا ۔۔۔تمھاری انکھوں میں جو آنسو تھی اسے دیکھ کر میں اور بے چین ہو گیا ۔۔

میری محبت اور بڑھ گی تمھارے لیے ۔میں روز رات کو کمرے میں تمھارے تم سے ملنے آتا ۔تمیھں دکھنے اپنی انکھوں کی پیاس بجھانے کے لیے تم سونے میں اتنی مصروف ہوتی تھی تمیھں میرے چھونے کا بھی احسا س نہیں ہوتا تھا ۔۔

میرا الللہ گواہ ہے میں نے جو کہا سچ کہا ہے ۔میں تب تک اگے نہیں بڑھو گا جب تک تمھاری مرضی شامل نہ ہو ۔۔

مجھے تمھارا جسم نہیں بلکہ تمھارا دل چاہے ۔مجھے تمھاری محبت چاہے پری میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔

آخر آج برہان نے سالوں سے دل میں چھپی محبت کو زبان پر لے ایا ۔۔۔

پری تو حیران رہ گی ۔۔ برہان کے اظہار محبت ۔کیا کچھ نہیں سوچ لیا تھا کتنا غلط سوچ لیا تھا برہان کو لیکن اس کے کہے الفاظ اس کو بھول جانا مشکل تھا ۔۔اس لیے ابھی برہان کی باتوں سے پلگھنا نہیں چاہتی تھی ۔۔(آخر تھوڑی سی سزا بنتی تھی برہان کی ).

پری نے برہان کی کسی بات کا جواب نہ دیا ۔۔پری کی خاموشی پر برہان کو بہت دکھ ہوا ۔۔۔

یہ تمھاری منہ دکھائ ۔برہان نے پری کو ڈائمنڈ سیٹ دیا ۔۔

لیکن پری اسے تب پہننا جب تم مجھے معاف کر دو گی ۔۔اور دوبارہ مجھ سے محبت کرنے لگ جاو گی ۔۔

برہان نے پری کی پشیانی کو چومتے ہوے کہا ۔

اور کمرے سے چلا گیا ۔۔۔

پری کو سمجھ نہیں آرہا تھا اسے اب کیا کرنا چاہیے ۔۔۔

————————————————————

اگلے دن کا آغاز ہو چکا تھا ۔۔ مہر ہاوس میں سناٹا چھایا ہوا تھا ۔۔مہر صاحب اور تنزیلہ بیگم ساری رات روتے رہے روحا کو یاد کرکے ۔۔

ہانی سے ان کا رونا برداشت نہ ہوا تبھی وہ ان کے پاس چلی گی ماں باپ بیٹی ایک دوسرے کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روے ۔۔۔

ہانی نے اپنےماں باپ سے اس گناہ کی معافی بھی مانگی جو کیا ہی نہ تھا ۔۔۔

ہانی کے معافی مانگے پر مہر صاحب اور تنزیلہ بیگم دونوں پھوٹ پھوٹ کر رو دے ۔ہانی حیران تھی آخر اس کا ماں باپ اس سے کیا چھپا رہے ہے کیونکہ ان کی انکھوں میں ایسا کچھ ضرور تھا جیسے سمجنا ہانی کے لیے نامکمن تھا ۔۔

————————————————————ہانی جب اپنے کمرے میں آی زیان کو اپنے بیڈ پر لیٹے دیکھ کر حیران رہ گی

آپ یہاں کیا کررہے ہے

شوہر اپنی بیوی کے کمرے میں کیا کرتا ہے ہانی نے ناسمجھی سے پوچھا

تحمل سے جواب دیا گیا

زیان کی بات پر ہانی نے اردگرد نظر دوڑائی اسے سونے کے لیے کچھ نظر نہ آیا

کیونکہ اس کا روم بےبی ڈول جیسا تیار کیا گیا تھا اس کا بیڈ بھی سنگل تھا

لیکن اتنا بھی چھوٹا نہ تھا کہ وہ دونوں سو نہ سکے

الگ کمرے میں وہ سو نہیں سکتی تھی ورنہ اس کی ماما اس سے سوال کرنے لگ جاتی الگ کمرے میں کیوں آی ہو

چشمیش آج تو تم زمین پر سو گی یا بیڈ پر میرے ساتھ بالکل میرے قریب زیان نے آنکھ ونک کرتے ہوے کہا

وہ ہانی کا گھبرانا سمجھ چکا تھا تبھی اسے تنگ کررہا تھا

ہانی زیان کی بات پر اور گھبرا گی اور خاموش کھڑی رہی

حنین

زیان نے اسے پکارا

کیا کچھ نہیں تھا اس کی آواز میں

بھاری گھبر بہکا ہوا لہجا ہانی کو تو اور گھبرائیٹ ہوگی

یاں آو میرے پاس زیان نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا

ہانی وہی خاموشی سے کھڑی رہی

پلیز حنین

التجا کی گی

اس کے التجا کرنے پر ہانی خوش ہوگی

اور مغرور چال چلتی ہوی زیان کے پاس گی بنا اس کی طرف دیکھے آرام سے لیٹ گی اور آنکھیں بند کرلی

لیکن کچھ ہی دیر میں ہانی کو اپنے پیٹ پر وزن محسوس ہوا جب اس نے غور سے دیکھا وہاں زیان کا بازو تھا وہ اسے ملکل اپنے حصار میں لے چکا تھا

ہانی کو تو غصہ آگیا

چھوڑے زیان

ہانی نے خود کو چھراتے ہوے کہا

لیکن وہ ناکام رہی کیونکہ گرفت بہت سخت تھی

بالکل نہیں چھوڑو گا

ذیان نے ہانی کے بالوں میں منہ دیتے ہوے کہا

ہانی کے وجود سے اٹھتی ہوی خوشبو زیان کو بہکا رہی تھی ہانی کی پشت زیان کے سینے کے ساتھ تھی

بس کرے زیان

ہانی نے چلاتے ہوے کہا اور تبھی زیان نے اسے چھوڑ دیا ہانی اٹھ کر بھاگنے لگی

لیکن زیان نے اس کو کلائی سے پکڑ کر کھنچا وہ زیان کے اوپر ہی گرگی

زیان نے مسکراتے ہوے ہانی کو آرام سے بیڈ پر لیٹایا اور خود اس پر جھک گیا

چشمیش تمہارے لے منہ دیکھای کا گفٹ لیا ہے اس دن تو کچھ دے نہ سکا

اس لے آج خریدا ہے

زیان نے مسکراتے ہوے گفٹ دیتے ہوے کہا

زیان کی بات پر تو ہانی بےہوش آنے پر آگی وہ سوچ رہی تھی آج اس زرافے کو ہوا کیا ہے

زیان نے خود ہی گفٹ کھولا اس میں ڈائمنڈ بریسلیٹ تھا جس پرZH لکھا ہوا تھا ہانی کو بریسلٹ پسند بہت آیا لیکن انا آڑے آگی تھی تبھی لینے سے انکار کردیا

زیان مجھے جیولری بالکل پسند نہیں میں کھبی نہیں پہنا یہ سب مجھے گٹھن ہوتی ہے ان سب چیزوں سے

( ہانی کو واقعی جیولری پسند نہ تھی اسے گھٹن ہی محسوس ہوتی تھی جب بھی کچھ پہنتی تھی)

ہانی کی بات پر زیان کی مسکراہیٹ غائب ہوگی

اور وہ غصے سے کھڑا ہوگیا ساری کمائی اس بریسلیٹ پر خرچ کرکے آگیا اور تمہارے نکھرے ہی ختم نہیں ہورہے

بیویاں خوش ہوتی ہے جب شوہر کچھ دے اور تم ہو اگے سے مجھے نکھرے دیکھا رہی زیان نے افسوس سے کہا

ہم ان میاں بیوی جیسے نہیں ہے یہ بات یاد رکھا کرے آپ اور میں نے نہیں کہا تھا اپنی کمای لگاے اس بریسلٹ پر ہانی نے تحمل سے کہا اور واش روم چلی گی

میں ہی بے عقل ہو جو اس پاگل سے کسے اچھے کی امید کربیٹھا

زیان کو ہانی کی بات پر بہت دکھ ہوا تبھی اسے بتاے بنا ہی وہاں سے چلا گیا

———————————————–

بے چین رہی ۔اب وہ لیمے کے لیے تیار ہو رہی تھی ۔جب برہان کمرے میں داخل ہوا ۔سوجھی ہوی لال انکھیں چہرے پر سنجیدگی بکھرے بال اس کی حالت بیان کر رہے تھے ۔۔پری کو یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا ۔۔۔

————————————————————

برہان نے گرے کلر کا پینٹ کورٹ پہنا ہوا تھا ۔پری نے بھی گرے کلر کی لونگ فراک پہنی ہوی تھی ۔ دونوں ہی بے حد خوبصورت لگ رہے تھے ساتھ چلتے ۔دونوں ہی ایک آئیڈیل کپل لگ رہے تھے کوی نہیں کہہ سکتا تھا پری بڑی ہے برہان سے بلکہ برہان پری کے آگے بڑا لگ رہا تھا ۔۔۔

اسامہ نے گرے پینٹ بلیک ٹی شرٹ اور گرے کورٹ پہنا ہوا تھا ۔عمارہ نے گرے مکیسی گاٶن ود حجاب پہنا ہوا تھا ۔۔۔

زیان نے بلیک پینٹ گرے شرٹ پہنی ہوی تھی ۔ہانی نے گرے شارٹ ڈریس پہنا ہوا تھا ۔۔۔

————————————————————

ولیمے کا فکشن بہت اچھا رہا ۔ہانی اور اسامہ نے بہت رونق لگای ان دونوں کی باتیں اور ہنسی مذاق سے ہر کوی مسکرا رہا تھا ۔۔۔

اچانک انے والی شخصیت کو دیکھ کر ہر طرف سناٹا چھا گیا ۔۔۔

سب کے چہرے پر ہوائیاں چھا گی ۔انیھں اس شخص کا اچانک انے کی امید نہ تھی ۔۔۔

ہارون خان بلیک ڈریس پہنے اپنی وجہہ پرسیلنٹی کے ساتھ چلتا ہوا برہان کی طرف آرہا تھا ۔اپنے سامنے ہارون خان کو دیکھ کر سب حیران تھے ۔۔

————————————————————

سالے صاحب شادی کر لی اور ہمیں بتانا ضروری نہیں سمجھا ہارون نے برہان کے گلے ملتے ہوے مسکرا کر کہا ۔۔

کیسے بتاتے بھای آپ نے ہر طرح کا رابطہ بند کر رکھا تھا ہم سے برہان نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا ۔۔

وہ مجبوری تھی میری ۔ہارون نے تحمل سے جواب دیا ۔۔

ہماری بھی مجبوری تھی پھر اچانک شادی کرنا برہان نے بھی دوٹوک جواب دیا ۔۔۔

مبارک ہو سالے صاحب ہارون نے مسکراتے ہوے مبارک باد دی اور چلتا ہوا ہانی کے پاس آیا ۔۔

حنین میری ساتھ آو ۔ہارون ہانی کو اتنا کہہ کر چلا گیا ۔۔ پیچھے زیان باقی سب حیران تھے ۔۔

———————————————————–

زیان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا

ولیمے میں آنے سے پہلے ہانی زیان سے ملنے گی تھی ۔رات اس کا اچانک چلے جانا ہانی کو پسند نہ آیا تھا ۔تبھی وہ اس سے لڑنے گی تھی ۔۔

اور زیان کا دیا ہوا بریسلٹ اس نے ہاتھ میں پہن لیا تھا ۔۔۔

ہانی کے ہاتھ میں بریسلٹ دیکھ کر زیان کو خوشی ہو لیکن وہ ہانی کو بکھرہ دکھانا چاہتا تھا ۔کہ وہ اس سے ناراض ہے ۔۔۔

————————————————————

بھای سب ٹھیک ہے نہ آپو ٹھیک ہے ۔اس طرح اچانک آگے آپ آپو کے بنا ہی وہ ٹھیک تو ہے نہ ۔ہانی نے روتے ہوے ہارون سے پوچھا ۔۔

سب ٹھیک ہے میری چندا تم پریشان نہ ہو تمھاری آپو باکل ٹھیک ہے تم سب کو بہت یاد کرتی ہے خاص کر اپنی بےبی گرل کو ۔روز تمھاری باتیں کرتی میرے ساتھ رات کو جب تک مجھے سے تمھاری باتیں نہ کر لے اسے نیند نہیں آتی ۔ہارون نے مسکراتے ہوے ہانی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا ۔۔۔

ہارون کی بات پر ہانی اور رونے لگی ۔۔

چپ کرو ہانی جلد ہی روحا تمھارے ساتھ ہو گی ۔

ہارون نے مسکرا کر ہانی کو کہا ۔۔سچ بھای ہانی نے خوش ہوتے ہوے پوچھا ۔۔۔

باکل میری چندا ۔لیکن اس سے پہلے مجھے وہ سب بتانا ہو گا جو تمھارے ساتھ ہوا ۔ہارون نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔

ہارون کی بات پر ہانی خاموش ہو گی ۔۔۔

حنین میری کوی بہن بھای نہیں ہمیشہ الیکے زندگی گزاری ہے روحا کی وجہ سے مجھے تم اور برہان ملے میں نے تم دونوں سے ویسی ہی محبت کی ہے جیسی روحا کرتی ہے ۔ہم لوگ بھی تم سب سے دور رہ کر خوش نہیں ہے یہ ہماری مجبوری تھی یہاں سے جان تمھاری آپو اب باکل ٹھیک ہو رہی ہے جلد ہی واپس آجاے گی ۔۔

میں تمھارا سگا بھای تو نہیں پر بہنوئ تو ہو ۔مجھے امید ہے تم مجھے سب بتاو گی ۔۔۔

میں نے جب سے تمھاری آنکھوں میں دیکھا ہے تب سے بے چین ہو ۔

روحا نے مجھے سب بتا دیا مجھے خود پر غصہ ایا کیسا بھای ہو اپنی بہن کی حفاظت نہ کر سکا ۔۔

ہارون نے شرمندہ ہوتے ہوے کہا ۔۔

ایسا ہرگز نہیں بھای جیسے برہان ہے میرے لیے ویسے ہی آپ بھی ہے میں اپ کی بہت عزت کرتی ہو میرے ساتھ جو ہوا اس میں کیسی کا قصور نہیں ہے ۔۔

ہانی نے روتے ہوے سب بتا دیا ۔۔۔

ہانی کی بات سن کر ہارون پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گے اس کا بچپن کا دوست جیسے وہ سب کچھ مانتا تھا وہ یہ سب کسے کر سکتا ہے ۔ہارون کو یقین نہیں آرہا تھا ۔زیان شاہ اس حد تک گر سکتا ہے ۔۔۔

————————————————————

زیان اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا جب اچانک زور سے دروازہ کھول کر ہارون خان داخل ہوا اس کے ساتھ اسامہ ہانی بھی تھے ۔۔۔

ہارون تم یہاں ۔۔

زیان نے اٹھتے ہوے پوچھا ۔۔

ہارون نے زیان کی بات کا جواب دے بنا مارنا شروع کر دیا ۔۔لگاتا اس پر مکے مارتا رہا

ہارون غصے میں اتنا پاگل ہو گیا اسے باکل سمجھ نہیں آیا وہ کیا کر رہا ہے ۔۔

یہ ہی حال اسامہ کا تھا ہارون اسامہ زیان کی بات سنے بنا لگاتا مکے مارتے گے ۔۔

بے غیرت انسان تجھے زرا شرم نہ آی کیا سمجھا تھا اور تو کیا نکلا میرے یہ گھر کی عزت پر نظر رکھ لی زرا شرم نہ آی اتنی گھیٹا حرکت کرتے ہوے ۔ہارون نے زیان کو گربیان سے پکڑ کر کھڑا کرتے ہوے کہا ۔۔۔۔

دیکھ ہارون میری بات سن ۔زیان نے مشکل سے لفظ ادا کیے کیونکہ اس کی حالت بہت بری ہو رہی تھی ۔کیوں تیری بکواس سنے اس معصوم سے بدلہ لینے کے لیے تو نے اتنا سب کر دیا ۔آج مجھے شرم آرہی ہے یہ کہتے کہ تو میرا دوست ہے ۔اسامہ نے ہارون کو بولنے کا موقع دے بنا زیان کو لگاتا مارنا شروع کر دیا ۔۔۔

(اسامہ کو ہارون سب بتا چکا تھا تبھی وہ ساتھ ایا تھا ).

ہانی پیچھے کھڑی سب دیکھ رہی تھی ۔۔ہانی نے روکنے کی کوشش بہت کی ہارون اسامہ کو لیکن دونوں نے نہ سنی ۔۔

وہ کال بھی تم نے کروای تھی ۔ہارون نے نے زیان کے منہ پر مکہ مارتے ہوے پوچھا ۔

فون کال پر ہانی حیرانی سے ہارون کی طرف دیکھ رہی تھی ۔(جس دن ہانی گھر سے غایب تھی مہر صاحب کو ایک کال ای ان سے کہا گیا تھا ان کی بیٹی جب گھر اے اسے ذلیل کرنا ہے گھر سے نکال دینا ہے اس کی کیسی بات پر یقین نہیں کرنا اس کی شادی زیان شاہ سے کروانی ہے اگر یہ سب نہ کیا گیا تو ان کے بیٹے کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے گا ۔۔اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کی خاطر مہر صاحب نے وہی کیا جیسا کہا گیا تھا ۔روحا کو بھی اس فون کال کے بارے معلوم تھا تبھی جب سب بول رہے تھے وہ خاموش تھی کیونکہ اسے یقین تھا اپنی بہن پر یقین تو مہر صاحب اور تنزیلہ بیگم کو بھی تھا انیھں پتہ تھا ان کی بیٹی ایسا کام نہیں کر سکتی جو اپنا آپ نہیں سنبھال سکتی وہ ایسا غلط کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔).

فون کال کی ساری بات سن کر ہانی کو شدید جٹھکا لگا کچھ دیر پہلے جو زیان کی حالت دیکھ کر ہانی کو دکھ ہو رہا تھا اب خوشی ہو رہی تھی ۔۔اسے اور نفرت ہورہی تھی ۔

تم واقعی گھیٹا اور گرے ہوے انسان ہو تمھیں زرا شرم نہ آی ہانی نے زیان کا گربیان سے جھنجوڑتے ہوے کہا ۔۔(زیان کے منہ سے خون نکل رہا تھا انکھوں کے گرد نیل بن گے تھے ۔زیان کی حالت بہت بری تھی اپنے قدموں پر کھڑے رہنا اس کے لیے مشکل ہو رہا تھا ).

ہانی میری بات ۔

بسسسسسسسسسس

میں اس سے آگے نہیں سنو گی ۔

ہانی نے زیان کی بات کو کاٹتے ہوے کہا

مجھے صرف ایک موقع دوں

ہانی پلیز

زیان نے التجا کی

اسامہ ہارون نے زیان کی حالت دیکھ کر منہ موڑلیا ان کے منہ موڑنے سے زیان کو بہت تکلیف ہوی

زیان شاہ آج احساس ہوا تمہیں جب اپنے منہ موڑتے ہے یقین نہیں کرتے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے

اب تم پل پل تڑپوں گے اپنے کیے کی سزا تمہں ضرور ملے گی میری زندگی برباد کردی تم نے ہانی نے چلاتے ہوے کہا

پلیز ہانی مجھے چھوڑ کر مت جانا

زیان نے لڑکھراتی زبان سے کہا

(کسی نے آج تک یہ جاننے کی کوشیش نہ کی تھی کہ آخر زیان ایسا کیوں ہے اسے اپنی بہن کے علاوہ باقی لڑکیوں سے اتنی نفرت کیوں ہے ایسا کیا ہوا اس کی زندگی میں جو اس کا یقین ہی اٹھ گیا لڑکیوں سے کہنے کو تو ہارون اسامہ عمارہ زیان کے اتنے نزدیک رہے لیکن انہوں نے بھی کبھی اس نفرت کی وجہ نہ پوچھی)

ہانی میں تمہں وہ سب دوں گا جو تم چاہتی ہو سب خوشیاں دوں گا بس مجھے معاف کردوں زیان نے روتے ہوے کہا

ہانی تو زیان کی باتوں پر حیران رہ گی

زیان نے رو رو کر معافی مانگی لیکن ان تینوں پر کوی اثر نہ ہوا

نفرت ہے مجھے تم سے زیان شاہ صرف نفرت

ہانی نے زیان کو دھکا مارتے ہوے کہا اور بنا زیان کی طرف دیکھے تینوں کمرے سے چلے گے

ہانی کے دھکا دینے سے زیان کا سر پیچھے کی طرف گرتے ہوے شیشے کی ٹیبل میں لگا

ہر طرف خون ہی خون اور شیشے کے ٹکڑے نظر آنے لگے

حنیننننننننننننننن

زیان نے چییخ کر ہانی کو پکارا

زیان کی چیخ سن کر ہانی اور اسامہ دنگ رہ گے

(ہارون جلدی وہاں سے نکل گیااسامہ ہانی ابھی وہی موجود تھے )

وہ دونوں بھاگ کر زیان کے پاس گے کمرے اور زیان کی حالت دیکھ کر ان دونوں کے قدموں تلے سے زمین نکل گی

””””””””””””””””

غصے کو حرام کہا گیا ہےکیونکہ غصہ شیطان کا گھر ہے

انسان کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ وہ غصے میں کیا کررہا ہے اور کیا کہہ رہا ہے ان تینوں پر بھی غصہ اتنا حاوی ہوا انھیں بھی سمجھ نہ آیا وہ کیا کر رہے ہے

اور جلد ہی ان تینوں کا غصہ ان کے لے پچتھاوا بن جانا تھا