Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 13)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
روحا بس بھی کرو اور کتنا روگی اب ۔
تماری طعبیت خراب ہو جاے گی ۔۔
ہارون نے روحا کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا ۔۔
کیسے بس کرو ہارون ۔۔
میرے دل کو سکون نہیں آرہا
پتہ نہیں میری بہن کیسی ہو گی ۔
جو میرے بغیر سوتی نہیں تھی ۔
وہ کیسے آج رات گزارے گی ۔
ہانی کی آنکھوں میں نفرت تھی ۔
ہم سب کے لیے
۔وہ مجھے غلط سمجھ رہی ہے کہ میں نے اس پر یقین نہیں کیا ۔
۔یہ کیسے ہو سکتا ہے میں اپنی بہن پر یقین نہ کرتی مجھے پورا یقین ہے میری بہن بے قصور ہے ۔
اس وقت میری خاموشی میری مجبوری تھی ہارون ۔۔۔
روحا نے ہارون کے کندھے پر سر رکھ کر روتے ہوے کہا ۔۔۔
تم کس یقین کی بات کر رہی ہو روحا
کیا ہوا حنین کے ساتھ
اس کی اچانک شادی اور اس کے چہرے آنکھوں میں سنجیدگی دیکھ کر میں خود حیران تھا ۔
۔ بتاو مجھے کیا ہوا ہے
۔ہارون نے پریشان اور حیران ہوتے ہوے پوچھا۔
روحا نے روتے ہوے سب بتا دیا ۔۔
کیا۔۔۔
پنک روز اتنا کچھ ہو گیا تم لوگوں نے مجھے بتانا گوارہ نہیں سمجھ
ا کیا ہانی میری کچھ نہیں لگتی ۔جو مجھ سے یہ سب چپھایا گیا ۔۔
ہارون نے غصہ اور افسوس سے پوچھا ۔۔۔
ماما نے اپ کو بتانے سے منع کیا تھا ۔
روحا ہارون کے غصے پر اور زور سے رونے لگی ۔۔
چپ کر جاو پنک روز
۔ہارون نے روحا کو سینے سے لگاتے ہوےپیار سے کہا ۔۔
زیان بہت اچھا لڑکا ہے وہ حنین کو خوش رکھے گا ۔
وہ سب بھول جاے گی اور بہت جلد اسے آپ سب پر یقین ہو جاے گا ۔
۔اور تمھاری مجبوری کو وہ سمجھ جاے گی
۔اسے ذرا سمجھنے کا موقع دو ۔۔
ہارون نے روحا کی کمر سہلاتے ہوے پیار سے کہا ۔۔
روحا کو ہارون کی بات سن کر کچھ حوصلہ ہوا کیوں کہ وہ بھی زیان کو اچھا سمجھ رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
ہارون کتنے اچھے ہے کل رات سے میرا کتنا خیال رکھ رہے بلکہ کل رات سے نہیں جب سے میں آی ہو تب سے ہی رکھ رہے ۔ہے
شاید میں نے غور آج کیا ہے ۔
روحا نے ہارون کی طرف دیکھتے ہوے سوچا
جو روحا کے گہرے براٶن بالوں کو خشک کر رہا تھا ۔۔
روحا کو ہارون کا اس طرح خیال رکھنا بہت اچھا لگ رہا تھا ۔۔(ہارون نے اپنے ہاتھوں سے ہی اسے کھانا کھالیا تھا ۔۔)
روحا آئینے میں ہارون کو دیکھ کر خوش ہو رہی تھی ۔اس کے چہرے پر کب مسکان آی اسے بھی معلوم نہ ہوا ۔۔
ہارون جو اپنے دھیان میں روحا کے بال خشک کررہا تھا ۔اچانک آئنیے میں روحا کی نظر آتی مسکرائٹ کو دیکھ کر حیران رہ گیا ۔۔۔
لیکن اس نے روحا سے کوی سوال نہیں کیا ۔۔
ہارون میرے بالوں کو چھوڑے اور میری پسند کے کپڑے پہنے گے آج آپ ۔۔
روحا نے خوش ہوتے ہوے الماری کی طرف جاتے ہوے کہا ۔۔
روحا کے چہرے پر خوشی اور اب اس کے حکم کرنے کے انداز پر اس کو شدید جٹھکالگا تھا ۔۔
پنک روز تم ٹھیک تو ہو
۔ہارون نے روحا کے ماتھے کو چھوتے ہوے پریشانی سے پوچھا ۔۔
کیوں ہارون
آپ اب میری پسند کے کپڑے نہیں پہن سکتے روحا نے روٹھے پن سے کہا ۔۔
ارے میری پنک روز تم کپڑے کی بات کرتی ہو ہم تو تمھارے لیے جان۔””۔۔
بس ہارون اس سے آگے نہیں ۔
ہارون کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی روحا نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔
ہارون روحا کے اس عمل پر بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گیا ۔۔۔
ہارون نے روحا کے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگالیا ۔۔۔
روحا ہارون کے اس عمل پر گھبراگی
فورًا ہاتھ چھڑوا کر الماری میں کپڑے دیکھنے لگ گی ۔۔۔
وہ کپڑے دیکھ کر سوچ رہی تھی ۔
کونسی پنٹ شرٹ نکالے جب اسے نرم سا لمس اپنی گردن پر محسوس ہوا ۔۔۔
ہارون پیچھے سے روحا کو اپنے حصار میں لے چکا تھا ۔۔اور اب روحا کی گردن پر اپنے دہکتے لب رکھ کر اسے محسوس کررہا تھا ۔۔۔
ہارون پلیز نہ کریں ۔۔
روحا نے گھبراتے ہوے کہا
۔اور ہارون کو پیچھے کرتی ہوی بنا اس کی طرف دیکھےکمرے سے بھاگ گی ۔۔۔
“ہاے پنک روز کب تک بچو گی مجھ سے ۔۔۔
ہارون نے قہیقہ لگاتے ہوے اونچی آواز میں کہا ۔تاکہ روحا سن لے ۔۔
————————————————————
اف ایک تو مجھے ساری رات نیند نہیں آی اور اب مجھے اتنی بھوک بھی لگ رہی ہے
۔میں کیا کرو
۔ہانی نے دکھی ہوتے ہوے سوچا ۔۔۔
اگر آپو ہوتی ابھی مجھے ناشتہ بناکردیتی
۔ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ نہ میں سوی ہو نہ میں نے کچھ کھایا ہے ۔۔۔
ہانی نے روتے ہوے سوچا
اور برہان کو فون ملایا
۔۔۔(برہان جو ساری رات ایک منٹ کے لیے نہیں سویاتھا ۔اسے انتظار تھا ہانی کے فون کا
۔وہ ساری رات خود سے پلان بناتا رہا کہ اسے کیسے اپنی بہن کی جان اس گھٹیا انسان سے چھڑوانی ہے
۔ہانی کا فون پر نام دیکھ کر جلدی سے فون اٹھایا ۔۔۔)
موٹو
۔چشمش
۔پاگل ۔
کہاں تھی رات سے انتظار کر رہا ہو تمھارا تم ٹھیک ہو نہ تم نے کھانا کھایا تھا ٹھیک سے سوی تھی نہ
بتاو اب بول کیوں نہیں رہی ۔ب
رہان نے فون اٹھاتے ہی ایک ہی سانس میں سب سوال کر لے ۔۔
میں ٹھیک ہو برہان
۔۔ہانی نے آنسو صاف کرتے ہوے جواب دیا ۔۔
کیا کچھ نہیں تھا
اس کے لہجے میں ٹوٹاپن غم سنجیدگی جو کہ برہان سے برداشت نہ ہوا ۔۔
تم پریشان نہ ہونا تمھارا بھای تمھارے ساتھ ہے
۔برہان نے بھی آنسو صاف کرتے ہوے کہا ۔۔۔
ہانی برہان کی بات پر کچھ نہیں بولی فون کاٹ دیا۔
۔زیان یہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔(روحا کے ہاسپتل سے واپسی پر زیان کو معلوم ہو گیا تھا ہانی اور برہان بہن بھای ہے ۔اسے اپنی سوچ پر بہت شرمندگی ہوی تھی ).
او چشمش رو رہی ہے ۔
اپنے فوجی کو یاد کرکے
۔زیان نے طزیہ مسکراتے ہوے ہانی پر طنزکیا ۔۔۔
ہانی نے کوی جواب نہیں دیا ۔۔۔
کیا سوچا ہوگا تم نے اور اس فوجی نے
کہ ہم ایک ہو جاے گے
۔تم نے اس کی سیج سجانے کا سوچا تھا افسوس قیسمت تمہیں کہا تک لے آئی۔۔
زیان نے ہانی کے بالوں کو چھوتے ہوے ظنزیہ کہا
ہانی کے بال دیکھ کر زیان بے قابو ہورہا تھا تبھی اس کے بالوں کو بار بار چھورہا تھا
۔لیکن ہانی کچھ نہ بولی ۔۔۔
اور زیان کو اپنی بے عزتی محسوس ہوئی تھی تبھی اسے چھوڑ کر واپس کمرے میں چلا گیا ۔۔۔
————————————————————
“گل بھای
یہ ٹفن اپ زیان بھای کے گھر دے آے گے ۔کیا
۔روحا نے ایک بڑا کھانے والا ٹفن گل خان کو پکڑاتے ہوے کنفیوژ ہو کر کہا ۔۔
ضرور چھوٹی
اگر آپ بھی میرے ساتھ چلی جاتی تو ہانی کو اچھا لگتا ۔
۔گل خان نے روحا کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات دیکھتے ہوے سنجیدگی ست مشورہ دیا ۔۔۔
نہیں میں ناراض ہو ہانی سے
آپ چلے ہی جاے
روحا نے کیوٹ سے چہرے کے زاویے بناتے ہوے ڑوٹھے پن سے کہا
اور کمرے میں چلی گی ۔۔۔
”ہاہاہاہا۔۔
واہ ایسی ناراضگی بھی ہوتی ہے جہاں اپنی چھوٹی بہن کی بھوک کے احساس پر کھانا بیجھا جاے واہ ۔۔
گل خان نے ہنستے ہوے ٹفن دیکھ کر کہا ۔۔
————————————————————
اف مجھے لگتا میں نے بھوک سے مر جانا ہے ۔۔
اور یہ زیان کا بچہ بھی روم میں ہے ۔
میں کیا کرو
۔ہاے مجھے کچھ بنانا بھی نہیں اتا ۔
ہانی بڑے سے کچن میں کھڑی فکرمندی اور پریشان ہو کر سوچ رہی تھی ۔۔
اگر آپو ہوتی تو مزے مزے کے کھانے بنا کر دیتی
ہانی نے اپنے آنسو صاف کیے اسے روحا کی یاد آرہی تھی ۔۔
میڈم جی یہ کھانا آپ کے لیے آیا ہے ۔۔
ملازمہ جسے زیان نے کہا تھا ہانی کو کھانا بنا کر دے جب ملازمہ کو گل خان نے ٹفن پکڑا کر ( ہانی کو دینا ہے ۔۔ )کہا کر چلا گیا تھا
کچن میں داخل ہوتی ملازمہ نے ٹفن ہانی کو دیتے ہوے کہا ۔۔۔
ہاے شکر ہے کھانا تو آیا
مجھے پتہ تھا برہان میرا بھای مجھے کھانا ضروربھیجے گا ۔
۔اور کوی محبت نہیں کرتا مجھ سے سواے میرے بھائی کے ہانی نے خوش ہوتے ٹفن پکڑ کر کہا
لیکن اپنی آخر میں کہی ہوی بات پر اسے بہت دکھ ہوا ۔۔۔
واہ آلو کے پراھٹے
یمی یمی ہانی خوش ہو گی ٹفن میں آلو کے پراٹھے دیکھ کر ۔۔
۔ہانی کھانا دیکھ کر سب بھول گی
یہ تو آپو نے بیھجے ہے
۔ہانی نے جیسے ہی نوالا لیا اسے یقین ہوگیا یہ کھانا برہان نے نہیں روحا نے بھیجا ہے ۔۔۔
ہانی نے ٹفن دور کرتے غصے سے کہا ۔۔
مجھے نہیں کھانے میں ناراض ہو آپو سے ۔
ہانی نے مسلسل معصوم سے چہرے کے زاویے بناتے ٹفن کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔
ہاے میرے پیٹ میں چوہے دور رہے ہے
۔تھوڑا سا کھا لیتی ہو کون سا پتہ چلے گا
۔۔کافی دیر بعد ہانی نے پھر ٹفن کو اپنے پاس کرتے ہوے سوچا ۔۔
واہ اپو کے ہاتھ میں کیا ذائقہ ہے کتنے مزے کے ہے تھوڑا سا اور کھا لیتی ہو ۔۔
نہیں ہانی تم ناراض ہو
۔ہانی نے ایک دفعہ پھر یقین داہانی کروای خود کو۔۔۔
پر کھانے کو منع بھی نہیں کرنا چاہیے ہانی نے پھر پراٹھے کھانے شروع کردیے۔۔۔
شکریہ روحا آپو مجھے پتہ ہے آپ نے کتنی محبت سے بناے ہے ۔
یہ نہ سوچنا کہ میں نے معاف کر دیا آپ کو میں اب پکے والا ناراض ہو ۔۔
ہانی نے ٹفن خالی کرتے ہوے نراضگی سے کہا۔۔۔
تم کیا دیکھ رہی
ملازمہ جو اتنی دیر سے ہانی کی عجیب غریب حرکتوں کو دیکھ کر حیران ہو رہی تھی ہانی کے بولنے پر ہوش میں آی۔۔
اچھا تمھں ایسے والے پراٹھے بنانے آتے ہے کیا
اگر اتے ہے تو بنا کر اس ٹفن میں ڈال دو پھر روحا اپو کے گھر بھج دو تاکہ انھیں پتہ چل جاے ہانی نے نہیں کھا ے میں ناراض ہو نا آپو سے تبھی ۔
ایسے ہی بنانے ہے اچھا تم نے
۔۔ہانی خوشی سے ساری بات بتا کر کمرے میں چلی گی یہ دیکھے بنا ملازمہ حیران نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
۔۔ہے پاگل لڑکی
کھا بھی لیا اور ناراض بھی ہے ۔۔
ملازمہ کو اپنی یہ میڈم پاگل لگی ۔۔۔
زیان جو خود دیکھنے آیا کہ ہانی نے کھانا کھایا یا نہیں اب ہانی کی ساری حرکتے دیکھ کر کچن کے دروازے پر کھڑا ہو کر ہنس رہا تھا ۔۔۔۔
واہ ناراض ہے چشمش
اور پراٹھے ایسے کھاے جیسے کھبی کھانے کو نہ ملا ہو ۔
میرے لیے بھی نہیں چھوڑے ۔۔
زیان نے قہقہ لگاتے ہوے کہا۔
————————————————————
کیسے فون کرو میں
کیا سوچے گے وہ ۔۔
روحا مسلسل کمرے میں چہل قدمی کرتے ہوے سوچ رہی تھی
ہارون کو کیسے فون کرے ۔
چل روحا یہ کام کرنا ہوگا اتنا کچھ کیا ہارون نے میرے لیے ۔
میں کیا اتنا سا کام نہیں کرسکتی ۔
۔۔روحا نے گہرا سانس لیتے ہارون کو فون ملاتے ہوے کہا ۔۔۔
”گل خان یہ والی ڈیل ۔۔۔۔۔
ہارون جو اس وقت آفس میں بیٹھا گل خان کے ساتھ ڈیل کے بارے میں بات کر رہا تھا ۔
روحاکی کال پر روک گیا ۔۔
السلام و علیکم ہارون ۔۔
وعلیکم السلام پنک روز خیریت طبیعت ٹھیک ہے کوی پریشانی تو نہیں دیکھو اگر ہانی یا پھپھو کے پاس جانا ہے تو گل خان لے جاے گا ۔تم بس اداس مت ہونا ۔
اب بول نہیں رہی پنک روز کیا ہوا ہے ۔
ہارون نے کرسی سے آٹھتے ہوے ایک ہی سانس میں سب کچھ پوچھ لیا ۔۔۔
”ہاروننننننننننن ۔۔
۔روحا نے چر کر کہا ۔
۔۔آپ موقع دے گے تو ہی بولو گی کچھ ۔
ہاں بولو میری جان میں ساری زندگی سنے کو تیار ہو ۔۔ہارون اب مسکراتے ہوے دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔
وہ میں ۔۔۔
روحا نے لب کاٹتے ہوے بات اھوری چھوڑ دی ۔۔۔
کہوں پنک روز اور یہ اپنے لب نہ کاٹو نہ ظلم کیا کرو ان پر ۔۔
ہارون جو کافی دیر سے بس روحا کی چلتی سانسوں کو آنکھیں بند کیے محسوس کر رہا تھا اچانک بولا ۔۔
ہارون کی بات پر روحا حیران رہ گی اسے کیسے معلوم ہوا وہ کیا کررہی ہے
بتاو کیا بات ہے اب آرام سے ۔
دوسری طرف جب پھر روحا کے بولنے کی آواز نہ ای تو ہارون نے دوبارہ پوچھا ۔۔۔
آپ لنچ میرے ساتھ گھر کرے گے اور وہ میں خود تیار کرو گی
۔ یہی کہنا تھا اللہ حافظ یہ کہتے ہی روحا نے ہارون کی سنے بنا کال کاٹ دی ۔۔
ہاہاہا میری تو سن لیتی پنک روز اپنی کہہ کر فون کاٹ دیا ۔۔
ہارون نے روحا کی اس حرکت پر ہستے ہوے کہا ۔۔۔۔
روحا اپنے دل پر ہاتھ رکھے اپنی دکھرکنوں کو سنھبال رہی تھی
۔۔ایک میرے دل کو پتہ نہیں ہارون کو سامنے دیکھتے اور بات کرتے کیا ہوتا ہے باہر آنے کو ہی بےتاب ہوجاتا ہے
۔روحا نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
————————————————————
میڈم جی وہ ہارون سر کے کزنز اے ہے
۔روحا جو کچن میں ہارون کے لیے خود کھانا بنا رہی تھی جب ملازمہ نے اکر کہا ۔۔۔
اچانک کیسے
ہارون تو گھر نہیں اور میں جانتی بھی نہیں انہیں روحا نے پریشان ہوتے سوچا کیوں کہ وہ نہیں چاہتی تھی اب کسی کی کوی بات سنے ۔۔
میں ہارون خان کی بیوی ہو آخر کوی چھوٹی بات نہیں ہے
۔ سنبھال لو گی سب روحا نے خود کو معصوم سا حوصلہ دیتے ہوے کہا ۔۔۔
السلام و علیکم
روحا نے ہال میں داخل ہوتے ایک لڑکی اور لڑکے کو دیکھ کر کہا جو اس کے انتظار میں بیھٹے ہوے تھا ۔۔۔
وعلیکم السلام
لڑکی نے جواب دیا جبکہ لڑکا مسلسل روحا کو غلیظ نگاہوں سے گھورنے میں مصروف تھا ۔
روحا کو یہ حرکت پسند نہ ای ۔۔
ہارون گھر پر نہیں ہے آپ دونوں بعد میں انا یہ کہہ کر روحا جانے لگی تھی جب لڑکی نے ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔
میرا نام کرن ہے
یہ میرا بھای ہاشم ہم ہارون کے ماموں کے بچے ہے سوچا آج مل لے اس دن ملاقات نہیں ہوی تھی
۔کرن نے کمنیگی سے مسکراتے روحا کے زدر پرتے چہرے کو دیکھتے ہوے خودی اپنا تعارف کروایا ۔
۔روحا تو لفظ ماموں کے بچوں پر ہی اٹک گی تھی ۔۔
میں نے کہا نہ ہارون نہیں گھر جب ہو تب انا روحا نے اب غصہ سے کہا ۔۔
کیا نکھرہ ہے تم میں ویسے کس چیز پر اتنا نکھرا کرتی ہو تم کہ ہارون خان تم سے محبت کرتا ہے افسوس وہ محبت تم سے نہیں مجھ سے کرتا ہے ۔شادی بھی مجھ سے کرے گا ۔۔بلکہ تم سے شادی تو بدلہ لینے کے لیے کی ہے اس نے جس دن اس کا دل تم سے بھر گیا اسی دن وہ تم کو چھوڑ دے گا ۔۔۔تم خود سوچو تمھاری وجہ سے اس کا باپ زندہ نہیں رہا تو وہ تم سے محبت کیوں کرے گا وہ بدلہ لے رہا تم سے ۔۔
کرن نے نفرت سے روحا کا خوبصورت چہرہ دیکھ کر زہر اگلانا شروع کیا۔۔
“نہیں وہ محبت ۔۔روحا نے ہکلاتے ہوے کہا ۔۔
ہاہاہاہا محبت اور تم سے سوچ ہے تمھاری اگر تم اتنی دیر سے ہو اس کے پاس تو صرف اپنی خوبصورتی کی وجہ سے کیوں کہ تم کھلونا ہو اس کے لیے جس دن اس کا دل بھر گیا تم سے وہ تمھیں چھوڑ دے گا ۔۔۔کرن نے کمینگی سے کہا ۔۔
بکواس بند کرو تم
سب جھوٹ ہے سنا تم نے
روحا سے اور برداشت نہیں ہوا روتے ہوے کمرے میں بھاگ گی ۔۔۔
ویسے کرن یہ ہے بڑی خوبصورت تم ہارون رکھ لو یہ مجھے چاہیے جب سے ولیمے میں اسے دیکھا ہے میں تو فدا ہو گیا ہاے ۔۔۔
ہاشم نے دور جاتی روحا کی کمر دیکھ کر کرن سے کہا ۔۔۔
ہاں رکھ لو منحوس ہے یہ مجھے پتہ ہے ہارون نے چھوڑ دینا ہے تم رکھ لو اسے کرن نے کمینگی سے آنکھ ونک کرتے ہاشم کو کہا ۔۔۔۔
اچھا روک میں دیکھ کر آتا ہو وہ حسینا روتے ہوے کتنی حیسن لگتی ہے
۔ہاشم نے ہارون کے کمرے میں جاتے ہوے کہا ۔۔۔
————————————————————
ایسا کیسے ہو سکتا ہے میں اب کسی کی بات میں آکر ہارون کی محبت کو غلط نہیں کہوں گی ۔۔۔
روحا نے روتے ہوے خود سے عہد کیا۔۔۔
تم گھیٹا انسان وہی روک جاو
تمھاری ہمیت بھی کسے ہوی میرے کمرے میں آنے کی ۔۔
روحا جو رونے میں مصروف تھی
دروازے پر کھڑے ہاشم کو دیکھ کر چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
اف جان من کیا غصہ کرتی ہو میں تو فدا ہو گیا ۔
۔۔ہاشم نے مسکراتے ہوے کمرے میں قدم رکھتے ہوے غلیظ نگاہوں سے دیکھتے ہوے کہا۔۔۔
بکواس بند کرو
تم جانتے نہیں ہو کیا ہارون کو
۔وہ تھمں مار دے گا اگر تم میرے قریب بھی آے
۔روحا نے اپنے قریب اتے ہاشم کے قدم دیکھ کر ہمیت کرتے ہوے غصے سے کہا ۔۔۔
ہارون کے مزے ہے ویسے اتنی خوبصورت بیوی ملی ہے اس کے مزے ہے دن رات تم اس کے ساتھ ہوتی ہو
۔ہاے جب سے تمھیں ولیمے میں دیکھا ہے میری جان بن گی ہو
۔ہاشم نے روحا کے چہرے کو چھونے کی کوشسش کی ۔۔
قتل کردو گی میں تمھارا
ہارون خان کی بیوی ہو میں اتنی کمزور نہیں کہ اپنے آپ کو تم جیسے درندے سے نہ بچا پاو ۔۔
روحا نے غصہ سے ہاشم کے ہاتھ کو وہی سے پکڑ کو غصہ کرتے ہوے کہا ۔۔۔
ہاے یہی تو چاہتا ہو تم میری جان لے لو
۔۔ہاشم نے آنکھ ونک کرتے کہا ۔۔
”تممممممم۔۔۔
روحا جیسے ہی بولنے لگی تب سامنے داخل ہوتے ہارون کو دیکھ کرروحا کی جان فناہو گی ۔۔۔
او ہاے ہارون دیکھو تمھاری بیوی مجھے ملنے کے لیے کہہ رہی تھی اب تم اس کو توجہ نہیں دے رہے اس میں میرا کیا قصور ہاشم نے ہارون کو دیکھتے ہوے جھوٹ بولا ۔۔۔
روحا نے ہاشم کا ہاتھ فورا چھوڑ دیا
ہارون دیکھ چکا تھا روحا کے ہاتھ میں ہاشم کا ہاتھ
دفع ہو جاو ہاشممممممممم۔۔
ہارون نے ڈھارتے ہوے غصے سے ہاشم کو کہا ۔۔
۔ہاشم خوشی خوشی کمرے سے باہر آکر کرن کے پاس آیا جو کب سے کسی دھماکے کا انتظار کررہی تھی
ہاشم جلدی سے بتاو اوپر کمرے میں کیا ہوا
کرن نے بےتابی سے پوچھا
اب ہو گا ہمارا کام
بس انتظار کرو روحا کو جلد ہی طلاق ہونے والی ہے ہاشم نےآرام سے صوفے پر بیھٹے ہوے کرن سے کہا ۔۔ کرن ہاشم کی بات پر خوش ہوگی
”ہارون “
روحا بھاگتے ہوے ہارون کے سینے میں منہ چھپا کر رونے لگی ۔
۔میرا قصور نہیں ہارون آپ چھوڑ تو نہیں دے گے مجھے یہ خودی آیا تھا آپ یقین کرے گے نہ مجھ پر ہارون ۔۔
روحا نے روتے ہوے ہارون کی سرخ انگارہ آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔۔۔
خاموش پنک روز
میں سب جانتا ہو میرا کزن کیسا ہے ۔۔
تم ریلکیس رہو
اور دوسری بات تم میری محبت ہو عشق ہو اگر میں تم پر ہی یقین نہیں کروگا تو کیا فائدہ اس محبت کا
۔ہارون نے روحا کو پانی دیتے ہوے پیار سے کہا ۔۔۔
روحا ہارون کی بات پر بہت خوش ہوی
———————————————————–
کرن ہاشم دفع ہو جاو یہاں سے کیوں اے تم لوگوں پہلے ہی مامی نے اتنا کچھ کیا ہے اگر میں برداشت کرتا ہو تو ماموں جان کی وجہ سے ورنہ میں اس وقت قتل کر دیتا تم دونوں کا ۔
۔ہارون نے ہال میں آتے غصے سے کہا ۔۔۔
دیکھو ہارون میں نے تم سے بہت محبت کی ہے میں تم کو وہ ساری خوشیاں دو گی جو روحا نہیں دے پا رہی دیکھو وہ خوش نہیں تمھارے ساتھ ورنہ میرے بھای کو اپنے کمرے میں نہ بلاتی
۔کرن نے نفرت سے کہا ۔۔
بکو اس بند کرو اپنی کتنی دفعہ کہہ چکا ہو میں تم سے محبت نہیں کرتا
۔۔ہارون نے کرن کو دیکھ کر غصہ نفرت سے کہا ۔۔۔
ہاشم سب خاموشی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
میں محبت کرتی ہو تم سے سنا تم نے ہارون خان
اس منحوس کو چھوڑ دو کرن نے ہارون کے قریب آتے اس کا کالر پکڑ کر کہا ۔۔
کرن دور سے آتی روحا کو دیکھ چکی تھی تبھی ہارون کے قریب ای ۔۔۔
دیکھو کرن تم اچھی لڑکی ہو میں تم سے محبت کرتا۔۔۔۔۔۔
چٹاخ ۔۔۔۔
ہارون کے منہ میں بات اھوری رہ گی جب روحا نے قریب آتے ہارون کے چہرے پر تھپڑ مارا ۔۔۔
جھوٹے انسان ہے آپ ہارون خان
نفرت ہے مجھے آپ سے سنا اپ نے یہ کرن سہی کہتی ہے آپ نے بدلے کے لیے شادی کی ہے میں کھلونا ہو آپ کے لیے جب دل بھر گیا تب چھوڑ دے گے مجھے ۔
روحا ہارون اور کرن کو اتنا نزدیک اور ہارون کی آدھی ادھوری بات سن کر انھیں غلط سمجھ رہی تھی
محبت میں یقین عزت کا ہونا ضروری ہوتا ہے جو کہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی
مجھ سے کوی محبت نہیں کرتا نہ بابا ماما برہان ہانی نہ ہی اپ
روحا نے روتے ہوے ہارون کے کالر کو جھنجوڑتے ہوے کہا ۔۔۔
نفرت ہے مجھے شدید نفرت آپ سے ۔۔
ہارون تو روحا کے تھپڑ پر شوک ہوگیا تھا
۔۔ تبھی غصہ دماغ پر حاوی ہوا ۔۔۔
بس کرو تم بہت ہو
۔تمیں محبت کی قدر ہے ہی نہیں
میرا عشق تم کو دیکھ نہیں رہا اتنے دن سے میں تمھارے ساتھ ہو اتنے دن کی میری محبت تم کو نظر نہیں ای ۔میرے ان گھٹیا کزنز کی بات سن کر تم نے ان پر یقین کیا اور مجھے ہی غلط مان لیا ۔۔۔
غلطی تمھاری نہیں میری تھی جو تم سے عشق کیا ۔ارے تم محبت کے لائق ہی نہیں سنا تم نے ۔۔ تمہیں کسی کی محبت سمجھ میں نہیں آتی
میں بھی تو تمہں کہہ ہی سکتا تھا کہ منحوس ہو تم
لیکن میں نے سب بھولا کر تم سے محبت کی تمہیں اپنا بنایا اور آج تم ان بیغرتوں کی باتوں میں آکر مجھ پر شک کررہی افسوس ہورہا مجھے
ہارون نے غصہ میں جو الفاظ منہ میں اے وہی روحا کو کہتے زور سے دھکا دیا ۔۔۔
ہارون کو کچھ سمجھ نہیں آیا وہ کیا بول چکا ہے ۔۔۔
میں منحوس روحا کے کان میں صرف یہی لفظ گونج رہا تھا ۔۔۔
یہ کہتے ہی روحا زمین بوس ہوی ۔۔۔
پنک روز پنک زور
۔یا اللہ یہ میں نے کیا کیا
پھر اس لڑکی کو دکھ دیا جس سے میں عشق کرتا ہو ۔ہارون نے روحا کا چہرا تپھپاتے ہوے سوچا ۔۔
ہ
———————————————————–
“تف ہے تجھ پر ہارون خان کتنی مشکل سے پنک روز میری طرف آرہی تھی ۔
اور میں نے یہ کیا کیا ۔۔۔
اب کیا ہو گا
۔ہارون نے پریشان ہوتے ہوے سوچا ۔۔۔
ہارون اس وقت ہپستال میں کھڑا ڈاکٹر کا انتظار کرہا تھا جو اندر روحا کا چیک اپ کر رہا تھا ۔۔۔
ڈاکٹر کیا ہوا میری بیوی کو
ہارون نے پریشان ہوکر پوچھا
مبارک ہو مسٹر ہارون آپ باپ بنے والے ہے
۔۔ ڈاکٹر نے خوشخبری سنای ۔۔۔
ہارون کو سمجھ نہیں ارہی تھی وہ خوش ہو یا دکھی ۔۔۔
روحا کو جب سے یہ خبر ملی تھی وہ مسلسل سوچ رہی تھی کہ اس بچے کو ہارون چھن لے گا ۔۔۔
اور یہ سوچتے ہی روحا کو اور زیادہ نفرت ہو گی
عمارہ اسامہ مہر صاحب تنزیلہ کو یہ خبر ملی وہ اب ہسپتال آگے اور روحا سے ملنے کمرے میں داخل ہورہے تھے ۔۔
روک جاے سارے مجھے نفرت ہے سب سے خاص کر ہارون خان سے
۔روحا نے جیسے ہی سب کو اندر آتے دیکھا تب ڈھار کر سب کو کہا ۔۔
”میری پیاری بیٹی
۔۔ رک جاے وہی میں بیٹی نہیں اپ کی سنا اپ نے میں منحوس ہو مجھے کوی محبت نہیں کرتا مجھے نفرت ہے ہارون خان اور سب سے
چلے جاے یہاں سے
۔۔تنزیلہ بیگم کی بات کو کاٹتے ہوے روحا نے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
دیکھے پلیز اپ سب باہر جاے ان کو آرام کرنے دے نرس نے سب کو باہر بھجتے ہوے کہا جو روحا کے چلانے کی آواز پر ای تھی ۔۔۔
”پنک روز
۔۔نہیں ہو میں کسی کی کچھ جاے ورنہ میں نے اپنی جان لے لینی ہے ۔
روحا نے ایک بار پھر چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد کمرے میں سکون محسوس کرتے روحا اپنے ہاتھ سے ڈرپ کی سوی نکالتے کمرے سے بھاگتی چلی گی
۔۔میں منحوس ہو کوی محبت نہیں کرتا
۔ روحا بھاگتے ہوے مسلسل یہی کہہ رہی تھی ۔۔
اسے نہیں پتہ تھا وہ کہاں جا رہی ہے ۔۔
