Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar Readelle50324 Meri Ashiqui Tum Se (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Ashiqui Tum Se (Episode 11)
Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar
”شادی سے پہلے ۔۔۔۔۔
زیان باکل خاموش بیھٹا تھا ۔۔
زیان کچھ بولو بھی اب
۔ہارون نے سنجیدگی سے کہا ۔
میں کیا بولو اب
۔کچھ بولنے کے لیے اس میں رہ کیا گیا ہے ۔۔
نکاح تو ہوچکا اب رخصتی بھی کردیتے ہے ۔
لیکن پورے دھوم دھام سے کرنا چاہتا ہو ۔
کیونکہ میری صرف ایک ہی بہن ہے
میرے بہت سے ارمان ہے ۔
زیان نے سنجیدگی سے کہا ۔۔
ہارون اور روحا زیان کی بات پر خوش ہوگے ۔
لیکن عمارہ بے چین ہو گی
زیان کی آنکھوں الفاظ لہجے میں عمارہ سختی غصہ بہت اچھے سے نوٹ کر چکی تھی ۔۔۔
————————————————————
آج اسامہ عمارہ کی شادی تھی
۔زیان مہندی بھی کرنا چاہتا تھا لیکن اسامہ کے والدین کو جلدی تھی ۔۔
وہ صرف اتنا چاہتے تھے
عمارہ رخصت ہو جاے
کیونکہ اسامہ کے والدین نے عمرے کی ادائیگی کے لے جانا تھا
اس لیے ولمیہ کے بعد ان کی فلائٹ تھی ۔۔
(اسامہ کے والدین بہت اچھے اور نیک تھے ۔
اس لیے ہارون روحا کے سمجھانے پر انہوں نے فورًا شادی کی رضامندی دے دی ۔۔۔)
————————————————————
عمارہ ریڈ مکیسی گاٶن حجاب کے ساتھ نقاب کۓ ہاتھوں میں ریڈ ہی گلوز پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔
واٶ ماشاءالله عمارہ تم کتنی پیاری لگ رہی ہو ۔۔
ہانی نے عمارہ کو گلے ملتے ہوے کہا ۔
(عمارہ کو ہانی پہلی ہی نظر میں بہت پیاری لگی اس لیے دونوں کی دوستی روحا کی شادی پر ہو گی تھی ).
عمارہ کی صرف آنکھیں نظر ا رہی تھی
جس پر مہارت سے میک اپ کیا گیا تھا ۔۔۔
تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو ہانی
۔عمارہ نے ہانی کے ہاتھوں کو پکڑ کر کہا ۔۔۔
ہانی نے مہرون کلر کی مکیسی پہنی ہوی تھی
بال سٹریٹ ہلکے میک اپ آنکھوں پر لگا چشما ہانی بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
شکریہ عمارہ
ہانی نے خوش ہوتے ہوے کہا ۔
”گڑیا وہ ۔۔۔
زیان جو عمارہ سے کچھ کہنے آیا تھا ۔
ہانی کو دیکھ کر اس کے الفاظ وہی رہ گے ۔۔۔
ہانی کے کالے لمبے بالوں کو دیکھ کر زیان کو خود کا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ۔
کیونکہ لمبے بال زیان کو شروع سے پسندتھے ۔۔
ہانی کے بالوں کو ذیان نے آج پہلی دفعہ غور سے دیکھا تھا ۔
۔ہانی کو زیان کا اس طرح دیکھنا پسند نہ آیا ۔۔۔
عمارہ میں چلتی ہو
تم اس زرافے سے بات کر لو
ہانی اتنا کہہ کر وہاں سے چلی گی ۔۔
ہانی کی بات سن کر زیان کو اتنا غصہ آیا
گڑیا سے بنا بات کۓ ہانی کے پیچھے چلاگیا ۔۔۔۔
————————————————————
اے چشمش ۔
زیان نے ہانی کو آواز لگائ
۔جی زرافے کریں بکواس ۔
ہانی نے تپ کر کہا ۔۔۔
زبان سنبھال کر بات کیا کرو مجھ سے چشمش
اور یہ غلط فہمی میں مت رہنا کہ میں نے تم کو پہچانہ نہیں
۔زیان نے طنزیہ مسکراتے ہوے کہا ۔۔
زیان کی بات پر ہانی خاموش ہوگی ۔۔
اے چشمش
اپنے بال باندھو ۔۔
زیان نے بڑے روعب سے کہا ۔۔
زیان کی بات پر ہانی کو اور زیادہ تپ چڑھ گی ۔
کیوں زرافے تمھیں کیا مسلہ ہے میرے بالوں سے
ہانی نے غصے سے پوچھا ۔۔
جتنا کہا ہے اتنا کرو
۔زیان نے بیزایت سے کہا ۔۔
مجھے میرے بال نہیں باندھنے آتے
یہ کام آپو کیا کرتی تھی ۔۔
جب سے آپو گی ہے میں نے ایک دفعہ بھی بال نہیں باندھے ۔
ہانی نے دکھی ہوتے ہوے کہا ۔۔۔
تو تم سکھ لو
۔اب بھابھی نے تو ساری زندگی تمہارے کام نہیں کرنے ۔زیان نے افسوس سے کہا ۔۔۔
میرے بال کھلے ہو یا بند
تمیں اس سے کوئ فرق نہیں پڑھنا چاہیے
اتنا کہہ کر ہانی تن فن کرتی چلی گی ۔۔۔
———————————————————–
اسامہ۔بلیک پنٹ کورٹ میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔
جب عمارہ اس کے ساتھ آکر بیھٹی اسامہ تو سب کچھ بھول گیا
۔اسے صرف اتنا یاد تھا آج اس کی محبت اس کے ساتھ ہے ۔۔
دیکھ زیان آج ٹھرکی کتنی خاموشی سے بیھٹا ہے
۔ہارون نے قہیقہ لگاتے ہوے کہا
۔۔زیان نے کوی جواب نہ دیا ۔۔
زیان کی خاموشی کو اسامہ عمارہ دونوں نے محسوس کیا
(اسامہ عمارہ زیان کی آنکھوں میں غصہ نفرت دیکھ چکے تھے ۔)
اسامہ کو بہت دکھ تھا
کہ زیان اسے اپنی بہن کے لائق نہیں سمجھتا۔
————————————————————
”پنک روز ۔۔۔۔
روحا ہانی سے بات کر رہی تھی
جب ہارون نے بلایا ۔۔
روحا نے بلیک مکیسی پہنی ہوئ تھی
بالوں کا جوڑا بناے ہلکے میک اپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی
۔اور ہارون روحا کی تیاری کو دیکھ کر خود پر قابو پارہاتھا ۔۔۔
جی۔
روحا نے بیزایت سے جواب دیا ۔۔
“وہ میں
ہارون مجھے عمارہ سے ملنا ہے ابھی ۔روحا نے ہارون کی بات کاٹتے ہوے کہا اور چلی گی ۔۔
————————————————————
عمارہ رخصتی کے وقت بہت روی
اس کو رونا اس بات کا تھا
کہ زیان اس سے نفرت کرتاہے ۔
عمارہ کے آنسو پر زیان کی آنکھوں سے بھی آنسو آگے
۔(یہ ہی بہن بھائی کی محبت ہوتی ہے ۔سب بھای اپنی بہنوں سے بہت محبت کرتے ہے چاہیے جتنا بھی لڑتے ہو بہنوں کی شادی پر ان کی آنکھوں میں آنسوآجاتے ہے ).
ٹھرکی میری بہن کا خیال رکھنا
اگر اس کی آنکھ میں تیری وجہ سےایک بھی آنسو آیا تیرا وہ دن آخری ہوگا
۔زیان نے غصے سے اسامہ کو کہا ۔
تو بےفکر رہے ایسا دن کبھی نہیں آے گا
اسامہ نے زیان کو تسلی دیتے ہوے کہا
اور پھر عمارہ سب کی دعاوں سے رخصت ہو گی ۔۔۔
————————————————————
اسامہ کے گھر عمارہ کا استقبال بہت اچھے سے کیا گیا ۔تمام رسموں کے بعد اسامہ کے کمرے میں عمارہ کو پہنچا دیا گیا ۔۔
————————————————————
پتہ نہیں لالہ کیا سوچ رہے ہو گے ہمارے بارے میں
کب معاف کریں گے وہ ۔
۔عمارہ اپنی سوچ میں اتنی مگن تھی
اسے اسامہ کے آنے کا پتہ بھی نہ چلا۔۔
————————————————————
“عمارہ ۔
اسامہ نے مدھم آواز سے عمارہ کو بلایا ۔۔
اسامہ کی آواز پر عمارہ اپنے خیالات سے باہر آی ۔
اور گھبرا گی
۔کیسی ہو عمارہ ۔
اسامہ نے عمارہ کا ہاتھ پکڑتے ہوے پوچھا ۔۔
ٹھیک آپ کیسے ہے
عمارہ نے کنفیوز ہوتے ہوے پوچھا ۔
۔میں بہت خوش
اسامہ نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔
کیا میں یہ پردہ ہٹا سکتا ہو
اسامہ نے عمارہ سے اجازت مانگی ۔
عمارہ نے سر ہاں میں ہلایا ۔۔۔
————————————————————
عمارہ کا جب نقاب اتارا گیا
اسامہ عمارہ کی خوبصورتی کو دیکھ کر دنگ رہ گیا ۔۔
بہت خوبصورت ہو تم ۔
اسامہ نے عمارہ کی پشیانی کو چومتے ہوے کہا ۔۔
اس پر عمارہ گھبرا سی گی
۔یہ تمھاری منہ دیکھای ۔۔
اسامہ نے عمارہ کو ڈائمنڈ رنگ دی ۔۔
عمارہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہو
خود معلوم نہ ہوا کب یہ سب ہوگیا ۔
۔میں نے تم سے دل کی بات اس لیے نہیں کی کبھی
۔تاکہ تم مجھے غلط نہ سمجو میں
دوبئ بھی اس لیے گیا تھا
۔کہ میں محبت کو بھول جاو لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔۔محبت کم ہونے کی بجاے زیادہ ہو گی ۔۔
اسامہ نے شرمندہ ہوتے کہا ۔۔
عمارہ اسامہ کی بات سن کر حیران رہ گی ۔۔
وہ اتنے سال یہ ہی سمھجتی رہی
صرف وہ ہی اسامہ سے محبت کرتی ہے ۔۔
لیکن اسامہ کی بات سن کر اسے بہت خوشی ہوئ ۔
اسامہ میں نے بھی آپ سے بہت محبت کی ہے
کوی ایسی دعا نہیں جس میں اپ کو نہ مانگا ہو
۔ہررات آپ کو یاد کرتے ہوے گزاری ہے
عمارہ نے اسامہ کے ہاتھوں کو چومتے ہوے کہا ۔۔
اسامہ تو عمارہ کی بات پر بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گیا ۔۔۔
لیکن میں اپنی زندگی تب تک شروع نہیں کرنا چاہتی
جب تک میرے لالہ مجھ سے اپنی ناراضگی ختم نہیں کرلتے ۔۔
وہ ہمیں معاف نہیں کر دتیے ۔۔
عمارہ نے روتے ہوے کہا ۔۔
اسامہ عمارہ کی بات کا مطلب سمجھ گیا تھا ۔۔۔
تم بے فکر رہو
۔جب تک زیان ہمیں معاف نہیں کرتا تب تک ہم اپنی زندگی شروع نہیں کرے گے ۔۔
اسامہ نے خود پر قابو پاتے ہوے کہا ۔
جو کہ اسے مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔
چلو اٹھو فریش ہوجاٶ چنج کر لو ۔
۔اسامہ نے ڈارسنگ روم کی طرف جاتے ہوے کہا ۔۔۔
—————————————————–صبح کی کرنیں اسامہ کے چہرے پر پر رہی تھی ۔۔
کرنوں کی وجہ سے اسامہ کی آنکھ کھل گی
فورًا اٹھ کر بیھٹا
اس کی نظر بیڈ پر سو رہی عمارہ پر گی ۔۔
اسامہ صوفے سے اٹھ کر عمارہ کے قریب گیا ۔
۔۔(رات اسامہ نے خود فصیلہ کیا تھا کہ وہ صوفے پر سوے گا ۔
عمارہ نے منع کیا تھا لیکن اسامہ کو خود پر اور اپنے جذبات پر یقین نہ تھا تبھی وہ صوفے پر جا کر لیٹ گیا ۔)
کتنی پیاری لگ رہی ہے سوتی ہوی
۔ہاے میری قسمت میں اسے ہاتھ بھی نہیں لگاسکتا ۔اسامہ نے افسوس سے سوچا ۔۔
تجھے الللہ پوچھے سنجیدہ انسان
بغیرت انسان
تیری وجہ سے ابھی مجھے ادھوری خوشی ملی ہے حالانکہ جو کچھ ہوا اس میں ہمارا کیا قصور
۔اسامہ نے زیان کو دل میں بہت سی گالیوں سے نوازا۔۔۔
————————————————————
وائیٹ مکیسی گاون میں عمارہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔
عمارہ کا حجاب اور نقاب اسامہ نے خود سیٹ کیا تھا ۔۔۔
(عمارہ بہت خوش تھی اسے اتنا محبت کرنے والا شوہر ملا ۔
وہ جانتی تھی
۔رات اسامہ کو روک کر اس نے اس کی دل ازاری کی ہے ۔لیکن اس کے لیے زیان کی ناراضگی ختم کرنا پہلے ضروری تھا ۔۔)
اسامہ نے گرے کلر کاپینٹ کورٹ پہنا ہواتھا ۔
دونوں ہی بہت خوبصورت لگ رہے تھے ۔۔
ولیمے کی تقریب اچھے سے سر انجام پای ۔
ولیمے کا فکشن دن میں تھا ۔۔
رات کو اسامہ کے والدین کی فلائٹ تھی ۔۔
زیان ولیمے میں بھی خاموش رہا تھا ۔۔
ہانی بھی ولیمے میں نہیں آی تھی ۔
۔ روحا نے بھی آنے سے انکار کردیا تھا ۔کیونکہ اس کی طعبیت ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔
————————————————————-
زیان تم کیا سوچ رہے ہو ۔
ہارون نے زیان سے پوچھا جو کب سے کسی سوچ میں مبتلا تھا ۔۔
ہارون مجھے سچ بتا
تم نے ایسا کیوں کیا ۔
۔زیان نے غصے سے پوچھا
۔کس بارے میں بات کر رہے میں نے کیا کیا ہے
ہارون نے انجان بنتے ہوے زیان سے پوچھا
ہارون میں ایک پولیس والا ہو
جس پولیس والے سے تم نے یہ سب کام کروایا ہے اس نے مجھے بتا دیا ہے
۔زیان نے غصے سے کہا ۔
۔تم اس بات کو چھوڑو
پہلے مجھے یہ بتاو تم خوش نہیں ہو کیا
اسامہ عمارہ کا شوہر بن گیا ۔۔۔
تم میں اچھے سے جانتے ہے وہ کتنا اچھا انسان ہے
ہماری گڑیا خوش رہے گی
۔ہارون نے زیان کو سمجھاتے ہوے کہا ۔۔۔
ہارون
اسامہ کی وجہ سے میں نے اپنی بہن کو روتے ہوے دیکھا ہے ۔
دعا کرتے اور ترپتے ہوے اللہ کے سامنےروتے ہوے دیکھا ہے ۔
۔اس کا ایک آنسو مجھے تکلیف دتیا تھا
میں اتنا بے بس بھای تھا
اپنی بہن کے لیے کچھ کر بھی نہں سکتاتھا ۔۔۔
آج سے چار سال پہلے جب اسامہ ودبئ گیا ۔
میں نے عمارہ کو بہت روتے ہوے وہی سجدے میں گرتے ہوے دیکھا ۔
۔اس کے جو الفاظ تھے ہارون
میرا سن کر دل کر رہا تھا اسامہ کا قتل کردو
۔زیان نے غصے سے کہا ۔۔۔
(یا اللہ میں نے کیسے اسامہ کو دیکھ لیا ۔میں نے کسی نامحرم کو آج دیکھ لیا ۔
میرے دل میں اسامہ کے لیے محبت کیوں برھتی جا رہی ہے اگر لالہ کو پتہ چل گیا تو وہ مجھ سے نفرت کرنے لگے گے ۔میں ایسا ہرگز نہیں چاہتی ۔۔
اور میرے اللہ یہ محبت صرف میرے دل میں ہی ہے اسامہ کے دل میں تو کچھ نہیں تبھی وہ بنا کچھ کہے چلے گے
۔عمارہ نے روتے ہوے دعا کی ۔۔
اس بات سے بے خبر پیچھے زیان سب سن چکا تھا ۔۔۔)
———————————————————–
اس انسان نے دوبئ جاکر ایک دفعہ بھی میری بہن کا نہیں سوچا ۔
زیان نے غصے سے کہا ۔۔۔
پاگل لڑکے
وہ تیری وجہ سے اپنے دل کی بات عمارہ کو بتاے بنا دوبئ چلا گیا ۔۔
ہارون نے سنجیدگی سے کہا ۔۔
میری وجہ سے
لیکن کیوں
۔زیان نے حیران ہو کر پوچھا ۔۔
کیونکہ اسے لگتا تھا تو اس کی نیت کو غلط سمجھے گا ۔۔
دیکھ زیان میری بات سن ۔۔
یہ سب قسمت کے فیصلے ہے
۔میں نے اسامہ کی آنکھوں میں دیکھا ہے
۔تو بھی دیکھتا تو معلوم ہو جاتا وہ گڑیا سے کتنی محبت کرتا ہے ۔۔
ہارون نے زیان کو سب بتا دیا
۔کیسے اسامہ کو گڑیا سے محبت ہوی
اور وہ دوبئ کیوں گیا ۔۔
اس ٹھرکی نے مجھے کچھ نہیں بتایا
اس بات کی سزا اسے ملنی چاہیے ہارون ۔۔
زیان نے مسکراتے ہوے کہا
۔۔ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو
ہارون نے بھی زیان کا ساتھ دیا ۔۔۔
عمارہ اسامہ کو معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ میں اس شادی پر دل سے رضامند ہو
۔زیان نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔۔
