Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Ashiqui Tum Se (Episode 1)

Meri Ashiqui Tum Se By Rania Mehar

اسلام آباد کا ایک پوش علاقہ جس میں ھر طرف گہماگہمی اور ناچ گانے کی آوازیں آرہی تھی – —

ھر کوئ خوش گپیوں میں مصروف نظر آرہا تھا—

ایک بڑی سی راہداری کے درمیان میں خوبصورت سٹیج پر ایک حیسن جوڑا بٹھا جس میں دلہن ریڈ بلڈ رنگ کا لہنگا پہن کر سر پر گھو نگھٹ اُوڑھ کر صرف مسکرارہی تھی —-

ساتھ میں بیھٹا دلہا—

کالے رنگ کی شروانی پہنے ھوےؑ ایک ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا جس کی کالی گہری آنکھیں کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کرنے کے لے کافی تھی———–

——————————

روح —

,روح بیٹا اٹھ جاوؑ صبح ھو گیؑ ہے ———

– جی ماما میں اٹھ گی —-

روح نے مسکراتے ہوے جواب دیا—

– تنزیلہ بیگم اپنی اس بیٹی کو دیکھ کر خوش ھو جاتی تھی کیونکہ روح ہمیشہ ان کی ہر بات مانتی تھی ——

– روح بیٹا چلو فریش ہو جاٶ —–

– اور یہ ہانی کدھر گئ ہے —–

– تنزیلہ بیگم نے اپنی نظروں کو اردگرد گما کر پوچھا — ماما آپ کو پتا ہے ہانی اس وقت کدھر اور کس کام میں مصروف ہو گئ —–

– روح نے واش روم کی طرف جاتے ہوے کہا – —

پتہ نہیں کیوں مجھے یہ خواب روز آتا ہے – —-

اس خواب کا کیا مقصد ہو گا —–

روح نے پریشانی سے منہ دھوتے ہوۓ سوچا – —

——————————

ایک کشادہ کمرہ جس کو بہت سادگی سے سجایا گیا تھا—

– بیڈ پر سوۓ ھوۓ نوجوان جس کی آنکھیں بڑی اور گہری ڈراک براٶن جوکہ ہر وقت چمکتی رہتی ہیں—

برہان—-

اٹھ بھی جاٶ یار پتا بھی ہے آج کون سا دن ہے—-

ہانی نے اپنے چھوٹے بھائ کو اٹھاتے ہوے کہا – —

کیا یار ہانی پتہ بھی ہے کہ رات ساری ٹسیٹ یاد کرتے گزر گی اب آنکھ لگی تھی ———-

اور تم اگی جگانے جاو مجھے سونے دو برہان نے غصے سے کشن اٹھا کر ہانی کےمارتے ہوے کہا —————

-او لمبو —–

-فریش ہو کر جلدی آو —

-اگر دوبارہ سوے تو پھر تم جانتے ہو میں کیا کرو گی—

– ہانی نے سنجیدہ ہو کر کہا

– لیکن اس کی آنکھوں میں شرارت صاف نظر آرہی تھی—

ہانی —

بڑی بڑی آنکھوں والی جس کی آنکھوں میں ہر وقت شرارت رہتی ہے ——-

چشما اس کی آنکھوں کی خوبصورتی کو مزید ظاہر کرتا ہے———–

کمر تک جاتے کالے لمبے بال—-

ہانی روح کی چھوٹی اور برہان کی بڑی بہن جس کا کام صرف روح اور برہان کے ناک میں دم کرنا ہے –

————————–

ایک بہت بڑا بنگلہ جوکہ خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت ہے –

ہرطرف ملازم جو کہ اپنے مالک کے ایک حکم کے لیے تیار بیٹھیے ہیں – ——

کشادہ کمرہ جو کہ لائٹ پنک کلر سے سجایا گیا کھڑیوں پر لگے پردے وڈراب کے ساتھ ڈرایسنگ روم دوسری طرف واش روم دروازے کے ساتھ تھری سیٹر صوفے اور سںنٹرپر ایک فل جہازی بیڈ جس پر ایک نوجوان سویا ھوا اٹھ کر بیٹھ جاتاہے – —

اپنے ماتھےکو مسلتےہوے سوچتا ہے ——

یہ کیسا خواب تھا ——–

آخر کیوں مجھےایسے خواب آتے ہیں ——-

– ایک ہی خواب وہ بھی شادی والا—

– نہیں ایسا نہیں ہوسکتا —–

– میری زندگی کا صرف ایک ہی مقصد ہے وہ بھی اُس لڑکی کو ختم کرنا جس کی وجہ سے آج میں اس دنیا میں تنہا رہ گیا ہو – —

ایک بار بس مجھے مل جاٶ —–

جہاں بھی ہو میں نے اپنے بدلے کا حساب تم سے لینا ہے – تمہاری وجہ سے میرے بابا میرے ساتھ نہیں رہے ———

یہ سوچتے ہوۓ اس کے کانوں میں آواز گونجتی ہے——–

-(یہ لڑکی تو ہے ہی منحوس اس کی وجہ سے تمھارے بابا نہیں رہے ہمارےساتھ سب اس کی وجہ سے ہوا )————-

– یہ سب سوچتے ہوے اس کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا——–

– وہ اپنی آنکھیں کھولتا فون کی طرف دیکھتا ہے جو کب سے رنگ کر رہا تھا——– –

– ہاں گل خان—

– پتہ چلا وہ لڑکی کدھر ہے اس وقت – ہارون نے غصے سے پوچھا——

نہیں ہارون سر ہمیں نہیں پتہ چل سکا وہ لڑکی کدھر ہے گل خان نے افسوس سے کہا ———–

گل خان کی بات سنتے ہی ہارون غصےمیں موبائل کو زمین پر مارتا ہوا واش روم کی طرف چلاگیا- —-

ہارون خان بزنس مین—-

جو کہ اپنی کرڑورں کی جاہیداد کا اکلوتا وارث —- ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہوگۓ —–

ہارون خان کا دنیا میں واحد سہارا اس کی پھوپھو جن کا وہ لاڈلاہے —

—————————

نہیں ماما میں نے نہیں جانا —–

آپ کو پتہ ہے نہ میں کیسی ہو پھر بھی آپ مجھے وہاں بھیج رہی ہے یہاں اتنے لوگ ہو گے —

مجھ میں ہمت نہیں ہے اس دنیا کا سامنا کرنے کی ان کے ان سوالوں کا جواب دنیے کی جس کا مجھے علم بھی نہیں ہے—–

روح نے اپنی ماں کو روتے ہوۓ کہا —

رونے سے اس کی آنکھیں اور بھی پرکشیش نظر ا رہی تھی———–

کیوں ہمت نہیں ہے تم میں آخر کب تک ڈرو گی تم کب تک ہم ساتھ رہے گے تمہارے ———

تم ضرور سب کا سامنا کرو گی خود میں ہمت لاو تاکہ تم ایک مضبوط اور حوصلہ مند لڑکی بن سکو ——

جتنا اس ڈر کو سوار کرو گی اتنا ہی تم ڈرتی رہو گی—-

اب کچھ نہ سوچو اس بارے جو تم نے کیا ہی نہیں —

تنزیلہ بیگم نے روح کوپیار سے سمجھایا –

روح کو اپنی ماں کی باتیں سن کر کچھ سکون ملا