Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode31

Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode31

وہ بےچینی سے لاؤنج میں چکر کاٹ رہا تھا۔ کردم دادا کے کئی علاقوں میں وہ سونیا کا پتا کروا چکا تھا۔ لیکن وہ کہیں بھی موجود نہیں تھی۔ سونیا کی گمشدگی اسے پاگل بنا رہی تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا۔ ابھی کردم دادا اس کے سامنے آ جائے اور وہ اُسے ختم کر دے۔
” پاشا بھائی !! “
کاشف کی آواز پر اس کے چلتے قدم ایکدم رکے۔ اس نے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا۔
” کیا ہوا کوئی خبر ملی سونیا کی؟ ” پاشا نے بےتابی سے پوچھا۔
” نہیں پاشا بھائی جہاں جہاں ممکن تھا سب جگہ معلوم کروایا۔ مگر سونیا بی بی کہیں نہیں ہیں۔”
اس کی بات پر پاشا نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے خود پر ضبط کرنے کی کوشش کی۔
” میں چھوڑوں گا نہیں تجھے کردم دادا !! “
” پاشا بھائی ہوسکتا ہے ہم غلط آدمی پر شک کر رہے ہیں۔” کاشف کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
” نہیں میں کردم دادا کو اچھے سے جانتا ہوں سونیا کی گمشدگی میں کردم دادا کا ہی ہاتھ ہے۔ اتنی جرات وہ ہی کر سکتا ہے۔ فون لگاؤ اسے کہو مجھے ملنا ہے۔”
” جی پاشا بھائی۔”
کاشف اثبات میں سر ہلاتا لاؤنج سے باہر چلا گیا۔
” کل کا سورج تمہاری زندگی کا آخری سورج نہ بنا دیا تو کہنا کردم دادا۔”
پاشا نے چیختے ہوئے ٹیبل پر رکھا گلاس فرش پر دے مارا۔
۔**************************۔
چہرے پر رومال باندھے وہ راہداری میں قدم تیزی سے آگے بڑھا رہا تھا۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ روشنی بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ بس کچھ ہی حصّے میں بتی جل رہی تھی۔ وہ تیز تیز چلتا ایک دروازے کے سامنے جا رکا۔ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو سامنے بیٹھے نفوس اسے دیکھتے ہی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
” کردم دادا !! “
وہ شخص اسے دیکھتے ہی آگے بڑھا اور اس کے گلے لگ گیا۔
” کیسے ہو غفار؟ “
کردم نے اس سے الگ ہوتے ہوئے پوچھا اور اپنے چہرے سے رومال نیچے کر لیا۔
” میں ٹھیک ہوں دادا ؟ ” غفار کی ہمت نہ ہوئی وہ پلٹ کر اس سے پوچھ لے کے وہ کیسا ہے۔ اس کا حال اس کے چہرے سے ہی واضح ہو رہا تھا۔
” السلام علیکم !! “
پیچھے کھڑی آئمہ نے سلام کیا۔ اس کے جواب میں کردم نے سر ہلا دیا اور آئمہ کے ساتھ کھڑے عدیل کو دیکھا جو سر جھکائے کھڑا تھا۔
” کیسے ہو عادی؟ “
عدیل نے سر اُٹھا کر بےتاثر چہرے سے اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔
” ٹھیک ہوں۔”
” آپ یہاں بیٹھیں دادا۔ ہم لوگ باہر جاتے ہیں۔ چلو باہر آجاؤ۔”
غفار کردم سے کہہ کر ان دونوں سے مخاطب ہوا اور انہیں لیے کمرے سے باہر نکل گیا۔
ان کے جاتے ہی کردم نے مڑ کر اپنے دائیں جانب دیکھا جہاں مشینوں کے درمیان گھرا وجود بے سود بیڈ پر پڑا تھا۔ کردم چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور پاس رکھی کرسی کو کھینچ کر اس پر بیٹھ گیا۔
” نور !! “
اسے دھیرے سے پکارتے، کردم نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ جس میں آج بھی نیلے نگینے کی انگوٹی اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہی تھی۔
” تم ناراض ہوگی نا مجھ سے، اس وقت مجھے تمہارے پاس ہونا چاہیئے اور میں تمہیں یہاں چھوڑ کر ان لوگوں سے بدلہ لیتا پھر رہا ہوں۔”
آئینور کے چہرے پر نظریں جمائے وہ اس کے بیہوش وجود سے مخاطب تھا۔
” کیونکہ میں جانتا ہوں۔ تمہیں ہوش آ گیا تو تم کسی سے بدلہ لینے نہیں دوگی۔ اس لیے میں تمہارے ہوش میں آنے سے پہلے ان سب کو ان کے جام تک پہچانا چاہتا تھا۔ جس نے میری نور کو اس حال میں پہنچا دیا۔”
وہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر انگلیاں پھیرنے لگا۔
” ڈاکٹر کہتے ہیں تمہارے بچنے کی کوئی امید نہیں۔ تمہاری یہ سانسیں بھی اللّٰه کی طرف سے معجزہ ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے نور۔۔۔ تم جلد ہی کوما سے باہر آجاؤ گی۔”
آئینور کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے وہ اس کے بیہوش وجود کو یقین دلا رہا تھا۔ کیسی بےبسی تھی۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اس آنکھ سے بہہ گیا۔
” جب تم ہوش میں آجاؤ گی نا۔ تو ہم یہاں سے بہت دور چلے جائیں گے۔ جہاں صرف “ہم” ہوں۔ کوئی تیسرا نہ ہو۔ لیکن اُس سے پہلے مجھے پاشا سے اُس کے کیے کا بدلہ لینا ہے۔ میں جانتا ہوں۔ تمہیں یہ اچھا نہیں لگے گا۔ مگر میرا حق بنتا ہے اُس پر کہ میں پاشا سے بدلہ لوں جس نے میری نور کو مجھ سے دور کرنا چاہا۔”
وہ کھڑا ہوا اور جھک کر اس کے ماتھے کو چوم لیا۔
” ابھی چلتا ہوں تاکہ تمہارے پاس ہمیشہ کے لیے آ سکوں۔”
ایک بار پھر چھک کر اس کے ہونٹوں کو چھوا اور پھر سیدھا ہوتا تیزی سے ہسپتال کے اس کمرے سے باہر نکل گیا۔ وہ خود پر کیسے ضبط کیے ہوئے تھا یہ بس وہ ہی جانتا تھا۔
کردم کمرے سے باہر نکلا تو چہرے پر واپس رومال چڑھا لیا۔ سامنے ہی بینچ پر آئمہ بیٹھی تھی۔ بینچ کے ساتھ ہی غفار اور رحیم کھڑے آپس میں بات کر رہے تھے۔ ان سے زرا سے فاصلے پر جیب میں ہاتھ ڈالے عدیل دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ کردم چلتا ہوا اس کے سامنے آ گیا۔
عدیل نے نظر اُٹھا کر اسے دیکھا مگر ان نظروں میں کردم کے لیے نفرت نہیں تھی۔ جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ ان آنکھوں میں کردم کے لیے ہمدردی تھی۔ کیونکہ آج اس کی بہن اس کے پاس نہیں تھی تو کردم کے پاس بھی تو کچھ نہیں تھا وہ تو بالکل ہی کھالی ہاتھ رہ گیا تھا۔ کردم اس کا کندھا تھپک کر آگے بڑھ گیا۔ رحیم اور غفار بھی اس کے پیچھے ہی ہسپتال سے باہر نکل گئے تھے۔
۔***************************۔
جہاں جمعے کے دن ہر گھر میں نمازِ جمعہ کے لیے جلدی مچی ہوئی تھی۔ وہیں کردم کے بنگلے پر سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اسے کراچی سے لاہور واپس آئے دوگھنٹے گزر چکے تھے اور اس وقت اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑا اُس دن کے منظر کو سوچ رہا تھا۔ جب آئینور کا خون میں لپٹا وجود اس کی گود میں تھا۔
اُس دن آئینور کے بے جان ہوتے وجود کو اُٹھا کر وہ سیدھا ہسپتال پہنچا تھا۔ آئینور کی حالت دیکھ کر ڈاکٹر نے پہلے ہی نا اُمیدی ظاہر کر دی تھی۔ تاہم ڈاکٹر کی کوششوں اور اللّٰه کی رحمت نے اسے مرنے تو نہیں دیا مگر وہ کوما میں چلی گئی تھی۔ یہ ہی نہیں ڈاکٹر نے اس کے بعد یہ بھی کہہ دیا تھا کہ آئینور کی یہ سانسیں کب تک چلیں کچھ معلوم نہیں۔ ممکن ہے وہ ہوش میں آ جائے اور یہ بھی ممکن ہے وہ کومے کی حالت میں ہی اس دنیا سے چلی جائے۔
کردم جہاں پہلی بات پر خوش ہوا تھا وہیں دوسری بات نے اسے تکلیف سے دوچار کر دیا تھا۔ کتنا جان لیوا تھا۔ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی نور کو قبر میں اُترتا دیکھنا۔
آئینور کی حفاظت کے لیے انہوں نے ہر جگہ یہ خبر پھیلا دی تھی کہ وہ مر گئی۔ اس لیے کردم اور رحیم کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا آئینور کوما میں ہے۔ وہ راتوں رات ہی آئینور کو لاہور سے کراچی لے گئے تھے اور ہسپتال پہنچ کر کردم نے رخسار بیگم اور عدیل کو بھی خبر کردی تھی۔ یہ خبر سنتے ہی وہ دونوں فوراً ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ غفار اور آئمہ بھی کراچی میں ہی رہ رہے تھے۔ اس لیے کردم کی ایک کال پر ہی وہ دونوں بھی ہسپتال چلے آئے۔ اچھی طرح تسلی کر لینے کے بعد ان سب کو آئینور کی دیکھ بھال کے لیے چھوڑ کر وہ واپس لاہور آ گیا تھا تاکہ آئینور کے مجرم اور اپنے بچے کے قاتلوں کو موت کے منہ اُتار کر واپس اپنی نور کے پاس چلا جائے۔
کردم ان ہی سوچوں میں گم کھڑا تھا کہ اچانک اس کا موبائل بج اُٹھا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل نکالا۔ اسکرین پر جگمگاتا پاشا کا نام اس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ لے آیا۔
” ہیلو !! “
” تو آخر تم نے فون اُٹھا ہی لیا۔”
کردم کے ہیلو کہتے ہی پاشا کی طنز بھری آواز اسپیکر میں اُبھری۔
” ہاں !! تمہاری کالز اور دھمکیوں بھرے میسج ملے تھے۔ مجھے لیکن کیا ہے نا۔ تم سے بھی زیادہ ضروری کام کر رہا تھا۔ آخر سونیا کی مہمان نوازی بھی تو کرنی تھی۔”
کردم نے پاشا کو بھڑکانے کے لیے جھوٹ بولا جو پاشا پر اثر بھی کر گیا تھا۔ وہ ایکدم دھاڑ اُٹھا۔
” اگر سونیا کو کچھ بھی ہوا میں تیری جان لے لوں گا۔”
“چلو ٹھیک ہے۔ دیکھتے ہیں آج کون کس کی جان لیتا ہے۔” جگہ اور وقت بتا کر کردم نے کال کاٹ دی۔
” آج یا تو نہیں یا میں نہیں۔”
کردم سوچتا ہوا الماری کی جانب بڑھا اور اپنا سیاہ شلوار قمیض نکال کر باتھ روم میں چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ تیار ہو کر سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس لاؤنج میں چلا آیا جہاں رحیم صوفے پر بیٹھا بلکہ تقریباً لیٹا ہوا تھا۔
” کہاں جا رہے ہیں کردم دادا؟ “
کردم کو دیکھ کر وہ فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور اس کی تیاری دیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
” نماز پڑھنے۔”
وہ کہہ کر بنا اس کی طرف دیکھے سیدھا باہر چلا گیا۔ جبکہ رحیم صوفے پر بیٹھا بار بار اپنے کانوں میں انگلی ڈال کر ہلا رہا تھا۔ آیا کہ کان خراب تو نہیں ہوگئے۔ کیا اس نے وہی سنا ہے جو کردم نے کہا۔
۔**************************۔
جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *