Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode20

Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode20

” لڑکی تم آرام کرو کچھ چاہیئے ہو تو مجھے بلا لینا۔” آئینور کو بیڈ پر لیٹا کر سیما خالہ اس پر کمبل ڈالتے ہوئے بولی۔ آئینور نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
” ٹھیک ہے !! اب میں چلتی ہوں۔” وہ مسکرا کر کہتیں، اسے پیار کر کے خواب گاہ سے باہر چلی گئیں۔
ان کے جاتے ہی یکدم آئینور کا چہرہ سنجیدہ ہوا۔ اپنی ہتھیلیوں کو آنکھوں کے سامنے پھیلائے وہ بے بسی سے انہیں دیکھنے لگی کہ تبھی کردم اپنا سر تولیے سے رگڑتا باتھ روم سے باہر آیا۔ آئینور پر نظر پڑتے ہی اس کی آنکھوں کی چمک بڑھی تھی۔ وہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور تولیے کو بیڈ پر پھینک کر اس کے سامنے ہی بیٹھ گیا۔
آئینور نے ناگواری سے بیڈ پر پڑے تولیے کو دیکھا پھر کردم کو جو آنکھوں میں محبت کا جہان آباد کیے اسے دیکھ رہا تھا۔ آئینور نے فوراً نظریں چرا لیں۔
” نور تم۔۔۔”
کردم بولنے ہی لگا تھا جب موبائل پر آتی کال کی آواز پر رک گیا۔
” میرا فون !! “
آئینور کے کہنے پر کردم نے فوراً جھک کر سائڈ ٹیبل کی دراز سے اس کا موبائل نکال کر اسے دیا۔ رخسار بیگم کی کال دیکھتے ہی اس نے لمحے کی تاخیر کیے بنا فون اُٹھایا۔
” ہیلو نور !! ” رخسار بیگم کی فکر مند آواز ابھری۔ آئینور کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
” ماما !! “
اس کی آواز میں لرزش واقع تھی۔
” کیا ہوا نور؟ تم رو رہی ہو؟ ” رخسار بیگم پریشان ہو اُٹھیں۔ وہیں کھڑا عدیل جو آئینور کے فون اُٹھانے پر سکھ کا سانس لے رہا تھا۔ رخسار بیگم کو پریشان ہوتا دیکھ خود بھی پریشان ہوگیا۔
” نہیں وہ بس۔۔۔”
آئینور بول ہی رہی تھی، جب کردم نے اس کے ہاتھ سے فون لے کر کان سے لگایا۔
” آپ کی بیٹی بالکل ٹھیک ہے اور بہت بہت مبارک ہو آپ کو، آپ نانی بننے والی ہیں۔”
کردم نے کہتے ہوئے ایک ہاتھ آئینور کے گال پر بہتے آنسو صاف کیے اور بازو سے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ آئینور دبی دبی سسکیوں سے اس کے سینے سے لگے رونے لگی۔
اُدھر رخسار بیگم کی خوشی کا تو ٹھکانہ نہ رہا تھا۔ یکدم اُن کا چہرہ کھل اُٹھا۔
“واقعی !! تم۔۔۔ تم سچ کہہ رہے ہو؟ ” رخسار بیگم نے ایک بار پھر پوچھا۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا آیا کہ انہوں نے صحیح سنا ہے یا نہیں۔
” بالکل !! ” کردم مسکرا کر کہتا آئینور کے بال سہلانے لگا۔
” ٹھیک ہے پھر میں جلد ہی عادی کے ساتھ لاہور آؤں گی۔” رخسار بیگم خوشی سے چور لہجے میں بولیں۔
عدیل ان کے پل پل بدلتے رویے کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔ چند ایک اور باتوں کے بعد انہوں نے کال کاٹ دی۔
” کیا ہوا؟ ” عدیل نے بھنویں اچکا کر پوچھا۔
” مبارک ہو تمہیں !! تم مامو بننے والے ہو۔” رخسار بیگم خوش ہوتی کمرے میں چلی گئیں، پیچھے عدیل حیران و پریشان سا کھڑا رہ گیا۔
دوسری طرف آئینور کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ کردم نے اسے خود سے الگ کر کے آنسو اپنی پوروں پر چن لیے۔
” تم خوش نہیں ہو نور؟ ” آئینور کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اوپر کیا۔ آئینور نے نظریں چرا لیں۔
” کچھ پوچھ رہا ہوں۔ میری طرف دیکھو۔” اس نے اپنے لہجے میں سختی پیدا کرتے ہوئے کہا۔ نا چاہتے ہوئے بھی آئینور نے اپنی لرزتی پلکیں اُٹھا لیں۔
” بتاؤ تم خوش نہیں ہو؟ “
” میں خوش ہوں۔” کہتے ہوئے چہرا بےتاثر تھا۔
” اچھا !! پھر مجھے کیوں نہیں لگ رہا؟ ” کردم جانچتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ آئینور فوراً خود کو سنبھالتے ہوئے بولی۔
” مجھے درد ہو رہا ہے بازو میں، بس اس لیے ابھی کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔”
آئینور کی بات پر کردم کی نظریں فوراً اس کے بازو پر گئی، جہاں پٹی بندھی تھی۔ بچے کی پیدائش کا سن کر وہ تو اس بات کو یکسر فراموش کر چکا تھا۔
” اس لیے میں نہیں چاہتا تھا تم گھر سے باہر جاؤ۔ اب دیکھ لیا نا۔” کردم نے کہتے ہوئے ایک بار پھر اسے سینے سے لگا لیا۔
آئینور خاموش رہی فلحال ابھی وہ تنہائی چاہتی تھی جو اسے میسر نہ تھی۔
” چلو !! تم اب آرام کرو۔” کردم اس سے الگ ہوا۔ آئینور نے خاموشی سے لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔ جلد ہی وہ نیند کی آغوش میں چلی گئی تھی۔
” میں اُسے چھوڑو گا نہیں نور۔۔۔ جس نے تمہاری یہ حالت کر دی۔” کردم اس کے چہرے پر نظریں جمائے بڑبڑایا پھر اُٹھ کر خواب گاہ سے باہر نکل گیا۔
اس وقت وہ جزباتی ہو رہا تھا اور اکثر جزبات میں آکر انسان صحیح غلط میں فرق نہیں کر پاتا۔ اس بار کردم بھی یہی کر رہا تھا۔ اپنے عقل سے کام لینے کے بجائے وہ جزباتی ہو رہا تھا۔ جو آ گے جا کر کافی نقصان دہ ثابت ہونا تھا۔
۔*******************۔
سردی کے اس موسم میں ملتان پر صبح بہت ابر آلود اُتری تھی۔ ایسے میں اپنے محل نما گھر سے سوٹ بوٹ میں تیار وہ شخص اڈے پر جانے کے لیے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس کے ماتحت نے گاڑی گھر سے نکال کر اڈے کے راستے پر ڈال دی۔ کچھ وقت خاموشی سے گزرانے کے بعد وہ اپنے ماتحت سے گویا ہوا۔
” کیا سارے آدمی اڈے پر پہنچ چکے ہیں؟ “
” جی جمشید بھا !! وہ سب کافی پہلے ہی نکل چکے تھے۔” وہ گاڑی چلاتا ہوا بولا۔
” ٹھیک ہے۔” جمشید اثبات میں سر ہلاتا گاڑی سے باہر دیکھنے لگا۔ جہاں راستے میں دور دور تک جھاڑیاں ہی نظر آ رہی تھیں۔
” تم نے اچھا نہیں کیا کردم دادا !! مجھے انکار کر کے خود سکون سے بیٹھے ہو۔ دیکھنا ایسا تمہیں پھنساؤں گا کہ سیدھا پھانسی پر ہی چڑھو گے۔” جمشید باہر دیکھتا سوچ رہا تھا کہ تبھی اس کی نظر گاڑی کے شیشے پر پڑی۔ جس میں پیچھے آتی جیپ میں سے ایک بندہ چہرے پر ماسک پہننے اس کی گاڑی کا نشانہ باندھ رہا تھا۔ اس سے پہلے جمشید کچھ کرتا پیچھے آتی گاڑی سے فائر ہوا اور پھر پے در پے حملوں نے گاڑی کو ہوا میں اچھال کر رکھ دیا۔ گاڑی زور دار آواز کے ساتھ پلٹی کھا کر سڑک پر الٹی گری اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں آگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ کچھ دیر میں ہی فضا میں دھماکے کی آواز دور تک پھیل تھی۔
پیچھے کھڑی جیپ میں موجود تمام نفوس کی آنکھوں ان شعلوں کے منظر کو صاف دیکھا تھا۔ اپنی جیت کا جشن مناتے وہ اس سنسان سڑک پر گاڑی کو واپس بھگا لے گئے۔ انہیں اب جلد از جلد اپنی منزل پر پہنچنا تھا۔
۔********************۔
جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *