Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi NovelR50732 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode25
No Download Link
334.5K
32
Rate this Novel
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode01 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode02 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode03 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode04 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode05 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode06 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode07 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode08 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode09 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode10 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode11 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode12 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode13 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode14 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode15 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode16 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode17 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode18 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode19 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode20 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode21 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode22 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode23 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode24 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode25 (Watching)Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode26 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode27 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode28 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode29 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode30 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode31 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Last Episode
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode25
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode25
وہ حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات میں اپنے ارد گرد نظر دوڑا رہی تھی۔ جہاں گھوڑے لائن سے بندھے نظر آ رہے تھے۔ یہ کردم کا فارم ہاؤس تھا۔ جس کے ساتھ ہی اصطبل بنا ہوا تھا۔
وہ آگے بڑھتی حیرت سے ان گھوڑوں کو دیکھ رہی تھی۔ آج پھر کردم کے کہنے پر اس نے عبایا نہیں لیا تھا۔ سفید فراک اور چوڑی دار پجامے میں اس کا رنگ اور بھی نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔
” یہ سب آپ کے ہیں؟ ” وہ دو انگلیوں سے دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے پوچھنے لگی۔
” ہاں !! پر میں صرف ایک پر ہی گھڑ سواری کرتا ہوں۔”
” اچھا کس پر؟ “
” میرے ساتھ آؤ۔” کردم کہتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ آئینور بھی اس کے ساتھ ہی چلنے لگی کہ یکدم اس کا پاؤں مڑا لیکن اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی کردم نے اسے تھام لیا۔
” کیا ضرورت تھی یہاں ہائی ہیل پہن کر آنے کی؟ “
” تو کیا کروں؟ آپ کے ساتھ چلنے کے لیے مجھے ان کا ہی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اب میں آپ کی طرف دراز قامت انسان تھوڑی ہوں۔” وہ بُرا ہی مان گئی۔ جبکہ کردم اس کی بات سن کر ہنس پڑا۔
” حد ہے نور !! میں پانچ فٹ دس انچ کا مرد ہوں۔ اتنا لمبا بھی نہیں۔ بس لمبا لگتا ہوں بالکل ویسے ہی جیسے تم چھوٹی نہیں لگتیں۔”
” رہنے دیں بس۔” وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔
” یہ دیکھو یہ ہے میرا شیر۔”
وہ دونوں باتیں کرتے گھوڑے کے پاس پہنچ چکے تھے۔ جب کردم اسے دکھاتا ہوا بولا۔ وہ ایک کالے رنگ کا نسلی گھوڑا تھا۔
” اس میں کیا خاص بات ہے؟ “
آئینور نے گھوڑے کو دیکھتے ہوئے کردم سے سوال کیا جو اس کی رسی کھول کر باہر نکال رہا تھا۔
” اسے میں ریس میں اُتارتا ہوں اور یہ ریکارڈ قائم ہے کہ آج تک یہ ایک بھی ریس نہیں ہارا۔”
وہ اب چلتے ہوئے گھانس پر آچکے تھے۔ یہ علاقہ کسی جنگل سے کم نہیں لگ رہا تھا۔
” کیا مطلب آپ مجھے اس پر بیٹھانے تو نہیں والے؟ “
آئینور نے کالے گھوڑے کو گھورتے اور کچھ ڈرتے ہوئے پوچھا۔
” تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں؟ یقین کرو گرو گی نہیں۔”
کردم نے کہتے ہوئے ہاتھ اس کے آگے کیا جسے اُس نے فوراً ہی تھام لیا۔
آئینور کو گھوڑے پر بیٹھا کر وہ خود بھی اس کے پیچھے بیٹھ گیا۔ گھوڑے نے آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیا تھا۔
” کردم مجھے آپ سے کچھ پوچھنا تھا۔”
آئینور نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا تو وہ مسکرا دیا۔
” بولو۔”
” میرے پیپرز ہونے والے ہیں۔ تو کیا میں اس دوران کراچی چلی جاؤں؟ “
” کیا کرو گی پیپرز دے کر۔ کوئی ضرورت نہیں۔”
” پلیز !! کم از کم میرا گریجویشن تو ہوجائے گا۔”
وہ معصوم سی شکل بنا کر بولی تو کردم کو ہاں کرنی ہی پڑی۔
” ٹھیک ہے چلی جانا۔ لیکن ابھی تو گھڑ سواری کے مزے لو۔”
اس کے کہتے ہی آئینور نے چہرہ آگے موڑ لیا۔ کردم دھیرے دھیرے گھوڑے کی رفتار تیز کر رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے گھوڑی کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔ درختوں کے درمیان سے گزرتے اونچے نیچے راستوں پر چڑتے وہ ہوا سے باتیں کر رہے تھے۔
آئینور بھی اپنا ڈر بھلائے سواری کے مزے لے رہی تھی۔ آوارہ لٹیں اُڑ اُڑ کر اس کے چہرے کو چھو رہی تھیں۔ تھوڑی دیر یونہی ماحول کے مزے لیتے وہ واپس اسی جگہ آگئے۔
کردم گھوڑے پر سے اُترا اور ہاتھ بڑھا کر آئینور کو بھی نیچے اُتار دیا اب وہ دھیرے دھیرے گھوڑے کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔
آئینور بھی اس کے ساتھ کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔ آج کچھ عجیب سا احساس ان دونوں کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے تھا۔ یوں جیسے آخری بار بات کر رہے ہوں، آخری بار ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں۔ آخری بار ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار رہے ہوں۔ وہ یونہی کردم کو دیکھ رہی تھی کہ اس کی آواز پر چونک کر اپنی سوچوں سے باہر آئی۔ وہ اس سے کہہ رہا تھا۔
” جانتی ہو نور !! میں تمہاری ان آنکھوں کے سحر میں اتنا جکڑ گیا تھا کہ باہر ہی نہیں نکل پا رہا تھا۔ مجھے لگتا تھا یہ وقتی کشش ہے۔ اس لیے تم سے نکاح کرتے وقت میں نے سوچا تھا کچھ دنوں میں ہی تم کو آزاد کردوں گا اس رشتے سے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا تم میرے لیے روح کی طرح ہوگئیں۔ جسے اگر جسم سے الگ کر دیا جائے تو جسم مردہ ہو جاتا ہے۔
تم نے ٹھیک کہا تھا نور۔ میں تمہیں نہیں خود کو یقین دلاتا تھا کہ تمہیں چھوڑ دوں گا۔ اس لیے جس دن تمہارے سر پر چوٹ لگی اُس دن میں نے خود سے اعتراف کر لیا تھا کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔”
کردم نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ افق پر ڈوبتا ہوا سورج ماحول میں آسودگی پیدا کر رہا تھا۔
” ایک معاملہ میرا میرے رب سے ہے۔ جس میں خیانت ہی خیانت ہے۔ ایک معاملہ میرا تم سے ہے۔ جس میں میں نے کبھی خیانت نہیں کی۔ تمہارے آنے کے بعد میں صرف تمہارا بن کے رہا ہوں نور۔”
وہ اس کے سامنے آ کر اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیے بولا۔ آئینور ساکت سی اسے سن رہی تھی۔
” اگر میں نہ رہا تو کیا تب بھی تم صرف میری بن کر رہو گی؟ “
وہ خاموش رہی۔
“بولو؟ “
اس نے پھر پوچھا۔ لیکن وہ کچھ نہ بولی۔ اس سوال کا جواب دینا کتنا مشکل لگ رہا تھا۔ کسی دشمن کی موت کا بھی سنتے ہی ایک پل کے لیے روح کانپ جاتی ہے پھر وہ تو اس کا شوہر تھا۔ محبت نہ سہی چاہے جانے کا احساس تو تھا۔ وہ اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا کر مڑنے لگی کہ رکی اور بولی۔
” آج کے لیے شکریہ مجھے گھوڑے پر بیٹھ کر بہت اچھا لگا۔”
پھر واپس مڑ کر آگے بڑھ گئی۔ کردم وہیں کھڑا اسے دور جاتے دیکھ رہا تھا۔
۔*********************۔
” سب ٹھیک سے ہونا چاہیئے۔ اب میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کروں گا۔”
فون کان سے لگائے پاشا اپنے ماتحت کو حکم دے رہا تھا۔ تھوڑی دیر پہلے ہی سونیا کو لیے وہ گھر واپس آیا تھا اور اب اپنے کام پر لگ چکا تھا۔
” آپ فکر مت کریں پاشا بھائی۔ کام ہو جائے گا۔” اسپیکر میں سے کاشف کی آواز ابھری۔
” ٹھیک ہے۔ آج رات یہ کام ہو جانا چاہیے اور ہاں کسی کو شک نہ ہو سمجھے؟ “
” جی پاشا بھائی !! آپ نے جیسا کہا ہے ویسا ہی ہوگا۔”
” ٹھیک ہے۔ کام ہو جائے تو مجھے خبر کرنا۔”
اس نے بات ختم ہوتے ہی فون جیب میں ڈال دیا اور چہرہ موڑ کر لاؤنج میں بیٹھی سونیا کو دیکھا جو اپنی شاپنگ بیگز کو پھیلائے بیٹھی تھی۔
۔*********************۔
مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ کمرے میں داخل ہوئی تو کردم ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر پہلے ہی وہ گھر واپس لوٹے تھے اور اب وہ افغانستان جانے کے لیے تیاری کر رہا تھا۔
آئینور دوپٹہ کھولتی اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ دل نہ جانے کیوں اداس ہو رہا تھا۔ ہاتھ بڑھا کر وہ اس کی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگی۔ کردم نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرانے لگا۔
” کیا جانا بہت ضروری ہے؟ “
شرٹ کے بٹنوں پر نظریں جمائے وہ بے تاثر چہرے سے پوچھ رہی تھی۔
” ہاں !! تم چاہتی تھیں نا۔ میں یہ سب چھوڑ دوں۔ بس اس لیے جانا ضروری ہے۔”
آئینور خاموش ہو گئی مگر دل چیخ رہا تھا کہ وہ اسے روک لے نہ جانے دے کیا پتا پھر ملاقات ہو نا ہو۔ وہ گہرا سانس لیتی اس کے سینے سے لگ گئی۔
“جلدی آجائے گا۔ میں۔۔۔ نہیں “ہم” آپ کا انتظار کریں گے۔”
اس کا اشارہ بچے کی طرف تھا اور کردم وہ تو آئینور کی اس حرکت پر ہی ساکت رہ گیا تھا۔
” جلدی آنا ہاں۔”
اس نے پھر بولا تو کردم چونکا اور اس کے گرد حصار بنا دیا۔
” ہاں !! جلدی آجاؤں گا۔”
آئینور اس سے الگ ہوئی تو کردم نے اس کا ماتھا چوم لیا اور کوٹ پہن کر باہر کی جانب بڑھ گیا۔ آئینور بھی اس کے پیچھے ہی نکلی تھی۔ وہ بیرونی دروازے کی چوکھٹ پر جا کھڑی ہوئی سامنے ہی کردم گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔
اس نے چہرہ موڑ کر دروازے کی جانب دیکھا جہاں وہ دوپٹے سے منہ چھپائے کھڑی تھی۔ یہ احساس اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا۔ جیسے آج کے بعد پھر وہ کبھی مل نہیں سکیں گے۔
کردم گاڑی میں بیٹھ گیا تبھی گاڑی آگے بڑھتی پورچ سے باہر نکل گئی۔
آئینور وہیں کھڑی اسے دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی۔
۔**********************۔
جاری ہے۔
