Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi NovelR50732 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode26
No Download Link
334.5K
32
Rate this Novel
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode01 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode02 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode03 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode04 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode05 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode06 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode07 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode08 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode09 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode10 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode11 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode12 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode13 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode14 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode15 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode16 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode17 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode18 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode19 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode20 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode21 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode22 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode23 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode24 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode25 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode26 (Watching)Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode27 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode28 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode29 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode30 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode31 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Last Episode
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode26
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode26
سیما خالہ کچن صاف کرنے میں لگیں تھیں جب آئینور ان کے پاس چلی آئی۔
” کیا کر رہی ہیں۔ مجھے بتا دیں۔ میں کر دیتی ہوں۔”
” ارے نہیں !! بس سب ہوگیا۔”
سیما خالہ نے برتن سمیٹتے ہوئے کہا اور مڑ کر اس کی طرف دیکھا جو گم سم سی کرسی پر بیٹھی تھی۔
” کیا ہوا لڑکی اداس لگ رہی ہوں۔ کردم کے جانے کی وجہ سے؟ “
آئینور نے چہرہ اُٹھا کر انہیں دیکھا اور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔
” عجیب سا محسوس ہو رہا ہے۔ جیسے کچھ غلط ہونے والا ہو۔”
” بس تمہارا وہم ہے لڑکی۔ چلو عشاء کی نماز کا وقت ہوگیا ہے۔ نماز میں دعا کرو کچھ نہیں ہوگیا۔”
سیما خالہ اذان کی آواز سنتے ہوئے بولیں تو آئینور اثبات میں سر ہلاتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
” آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ میں نماز پڑھ کر دعا کرتی ہوں۔”
وہ کہہ کر کچن سے باہر نکل گئی۔
سیما خالہ بھی دوپٹہ سنبھالتی نماز پڑھنے کے لیے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
ادھر آئینور کمرے میں آئی اور وضو کے لیے باتھ روم کی جانب بڑھنے لگی کے آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ کر رکی۔
سفید فراک پہنے وہ آج بھی سادھا سے حلیے میں رہتی تھی۔ مگر اس کی شخصیت میں رکھ رکھاؤ تھا۔ جو اسے مزید پُرکشش بناتا تھا۔
” لڑکی تیار ہو کر رہا کرو۔”
آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ کر اسے سیما خالہ کی بات یاد آئی۔
” رہنے دیں سیما خالہ آپ بھی کسے سمجھا رہی ہیں۔”
یہ آواز کردم کی تھی۔
” چلیں مسٹر !! جلدی واپس آجائیں تاکہ آپ کی یہ خواہش بھی پوری کر دی جائے۔”
آئینور اپنی سوچوں میں کردم سے مخاطب ہو کر بولی۔ چاہے جانے کے احساس کے ساتھ ساتھ برسوں کے دبائے ہوئے جزبات نے بھی سر اُٹھانا شروع کر دیا تھا۔ وہ مسکراتی ہوئی وضو کرنے باتھ روم کی جانب بڑھ گئی۔
۔*********************۔
بیرونی دروازے کے قریب کرسیاں بچھائے، وہ دونوں شراب کے مزے لوٹ رہے تھے۔ کردم کی ہدایت کے مطابق انہیں اُس کے واپس آنے تک یہاں سے ہلنا نہیں تھا بلکہ یہاں کھڑے ہو کر گھر اور آئینور کی حفاظت کرنی تھی۔
” ابے فاروق تھوڑی اور ڈال نہ کیا کنجوسی کر رہا ہے۔”
فاروق کو آدھا گلاس بھرتے دیکھ رحمت غصّے سے بولا۔
” آرےے !! ختم ہوگئی یہ دیکھ۔”
وہ اس کے سامنے کھالی بوتل لہرا کر دکھانے لگا۔
” اب کیا کریں؟ “
رحمت نشے میں ڈوبی آواز کے ساتھ بولا۔
” ایک کام کرتے ہیں۔ کسی شراب خانے میں چلتے ہیں۔”
فاروق کہتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا۔
” پاگل ہے کیا !! کردم دادا کو پتا چل گیا تو جان سے مار دینگے۔ ہمیں یہاں سے ہلنا نہیں ہے۔”
” کردم دادا کو بتائے گا کون رحیم تو ان کے ساتھ گیا ہوا ہے۔ تھوڑی دیر کی تو بات ہے بس یوں گئے اور یوں آئے۔”
” کہہ تو تو ٹھیک رہا ہے۔ چل پھر چلتے ہیں۔”
رحمت بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ لڑکھڑاتی ہوئی چال کے ساتھ وہ آگے بڑھ رہے تھے۔ جب پیچھے کھٹ پٹ کی سی آواز آئی۔
” اےے !! کون ہے؟ “
رحمت نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
” لگتا ہے تجھ پر کچھ زیادہ ہی اثر کر گئی۔ کوئی نہیں ہے یہاں جلدی چل۔”
” ہاں !! شاید تو ٹھیک کہہ رہا ہے۔”
فاروق کی بات پر وہ سر ہلاتا بیرونی دروازہ عبور کر گیا۔
ان کے جاتے ہی دو سائے لان کی دیوار پھلانگ کر گھر کے اندر داخل ہوئے تھے۔
۔*********************۔
عشاء کی نماز ادا کر کے سیما خالہ اپنے بستر پر لیٹنے لگیں جب لاؤنج میں گلدان گرنے کی آواز سنائی دی۔
” اللّٰه !! لگتا ہے بلی گھس آئی ہے۔”
وہ دوپٹہ سنبھالتی باہر نکلیں کہ سامنے ہی ایک نقاب پوش آدمی اپنے دوسرے ساتھی کو جھڑکتا نظر آیا۔ ساتھ ہی نیچے فرش پر گلدان ٹوٹا پڑا تھا۔
” اےے !! کون ہو اور اندر کیسے گھس آئے؟ “
ان کی آواز پر وہ نقاب پوش آدمی فوراً ان کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔
” میں اس بڑھیا کو سنبھالتا ہوں، تو اُس لڑکی کو اوپر جاکر ڈھونڈ۔”
وہ کہتا ہوا آگے بڑھا۔ دوسرا فوراً اس کے حکم پر اوپر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
سیما خالہ حیران کھڑی اسے دیکھ رہی تھیں۔ دماغ نے یکدم کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اس آدمی کو اپنی طرف آتا دیکھ وہ فوراً ہوش میں آئیں اور چلانا شروع کردیا ساتھ ہی کچن کی طرف لپکی تاکہ اپنے بچاؤ کا کچھ سامان اُٹھا سکیں۔ مگر اس سے پہلے ہی وہ آدمی تیزی سے ان تک پہنچا اور منہ پر ہاتھ رکھ کر انہیں قابو کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
سیما خالہ اس کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹانے کی کوشش کرتی ساتھ میں ہاتھ پاؤں بھی چلا رہی تھیں۔
” ابے اے !! بڑھیا ادھر ہی تجھے گاڑ دوں گا اگر زرا بھی آواز نکالی تو۔”
مگر سیما خالہ نے اس کی دھمکی کا اثر لیے بغیر اپنے چہرے سے اس کا ہاتھ ہٹایا اور چلانے لگیں کہ تبھی اس آدمی نے اپنے پیچھے چھپا خنجر نکالا اور سیدھا یک کے بعد دیگر سیما خالہ کے پیٹ میں مارتا چلا گیا۔ لمحوں کا کام تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ماربل کا فرش خون سے رنگتا چلا گیا۔
سیما خالہ کے بے جان وجود کو چھوڑ کر وہ اوپر کی طرف بڑھنے لگا جہاں اس کا دوسرا ساتھی کمرے کی دیوار کے ساتھ لگا کھڑا آئینور کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا۔
ادھر کمرے میں آئینور سلام پھیر کر دعا مانگ رہی تھی۔ جب سیما خالہ کے چلانے کی آواز اس کے کانوں میں پڑی اور پھر بند ہو گئی۔
وہ دعا مانگ کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ جائے نماز ایک طرف رکھ کر وہ سیما خالہ کو دیکھنے کیلئے کمرے سے باہر نکلی کہ تبھی پیچھے سے کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھ دیا۔
وہ مچلتی ہوئی اس کے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی تھی مگر رومال پر لگی دوا نے جلد ہی اسے ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیا۔ بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس نے جو آخری منظر دیکھا تھا۔ وہ سامنے سے آتے اس نقاب پوش کی آنکھیں تھیں اور پھر چاروں سو اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا۔
۔*********************۔
جہاں افغانستان کی سر زمین پر صبح اُتری وہیں اس کے میدانی علاقے میں آسمان پر شور مچاتا ہیلی کاپٹر ریت کو اڑاتا ہوا زمین پر اُترا تھا۔
بلیک سوٹ میں ملبوس ہیلی کاپٹر سے نکل کر کردم دادا نے اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ اپنا قدم افغانستان کی زمین پر رکھا تھا۔ سامنے ہی ایک آدمی آنکھوں پر کالا چشمہ لگائے سوٹ بوٹ میں گاڑی کے لیے کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔
کردم نے اس کی جانب قدم بڑھا دیئے۔ رحیم بھی اس کے پیچھے ہی تھا۔
وہ چلتا ہوا گاڑی کے سامنے جا رکا۔ ڈرائیور نے اسے پاس آتے دیکھ فوراً پچھلی نشست کا دروازہ اس کے لیے کھولا تھا۔
کردم سیٹ پر بیٹھا، رحیم بھی ڈرائیور کے ساتھ آگے بیٹھ گیا تھا۔ ان کے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی اور اس میدانی علاقے میں دھواں اڑاتے ہوئے وہ اپنی منزل کی جانب گامزن ہوگئی۔ کچھ دیر بعد ہی وہ سڑکوں سے گزرتی اس قدیم ترین بلند و بالا عمارت کے سامنے جا رکی۔
رحیم گاڑی سے اُترا اور کردم کی سائڈ کا دروازہ کھول دیا۔ کردم نے گاڑی سے اُتر کر اس قدیم عمارت کو ایک نظر دیکھا اور قدم اندر کی جانب بڑھا دیے۔ رحیم نے بھی اس کی تقلید کی تھی۔
راہداری میں چلتے جگہ جگہ گارڈز بندوق تانے کھڑے ہوئے تھے۔ وہ ان کے درمیان سے چلتا اس بڑے سے دروازے کے سامنے جا رکا۔ دیوار پر لگی مشین پر اپنا ہاتھ رکھا جس کے سکین ہوتے ہی دروازہ کھل گیا۔
وہ اندر داخل ہوا پر سامنے موجود غازی کو ماتحتوں کے درمیان گھیرے دیکھا۔
” خاور دادا کہاں ہیں؟ “
اس کی گرج دار آواز نے ایک پل کے لیے پورے کمرے میں سناٹا طاری کر دیا۔ آئینور کے آنے کے بعد جو نرمی اس کی شخصیت میں آئی تھی۔ اس پل وہ مکمل طور پر غائب ہو چکی تھی۔
” کردم دادا !! “
غازی اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے اُٹھا اور اس کے سامنے آیا۔
” وہ تو ایران گئے ہوئے ہیں۔ لیکن تم یہاں کیسے؟ “
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
” کیا مطلب ؟ لیکن کل انہوں نے فون کر کے کہا تھا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ کوئی ضروری معاملات ہیں۔” کردم بھنویں سکیڑ کر بولا۔
” لیکن وہ تو ایک ہفتے سے ایران میں ہیں پھر تمہیں یہاں کیوں بلایا؟ “
اور اس ایک سوال پر کردم کو اپنے ارد گرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہوئی تھیں۔ وہ الٹے قدموں وہاں سے نکلا پیچھے سے غازی اسے آواز دیتا رہ گیا۔ مگر وہ ان سنی کرتا دوڑتا ہوا رحیم کے پاس پہنچا جو ایک گارڈ کے ساتھ کھڑا باتوں میں مصروف تھا۔
” خاور دادا کی آواز میں وہ کال کس کی تھی؟ “
اس کا گریبان پکڑ کر کردم اسے دیوار سے لگاتا ہوا غرایا۔ رحیم اس اچانک افتاد پر بوکھلا گیا تھا۔
” کردم دادا میں نہیں جانتا۔ ان کی آواز سنتے ہی میں فون آپ کے پاس لے آیا تھا۔”
کردم نے اس کی بات سن کر ایک جھٹکے سے اس کا گریبان چھوڑا۔ رحیم سنبھل کر اپنی حالت درست کرنے لگا۔
” خاور دادا یہاں نہیں ہیں۔ پھر وہ کال کس نے کی تھی؟ اور ان لوگوں کو تو میری آمد کی خبر تک نہیں تھی۔ پھر یہ ڈرائیور کس نے بھیجا؟ “
کردم خود سے بڑبڑایا اور یکدم باہر کی جانب بھاگا۔ اسے جاتا دیکھ رحیم بھی اس کے پیچھے لپکا تھا۔
کردم عمارت سے باہر نکل کر ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ جب رحیم پھولے ہوئے تنفس کے درمیان بولا۔
” کیا ہوا کردم دادا؟ “
” وہ ڈرائیور کہاں ہے؟ “
” وہ تو ہمیں یہاں چھوڑنے کے بعد ہی دوبارہ چلا گیا۔”
اس کے بتانے پر کردم نے بے بسی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ یہ وقت اُسے ڈھونڈنے کا نہیں تھا۔ اسے اب جلد سے جلد پاکستان واپس جانا تھا۔ یکدم اسے بے چینی نے آن گہرا تھا۔ کچھ غلط ہونے کے احساس نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ وہ تیزی سے وہاں کھڑی بلیک جیپ کی جانب بڑھا۔
” چلو جلدی چلو ہمیں ابھی واپس پاکستان جانا ہے۔”
کردم کی بات پر اب کے رحیم کو بھی گڑبڑ کا احساس ہوا۔ وہ بھی فوراً جیپ کی طرف بڑھا۔ کردم پہلے ہی بیٹھ چکا تھا۔ ڈرائیور کے ساتھ آگے بیٹھ کر اس نے جیپ کو واپس اسی راستے پر ڈال دیا جہاں ان کا ہیلی کاپٹر موجود تھا۔
۔*********************۔
جاری ہے۔
