Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode27

Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode27

وہ قدم اُٹھاتا اس اندھیرے کھنڈر نما گودام میں داخل ہوا تھا۔ سامنے ہی بلپ کی روشنی میں وہ زمین پر بے ہوش پڑی تھی۔ سفید دوپٹے کے حالے میں اس کا چہرہ بلپ کی روشنی میں دمک رہا تھا۔ وہ اس پر جھکا اور اس کے پُرکشش چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مکرو مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
” ماننا پڑے گا کردم دادا نے بھی مست مال چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ لیکن افسوس میں تمہاری خوبصورتی کو خراج بخش نہیں سکتا کیونکہ تمہیں تو کہیں اور جانا ہے۔”
وہ پیچھے ہٹا اور مڑ کر اپنے ماتحتوں سے مخاطب ہوا۔
” ہماری مہمان کو صحیح سلامت انہیں ان کی اصل جگہ پہنچا دو اور کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیئے۔”
” جی پاشا بھائی !! آپ فکر نہیں کریں سب آپ کے کہے کہ مطابق ہوگا۔”
وہ دونوں پاشا کا اشارہ ملتے ہی آگے بڑھے اور آئینور کو اُٹھا کر باہر کی جانب بڑھ گئے۔ جہاں اکبر بلیک پجیرو کے ساتھ کھڑا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی اس نے گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔
ان لوگوں نے گاڑی کے پاس پہنچ کر آئینور کو اس میں ڈالا اور پاشا کی جانب موڑے جو گودام کے دروازے پر کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا۔ چند ایک ہدایت کے بعد وہ گاڑی میں آکر بیٹھ گئے۔ ان کے بیٹھتے ہی اکبر بھی فوراً گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا کہ اچانک اس کی نظر بیک ویو مرر میں نظر آتے آئینور کے عکس پر پڑی۔ وہ لمحے بھر کو ٹھٹکا پھر خود کو سنبھالتا گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔
” اب وقت آ گیا ہے کہ تم سے آمنے سامنے مقابلہ کیا جائے کردم دادا۔”
وہاں کھڑا پاشا فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ان کو جاتے دیکھ بڑبڑایا اور خود بھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
۔************************۔
ہواؤں سے باتیں کرتی گاڑی تیز رفتاری سے سیدھا کردم کے بنگلے کے سامنے آکر رکی تھی۔ چوکیدار نے انہیں دیکھتے ہی دروازہ کھولا۔ رحیم نے گاڑی آگے بڑھاتے ہوئے پورچ میں لے جا کر روکی۔
کردم تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھولتا ہوا اندر کی جانب بڑھا تھا۔ مگر اندر کی حالت دیکھ کر اس کا دماغ بھک سے اُڑ گیا۔
سیما خالہ کا بے جان وجود فرش پر گرا ہوا تھا۔ وہ بے جان قدموں سے چلتا ان کی طرف آیا اور جھک کر ان کی آنکھوں پر ہاتھ پھیر کر انہیں بند کرنے کی ناکام سی کوشش کی لیکن وقت گزر چکا تھا ان کا جسم اکڑا پڑا تھا۔ کردم نے سختی سے آنکھیں مچ لیں۔ اسی سمے رحیم بھی گھر میں داخل ہوا اور سیما خالہ کی لاش کو دیکھ کر وہیں ساکت رہ گیا۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اس کے کالر میں جذب ہوا تھا۔ وہ اس کے لیے بالکل ماں جیسی تھیں۔
” نور نور !! “
آئینور کا خیال آتے ہی کردم فوراً وہاں سے اُٹھتا اوپر کی جانب بڑھا۔ وہ دیوانہ وار آئینور کو پکار رہا تھا۔ کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر گیا۔
” نور نور کہاں ہو میری جان؟ “
وہ اسے پکارتا باتھ روم کی طرف بڑھا۔ وہ بھی خالی تھا۔
کردم وہاں سے نکل کر خواب گاہ میں آیا۔ مگر یہاں بھی مایوسی ہوئی۔
” کہا ہو نور؟ تم تو میرا انتظار کر رہی تھیں۔ پھر یوں اچانک کہاں چلی گئی ہو تم؟ “
وہ واپس نیچے کی طرف بڑھا اور دھاڑتے ہوئے رحیم سے پوچھا۔ جو سیما خالہ کے پاس بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔
” رحمت اور فاروق کہاں ہیں؟ میں انہیں یہاں ان لوگوں کی حفاظت کے لیے چھوڑ کر گیا تھا۔”
” معلوم نہیں دادا میں چوکیدار سے پوچھتا ہوں۔”
” نہیں۔۔۔ میں خود اُس سے پوچھتا ہوں آخر اُس کی موجودگی میں یہ سب کیسے ہوا۔ تم جاکر سیما خالہ کے کفن دفن کا انتظام کرو۔”
” جی دادا !! “
رحیم اثبات میں سر ہلاتا باہر چلا گیا۔ کردم بھی اس کے پیچھے نکلتا چوکیدار کے سر پر جا پہنچا۔
” تم یہاں کھڑے ہو اور تمہارے ہوتے ہوئے کسی نے سیما خالہ کو مار دیا اور نور۔۔۔” وہ بولتے بولتے رکا۔
” بولو تمہارے ساتھ کیا کیا جائے؟ ” چوکیدار کا گریبان پکڑے وہ غرایا۔
” کردم دادا مجھے نہیں معلوم۔ آپ تو جانتے تھے۔ میں گاؤں گیا ہوا تھا۔ آج صبح ہی آیا ہوں اور نہ میرے سامنے کوئی اندر گیا نہ باہر آیا۔ میں بھی گھر کے اندر نہیں کیا تھا صبح سے یہاں کھڑا ہوں اس لیے میں کچھ نہیں جانتا۔”
وہ کردم کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔ کردم نے ایک جھٹکے سے اس کا گریبان چھوڑ دیا اور بے بسی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
” فاروق اور رحمت کا پتا ہے کہاں ہیں؟ ” اس نے ان کا خیال آتے ہی پوچھا۔
” نہیں دادا۔ میں نے صبح سے نہیں دیکھا۔” چوکیدار بیچارگی سے بولا۔
” کہاں جا سکتے ہیں یہ؟ نور کو تو کوئی نہیں جانتا تو پھر۔۔۔ آخر یہ سب کر کون رہا ہے؟ رات جب افغانستان جانے سے پہلے میں اڈے پر گیا تھا تو فاروق اور رحمت دونوں کو فوراً وہاں سے گھر بھیج دیا تھا اور کام ختم کرنے تک میں وہیں تھا اس کے بعد افغانستان کے لیے نکلا تھا۔ اگر اس دوران کچھ ہوا تو انہوں نے مجھے خبر کیوں نہیں کی، کیا وہ دونوں گھر نہیں آئے تھے؟ “
کردم سوچتا ہوا واپس اندر کی جانب بڑھ گیا۔
۔*************************۔
” اکبر تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو، وہ لڑکی وہی تھی؟ ہو سکتا ہے کوئی اور ہو۔”
اکبر اپنا سر پکڑے کرسی پر بیٹھا تھا۔ سامنے ہی رانی پریشان سی اسے دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔
” نہیں رانی۔ وہ وہی لڑکی تھی۔ جس نے اپنے شوہر سے کہہ کر ہماری مدد کروائی تھی۔ میں نے۔۔۔ میں نے اُس کے ہاتھ میں وہ انگوٹھی دیکھی تھی۔ تمہیں یاد ہے نا وہ انگوٹھی تم ہی کہہ رہی تھیں وہ بہت قدیم اور قیمتی لگتی ہے کیونکہ ایسا زیور اب نہیں بنتا۔”
” ہاں !! تو۔۔۔ تو کیا اس لڑکی کے ہاتھ میں وہ انگوٹھی تھی؟ ” رانی نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
” ہاں !! وہی تھی۔” اکبر نے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے کہا۔
“تم۔۔۔ تم اُس کے شوہر سے بات کرو۔ پوچھو اُس سے۔ اُس نے فون نمبر دیا تھا نا۔”
رانی کی بات پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔
” نہیں رانی میں ان کا نمک کھاتا ہوں۔ ان کے ساتھ کیسے غداری کر سکتا ہوں۔”
” اور جن لوگوں کی وجہ سے سعدی آج زندہ ہے وہ۔ اگر اللّٰه ان لوگوں کو ہماری مدد کے لیے نہ بھیجتا تو ہم کیا کرتے؟ تم احسان فراموش بن رہے ہو۔”
رانی نے اسے احساس دلانا چاہا۔
” یہ سب چھوڑ دو اکبر۔۔۔ حرام کھانے سے بہتر ہم بھوکے مر جائیں مجھے یہ منظور ہے۔ کم از کم اللّٰه کے سامنے تو سرخرو ہو جائیں گے۔”
اس کی بات پر اکبر نے سر واپس ہاتھوں میں گرا دیا۔ کسی ایک کو چننا آسان نہیں تھا۔
۔************************۔
اس کی آنکھ کھلی تو خود کو ایک انجان کمرے میں پایا۔دڑبے نما سا وہ کمرہ جس میں گھسا پٹا سامان پڑا ہوا تھا۔ پورے کمرے میں عجیب سی بو پھیلی ہوئی تھی ساتھ ہی باہر سے شور کی آوازیں آتی سنائی دے رہی تھیں۔ وہ اُٹھ بیٹھی اور سر ہاتھوں میں گرا لیا۔ سر بھاری ہو رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا ابھی پھٹ جائے گا۔
” افففف !! میں کہاں ہوں اور یہ شور کیسا ہے؟ “
وہ خود کو سنبھالتی بیڈ سے اُتری کہ تبھی پیر نیچے پڑی بوتل سے ٹکرایا۔ آئینور نے ماتھے پر بل ڈالے اس بوتل کو دیکھا۔ اسے پہچانے میں زرا دیر نہیں لگی تھی وہ کس مشروب کی تھی۔ وہ پاؤں سے اسے پرے پھینک کر آگے بڑھی اور دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی مگر ناکام رہی۔ کسی نے باہر سے تالا لگا رکھا تھا۔
” کوئی ہے؟ دروازہ کھولو۔ مجھے باہر نکالو۔”
وہ آوازیں دیتی دروازہ بجانے لگی کہ یکدم رک گئی۔ باہر سے آتی آوازوں نے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں بجلی سی دوڑا دی تھی۔ اس نے خستہ حال دروازے کی جھری سے جھانک کر باہر دیکھا اور اسی لمحے اسے اپنے پیروں پر کھڑا رہنا مشکل ہو گیا۔ سامنے موجود دوشیزہ پیروں میں گھنگھرو پہنے تبلے کی دھن پر محو رقص تھی۔ ارد گرد بیٹھے مرد اس پر پیسے نچھاور کر رہے تھے۔ کچھ تو کھڑے ہو کر اس کے جسم پر ہاتھ پھیرتے اس کا ساتھ دے رہے تھے۔
آئینور سے سانس لینا مشکل ہو گیا۔ وہ فوراً الٹے قدموں دروازے سے ہٹی۔ دماغ یکدم ماؤف ہو چکا تھا۔ چکراتے سر کے ساتھ بیڈ کی طرف جانے لگی کے ایک بار پھر اس بوتل سے ٹکرا کر نیچے گری اور آنکھیں بند کر گئی۔ اس لمحے اس کی زبان سے بس ایک نام ادا ہوا تھا۔
” کردم !! “
۔*************************۔
جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *