Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode30

Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode30

” کہاں ہے وہ؟ ایسے کیسے کہی جاسکتی ہے سونیا۔ تم نے اُس کی یونی میں معلوم کیوں نہیں کیا؟ “
لاؤنج میں صوفے پر بیٹھا وہ کھا جانے والی نظروں سے ڈرائیور کو دیکھ رہا تھا۔ جو سر جھکائے بےبس سا کھڑا تھا۔
” پاشا بھائی میں نے سب سے معلوم کر لیا پر وہاں کوئی نہیں جانتا وہ کہاں گئی ہیں۔”
” دفاع ہو جاؤ میری نظروں سے اس سے پہلے میں تمہیں اس دنیا سے دفاع کردوں۔”
پاشا کی دھاڑ پر وہ الٹے قدموں وہاں سے بھاگ نکالا۔ اس کے جاتے ہی پاشا نے بےبسی سے اپنے بال مٹھی میں جکڑ لیے۔
” ضرور اس میں کردم دادا کا ہاتھ ہے۔ اُسے معلوم ہوگیا ہوگا یہ سب میں نے کروایا ہے تبھی اُس نے بدلہ لینے کے لیے سونیا کو اغوا کر لیا۔”
پاشا نے سوچتے ہوئے ایک نظر سامنے ٹی وی پر نظر آتے نیوز چینل پر ڈالی جس میں بازارِ حسن میں دھماکے سے ہلاک ہونے والے افراد کے بارے ميں بتايا جا رہا تھا۔
اس نے غصّے سے ریموٹ اُٹھا کر ٹی وی پر دے مارا۔ جس کے باعث اسکرین چکنا چور ہوگی۔
” اب تمہارا مقابلہ سیدھا مجھ سے ہوگا کردم دادا۔ وقت آگیا ہے کہ اب سارے حساب کتاب بےباک کر دیئے جائیں۔”
وہ غصّے سے اُٹھتا گھر سے باہر نکل گیا۔ کچھ بھی کرنے سے پہلے اسے سونیا کو صحیح سلامت واپس لانا تھا۔
۔*************************۔
وہ گاڑی میں بیٹھا تیزی سے اسے بھگاتے ائیرپورٹ کے راستے جا رہا تھا۔ سنسان سڑک سے گزرتے وہ آگے بڑھ ہی رہا تھا کہ سامنے سے تیز رفتاری سے آتی گاڑیوں نے اس کا راستہ روک لیا۔ اس نے بر وقت بریک لگایا اور سر اُٹھا کر سامنے گاڑیوں کی طرف دیکھا یکدم اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ لب دھیرے سے ہلے۔
” کردم دادا !! “
کردم گاڑی سے نکل کر چلتا ہوا سڑک کے بیچ و بیچ آ کھڑا ہوا۔
” جا رہے ہو فاروق؟ مل کر نہیں جاؤ گے اپنے کردم دادا سے؟ “
کردم کی بات پر نہ چاہتے ہوئے بھی فاروق گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔
” کردم دادا آپ۔۔۔”
اس سے پہلے فاروق اپنی بات مکمل کرتا کردم نے تیزی سے آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑا اور اسے گاڑی کے بونٹ سے لگا دیا۔
” کیوں کیا تم نے ہاں؟ تمہیں کیا لگا تھا۔ اتنا سب کر کے تم اتنی آسانی سے فرار ہو جاؤ گے اور میں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھا رہوں گا۔ مجھے پتا نہیں چلے گا۔” کردم غرایا۔
فاروق نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا خاموشی سے اپنا گریبان چھڑوانے کی کوشش کرتا رہا۔
” ویسے میں تم پر کبھی شک نہ کرتا اگر تم وہ سب کرکے فرار نہ ہوتے۔ مگر کہتے ہیں نا۔ استاد۔۔۔ استاد ہوتا ہے۔ تم تو بچے نکلے۔”
کردم نے کہتے ہی اسے سیدھا کھڑا کیا اور دائیں ہاتھ کا مکا بنا کر اس کے منہ پر جڑ دیا۔ وہ لڑکھڑا کر منہ کے بل سڑک پر جا گرا۔
” کیوں کیا تو نے ایسا مجھ سے ہی غداری کی کیوں؟ “
اُس کو دوبارہ اپنے سامنے کھڑا کرکے ایک اور مکا اس کے منہ پر مارا۔ اب کی بار وہ گاڑی کے بونٹ پر جا گرا تھا۔
” کیا بگاڑا تھا میری نور نے تیرا؟ کیوں کیا اُس کے ساتھ ایسا کیوں؟ ” ایک اور مکا۔
” تیری وجہ سے میری بیوی نے خودکشی کی۔ تیری وجہ سے میرا بچہ اس دنیا میں آنے سے پہلے مر گیا۔ کیوں کیا تو نے ایسا ہاں؟ “
گریبان سے پکڑ کر اپنے مقابل کرتے کردم نے پوچھا۔ اس بار لہجہ شکستہ تھا۔
” اتنی جلدی بھول گئے کردم دادا۔ یاد نہیں میری ماں جب بیمار تھی۔ اُسے میری ضرورت تھی پر تم نے مجھے اُس کے پاس نہیں جانے دیا۔ وہ مجھ سے ملے بغیر ہی اس دنیا سے چلی گئی یاد نہیں؟ “
فاروق نے اس کے ہاتھ اپنے گریبان سے جھٹکے۔ وہ آپ سے سیدھا تم پر اُتر آیا تھا۔ کردم ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” تمہارے لیے اُس وقت تمہارے اڈے کا کام ضروری تھا۔ لیکن میرے لیے میری بیمار ماں۔ میں اُس سے نہیں مل سکا اور وہ مر گئی۔ اور اُس کی موت کے زمہ دار جانتے ہو کون ہے۔ تم کردم دادا تم۔”
” میں نے تمہاری ماں کو نہیں مارا۔” کردم دھاڑا۔
” اُس کے پاس بھی تو نہیں جانے دیا۔” فاروق بھی دوبدو بولا۔
” تو تم نے اس بات کا بدلہ لیا ہے؟ ” کردم نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” ہاں۔ “
بس اتنا کہنا تھا اور کردم نے اپنے کوٹ کی جیب سے گن نکال کر اس کی ٹانگوں پر گولیوں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔
فاروق اوندھے منہ نیچے گرا۔ خون تیزی سے اس ٹانگوں سے بہتا سڑک کو رنگ رہا تھا۔ وہ اپنی ٹانگوں کو پکڑے بُری طرح چیخ رہا تھا۔ چلا رہا تھا۔ مدد مانگ رہا تھا۔ مگر کون تھا جو اس کی سنتا۔
کردم نفرت بھری نظروں سے اسے دیکھتا ہوا بولا۔
” دل تو کر رہا ہے تجھے جان سے مار دوں۔ لیکن نہیں۔ بہت دکھ ہے نہ اپنی ماں کے پاس نہ پہنچنے کا۔۔۔؟ اب تو کہیں بھی اپنے پیروں پر چل کر نہیں پہنچ پائے گا۔”
ایک ٹھوکر اس کی ٹانگوں پر مارتا وہ پاس مڑ گیا۔
” اسے ہسپتال لے جاؤ۔ میں چاہتا ہوں یہ زندہ رہ کر بےبسی بھری زندگی گزارے۔”
کردم گاڑی میں بیٹھتا ہوا اپنے آدمیوں سے بولا۔ وہیں کھڑا رحیم افسوس سے فاروق کو دیکھتا خود بھی گاڑی میں بیٹھ گیا۔
۔**************************۔
وہ لان میں لگے جھولے پر بیٹھا خود بھی اس تاریک رات کا منظر لگ رہا تھا۔ سیما خالہ اور آئینور کے بعد یہ ویران گھر اسے کاٹنے کو دوڑتا تھا۔ زندگی نے کیسا پانسا پلٹا تھا۔ ایک پل وہ اس کے ساتھ تھے اور دوسرے پل نہیں۔
” کردم دادا۔ “
رحیم کی آواز پر وہ اپنی سوچ کی دنیا سے باہر آیا اور سامنے کھڑے رحیم کو دیکھا۔ جو ہمدردی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” کیا ہوا؟ “
” دادا سب انتظام کر دیا۔ آپ کو کراچی کے لیے نکلنا تھا نا۔”
ٹھیک ہے۔ پر پہلے اڈے پر کچھ کام ہے پھر کراچی کے لیے نکلوں گا۔”
کردم کہتا ہوا جھولے سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ وہ کہیں بھی جانے سے پہلے اڈے پر سے ضرور ہو کر جاتا تھا۔
” کیا ہوا کوئی اور بات بھی ہے؟ “
کردم نے اسے ادھر ہی کھڑے دیکھ کر پوچھا۔
” کردم دادا آپ نے فاروق کو زندہ کیوں چھوڑ دیا۔ اُس کی وجہ سے۔۔۔” دانستہ طور پر اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
” وہ میرا آدمی تھا رحیم۔ ویسے بھی یہ سب پاشا کا کیا دھرا ہے۔ فاروق نے بس اُس کی مدد کی۔ اتنی سزا کافی ہے اُس کے لیے۔”
کردم اس کا کندھا تھپک کر آگے بڑھ گیا۔ مگر رحیم جانتا تھا اُس نے فاروق کی جان اپنے احساسِ جرم کی وجہ سے بخشی۔ کہیں نا کہیں کردم نے اپنے آپ کو واقعی فاروق کی ماں کی موت کا زمہ دار مان لیا تھا۔
۔************************۔
جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *