Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi NovelR50732 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode22
No Download Link
334.5K
32
Rate this Novel
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode01 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode02 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode03 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode04 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode05 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode06 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode07 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode08 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode09 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode10 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode11 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode12 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode13 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode14 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode15 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode16 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode17 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode18 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode19 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode20 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode21 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode22 (Watching)Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode23 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode24 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode25 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode26 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode27 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode28 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode29 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode30 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode31 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Last Episode
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode22
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode22
ایک ہفتے بعد۔۔۔
کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایسے میں ٹی وی پر لگے نیوز چینل پر لڑکیوں کی سمگلنگ کی خبر چل رہی تھی۔ جس میں گینگ کے بندوں کو پکڑے جانے کی خبر سنائی جا رہی تھی۔ (جو کے جھوٹی تھی)
کردم نے اس معاملے کو آغا حسن کے کہنے پر اپنے بندوں کے ذریعے دبا دیا تھا اور یہ خبر نیوز چینلوں پر چلوا دی تھی کہ گینگ کے بندوں کو پکڑا جا چکا ہے۔
جمشید کی تدفین کے دو دن بعد ہی سب واپس اپنے اپنے راستوں پر نکل پڑے تھے۔ آغا حسن بھی جمشید کے قاتل کو ڈھونڈنے اور سمگلنگ کے کیس کو حل کرنے کا کام کردم پر ڈال کر واپس چلا گیا تھا۔ کردم نے بھی اس معاملے کے لیے فوراً حامی بھر لی تھی تاکہ وہ سب جلد از جلد یہاں سے واپس لوٹ جائیں۔۔۔
” اففف !! ٹی وی پر بھی یہ ہی سب۔” اس نے جھنجلاتے ہوئے چینل بدل دیا۔ بیزاری سی بیزاری تھی۔ اس نے چہرہ موڑ کر گھڑی کی طرف دیکھا کہ تبھی خواب گاہ کا دروازہ کھلا اور کلون کی خوشبو کمرے میں چاروں سو پھیلتی چلی گئی۔
کردم نے آگے بڑھ کر ایک نظر صوفے پر بیٹھی آئینور پر ڈالی۔ جس کا غصّے سے بھرا چہرہ نیم اندھیرے میں ٹی وی کی روشنی پڑنے کے باعث دمک رہا تھا۔ ناک میں موجود ہیرے کی نازک سی لونگ اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہی تھی۔
وہ مسکراتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
” کیا ہوا منہ کیوں پھولا ہوا ہے؟ “
آئینے میں نظر آتے آئینور کے عکس کو دیکھ کر پوچھا۔ جواباً اس نے سخت گھوری سے نوارا۔
” ایسے مت دیکھو، مجھے معلوم ہے میں بہت ہینڈسم ہوں۔”
وہ گھڑی اُتارتے ہوئے مسکرا کر بولا اور پلٹ کر اس کے پاس چلا آیا۔ جو مسلسل اسے گھورنے میں لگی تھی۔
” تم صبح کی بات کو لے کر اب تک ناراض ہو؟ “
کردم اس کے سامنے جھکا اور اس کے گرد سے دونوں ہاتھ گزارتے ہوئے پیچھے صوفے پر جما کر اس کی راہِ فرار کو ترک کر دیا۔
” میں تمہیں اب اکیلے باہر نہیں بھیج سکتا۔ تم سمجھتی کیوں نہیں ہو؟ “
کردم کی اس بات پر بھی آئینور نے کوئی ردِ عمل نہ دیا بس آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گھورتی رہی۔
کردم کی مسکراتی نظریں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں کہ تبھی اس کی نظر آئینور کی چمکتی لونگ پر جاٹکی۔ وہ تھوڑا اور جھکا اور اپنے ہونٹوں سے اس دمکتی لونگ کو چھونا چاہا مگر آئینور نے لمہے کی تاخیر کیے بغیر فوراً چہرہ بائیں جانب موڑ لیا۔ کردم کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔
” اچھا چلو ناراض مت ہو۔ ہم ابھی باہر چلتے ہیں۔”
” واقعی؟؟ “
آئینور نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لیے پوچھا۔
” ہاں واقعی۔ میں بس کپڑے بدل لوں پھر چلتے ہیں۔”
” ٹھیک ہے تب تک میں عبایا پہن لیتی ہوں۔”
اس نے کہتے ہوئے کردم کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔
” اس کی ضرورت نہیں۔ رات ہو رہی ہے بس دوپٹہ لیے لو۔”
کہتے ہوئے ایک بار پھر جھکا اور اس بار ناک کی لونگ کو چھو ہی لیا۔
” میں بس ابھی آیا۔”
وہ پیچھے ہٹتا ہوا بولا اور مڑ کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔
آئینور بھی اس کی پشت کو گھورتی اُٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
۔*******************۔
” کہاں تھے تم اتنی دیر سے؟ کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔ سعدی کی حالت بگڑتی جارہی ہے۔” وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔
” نوکری کی تلاش میں ہی گیا تھا اور اس کا بخار ابھی تک نہیں اُترا ؟ “
وہ فکر مند ہوتا کمرے کی جانب بڑھا، جہاں چار پائی پر گیارہ سالہ سعدی لیٹا بخار میں تپ رہا تھا۔
” اکبر کچھ کرو۔ کہیں سے پیسے کا انتظام کرو ہمیں اسے ہسپتال لے جانا ہوگا۔”
وہ سعدی کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتے ہوئے بولی۔
” تو فکر نہیں کر رانی۔ اسے دیکھ میں بس ابھی پیسو کا انتظام کر کے آیا۔”
وہ پریشان ہوتا، ایک بار پھر اس نچلے طبقے کے گھر سے باہر نکل گیا۔ رانی دوپٹے سے آنکھیں رگڑتی سعدی کی پٹی کرنے میں لگی رہی۔
۔********************۔
کالے بادلوں کی چھت تلے وہ اس سنسان سڑک پر قدم سے قدم ملا کر چل رہے تھے۔ لال دوپٹے سے چند شرارتی کالی لٹیں اس کے پُرکشش دمکتے چہرے پر اٹکلیاں کر رہی تھیں۔ جنہیں وہ بار بار کان کے پیچھے اڑس دیتی۔
” افففف !! لوگ اپنی محبوباؤں کو ڈنر پر لے کر جاتے ہیں اور یہ مجھے سنسان سڑک پر لے آیا ہے۔”
آئینور غصّے سے بڑبڑائی ساتھ ہی چہرہ موڑ کر اسے دیکھا جو بلیک شلوار قمیض میں بے حد حسین لگ رہا تھا۔ “ہیل” پہن کر بھی وہ اس قد آور شخص کے کندھے کو نہیں پہنچ پا رہی تھی مگر ہیل کے ساتھ اس کا قد مناسب لگ رہا تھا۔
خود پر آئینور کی نظروں کو محسوس کر کے کردم نے بھی اس کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” ایسے مت دیکھو، مجھے معلوم۔۔۔”
” ہاں ہاں معلوم ہے بہت ہینڈسم ہیں۔” کردم کی بات کاٹتے ہوئے وہ جل کر بولی۔
” اب کیوں ناراض ہو؟ اب تو تمہیں باہر بھی لے آیا تاکہ تم کھلی فضا میں سانس لے سکو۔” وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔
” کھلی فضا کے لیے آپ کو یہ سڑک ہی ملی تھی؟ “
“ہاں !! کیونکہ میں چاہتا تھا ہم دونوں کچھ وقت تنہا سکون سے گزاریں جہاں صرف “ہم” ہوں۔”
کردم نے ہم پر زور دیتے ہوئے کہا تو اب کے آئینور نے بھی غصّے کو ایک طرف رکھ کر اپنے ارد گرد نظر دوڑائی۔ ماحول میں چھایا سکون اور اس سنسان سڑک پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے، قدم سے قدم ملا کر چلنا کافی اچھا لگ رہا تھا۔
خاموشی سے یونہی چلتے ایک بار پھر آئینور نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔
” اگر آپ جواب دیں تو ایک بات پوچھوں؟ “
” ہاں پوچھو۔” کردم سامنے دیکھتے ہوئے بولا۔
” وہ شخص کون تھا جسے آپ نے گولی ماری تھی؟ “
” کونسا شخص؟ ” کردم کو یاد نہ آیا۔
” وہی جس کو گھر کی پچھلی سائڈ پر مارا تھا۔” آئینور نے یاد کرانا چاہا۔
” اچھا وہ۔۔۔” وہ یاد کرتے ہوئے مسکرایا۔ اسے یاد آیا تھا، آئینور کیسے ڈر کر کمبل میں چھپ گئی تھی۔
” دراصل اس نے ایک لڑکی کا ریپ کیا تھا۔ وہ پہلے بھی منع کرنے کے باوجود کئی مرتبہ یہ کر چکا تھا۔ اس لیے وہ مزید کسی لڑکی کی زندگی خراب کرتا اُس سے پہلے ہی اُسے موت کی گھاٹ اتار دیا۔”
کردم نے کہہ کر کندھے اچکا دیئے۔ آئینور اس کے انداز پر بس اسے دیکھ کر رہ گئی۔
” لیکن کیوں؟ آپ لوگوں کے لیے یہ کوئی بری بات تو نہیں۔ میرا مطلب۔۔۔ ” اسے سمجھ نہ آیا کن الفاظ میں پوچھے۔
کردم نے گہرا سانس لے کر چہرہ اس کی طرف موڑا۔
” تمہیں کیوں ایسا لگتا ہے دنیا میں ہر غلط کام کے پیچھے میرا ہاتھ ہے؟ “
” میں۔۔۔ میں نہیں تو۔” وہ ایکدم گڑبڑا گئی۔
(حالانکہ یہ سچ ہی تھا۔ ٹی وی میں جو بھی بری خبر سنتی تو پہلا خیال اسے کردم کا ہی آتا تھا۔ لڑکیوں کی سمگلنگ کے پیچھے بھی اسے کردم کا ہی ہاتھ لگا تھا۔)
” نور میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں لڑکیوں کی عزت کرتا ہوں اور نہ ہی یہ کہ میں انہیں حقیر جانتا ہوں۔ میں بس لڑکیوں کو بھی اپنے جیسا انسان سمجھتا ہوں۔ جن کی اپنی مرضی اپنی خواہشات ہوتی ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ زیادتی کرنا یا ان کی سمگلنگ مجھے یہ پسند نہیں۔”
ایک ہی بار میں اُس نے آئینور کی ساری غلط سوچوں کو جھٹلا دیا۔ آئینور شرمندہ سی سر جھکا کر چلنے لگی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں بھی تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ وہ چلتے چلتے یکدم رک گئی۔
” کیا ہوا ؟ ” کردم نے اسے رکتے دیکھ کر پوچھا۔
” مجھ سے اور نہیں چلا جا رہا میرے پاؤں پر سوجن چڑھ رہی ہے۔” وہ معصوم سی شکل بنا کر بولی تو کردم نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے بازوؤں میں اُٹھا لیا۔
” لو اتنی سی بات تھی۔ ہو گیا مسئلہ حل۔”
” نیچے اتاریں مجھے۔” وہ منہ بسور کر بولی۔ لیکن وہ اس کی بات کا اثر لیے بغیر چلتا رہا۔
آئینور اس کے گلے میں بانہیں ڈالے اس کے چہرے کو دیکھ دیکھنے لگی۔ ” کیا کردم سے ان کی ماں کا پوچھوں” اس نے سوچا۔
” کیا ہوا ؟ پھر کچھ پوچھنا ہے؟ ” کردم اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔ آئینور نے فوراً نظریں چرالیں۔
” آپ۔۔۔ آپ کے گھر والے وہ کہاں ہیں؟ “
بالآخر آج اس نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا۔ آج وہ کردم کی ماں کا معمہ بھی حل کر دینا چاہتی تھی۔ مگر اس کا سوال کردم کے ماتھے پر بل لے آیا۔
۔*********************۔
” کیا ہوا کچھ انتظام ہوا پیسوں کا؟ ” اکبر واپس آیا تو رانی فوراً اس کے سر ہولی۔
” ہاں !! مگر اتنے پیسے نہیں ہو سکے کہ ہم گاڑی میں جاسکیں۔ اور نہ ہی آس پاس کوئی ہسپتال ہے۔ ہمیں پیدل ہی اسے لیے کر جانا ہوگا۔” وہ پریشانی سے بولا۔
” ٹھیک ہے پھر ہم ابھی نکلتے ہیں۔ ہسپتال تک پہنچنے میں بھی ایک ڈیڑھ گھنٹا لگ جائے گا۔”
” تو ٹھیک کہتی ہے میں سعدی کو اُٹھاتا ہوں تو بھی آجا۔” وہ کہتا ہوا سعدی کے پاس چلا گیا۔
رانی بھی کمرے میں جا کر اپنی چادر اوڑھنے لگی۔ واپس آئی تو اکبر سعدی کو گود میں اُٹھائے کھڑا تھا۔
” چل آجا۔” سعدی کو اُٹھائے وہ دونوں باہر کی جانب بڑھ گئے۔ یہ جانے بغیر موسم کیا رنگ بدلنے والا ہے۔
۔***********************۔
جاری ہے۔
