Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode29

Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode29

دو دن بعد۔۔۔
وہ اس وقت گودام کے اس اندرونی کمرے میں موجود تھے۔ کرسی پر بیٹھا شخص اپنے سامنے موجود پاشا کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ جو اس کے سامنے پیسوں سے بھرا بریف کیس ٹیبل پر کھولے ہوئے تھا۔
” یہ لو پورے پیسے ہیں۔ جیسا وعدہ کیا تھا اُسے پورا کیا۔”
” شکریہ پاشا بھائی۔ ویسے اب تو تم خوش ہوگے اُس لڑکی نے خودکشی جو کرلی۔” وہ کمینگی سے مسکراتا ہوا بولا۔
” نہیں۔۔۔ میں چاہتا تھا کردم کا غرور ٹوٹے لیکن اُس لڑکی نے عزت کے چکر میں موت کو گلے لگا لیا۔ اس سے اچھا تو میں اُسے کچھ راتیں اپنے ساتھ ہی رکھ لیتا۔” پاشا نے غصّے سے کہہ کر سر جھٹکا۔
” ویسے اس بیچاری لڑکی کو بیچ میں لانا نہیں چاہیئے تھا۔ کتنی معصوم تھی۔ کتنی دین دار، پردہ کرنے والی۔”
سامنے بیٹھے شخص کی بات سنتے ہی پاشا کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ آ گی۔
” یہ سب اُس کردم دادا کی وجہ سے ہوا ہے۔ میں نے بھی سونیا کو سب سے چھپا کر سات پردوں میں رکھا تھا۔ مگر نہ جانے کردم دادا اور اُس کے آدمیوں کو کیسے علم ہوگیا۔ اگر وہ سونیا کو بیچ میں نہ لاتا تو معاملہ وہیں ختم ہو جاتا مگر سونیا کو بیچ میں لاکر اُس نے خود اپنی موت کا سامان اکھٹا کر لیا تو میں اُس کی بیوی کو کیسے چھوڑ دیتا۔”
“لیکن وہ اب تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔”
” یہ میرے لیے اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ خیر !! اب تم کیا کرو گے؟ کیونکہ کردم دادا تو اب تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا فاروق۔”
پاشا نے استہزائیہ مسکراہٹ سے فاروق کو دیکھتے ہوئے کہا۔
” میں اُس کے کچھ کرنے سے پہلے ہی پاکستان سے باہر چلا جاؤ گا۔ آخر کو اتنا سارا پیسہ ملا ہے۔”
فاروق مسکرا کر کہتا اُٹھ کھڑا ہوا۔ ہاتھ بڑھا کر بریف کیس کو بند کیا اور پاشا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
” امید ہے اس کے بعد ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ آج کے بعد تم اپنے راستے اور میں اپنے۔”
” بالکل۔”
پاشا نے سر کو خم دیتے ہوئے کہا۔ فاروق مسکراتا ہوا خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ یہ جانے بغیر آنے والا وقت اسے پاکستان سے باہر نہیں بلکہ قبر میں لے جانا والا ہے۔
۔**************************۔
کافی وقت کینٹین میں گزارنے کے بعد وہ اپنی دوستوں سے باتیں کرتی مسکراتی ہوئی یونیورسٹی سے باہر نکل رہی تھی۔ اب بس چند ہی لوگ آس پاس نظر آ رہے تھے۔
” چلو سونیا اب ہم چلتے ہیں ہمارا ڈرائیور آ گیا۔” زرین نے اپنی گاڑی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
” ٹھیک ہے تم لوگ جاؤ۔ میرا ڈرائیور بھی بس آتا ہوگا۔” وہ مسکرا کر بولی۔ زرین اور شیرین اس سے مل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئیں۔
وہ وہاں کھڑی بار بار ہاتھ میں پہنی گھڑی کو دیکھ رہی تھی۔ آدھے گھنٹہ ہونے کو تھا پر ڈرائیور کا کچھ آتا پتہ نہیں تھا۔ لوگ اب نہ ہونے کے برابر تھے۔
” افففف !! کہاں مر گیا۔ میں نے آج ہی گھر جا کر اس کو فارغ کر دینا ہے۔ اس کا تو روز کا معمول بنتے جا رہا ہے۔” وہ بڑبڑائی اور ارد گرد نظر دوڑانے لگی کہ تبھی ایک سفید رنگ کی وین اس کے سامنے آ کر رکی۔
وہ ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس سے پہلے وہ وہاں سے ہٹتی تیزی سے وین کا دروازہ کھلا اور وہاں بیٹھے شخص نے وین سے نکلتے ہی اسے اندر دھکا دیا۔
” چھوڑو۔۔۔ چھوڑو مجھے۔” وہ خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتی ہاتھ پیر چلا رہی تھی کہ تبھی دوسرے شخص نے اس کے چہرے پر رومال رکھ دیا۔ بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس کے بازوؤں میں جھول گئی۔
ان دونوں نے اسے اندر ڈالا اور وین میں بیٹھتے ہی اسے تیزی سے آگے بڑھا لے گئے۔
۔**************************۔
وہ ہال میں رکھی کرسی پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بیٹھا اپنے سامنے موجود ڈرے سہمے دلاور کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ دائیں جانب سفید چہرہ لیے کلثوم بیگم کھڑی تھی۔ جو آنے والے منظر کا سوچ کر ہی کانپ رہی تھی۔ ارد گرد کھڑی عورتیں اور لڑکیاں چہرے پر خوف لیے ان دونوں پر نظریں جمائے ہوئے تھیں۔
ان سے تھوڑے فاصلے پر رحیم ہاتھ باندھے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس کے سامنے ہی ایک بھورے رنگ کی ٹیبل موجود تھی۔ جو طرح طرح کے تیز دھار والے اوزار سے سجی ہوئی تھی۔
کردم کے ایک تھپڑ نے ہی کلثوم کا منہ کھول دیا تھا۔ اس نے اُس دن کی ساری باتیں اسے کہہ سنائی تھیں اور اب وہ دونوں اس کے سامنے کھڑے اپنے ہونے والے انجام کا انتظار کر رہے تھے۔
کردم چہرے پر سختی لیے کرسی سے اُٹھا۔ گہری کالی آنکھوں میں اس وقت خون اُترا ہوا تھا۔ وہ نظریں دلاور پر جمائے چلتا ہوا اس کے سامنے آیا۔ دلاور میں اتنی ہمت نہ تھی وہ چہرا اُٹھا کر اسے دیکھ سکے۔
” بتا تیرے ساتھ کیا کِیا جائے؟ “
” میں نے کچھ نہیں کیا کردم دادا۔ میں نے تو اُسے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔”
دلاور کی بات سنتے ہی کردم نے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دیا۔ وہ سیدھا منہ کے بل فرش پر جا گرا۔ کردم آگے بڑھا اور گریبان پکڑ کر اسے اپنے مقابل کھڑا کیا۔
” میں نے اُسے چھوا تک نہیں تھا۔” ایک اور تھپڑ۔
” مجھے معاف کردو کردم دادا۔”
منہ سے نکلتے الفاظ کے ساتھ ہی کردم نے اس پر مکوں اور گھونسوں کی بارش شروع کردی۔
وہ لڑکھڑا کر وہاں کھڑی عورتوں پر گرنے لگا۔ اسے گرتے دیکھ وہ فوراً وہاں سے ہٹیں جس کے باعث وہ فرش پر جا گرا۔
کردم چلتا ہوا اس کے سامنے آیا۔ پورے ہال میں بس اس کے بوٹ کی آواز گونج رہی تھی۔ سب خوف زدہ سے دلاور کو مار کھاتا دیکھ رہے تھے۔
کردم نے اپنا بوٹ سے سجا پیر اس کی گردن پر رکھ دیا اور دباؤ ڈالنے لگا۔
” مجھے۔۔۔ مجھے معا۔۔۔ معاف کر دو۔ جانے دو۔” وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑتے بامشکل بولا۔
” کیوں تو نے بھی تو اسے جانے نہیں دیا۔ پھر تجھے کیسے چھوڑ دوں۔”
کردم نے کہہ کر رحیم کی طرف دیکھا۔ اس کا اشارہ سمجھتے ہی وہ آگے بڑھا اور کردم کے ہاتھ میں بیلٹ تھما دی اور بس اس کے بعد بازارِ حسن کی یہ عمارت دلاور کی چیخوں سے گونج اُٹھی تھی۔
جگہ جگہ سے خون رِس رہا تھا۔ اس کے کپڑوں کے ساتھ ساتھ کھال بھی ادھیڑ چکی تھی۔ وہ وحشی بنا دلاور پر بیلٹ برسا رہا تھا۔
” اُٹھاؤ اسے اور ٹیبل پر باندھ دو۔”
کردم نے رک کر اپنے آدمیوں سے کہا اور وہاں سے ہٹ کر رحیم کے پاس آیا جو ہاتھ میں ڈرل مشین لیے کھڑا تھا۔ سب دم سادھے اسے دیکھ رہے تھے۔ ہر طرف موت کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ جسے ڈرل مشین کی آواز نے توڑا۔
” مجھے جانے دو۔ معاف کر دو۔۔ آج کے بعد کسی لڑکی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھوں گا۔”
ٹیبل پر لیٹا وہ کردم کو اپنی طرف آتا دیکھ چلایا۔ کردم کے آدمیوں نے اس کے ہاتھ پیر ٹیبل کے ساتھ رسی سے باندھ دیئے تھے۔ ڈرل مشین کی آواز اس کے کان کے پردوں کو چیر رہی تھی۔ وہ بے بسی سے خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر ناکام رہا۔
” ان ہاتھوں سے اُس کا دوپٹہ کھینچا تھا نا۔”
کردم کہر آلود نظروں سے اس کو دیکھتا غرایا اور ڈرل مشین اس کی ہتھیلی میں گھسیڑ دیا۔
دلاور کی دل خراش چیخیں پورے ہال میں سنائی دے رہی تھیں۔ وہاں موجود کچھ کمزور دل لڑکیوں پر مارے خوف کے کپکپی طاری ہوگئی تھی تو کچھ اس کے حشر پر آنسو بہا رہی تھیں۔
” ان آنکھوں سے اُسے دیکھا تھا نا۔”
” نن۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں جانے جانے دو۔”
وہ درد سے نڈھال ہوتا نحیف سی آواز میں بولا۔ خوف سے آنکھیں پھیل گئی تھیں۔
” کیسے جانے دوں ہاں؟ اُس پر تو میں نے کسی کا سایہ پڑنے نہیں دیا اور تو نے ان غلیظ نظروں سے دیکھا۔”
کردم نے کہتے ہی اپنا ہتھیلی پھیلائی۔ پچھے کھڑے آدمی نے ہاتھ میں پکڑا خنجر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔
” نہیں نہیں مت کروووو۔۔۔” منت سماجت کرتے اس کی چیخے بلند ہوتی رہی۔
کردم نے خنجر اس کی آنکھوں سے نکال کر دور پھینکا اور ایک جھٹکے سے اس کی گردن مروڑ دی۔
وہاں کھڑی لڑکیوں کے حلق سے یکدم چیخیں بلند ہوئیں اور پھر سناٹا چھا گیا موت کے بعد کا سناٹا۔
کردم چلتا ہوا کلثوم بیگم کے سامنے آیا کہ تبھی کسی نسوانی چیخوں کی آواز ہال میں سنائی دینے لگی۔
راہداری سے دو آدمی کسی لڑکی کو کھینچتے ہوئے لا رہے تھے جو چلاتے ہوئے خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔
” سونیا !! “
کردم کو ایک منٹ نہیں لگا اسے پہچاننے میں آخر اس کی وجہ سے ہی تو آج اس کی نور اس سے دور تھی۔
کردم نے واپس کلثوم کو دیکھا۔ وہ کسی مردے کی طرح سفید چہرہ لیے خوف زدہ سی اسے دیکھ رہی تھی۔ کردم نے غصّے سے اس کی گردن دبوچ لی۔
” اگر تو عورت نہ ہوتی تو آج تجھے ان سب کے لیے عبرت کا نشان بنا دیتا۔”
” میں نے۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔” وہ اپنی گردن چھڑوانے کی کوشش کرتی بامشکل بولی۔
” آئندہ کے لیے تو اس قابل رہے گی بھی نہیں کہ کچھ کر سکے۔” کردم اسے جھٹکے سے چھوڑتا سونیا کی طرف بڑھ گیا۔ کلثوم لڑکھڑاتی ہوئی فرش پر جا گری۔
وہ چلتا ہوا ان آدمیوں کے پاس آیا جو سونیا کو پکڑے کھڑے تھے۔ ان کی حیرت بھری نظریں ٹیبل پر جمی تھیں جہاں دلاور کی لاش رسیوں میں جکڑی پڑی تھی۔
کردم کو پاس آتا دیکھ وہ فوراً سونیا کو چھوڑ کر پیچھے ہٹے۔
” چلو۔” کردم نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا۔ وہ حیران ہوتی کبھی اسے دیکھتی تو کبھی اس کے ہاتھ کو۔
” گھر چلنا ہے یا یہیں رہنے کا ارادہ ہے؟ “
اس کی بات پر سونیا نے فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا اور کردم کے ساتھ ہی قدم باہر کی جانب بڑھا دیئے۔
گاڑی میں بیٹھ کر اس نے بیک ویو مرر سیٹ کیا اور پچھلی نشست پر بیٹھے کردم کو دیکھنے لگی۔ وہ جو اندر کھڑی حیران نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے یہ سوچ رہی تھی کہ کردم نے اسے اغوا کروایا ہے۔ اب کے سارے شک دور ہوگئے تھے۔ دل میں چھپا کردم کا خوف کہیں دور جا چھپا تھا۔ وہ آنکھوں میں عجیب سی چمک لیے اسے دیکھ رہی تھی۔
کردم اس کی خود پر جمی نظروں سے بخوبی واقف تھا۔ مگر نظر انداز کیے بیٹھا رہا۔ ایسی نظریں تو وہ نہ جانے کتنی ہی عورتوں کی خود پر دیکھتا آیا تھا پر اسے پرواہ کہاں تھی۔ وہ تو بس ایک کی ہی نظروں کا طلب گار بنا تھا جو اس کی منظورِ نظر تھی۔
” آپ کا شکریہ آج آپ نے میری عزت بچائی۔”
کردم جو موبائل پر جھکا ہوا تھا۔ نظریں اُٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔ اس پل اس کا دل کیا خود اپنے ہاتھوں سے اس لڑکی کو زندہ زمین میں گاڑ دے۔ جس کی وجہ سے پاشا نے اس کی نور کو اس سے دور کر دیا۔
مگر اُف یہ محبت !! آئینور نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔
” کہاں رہ گیا یہ رحیم۔” سونیا کی بات کو نظر انداز کرتا وہ جھنجھلا کر سامنے شیشے کے پار دیکھنے لگا جہاں سے وہ اور اس کے آدمی تیز تیز چلتے آ رہے تھے۔ رحیم گاڑی کا دروازہ کھول کر تیزی سے بیٹھا اور جیب سے رومال نکال کر اپنے بائیں جانب سیٹ پر بیٹھی سونیا کے منہ پر رکھ دیا۔ یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ وہ سنبھل بھی نہ سکی اور بیہوش ہوگئی۔
کردم نے فون پر ہی رحیم کو میسج کے ذریعے ہدایت کر دی تھی۔ جس پر اس نے آتے ہی عمل کر ڈالا۔
” کام ہوگیا؟ “
” جی دادا باہر کھڑے لوگوں کو ہٹا کر راستہ صاف کر دیا بس اب تھوڑی دیر میں وہ پھٹ جائے گا۔”
رحیم بیک ویو مرر میں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
کردم پیچھے ہو کر بیٹھا اور ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھنے لگا کہ تبھی ایک زور دار دھماکے کی آواز فضا میں بلند ہوئی اور سناٹا چھا گیا۔ اس کے بعد لوگوں کی چیخوں کی آواز اور بھاگ دوڑ نے کہرام برپا کر دیا۔
بازارِ حسن کی اُس عمارت میں بم پھٹا تھا۔ جو اردگرد موجود عمارتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ لوگ چیختے چلاتے ادھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے۔
کردم نے ایک نفرت بھری نگاہ سامنے ڈال کر آنکھوں پر چشمہ لگا لیا۔
جس جگہ سے ماں نکلی تھی۔ بیوی وہیں پہنچ گئی تھی۔ وقت کا چکر گھوم پھر کر وہیں آ رکا تھا۔ مگر اب اس نے وہ مقام ہی تباہ کر دیا جہاں اس کی زندگی کو تباہ کیا گیا تھا۔
” اس کا کیا کرنا ہے کردم دادا؟ ” رحیم نے برابر میں بیہوش پڑی سونیا کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” اسے گودام میں بند کر دو۔ جب تک میں پاشا سے بدلہ نہیں لے لیتا اُسے اس کی خبر نہیں ہونی چاہیئے۔”
” ٹھیک ہے دادا۔”
” اور ہاں !! اس بات کا خیال رکھنا اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے۔” کردم کی بات میں چھپا اشارہ سمجھ کر رحیم نے اثبات میں گردن ہلا دی۔
” آپ فکر نہیں کریں میں کسی کو اس کے پاس جانے نہیں دونگا۔”
” ٹھیک ہے چلو اب۔”
کردم کے کہنے پر رحیم نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ پیچھے ہی ان کے آدمیوں کی گاڑی بھی چل پڑی تھی۔
۔*************************۔
جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *