Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi NovelR50732 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode28
No Download Link
334.5K
32
Rate this Novel
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode01 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode02 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode03 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode04 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode05 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode06 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode07 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode08 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode09 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode10 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode11 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode12 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode13 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode14 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode15 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode16 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode17 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode18 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode19 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode20 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode21 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode22 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode23 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode24 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode25 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode26 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode27 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode28 (Watching)Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode29 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode30 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode31 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Last Episode
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode28
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode28
وہ خواب گاہ میں کھڑا کھڑکی سے باہر نظر آتے مناظر دیکھ رہا تھا۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ آج افق سے ماہتاب بھی غائب تھا۔ جیسے کردم کے آنگن سے آئینور۔
سیما خالہ کو دفنانے کے بعد وہ سیدھا آئینور کی تلاش میں نکلا تھا۔ گھنٹوں تک سڑکوں کی خاک چھاننے کے بعد رات دیر گھر لوٹا تھا۔ رحیم اور کچھ اور آدمیوں کو اس نے رحمت اور فاروق کو ڈھونڈنے میں لگا دیا تھا۔ مگر اب تک ان کی بھی کوئی خبر نہیں ملی تھی۔
” کہاں ہو تم نور؟ “
وہ افق پر نظریں جمائے آئینور کے تصور سے مخاطب ہوا۔
” تمہیں تو میں نے سب سے چھپا کر رکھا تھا۔ پھر کس نے تمہیں مجھ سے چھین لیا۔”
تیز ہوا کے چھونکے سیدھا اس کے چہرے کو چھو رہے تھے۔ اس ہوا میں اسے آئینور کی خوشبو محسوس ہو رہی تھی۔
” جس کسی نے بھی یہ گندھا کھیل کھیلا ہے میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔ اس کو اس کے بھیانک انجام تک پہنچا کر ہی دم لوں گا۔”
وہ خود سے عہد کرتا وہاں سے ہٹ گیا۔ یہ وقت ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھنے کا نہیں تھا۔
۔************************۔
شراب خانہ مردوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کچھ لوگ ٹیبل کے ارد گرد بیٹھے شراب نوشی کے ساتھ ساتھ جوا کھیلتے ہوئے اپنی اپنی قسمت آزما رہے تھے کہ اچانک تیز آواز کے ساتھ شراب خانے کا شٹر اُٹھا تھا اور وہ سیاہ چادر اوڑھے اندر داخل ہوا۔ چادر میں منہ چھپائے وہ ادھر اُدھر دیکھتا ایک کونے پر جا بیٹھا۔ ارد گرد نظر دوڑاتا وہ اطراف کا جائزہ لے رہا تھا کہ اچانک اسے اپنے شانے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔
” کیسے ہو رحمت؟ “
مقابل نے کہتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے سے چادر کھیچ لی۔
” رحیم تم۔۔۔ تم یہاں؟ ” رحمت آنکھوں میں حیرت لیے سامنے کھڑے رحیم کو دیکھ رہا تھا۔
” ہاں میں !! تمہیں کیا لگا تم چھپ جاؤ گے تو تمہیں کوئی ڈھونڈ نہیں پائے گا؟ “
” تمہیں کیسے پتا چلا میں یہاں ہوں؟ “
” پیاسا کنوے کے پاس خود چل کر آتا ہے۔ مجھے یقین تھا کردم دادا کے بنگلے سے نکل کر تم ادھر اُدھر ہی پائے جاؤ گے۔ خاص طور پر شراب خانوں میں۔” وہ مسکرا کر کہتا اس کے سامنے جھکا۔
” بس پھر کیا تھا میں نے ہر اس جگہ آدمیوں کو بھیج دیا جہاں تم پائے جا سکتے ہو اور دیکھو تم مل بھی گئے۔”
وہ واپس سیدھا ہوا تبھی دو آدمی رحیم کے پیچھے سے نکل کر آگے آئے اور رحمت کو کوئی بھی موقع دیئے بغیر فوراً بازوں سے پکڑ لیا۔
” میں نے کچھ نہیں کیا مجھے چھوڑ دو۔ میں کچھ جانتا بھی نہیں ہوں۔”
رحمت چلانے لگا ارد گرد موجود لوگوں رک کر انہیں دیکھنے لگے مگر پھر اپنے اپنے کاموں کی طرف متوجہ ہو گئے۔ یہ تو یہاں روز کا معمول تھا۔
” میں جانتا ہوں تم نے کچھ نہیں کیا۔ لیکن راہِ فرار کوئی حل نہیں تم کو کردم دادا کا سامنا کرنا ہی ہوگا۔” رحیم نے اسے سمجھانا چاہا۔
” وہ مجھے مار دینگے۔” وہ دانت پیستے ہوئے بولا۔ بےبسی سی بےبسی تھی۔
“جب تم نے کچھ کیا ہی نہیں تو وہ کیوں تمہیں مارنے لگے۔۔۔؟ چلو اسے لے کر چلو۔”
رحمت سے بول کر آخر میں اپنے آدمیوں سے مخاطب ہوا۔ اس کا حکم ملتے ہی وہ زبردستی رحمت کو لیے وہاں سے نکل گئے اور رحمت بس چلاتا ہوا خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔
۔*************************۔
اسے ہوش آیا تو وہ بستر پر پڑی تھی۔ اس نے بامشکل آنکھوں کو کھول کر ارد گرد دیکھا تبھی اس کی نظر سامنے کھڑی خاتون پر پڑی میک اپ سے اٹا ہوا چہرہ آئینور کو وہ بھیانک منظر یاد دلا گیا۔ اس نے بے اختیار اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔ (وہ گری تھی۔)
” یااللّٰه حفاظت کرنا۔”
” اے لڑکی !! چل اُٹھ تیری دید کے لیے سب انتظار کر رہے ہیں۔” اس کی آواز پر آئینور نے ناگواری سے آنکھیں بند کر لیں۔
” اےےے !! اُٹھ یہاں آرام کرنے کے لیے نہیں لائے تجھے۔”
وہ کہتے ہوئے آگے بڑھی اور آئینور کو کلائی سے پکڑ کر کھینچا۔ آئینور اُٹھ کھڑی ہوئی۔
” اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم جو چاہے مجھ سے کروا سکتی ہو، تو تمہاری بھول ہے۔ مر جاؤں گی مگر تمہاری خواہش پوری نہیں ہونے دونگی۔” وہ اس عورت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پُراعتماد لہجے میں بولی۔
” ائے ہائے !! آئی بڑی مر جائے گی۔ بہت دیکھی ہیں تجھ جیسی۔ یوں یوں ( وہ چوٹکی بجاتے ہوئے بولی) یوں لائن پر لے آئی سب کو پھر تو کیا چیز ہے۔”
” تم ابھی مجھ جیسی سے ملی کہاں ہو خاتون۔ میں اپنے نام کی ایک ہوں۔ دیکھ لینا تم ہاتھ ملتے رہ جاؤ گی لیکن مجھ سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا پاؤ گی۔”
بظاہر وہ بے خوف ہو کر بول رہی تھی مگر اندر کا حال تو صرف اللّٰه ہی جانتا ہے۔ وہ دل ہی دل میں کتنی ہی دعائیں اپنی عزت کی حفاظت کیلئے کر رہی تھی۔ اس عورت نے ایک نظر سر سے پیر تک آئینور کو دیکھا جو تیکھی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” صرف آج رات کا وقت دے رہی ہوں۔ صبح تک اگر تیری یہ اکڑ ختم نہ ہوئی تو درندوں کے سامنے ڈال دوں گی جو تجھے نوچ کھسوٹ کھائیں گے۔ ہنہہ !! ” وہ ہنکار بھرتی کمرے سے باہر نکل گئی۔
اس کے جاتے ہی آئینور وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
” میرے مالک رحم۔”
۔************************۔
ہاتھ کمر پر باندھے وہ لاؤنج میں کھڑا اپنے سامنے موجود ڈرے سہمے رحمت کو دیکھ رہا تھا۔ بائیں جانب اس سے تھوڑا فاصلے پر رحیم کھڑا ہوا تھا۔ لاؤنج میں اس وقت سناٹا چھایا ہوا تھا جسے کردم کی گرج دار آواز نے توڑا تھا۔
” کس نے کیا ہے یہ سب بولو؟ “
“میں۔۔۔ میں نہیں جانتا دادا۔ میں تو فاروق کے ساتھ شراب خانے گیا تھا۔ پیچھے سے کس نے یہ سب کیا مجھے نہیں معلوم۔ میں جب وہاں سے واپس آیا تو گھر میں سیما خالہ کی لاش ملی۔ میں بہت ڈر گیا تھا۔ آپ کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔”
رحمت نے آئینور کا ذکر کرنے سے پرہیز کیا آیا کہ وہ اس کا سن کر بھڑک ہی نہ جائے۔ وہ اس وقت کیسے کردم کے سامنے کھڑا تھا یہ بس وہ ہی جانتا تھا۔ اس وقت موت کا احساس بڑی شدت سے اسے اپنے گہرے میں لیا ہوا تھا۔
” فاروق کہاں ہے؟ “
” وہ دادا رات وہ شراب خانے میں رک گیا تھا اس کے بعد وہ واپس نہیں آیا۔”
اس کی بات پر کردم نے مٹھیاں بھینچ لیں۔ وہ اپنے آپ کو کچھ بھی غلط کرنے سے روک رہا تھا۔
” دفاع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے اور رحیم تم مجھے کسی بھی صورت میں فاروق اپنے سامنے چاہیئے۔”
وہ رحمت سے کہہ کر رحیم سے مخاطب ہوا۔ اس کی بات پر عمل کرتے دونوں اس کی نظروں سے غائب ہو گئے۔
” کیا اس میں فاروق کا ہاتھ ہے؟ لیکن کیوں؟ “
ان دونوں کو جاتے دیکھ وہ سوچتا ہوا نڈھال سا وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔
۔************************۔
ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی۔ وہ ابھی گھر واپس لوٹا تھا۔ جہاں جہاں آئینور ہو سکتی تھی۔ اس مطابق اس نے پورا شہر چھان مارا تھا۔ مگر آئینور کا کچھ پتا نہ چلا۔ وہ عدیل کو بھی فون کر چکا تھا لیکن ان کی باتوں سے یہ ہی لگتا تھا کہ وہ آئینور کی گمشدگی سے لاعلم ہیں۔
وہ تھکا ہارا اپنی خواب گاہ میں آکر لیٹا ہی تھا کہ رحیم دوڑتا ہوا آیا اور دروازے پر دستک دی۔
” آجاؤ۔” اجازت ملتے ہی وہ فوراً اندر داخل ہوا۔
” دادا آپ کے لیے کسی رانی نامی لڑکی کا فون ہے۔”
اس کی بات پر کردم جو آنکھیں بند کرکے لیٹا آئینور کو یاد کر رہا تھا۔ آنکھیں کھول کر خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ رحیم اس کی نظروں کا مطلب سمجھ کر گڑبڑا گیا اور فوراً بولا۔
” دادا وہ کہہ رہی ہے آپ کی بیوی کے بارے میں بات کرنی ہے۔”
یہ سنے کی دیر تھی کردم ایک جھٹکے سے اُٹھ بیٹھا اور لمحے کی تاخیر کیے بغیر اس کے ہاتھ سے فون لے لیا۔
” ہیلو !! “
” السلام عليكم۔” کردم کی آواز سنتے ہی دوسری طرف سے سلام آیا۔
” وعلیکم السلام۔ کون؟ “
” جی میں رانی بول رہی ہوں۔ اکبر کی بیوی جن کی کچھ دن پہلے آپ نے مدد کی تھی۔”
رانی نے یاد دلانا چاہا۔ اس کے سامنے ہی پریشان سا اکبر بیٹھا ہوا تھا۔
” جی بولیں کیا بات ہے؟ ” کردم نے یاد آتے ہی پوچھا پر وہ الجھ گیا تھا۔ اس لڑکی کا آئینور سے کیا تعلق؟
“جی وہ۔۔۔” اور پھر رانی نے ساری بات کہہ سنا ڈالی۔ کردم ساکت سا اس کی بات سن رہا تھا۔ فون پر اس کی گرفت سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی۔ اس نے ساری بات سنتے ہی فون کاٹ دیا۔
” کیا ہوا؟ ” رانی کو بات ختم کرتے دیکھ اکبر نے پوچھا۔
” وہ ان کی ہی بیوی ہے۔ ان کے ملازم ( رحیم ) سے میں نے پوچھا تو وہ بولا کہ وہ لاپتہ ہیں۔ اس لیے میں نے سب بتا دیا۔ اب آپ پریشان نہ ہوں۔”
اکبر بعد میں کمرے میں آیا تھا اس لیے رحیم اور رانی کی گفتگو نہیں سن سکا۔
” ٹھیک ہے۔” اکبر نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس نے درمیان کا راستہ چن لیا تھا۔ خود کردم کو نہیں بتایا تاکہ پاشا سے نمک حرامی نہ ہو اور نہ ہی کردم کے ساتھ احسان فراموشی کی۔ اس نے رانی کے زریعے اس تک بات پہنچا کر خود کو دونوں طرف سے سرخرو کر لیا تھا۔
ادھر کردم بات ختم ہوتے ہی فون کو پرے پھینک کر فوراً کمرے سے باہر بھاگا تھا۔ اسے اس طرح جاتے دیکھ رحیم بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ کردم تیزی سے سیڑھیاں اُتر رہا تھا۔ ایک خوف تھا کچھ غلط ہو جانے کا کچھ کھو جانے کا۔ آئینور کس جگہ تھی یہ سنتے ہی اسے اپنی دنیا لوٹتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ پورچ میں آئے اور گاڑی میں بیٹھ کر اسے سٹارٹ کیا۔ چوکیدار نے انہیں دیکھتے ہی دروازہ کھولا تھا۔ رحیم گاڑی گھر سے باہر نکالتا کردم کی بتائی جگہ پر تیزی سے اسے بھگا لے گیا۔ کردم بے چین تھا۔ وہ بس اب جلد سے جلد اپنی نور کے پاس پہنچنا تھا۔ یہ جانے بغیر آنے والا لمحہ اس پر کیا قیامت بن کر ٹوٹنے والا ہے۔
۔***********************۔
” اے لڑکی !! نخرے نہیں سمجھی۔ یہ ناشتہ ختم کر ورنہ تجھے کسی کا ناشتہ بنا دونگی۔”
ملازمہ کے ہمراہ وہ خاتون صبح ہی ناشتہ لے آئی تھی۔ مگر آئینور کو ضد پر اڑا دیکھ اس کا دماغ گھوم گیا۔
” نہیں کرنا مطلب نہیں کرنا۔ تمہارا یہ حرام کھانا کھانے سے بہتر میں بھوکی مر جاؤ۔ کلثوم بیگم !! “
اس نے ناگواری سے کہہ کر چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔ اس کی بات کلثوم بیگم تپ کر رہ گئی۔
” اس کی اکڑ ایسے نہیں جائے گی۔ چل ڈولی اس کے پاس دلاور کو بھیج تاکہ اس کی عقل ٹھکانے آئے۔”
وہ ملازمہ سے کہتی ایک حقارت بھری نظر آئینور پر ڈال کر باہر چلی گئی۔ ڈولی بھی اس کے پیچھے ہی نکلی تھی۔ دروازہ بند ہوتے ہی آئینور اپنا چہرہ گھٹنوں میں دیئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک بار پھر دروازہ کھلا۔ آئینور نے چہرہ اُٹھا کر دیکھا تو اس بار اندر آنے والا شخص کلثوم بیگم نہیں دلاور تھا۔ اسے دیکھتے ہی آئینور کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ وہ کرنٹ کھا کر بیڈ سے اُتری۔ دلاور خباثت سے مسکراتا دھیرے دھیرے قدم اُٹھا کر اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
” وہیں رک جاؤ۔ میرے پاس مت آنا۔” وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹتے ہوئے بولی۔
” ابھی تو کچھ کیا بھی نہیں اور تم رکنے کی بات کر رہی ہو۔” معنی خیزی سے کہتا وہ قریب ہوتا جا رہا تھا۔
آئینور نے گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھا قریب ہی ٹیبل پر مٹی سے اٹا گلدان رکھا ہوا تھا۔ وہ چوکنا ہوگئی۔ دلاور چلتا ہوا جیسے ہی اس کے قریب پہنچا آئینور نے لمحہ ضائع کیے بغیر گلدان اُٹھا کر اس کے سر پر دے مارا۔ وہ بلبلا اُٹھا اور سر ہاتھوں میں تھام لیا۔ خون تیزی سے اس کے سر سے بہہ رہا تھا۔ اسی موقع کا فائدہ اٹھا کر آئینور نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر پوری طاقت سے اسے پیچھے دھکیلا جس کے باعث وہ کمر کے بل فرش پر جا گرا تھا۔
” کمینی تجھے تو آج چیر کر رکھ دونگا۔” وہ سر پکڑے اُٹھنے لگا۔
آئینور تیزی سے کمرے میں نظر دوڑا رہی تھی۔ تبھی اس کی نظر دائیں جانب دیوار پر بنی کھڑکی پر جا رکی۔ کھڑکی کے پار پورا شہر نظر آ رہا تھا۔ یقیناً اسے اوپر بنے کمرے میں بند کیا گیا تھا۔ وہ سوچنے لگی اور بس ایک لمحہ ایک لمحہ لگا تھا اسے فیصلہ کرنے میں۔
” اگر میری موت بھی ماما کی طرح ہونی ہے تو یہ ہی سہی۔ اگر خود کشی تو خود کشی سہی۔”
اس نے ایک نظر کھڑکی کو دیکھا اور پھر دلاور کی طرف جو خونخوار نظروں سے اسے دیکھتا اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔
آئینور نے چہرہ موڑا اور کھڑکی کی جانب دوڑ لگا دی۔ دلاور نے اس کا ارادہ بھانپ کر پیچھے سے اس کا دوپٹہ پکڑ کر کھینچا۔ مگر وہ پرواہ کیے بغیر بھاگتی چلی گئی۔ ایک دم کمرے میں کانچ کے ٹوٹنے کی آواز گونجی تھی۔ اُس کا سفید دوپٹہ دلاور کے ہاتھوں میں ہی رہ گیا تھا۔
بازارِ حسن کی اس تین منزلہ عمارت کی بلندی سے آئینور کا وجود نیچے زمین پر جا گرا تھا۔ سامنے سے آتے کردم نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس کے پیر وہیں پتھر کے ہوگئے۔ ہر طرف سناٹا چھا گیا تھا۔ ہر چیز ایک لمحے کو رک سی گئی تھی۔ سوائے زمین پر گرے آئینور کے وجود کے جو خون سے رنگتا جا رہا تھا۔ اس کے چاروں طرف خون ہی خون پھیل رہا تھا۔ سفید فراک رنگ کر سرخ ہو چکا تھا۔
” نورررر !!! “
کردم کا سکتہ ٹوٹا۔ وہ تیزی سے اس کی جانب بھاگا۔ زمین پر بیٹھتے اس نے آئینور کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ اس کے کپڑوں پر خون لگ چکا تھا۔ لیکن اسے پرواہ نہیں تھی۔ کیا ہو رہا ہے، وہ کہاں بیٹھا ہے اور کون اسے دیکھ رہا ہے؟ اسے کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی سوائے آئینور کے جو اس کی گود میں آنکھیں بند کیے لیٹی تھی۔ چہرہ خون سے تر تھا۔ ناک میں چمکتا ہیرا تک سرخ ہوگیا تھا۔ وہ دیوانہ وار اس کے چہرے سے بال ہٹاتا اسے آوازیں دینے لگا۔
“نور۔۔۔ نور میری جان آنکھیں کھولو۔ دیکھو میں آگیا، نور دیکھو۔”
اس کی پکار پر تڑپ پر آئینور نے بامشکل اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ پلکیں لرز رہی تھیں۔
وہ دھیرے دھیرے ان کو اُٹھاتی سامنے بیٹھے اپنے کردم کو دیکھنے لگی اور یہ دیکھنا بھی کیا دیکھنا تھا۔ کردم کو اب تک کی اپنی پوری زندگی بے معنی لگنے لگی۔ آج ان آنکھوں میں وہ نور نہ تھا جو ہمیشہ ہوا کرتا تھا۔ وہ کشش نہ تھی جو کردم کو اپنی جانب کھینچا کرتی تھی۔ ہاں !! ان آنکھوں میں آج کچھ الگ ہی چمک تھی۔ ہاں !! ان آنکھوں میں آج محبت تھی۔ وہ محبت جو کردم کب سے دیکھنا چاہتا تھا۔ اس نے وہ آج اس لمحے دیکھی تھی۔ یہ ہی وہ موقع تھا جس میں اسے اپنی دنیا مکمل ہوتی نظر آئی اور ختم بھی۔
” نور !! “
اس نے دھیرے سے پکارا۔ آئینور آنکھیں کھولے اسی کو دیکھ رہی تھی۔ گلے میں ایک گلٹی سی ابھر کر غائب ہوگئی۔ جیسے وہ کچھ بولنا چاہ رہی ہو۔
” نہیں بولو کچھ نہیں بولو۔ میں کچھ نہیں ہونے دونگا تمہیں۔ تم ٹھیک ہو جاؤ گی۔”
آنسو مسلسل آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔ ہواؤں کے جھونکے آئینور کے بالوں کو اُڑاتے اس کے چہرے پر لارہے تھے۔ جنہیں وہ بار بار پیچھے کر رہا تھا۔
دور کھڑا رحیم بہتی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا پتھر دل کردم دادا آج رو رہا تھا۔ ہاں !! وہ رو رہا تھا۔
کردم کی آنکھوں سے بہتے آنسو سیدھا آئینور کے چہرے پر جا کر گر رہے تھے۔
وہ اس سے کہنا چاہتی تھی۔ وہ نہ رو اسے تکلیف ہو رہی ہے مگر۔۔۔ آئینور کے گلے میں ایک گلٹی پھر سے ابھری اور اس بار وہ آنکھیں بند کر گئی۔ اس نے عزت کو بچا لیا تھا۔ موت کو گلے لگا کے۔
” نور۔۔۔ نور آنکھیں کھولو، میری طرف دیکھو نور، نور۔۔۔ نوررررر۔”
اور اس پل کردم دادا کا سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ وہ ٹوٹ چکا تھا۔ ایک بار پھر سے۔
۔**************************۔
جاری ہے۔
