Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi NovelR50732

Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi NovelR50732 Last updated: 26 June 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi

*****************۔
" تم مجھے فون دو میں خود ہی اُسے فون کر لوں گی۔" رخسار بیگم غصّے سے بھری عدیل کے کمرے میں آئیں اور اس پر برس پڑیں۔
" کیا ہو گیا ہے ماما؟ آپ بلا وجہ ہی پریشان ہو رہی ہیں۔" عدیل بیزار سا بولا۔ وہ تنگ آ گیا تھا، ان کی ایک ہی رٹ سے۔
" ٹھیک ہے !! میری ایک دفعہ نور سے بات کروا دو۔ میرا وہم دور ہوجائے گا۔" وہ اُس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولیں۔ عدیل نے نہ چاہتے ہوئے بھی موبائل ان کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
وہ خود بھی آئینور کو کئی بار کال ملا چکا تھا۔ بیل جا رہی تھی مگر وہ فون نہیں اُٹھا رہی تھی، جس کی وجہ سے عدیل خود بھی پریشان ہو گیا تھا۔ اس لیے وہ نہیں چاہتا تھا، رخسار بیگم کو یہ بات معلوم ہو ورنہ وہ اور بھی پریشان ہو جاتیں۔ لیکن اب ان کی ضد کے آگے وہ ہار گیا اور نا چاہتے ہوئے بھی فون انہیں دے دیا۔
رخسار بیگم اسے گھورتی موبائل لے کر کمرے سے باہر نکل گئیں وہ بھی ناچار اُن کے پیچھے چل دیا۔
۔******************۔
" ہاں پاشا بھائی !! تمہارا منصوبہ ناکام رہا۔ وہ بچ گئی۔" وہ دروازے کے باہر کھڑا اس محل نما گھر کو دیکھتے ہوئے بول رہا تھا۔ جو اس وقت اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ بس ایک کمرے کی بتی روشن تھی۔
"ناممکن !! ایسا نہیں ہو سکتا۔" پاشا کی غصّے سے بھری آواز ابھری۔
" مگر ایسا ہو گیا ہے۔ وہ زندہ ہے اور اس وقت کردم دادا کے گھر موجود ہے۔" وہ طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے بولا۔
تبھی دوسری طرف سے کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی تھی۔
" میں کردم دادا کو اتنی آسانی سے جیتنے نہیں دوں گا۔ آج بچ گئی، لیکن ایک دن چڑیا جال میں پھنسے ہی جائے گی۔ تم بس مجھے خبر کرتے رہنا۔" پاشا خود پر قابو پاتا بولا۔
"وہ تو ٹھیک ہے لیکن۔۔۔ مجھے میرا پیسہ کب ملے گا؟ اب تک تو پہنچ جانا چاہیئے تھا۔" کمرے کی کھڑکی پر نظریں جمائے وہ کمینگی سے بولا۔
"کل تک تمہیں تمہارا پیسہ مل جائے گا۔ بس میرا کام ٹھیک سے ہوتے رہنا چاہیئے ورنہ تمہارے لیے اچھا نہیں ہوگا۔"
" اُس کی فکر تم نہ کرو پاشا بھائی !! پل پل کی خبر ملتی رہے گی بس تمہارا ہاتھ میرے سر پر ہونا چاہیے۔"
" ہمممم ٹھیک ہے !! اب فون رکھتا ہوں۔" پاشا نے کہہ کر کال کاٹ دی۔ وہ شخص موبائل جیب میں رکھتا ہوا مسکراتے ہوئے گھر کے اندر چلا گیا، جہاں اس کے دوسرے ساتھی اپنے اپنے کاموں میں لگے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *