Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi NovelR50732 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode23
No Download Link
334.5K
32
Rate this Novel
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode01 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode02 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode03 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode04 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode05 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode06 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode07 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode08 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode09 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode10 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode11 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode12 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode13 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode14 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode15 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode16 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode17 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode18 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode19 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode20 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode21 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode22 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode23 (Watching)Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode24 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode25 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode26 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode27 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode28 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode29 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode30 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode31 Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Last Episode
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode23
Manzoor E Nazar by Jiya Abbasi Episode23
” اگر آپ نہیں بتانا چاہتے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ میں نے تو بس یونہی پوچھ لیا۔”
کردم کے ماتھے پر بل دیکھ کر وہ فوراً بولی، آیا کہ وہ غصّے میں اسے ادھر ہی نہ پھینک دے۔
” تمہیں معلوم ہے، میں تمہیں یہاں کیوں لایا ہوں؟ ” وہ ویسے ہی ماتھے پر بل ڈالے پوچھنے لگا۔
” کھلی فضا میں سانس لینے۔”
” اور؟ “
” اور پتا نہیں۔”
کردم ایکدم چلتے چلتے رکا۔ آئینور کو یقین ہو چلا تھا کہ اگلے لمحے وہ زمین پر ہوگی۔ مگر توقع کے برعکس کردم مسکرا دیا۔ ماتھے کے بل اب غائب ہو چکے تھے۔
” میں تمہیں یہی بتانے یہاں لایا ہوں۔ اتنے دنوں سے سوچ رہا تھا پر ہمت نہیں ہو سکی۔”
وہ ایک بار پھر چلنا شروع کر چکا تھا۔
” کیوں ایسی کیا بات ہے جو آپ کو اتنا سوچنا پڑا ہے؟ “
” میں بس یہ سوچ رہا تھا کہ یہ سب جانے کے بعد تمہارا کیا رد عمل ہوگا۔”
” مطلب ؟ میں سمجھی نہیں۔”
کردم کی باتوں پر آئینور الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
” میری ماں ایک طوائف تھی۔ اور میں اُن کی اور اپنے باپ کی ناجائز اولاد۔”
وہ بالکل عام سے انداز میں بولا تھا۔ جیسے کسی اور شخص کے بارے میں بتا رہا ہو۔ آئینور اسے دیکھتی رہ گئی۔
” میرا باپ شہر کا ایک مشہور بزنس مین تھا۔ جو دنیا کی نظر میں ایک عزت دار مرد بھی تھا۔ کوئی بھی امی سے ان کے تعلقات کو نہیں جانتا تھا۔ میری پیدائش کے بعد اُس نے امی کو ایک الگ گھر لے کر دیا اور گھر کے کاموں کے لیے سیما خالہ کو رکھ لیا تھا۔ کافی عرصے تک سب ٹھیک چلتا رہا۔ میں بڑا ہو رہا تھا اور امی چاہتی تھیں۔ وہ شخص ان سے شادی کر لے تاکہ مجھے بھی باپ کا نام مل جائے۔ کوئی مجھے ناجائز نہ کہے۔”
کردم بتاتا ہوا آئینور کو سڑک کے کنارے لے آیا جہاں بڑے بڑے پتھر پڑے تھے۔ اس نے آئینور کو نیچے اُتارا اور ان میں سے ایک پتھر پر بیٹھا دیا پھر خود بھی اس کے ساتھ والے پتھر پر بیٹھ گیا۔
” پھر؟ “
آئینور نے اس کے چہرے پر نظریں جمائے پوچھا۔
” پھر یہ کہ۔۔۔ ہر بار اس شخص کے پاس کوئی نہ کوئی بہانہ ہوتا تھا۔ جس سے وہ امی کو ٹال دیتا تھا۔ اس ہی طرح سال گزرتے گئے۔ میں نے اسکول جانا بھی شروع کر دیا تھا۔ وقت گزرتا جارہا تھا۔ میں آٹھویں جماعت میں تھا تب ایک دن خبر ملی اس شخص نے شادی کر لی۔ امی کو پتا چلا تو انہوں نے بہت ہنگامہ مچایا۔ لیکن تب بھی اس شخص نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ شادی صرف بزنس کے فائدے کیلئے کی ہے۔ وہ جلدی اس عورت سے جان چھڑا کر ان سے شادی کر لے گا۔”
یہ سب کہتے کردم کا چہرہ بالکل سنجیدہ ہو گیا تھا۔ وہ رکا تو آئینور پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
” پھر شادی کی انہوں نے؟ “
” نہیں وہ ہمارا سارا خرچہ اُٹھاتا تھا۔ ہم سے ملنے آتا مگر شادی نہ کرنے کا کوئی نیا بہانہ بھی امی کو دے جاتا تھا۔ اسی طرح دو سال مزید گزر گئے۔ امی بیمار رہنے لگی تھیں اور وہ جلد از جلد مجھے میرے اُس نام نہاد باپ کے حوالے کر دینا چاہتی تھی۔ تاکہ ان کے بعد مجھے در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔ لیکن ایک دن ٹی وی پر خبر چلی اُس شخص کے یہاں بیٹا ہوا ہے اور یہ ہی امی برداشت نہ کر سکیں۔ وہ اس شخص کے گھر پہنچ گئیں۔ وہاں جا کر بہت واویلا کیا لیکن کسی نے ان کی بات کا یقین نہیں کیا کیونکہ وہ ایک طوائف تھیں۔”
اب کہ کردم کی آنکھوں میں نمی اُترنے لگی۔ وہ اب تھوڑی دیر پہلے والا کردم نہیں لگ رہا تھا۔
“میرے میڑک کے امتحان کا آخری پرچہ تھا نور ۔ جس دن میں نے اپنی ماں کو کھو دیا۔ اُس شخص کے گھر سے آنے کے ایک ہفتے بعد ہی اُس آدمی نے میری ماں کو گھر سمیت زندہ جلا دیا تاکہ وہ ان پر یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ میں اس شخص کی اولاد ہوں۔”
آئینور نے دکھ سے کردم کو دیکھتے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
“بس کریں مجھے اور کچھ نہیں سنا۔”
آئینور نے اسے روکنا چاہا پر وہ اس کی سنے بغیر مزید بتاتا گیا۔
” میں اُس وقت کمرأ امتحان میں تھا۔ سیما خالہ بھی اپنے گاؤں گئی ہوئی تھیں۔ کوئی نہیں تھا ان کے پاس، کوئی نہیں تھا جب وہ جل رہی تھیں۔ میں جب گھر واپس لوٹا تب تک سب ختم ہو چکا تھا کچھ نہیں بچا تھا۔ میں وہاں سے چلا گیا۔ مگر اُس دن میں نے قسم کھالی تھی۔ جب تک اُس شخص کو اُس کے انجام تک نہیں پہنچا دوں گا سکون سے نہیں بیٹھوں گا۔”
سامنے ہلتے درخت کے پتوں پر نظریں جمائے وہ اپنے ماضی کو سوچ رہا تھا۔ اس سمے آئینور کی نظر ایک لمحے کے لیے بھی اس کے چہرے سے ہٹنے کو انکاری تھیں۔
” پہلے میں ایسا نہیں تھا نور، قسم سے ایسا نہیں تھا۔ میں تو سب کا خیال رکھنے والا تھا لوگوں کی تکلیفوں میں ان کا احساس کرنے والا تھا۔ لیکن امی کی موت کے بعد میں دربدر سڑکوں پر پھرتا رہا۔ سب مجھے حقارت آمیز نظروں سے دیکھا کرتے تھے کیونکہ میں طوائف کا بیٹا تھا۔ یونہی سڑکوں پر پھرتے ایک دن میری ملاقات آغا حسن سے ہوئی۔ وہ مجھے دادا کے پاس لے گیا اور تب سے ہی میں ایک غنڈہ بن گیا۔ لوگوں کی نظروں میں میرے لیے حقارت کی جگہ خوف آ گیا۔ وہ مجھ سے ڈرنے لگے تھے۔ لیکن مجھے اس سب کی پروہ نہیں تھی۔ مجھے بس اُس شخص سے انتقام لینا تھا جو میری ماں کا قاتل تھا۔
کئی عرصہ تربیت حاصل کرنے کے بعد جب میں اس قابل ہوگیا کہ اپنا بدلہ لے سکوں تو تب جا کر میں اس شخص کے سامنے کھڑا ہوا تھا اور آج اُس سمیت اُس کا سارا خاندان موت کی نیند سو رہا ہے۔”
” جب آپ نے اپنا بدلہ لے لیا تھا تو پھر یہ سب چھوڑا کیوں نہیں؟ “
آئینور افسوس سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے یہ اچھا نہیں لگا تھا ایک شخص کی وجہ سے پورے خاندان کو مار دیا جائے۔
” تب نہیں چھوڑ سکتا تھا نور۔ پر اب چھوڑ دوں گا، تمہارے لیے، ہمارے لیے اور ہمارے آنے والے بچے کے لیے۔”
کردم اس کا تھام کر محبت بھرے لہجے میں بولا۔ ماحول میں چھایا تناؤ یکدم کم ہوا تھا۔ آئینور مسکرا دی۔
” اب چلیں۔”
آئینور کہتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ کردم بھی اس کے ساتھ ہی اُٹھ گیا۔ اب وہ دونوں واپس اپنی گاڑی کی طرف جا رہے تھے۔
” پتا ہے نور لڑکیاں میری طرف خود بڑھتی تھیں۔ میں نے کبھی ان کے ساتھ زبردستی یا ان کی سمگلنگ نہیں کی اور نہ ہی اس قسم کا تعلق بنایا کے میری کوئی ناجائز اولاد ہو۔ صرف اپنی ماں کی وجہ سے۔ میں نہیں چاہتا تھا جو اُن کے ساتھ ہوا وہ کسی اور کے ساتھ بھی ہو یا یہ کہ میری طرح کسی کو ناجائز ہونے کا طعنہ ملے۔”
کردم نے کہہ کر چہرہ اس کی جانب موڑا جو سنجیدہ سی سامنے دیکھتے ہوئے چل رہی تھی۔ دوسری لڑکیوں سے تعلق کا سن کر اسے بالکل اچھا نہیں لگا تھا مگر بولی کچھ نہیں۔
” کچھ بولو گی نہیں؟ “
کردم کی مسکراتی ہوئی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ اسے لگا تھا وہ لڑکیوں کے زکر پر ضرور کچھ اُلٹا بولے گی۔ لیکن ہمیشہ کی طرح وہ آج بھی اس کی سوچ کے برعکس تھی۔
” یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا۔ اس میں اتنا سوچنے کی کیا بات تھی؟ “
آئینور کی بات پر وہ گہرا سانس لیتا واپس سامنے کی طرف دیکھنے لگا۔
” وہ اس لیے کہ میرے ناجائز ہونے کا سن کر تم کیا ردعمل ظاہر کرو گی۔”
” اس میں آپ کی تو کوئی غلطی نہیں پھر میں کیوں کچھ آپ کو بولوں گی۔”
اب کی بار چلتے ہوئے آئینور نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
” جانتا ہوں۔ عادی سے تمہاری محبت دیکھنے کے بعد بس تھوڑا ڈر گیا تھا۔”
کردم کے لہجے سے شرارت صاف ظاہر تھی۔ اس کا اشارہ اس بات کی طرف تھا۔ جب آئینور نے عدیل کو ناجائز اور سوتیلا ہونے کا طعنہ دیا تھا۔
” اس وقت میں بہت پریشان تھی۔ ایک تو عادی لاہور آ گیا تھا اوپر سے پاپا کا قتل اور پھر عادی کا مجھ سے جھگڑنا۔ ایسے میں منہ سے نکل جاتا ہے کچھ بھی۔”
آئینور اس کا اشارہ سمجھتے ہی بُرا مان گئی۔
” اور ہاں !! کیا بول رہے تھے۔ میں کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا۔ تو یہ کیا ہے؟ “
آئینور نے بھی جواباً حملہ کیا۔ اپنے سینے پر انگلی رکھے اس کا اشارہ اس بات کی طرف تھا۔ جب کردم نے اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اسے اپنی زندگی میں شامل کیا تھا۔
کردم رکا اور اس کا وہی ہاتھ تھام کر اپنے قریب کر لیا۔
” تم سے میرے معاملات کچھ اور ہیں نور !! تمہیں یاد ہے جب پہلی بار ہم کراچی کے اس مال میں ملے تھے۔ ایک سرسری سی نظر تم پر ڈالی تھی مگر یہ نظر بہت گہرا اثر چھوڑ گئی تھی۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد بھی میں ان آنکھوں کو بھول نہیں سکا تھا۔
وہ ایک لمحہ تھا جب یہ آنکھیں میری آنکھوں میں رہ گئیں، یوں کہ اک بس یہ ہی میری منظورِ نظر بن گئیں۔”
تیز ہواؤں کے جھونکوں نے آئینور کا دوپٹہ سر سے گرا دیا تھا۔ آوارہ لٹیں اُڑ اُڑ کر ان دونوں کے چہروں کو چھو رہی تھی لیکن ارد گرد سے بےخبر وہ آئینور کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھا۔
” مجھے کچھ دینا تھا تمہیں۔”
کردم پیچھے ہوا اور اپنی قمیض کی جیب سے ایک سفید مخمل کی ڈبیا نکالی۔
” یہ انگوٹھی میری ماں کی تھی۔ جب میں واپس گھر گیا تھا تو ان کی لاش کے پاس سے ملی تھی۔ تب سے ہی یہ آخری نشانی کے طور پر میرے پاس ہے۔ لیکن اب میں چاہتا ہوں یہ تم پہن لو۔”
کردم کہتے ہوئے نیچے جھکا اور ایک گھٹنا زمین پر ٹکاتے ہوئے اپنا ہاتھ آئینور کے سامنے کر دیا۔
” اجازت ہے؟ “
آئینور نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور اپنا ہاتھ کردم کے ہاتھ پر رکھا۔ انگوٹھی میں جڑا نیلا نگینہ اب آئینور کے ہاتھ زینت بن چکا تھا۔ آئینور نے ہاتھ اُٹھا کر اپنے سامنے کیا تو بےاختیار منہ سے نکلا۔
” بہت خوبصورت !! “
” تم سے زیادہ نہیں۔”
مسکرا کر کہتا وہ کھڑا ہوا اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا کہ تبھی ایک گرج دار آواز کے ساتھ بجلی چمکی اور دیکھتے ہی دیکھتے بادلوں نے گرج چمک کے ساتھ برسنا شروع کردیا۔
” اففف !! اسے بھی ابھی ہونا تھا۔”
کردم جھنجھلایا اور ایک بار پھر آئینور کو بازوؤں میں اُٹھا کر تیز تیز چلنا شروع کر دیا۔
اس کی گردن میں بانہیں ڈالے وہ بھیگتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔ یہ نہیں تھا اسے کردم سے محبت ہوگئی تھی۔ بس سیما خالہ کے سمجھانے کے بعد اس نے اپنے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا۔ ( بقول آئینور کے )
کردم گاڑی کے پاس پہنچا اور اسے اُتار کر گاڑی کی چابی نکالنے لگا۔ آئینور اپنی بھیگی ہوئی لٹیں سمیٹتی سر پر دوپٹہ اوڑھنے لگی۔ کردم نے اس کی طرف کا دروازہ کھول کر اس بٹھایا اور پھر دروازہ بند کرتا خود بھی اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر میں گاڑی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو چکی تھی۔
۔*******************۔
” اب ہم کیا کریں اکبر یہ اچانک بارش کیسے شروع ہو گئی۔ ایسے تو سعدی اور بیمار پڑ جائے گا۔”
وہ لوگ اس وقت روڈ پر چل رہے تھے جب وہ چادر میں سعدی کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے پریشانی سے بولی۔
” اتنی آگے نکل آئے ہیں۔ اب واپس بھی نہیں جاسکتے۔ دیکھنا ضرور کوئی اللّٰه کا بندہ مل جائے گا جو ہماری مدد کرے۔ تم فکر نہیں کرو۔”
وہ اسے دلاسہ دیتا آگے بڑھنے لگا۔ گرج چمک کے ساتھ بارش اور بھی تیز ہوتی جا رہی تھی کہ تبھی دور اندھیرے میں روشنی سی چمکتی نظر آئی۔
” وہ دیکھو لگتا ہے کوئی گاڑی آ رہی ہے۔ چلو جلدی چلو اس سے مدد مانگتے ہیں۔”
وہ تیزی آگے بڑھا اور سڑک کے بیچ و بیچ کھڑے ہو کر ہاتھ ہلانے لگا۔ گاڑی بھی تیزی سے قریب آ رہی تھی۔
” وہ دیکھیں کردم۔ لگتا ہے انہیں مدد کی ضرورت ہے۔”
آئینور گاڑی کے شیشے کے پار دیکھتے ہوئے بولی۔
” رات بہت ہو رہی ہے نور، اوپر سے بادش یوں گاڑی روکنا ٹھیک نہیں ہوگا۔”
” لیکن دیکھیں اس کے ساتھ عورت اور بچا بھی ہے۔ ہم کسی کو یوں نہیں چھوڑ سکتے۔ آج ہم کسی کی مدد کرینگے تو کل کوئی ہمارے کام آئے گا۔”
آئینور کی بات پر کردم نے گہرا سانس لیتے ہوئے گاڑی ان کے پاس لے جا کر روکی اور گاڑی کا شیشہ نیچے کر دیا۔
“صاحب میرا بیٹا بہت بیمار ہے۔ ہمیں اسے ہسپتال لے کر جانا ہے صاحب ہماری مدد کرو۔”
آئینور نے دھیرے سے اپنا ہاتھ سٹیرنگ ویل پکڑے کردم کے ہاتھ پر رکھا۔ گویا چاہتی ہو کہ کردم ان کی مدد کرے۔
کردم نے ایک نظر اسے دیکھا پھر دوسری نظر اپنے ہاتھ پر دھرے اس کے ہاتھ کو۔ پھر چہرہ موڑ کر اکبر سے بولا۔
” ٹھیک ہے بیٹھ جاؤ۔”
” بہت بہت شکریہ صاحب۔”
اکبر تشکر آمیز لہجے میں کہتا واپس مڑا اور بیوی بچے کو لیے گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہی گاڑی ایک ہسپتال کے سامنے جا رکی تھی۔
کردم منہ پر رومال باندھے گاڑی سے باہر نکلا۔ آئینور نے بھی دوپٹے کو نماز کی طرح لپیٹ کر منہ پر نقاب کر لیا تھا۔
اکبر بھی اپنے بیوی بچے کو لیے گاڑی سے نکلا اور سب نے قدم اندر کی جانب بڑھا دیئے۔
سعدی کے چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے ایک دن ہسپتال میں رکنے کا بول دیا تھا۔ اس لیے کردم بل کی ادائیگی کرکے ان کے پاس چلا آیا۔
” آپ کی انگوٹھی بہت خوبصورت ہے۔”
آئینور رانی کے ساتھ کھڑی اس سے بات کر رہی تھی جب رانی اس کی انگوٹھی کو دیکھتے ہوئے بولی۔
” شکریہ میرے شوہر نے دی ہے۔”
آئینور مسکرا کر بولی اور ایک نظر کردم کو دیکھا جو اکبر سے مصافحہ کر رہا تھا۔
” اب ہم چلتے ہیں۔ اگر کبھی ضرورت پڑے تو یہ میرا نمبر ہے بلا جھجھک کال کر لیے گا۔”
کردم اپنا نمبر اس کی طرف بڑھاتا ہوا بولا۔
” بہت بہت شکریہ صاحب۔ آپ کا یہ احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گا۔” اکبر نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اسے تھام لیا۔
” چلیں نور؟ “
” جی۔”
آئینور رانی سے گلے مل کر آ گے بڑھ گئی۔ کردم اور وہ ساتھ ہی ہسپتال سے باہر نکلے اور گاڑی میں آ کر بیٹھ گئے۔
” اب تو خوش ہونا تم؟ ان کا بل بھی ادا کر دیا۔”
کردم نے چہرے سے رومال ہٹا کر جیب میں رکھا۔
” جی !! کیونکہ آج ہم کسی کی مدد کا سبب بنتے ہیں تو کل اللّٰه بھی ہمارے لیے کسی نا کسی کو مدد گار بنا کر ضرور بھیجے گا۔”
آئینور کی بات پر کردم نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا اور گاڑی کو گھر کے راستے پر ڈال دیا۔
۔********************۔
جاری ہے۔
