Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan NovelR50480 Kithe Phas Gayi Heer Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Kithe Phas Gayi Heer Episode 9
Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan
ہاہ !! چھوڑو مجھے ۔۔۔۔
وه اپنا بازو بار بار جھٹکتی اسکی گرفت سے نکالنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔
یہ لو چھوڑ دیا۔۔۔
وه جو اس کے سر پر گن رکھتا اسے مسلسل گھسیٹتا ہوا لا رہا تھا قدرے سنسان جگہ پر پہنچ کر اس نے ہیر کا بازو جھٹکے سے چھوڑ دیا۔۔۔
اچانک بازو چھوٹنے سے وه توازن کھوتی دھڑام سے جھاڑیوں میں گری۔۔۔
اس نے سلگ کر اپنے سامنے کھڑے لمبے چوڑے وجود کو دیکھا۔۔۔ البتہ چہرے پر ذرا بھی گهبراہٹ نہیں تھی۔۔۔
تم پینڈو جاہل گوار ایسا سلوک کرتے ہیں کسی حسین لڑکی کے ساتھ۔۔
اور تم تم ہیری ہو نہ ۔۔ ؟؟
اوں ہوں،، نہیں وه زیادہ کالا تھا۔۔۔
پہلے اس سے پوچھتی بعد میں خود ہی اپنی بات کی نفی کر گئی۔۔۔
لڑکے نے سلگ کر اسے دیکھا۔۔۔
بڑی زبان چل رہی ہے تمهاری تھوڑی دیر بس ،، پھر تمهارے سارے ڈھیلے پیچ ٹائٹ ہو جائیں گے۔۔۔
ایویں،، اتنا آسان نہیں ہے ہیر پر ہاتھ ڈالنا۔۔۔۔
ابھی میرے ساتھی مجھے ڈھونڈتے ہوئے یہاں آ جائیں گے۔۔۔
اس نے ارد گرد گھنے درختوں کو دیکھ کر کہا۔۔
ہاہاہا !! وه قہقہہ لگا گیا۔۔۔
“میرا ساتھی بس آتا ہی ہوگا ہم تمہیں ایسی جگہ لے جائیں گے جہاں تمهارے دوستوں تو کیا اس دو ٹکے کے پروفیسر کو بھی علم نہیں ہو سکے گا۔۔۔” وه كمینگی سے مسکرایا۔۔۔
ہیر کی بھنویں تن گئیں۔۔۔
تم نے میرے پروفیسر کو دو ٹکے کا کہا خود تم ایک ٹکے کے بھی نہیں ہو گے۔۔۔ آئے بڑے ہنہ !! اس کا دل تو کررہا تھا کہ اسکا منہ توڑ دے۔۔۔
ویسے وہاں قریب میں کسی سے مدد لے لوں گی۔۔۔ میرا سپیکر بہت ہے ٹرسٹ می اور ہاتھ تو میرے بہت ہی چلتے ہیں۔۔
وه نیچے زمین پر بیٹھی آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔۔۔
اوں ہوں بھول ہے تمہاری یہاں سے دو سو کلو میٹر دور سنسان جگہ پر تمہیں لے کر جائیں گے وہاں تمہاری ہیری سے خاص ملاقات ہو گی۔۔۔ اور ہاں وہاں کسی اور انسان کا نام و نشان تک نہیں ہوگا۔۔ ہیری نے وه کاٹج تم جیسی لڑکیوں کے لئے ہی بنایا ہے جہاں تم جیسوں کی اچھے سے آؤ بهگت کرتا ہے ۔۔ سمجھ تو گئی ہو گی ہیر دی گریٹ۔۔۔
وه كمینگی کی انتہا کرتا ہوا بولا۔۔۔
ہیر اپنی کامیابی پر مسکرا دی۔۔۔ بالاخر وه اس سے پتہ اگلوانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔۔۔
اسے یقین تھا اب تک انہیں پتہ چل گیا ہوگا اور وه ضرور مجھے ڈھونڈتے ہوئے یہاں آئیں گے۔۔۔
اہاں صحیح !! وه بظاہر لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی ہاتھ کو غیر محسوس انداز میں زمین پر سركانے لگی۔۔۔۔
نیچے گرے ایک پتے کی نوک سے اس نے بغیر محسوس کروائے اسکا بتایا ہوا ایڈریس جوں کا توں لکھ دیا۔۔۔ ساتھ ہی اس نے اپنی کلائی سے بریسلٹ اتار کر وہاں گرا دیا۔۔۔
تب تک ایک دوسرا لڑکا جیپ لے کر آ چکا تھا۔۔۔ اسکے سامنے کھڑے لڑکے نے اسے گن دکھاتے چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔ وه کندھے اچکاتی اٹھ گئی۔۔۔
تمہیں ڈر نہیں لگ رہا ۔۔؟؟ وه اسے اتنا ریلیکس دیکھ کر حیران ہوا۔۔۔
بلکل نہیں !! وه سر دائیں بائیں ہلا کر بولی۔۔۔
“مجھے یقین ہے میرے ساتھی مجھے ڈھونڈ لیں گے۔۔۔ اور تب تک میں خود تم لوگوں کو دیکھ لوں گی۔۔۔”
آخری فقرہ اس نے دل میں کہا۔۔۔
وه بغیر کچھ کہے اس کے آرام سے جیپ میں بیٹھنے پر خود بھی گن اسکی طرف کرتا اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔۔۔ جیپ سٹارٹ ہو گئی۔۔
اس وقت میرے پاس اپنے دفاع کے لیے کیا کیا ہے۔۔؟؟ ہیر نے سیٹی کی دھن بجاتے دل میں سوچا۔۔
ایک ہیئر پن ۔۔۔ اوکے! دو سیفٹی پینز ۔۔۔ آہا کمال ۔۔۔ گھسا دوں گی سالوں کی آنکھ میں۔۔۔ اور ۔۔۔ ؟؟ موبائل تو منحوسوں نے پہلے ہی غائب کر دیا۔۔۔ بیگ میں کیا ہے۔۔۔ ؟؟ بیگ میں بلیک پیپر سپرے !! اللّه !! وه بے اختیار خوش ہوئی۔۔۔
گڈ ویری گڈ ہیر شاباش ۔۔ !! وه مطمئن ہو گئی۔۔۔
وه اسکے ساتھ بیٹھا اسکے تیزی سے بدلتے تاثرات پر غور کررہا تھا۔۔۔
کیا سوچ رہی ہو تم ۔۔۔ ؟؟ جیپ کو جھٹکا لگا تو وه سنبهل کر بیٹھتا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔
میں سوچ رہی تھی کہ تم اتنے کالے کیوں ہو۔۔ ؟؟ مطلب تمهاری ماما نے تمہیں پیدا کرنے سے پہلے
“بلیک کافی” پی تھی کیا۔۔۔ ؟؟
وه آنکھیں پٹپٹا کر بولتی اسکا حلق تک کڑوا کر گئی۔۔۔
بلکل صحیح ہوگا تمہارے ساتھ تم اسی قابل ہو۔۔۔ وه دانت کچکچا کر بولا۔۔۔
“اور میں جو کروں گی تمهارے ساتھ وه بھی بلکل صحیح ہوگا کیوں کہ تم بھی اسی قابل ہو۔۔۔” وه خود سے بڑبڑائی۔۔۔
کیا کہا تم نے ۔۔ ؟؟ وه پورا اس کی طرف گھوم گیا۔۔۔
کیوں بتاؤں ۔۔ !! وه اسکے کان کے پاس چیخی تو وه جبڑے بھینچ کر پیچھے ہٹ کر بیٹھ گیا۔۔۔
ہیری کے بچے کس مصیبت میں پهنسا دیا ہے۔۔۔
ہیر اسے سلگتا دیکھ کر بیگ سے کوکو مو نکال کر مزے سے کھانے لگی۔۔
کیا فضول مذاق ہے یہ اگر یہ پھر کوئی پرینک ہے تم تینوں کا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا پھر ۔۔۔
وه موسیٰ کو دیکھتا دبے غصے سے بولا۔۔۔
سچ کہہ رہا ہوں بھائی آپ نے اتنا گھٹیا سمجھ لیا ہے مجھے کہ ایسا مذاق کروں گا آپ سے۔۔۔۔
شی از ریلی مسینگ!! اسکے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر باریس پریشان ہو گیا۔۔۔۔
موسیٰ نے اوینا کے خدشات من و عن بتا دیے۔۔۔
ہیری ۔۔۔ ؟؟ باریس نے جبڑے بھینچ لئے۔۔۔
لیٹ می چیک اس وقت وه کہاں ہے۔۔۔ !!
وه لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنی ٹیم کی طرف گیا جو یہاں آنے والے سب سٹوڈنٹس کی نگرانی کر رہے تھے۔۔۔
وه آنکھوں سے گاگلز اتارتا آنکھیں سكیڑ گیا۔۔۔ کیا یہاں سے کوئی سٹوڈنٹ واپس گیا ہے۔۔ ؟؟
وه اپنے ایک ٹیم ممبر کو مخاطب کرتے ہوئے بولا۔۔۔
میں چیک کرتا ہوں ۔۔۔ اس نے قریب پڑی ایک ڈائری اٹھائی اور صفحے پلٹا کر دیکھنے لگا۔۔۔
یس “ہیری” نام کا سٹوڈنٹ چند منٹ پہلے ہی ایک ایمر جنسی کا کہہ کر چلا گیا ہے۔۔۔
باریس نے مٹھیاں بھینچ لیں۔۔۔
از ایوری تھینگ اوکے پروفیسر باریس ۔۔۔ ؟؟
یس آل رائٹ،، تھینکس!!! وه سپاٹ تاثرات کے ساتھ واپس موسیٰ کی طرف آیا۔۔۔
ہی \*\*\* ہیز گون فرام ہیئر !! (وه \*\* یہاں سے جا چکا ہے)۔۔۔
اب کیا کریں ۔۔ ؟ اب تو ہم واپسی کے لئے نکلنے والے ہیں ۔۔۔ اور اگر کسی طرح یہ بات پھیل گئی تو ۔۔ ؟؟
“میری بات سنو !! تم اوینا اور لیزا کے ساتھ گھر جاؤ گے۔۔۔ گھر میں کسی کو خبر نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔ کہہ دینا کہ وه تھوڑا لیٹ آئیں گے یا کوئی مناسب بہانہ بنا دینا۔۔۔ میں اسکو تلاش کرتا ہوں۔۔۔ مجھے یقین ہے وه یہیں کہیں ہوگی۔۔۔ میں کسی کام کا کہہ کر یہاں سے چلا جاؤں گا تا کہ کسی کو کوئی شک نہ ہو۔۔۔ انشاءاللہ جلد ہی وه مل جائے گی۔۔۔ ضرورت پڑی تو پولیس کو انفارم کرنا پڑے گا۔۔۔ تم گھر میں سب سنبهال لینا۔۔۔ اوکے !!”
اسے بریفنگ دے کر وه سرد تاثرات چہرے پر سجا کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نكلتا چلا گیا ۔۔۔
جب سب وہاں سے جا چکے اور جگہ سنسان پڑ گئی تو وه سرخ آنکھوں سے چاروں جانب دیکھتا آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔
شام ڈھل چکی تھی۔۔۔ ملگجے اندھیرے میں اس نے پہاڑی کا ہر کونہ چھان مارا لیکن اس کا نام و نشان نہ ملا۔۔۔
کم آن ۔۔ !! اس نے زور سے درخت کو ٹھوکر ماری تبھی ویرانے میں ہلکی سی آواز ابھری۔۔۔ جیسے موتی آپس میں ٹکرائے ہوں۔۔۔
وه چونک اٹھا۔۔۔ اس نے زمین پر ارد گرد نظر دوڑائی تو اسے جھاڑیوں میں کوئی چیز چمکتی ہوئی نظر آئی۔۔۔
وه نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے تھاما تو وه ایک بریسلیٹ تھا جس کے اوپر “ہیر” لکھا ہوا تھا۔۔۔
اسکا دل زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔ دفعتًا اس کی نگاہ زمین پر پڑی جہاں سے پتے ہٹا کر کوئی نشان بنایا گیا تھا۔۔۔۔
اس نے غور سے دیکھا تو کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ مٹی پر گهسیٹے گئے تھے۔۔۔۔ اسے کافی غور کرنا پڑا تب جا کر اسے سمجھ آیا۔۔۔۔
وه دل ہی دل میں ہیر کی ہوشیاری پر داد دے گیا۔۔۔۔ جلدی سے موبائل پر ایک نمبر ملاتے وه پہاڑیوں سے نیچے اترنے لگا۔۔۔
ہاں رافع مجھے ایک جگہ پہنچنا ہے۔۔ تمهاری گاڑی چاہیے تھی ۔۔۔ تم مری میں ہی ہو نہ ۔۔ ؟؟ اوکے اوکے میں ایڈریس بتاتا ہوں یہاں پہنچو جلدی۔۔۔۔
اسکا دوست پوچھتا ہی رہ گیا کہ ہوا کیا ہے لیکن اس نے کال کاٹ دی۔۔۔
اوئے آرام سے،، خود جا رہی ہوں نہ ۔۔۔ ؟؟
کاٹج میں داخل ہو کر وه آہستہ آہستہ چلتی ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھی کہ اس لڑکے نے اسے آگے دھکیلتے جلدی چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔
وه اسے دیکھتی دیدے نچا کر بولی۔۔۔
او ہیلو اپنا یہ اٹھتیٹیوڈ سنبهال کر رکھو تم نے مجھے کڈنیپ نہیں کیا بلکہ میں نے تمہیں کیا ہے۔۔۔
وه تو اسکے انداز دیکھ کر تپ ہی گیا تھا۔۔۔
اسے ایک کمرے میں لایا گیا جہاں ایک موٹا بهدا سا پستہ قد کا آدمی پہلے سے موجود ایک کرسی پر بیٹھا جمائی روک رہا تھا۔۔۔
کمرے میں فرنیچر کے نام پر صرف دو کرسیاں اور ایک میز پڑی تھی۔۔۔ جس پر پانی کا جگ اور گلاس رکھا ہوا تھا۔۔۔
وه اسے کمرے میں دھکا دیتا کرسی پر بیٹھے شخص کو باہر آنے کا اشارہ کرنے لگا۔۔۔
اس کے باہر نکلتے ہی اس لڑکے نے کمرے کو لاک لگا کر چابی اس پستہ قد آدمی کو تهما دی۔۔۔
میں جا رہا ہوں۔۔۔ جب تک ہیری نہ آئے اسے باہر نہیں آنے دینا۔۔۔ باہر ایک گارڈ بھی موجود ہے۔۔۔ ہوشیار رہنا۔۔۔
وه اسے حکم دیتا وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔
موٹے آدمی نے بیزاری سے سر جھٹکا۔۔۔۔
ہیر جو دروازے سے کان لگائے کھڑی تھی اسکے جاتے ہی الرٹ ہو گئی۔۔۔
اس نے گلا کھنکارا۔۔۔ بھیا ۔۔۔ ؟؟ اس نے اپنی آواز کو بریک کرتے اسے پکارا۔۔۔
وه پلٹ کر دروازے کی سمت دیکھنے لگا۔۔۔ تبھی دوبارہ آواز ابھری۔۔۔۔ بھیا میری بات سنیں پلیز۔۔۔ !!
اس نے اپنی داڑھی كهجائی۔۔ کیا ہے ۔۔ ؟؟
بھیا مجھے یہاں بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔ یہ لوگ بہت برے ہیں لیکن آپ مجھے بلکل اپنے بھائی کی طرح لگ رہے ہیں۔۔۔ آپ پلیز یہ دروازه کھول دیں۔۔۔ میں کہیں نہیں جاؤں گی پرامس ہم باتیں کریں گے بہت ساری۔۔۔ سچی آپ مجھے میرے بچھڑے ہوئے بھائی کی طرح لگ رہے ہیں۔۔۔۔
موٹے بھدے آدمی نے ایک لمحے کو سوچا پھر اس نے دروازه کھول دیا۔۔۔ دروازه کھول کر وه اندر آتا اسی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔
ہیر کا دل خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا۔۔
وه معصومیت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ بھیا ایک بات پوچھوں ۔۔۔ ؟؟ وه آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔۔۔
جی بہناں۔۔۔ وه سراپا سماعت بن گیا۔۔۔
یہ “k” گروپ کا مطلب کیا ہوا بھلا۔۔۔ ؟؟ وه گال پر ہاتھ رکھ کر بولی۔۔۔
اسکا مطلب ہے “king” کا گروپ ۔۔۔ وه فخر سے بولا۔۔۔
ارے نہیں ۔۔ !! وه کھلکھلا دی۔۔۔
کیوں کیا ہوا ۔۔؟؟ وه اسکے ہسنے پر حیران ہوا۔۔
اسکا مطلب ہے “کتا گروپ”۔۔۔ وه شرارت سے بولی۔۔۔
ارے نہیں ۔۔ وه بھی ہنس پڑا۔۔۔
ہاں نہ ۔۔۔ وه بیگ کی زپ آہستہ آہستہ کھولنے لگی۔۔۔
نہیں نہ ۔۔ !! وه محظوظ ہو کر بولا۔۔۔ بھیا
ایک بات اور پوچھوں ۔۔ ؟؟ ہاں گڑیا ضرور پوچھو ۔۔
آپ کی کوئی بہن نہیں ہے۔۔ ؟؟ ہیر کے سوال پر اس کی آنکھوں میں آنسو چمکے۔۔۔
وه بچپن میں ہی ۔۔۔۔ وه بات ادھوری چھوڑ گیا۔۔۔
اوہ!! وه بیگ میں ہاتھ ڈالتی بلیک پیپر سپرے پر گرفت مضبوط کر گئی۔۔۔
بھیا مجھے نہ بہت پیاس لگ رہی ہے مجھے پانی ڈال دیں گے ۔۔ ؟؟
اسکے لاڈ سے بولنے پر وه جی جان سے قربان ہوتا اٹھا کر جگ سے گلاس میں پانی انڈیلنے لگا۔۔۔
ہیر نے پھرتی سے بیگ سے سپرے نکالا اور اسکے سیدھے ہونے پر اسکی آنکھوں میں چھڑک دیا۔۔۔
آہ!!! وه آنکھیں ملتا میز سے ٹھوکر کھا کر زمین پر گر گیا۔۔۔
ہیر نے ایک ٹھوکر اسے رسید کی۔۔۔
گینڈے کہیں کے ہیر کو کڈنیپ کرو گے۔۔۔؟؟ اسکے سر کے بال نوچ کر وه کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
اوہ نو !!
شور کی آواز سن کر باہر کھڑا گارڈ اندر آ گیا۔۔۔
اس نے ہیر کو دیکھ کر گن اس کی طرف کرنی چاہی لیکن اس سے پہلے ہی اس نے قریب رکھا ڈیکوریشن پیس اٹھا کر پوری قوت سے اسے دے مارا۔۔۔
گڈ شاٹ ہیر ۔۔ !!
اس نے اپنے کندھے کو تهپتهپا کر خود کو شاباش دی۔۔۔
ڈیکوریشن پیس سیدھا گارڈ کے سر پر جا کر لگا جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔۔۔ وه دوہرا ہوتا زمین پر جا بیٹھا۔۔۔
ہیر نے موقع کا فائدہ اٹھا کر اسکی گن اپنے قبضے میں کر لی۔۔۔ دھڑکتے دل سے اس نے ابھی کاٹج کے دروازے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ کسی نے جھٹکے سے دروازه کھولا۔۔۔
اپنے سامنے کھڑے ہیری کو دیکھ کر اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔۔
وه محتاط قدم اٹھاتا آگے بڑھنے لگا۔۔۔ دور دور تک کسی زی روح کا نام و نشان تک نہ تھا۔۔۔
اسکے مطابق یہاں پر کوئی کاٹج تھا جہاں وه ہیر کو اغوا کر کے لے گئے تھے۔۔۔ اس نے احتیاطً پولیس کو مطلع کر دیا تھا تا کہ ضرورت پڑنے پر وه اسکی مدد کو آ سکیں۔۔۔
کافی دور تک چلنے کے بعد اسے اندھیرے میں روشنی کی کرنیں دکھائی دیں۔۔۔ وه جلدی جلدی اس سمت بڑھنے لگا۔۔۔
کاٹج کے سامنے جاتے اس نے رک کر ارد گرد کا جائزہ لیا۔۔۔ راستہ صاف پا کر اس نے کاٹج کے بائیں جانب زمین پر بکھرے لکڑی کے بے شمار ڈنڈوں میں سے ایک پکڑ لیا۔۔۔
محتاط قدم اٹھاتا وه کاٹج کے دروازے کے باہر کھڑا ہو گیا۔۔۔
تم ۔۔۔ ؟؟
منحوس ،،کمینا ،، کھوتا وه دل ہی دل میں اسے کوسنے لگی۔۔۔
اس نے قدم پیچھے ہٹانے شروع کر دیے۔۔۔
ہیری نے طنزیہ مسکراہٹ سے اسے سر تا پیر دیکھا۔۔۔
بلیک کیجول پینٹ شرٹ میں وه آہستہ آہستہ اسکی جانب قدم بڑھانے لگا۔۔۔
خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔!
وه اسکے سراپے کو گہری نظروں سے دیکھتا ہوا کہنے لگا۔۔۔
دور رہو مجھ سے ورنہ ۔۔۔ یکایک اسے ہاتھ میں پکڑی گن کا احساس ہوا۔۔
ورنہ میں تمہیں شوٹ کر دوں گی۔۔۔ وه کپكپاتے ہاتھوں میں گن اسکی جانب کرتی ہوئی بولی تو وه قہقہہ لگا گیا۔۔۔
تمہیں گن چلانی آتی بھی ہے ڈارلنگ ۔۔۔
ساتھ ہی اس نے زمین پر گرے گارڈ کو دیکھ کر افسوس سے سر ہلایا۔۔
پُو-اَر مین!! ایک لڑکی سے شکست کھا گیا۔۔۔
جانم ہماری پہلی ملاقات تو یاد ہو گی تمہیں۔۔۔ میں نے سوچا وه یاد کچھ اچھی نہیں ہے۔۔۔ ہم لڑ جھگڑ رہے تھے۔۔۔۔۔ اس بار ہم پیار کریں گے ۔۔۔ اوکے !!
وه داڑھی پر ہاتھ پھیرتا اسکا حلق سکھا گیا۔۔۔
اتنے لمبے چوڑے وجود سے وه کیسے مقابلہ کرے گی۔۔۔
دور رہو مجھ سے گھٹیا انسان ۔۔۔!!
وه اسے اپنے قریب آتا دیکھ کر چیخی۔۔
آواز نیچے !!
وہ تیزی سے اسکے قریب آتا ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈالتا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اسکے بال پکڑتا اسکے منہ پر داڑھا۔۔۔
ہیر نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔ اس نے بڑے آرام سے ہیر کے ہاتھ سے گن پکڑ لی۔۔۔
دفعتًا ٹھا کی آواز سے دروازه کھلا۔۔۔ وه بے نیازی سے پیچھے مڑ کر دیکھنے لگا۔۔۔ باریس کو چوکھٹ میں کھڑا دیکھ کر اس نے دانت پیسے۔۔۔
لو آ گیا تمہارا ہیرو۔۔
ہیر کو جھٹکے سے پیچھے ہٹا کر وه پورا اسکی طرف مڑ گیا۔۔۔
ہیر کو اسکی گرفت میں دیکھ کر باریس کا لہو کھول گیا۔۔۔
یہاں تک آ تو گئے ہو لیکن واپس نہیں جا سکو گے۔۔۔ اور یہ ۔۔۔۔
وه اسکے ہاتھ کی طرف دیکھتا ہنس پڑا۔۔۔
اس کھلونے سے میرا مقابلہ کرو گے تم پروفیسر ۔۔ ؟؟
باریس نے تیکھی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔۔۔
تمہارے لئے تو میں اکیلا ہی کافی ہوں ۔۔۔ پچھلی دفعہ کی مار یاد تو ہوگی ہی۔۔۔
ڈونٹ ۔۔!! اس بار نہیں ۔۔۔ ہیری نے گن اس پر تان لی۔۔۔
نیچے پھینکو اسے ورنہ ۔۔۔ !! اس نے گن کا رخ اچانک ہیر کی طرف کر دیا۔۔۔
باریس نے لکڑی کا ڈنڈا نیچے رکھ دیا جو رینگتا ہوا آگے چلا گیا۔۔۔
بزدل انسان ۔۔ !!
باریس کے طنز پر وه آپے سے باہر آتا گن پینٹ کی جیب میں ڈالتا اسکی طرف بڑھا۔۔۔
باریس نے اسے چیلنج کرتی نظروں سے دیکھا۔۔۔۔
اسنے ہاتھ کا گھونسا بنا کر مارنا چاہا تو باریس نے جبڑے بھینچ کر اسکا بازو پکڑ کر پوری قوت سے اسکے پیٹ میں گھٹنا مارا۔۔۔
جواباً ہیری نے پھرتی دکھا کر اپنی ٹانگ گھما کر اسکی کمر پر دے ماری جس سے وه پنی جگہ سے پیچھے ہٹتا دیوار کا سہارا لیتا دوبارہ سیدھا کھڑا ہوا۔۔۔
دونوں کو گتهم گتها دیکھ کر ہیر گھبرا گئی۔۔۔
اس نے جلدی سے اپنے پیر کے قریب گرا لکڑی کا ڈنڈا اٹھایا۔۔۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وه ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہو گئی۔۔۔
باریس نے اسے دیکھ کر نظروں ہی نظروں میں وار کرنے کا اشارہ کیا۔۔۔
ہیر پہلے تو گھبرائی لیکن پھر آنکھیں بند کرتے اس نے ڈنڈا پوری قوت سے سامنے والے کو دے مارا۔۔۔
ڈرتے ڈرتے اس نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔
اوہ نو ۔۔ !!
باریس کو سر پکڑے دیکھ کر وه رو دینے کو ہوئی۔۔۔
ہیری نے اسے جھٹکے سے پیچھے ہٹایا تو اسکا سر دیوار سے جا لگا۔۔۔
باریس کا دماغ گھوم گیا۔۔۔ وه آپے سے باہر ہوتا اسے پے در پے لاتیں اور گھونسیں مارنے لگا۔۔۔
جب وه ادھ موا ہوتا زمین پر ڈھے گیا تو باریس نے ہونٹ سے بہتا خون ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہیر کو چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔
ہیر اسکے پیچھے جانے لگی لیکن پھر کچھ سوچ کر رک گئی۔۔۔
اس نے وہی ڈنڈا زمین سے اٹھا کر نیچے گرے ہیری پر برسانا شروع کر دیا جو ہاتھ آگے کرتا اسکا وار روکنے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔
کمینے منحوس انسان اللّه کرے تمہیں کیڑے پڑیں۔۔۔ تمهاری ٹنڈ ہو جائے،، گھٹیا انسان تم گٹر میں گر جاؤ،، تمھارے بچے بھی تمهاری طرح کالے ہوں ۔۔۔ آمین !!
ہیر ۔۔۔ ؟؟ باریس کے پر طیش لہجے پر وه ڈنڈہ فوراً زمین پر گراتی اسکے پاس آ گئی ۔۔۔
اسکی ہمراہی میں وه کاٹج سے باہر نکلی۔۔۔
تم پاگل ہو کیا ضرورت تھی اس سب کی ۔۔۔ ؟؟
میں کوئی پاگل واگل نہیں ہوں ہیر ہوں ۔۔۔۔ !!
وه اداۓ بےنیازی سے بکھرے بالوں کا جوڑا بناتی کہنے لگی۔۔۔
باریس نے اسکے ساتھ چلتے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔۔۔
یہ کیسی ہیر ہے جو اپنے رانجھے کے جذبات سے بے خبر ہے۔۔۔ ؟؟
وه مسكراتی نظروں سے اسے دیکھتا استفسار کرنے لگا۔۔۔
ہیر کی بولتی پل میں بند ہوئی۔۔۔
وه آپ راستے میں بینڈ ایج کروا لیں۔۔۔ اور گھر ہاں ۔۔ ہمیں اتنی دیر ہو گئی ہے سب پریشان ہو رہے ہوں گے۔۔۔
وه اسکے بات بدلنے پر دهیما سا ہنس دیا۔۔۔
کسی کو کچھ نہیں پتہ اور نہ بتانے کی ضرورت ہے۔۔۔
وه جینز کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے سیدھ میں دیکھتا چل رہا تھا۔۔۔
ہیر نے سر جھکا کر اسکے قدموں سے قدم ملانے کی کوشش کی۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وه کاٹج سے دور بہت دور جا چکے تھے۔۔۔۔
