Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kithe Phas Gayi Heer Episode 10 (Last Episode)

Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan

جیسے ہی وه “عالم ولا” میں داخل ہوئے بلکل سامنے معصومہ ،، شاہانہ ،، درخشاں ،، موسیٰ ،، سبکتگین عالم اور ربیعہ کو اپنا منتظر پایا۔۔۔

ان سب کو اپنی طرف مسکرا مسکرا کر دیکھتے پا کر ان دونوں میں نظروں کا تبادلہ ہوا۔۔۔

“اہم ۔۔!!!”

وه گلا کھنکارتا موسیٰ کی جانب دیکھنے لگا جس نے مسکراہٹ دبا کر اسے دیکھتے شانے اچکا دیے۔۔۔

ہاں تو پتر کیسی رہی ڈیٹ ۔۔۔ ؟؟ سبكتگین عالم شرارت سے گویا ہوئے۔۔۔

ان کی بات سن کر دونوں کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے کو ہوئیں

۔۔۔ ڈ۔۔ ڈیٹ ۔۔۔ ؟؟ ہیر ہکلا گئی۔۔۔

آہو پتر موسیٰ نے بتایا تھا ۔۔۔ شرمانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ ہم سب کو تو بڑی خوشی ہوئی ہے کہ تم دونوں راضی ہو ۔۔۔۔

معصومہ بی مسکرا کر بولیں تو ہیر نے سلگ کر موسیٰ کو دیکھا جو فوراً سے وہاں سے کھسک گیا۔۔۔

باریس نے ہیر کو سٹپٹاتا دیکھ کر مسکراہٹ دبائی۔۔۔۔

اب ہمیں اندر بھی آنے دیں گے یا ۔۔ ؟؟ ہیر خفگی سے بولی۔۔۔

سب کی نظروں سے وه تنگ ہوتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔

یہ اوینا کی بچی کہاں چھپی ہوئی ہے ۔۔۔

وه خود كلامی کرتی اس کے کمرے کا دروازه کھول کر اندر آئی جہاں وه بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔۔۔

ارے لڑکی رک جاؤ ۔۔۔ کیا ہوگیا ہے۔۔ ؟؟

وه اسکے سامنے آتی اس سے ٹکراتی ٹکراتی بچی۔۔۔

اوینا اسے دیکھتے ہی اس سے لپٹ گئی۔۔۔۔

یار کہاں چلی گئی تھی تم ۔۔۔ ؟؟ میں نے اتنا ڈھونڈا تمھیں۔۔۔ میں بہت ڈر گئی تھی یار ۔۔۔

وه اس کے گرد گرفت کو مضبوط کر گئی۔۔۔

بس یار بتاتی ہوں سب ۔۔۔ ادھر آؤ ۔۔۔ وه اسے ساتھ لئے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔

تم یہ بتاؤ پہلے کہ تمہارے منہ پر بارہ کیوں بجے ہیں ۔۔۔ ؟؟

اوینا نے بے چارگی سے اسے دیکھا۔۔۔

یار وه نہ ۔۔۔ وه بات ادھوری چھوڑ کر ناخن چبانے لگی۔۔۔

کیا فضول کا سسپنس ڈال رہی ہو بتاؤ بھی ۔۔۔ ہیر نے بےچین ہو کر پوچھا۔۔۔

” وه۔۔ کل۔۔ اسکے۔۔ پیرنٹس۔۔ آ رہے ہیں۔۔” وه آنکھیں میچ کر بولی۔۔۔

ہیں کیا ۔۔۔؟؟ کون ۔۔ ؟ کس کے پیرنٹس ۔۔ ؟؟

ہیر کے پلے ککھ نہ پڑا۔۔

شہريار کے پیرنٹس آ رہے ہیں ۔۔ اب یہ بھی بتاؤں کہ کیوں آ رہے ہیں ۔۔؟

اوینا تیوری چڑھا کر بولی۔۔

اوہ ہو!! چھپی رستم نکلی تم تو ۔۔۔ وه اسے كندها مار کر بولی تو اوینا نے تپ کر اسے دیکھا۔۔۔

“میں نے کیا کیا ہے ۔۔۔ وه تو اسکی نیت خراب ہو گئی مجھ پر ۔۔۔۔۔بدتمیز انسان ۔۔۔”

وه كلس کر بولی۔۔۔

اچھا نہ ٹینس کیوں ہو رہی ہو ۔۔ اتنا سمارٹ اور ڈیشنگ بندہ ہے اور سب سے اچھی بات تمہیں پسند کرتا ہے۔۔۔

وه سنجیدہ ہوتی اسے سمجھانے لگی۔۔۔

“پتہ نہیں یار مجھے کچھ سمجھ نہی آرہا۔۔۔”

اچھا چھوڑو اسے مجھے بتاؤ کیا ہوا تھا وہاں ۔۔۔ ؟؟

وه جاننے کے لئے بیتاب ہوئی۔۔۔

ایک منٹ میرے بغیر ہی ۔۔۔۔ رکو ،، صبر کرو ۔۔۔

موسیٰ نے کمرے میں انٹری ماری۔۔۔

تم تو بچو مجھ سے ۔۔۔

ہیر نے تکیہ پکڑ کر پوری قوت سے اسکے سر پر دے مارا۔۔۔

موسیٰ نے جواباً اس سے تکیہ کھینچ کر اسے مارنا چاہا تو ہیر نے بیڈ سے دوسرا تکیہ اٹھا کر اس پر حملہ کر دیا۔۔۔۔

چند ہی منٹوں میں کمرے کا حلیہ بدل گیا۔۔۔

“بس کرو دونوں ۔۔۔”

اوینا پوری قوت سے چیخی تو دونوں کو بریك لگا۔۔۔

ہوا کیا ہے، جنگلیوں کی طرح لڑ رہے ہو۔۔۔۔!

وه تپ کر بولی۔۔۔

یہ اپنے بھائی سے پوچھو تم ۔۔ گھر میں آ کر اس نے سب سے کہا کہ میں اور وه تمہارا کھڑوس بھائی ڈیٹ پر گئے تھے۔۔۔

وه دانت کچکچا کر بولی تو اوینا کے چہرے پر مسكان بکھری۔۔۔

معاف کر دے میری ماں غلطی ہو گئی مجھ سے ۔۔۔ وه اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولا۔۔۔

“اچھا سوچوں گی ۔۔۔” ہیر نے ادائے بےنیازی سے بال جھٹک کر کہا۔۔

اچھا اب بتا بھی چکو کیا ہوا وہاں بھائی نے کیسے ڈھونڈا تمہیں ۔۔۔ ؟؟

وه گہری سانس بھرتی انہیں آج کا واقعہ سنانے لگی۔۔۔

باریس کے کمرے میں جھانکو تو وہاں درخشاں بے حد خوش بیٹھیں اسکی بلائیں لے رہی تھیں۔۔۔

“مجھے بہت خوشی ہوئی ہے بیٹا ۔۔ تم نے بلکل ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔۔ بہت پیاری بچی ہے ہیر ۔۔ تم دونوں ایک ساتھ بہت خوش رہو گے۔۔۔

وه اسکا سر چوم کر بولیں ۔۔۔

وه مسکرا دیا۔۔۔

ایک بات بتانا تو بھول ہی گئی میں۔۔۔ شہریار کے والدین آنا چاہ رہے ہیں کل اوینا کے سلسلے میں۔۔۔ ماشاءالله اتنا اچھا لڑکا ہے ۔۔۔۔مجھے تو اپنا ہی بیٹا لگتا ہے۔۔ میری کب سے خواہش تھی اور دیکھو اللّه پاک نے میری دلی مراد پوری کر دی۔۔۔

تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔ ؟؟

دفعتاً وه رکتیں اس سے دريافت کرنے لگیں۔۔۔

“ماما آپ کو اور بابا کو جو بہتر لگے ویسا کریں۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ ہاں ایک بات ہے کہ شیری نے کبھی ذکر نہیں کیا مجھ سے ۔۔۔”

وه پرسوچ سا بولا۔۔۔

ارے پگلے وه کیا تجھ سے تیری بہن کے بارے میں بات کرتا اچھا لگتا۔۔ ؟؟

چلو میں تمهارے بابا کو بتاتی ہوں جا کر ۔۔۔۔

ان کے جانے کے بعد وه سر تلے دونوں بازو رکھ کر بیڈ پر نیم دراز ہوگیا۔۔۔

آج کے مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چلنے لگے۔۔۔

ہیر کے اغوا والے واقعے کو چند دن گزر چکے تھے۔۔۔ باریس کے اقرار پر گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔۔

خیر سے اوینا اور شہریار کی بات بھی پکی ہو چکی تھی۔۔۔ گھر میں تین تین شادیاں تھیں۔۔۔

خواتین شاپنگ میں سر کھپا رہی تھیں جب کہ مرد حضرات دیگر انتظامات کو دیکھ رہے تھے۔۔۔

رجا نے باریس کے علاوہ کسی اور سے شادی کرنے سے انکار کردیا تھا جس سے بہت ہنگامہ برپا ہوا۔۔۔

وہاج عالم اور بلقیس نے لاکھ اسے سمجھایا اسکی منتیں کیں لیکن وه اپنی ضد پر ڈٹی رہی۔۔۔ ایسے میں سب نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔۔۔

باریس اور ہیر کی شادی کی خبر سے لیزا بد دل ہو کر وہاں سے جا چکی تھی۔۔۔ اب عالم ولا میں خوب رونقیں لگی رہتی تھیں۔۔۔

گھر کے بڑوں کو سر كهجانے کی فرصت نہیں تھی۔۔

ایسے میں صرف ہیر تھی جو کچھ ناخوش سی اپنے کمرے میں پڑی رہتی۔۔۔ باریس نے جس طرح اسکی ذات کو دھتکارا تھا وه اب تک بھول نہ پائی تھی۔۔۔

سب کے چہروں پر خوشی دیکھ کر اس میں انکار کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔۔

رات کا وقت تھا۔۔۔ سب تھک کر اپنے اپنے کمروں میں سونے جا چکے تھے۔۔۔

ہیر کچھ سوچ کر بیڈ سے اتری۔۔۔ چپل پیروں میں اڑس کر اس نے وقت دیکھا۔۔۔ گھڑی رات کے بارہ بجا رہی تھی۔۔۔

اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ کمرے سے باہر قدم رکھا ۔۔۔ دبے قدموں چلتی وه باریس کے کمرے کے باہر آ کھڑی ہوئی۔۔۔

یہ دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا کہ اس کے کمرے کی بتی چل رہی تھی جس کا مطلب تھا وه جاگ رہا ہے۔۔۔

ہلکے سے دروازے پر دستک دے کر اس نے اندر قدم رکھا۔۔۔ اندر آتے ہی جو منظر اس نے دیکھا اگر اسے علم ہوتا تو وه کبھی بھی یہاں آنے کا نہ سوچتی۔۔۔

باریس شاور لے کر بغیر شرٹ کے باتھروم سے نکلا تھا۔۔۔ باہر نکلتے ہی اس کی نگاہ ہیر سے ٹکرائی جو فوراً رخ موڑ گئی تھی۔۔۔

ہیر نے باہر جانے کے ارادے سے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ وه پھرتی سے اس کے پاس آتا اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے روک گیا۔۔۔

” ایک منٹ ۔۔۔ !!”

وه اسے رکنے کا کہتے جلدی سے بیڈ کے پاس جاتا شرٹ پہننے لگا۔۔۔

اس کے بے حد قریب آ کر بھاری آواز میں سرگوشی کرنے پر وه آنکھیں میچتی وہیں جم گئی۔۔۔

اس کا دل کررہا تھا کہ یہاں سے بھاگ جائے لیکن قدموں نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔

اہم ۔۔۔ !!

وه کھنکار کر اسے فرصت سے دیکھنے لگا جو ڈھیلی سے سفید ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں بالوں کا رف جوڑا بنائے سیدھا اپنے دل میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

“تم ۔۔اس۔۔ وقت ۔۔میرے ۔۔کمرے۔۔ میں ۔۔۔”

وه ٹھہر ٹھہر کر بولا۔۔۔

“ہیر اب آ ہی گئی ہے تو کر لے بات ۔۔۔۔” وه دل میں سوچتی جی کڑا کر کے اسکی طرف پلٹی۔۔۔

گیلے بکھرے بالوں میں اسکی طرف دیکھتا وه اسکا دل دھڑکا گیا۔۔۔

وه میں نے بات کرنی تھی آپ سے۔۔۔!

وه سنجیدگی سے بولی۔۔۔

“ہاں کرو!!”

وه اس سے ذرا فاصلے پر آتا بولا۔۔۔

“آپ اس شادی سے انکار کر دیں ۔۔۔” وه اس سے نظریں چرا کر بولی۔۔۔

کیوں کروں انکار ۔۔۔ ؟؟

وه ٹراؤزر کی جیب میں ہاتھ ڈالتا اس کے چہرے پر نظریں جماتا سوال کر گیا۔۔۔

کیوں کہ پروفیسر باریس میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔

وه اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر مظبوط لہجے میں بولی۔۔۔

باریس نے ایک پل کے لئے اسکی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اچانک اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے اپنے قریب کر گیا۔۔۔

” لیکن میں تو کرنا چاہتا ہوں تم سے شادی۔۔۔”

وه بھاری لہجے میں بولتا اسکی جان هلكان کر گیا۔۔۔

لیکن پہلے بھی تو انکار کیا تھا نہ آپ نے،،، تب بھی یہی ہیر تھی۔۔۔

وه اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دونوں کے مابین فاصلہ کر گئی۔۔۔

پہلے کی بات بھول جاؤ،،، فضول کی باتیں چھوڑ کر بس میرے بارے میں سوچا کرو کیوں کہ تمهاری شادی تو تمہارے اس کھڑوس پروفیسر سے ہی ہوگی۔۔۔

اور ہاں آئندہ رات کے اس پہر میرے کمرے میں نہ آنا۔۔۔ بندہ بشر ہوں ۔۔۔ خطا سر زد ہو سکتی ہے۔۔۔

وه بھاری لہجے میں بولتا اس سے فاصلہ قائم کر گیا۔۔۔

ہیر لہو چھلکاتے چہرے کے ساتھ بجلی کی سپیڈ سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

آج پھر تو پھس گئی ہیر ۔۔۔ !! وه اپنے کمرے میں آ کر خودکلامی کرتی ہوئی بیڈ پر گر گئی۔۔۔

ہائے او ربا کتھے پهس گئی ہیر ۔۔۔ !!!

چاندنی او میری چاندنی ۔۔۔ !!!

موسیٰ نے ربیعہ کو عجلت میں اپنے کمرے کے سامنے سے گزرتے پایا تو جلدی سے اسکے سامنے آتا اسکا راستہ روک گیا۔۔۔

وه سفید کرتے پاجامے پر سکن واسکٹ پہنے ہوئے شرارت بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

موسیٰ پیچھے ہٹو ۔۔۔ مجھے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔

اسے ایک جگہ جما دیکھ کر وه دانت پیس کر بولی۔۔۔

ہیر کے کمرے میں بیوٹیشن اسکا انتظار کررہی تھی۔۔۔ وه بلقیس کے بلاوے پر ان کی بات سننے گئی تھی۔۔۔ وقت نکلا جا رہا تھا ۔۔۔ وه پہلے ہی لیٹ ہورہی تھی اوپر سے موسیٰ نے اسکا راستہ روک کر اسے مزید کوفت زدہ کر دیا تھا۔۔۔

آ ہاں ۔۔۔ !! جاؤ جاؤ پور پور سجو آج میرے لئے،،، آج تو بنتا ہے ۔۔۔

وه اسکے سراپے پر گہری نظر ڈال کر پیچھے ہٹا تو وه سرخ چہرے کے ساتھ ہیر کے کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔

تم ابھی تک تیار نہیں ہوئے ۔۔۔۔؟؟ باریس نے اسے کمرے کے باہر بکھرے بالوں کے ساتھ کھڑا دیکھا تو تیوری چڑھاتا پوچھ بیٹھا۔۔۔

بس تقریباً ہو چکا ۔۔۔۔ ویسے آپ کافی کول لگ رہے ہیں ۔۔۔

اس نے باریس کو سر تا پیر دیکھا جو مہرون شلوار کرتے میں بالوں کو جیل سے سیٹ کیے بے حد وجیہہ لگ رہا تھا۔۔۔

اس نے بلیك چیک واسکٹ کرتے کے اوپر پہن رکھی تھی جب کہ بازو حسبِ عادت کہنیوں تک موڑ رکھے تھے جس سے اسکے مظبوط بازو نماياں ہو رہے تھے ۔۔۔

اس نے اس سوٹ کا انتخاب ہیر کے مہرون جوڑے کو دیکھ کر کیا تھا جبکہ موسیٰ اور ربیعہ نے وہائٹ ڈریس پہننے کو ترجیح دی تھی۔۔۔ اوینا نے میرون ڈل گولڈن شرارے کا انتخاب شہریار کو بے خبر رکھ کر کیا تھا۔۔۔

موسیٰ کے اندر جاتے ہی وه لان کی طرف چلا گیا جہاں نکاح کی تقریب کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔

پورے “عالم ولا” کو کسی نئی نویلی دلہن کی طرح سجايا گیا تھا۔۔۔ سرخ و سفید پھولوں کی مسحور کن مہک ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔

روشنیوں میں نہائے عالم ولا کی آج چھب ہی نرالی تھی۔۔۔ سب مرد حاضرات انتظامات دیکھنے میں لگے تھے جب کہ عورتوں کی تیاری مکمل ہونے میں نہیں آرہی تھی۔۔۔

سیاہ شلوار قمیض میں سبكتگین عالم نے اپنے کمرے میں جھانکا جہاں معصومہ بی سنگهار میز کے سامنے بیٹھیں تھیں۔۔۔

انہوں نے گولڈن غرارہ شرٹ پہن رکھی تھی جبکہ بالوں میں موتیے کے پھولوں کی لڑیاں لٹک رہی تھیں۔۔۔۔

ہونٹوں پر سرخ لپ سٹک لگائے وه آنکھوں پر احتیاط سے مسكارا لگا رہی تھیں۔۔۔۔

تیرا سنگهار ابھی مکمل نہیں ہوا معصومہ ۔۔۔ ؟؟ ایسا لگ رہا ہے کڑیوں کا نہیں تیرا ویاہ ہے ۔۔۔

وه ان کے سر پر پہنچ کر بولے۔۔۔

دیکھو سبکتگین صاحب آج میرا موڈ بہت اچھا ہے ۔۔۔ اسے خراب نہ ہی کرو تو بہتر ہے ۔۔۔ اور میرے سنگهار پر بات نہ کیا کرو جی ابھی میری عمر ہی کیا ہے ۔۔۔

وه نیل پالش لگے ناخنوں پر پھونک مار کر بولیں تو وه نفی میں سر ہلا کر باہر چلے گئے ۔۔۔

“نی بلقیس۔۔؟؟ ٹیم نکلا جا رہا ہے مہمان بس آنے والے ہیں ۔۔۔ جا کڑیوں کو دیکھ تیار ہوئیں یا نہیں ۔۔۔ میری تو آج مت ہی وج گئی ہے ۔۔۔ اس چھنو باندری کو میں نے ایک کام کہا تھا وه بھی نہیں ہوا اس سے ۔۔۔”

پرپل جھلملاتے لباس میں بالوں میں پرانده ڈالے وه سر پر ہاتھ مار کر بلقیس سے مخاطب ہوئیں جو گرے کامدار سوٹ میں تیار کسی کام سے کچن کی جانب جا رہی تھیں۔۔۔

درخشاں بھابھی گئی ہیں انہیں دیکھنے میں ذرا کچن دیکھ لوں ۔۔۔ دونوں عجلت میں اپنے اپنے راستے ہو لیں۔۔۔

وینا یہ ٹک ہی نہیں رہا ۔۔۔

ہیر مہرون بھاری لہنگے میں ملبوس کوفت ذدہ سی بولی ۔۔۔

کمر تک آتی مہرون كامدار کرتی کے ساتھ بھاری مہرون لہنگا اس پر بے حد جچا تھا ۔۔۔

بیوٹیشن تینوں کو تیار کر کے جا چکی تھی۔۔۔۔ اوینا مہرون ڈل گولڈن شرارے سوٹ میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ اس نے ماتھے پر ٹیکا لگا کر ایک طرف سے بال آگے ڈال رکھے تھے جبکہ ربیعہ وائٹ شرارے شرٹ میں ملبوس بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔۔ اس نے سرخ گلابوں کے گجرے ہاتھوں میں پہن رکھے تھے۔۔۔

وه آئینے کے سامنے کھڑیں اپنے سراپے پر تفصیلی نظر ڈال رہی تھیں کہ ہیر کی کوفت زدہ آواز سن کر پلٹیں ۔۔۔۔

مہرون لہنگے میں مہرون کامدار دوپٹہ سر پر سیٹ کیے جس سے دو گھنگھریالی لٹیں نکل کر چہرے کے اطراف میں جلوہ گر تھیں۔۔۔

مہرون لپسٹک سے سجے ہونٹ اور ناک میں پہنی نوز پن ۔۔۔

ماشاءالله ۔۔۔!!! آج تو بھائی گئے ۔۔۔

اوینا اسے دیکھ کر بے ساختہ کہہ گئی۔۔۔۔

ہیر کا چہرہ پل میں سرخ ہوا ۔۔۔

تم اپنے بھائی کی فکر چھوڑو اپنے شہریار کی فکر کرو جو آج تمہیں بلکل نہیں بخشنے والا ۔۔۔

ہیر کے تپ کر کہنے پر ربیعہ نے مسکراہٹ دبائی ۔۔۔۔

تم کس خوشی میں ہس رہی ہو تم پر بھی ۔۔۔۔۔

ربیعہ نے اوینا کی بات کاٹ دی۔۔۔

بس بس مجھے کیوں گھسیٹ رہے ہو اس سب میں ۔۔۔ حد ہوتی ہے ۔۔۔

وه اپنے پاؤں میں نازک سی ہیل پہنتے ہوئے بولی۔۔۔

ہیر بڑبڑا کر اپنا لہنگا ٹھیک کرنے لگی۔۔۔

تقریباً سب مہمان آ چکے تھے ۔۔۔۔ برقی قمقوں سے جگمگاتے لان میں پیر دھرنے کی جگہ نہ تھی ۔۔۔ لان کھچا کھچ مہمانوں سے بھر چکا تھا ۔۔۔ اب بس شہریار کی فیملی کا انتظار تھا۔۔۔

دروازے کے باہر شور اٹھا تو درخشاں شاہانہ بلقیس اور معصومہ بی ان کے استقبال کے لئے دروازے کی سمت بڑھیں۔۔۔

جہاں سبكتگین عالم ، عباد عالم ، ابراھیم عالم اور وہاج عالم پہلے سے کھڑے آنے والے مرد حضرات سے گلے مل رہے تھے ۔۔۔

انہوں نے خواتین کا ویلکم کیا اور اپنے ساتھ لیے مخصوص نشستوں کی طرف بڑھیں ۔۔۔

تینوں دلہے سٹیج پر پوری شان سے براجمان ہو چکے تھے ۔۔۔

اپنے کمرے کی بالكنی سے نیچے لان میں جھانکتی اوینا کی نظر شہريار پر پڑی تو اسکی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں ۔۔۔

ڈل گولڈن کرتے پاجامے کے ساتھ مہرون مردانہ شال دونوں کندھوں پر ڈالے وه بے حد وجیہہ لگ رہا تھا۔۔۔

وه جلدی سے پیچھے ہٹ گئی مبادا وه اسے دیکھ نہ لے ۔۔۔۔

کچھ ہی دیر بعد تینوں دلہنیں چند لڑکیوں کے جھرمٹ میں لان کی طرف آتی دکھائی دیں۔۔۔

باریس ، شہریار اور موسیٰ کی نظریں اپنی اپنی دلہنوں پر جم کر رہ گئیں۔۔۔۔ دور بیٹھی رجا نے تلخی سے ہنس کر سر جھٹکا ۔۔۔

تینوں دلہنوں کو سٹیج کے دوسری طرف بٹھا دیا گیا ۔۔۔ درمیان میں پردہ حائل کر دیا گیا تھا ۔۔۔

مولوی نے باری باری تینوں کا نکاح پڑھایا ۔۔۔ نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے تینوں دلہنوں کے خیالات کچھ یوں تھے ۔۔۔

اوینا : “ہو لو جتنا خوش ہونا ہے ۔۔۔ بعد میں پچھتاتے پھرو گے کس بلا سے پالا پڑا ہے تمہارا۔۔۔”

ربیعہ : “تمہاری بتیسی تو میں اندر کروں گی ۔۔۔ جس قدر تم نے مجھے تنگ کیا ہے گن گن کر بدلے لوں گی ۔۔۔”

ہیر : “اپنی من مانی تو کرلی آپ نے پروفیسر صاحب لیکن میں نے بھی آپ کو ناکوں چنے نہ چبوائے تو میرا نام بھی ہیر نہیں ۔۔۔۔”

نکاح کے بعد مبارک سلامت کا شور چلا ۔۔۔ خوب ڈھول پیٹے گئے ۔۔۔ آج دولت اندھا دھند لٹائی جا رہی تھی۔۔۔ عالم ولا کے مكین خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔۔۔

تیزی سے گزرتے وقت کا حساب کرتے عباد عالم نے ویٹرز کو کھانا سرو کرنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔

کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو چاروں سو پھیل گئی۔۔۔ ہیر کی سوئی ہوئی بھوک جاگ گئی البتہ باقی دونوں کی بھوک آنے والے وقت کا تصور کرتے ہی مر گئی تھی ۔۔۔

ہیر نے ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو باریس اسی کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔

“مجھے علم نہیں تھا آپ اس قدر بے شرم ہیں پروفیسر کیسے سب کے سامنے دیدے پھاڑ کر گھور رہے ہیں۔۔۔”

وه دل میں ہی سوچ سکی۔۔۔۔

نکاح کے بعد درمیان سے پرده ہٹا دیا گیا تھا۔۔۔۔ اس لئے وه باآسانی ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔۔۔

بھوک سے اس کے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے۔۔۔۔ “بھاڑ میں جائیں سب ۔۔۔ میں تو ضرور کھاؤں گی ۔۔۔”

اس نے سامنے پڑی ٹیبل سے پلیٹ پکڑی اور اس میں سیلَڈ ڈال کر پورے اعتماد سے کھانے لگی۔۔۔

اوینا حیرت سے دیدے پھاڑے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

“ادھر ٹینشن سے میری بھوک مر گئی ہے اور تو مزے سے سیلڈ ٹھونس رہی ہے بھوکی ۔۔۔”

وه دانت پیس کر بولی۔۔۔

ہیر نے اچانک اپنے منہ کی طرف جاتا ہاتھ اسکے آگے کر دیا ۔۔۔۔

” یہ لے کھا لے تو بھی ۔۔۔ نہیں کھا لے۔۔ لیکن میرے کھانے کو نظر نہ لگا چڑیل ۔۔۔”

وه زبردستی سیلڈ سے بھرا چمچ اسکے منہ میں ڈال گئی۔۔۔

باریس نے اپنی انوکھی دلہن کو دیکھ کر مسكراہٹ دبائی۔۔۔

اہم کچھ لوگ بڑا مسکرا رہے ہیں ۔۔۔!

موسیٰ نے باریس کے مسكرانے پر چوٹ کی ۔۔۔

تو بھی مسکرا لے ۔۔۔ تُو تو ایسے دبك کر بیٹھا ہے جیسے رخصتی اسکی نہیں تیری ہونی ہے ۔۔۔

شہریار کی بات پر باریس کا زبردست قہقہہ چھوٹا۔۔

“ہیں یہ ہستے بھی ہیں ۔۔۔”

ہیر نے اسے مسلسل ہسنے سے آنکھوں سے نکلتے پانی کو صاف کرتے دیکھ کر سوچا۔۔۔

کھانے کے بعد رخصتی کا وقت آیا ۔۔۔ عالم ولا کے سب بڑے سٹیج کے پاس جمع ہو گئے ۔۔۔

ہیر اور ربیعہ قدرے ریلیکس تھیں کیوں کہ انہوں نے محض ایک کمرے سے دوسرے میں جانا تھا جب کہ اوینا کا دل اداس ہورہا تھا جسے دور بیٹھا شہریار بھی محسوس کررہا تھا ۔۔۔

وه سب سٹیج پر چڑھے ہی تھے کہ فائر کی آواز گونجی۔۔۔

مجمع کو سانپ سونگھ گیا ۔۔۔۔

دس بارہ لوگوں کا ایک گروہ جو شکل سے ہی بدمعاش لگتے تھے فائر کرتے ہوئے عالم ولا کے لان میں آ کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔

” خبردار کسی نے ہلنے کی کوشش بھی کی تو۔۔۔”

ان کا سربراہ ہاتھ میں گن پکڑے داڑھا ۔۔۔۔

“ایک بار پھر بولو مزہ نہیں آیا ۔۔۔”

ہیر ذرا زور سے بولی تو سب نے دہل کر اسکی جانب دیکھا ۔۔۔۔

تم تو چپ کرو ۔۔۔!

باریس تیوری چڑھائے اس کے پاس آنے لگا تو گن والے آدمی نے اسے وہیں رکنے کا اشارہ کیا ۔۔۔

باس! یہ لڑکی بڑی چالاک لگتی ہے مجھے ۔۔۔

اس کا ایک ساتھ اس کے پاس آتا بولا تو عالم ولا کے مکینوں نے پریشانی سے ہیر کو دیکھا ۔۔۔

“اے کڑی نہیں بعض آ سکدی۔۔۔”

شاہانہ نے اپنا ماتھا پیٹ لیا۔۔۔

” تجھ پر جو گئی ہے ۔۔۔۔”

معصومہ بی نے تنک کر کہا۔۔۔

بس اب آپ دونوں نہ شروع ہو جانا یہاں ۔۔۔

درخشاں نے انہیں لڑنے کے لیے تیار دیکھ کر ٹوک دیا ۔۔۔۔

تم ۔۔ ہاں تم ادھر آؤ ۔۔۔۔!!

غنڈے کے اشارے پر ہیر نے ناسمجھی سے اسے دیکھا ۔۔۔۔

کون میں ۔۔۔ ؟؟ یا یہ ۔۔۔ ؟؟

اس نے ساتھ کھڑی اوینا کی جانب اشارہ کیا ۔۔۔

ہاں تم ۔۔۔ جلدی نیچے اترو ۔۔۔

وه غصے سے بولا ۔۔۔

سب بے چین ہو گئے ۔۔۔۔

کون ۔۔ ؟ یہ ۔۔۔ ؟؟

اس نے سٹیج سے نیچے کھڑی ایک آنٹی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔

ابھے بہری ہے کیا تجھے کہہ رہا ہوں ۔۔۔ وه تپ کر بولا تو ہیر کی تیوری چڑھی۔۔۔

وه دهپ سے سٹیج سے نیچے اتری۔۔۔

باریس بھی اسکے پیچھے جانے لگا لیکن شہریار نے اسے روک دیا۔۔۔

ابھی نہیں ۔۔۔ وه کچھ سوچ کر ہی ایسا کر رہی ہے ۔۔۔ کتنے لوگوں کی زندگی کا سوال ہے ۔۔۔ ہوش

سے کام لو ۔۔۔

وه مٹھیاں بھینچ کر خود پر ضبط کرنے لگا ۔۔۔

ابراھیم عالم نے بے چینی سے ہیر کو دیکھا ۔۔۔

“ہاں بول اب ۔۔۔”

وه لہنگا دونوں ہاتھوں سے بمشکل سنبهالتی اس کے منہ پر داڑھی۔۔۔

وه ایک قدم پیچھے ہٹ کر حیرت سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔

بول نہ اب ۔۔۔!!

وه مزید اک قدم اسکی جانب بڑھاتی تیکھے لہجے میں بولی۔۔۔

موسیٰ اور اوینا کے چہروں پر مسکراہٹ ابھری۔۔۔

باس بول نہ ۔۔۔ !

اس کے ایک ساتھی نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔

ابھے ڈائلاگ بھول گیا ہوں ۔۔۔

وه دانت پیس کر بولا ۔۔۔

اے زیاده شانی نہ بن ۔۔۔ گھر میں جتنا بھی مال ہے لے کر آؤ چلو نہیں تو اسکی کھوپڑی اڑا دوں گا ۔۔۔۔

وه ہیر کے سر پر گن رکھ کر بولا تو عالم ولا کے مكین دہل گئے ۔۔

میں لے کر آتا ہوں پلیز میری بیٹی کو کچھ نہ کہنا ۔۔۔

ابراھیم عالم گھبرا کر بولے تو وه اپنی كاميابی پر مسکراتا پیلے دانتوں کی نمائش کرنے لگا ۔۔۔

ہیر نے اسے اشارہ کیا ۔۔

وه ذرا نیچے جھکا ۔۔۔

تم نے کبھی برش نہیں کیا؟؟ کتنے گندے دانت ہیں تمہارے ، چھی !!!

وه منہ بنا کر بولی ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وه کچھ کہتا ہیر نے اپنے لہنگے کے ساتھ لگی سیفٹی پن اتاری اور اسکے چہرے میں گھسا دی ۔۔۔

” آہ !!! “

اس نے پسٹل والا ہاتھ نیچے کیا تو ہیر نے اسے دھکا دیا جس سے گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری ۔۔۔

بھاگو !! وه لهنگا پکڑ کر دوڑتی ہوئی چیخی تو لان میں افراتفری مچ گئی۔۔۔

سب ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔۔۔

موسیٰ نے ربیعہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر لان کے پچھلے حصے کی طرف بھاگا ۔۔۔

راستے میں ایک غنڈے نے ان کا راستہ روکا تو ربیعہ نے اپنا ہیل والا جوتا اتار کر اسے دے مارا ۔۔۔ مر جاؤ منحوس ۔۔۔

شدید دهكم پیل میں باریس اور شہریار مل کر سب گھر والوں کو اندر بھیج رہے تھے۔۔۔

ہیر لہنگا پکڑ کر بھاگتی ہوئی اوینا کے پاس پہنچی ۔۔۔

ایک غنڈہ ہیر کی پیٹھ پر وار کرنے لگا تو اوینا نے پھرتی سے پاس پڑی کرسی اٹھا کر اس کے سر میں دے ماری۔۔۔

چل یہاں سے ۔۔۔ باقی سب کہاں ہیں ۔۔۔ ؟؟

ہیر اور اوینا ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اپنا بچاؤ کرتیں باقییوں کو تلاشنے لگیں ۔۔

اے بڑھیا ۔۔۔ کدھر بھاگ رہی ہے ۔۔۔؟؟

غنڈوں کا سربراہ معصومہ بی کے سامنے آتا ہوا بولا ۔۔۔

وه جو ایک ہاتھ سے شرارہ تھام کر وہاں سے نکل رہی تھیں خود کو بڑھیا کہنے پر یک دم مڑیں اور پوری قوت سے الٹے ہاتھ کا تمانچہ اس کے منہ پر دے مارا۔۔۔۔

“بڑھیا ہوگی تیری ماں ۔۔۔”

مزید اسے ایک لات رسید کر کے وه شرارہ پکڑ کر وہاں سے نکل گئیں۔۔۔

اچانک تین چار غنڈوں نے ہیر اور اوینا کو نرغے میں لے لیا ۔۔۔

اب بچ کر دکھاؤ ہمیں تم دونوں ۔۔۔۔ بڑا خون جوش مار رہا تھا سالیوں کا ۔۔۔۔ اب تم دونوں کو تمہاری ماں تو کیا باپ بھی نہیں بچا سکتا ۔۔۔۔

وه چاروں ہسنے لگے ۔۔۔۔

کسی گینڈے کی اولاد ان کی ماں ہی کافی ہے تیرے جیسے پاٹے ہوئے بھینسوں کو ۔۔۔

شاہانہ نے پیچھے سے اسکی گردن پر کراری سی چپیڑ لگاتے پاس پڑے ٹیبل سے برتن اٹھا کر ان پر برسانے شروع کر دیے ۔۔۔

ہیر نے موقع دیکھ کر لهنگا اٹھاتے ایک لات سامنے والے کو دے ماری جس سے وه منہ کے بل زمین پر گرا ۔۔۔۔

اتنے میں پولیس کے سائرن کی آواز آئی۔۔۔ ساتھ ہی باریس اور شہریار چند پولیس آفیسرز کے ساتھ اس جانب آتے دکھائی دیے ۔۔۔۔

سب غنڈوں کو گرفتار کر کے پولیس جا چکی تو عالم ولا کے مكین اور شہریار کی فیملی اندر بڑے صحن میں بیٹھے ابھی پیش آئے واقعے پر بحث کر رہے تھے۔۔۔۔

موسیٰ ربیعہ کا ہاتھ تھامے سلگتا ہوا لان میں آیا جہاں شهریار اوینا ہیر اور باریس پہلے سے کھڑے تھے۔۔۔

یار یہ کیا بات ہوئی آج ہماری گولڈن نائٹ ہے اور گھر والوں کو کچھ احساس ہی نہیں۔۔۔

وه تپ کر بولا ۔۔۔۔

اہم ویسے مجھے بھی رخصتی کینسل ہوتی نظر آ رہی ہے ۔۔۔۔

شہریار اوینا کو دیکھ کر بولا تو وه گھبرا کر چہرہ موڑ گئی۔۔۔۔

گائیز ایک اہم خبر ہے ۔۔۔ سب بڑوں نے فیصلہ کیا ہے کہ رخصتی اگلے ہفتے ہو گی۔۔۔

موسیٰ نے اپنا ایک خبری اندر کام پر لگا دیا تھا تا کہ جو بھی بات ہو انھیں علم ہو جائے ۔۔۔ وه انہیں خبر دے کر اندر بھاگ گیا۔۔۔۔

کیوں کہ معصومہ بی باہر آتی دکھائی دے رہی تھیں۔۔۔۔

ہیر کی آنکھیں شرارت سے چمکیں ۔۔۔۔

ہم بھاگ جاتے ہیں ۔۔۔ کیوں پروفیسر ۔۔۔ ؟؟

اسے جیسے سوچ کر ہی مزا آیا تھا ۔۔۔۔

باریس نے اسے اپنی طرف شرارت سے مسکراتے دیکھا ۔۔۔۔

او سب باہر کیا کر رہے ہو اندر چلو ۔۔۔

معصومہ بی شرارہ سنبهالتیں لان کی سیڑھیاں اترنے لگیں۔۔۔

باریس نے ہیر کا ہاتھ پکڑ کر چند لمحے اسے مسکراتی نظروں سے دیکھا ۔۔۔

اچانک اس نے ہیر کے ہاتھ پر گرفت مظبوط کرتے دوڑ لگا دی۔۔۔

“بھاگو ۔۔ !!!”

اسکی دیکھا دیکھی باقی دونوں جوڑے بھی کھلکھلاتے ہوئے ان کے پیچھے بھاگے۔۔۔۔