Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kithe Phas Gayi Heer Episode 2

Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan

اسلام آباد کے پوش علاقے میں واقعہ “عالم وِلا” اپنی مثال آپ تھا۔۔ وسیع رقبے پر پھیلا یہ محل راہگزروں کو ایک دفعہ رک کر دیکھنے پر مجبور کر دیتا تھا۔۔ “نیوی بلیو ٹائلوں” سے مزين جدید طرز پر تعمیر یہ محل تو اپنی مثال آپ تھا ہی لیکن یہاں کے مكینوں کی شہرت بھی دور دور تک پھیلی ہوئی تھی ۔۔

یہاں کے سربراه “سبکتگین عالم” ہیں جنہوں نے اپنے والد “شاہ ظفر عالم” سے جگھڑا مول لے کر یہ محل اپنی سب سے نرالی چھوئی موئی سی زوجہ محترمہ “معصومہ” کے لئے بنوایا تھا یہ الگ بات ہے کہ ان کے چھوئی موئی ہونے کا راز شادی کے چند ماہ بعد ہی کھل گیا تھا۔۔

معصومہ نے سبکتگین عالم کی سنگت میں زندگی گزارتے تین خوبصورت بیٹوں کو جنم دیا۔۔ سبكتگین عالم بیٹی کی شدید خواہش کے باوجود اس رحمت سے محروم ہی رہے۔۔

بہرحال انہوں نے اپنے بیٹوں کو زندگی کی ہر آسائش دی آور ساتھ ہی ان کی اچھی تربیت پر خاص توجہ دی۔۔

سب سے بڑے بیٹے عباد عالم ، منجھلے ابراہیم عالم اور چھوٹے وہاج عالم ہیں۔۔ تینوں نے اپنے والدین کا سر ہمیشہ فخر سے بلند کیا اور گریجوایشن کے بعد سبكتگین عالم کا بزنس سنبهال لیا جو امپورٹ ایکسپورٹ کا کام کرتے تھے۔۔

بیٹوں کے برسر روزگار ہونے کے بعد انہیں انکی شادی کی فکر ہونے لگی۔۔ سبكتگین عالم نے اپنے جاننے والوں میں تینوں کا رشتہ پکا کر دیا جس پر بیٹوں نے بنا چوں چراں کیے سر تسلیم خم کر دیا۔۔

ایسی دھوم دھام سے ان کی شادی ہوئی کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔۔ عباد عالم صابر اور شکرگزار بیوی درخشاں کو پا کر بہت مطمئن تھے۔۔

معصومہ کو بھی ان کی اچھی صورت کے ساتھ اچھی سیرت پہ قدرے اطمینان ہوا لیکن اس اطمینان کو تہہ و بالا منجھلے بیٹے ابراہیم عالم کی زوجہ “شاہانہ” نے کیا جن کی ساس سے کبھی نہیں بنی۔۔ وجہ دونوں کی کبھی نہ رکنے والی زبان تھی۔۔

یہی وجہ تھی کہ شانتی والے گھر میں اب آئے روز چھوٹی موٹی جنگیں ہوتی رہتی تھیں جن کی زد میں سب آ جاتے تھے۔۔

چھوٹے بیٹے وہاج عالم کی زوجہ بیلقیس ذرا نکچڑی ثابت ہوئی تھیں۔۔ وه زیادہ کسی سے گھلتی ملتی نہیں تھیں البتہ درخشاں کے نرم مزاج کی وجہ سے ان سے تھوڑی بہت لگ جاتی تھی۔۔

درخشاں نے سب سے پہلے ایک انتہائی خوبصورت بیٹے کو جنم دیا جس کی قلقاریوں سے “عالم ولا ” گونجنے لگا تھا۔۔ سبکتگین عالم نے اپنے پوتے کا نام “باریس” رکھا جو پہلا بچہ ہونے کی وجہ سے ہر کسی کی آنکھ کا تارا بن گیا۔۔

اسکے چند ماہ بعد ہی بلقیس نے ایک خوبصورت بیٹی کو جنم دیا جسکا نام باپ کی پسند پر ” رِجا ” رکھا گیا۔۔ شاہانہ کے ہاں ابھی کوئی اولاد نہ ہوئی تھی۔۔ ساس کے طعنوں سے سخت عاجز آ کر وه اپنے میکے چلی گئیں جہاں کچھ عرصہ علاج کے بعد بالاخر انہیں خوشخبری سننے کو ملی۔۔

ابراھیم عالم بیوی کو منتوں سے گھر لے آئے۔۔ جہاں انہیں جیٹھانی درخشاں کے دوبارہ حمل کا پتہ چلا۔۔ ایک ہی وقت پر شاہانہ نے بیٹی کو جنم دیا جب کہ درخشاں کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی۔۔ یوں تینوں بچے ہم عمر تھے۔۔

عباد عالم نے بیٹی کا نام اوینا رکھا جس کا مطلب تھا “نیک اور معصوم” جب کہ معصومہ کی خواہش پر بیٹے کا نام موسیٰ رکھا۔۔

شاہانہ بیٹی کی پیدائش پر پھولے نہ سماتی تھیں۔۔ بڑی بڑی آنکھوں سے سب کو پٹر پٹر دیکھتی اپنی بیٹی کا نام انہوں نے ” ہیر ” رکھا۔۔

وہاج عالم کی بیٹی رِجا کو ننھے مہمانوں کی آمد کچھ پسند نہیں آئی جب کہ ہر کسی سے الگ تھلگ اپنی ذات میں گم رہنے والا باریس چھوٹے چھوٹے بہن بھائی کو پا کر بہت خوش ہوا۔۔

اس نے ہیر کو پکڑ کر پیار کرنا چاہا لیکن اس کے ہاتھوں میں آتے ہی وہ رونے لگی ۔۔ یوں جب بھی وه اس کے سامنے جاتا وہ رونے لگتی۔۔ ایک بار تو اس نے باریس کے چہرے پر ناخن مار دیے جس کے بعد وه اس سے چڑنے لگا تھا۔۔

دو سال بعد بلقیس کے ہاں ربیعہ کی پیدائش ہوئی جو عام بچوں کی نسبت حد سے زیادہ صحت مند تھی۔۔ یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ بلقیس بیگم نے لڈو کی پیدائش کے بعد ہی دم لیا۔۔

یوں اس گھر میں مزید بچوں کی پیدائش پر فل سٹاپ لگ گیا۔۔ یوں زندگی کے سال گزرتے رہے۔۔

باریس نے ماسٹرز کرنے کے بعد اسی یونیورسٹی میں لیکچرار کا عہدہ سنبهالا۔۔ ہیر ، موسیٰ اور اوینا اسی یونی سے اکٹھے گریجوایشن کر رہے تھے۔۔

رِجا کو پڑھائی سے کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی اس لئے انٹر کر کے اس نے پڑھائی کو خیر باد کہہ دیا۔۔ ربیعہ ابھی انٹر کے پہلے سال میں تھی اور وه اپنے موٹاپے کو کم کرنے کی کوشش میں ہلکان تھی۔۔

“ہیر گینگ” جس میں موسیٰ ، اوینا اور ہیر شامل تھے ہر وقت رجا اور ربیعہ سے لڑنے کو تیار رهتے۔۔ ان کی آپس میں کبھی نہی بنی۔۔ وجہ رجا اور ربیعہ کی نک چڑی طبیعت تھی جو انکی ماں پر گئی تھی۔۔

ہیر اٹھ جاؤ ،، یونی کے لئے لیٹ ہو جاؤ گی۔۔ ہیر کے برابر لیٹی اوینا نے ذرا سا اٹھ کر بیٹھی آواز میں اسے اٹھانے کی ناکام کوشش کی جو گدھے گھوڑے سب بیچ کر دنیا جہاں سے بے خبر منہ کھولے سوئی پڑی تھی۔۔

آہ ! اپنے دکھتے سر کو دبا کر وه اٹھ بیٹھی۔۔ بخار سے انگ انگ دکھ رہا تھا۔۔ ہیر کو ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھ کر وه جھجهلا گئی۔۔

سائیڈ ٹیبل پر دھرا جگ اٹھا کر اس نے پورا کا پورا ہیر پر الٹ دیا۔۔

” ہائے امی !! سیلاب آ گیا بچاؤ۔۔” وه ہاتھ پیر مارتی نیند سے بوجھل آنکھوں کو بار بار جهپکنے لگی۔۔

“اٹھ بھی جاؤ منحوس عورت!! امی اتنی دفعہ تمہیں آوازیں دے کر گئی ہیں ۔۔ باہر جا کر پنی تشریف کا ٹوکرا رکھو۔۔ نہیں تو بھاڑ میں جاؤ۔۔”

جلے کٹے انداز میں کہہ کر وه بیڈ پر دراز ہوتی دکھتی آنکھیں موند گئی۔۔

اس کے جلے کٹے انداز پر ہیر نے ناسمجھی سے اسے دیکھا اور کسلمندی سے اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی۔۔

السلام علیکم تائی جان ! ” صبح بخیر ” عجلت میں کچن میں داخل ہو کر اس نے سلام کیا لیکن باریس کو وہاں موجود پا کر اسکا “بخیر” منہ میں ہی رہ گیا۔۔

اسکے چہرے کے تاثرات ایسے ہو گئے جیسے کسی نے کڑوی دوا اس کے منہ میں ڈال دی ہو ۔۔

باریس اس کے تاثرات کو بلکہ “اسے” ہی سرے سے نظرانداز کرتا تسلی سے ناشتہ کرنے لگا۔۔

اٹھ گئی میری بیٹی چلو شاباش جلدی کرو ناشتہ کر لو وقت کم ہے اور اگر شاہانہ یہاں آ گئی نہ تو صبح صبح ہی تمہاری ستھری ہو جانی ہے ۔۔

ہیر جلدی سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھی۔۔ اس نے پراٹھے پر آملیٹ پھیلا کر اسے رول کر لیا اور کیچ اپ کی پيالی قریب كهسكا کر پراٹھا اس سے لگا کر کھانے لگی۔۔ باریس نے اس کی حرکت دیکھ کر آنکھیں گھمائی۔

تائی جان اوینا کیوں نہیں جا رہی آج ۔۔؟ منہ کو تیز تیز چلاتی وه استفسار کرنے لگی۔۔

“اس کو بخار ہوا ہے اس لئے نہی جا رہی اور تم آج باریس کے ساتھ چلی جانا۔”

گرم بهاپ اڑاتی چائے کو پيالی میں ڈال کر وه مصروف سے انداز میں بولیں تو ہیر اچھل ہی پڑی۔۔

کیوں ۔۔کیوں میں کیوں جاؤں کھڑوس کے ساتھ۔۔؟؟ وه اسکے ساتھ جانے کا سن کر تڑپ ہی تو اٹھی تھی۔

باریس نے تند نظروں سے اسے گھورا۔۔

بری بات ہے ہیر ۔۔ بڑا ہے وه تم سے ۔۔ اور آج ڈرائیور چھٹی پر ہے اس لئے باریس کے ساتھ ہی جاؤ گی تم۔ اسے ڈپٹ کر آخر میں وه اسے ڈرائیور کے نا آنے کی وجہ بتانے لگیں۔۔

ہیر اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔۔

“میں باہر پانچ منٹ انتظار کروں گا بس ۔۔ جانا ہوا تو آ جانا۔۔” تیکھی نظروں سے اسے دیکھتے وه گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا۔۔

ہیر جلدی سے کمرے میں دوڑی ۔۔ اپنا بیگ كندھے پر ڈال کر اس نے آئینے کے سامنے رکتے ایک تفصیلی نظر خود پر ڈالی۔۔

کالی شلوار قمیض کے ساتھ کالے ہی جوگرز۔۔ لمبے سیاہ بالوں کو اس نے آج پراندے کی بجائے بلدار چوٹی میں گوند لیا تھا ۔۔ ماتھے پر گرتے بےبی کٹ بالوں کو ٹھیک کرتے اس کے چشمہ صاف کر کے دوبارہ لگایا اور سیاہ دوپٹہ گلے میں ڈال کر وه عجلت میں باہر نکل گئی۔۔

گاڑی میں اس کے ساتھ سفر کرتے اسے رہ رہ کر باریس پر تاؤ آ رہا تھا۔۔ یونیورسٹی پہنچ کر وه فوراً سے پہلے گاڑی سے اتری۔۔

اوٹ پٹانگ فیشن کے اس دور میں وه سب لڑکیوں سے منفرد لگتی تھی۔۔

بلیک ڈریس شرٹ اور بلیک ہی پینٹ میں شرٹ کے بازو کہنیوں تک موڑے وه موبائل پر وقت دیکھتے بےنیازی سے چلتے باریس کے ہمراہ چلتی وه کئی لڑکیوں کی نگاہوں کا مرکز بن گئی۔۔ بعض آنکھوں میں رشک جبکہ بعض آنکھوں میں حسد تھا۔۔

اہم اہم لگتا ہے میچنگ کی ہے لوگوں نے آج!! اپنے پیچھے کسی طالبعلم کی آواز ابھرنے پر وه سرعت سے پیچھے مڑا لیکن اتنے ہجوم میں اس آواز کو پہچاننا ناممكن تھا۔۔

ہیر کی تیوری چڑھی۔۔ وه فوراً قمیض کے بازو موڑتی دائیں بائیں دیکھنے لگی۔۔

” ابھے کون ہے جو صبح صبح ہیر سے اپنا منہ تڑوانا چاہتا ہے۔۔ ابھے کدو کی اولاد دم ہے تو سامنے آ نہ۔۔”

اس سے پہلے وه مزید گوہر افشانی کرتی باریس اسے بازو سے پکڑ کر ہجوم سے پڑے لے آیا۔۔

“مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ہاں ۔۔؟ جہاں دیکھو غنڈہ گردی شروع کر دیتی ہو۔ اتنی چیپ لینگویج سیکھی کہاں سے ہے تم نے۔۔ کوئی شرم ہے تم میں کہ نہیں۔۔؟”

اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے نظروں سے ہی چبا جاتا۔۔ آخر اس کی ایک ریپوٹیشن ہے یہاں جسکا بیڑا غرق کرنے پر وه تلی ہوئی تھی۔۔

ہیر نے دکھ سے اسے دیکھا تو باریس کے تاثرات نرم پڑے۔۔ وه انگلیاں چٹخا کر اس کے قریب ہوتی اسے نیچے جھکنے کا اشارہ کر گئی۔۔ وه گہرا سانس خارج کرتا جھکا۔۔

نہیں !! اسکے کان میں چیختی وه اسے منہ چڑا کر بھاگ گئی۔۔

باریس کان پر ہاتھ رکھے بھونچکا کھڑا رہ گیا۔۔ کیا ڈرامہ ہے یہ لڑکی۔۔۔ اسے تو میں ۔۔۔۔ وه شدید غصہ ضبط کرتا اپنے آفس کی طرف چلا گیا۔۔

اس کے جانے کے بعد گراؤنڈ فلور کی دیوار کے پیچھے چھپے کھڑے ہیر کے کلاس میٹس باہر نکلے۔۔ ہیر ان کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑی۔۔

ہیر یار تمہیں ڈر نہیں لگتا پروفیسر سے ۔۔؟ پوری یونی ان کے غصے سے ڈرتی ہے۔۔ اس کی ایک کلاس میٹ نے کہا تو وه ایک انداز سے مسکرائی۔۔

وه ہیر ہی کیا جو کسی سے ڈر جائے۔۔

” مس ہیر ۔۔۔!!” پروفیسر شمس الدین کی دھاڑ پر اس نے دہل کر پیچھے دیکھا جو ہاتھ میں ایک پوسٹر پکڑے کھڑے تھے جس میں انکی تصویر کو بڑے مزاحیہ انداز میں بنا کر نیچے ان کا نام لکھا ہوا تھا اور پوری یونی جانتی تھی کہ ایسی حرکت ہیر دی گریٹ کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔۔

“شرم آنی چاہیے آپ کو ۔۔ آفس آئیں میرے ساتھ۔۔ آج تو آپ کے گھر کال کر کے آپ کی حرکتوں کا ضرور بتاؤں گا۔۔ “

غیض و غضب سے اسے دیکھتے وه دهاڑے تو ہیر نے رونی صورت بنائی۔۔

مريل قدموں سے ان کے پیچھے چلتی وہ ارد گرد موجود طالب علموں کو دیکھتی نا نظر آنے والے آنسو پونچھنے لگی۔۔

” ہائے او ربا کتھے پهس گئی ہیر ۔۔۔!! “

مے آئی کم ان سر ۔۔!!

ہیر جو آفس میں منہ بسور کر کھڑی تھی نے آواز پر آنے والے کو دیکھا تو اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔

آئیے آئیے آپ کا ہی انتظار تھا آپ ہیر کے بھائی ہیں ۔۔۔؟

پروفیسر شمس الدین ہیر کو ایک نظر دیکھ کر بولے۔۔

“جی جی میں ہیر کا بھائی ہوں۔۔”

آنے والے نے نا محسوس انداز میں داڑھی پر ہاتھ رکھا اور مطمئن ہو کر کرسی پر بیٹھ گیا۔۔

“معذرت چاہتا ہوں آپ کو زحمت دینی پڑی لیکن آپ کی بہن کی حرکتیں ہی کچھ ایسی ہیں۔۔ ساری یونیورسٹی کو پریشان کر کے رکھا ہے۔۔ یہ دیکھیں آج کیا حرکت کی ہے اس نالائق نے۔”

انہوں نے وہ پوسٹر نووارد کے سامنے میز پر رکھا تو اس نے ہنسی چھپانے کو منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔

اہم ! بہت غلط حرکت کی ہے ہیر نے۔۔ استاد کی عزت کرنی چاہیے۔۔ میں گھر جا کر اپنے والدین کو بھی مطلع کرتا ہوں،، آپ بے فکر رہیں آئندہ ایسی حرکت نہیں کرے گی۔۔

اسکی بات سن کر پروفیسر شمس الدین خوش ہو ہو گئے۔۔

” بہت اچھا لگا آپ سے مل کر ،، آپ تو خاصے سمجھدار ہیں۔۔ “

ان سے مصافحہ کر کے وہ ہیر کو اشارہ کر کے باہر نکل گیا۔۔

ہیر بھی بیگ اٹھا کر اسکے پیچھے بھاگی۔۔ گراؤنڈ میں آ کر اس نے دم لیا جہاں وه نوجوان اپنی نقلی داڑھی مونچھیں اتار رہا تھا۔۔

ہاہاہاہاہا!! دونوں کی کب سے رکی ہنسی سارے بند توڑ کر جو چھوٹی تو پاس موجود طالب علموں کو دہلا گئی۔۔

موسیٰ یاااااررر بلکل صحیح وقت پر آئے ہو تم ۔۔ تھینک یو بڈی لیکن تمھیں پتہ کیسے چلا۔۔؟

وه دهپ سے گھاس پر اس کے برابر بیٹھتی بیگ سے لیز کا پیكٹ نکال کر لیز کھانے لگی۔۔

بھوکی صلح بھی مار لو۔۔ وه اسکے ہاتھ سے پیکٹ جهپٹ کر ایک ساتھ ساری لیز منہ میں ڈال گیا۔۔

” ہا !! ندیدے ساری لیز کھا گئے۔۔” ہیر نے اٹھ کر اسکے بھرے ہوئے منہ پر ایک چمانٹ رسید کی۔۔

اوینا کی دوست سے پتہ چلا تھا کہ ہیر بی بی بری طرح پهس گئی ہیں۔۔ پھر کیا تھا میں نے دماغ لڑایا اور پروفیسر کو کام کے بہانے بلا کر ان کے آفس سے موبائل پکڑا اور گھر والوں کہ نمبر ڈیلیٹ کر کے اپنا نمبر سیو کر لیا۔۔ اب لمبے عرصے کے لئے مطمئن رہو تم ۔۔

وه دونوں ہاتھ سر کے پیچھے ٹکاتا مسکرا کر گویا ہوا تو ہیر نے خوشی سے ایک جھانپڑ ای گردن پر مارا۔۔

واہ یار زندگی میں پہلی بار کوئی اچھا کام کیا ہے تم نے۔۔

موسیٰ نے سلگ کر اسے دیکھا۔ “یہ تھپڑ کس خوشی میں مارا ہے تم نے ۔۔؟”

چل یار ۔۔ !!! چلو اٹھو اب کیا سارا دن یہیں پڑے رہنے کا ارادہ ہے۔۔ تمہارے کھڑوس بھائی کا لیکچر ہے۔۔ اگر نہ اٹینڈ کیا تو انہوں نے کچا ہی چبا جانا ہے آج۔۔ بیگ کندھے پر ڈال کر وہ دونوں دوڑتے ہوئے گراؤنڈ سے نکل گئے۔۔

اتوار کے دن صبح کا وقت تھا۔۔ رِجا منہ پر ماسک لگائے کمرے سے نکلی۔۔ ہاتھ میں پانی کی بوتل تھامے اس نے کچن کا رخ کیا۔۔ ابھی وه کچن کے دروازے پر پہنچی ہی تھی کہ باریس لان کی طرف جاتا نظر آیا۔۔

وه جلدی سے پانی کی بوتل کچن میں رکھتی منہ سے ماسک اتار کر اسکے پیچھے گئی۔۔

باریس جو ڈھیلی سی ٹی شرٹ ٹراؤزر میں ملبوس ورزش میں مصروف تھا اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر سلگ گیا۔۔

اسے ایک نظر دیکھ کر وہ اسے کمال بے نیازی سے نظرانداز کر گیا۔۔

اسکی ایک نظر پر بھی اسکا دل بلیوں اچھلنے لگا۔۔

ہائے !! اسکے بازو کی ابھری ہوئی نسوں پر نظر ٹکا کر وه گویا ہوئی۔ کیسے ہو۔۔؟

باریس نے اس کی بات کا جواب دینا ضروری نا سمجھا۔۔

مجھے اتنا اگنور کیوں کرتے ہو میں بھی کزن ہوں تمہاری،، اس ہیر کو تو ساتھ لئے پھرتے ہو۔۔ وه غصے سے بولی تو باریس رک کر اس کے مطلب کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔

اسکی بات کا مطلب سمجھ آتے ہی وه طیش سے اٹھا۔۔ “اپنی بکواس بند کرو تم،،، جو تمہارے ارادے ہیں خوب سمجھتا ہوں میں اور ہیر کو کچھ کہنے سے پہلے اپنے آپ پر غور کر لو پہلے وه تم جیسی نہیں ہے۔۔”

اسے کہنی سے پکڑ کر جھٹکتے وه اسکے منہ پر دھاڑا۔

ارے ارے کیا ہورہا ہے یہاں۔۔!! اوینا نے ہیر کے ساتھ انٹری ماری تو وه پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔۔

تم نا دور رہا کرو میرے بھائی سے تمہیں پہلے بھی کہا تھا میں نے۔۔ اوینا غصے سے بولی۔۔

رِجا اپنی اتنی بے عزتی پر پیر پٹخ کر وہاں سے چلی گئی۔۔

بھائی ایک جهانپڑ لگانا تھا اس چھپکلی کو۔۔ نہایت زہر لگتی ہے مجھے یہ۔۔

اوینا کو باریس سے ہمكلام دیکھ کر ہیر دور ہٹ کر لان میں لگے پھولوں کو دیکھنے لگی۔

ہمم لگتا تو ہے آئندہ بعض رہے گی۔۔ باریس ایک نظر ارد گرد سے لاپرواہ ہیر پر ڈال کر بولا تو اوینا نے اسکی وه نظر نوٹ کی۔

تو اچھی کون لگتی ہے پھر تمہیں۔۔؟ وه یونہی بات کرنے کی غرض سے بولا۔۔

وه اسکے ساتھ واک کرتی اسے دیکھنے لگی۔۔اچانک شرارت سے اسکی آنکھیں چمکیں۔۔

” ہیر اچھی لگتی ہے مجھے ۔۔ پھر کیا خیال ہے۔۔؟ ” باریس نے اسے آنکھیں دکھائیں۔

بہت شرارتی ہو گئی ہو۔۔ چلو اندر اور اسے بھی ساتھ لے جاؤ۔۔

داخلی دروازے سے اپنے ایک دوست کو داخل ہوتے دیکھ کر وه اسکی طرف بڑھ گیا۔۔

اوینا نفی میں سر ہلاتی ہیر کی چٹیا کھینچتی اندر بھاگی۔

رک وینا کی بچی ابھی بتاتی ہوں تجھے میں۔۔ وه بھی آندھی طوفان بنی اس کے پیچھے ہی لان سے نکل گئی۔۔