Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan NovelR50480

Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan NovelR50480 Last updated: 2 January 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan

Novel Code: NovelR50480

ہیر نے دکھ سے اسے دیکھا تو باریس کے تاثرات نرم پڑے۔۔ وه انگلیاں چٹخا کر اس کے قریب ہوتی اسے نیچے جھکنے کا اشارہ کر گئی۔۔ وه گہرا سانس خارج کرتا جھکا۔۔
نہیں !! اسکے کان میں چیختی وه اسے منہ چڑا کر بھاگ گئی۔۔
باریس کان پر ہاتھ رکھے بھونچکا کھڑا رہ گیا۔۔ کیا ڈرامہ ہے یہ لڑکی۔۔۔ اسے تو میں ۔۔۔۔ وه شدید غصہ ضبط کرتا اپنے آفس کی طرف چلا گیا۔۔
اس کے جانے کے بعد گراؤنڈ فلور کی دیوار کے پیچھے چھپے کھڑے ہیر کے کلاس میٹس باہر نکلے۔۔ ہیر ان کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑی۔۔
ہیر یار تمہیں ڈر نہیں لگتا پروفیسر سے ۔۔؟ پوری یونی ان کے غصے سے ڈرتی ہے۔۔ اس کی ایک کلاس میٹ نے کہا تو وه ایک انداز سے مسکرائی۔۔
وه ہیر ہی کیا جو کسی سے ڈر جائے۔۔
" مس ہیر ۔۔۔!!" پروفیسر شمس الدین کی دھاڑ پر اس نے دہل کر پیچھے دیکھا جو ہاتھ میں ایک پوسٹر پکڑے کھڑے تھے جس میں انکی تصویر کو بڑے مزاحیہ انداز میں بنا کر نیچے ان کا نام لکھا ہوا تھا اور پوری یونی جانتی تھی کہ ایسی حرکت ہیر دی گریٹ کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔۔
"شرم آنی چاہیے آپ کو ۔۔ آفس آئیں میرے ساتھ۔۔ آج تو آپ کے گھر کال کر کے آپ کی حرکتوں کا ضرور بتاؤں گا۔۔ "
غیض و غضب سے اسے دیکھتے وه دهاڑے تو ہیر نے رونی صورت بنائی۔۔
مريل قدموں سے ان کے پیچھے چلتی وہ ارد گرد موجود طالب علموں کو دیکھتی نا نظر آنے والے آنسو پونچھنے لگی۔۔
" ہائے او ربا کتھے پهس گئی ہیر ۔۔۔!! "