Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan NovelR50480 Kithe Phas Gayi Heer Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Kithe Phas Gayi Heer Episode 6
Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan
باریس تھکا تھکا سا عالم ولا میں داخل ہوا۔۔ یونیورسٹی میں ہیر والا معاملہ بہت مشکل سے رفع دفع ہوا تھا۔۔
مسلسل بحث سے اور کام کے بوجھ کی وجہ سے اسکا سر شدید درد کررہا تھا۔۔ کنپٹی کو دبا کر وه بغیر کسی کی طرف دیکھے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
لیزا جو کب سے اس کا انتظار کررہی تھی اسے دیکھ کر اس کے کمرے میں جانے کے لئے بیتاب ہوئی لیکن شاہانہ کی کڑی نظر خود پر مركوز پا کر سلگتی ہوئی باہر لان میں چلی گئی۔۔
باریس جب فریش ہو کر کھانے وغیرہ سے فارغ ہوا تو سبكتگین عالم ، عباد عالم اور درخشاں کے ساتھ اس کے کمرے میں داخل ہوئے۔۔ انہیں دیکھ کر وه اٹھ کھڑا ہوا۔۔
بیٹھ بیٹھ پتر!! وه تینوں کمرے میں رکھے صوفے پر براجمان ہو گئے۔۔
آپ سب یہاں خیریت تو ہے۔۔ ؟؟ وه سراپا سوال بنا۔۔
ہاں بیٹا سب خیریت ہے۔۔ ابا جی بلکہ گھر کے بڑوں نے سب بچوں کے لیے کچھ فیصلے کیے ہیں۔۔ اسی سلسلے میں تم سے بات کرنے آئے ہیں۔۔
عباد عالم گویا ہوئے۔۔۔ انہیں پورا یقین تھا کہ ان کا بیٹا بڑوں کے فیصلے کی لاج رکھے گا۔۔
وه خاموشی سے انہیں دیکھنے لگا۔۔
بیٹا ماشاءالله سب بچے جوان ہو گئے ہیں تو اب ہمارے خیال سب کو اپنے گھروں کا ہو جانا چاہیے۔۔ یہ کام جتنی جلدی نبٹا لئے جائیں اتنا بہتر ہوتا ہے۔۔ موسیٰ کے لیے ہم نے ربیعہ کا انتخاب کیا ہے۔۔ اپنے گھر کی بچی ہے سمجهدار ہے۔۔۔
“بہت اچھا لگا سن کر ۔۔ مجھے دلی خوشی ہوئی ہے۔۔”
وه مسکرا کر بولا لیکن ان کی اگلی بات سن کر اسکی مسکراہٹ پل میں سمٹی۔۔
“اور ہیر کے لئے تمہارا انتخاب کیا ہے۔۔!!”
کیا ۔۔ ؟؟ وه حق دق سا کہتا کھڑا ہوگیا۔۔
دروازے سے کان لگا کر سنتی ہیر کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔۔ اوینا نے ٹینشن سے ناخن چبانے شروع کر دیے۔۔
اس،،، اس ہیر کے ساتھ میری شادی کرنا چاہتے ہیں اتنا گیا گزرا سمجھا ہے آپ نے مجھے۔ !!
وه ناگواری سے بولا۔۔
باریس ۔۔ !!!
درخشاں نے عباد عالم کے طیش سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ کر باریس کو ڈپٹا۔۔۔
“فار گاڈ سیک ماما ۔۔ میں ہر گز ہیر سے شادی نہیں کروں گا۔۔ مر مر کے پاس ہوتی ہے اور اس کا حلیہ دیکھا ہے آپ نے،، ذرا بھی پہننے اوڑھنے کی سینس نہیں ہے۔۔۔۔ اس نالائق کے لئے میں ہی نظر آیا تھا آپ کو۔۔؟”
بس !!!
سبکتگین عالم نے افسوس بھری نظروں سے اسے دیکھا۔۔
ہیر کی برداشت کی حد تمام ہوئی۔۔ وه بازو چڑھاتی ٹھا کی آواز سے دروازه کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔
“او ہیلو پروفیسر!! ہیر کو سمجھا کیا ہوا ہے آپ نے۔۔ خود اپنے آپ کو دیکھا ہے کبھی،،، انتہا کے کھڑوس اور بد تمیز ہیں آپ،، آپ کیا انکار کریں گے میں خود آپ سے شادی نہیں کروں گی۔۔ آپ سے تو جس کی شادی ہوگی اس کی تو قسمت پھوٹے گی بڑے آئے مجھ میں خامیاں نکالنے والے۔۔”
سبکتگین عالم پر ایک گہری نظر ڈال کر وه تن فن کرتی باہر نکل گئی۔۔
اس ایک نظر نے سبكتگین عالم کے اندر سناٹے بکھیر دیے۔۔ کیسی گلہ کرتی نظر تھی۔۔
اس کے جانے کے بعد وه بھی بغیر کسی کی طرف دیکھے باہر چلے گئے۔۔
درخشاں اور عباد عالم کو خود کو ملامتی نظروں سے دیکھتا پا کر وه غصے سے کمرے سے کیا گھر سے ہی باہر نکل گیا۔۔
ماما ۔۔۔ !!!
ہیر آہستہ سے دروازه دهكیلتی شاہانہ کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
وه ہیر کو صبح صبح اپنے کمرے میں پا کر ذرا حیران ہوئیں۔۔
” پتر تو ابھی تیار نہیں ہوئی یونیورسٹی کے لئے؟؟”
وه اس کے پاس آتیں استفسار کرنے لگیں۔۔۔
وه سر جھکا کر اپنے پیروں کو دیکھنے لگی۔۔
میں اب یونیورسٹی نہیں جاؤں گی!!!
ہیں کیوں نہیں جائے گی تو یہ صبح صبح کیا ہوگیا ہے تجھے ؟؟
وه اسکا چہرہ اونچا کر کے پوچھنے لگیں۔۔
“مم میں ان کا سامنا نہیں کرنا چاہتی” کہتے ساتھ ہی وه پھپھک پھپھک کر رو دی۔۔
سب کے سامنے ہزار وه اپنے آپ کو مظبوط ظاہر کرتی لیکن اندر سے وه بے حد دکھی تھی۔۔
اسے روتے دیکھ کر شاہانہ کا كلیجہ منہ کو آ گیا۔۔ اسے ساتھ لگائے وه بیڈ کی سمت بڑھیں۔۔
اپنے ساتھ بٹھا کر وه اسے سینے سے لگائے اس کا سر تهپکنے لگیں۔۔ باریس کے انکار پر انہیں بھی دکھ پہنچا تھا۔۔ لیکن وه کیا کر سکتی تھیں۔۔ رشتے زبردستی تو نہیں جوڑے جا سکتے۔۔
بس کر میری جان!! ادھر دیکھ،،، ٹھیک ہے تو نہ جا لیکن تیرا تو ایسے سال نہیں ضائع ہو جانا؟؟
وه آنکھیں پونچھتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔
“میں اگزامز میں چلی جاؤں گی ۔۔ باقی میں اپنی تیاری گھر میں ہی کر لوں گی۔۔”
ہمم !! میں تیرے بابا سے بھی بات کر لوں ایک بار۔۔
وه پرسوچ انداز میں بولیں۔۔
ٹھیک ہے!!
وه خود کو نارمل کرتی کمرے سے نکلی۔۔ باہر نکلتے ہی اس کی نظر باریس سے ملی جو یونی کے لئے تیار کھڑا تھا۔۔
اسے نظر انداز کرتی وه اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔
باریس نے سرسری نظر سے اسے دیکھا جو گھر کے عام لباس میں اسکے سامنے سے گزری تھی۔۔
ہیر تو کیوں نہیں جا رہی یونی۔۔۔۔؟؟
اوینا زور سے اسکے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی اس سے پوچھنے لگی۔۔۔
اوینا میں اس وقت کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی پلیز!!!
وه رخ موڑ کر خوامخواہ چیزیں الٹ پلٹ کرنے لگی۔۔
نظریں کیوں چرا رہی ہو مجھ سے یار مت کرو نہ،، تم نے کیوں چھوڑ دی ہے یونی میں تمهارے بغیر کیسے رہوں گی وہاں۔۔ ؟؟
وه اداس نظروں سے اسے دیکھتی سوال کرنے لگی۔۔
ہیر کی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔
” اوینا پلیز ۔۔۔ میں نہیں جانا ۔۔ چاہتی ۔۔ !!”
وه بیڈ کے کنارے ٹکتی اٹک اٹک کر بولی۔۔ بھرا ہوا گلا باہر آنے کو بیتاب تھا۔۔
اوینا اسکے سامنے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھی۔۔
تم بھائی کی وجہ سے نہیں جا رہی نا ۔۔ ؟؟
ہیر کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔۔
“وینا میں اتنی بری تو نہیں ہوں جتنا انہوں نے مجھے بنا دیا۔۔ سب کے سامنے مجھے شرمندہ کر دیا ہے۔۔ وه باہر رجا اور لیزا ہس رہی تھیں مجھ پر۔۔ میری عزتِ نفس پر گہرا وار کیا ہے انہوں نے ۔۔ میں ۔۔ اب ۔۔۔کبھی ۔۔ بھی ان کا ۔۔ سامنا نہیں کرنا چاہتی۔۔ گھر میں تو میں اپنے کمرے تک محدود ہو سکتی ہوں لیکن یونی میں انکے لیکچرز ہوتے ہیں ۔۔ میں اب ان کو اپنے سامنے بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔ پلیز مجھے فورس نہ کرو۔۔”
اس کی تکلیف پر اوینا کا دل بھی دکھ سے بھر گیا۔۔
بھائی نے غلط کیا ہے ۔۔ ٹھیک ہے میں تمہیں فورس نہیں کرتی ۔۔ زیادہ سوچو نہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔!!
اسے گلے لگاتی وه گاڑی کا ہارن سن کر عجلت میں باہر نکل گئی۔۔
موسیٰ کے ہمراہ وه تیز تیز قدم اٹھاتی یونی میں داخل ہوئی۔۔ وه دونوں راستے میں کل والے معاملے پر بات کرتے رہے تھے۔۔۔
“یار جو بھی ہے بھائی کو اگر وه نہیں بھی پسند تو بھی اسکی اتنی انسلٹ کرنے کا حق انہیں نہیں تھا۔۔”
وه باریس سے خفا تھی۔۔
ہمم صحیح کہہ رہی ہو۔۔!!
وه بھی کچھ بجھا بجھا سا تھا۔۔ روز وه تینوں ساتھ ہی یونی آتے تھے آج اسے سب کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔۔
کلاس کے باہر انھیں باریس مل گیا۔۔ اوینا نے اسے دیکھ کر نظروں کا زاویہ بدل لیا۔۔
ہیر نہیں آئی۔۔ ؟؟ آج ٹیسٹ ہے اور وه چھٹی کر کے بیٹھ گئی ہے۔۔
وه ماتھے پر بل ڈالے گویا ہوا۔۔
پروفیسر باریس وه اب یونی نہیں آئے گی آپ کو اب مزید اسکی وجہ سے پریشان نہیں ہونا پڑے گا۔۔
موسیٰ سنجیدگی سے بولا اور اوینا کو ساتھ لئے کلاس میں داخل ہوگیا۔۔۔
باریس نے لب بھینچ کر انہیں دیکھا۔۔ سنجیدہ چہرہ لئے وه پہلے لیکچر کے لئے مطلوبہ کلاس میں چلا گیا۔۔
صحن میں بچھے تخت پوش پر معصومہ بی دوپٹہ کان کے پیچھے اڑس کر چاول چننے میں مصروف تھیں۔۔۔
ان کے سامنے تین کرسیوں پر درخشاں ،، شاہانہ اور بلقیس بیٹھیں میز پوش پر کڑھائی کر رہی تھیں۔۔
” بے بے وه پڑوس سے چھنو باندری آئی تھی۔۔ بتا رہی تھی کہ موٹر سیکل نے آپ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔۔”
شاہانہ آنکھیں مٹکا کر بولیں تو ساتھ بیٹھی بلقیس نے مسکراہٹ دبائی۔۔
معصومہ بی ان کا اشارہ سمجھ گئیں۔۔
لو میرا وزن ہی کتنا ہے بھلا ۔۔ یہی کوئی چالیس پنتالیس کلو ۔۔ !!
موٹر سائیکل تو اس نکمے کی وجہ سے الٹی تھی کھوتے کو چلانی ہی نہیں آتی۔۔
ان کے وزن کی بابت سن کر شاہانہ کا قہقہہ چھوٹ گیا۔۔۔
“واہ یہاں تو خوب محفل جمی ہوئی ہے۔۔۔”
لیزا بلیک ٹراؤزر شرٹ میں معصومہ بی کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔۔۔
درخشاں اور شاہانہ کے چہرے سنجیده ہو گئے جب کہ بلقیس نے اسے دیکھ کر آنکھیں گھمائیں۔۔۔
کیا کر رہی ہیں آپ ۔۔ ؟؟
وه معصومہ بی کو چاول چنتے دیکھ کر بولی۔۔۔
“لڈو کھیل رہی ہوں تو بھی کھیل لے !!!”
وه مسکرا کر بولیں تو لیزا کی مسکراہٹ پھیکی ہوئی۔۔
بڈھی کہیں کی ہنہ !!
اچانک اسکی نگاہ باریس پر پڑی جو سنجیدگی سے دیکھتا اسی طرف آ رہا تھا۔۔
وه جلدی سے معصومہ بی کی طرف مڑی۔۔ دادی مجھے دیں میں کر دیتی ہوں یہ ۔۔ !!!
چہرے کو از حد معصوم بنا کر وه ان سے مخاطب ہوئی۔۔
نہ کُڑیے تیرے کولو نئی ہونا۔۔۔ !! تو کی جانے کار دے کم کاج۔۔۔
انکے ٹکے سے جواب پر وه اداس چہرہ بناتی اٹھ کھڑی ہوئی اور چند قدم آگے جا کر سامنے سے آتے باریس کو ذرا کی ذرا دیکھ کر لڑکھڑائی۔۔۔
اس سے پہلے کے وه زمین بوس ہوتی باریس نے اسے جلدی سے بازو سے تھام لیا۔۔
آرام سے !!
ہمم ۔۔۔ پهیکا سا مسکرا کر وه رجا کے کمرے میں چلی گئی۔۔۔
دونوں ہیر کی مخالف تھیں اس لئے ساتھ مل گئی تھیں۔۔ جب سے انہیں رشتے کی بابت معلوم ہوا تھا دونوں انگاروں پر لوٹ رہی تھیں۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ رجا کو معلوم نہ تھا کہ لیزا باریس کے پیچھے ہے ورنہ وه کبھی اسکے ساتھ نہ ملتی۔۔۔
اس کے جانے کے بعد باریس اسکی چھوڑی جگہ پر بیٹھ گیا۔۔
ماما پانی مل سکتا ہے۔۔ ؟؟
درخشاں بغیر اسکی طرف دیکھے اٹھ کر کچن میں چلی گئیں۔۔
تو یہ تیرے انکار کی وجہ تھی۔۔ ؟؟
شاہانہ کی آواز پر وه لب بھینچ گیا۔۔ وه ان کا اشارہ خوب سمجھ گیا۔۔
یہی سمجھ لیں !!! بے تاثر چہرے کے ساتھ وه وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔۔
دن جیسے پر لگا کر اڑ رہے تھے۔۔ آج اسے یونی چھوڑے ایک مہینہ ہونے کو آیا تھا۔۔ اس دوران اس نے خوب دل لگا کر اگزامز کی تیاری کی۔۔
وه تقریباً سارا دن پڑھائی میں مصروف رہتی۔۔ اس دوران اوینا بھی اکثر اس کے ساتھ پائی جاتی۔۔
شروع شروع میں وه باریس کا سامنا کرنے سے جھجھکتی رہی لیکن پھر اس نے اپنے اندر کی سوئی ہوئی ہیر کو جگایا۔۔
اب وه اپنی گرومنگ پر بھی خاص توجہ دینے لگی تھی۔۔ اس کی شخصیت میں الگ ہی نكهار پیدا ہوگیا تھا۔۔
ابھی بھی وه آئینے کے سامنے کھڑی بال سلجھا رہی تھی۔۔
سیاہ گھنے كندھوں سے نیچے آتے بال جو پہلے چوٹی میں مقید رهتے تھے اب کمر سے نیچے گرتے سیاہ چمکدار آبشار کا منظر پیش کر رہے تھے۔۔
اس کے بال پہلے سے بے حد سلكی ہوگئے تھے۔۔ ماتھے پر کٹے بال لمبی لٹوں کی صورت اختیار کرگئے تھے۔۔
چشمے کی جگہ آنکھوں پر گرے لینز لگ چکے تھے جب کہ اس کا لباس بھی بدل چکا تھا۔۔۔
اب وه زیادہ تر كیپری شرٹس اور شرٹس کے ساتھ ٹراؤزرز زیب تن کرتی تھی۔۔۔ جو اس پر بے حد بهلی لگتی تھیں۔۔۔ شاہانہ تو اس کے صدقے واری جاتی نہ تھکتی تھیں۔۔
اب بھی وه میرون رنگ کی كیپری شارٹ شرٹ پہنے آئینے کے سامنے کھڑی بال سلجها رہی تھی۔۔۔
بالوں کو اس نے ڈھیلی پونی میں قید کرتے پیچھے کمر پر کھلا چھوڑ دیا۔۔۔
گال سے ٹکراتی آوارہ سلکی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستی وه سپاٹ تاثرات کے ساتھ کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
ماما کیا کر رہی ہیں ۔۔ ؟؟
وه کچن میں جھانکتی استفسار کرنے لگی۔۔۔
پتر چائے بنا رہی تھی تیرے ابے اور تاۓ وغیرہ کے لئے۔۔۔ بس بن گئی ہے۔۔۔
لائیں میں دے آتی ہوں بابا کو اور تایا جان سے بھی مل لوں گی ۔۔۔ کافی دن ہو گئے ملاقات ہی نہیں ہوئی۔۔۔
وه سادگی سے کہتی ان کے برابر کھڑی ہوتی کپوں میں چائے انڈیلنے لگی۔۔۔
پتر اتنی سنجیده نہ رہا کر۔۔۔ پہلے کی طرح ہسا کر ۔۔۔ پہلے تو توُ اتنی شرارتیں کرتی تھی۔۔۔
وه پیار سے اسے دیکھ کر بولیں۔۔۔
ماما میں اب بھی ویسی ہی ہوں بس اب ہر وقت یہ شرارتیں کرنا اچھا نہیں لگتا۔۔۔
وه مسکرا کر بولی۔۔۔
میری دھی تو بڑی سمجهدار ہو گئی ہے۔۔۔ چل چائے دے آ۔۔۔ ٹھنڈی ہو جائے گی۔۔۔
وہ اسے کہہ کر کچن کا پھیلاوا سمیٹنے لگیں۔۔۔
اس نے احتیاط سے ٹرے میں کپ اور چند سنیکس رکھے اور ٹرے اٹھا کر مردان خانے کی طرف چل پڑی۔۔۔
السلام علیکم!!!
دروازه دھکیل کر وه خوشگواری سے سلام کرتی اندر داخل ہوئی۔۔۔
ماشاءالله آج ہماری بیٹی بڑے دن بعد نظر آئی ہے۔۔۔
عباد عالم نے پیار سے اسے دیکھتے کہا تو وه مسکرا دی۔۔۔
اسے اپنی پشت پر کسی کی نظریں محسوس ہوئیں تو وه ٹرے لكڑی کی بڑی سی میز پر رکھتی پلٹی۔۔۔
اس کی نگاہ باریس سے ٹکرائی جو آج تقریباً ایک مہینے بعد اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس کی آنکھوں میں حیرانی ابھری تھی۔۔۔ وه کتنی بدل گئی تھی۔۔۔ اس نے ایک نظر اسے دیکھتے اس پر سے نظر ہٹانی چاہی لیکن نظریں ہٹنے سے انکاری ہوئیں۔۔
ہیر اسے نظر انداز کرتی ابراہیم عالم کی طرف جاتی ان کو چائے کا کپ تھما گئی۔۔۔
عباد عالم کے بعد باریس کو بے تاثر چہرے سے چائے کا کپ تھماتی وه ابراھیم عالم کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔
پہلے تو اس نے سوچا کہ وہاں سے چلی جائے لیکن پھر اپنے خیال کو جھٹک دیا۔۔۔
میری بلا سے وه یہاں ہو یا نہ ،، مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔
میرے بیٹے کی پڑھائی کیسی جا رہی ہے۔۔۔ ؟؟
ابراھیم عالم اس کے گرد بازو حائل کرتے اس کا سر چوم کر بولے۔۔۔
بہت بہت اچھی!!! میری تقریباً تیاری مکمل ہو گئی ہے۔۔۔
وه ان کے گرد بازو حائل کرتی مسکرا کر بولی۔۔۔
ماشاءالله !! وه مسکرا دیے۔۔۔
“ارے ارے باپ بیٹی تو مجھے فراموش ہی کر بیٹھے ہیں”
عباد عالم ہاتھ میں پکڑا اخبار تہہ کرتے ہوئے بولے۔۔۔
وه ہلکا سا ہنستی ان دونوں کے درمیان جگہ بناتی بیٹھ گئی۔۔۔
یہاں سے سیدھی اس کی نگاہ باریس سے ٹکرائی جو چائے کا کپ ہونٹوں سے لگائے اس جانب ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس کے دیکھنے پر وه نظروں کا زوایہ موڑ گیا۔۔۔
تایا جان آپ سے ایک بات کی اجازت لینی تھی۔۔۔ ابراھیم عالم سے وه پہلے ہی بات کر چکی تھی۔۔۔
بولو میرا بیٹا ۔۔۔ !!!
وه خالی کپ میز پر رکھتے اس کی جانب پوری طرح متوجہ ہوئے۔۔۔
تایا جان یونی کی ٹریپ جا رہی ہے۔۔۔ ہم بھی جانا چاہتے ہیں کتنی دیر ہو گئی ہم اکٹھے آؤٹنگ پر نہیں گئے پلیز آپ اوینا کو بھی پرمیشن دے دیں پلیز ۔۔ !!!
وه انہیں امید سے دیکھنے لگی۔۔۔
بیٹے میں نے اوینا کو بھی سمجھایا تھا آج کل کا دور اچھا نہیں ہم فیملی ٹُو۔۔اَر پر چلے جائیں گے ان اداروں کے ساتھ جانا کچھ مناسب نہیں لگتا۔۔۔
وه اداس ہو گئی۔۔۔
تایا جان سب فرینڈز بھی ہوں گے وہاں اور ہمارا لاسٹ ایئر بھی ہے دوبارہ کہاں ایسا موقع ملنا ہے پلیز مان جائیں نہ۔۔۔!!!
وه ان سے لپٹتی لاڈ سے بولی تو وه بےچارگی سے ابراھیم عالم کی طرف دیکھنے لگے جو مسکرا کر ان کی طرف ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
کوئی بات نہیں بھائی صاحب اجازت دے دیں باریس بھی تو ہوگا ساتھ بچیاں خوش ہو جائیں گی۔۔۔
ابراھیم عالم کی حمایت پر انہیں ہار مانتے ہی بنی۔۔
چلو ٹھیک ہے ۔۔ !! خوش رہو ۔۔۔
وه اسکے سر پر پیار دے کر بولے تو وه خوشی سے ہنستی اٹھی۔۔۔
میں اوینا کو بتا کر آتی ہوں۔۔۔ جلدی سے وه دروازے کی سمت بڑھی۔۔۔
باریس پر ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر وه باہر چلی گئی ۔۔۔
باریس کی نظریں اسکی کمر پر لہراتے سیاہ سلكی بالوں سے الجھ کر رہ گئیں۔۔۔
