Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kithe Phas Gayi Heer Episode 3

Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan

عالم ولا کے بڑے سے صحن میں زمین پر بچھی دریوں پر ان گنت کپڑوں کا ڈھیر لگا تھا۔۔ خوشگوار موسم اپنی جون بدلتا گرمی کو خوش آمدید کہنے لگا تھا۔۔

موسم کے تیور بدلنے لگے تو گھر کی خواتین کو گرمیوں کے لئے نئے جوڑے خریدنے کا خیال آیا لیکن مصروفیت سے فراغت پا کر بازار کے چکر لگانا آسان کہاں تھا تو سبكتگین عالم نے ان کی مشکل آسان کرتے ہوئے ایک بوتیک سے رابطہ کر کے گھر میں ہی کپڑوں کا ڈھیر منگوا لیا تھا۔۔

اب بھی صحن “لنڈا بازار” کا منظر پیش کررہا تھا۔۔ ہیر ، اوینا ، رجا ، درخشاں ، معصومہ بی ، بلقیس کپڑوں کے ڈھیر کے گرد جهمگهٹا لگائے ہوئے تھیں۔۔

بلقیس نے سرمئی رنگ کا لان کا خوبصورت جوڑا اٹھایا اور اپنے ساتھ لگا کر درخشاں کی طرف دیکھنے لگیں۔۔ بھابھی کیسا لگ رہا ہے یہ رنگ مجھ پر ۔۔۔؟

درخشاں ہاتھ میں پکڑے شفون کے دوپٹے کو ایک طرف رکھتیں ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔۔ “اچھا لگ رہا ہے۔۔ اس کے ساتھ دوپٹہ دوسرے شیڈ کا رکھو۔۔”

انہوں نے مسکرا کر کہا تو بلقیس مطمئن ہوتیں دوپٹہ میچ کرنے لگیں۔۔

آہا زبردست!! موسیٰ بس یہ دوپٹہ میری طرف سے رکھ لو ۔۔!!

ہیر نے موسیٰ کو ان میں گھس کر بیٹھتے دیکھا تو طنز کیے بغیر نہ رہ سکی۔۔

شٹس اپس!! موسیٰ اثر لئے بغیر گویا ہوا۔۔

ماشاءالله ماشاءالله یہاں تو پورا لنڈا بازار لگا ہوا ہے۔۔ شاہانہ لکڑی کا چمچہ ہاتھ میں پکڑے کچن سے نمودار ہوئیں۔۔

“نی رِجو تینوں ہور کوئی کم نہیں ہر وقت بوتھے تے پتہ نہیں کیرے کیرے ماسک لا کے پھر دی رینی اے۔۔”

شاہانہ نے رجا کو اپنا فیس ماسک ٹھیک کرتے دیکھ کر لتارا۔۔

بلکل صحیح کہا چاچی تسی ہمیشہ صحیح کیندے او۔۔ موسیٰ بتیسی کی نمائش کرتا بولا تو شاہانہ آنکھیں چھوٹی کیے اس کی طرف مڑیں۔۔

وے تو بیبیوں میں کیا کررہا ہے چل پج یہاں سے۔۔ اوینا اور ہیر کی ہنسی نکل گئی۔۔

شاہانہ تم بھی کوئی جوڑا دیکھ لو۔۔ درخشاں کے کہنے پر وه سرسری نظر سے کپڑوں کا جائزہ لینے لگیں۔۔

اتنے میں باریس آیا اور صحن سے گزر کر مردان خانے کی طرف جانے لگا۔۔ کچھ سوچ کر وه ایک پل کے لئے رکا۔۔

چاچی چائے بهجوا دیں بہت طلب ہو رہی ہے میں مردان خانے کی طرف جا رہا ہوں ۔۔

ہائے میرا پتر چاچی صدقے تو جا میں ابھی بهجواتی ہوں۔۔

شاہانہ کے پیار بھرے انداز میں کہنے پر وه مسکرا کر سر ہلاتا صحن سے چلا گیا۔۔

ہیر پتر جا کچن میں چائے رکھی ہے گرم کر کے دے آ سب کو۔۔ سب مرد وہیں بیٹھے ہیں اس حساب سے لے جانا اور ساتھ کچھ کھانے کے لئے بھی لے جانا۔۔

ہیر نے بےزاری سے سر جھٹکا۔۔ جا وینا پتر بہن کی مدد کروا۔۔

ان دونوں کو حکم دے کر انہوں نے معصومہ بی کو دیکھا جو سرخ شوخ قمیض کے ساتھ سفید غرارا پسند کر کے فارغ ہوئی تھیں۔۔

شاہانہ سر نیچے جھکا کر پهس پهس کرنے لگیں۔۔

درخشاں نے ایک نظر ان کو دیکھ کر معصومہ بی کو دیکھا جن کی تیوری چڑھ گئی تھی۔۔

کیا ۔۔۔؟ میں نے کیا کہہ دیا اب جو مجھ معصوم کو گھور رہی ہیں آپ۔۔!!

“استغفار خود کو معصوم کہہ کر معصوموں کی توہین تو نہ کر۔۔” معصومہ بی دوپٹہ کان کے پیچھے اڑس کر بولیں۔۔

جائیں بے بے میں نے آپ سے بحث نہیں کرنی ویلی نئی ہوں میں اس وقت ورنہ آپ کی شان میں قصیدے ضرور پڑھتی۔۔ جس کام کے لئے آئی تھی وه تو بھول ہی گئی میں۔۔

شنو بھابھی کھانے میں کڑاہی گوشت ، مٹر پلاؤ ، آلو کے کباب اور میٹھے میں کھیر بنا دی ہے میں نے۔۔ ہا! صبح سے کام میں لگی ہوں۔۔

بیڑا غرق ہو اسکا جس نے اتنی ہانڈیاں ایجاد کی ہیں۔۔ دن رات کھانے بنا بنا کر میری تو زندگی ہی “ہانڈی ہانڈی” ہو گئی ہے۔۔

ہاں تو میں کہہ رہی تھی اور کچھ تو نہیں بنوانا۔۔؟

شاہانہ اپنی فراٹے بھرتی زبان کو روک کر مدعے پر آئیں۔۔

نہیں بس کافی۔۔۔۔۔۔۔ معصومہ بی نے درخشاں کی بات کاٹ دی۔۔

نی تو اپنی زبان بھی جا کر بھون لے آگ پر ہر وقت چلتی رہتی ہے ذرا آرام ملے ہمیں بھی۔۔ہر وقت چخ چخ لگائی ہوتی ہے۔۔ اللّه معاف کرے ایسی لمبی زبان کسی کی نا دیکھی نہ سنی۔۔

شاہانہ نے ناک پھلا کر انہیں دیکھا۔۔ “نہ بے بے اپنی زبان کیوں میں آپ کا کلیجہ نہ بھون دوں لیکن ایک اور بات بھی ہے آپ کا كلیجہ کھا کر بدہضمی ہو جانی ہے۔۔”

اپنی زبان کے جوہڑ دکھا کر ان کا جواب سنے بغیر وه تن فن کرتی کچن میں چلی گئیں۔۔

پیچھے درخشاں نے اپنا سر پکڑ لیا۔۔ معصومہ بی بڑبڑاتی ہوئیں اپنے کمرے میں چلی گئیں۔

آرام سے بیٹا۔۔!! وه چائے کی ٹرے تھامے مردان خانے میں گئی تو پیر مڑنے سے ذرا سا لڑکھڑائی۔۔

جی بابا!! ابراھیم عالم کے کہنے پر وه سنبهل کر آگے بڑھی۔۔ اس کے پیچھے پیچھے اوینا سنیکس کی ٹرے تھامے اندر داخل ہوئی۔۔

ہیر نے احتیاط سے سب کو چائے پیش کی۔۔ اوینا نے سنیكس میز پر رکھے اور وه دونوں جانے کے لئے پلٹ گئیں۔۔۔ غالباً سب یہاں کاروباری گفتگو کر رہے تھے لکین انہیں دیکھ کر رک گئے تھے۔۔

اسائنمنٹس بنا لی ہیں تم دونوں نے۔۔؟ باریس کی آواز پر دونوں کے قدموں کو بریک لگے۔۔ وه کوفت سے پلٹیں۔۔

” نہیں!! ابھی نہیں بنائی۔۔ ” سب کی نظریں خود پر مزکور پا کر اوینا نے ہلکی آواز میں کہا۔۔

تو کب بنانی ہے تم دونوں نے ٹیسٹ بھی نہیں پریپئر کیا ہوگا یاد رکھنا اس دفعہ کوئی رعایت نہیں ملے گی۔۔ بكس لے کر میرے کمرے میں پہنچو دونوں۔۔ میں کچھ دیر میں آ رہا ہوں۔۔

اس کے سخت لہجے پر دونوں روہانسی ہوتیں جلدی سے باہر نکلیں۔۔

” ہائے او ربا کتھے پهس گئی ہیر ۔۔!!” ہیر نے دہائی دیتے اپنا پسندیدہ ڈائلاگ دوہرایا تو اوینا نے اسکی کمر پھر تهپڑ مارا۔۔

اس دفعہ تم اکیلی نہیں میں بھی پهس گئی ہوں۔۔ برے منہ بناتیں دونوں کمرے سے مطلوبہ چیزیں لے کر باریس کے کمرے کی طرف بڑھیں۔۔

یار کتنا صاف ستھرا کمرہ ہے تمہارے کھڑوس بھائی کا، ویسے ہزار مجھے زہر لگتے ہوں وہ لیکن ایک بات ماننی پڑے گئی بندے کا ذوق بہت آعلیٰ ہے۔۔

ہیر کمرے میں پھیلی مدھم خوشبو میں گہرا سانس بھر کر بولی۔۔ بیڈ پر نفاست سے بچھی سفید چادر پر اپنی کتاب رکھتی وه بیٹھ کر کمرے کا جائزہ لینے لگی۔۔

اوینا نے جمائی روک کر بیزار نظروں سے اسائنمنٹ پیپر نکالے۔۔

باریس کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر دونوں الرٹ ہو کر بیٹھ گئیں۔۔۔

انہیں اپنے بیڈ پر بیٹھا دیکھ کر اس نے بھنویں سکیڑیں۔۔ “ادھر جا کر بیٹھو” وه سنجیدگی سے دور پڑے ٹو سٹر صوفے کی طرف اشارہ کر گیا۔۔

وه دونوں تن فن کرتی اٹھیں اور صوفے پر جا کر بیٹھ گئیں۔۔ باریس کے حد سے زیادہ سنجیدہ مزاج کو دیکھ کر فلحال انہوں نے منہ بند رکھنا مناسب سمجھا۔۔

باریس انہیں ایک نظر دیکھ کر بیڈ پر نیم دراز ہوتا موبائل پر مصروف ہوگیا۔۔

“میری شکل نہیں دیکھنی ٹیسٹ یاد کرنا ہے۔۔”

انہیں مسلسل اپنے آپ کو تکتا پا کر وه اچانک ان کی طرف منہ کر کے بولا تو انہوں نے گڑبڑا کر کتاب تھامی اور زور و شور سے رٹے لگانے لگیں۔

باریس نے کوفت سے انہیں دیکھا۔۔

اس کا دیهان ہٹتے دیکھ کر ہیر نے آنکھیں گھمائیں۔۔ ہنہ کھڑوس کہیں کا!!

بڑبڑا کر وه پیر ہلاتی کتاب کو علاوہ کمرے کی ہر چیز کو حفظ کرنے لگی۔۔ اوینا کو ٹیسٹ یاد کرتا دیکھ کر اسکی تیوری چڑھی۔

اچانک اس کی آنکھیں شرارت سے چمکیں۔۔اس کے قریب كهسک کر اس نے اسکی کمر میں گدگدی کی تو اوینا کی ہنسی نکل گئی۔۔۔۔

ہاہاہا!!

باریس کے غصے سے گھورنے پر وه کتاب منہ کے آگے کرتیں ہل ہل کر رٹے مارنے لگیں۔۔

یار مجھے نہیں یاد ہو رہا کیا کروں۔۔؟ ہیر نے اسکے کان کے قریب جھکتے ہوئے سرگوشی کی۔۔

چپ کر کے یاد کرنے کی کوشش کرو نہیں تو بھائی کا پتہ ہے نہ۔۔؟ وه اسے وارن کرتے ہوئے بولی۔۔

ہیر نے پیچھے ہٹ کر ساتھ لائے بیگ سے چوری چھپے ایک پائیپ نکالا اور اس میں ننھا سا دانہ ڈال کر باریس کا نشانہ لیا۔۔

اس کے پھونک مارنے کی دیر تھی کہ وه دانہ سیدھا باریس کے ماتھے پر جا کر لگا۔۔

“دفعہ ہو جاؤ میرے کمرے سے” وه سرخ چہرے سے داڑھا۔۔

وه جو کب سے انکی حرکتوں کو نظر انداز کررہا تھا ہیر کی اس حرکت پر خود پر ضبط نہ کر سکا۔۔

وه دونوں اسے شدید غصے میں دیکھ کر سر پر پیر رکھ کر بھاگیں۔۔ ہڑبڑی میں وه اپنی چیزیں بھی یہیں چھوڑ گئیں۔۔

باریس غصے سے دروازے کو دیکھ کر رہ گیا۔۔ کہاں پاگلوں میں پهس گیا ہوں میں۔۔!!

“او ہو دشمنوں کے تو مزاج ہی نہیں مل رہے” موسیٰ نے چھت پر قدم رکھا تو ربیعہ اسے دیکھ کر رخ ہی موڑ گئی۔۔

جب سے موسیٰ نے اسے موٹی بھینس کہنا شروع کیا تھا تب سے اس نے ٹھان لی تھی کہ اب سب کو پتلی ہو کر دکھائے گی۔۔ اب پہلے کی نسبت وه تھوڑی دبلی لگنے لگی تھی۔۔

او کدو ادھر مر!! ہیر نے پتنگ ہاتھ میں پکڑ کر اسے اشارہ کیا تو وه تن فن کرتا اسکی طرف بڑھا۔۔

بھونک!!

ہیر نے ہاتھ جوتے پر رکھا ہی تھا کہ وه ہاتھ اٹھاتا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔۔

اچھا اچھا بول کیا ہے۔۔؟

میں نے نا پتنگ چڑھا کر وه پتنگ کاٹنی ہے وه نیلی پتنگ۔۔!!

اس نے آسمان پر اڑتی نیلی بڑی سی پتنگ کی طرف اشارہ کیا جس کی ڈور ان کے پڑوس میں موجود اختر صاحب کے پوتے کے ہاتھ میں تھی۔۔

نہ کر کیوں پنگا لے رہی ہو اس کا دادا آ گیا نا پیں پیں کرنے تو پہلے ان کے منہ سے نقلی جبڑا نکل کر ہمارے فرش کو گدلا کر دے گا اور پھر وه جبڑا واپس منہ میں ڈال کر گھر والوں کے سامنے جو ذلیل کرے گا نہ تمہاری اگلی پچھلی نسلیں یاد رکھیں گی۔۔

موسیٰ نے خوناک منظر پیش کیا تو ہیر نے بغیر اثر لئے پتنگ اس کے ہاتھ میں پکڑا دی۔۔

مجھے اس سے ایک چیز کا بدلہ لینا ہے ۔۔ وه آنکھیں مٹکا کر بولی۔۔

یہ لو میں ذرا اوپر جا کر کھڑی ہوتی ہوں جب میں اشارہ کروں تو پتنگ اوپر اچھالنا۔۔

وه مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق پتنگ پکڑ کر کھڑا ہوگیا۔۔ ہیر کے اشارے پر اس نے پتنگ اچھال دی۔۔

یا ہو!! کچھ ہی دیر میں پتنگ آسمان سے باتیں کرنے لگی۔۔ ہوا سے اڑتے بالوں کو ایک ہاتھ سے چہرے سے پیچھے ہٹاتی وه پتنگ کی ڈور تھامتی نیلی پتنگ کے قریب لانے لگی۔۔

مقابل چونک کر سیدھا ہوا۔۔ آنکھیں سکیڑ کر اس نے پیلی پتنگ کو دیکھا جو اس کی پتنگ کے راستے میں آ رہی تھی۔۔ اس سے پہلے کہ پیلی پتنگ اسکی پتنگ کو کاٹتی اس نے کمال ہوشیاری سے پیلی پتنگ کی ڈور کاٹ دی۔۔

ہیر نے صدمے سے اپنی پتنگ کو گرتے دیکھا۔۔ اس نے بازو کہنیوں تک چڑھا کر دوپٹہ کمر پر کس کر باندھا اور سامنے آتے پراندے کو غصے سے پیچھے پھینکتی پڑوسیوں کے گھر کے ساتھ جڑی دیوار پر چڑھ گئی۔۔

ہیر واپس آؤ نیچے اترو پاگل ہو گئی ہو۔۔!!

موسیٰ کی آوازوں کو نظرانداز کر کے وه دیوار سے کود گئی۔۔

دهپ سے نیچے زمین پر قدم رکھ کر وه سیدھی کھڑی ہوئی۔۔ آواز پر اس لڑکے نے مڑ کر دیکھا تو ہیر کو دیکھ کر اسے سانپ سونگھ گیا۔۔

ہیر نے اسکے ہاتھ میں اپنی پتنگ دیکھی تو خطرناک تیوروں سے اس کی طرف بڑھی۔۔

وہ دبلا پتلا سا لڑکا اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر بھاگا کیوں کہ ہیر کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔۔

“ابھے رک پھٹے ہوئے بینگن ، کسی عاشق کی ناکام شاعری”

وه چلاتی ہوئی اس کے پیچھے دوڑی۔۔ پیچھے سے اسکی شرٹ کو ہاتھ میں دبوچ کر اس نے ایک تھپڑ اس کی گردن پر مارا۔۔

آئی!! لڑکا گردن پر ہاتھ رکھ کر چلایا۔۔ مزید مار سے بچنے کے لئے وه پوری قوت لگا کر بھاگ گیا۔۔

ہیر حیرت سے اپنے ہاتھ میں شرٹ کے ٹکڑے کو دیکھتی رہ گئی جو پھٹ کر اس کے ہاتھ میں آ گیا تھا۔۔

دیوار پر چڑھ کر سارا منظر دیکھتے موسیٰ کا قہقہہ ابل پڑا۔۔

جیو شیرنی!! وه بے حد محظوظ ہوا تھا۔۔

ہیر نے ہنس کر دونوں پتنگیں اٹھائیں اور موسیٰ کو پکڑاتی دیوار پهلانگ کر اپنی چھت پر آ گئی۔۔

لا لا لا لا لا لا۔۔۔۔۔

زندگی سوار دوں!!

اک نئی بہار دو دوں!!

دنیا ہی بدل دوں میں تو پیارا سا چمتکار ہوں!!

آسماں کو چھوں لوں تتلی بن اڑوں یا ۔۔۔۔۔۔

آآآآآ۔۔۔۔۔۔!!!

اوینا اپنی ہی دھن میں ڈوریمون کارٹون کا گانا لہک لہک کر گاتی گھر کے باورچی خانے سے منسلک صحن میں ادھر ادھر چکر لگا رہی تھی کہ اچانک پیچھے مڑنے پر ایک لمبے چوڑے وجود کو کھڑا دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی۔۔

شہریار جو کب سے بیرونی دروازے سے داخل ہو کر باریس کو کال پر کال کررہا تھا لیکن جواب موصول نہ ہونے پر کچھ سوچ کر اندر آ گیا۔ سامنے اوینا کو لہک لہک کر گاتا دیکھ کر اسے سمجھ نہ آئی کہ اسے کیسے مخاطب کرے۔

وه بلیک پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر وہیں ٹیک لگا کر کھڑا ہوتا اسکا جائزہ لینے لگا جو کالے لمبے کرتے کے ساتھ نیلی جینز پہنے ہوئے تھی دوپٹہ ہمیشہ کی طرح گلے کے گرد رول کر کے لپٹا ہوا تھا۔۔

اسے اپنی طرف متوجہ پا کر وه گلا كهنكار کر سیدھا ہوا۔۔

اوینا اپنے سامنے ایک خوبرو مرد کو دیکھ کر اپنی حرکت یاد کرتے شرمندہ سی ہو گئی لیکن پھر اس نے خود کو اندر ہی اندر ڈپٹا۔ بھلا مجھے کیا ضرورت ہے شرمندہ ہونے کی۔.

جی فرمائیے کون ہیں آپ جو چوروں کی طرح گھر میں گھسے جا رہے ہیں۔۔؟ وه کمر پر ہاتھ ٹکاتی لڑاکا عورتوں کے سے انداز میں بولی۔۔

انٹرسٹنگ!! وه اسکے انداز کو دیکھ کر ابرو اچکا گیا۔۔

مس بات یہ ہے کہ میں باریس کا دوست ہوں۔۔ کب سے باہر کھڑا اسے کال کررہا تھا لیکن وه اٹینڈ نہیں کر رہا تھا سو مجھے لگا کہ گھر میں چل کر پتہ کرنا چاہیے کیوں کہ مجھے ضروری کام ہے اس سے۔۔ اور چوروں کی طرح گھس کر نہیں آیا باہر آپ کے گارڈ سے پوچھ کر آیا ہوں۔۔

اس کی لمبی چوڑی وضاحت پر وه آنکھیں گھما کر رہ گئی۔۔

اچھا اچھا ٹھیک ہے آپ ڈرائنگ روم میں بیٹھیں میں بھائی کو بھیجتی ہوں۔۔

وه جانے کے لئے پلٹی تو وه اسے پکار بیٹھا۔۔

مس۔۔۔؟ آپ کا جو بھی نام ہے ڈرائنگ روم ہے کدھر یہ تو بتا دیں۔۔

وه اسے زچ ہوتا دیکھ کر محظوظ ہوتا یوں ہی داڑھی كهجانے لگا۔۔

آئیں میرے ساتھ !! وه پھاڑ کھانے والے انداز میں بولتی اسے ساتھ لئے چلنے لگی۔۔

ویسے کافی مہمان نواز ہیں آپ۔۔! وه اس پر طنز کر گیا تو اوینا کڑے تیوروں سے اس کی جانب پلٹی۔۔

میرے منہ نہ لگیں آپ نہیں تو۔۔۔۔

وه اسکی بات درمیان میں ہی کاٹ گیا۔۔

مس میں لگا ہی کب ہوں آپ کے منہ۔۔۔؟ اس کی زو معنی بات پر اوینا کے کانوں سے دھوئیں نکلنے لگے۔۔

اتنا بے باک انسان اس نے زندگی میں پہلے بار دیکھا تھا۔۔

وه سامنے ڈرائنگ روم ہے۔۔ وہاں چلے جائیں یا جہنم میں آپ کی مرضی ہے۔۔

غصے سے سرخ چہرہ لئے وه تن فن کرتی کچن کی سمت جانے لگی۔۔

سمجھتا کیا ہے خود کو بدتمیز انسان کمینہ، میں بھائی کو بھی نہیں بتا سکتی۔۔ ہاتھ پر مکا مارتی وه کچن میں داخل ہوئی جہاں ہیر بے سرے راگ لگاتی برتن دھو رہی تھی۔۔

پانڈے پانڈے ہو گیا دل پانڈے پانڈے ہو گیا!!

وه قوالی کے بول کا بیڑا غرق کرتی مسلسل گردان کرتے برتن پٹخ پٹخ کر رکھ رہی تھی۔

نی ہیر کی بچی !!! اوینا اپنے ہی غصے میں چلاتی اسکےپاس رکتی اسکی کمر پر تهپڑ مار گئی۔۔

ہائے او ربا اے ظالم دنیا تے کتھے پهس گئی ہیر!!!

وه کھڑی کھڑی سنک کے کنارے سر ٹکا کر مغموم انداز میں بولی ۔۔

ڈرامے باز عورت بس کر دے۔۔ اوینا اس کی ناٹنکی دیکھ کر سلگ گئی۔۔

اچھا بول کیا ہوا ہے تیرا منہ لال “ٹومیٹو” کیوں ہو رہا ہے ؟؟

وه اپنی جون میں واپس آتی دھلے برتن ترتیب سے ریک میں رکھتی استفسار کرنے لگی۔۔

یار میں نہ باہر چکر لگا رہی تھی تو وه بندر بدتمیز شودا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وه دیدے نچا کر اسے شروع سے آخر تک سب بتانے لگی۔۔

ہیر کی آنکھیں ابل پڑیں ۔۔ توبہ توبہ ایسا کہا کیا اس نے۔۔؟

ہاں نہ !!! اوینا بھنویں سكیڑ کر بولی۔۔

ویسے کیا بہت پیارا ہے وه ۔۔۔ ؟؟ ہیر نے آنکھیں پٹپٹا کر پوچھا۔۔

ہاں ہے تو بہت پیارا !!!

اہم اہم !!!

اسکا خوبرو چہرہ آنکھوں کے سامنے آنے پر وه بے ساختہ کہہ اٹھی لیکن ہیر کے گلا کھنکارنے پر اسکی زبان کو بریک لگا۔۔

“کسی کا نام ہی پوچھ لیتی” وه شرارت سے گویا ہوئی۔۔

ہیر مجھ سے جھانپڑ کھائے گی تو کیا فضول باتیں کررہی ہے۔۔ وه سٹپٹا کر بولی۔۔

کیا یہی پیار ہے کیا یہی پیار ہے ؟

ہاں یہی پیار ہے !!

ہیر کے شرارت سے گنگنانے پر وہ پیر پٹخ کر کچن سے ہی نکل گئی۔