Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kithe Phas Gayi Heer Episode 4

Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan

خراماں خراماں چلتی وه یونیورسٹی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔۔۔ آج وه کچھ بجھی بجهی تھی۔۔ اوینا اور موسیٰ کل رات ننھیال گئے تو وہیں رہ گئے جس کی وجہ سے آج اسے اکیلی آنا پڑا تھا۔۔

شاہانہ اور درخشاں نے لاکھ کہا کہ باریس کے ساتھ چلی جاؤ لیکن وه بھی اپنے نام کی پکی ڈرائیور کے ساتھ آئی تھی۔۔

یونیورسٹی کی انٹرنس میں معمول سے زیادہ رش دیکھ کر وہ چونکی۔۔۔ بیگ کو کاندھے پر ٹھیک طرح ٹکاتی وه ہجوم کے قریب جا کر کھڑی ہو گئی۔۔

اس نے ایک دو کو پیچھے ہٹاتے ایڑھیاں اونچی کر کے دیکھا تو چند لڑکے لڑکیوں کا گروپ چادر میں لپٹی ایک ڈری سہمی لڑکی کو گھیرے ہوئے تھا۔۔

یہ کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔؟؟ اس نے ساتھ کھڑی لڑکی کو ٹہوکا دیا۔۔

یہ نیو سٹوڈنٹس ہیں،، ہمارے سینیرز۔۔ ریگنگ کر رہے ہیں جہاں کوئی معصوم بندہ یا بندی نظر آئی اس کو گھیر کر الٹے کام کرنے کے لئے پریشان کر رہے ہیں۔۔

اس کی بات سن کر ہیر کو بھنویں تن گئیں۔۔

ان کی تو میں ۔۔۔ !! وه بازو چڑھا کر آگے بڑھی تو اس لڑکی نے ہیر کا بازو پکڑ لیا۔۔

ہیر وه بگڑے ہوئے امیر زادے لگ رہے ہیں ایسے لوگوں سے مت الجھو تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔

ہیر نے تلخی سے ہنس کر اسے دیکھا۔۔

ارے چھڈو جی اگر ہیر ایسے موقع پر کسی معصوم کی مدد نہ کرے تو لعنت ہے ہیر کے انسان ہونے پر۔۔

اپنا بیگ اسے پکڑا کر وه جلدی سے مجمع چیڑ کر آگے بڑھی۔۔

پرے ہٹو لعنتیوں تماش بینوں !! انہیں صلواتیں سناتی وه ان کے گروپ کے پاس پہنچ گئی۔۔

لمبے چوڑے قد کے ایک سانولے سے لڑکے کو اس نے کندھے سے پکڑ کر پیچھے کیا تو وه چونک کر اسے دیکھنے لگا۔۔ اس کے باقی ساتھی بھی طنزیہ ہنسی ہنستے اسکے قریب آ گئے۔۔

ڈری سہمی کھڑی لڑکی نے امید سے ہیر کو دیکھا۔۔

کون ہو تم ۔۔۔ ؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی “k” گروپ کو ڈسٹرب کرنے کی۔۔؟؟

سفید پنٹ شرٹ پر کالی جیکٹ پہنے ایک ماڈرن سی لڑکی حقارت بھرے لہجے میں ہیر سے مخاطب ہوئی۔۔ سب دم سادھے انہیں دیکھنے لگے جانے اب کیا ہو۔۔

ہیں جی k گروپ مطلب ” کتا ” گروپ ۔۔ ؟؟

ویسے آپ کی خصلت کے لحاظ سے بلکل پرفیکٹ نام ہے۔۔

وه آنکھیں پٹپٹا کر بولی تو مجمع میں دبی دبی ہنسی گونجی۔۔

وه سانولا سا لڑکا ہیر کے حلیے پر ایک استہزائیہ نظر ڈال کر اس سے مخاطب ہوا۔۔ “ہم نے پوچھا کون ہو تم ۔۔ ؟ آخر پتہ تو چلے کس کی اتنی ہمت ہوئی کہ ہیری کو ٹوکے !!”

ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں کھیر ،، تم لوگوں کی بینڈ بجانے آ گئی ہے ہیر !!!

بتیسی کی نمائش کرتے وه جلدی سے چند قدم بڑھی۔۔ انہیں سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس نے چادر میں لپٹی لڑکی کا بازو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کر لیا۔۔

اس کی اتنی ہمت پر وہی ماڈرن سی لڑکی ہیر کو ماڑنے کے لئے آگے بڑھی۔۔

یو تھرڈ کلاس بچ !!

ابھی اس کا ہاتھ اٹھا ہی تھا کہ ہیر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر موڑتے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا۔۔

وه منہ پر ہاتھ رکھے ساکت رہ گئی۔۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا جو اسکے ساتھ سرزد ہو چکا تھا۔۔

مجمع میں گہرا سکوت چھا گیا۔۔

ہیر بے خوفی سے ان کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔

اگر ۔۔ دوبار ۔۔ تم ۔۔ میں ۔۔سے ۔۔کسی ۔۔ نے ۔کسی ۔۔ معصوم ۔۔ کو تنگ ۔۔ کرنے ۔۔کی ۔۔کوشش ۔۔ کی ۔۔ تو ایک ۔۔ ایک کا وه ۔۔ حشر ۔۔ کروں ۔۔گی کہ ۔۔ تمہاری ۔۔ اگلی ۔۔ پچھلی ۔۔ نسلیں یاد ۔۔ رکھیں گی۔۔

ایک ایک لفظ چبا کر ادا کرتی وه اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر مڑی تو ہیری نے طیش سے آگے بڑھتے اسے کندھے سے پکڑ کر جھٹکا دیا جس سے اس کا دوپٹہ نیچے زمین پر گر گیا۔۔

غصے سے ہیر کے جبڑے بھینچ گئے۔۔ دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالتے اس نے قدرے فاصلے پر موجود لکڑی کا چھوٹا سا پھٹا اٹھایا اور پوری قوت سے اسکے منہ پر دے مارا۔۔

وه اپنے منہ پر ہاتھ رکھے ایک قدم پیچھے ہٹتا بے يقینی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔ اسکی اتنی ہمت پر وه دنگ رہ گیا۔۔

اسکا ہونٹ پھٹ گیا تھا اور گال بری طرح سوجھ گیا تھا۔۔

تماشائیوں میں سے ایک لڑکی پروفیسرز ڈپارٹمنٹ کی طرف بھاگی۔۔

ہیری کے ساتھی غصے سے ہیر کی طرف بڑھنے لگے تو اس نے ہاتھ بڑھا کر انہیں روک دیا۔۔

وه سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا اس کی جانب بڑھا اور ایک زناٹے دار تهپڑ اسکے منہ پر مارا۔

تهپڑ اتنا زوردار تھا کہ وه توازن کھوتی زمین پر جا گری۔۔

وه اسکو بالوں سے پکڑ کر اٹھاتا اپنے سامنے کھڑا کرتا اسکے منہ پر داڑھا۔۔ “پتہ بھی ہے میں کون ہوں مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی ہمت کی تم نے تم جیسی لڑکیوں کو میں چند منٹ میں غائب کروا دوں۔۔۔”

اسکی گرفت میں پھڑپھڑاتی ہیر نے اسکی بکواس پر اسکے چہرے پر تھوکا۔۔

غیض و غضب سے پاگل ہوتے اس نے ایک بار پھر اسے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا تو کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے زوردار جھٹکا دیا۔۔

وه جیسے ہی مڑا نو وارد نے ایک زبردست گھونسا اس کے منہ پر دے مارا۔۔

وه منہ پر ہاتھ رکھ کر دوہرا ہوگیا۔۔۔

نفی میں سر ہلاتے وه سیدھا ہوا اور جیکٹ اتار کر دبکے کھڑے اپنے گروپ کی طرف پھینکی۔۔۔

گردن کو دائیں بائیں حرکت دیتے وه مقابل کی طرف بڑھا۔۔۔ دونوں آپس میں گتهم گتها ہو گئے۔۔

تمام طالبعلم اپنے آئیڈیل پروفیسر کو پہلی بار اتنے طیش میں دیکھ رہے تھے۔۔۔

ہیر نے منہ پر ہاتھ رکھتے باریس کو دیکھا جو بری طرح اسے پیٹ رہا تھا۔۔۔ اس سب میں وه خود کو بھی چوٹ لگا چکا تھا۔۔

میرے گھر کی عورت پر ہاتھ اٹھائے گا۔۔ تیرے ہاتھ کاٹ دوں گا میں۔۔ دیگر پروفیسرز نے جلدی سے آ کر انہیں الگ کیا۔۔

وه اپنے ہونٹ سے بہتے خون کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے کھڑا ہوگیا۔۔

ایک پروفیسر،، باریس سے مخاطب ہوا ۔۔ پروفیسر باریس آپ کو ہی کچھ خیال۔۔۔۔۔۔

بی سائلینٹ !!

اسکے سرد لہجے میں کہنے پر پروفیسر کی زبان کو بریك لگا۔۔

وه خوف زدہ ہیر کا بازو تھام کر اسے اپنے آفس میں لے آیا۔۔

یہاں بیٹھو !!

اس نے ہیر کو گم صم کھڑا دیکھ کر اپنی رولنگ چیئر کی طرف اشارہ کیا تو وه چپ چاپ وہاں بیٹھ گئی۔۔

نظریں جھکا کر وه اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی جو بری طرح چِھل گئے تھے۔۔

باریس اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور ٹیبل سے فرسٹ ایڈ باكس پکڑ کر اس سے مرہم نکالی۔۔

ہیر کا ہاتھ تھام کر وه نرمی سے خراشوں پر مرہم لگانے لگا۔۔

ہیر گم صم سی اسکے جھکے سر کو دیکھے گئی۔۔زندگی میں پہلی دفعہ اسکے نرم انداز نے اسے گم صم کردیا تھا ورنہ اس سے پہلے تک وه اسکی شرارتوں کی وجہ سے ہمیشہ اسے غصے سے ہی دیکھا کرتا تھا۔۔

اس کے ہاتھوں پر مرہم لگا کر اس نے سر اٹھا کر اسکے چہرے کو دیکھا ۔۔ تهپڑ پڑنے سے ہیر کا گال بری طرح سوجھ گیا تھا۔۔

تفکر سے اسکے چہرے کو دیکھ کر اس نے ایلو ویرا جیل پکڑی اور نرمی سے اسکے گال پر لگا گیا۔۔

ہیر نظریں جھکا کر تیزی سے پلکیں جھپکنے لگی۔۔

باریس اسے گم صم دیکھ کر گہری سانس لے کر اٹھا۔۔ ہیر ادھر دیکھو کیا زیادہ درد ہو رہا ہے۔۔ ؟؟

اس کے کہنے کی دیر تھی کہ وه ضبط کھوتی اٹھی اور اس سے لپٹ کر بلک بلک کر رونے لگی۔۔

باریس ساکت کھڑا رہ گیا۔۔

آئی ایم سوری پروفیسر میری وجہ سے آپ کو چوٹیں لگیں۔۔ میں بہت ڈر گئی تھی اگر میری وجہ سے آپ کو کچھ ہو جاتا تو۔۔۔ ؟

بلک بلک کر کہتی وه اپنے حواس میں نہ تھی۔۔

چند لمحوں بعد اسے اپنی حماقت کا احساس ہوا تو وه آہستہ سے اس سے الگ ہو کر کھڑی ہو گئی۔۔

آئی ایم سوری !!!

وه چہرے پر گرتے آنسو ہاتھ سے صاف کرنے لگی۔۔

میں ٹھیک ہوں ہیر لیکن تمہیں ان سے الجھنے کی کیا ضرورت تھی اگر خدانخواستہ مجھے پہنچنے میں دیر هو جاتی تو کچھ بھی ہو سکتا تھا۔۔ وه اسے سرزنش کرنے لگا۔۔

پروفیسر میں پاگل تھوڑی ہوں جو فضول میں ان بد تمیزوں سے الجھوں۔۔ وه ایک معصوم لڑکی کو تنگ کر رہے تھے مجھ سے برداشت نہیں ہوا اس لئے اسکی مدد کرنے گئی تھی بس۔۔۔

وه شوں شوں کرتے بولی تو باریس نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔

اتنے میں ایک ملازم دروازه کھٹکھٹا کر آفس میں داخل ہوا اور ٹیبل پر جوس کا گلاس رکھتے خاموشی سے باہر چلا گیا۔۔۔

تم جوس پی لو تب تک میں بینڈ ایج کرلوں۔۔ اسے حکم دے کر وه قدرے ایک طرف رکھے صوفے پر بیٹھ گیا اور باكس سے بینڈ ایج نکال کر ماتھے پر لگانے لگا۔۔

ہیر اسکی چیئر پر بیٹھتی آگے دھرے میز پر سر ٹکا گئی۔۔ اسے دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھیں بوجھل ہونے لگیں اور جانے کب وه وہیں بیٹھی بیٹھی سو گئی۔۔

باریس نے بینڈایج کر کے اسے دیکھا تو اسے آنکھیں بند کیے دیکھ کر پکار بیٹھا۔۔

ہیر ۔۔ ؟؟

جواب ندارد پا کر وه نفی میں سر ہلاتا خاموشی سے باہر نكلتا آفس کا دروازه بند کر گیا۔۔

سپاٹ چہرے کے ساتھ اب اسکا رخ پرنسپل آفس کی جانب تھا۔۔

باریس کی ہمراہی میں اس نے “عالم ولا” میں قدم رکھا۔۔ آج جو کچھ اسکے ساتھ سرزد ہو چکا تھا اس نے اس کے اعصاب پر اتنا بوجھ ڈالا کہ گھر آتے آتے اسکا جسم بخار سے جلنے لگا تھا۔۔

صحن میں سے سب کی آوازیں گونج رہی تھی۔۔ اس نے کوفت سے باریس کو دیکھا جو اسے ریلیکس ہونے کا اشارہ کرتے اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔

اس نے ابھی چند قدم اٹھائے ہی تھے کہ اسے زوردار چکر آیا اور وه لہرا کر نیچے گرتی بے ہوش ہوگئی۔۔

سب سے پہلے شاہانہ کی نظر اس پر پڑی۔۔

ہائے میری کُڑی اللّه خیر کرے !!

وه جلدی سے اس تک پہنچیں ۔۔ ان کی دیکھا دیکھی باقی سب بھی فوراً سے ان کے پیچھے آئے۔۔

ہیر پتر اکھاں کھول پتر !! وه اسکا چہرہ تهپتهپانے لگیں۔ ابا جی اس کو تو بہت تیز بخار ہے ابراہیم اسکو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں یا ایسا کریں ڈاکٹر کو گھر بلا لیں۔۔

سبکتگین عالم سے کہہ کر وه شوہر سے مخاطب ہوئیں۔۔

پڑے ہٹو نیں منہ ویکھ رئے ہو سب۔۔۔ پتر اسکو کمرے میں لے کہ جا اور عباد تو ڈاکٹر کو بلا لا شاباش !!

معصومہ بی غرارہ سنبهالتیں آئیں اور بیٹوں کو حکم دیتیں شاہانہ سے مخاطب ہوئیں جو بےسدھ پڑی ہیر کو اٹھا نے کے جتن کررہی تھیں۔۔

شاہانہ حوصلہ کر کچھ نہیں ہوا ہیر کو ابھی ہوش آ جاتا ہے۔۔

جی بے بے !!

ساس بہو کے پہلی بار بلکل نارمل انداز میں بات

کرنے پر اس پریشانی کے موقع پر بھی سب کو شدید حیرت ہوئی۔۔

کہاں وه سیدھے منہ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتیں اور کہاں یہ پیار بھرا انداز۔۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان چاہے زبان کا جتنا بھی کڑوا ہو اپنوں کو تکلیف میں دیکھ کر اسکا دل موم ہوجاتا ہے تو کیا سمجھے جی ” اسی لئے تو وه انسان کہلاتا ہے “

کچھ وقت بعد ڈاکٹر کمرے میں ہیر کا معائنہ کررہا تھا۔۔ شاہانہ ، ابراھیم عالم ، عباد عالم اور سبکتگین عالم ایک طرف کھڑے خاموشی سے ڈاکٹر کی کاروائی ملاحظہ کر رہے تھے۔۔

ڈاکٹر نے اسکا مکمل چیک اپ کرنے کے بعد کاغذ پر کچھ دوائیاں لکھیں اور کاغذ ابراھیم عالم کی طرف بڑھایا جسے انہوں نے آگے بڑھتے تھام لیا۔۔

زیادہ پریشانی والی بات نہیں ہے انہوں نے سٹریس لیا ہے کسی بات کا جس سے انکو بخار ہوا ہے اور نقاہت سے یہ بے ہوش ہو گئی ہیں۔۔ کچھ وقت میں ان کو ہوش آ جائے گا۔۔ کچھ کھلا کر یہ دوائی دے دیجیے گا۔۔ کہہ کر وه اپنا بیگ اٹھا کر کھڑا ہوگیا۔۔

شاہانہ کے علاوہ سب کمرے سے باہر چلے گئے۔۔

وه پرسوچ نظروں سے اسکے سوجھے چہرے اور ہاتھوں پر جا بجا لگی خراشوں کو دیکھنے لگیں۔۔

آخر کس بات کی ٹینشن لی ہے اس نے اور یہ چوٹیں کیسے آئیں۔۔؟

اسکا ماتھا چوم کر وه آہستہ سے باہر آئیں۔

صحن عبور کر کے انہوں نے باریس کے کمرے میں جھانکا جو اس سب سے بے خبر بیڈ پر نیم دراز کانوں میں ایئر پوڈز لگائے لیپ ٹوپ پر کام کررہا تھا۔۔

شاہانہ پر نظر پڑتے ہی وه لیپ ٹوپ رکھتا اٹھ بیٹھا۔۔

جی چچی کوئی کام تھا آپ کو۔۔؟؟

پتر باہر آ ذرا بات کرنی ہی تیرے سے۔۔

کہہ کر وه پلٹ گئیں تو وه الجھتا ہوا پیروں میں جوتا ڈال کر ان کے پیچھے چل دیا۔۔

سب بچوں کو باہر لان میں بھیج کر وه سنجیدگی سے باریس سے مخاطب ہوئیں۔۔۔

پتر سچ سچ بتا آج یونیورسٹی میں کیا ہوا ہے ۔۔؟؟

انکی بات پر باریس چونک گیا۔۔

کہیں ہیر نے تو نہیں ۔۔؟؟ میں آپ کی بات سمجھا نہیں چچی۔۔!!

باری بیٹا شاہانہ جو پوچھ رہی ہے بتا دے نا ۔۔

سبکتگین عالم پوتے سے مخاطب ہوئے۔۔

دوستوں سے جھگڑا ہوگیا تھا اسکا بات مار پیٹ تک پہنچ گئی تھی لیکن میں وقت پر پہنچ گیا تھا زیادہ مسلہ نہیں ہوا آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ وه ٹھیک ہے ۔۔ وه سنجیدگی سے بولا۔۔

“خاک ٹھیک ہے وه پتر بخار میں تپ رہی ہے میری ہیر ، ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہتی ہے آج اسے یوں خاموش پڑا دیکھ کر میرا تو دل ہول رہا ہے۔۔ آخر کڑیوں سے لڑائی کی اتنی ٹینشن لے لی اس نے کہ بے ہوش ہو گئی۔۔ پتر تو کچھ چھپا تو نہیں رہا۔۔ ؟”

ہیر کے بے ہوش ہونے کا سن کر وه چونکا۔۔ کب بے ہوش ہوئی میرے ساتھ ہی ٹھیک ٹھاک آئی تھی۔۔

بس پتر تیرے کمرے میں جاتے ہی وه باہر گر گئی تھی۔۔ ڈاکٹر دیکھ گیا ہے تھوڑی دیر تک ہوش آ جائے گا۔۔ میں دیکھتی ہوں اسے۔۔ اور آیندہ یونی وراسٹی میں اس کی خبر لیتا رہا کر۔۔

اپنی وینا اور موسیٰ تو سمجھدار ہیں لیکن ہیر پوری کی پوری جھلی ہے۔۔ تفکر سے اسے کہتیں وه اٹھیں تو وه محض سر ہلا کر رہ گیا۔۔

دھیرے دھیرے اس نے آنکھیں کھولیں تو اپنے ارد گرد سب کو پا کر حیران ہوتی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔

ماں صدقے پتر آرام سے،،، اب کیسا محسوس کررہی ہے ۔۔ ؟؟

شاہانہ اسے تکیہ کے سہارے بٹھاتے ہوئے بولیں۔۔

میں ٹھیک ہوں !! اس نے دکھتے سر کو تکیہ سے ٹکا کر سب کو دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔

سب باری باری اس سے آ کر ملے۔۔ بڑے اس کو صحت یابی کی دعا دیتے ایک ایک کر کے باہر چلے گئے۔۔

اب کمرے میں صرف ينگ پلٹن رہ گئی تھی۔

شاہانہ ہیر کے لئے سوپ بنانے کی غرض سے کچن میں چلی گئیں۔۔

رجا مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اسکے سامنے آئی۔۔۔

کیسی ہو ہیر ۔۔ ؟؟

ٹھیک ہوں !! وه بے تاثر چہرے کے ساتھ بولی تو رجا آنکھیں گھماتی کمرے سے چلی گئی۔۔

ہونہہ!! ابھی تک اکڑ نہیں گئی اسکی۔۔

اسکے جانے کے بعد کمرے میں ربیعہ رہ گئی۔۔ رجا کی نسبت اس کے چہرے پر ہیر کے لئے نرم تاثر تھا۔۔

جلدی ٹھیک ہو جاؤ گی اور زیادہ سٹریس نہ لیا کرو۔۔ لاکھ ہمارا آپس میں جھگڑا ہو لیکن سچ کہوں تم ہنستی مسکراتی ہی اچھی لگتی ہو۔۔

ربیعہ کے بولنے پر وه ہلکا سا ہنس دی۔۔

بیٹھ جاؤ!!

ہیر نے اسے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وه اس کے پاس ہی بیٹھ گئی۔۔

اوینا نہیں آئی ۔۔ ؟؟ ہیر کے استفسار پر ابھی وه کچھ کہنے ہی لگی تھی دروازہ کھول کر اوینا اندر آئی اور ہیر سے لپٹ گئی۔۔

یار میں ایک رات کیا وہاں رہ گئی تم نے تو اپنا حال ہی بگاڑ لیا ہے۔۔

وه فکرمندی سے اسے ساتھ لگائے بولی تو ہیر اسکے اتنے پیار پر مسکرا دی۔۔

ٹھیک ہوں یار سب اتنا پریشان کیوں ہو رہے ہیں۔۔

میری ہر وقت شرارتیں کرنے والی ہیر ایسے چپ کر کے بستر پر پڑی رہے گی تو سب نے پریشان تو ہونا ہے نہ دیکھ کیسے چوا سا منہ نکل آیا ہے تیرا اب تیرا میں خود دیهان رکھوں گی۔۔

شاہانہ موسیٰ کے ہمراہ سوپ کی ٹرے تھامے اندر داخل ہوئیں۔۔

لائیں چاچی میں پلا دیتی ہوں۔۔ اوینا نے اٹھ کر ان کے ہاتھ سے ٹرے پکڑی۔۔

وینا پتر سوپ پلا کر اسے دوائی بھی دے دینا۔۔ میں ذرا بے بے کو دیکھ لوں۔۔۔

چولہے کے پاس کھڑیں يقیناً مجھے چولہے میں ڈالنے کے منصوبے بنا رہی ہوں گی۔۔

ان کے جانے کے بعد موسیٰ کا دیہان ربیعہ پر پڑا۔۔

اس نے ہونٹ گول کرتے اسے دیکھا جو اب پہلے سے دبلی ہو گئی تھی۔۔

“دشمنوں کے مزاج بدلے بدلے نظر آتے ہیں،،،

یہ کس کی شامت کے آثار نظر آتے ہیں۔۔۔!!

اوینا بھی ربیعہ کو دیکھنے لگی تو وه ان کی نظروں سے پزل ہو گئی۔۔

ہیر نے تنبیہی نظروں سے اسے گھورا تو وه هنستا ہوا اس سے حال دريافت کرنے لگا۔۔

ربیعہ پہلے تو جھجھکی پھر وه بھی ان کے ساتھ باتوں میں شامل ہو گئی۔۔ ربیعہ کو ان کے ساتھ وقت گزارنے پر احساس ہوا کہ وه اتنے بھی برے نہیں تھے جتنا وه انہیں سمجھتی تھی۔۔

جب وه کافی دیر بعد اٹھ کر جانے لگی تو ہیر نے نرمی سے اسے دیکھتے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔

فرینڈز ۔۔؟

وه ہلکا سا ہنستی اسکا ہاتھ تھام گئی ۔۔

یس فرینڈز !!

وی آر سوری یار کہ ہم نے تمہیں اتنا تنگ کیا ۔۔ اوینا معذرت خواہ انداز میں بولی۔۔

کوئی بات نہیں ۔۔ وه اسکو مسکرا کر دیکھتی موسیٰ کو سرے سے نظر انداز کرتی چلی گئی۔۔

یار یہ اتنا مسکرا مسکرا کر کیوں بات کر رہی تھی کہیں بندے کو گرانے کا اراده تو نہیں ۔۔۔

وه دل کے مقام پر ہاتھ رکھتا “ٹھیٹھ عاشقوں” کے انداز میں بولا تو اوینا نے رکھ کر ایک تھپڑ اس کی پیٹھ پر مارا۔۔

شرم کرلو کچھ۔۔ اسکو سرزنش کرتی وه ہیر کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگئی۔۔