Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan NovelR50480 Kithe Phas Gayi Heer Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Kithe Phas Gayi Heer Episode 8
Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan
دفعتاً بارش کی بوندیں تیزی سے گرنے لگیں تو سب اندر کی طرف بھاگے۔۔۔ باریس لان کی سیڑھیاں چڑھتا ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ ابھی اسکا اندر جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔
ہیر جو سب سے آخر میں تھی اس نے بارش سے بچنے کے لیے تیزی سے لان کی سیڑھی پر قدم رکھا کہ اچانک اسکا پیر پهسلا۔۔۔
اسکے گلے سے دل خراش چیخ بلند ہوئی جو باریس کا سانس ایک لمحے کو روک گئی۔۔۔
اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر ہیر کا بازو تھام کر اسے گرنے سے بچایا۔۔۔
ہیر خوف سے آنکھیں میچے اس کی شرٹ کو مٹھی میں جکڑ گئی ۔۔۔۔
دونوں کے دل بے ہنگم انداز میں دھڑک رہے تھے۔۔۔ چند لمحے وه یونہی ایک دوسرے کو تھامے کھڑے رہے۔۔۔
باریس بے خود سا اسکی کانپتی پلکوں کے رقص کو دیکھے گیا ۔۔۔
ہیر کو سب سے پہلے ہوش آیا۔۔۔ اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔
باریس کو اپنے اتنے قریب پا کر اسکا چہرہ پل میں سرخ ہوا۔۔۔
جھٹکے سے اپنا آپ اس سے چھڑواتی وه اندر بھاگ گئی۔۔۔
باریس نے ٹھنڈی آہ بھرتے اپنے آپ کو ڈپٹا ۔۔۔ آخر ہو کیا رہا ہے مجھے۔۔۔۔ ؟؟؟
وه اوینا اور موسیٰ کے ہمراہ تیز قدم اٹھاتی یونی میں داخل ہوئی۔۔۔
ان کے پیچھے لیزا یونی کا جائزہ لیتی گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔۔۔ اسکی نگاہیں باریس کو تلاش رہی تھیں جو اسے تھوڑی سی تگ و دو کے بعد ہی نظر آ گیا۔۔۔
وه بلیک پینٹ اور بلیک ہی شرٹ میں وائٹ شوز پہنے وہاں موجود ہر لڑکی کی نگاہ کا مرکز تھا۔۔۔
اس نے بالوں کو جیل سے سیٹ کرنے کی بجائے میسی سی لک دے کر ٹین ایجرز کے سٹائل میں سیٹ کر رکھا تھا جو ہر تھوڑی دیر بعد اس کے ماتھے پر بکھر جاتے۔۔۔
کہنیوں تک مڑے شرٹ کے بازو کے ساتھ کلائی میں پہنی سمارٹ واچ اور اس پر مزید اسکا خوشگوار مزاج۔۔۔۔
لڑکیاں اسے دیکھ کر پاگل ہوئی جا رہی تھیں۔۔۔
ایسے میں صرف ہیر تھی جس نے اس پر ایک نگاہِ غلط تک نہ ڈالی تھی۔۔۔
جونہی وه وہاں پہلے سے موجود سٹوڈنٹس کی طرف بڑھی اس کی کلاس فیلوز چیختے ہوئے آ کر اس سے لپٹ گئیں۔۔۔
اوہ مائی گاڈ!!!
ہیر یہ تم ہو جسٹ لک ایٹ یو یار ۔۔۔!!
اس کے اونچا بولنے پر پاس کھڑے کچھ پروفیسرز اور سٹوڈنٹس نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔۔ ان کی آنکھوں میں ستائش ابھری۔۔۔
بلیو چنٹ والے کھلے گھٹنوں سے اوپر آتے فراک کے ساتھ بلیو جینز اور وائٹ جوگرز میں وه آج بھی سب سے منفرد لگ رہی تھی۔۔۔
اس نے چھوٹا سا بلیو ریشمی سكارف سر پر اس طرح سیٹ کر رکھا تھا کہ اس کے دونوں پلو آگے سے ہو کر پیچھے کی جانب گرتے تھے۔۔۔
سکارف سے چند لٹیں باہر نکلتیں اسکے گلال بكهیرے گالوں پر بوسہ دے رہی تھیں۔۔۔
سكارف سے اس کے لمبے کھلے سیاہ ریشمی بال سیدھے کمر پر گر رہے تھے۔۔۔
اس نے گرے کانٹکٹ لینز بدل کر سوٹ کے حساب سے نیلے لینز لگا لئے تھے۔۔۔
گلابی لبوں پر مسكان بكهیرتی وه اپنی کلاس فیلوز سے ملنے لگی۔۔۔۔
باریس جو اپنے ایک کولیگ سے بات کر رہا تھا اسے مسلسل اپنے پیچھے کی جانب نظریں ٹکاتے دیکھ کر اس نے مڑ کر دیکھا۔۔
اس کی آنکھیں پلٹنے سے انکاری ہوئیں۔۔۔۔ آج وه اسے بے حد خوبصورت لگی۔۔۔ دنیا کی سب عورتوں سے حسین۔۔۔!!
ساتھ ہی اسے احساس ہوا کہ اسے اس طرح دیکھنے والا وه اکیلا نہیں تھا۔۔۔
اس نے جبڑے بھینچ لئے۔۔۔ اوینا کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کرتے وه موبائل پر کسی سے یونی وین کی بابت پوچھنے لگا جس میں ان سب نے سفر کر کے مری کے پر فزا مقامات کی سیاحت کے لئے جانا تھا۔۔۔
ہلکے گلابی شارٹ کرتے جینز کے ساتھ گلابی جوگرز پہنے وه ہیر کو ایک منٹ کہہ کر باریس کے پاس آئی۔۔۔
جی بھائی ،، آئی مین پروفیسر۔۔۔ !!
ہیر کے ساتھ گرلز والی سائیڈ پر جاؤ۔۔۔ اسے حکم دے کر وه وہاں سے چلا گیا۔۔۔
وه واپس جاتی ہیر کو اسکا حکم سنا گئی۔۔۔
ہیر کی بھنویں تن گئیں۔۔۔
کیوں جاؤں میں وه ہوتے کون ہیں مجھ پر حکم چلانے والے۔۔۔ تم نے جانا ہے تو جاؤ میں نہیں جا رہی۔۔۔
ہیر یہاں سین کری۔ایٹ مت کرو۔۔۔ بھائی کو غصہ آ گیا تو وه اس جگہ کا بھی لحاظ نہیں کریں گے پلیز چلو۔۔۔۔ جیسے تیسے کرتے وه اسے وہاں سے لے گئی۔۔۔
مقررہ وقت پر وینز یونی کے گیٹ کے باہر پہنچ گئی۔۔ آہستہ آہستہ سب سٹوڈنٹس وین میں جا کے بیٹھنے لگے۔۔۔
اوینا ہیر کا بازو پکڑ کر جلدی سے باہر آئی۔۔۔
موسیٰ نے وین کی کھڑکی سے باہر جھانکا۔۔۔
یہاں نہیں۔۔۔ یہاں وه ” k ” گروپ موجود ہے ایویں کوئی تماشا نہ کریں۔۔۔ اگلی وین میں بیٹھو۔۔۔
اپنے چھوٹے سے بیگ کے دونوں سٹریپس ڈال کر وه اوینا کے پیچھے اگلی وین کی طرف جانے لگی جہاں وین کے دروازے میں باریس کھڑا سٹوڈنٹس کو تمیز کے دائرے میں رہنے کی تلقین کررہا تھا۔۔۔
لیزا پہلے ہی باریس کے ساتھ اس وین میں بیٹھ چکی تھی۔۔۔ بلیک ٹائٹ پینٹ کے ساتھ ریڈ شرٹ میں اپنے ارد گرد منڈلاتی وه باریس کو کوفت میں مبتلا کررہی تھی۔۔۔
اوینا آرام سے وین میں چڑھ گئی۔۔۔
ہیر منہ بناتی وہیں کھڑی ہو گئی۔۔۔ وین کا دروازه اتنا او نچا تھا کہ اسے لگا وه نہیں چڑھ پائے گی۔۔۔
اوینا اپنی اچھی ہائیٹ کی وجہ سے آرام سے جا چکی تھی۔۔۔
اس نے کوفت سے ارد گرد دیکھا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وه واپس جانے کے لیے پیچھے ہٹتی باریس اس کے سامنے ہاتھ پھیلا چکا تھا۔۔۔
کم آن وین سٹارٹ ہونے لگی ہے۔۔۔!
ہیر نے ایک پل کے لئے ہچکچا کر اسے دیکھا۔۔ پھر وه اس کا ہاتھ تھام گئی۔۔۔
اس نے ایک پیر مشکل سے دروازے کے نیچے بنے سٹینڈ پر رکھا ہی تھا کہ باریس نے اسے اوپر کھینچ لیا۔۔۔
اس نے سہارا لینے کے لئے دونوں ہاتھوں سے باریس کے کاندھوں کو پکڑ لیا۔۔۔
نظر جھکا کر کسی کی نظروں میں آنے سے پہلے وه جلدی سے اوینا کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی۔۔۔
باریس نے وین کا دروازه بند کرتے اپنی جگہ سنبهالی جہاں سے وه تمام سٹوڈنٹس پر نظر رکھ سکتا تھا۔۔۔
اس کے روعب کی وجہ سے اسے سٹوڈنٹس ڈسپلن کی ڈیوٹی دی گئی تھی۔۔۔
وین اپنی منزل کی جانب رواں ہوئی۔۔۔ وین کی سب کھڑکیاں کھل گئیں جہاں سے ٹھنڈی تیز ہوا کے جھونکے اندر داخل ہونے لگے۔۔۔
اوینا تو سونے کی تیاری کررہی تھی کیوں کہ سفر کے دوران سونا اسے بہت پسند تھا۔۔۔
کسی منچلے نوجوان نے موسم کی مناسبت سے گانا لگا دیا۔۔۔
ہیر نے جھک کر اوینا کو دیکھا جو اس کے کندھے کے ساتھ لگی سو گئی تھی۔۔۔
گانے کے بول اس کے دل پر اثر کرنے لگے کیوں کہ یہ گانا اس کا فیورٹ تھا۔۔۔
اس نے دهیمی مسكان چہرے پر سجاتے سیٹ سے سر ٹکاتے آنکھیں موند لیں۔۔۔
بوند بوند میں،،، گم سا ہے !!
یہ ساون بھی تو،،، تم سا ہے !!
اک اجنبی احساس ہے !!
کچھ ہے نیا کچھ خاص ہے !!
قصور یہ سارا،،، موسم کا ہے !!
دفعتاً اسے اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی۔۔۔
اس نے آہستہ سے آنکھیں وا کیں تو اسکی نگاہیں باریس کی نگاہوں سے ٹکرائیں۔۔۔۔ جو مسکراتی گہری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس کی دھڑکنیں پل میں منتشر ہوئیں۔۔۔
یہ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں۔۔۔ ؟؟
دل میں سوچتی وه فوراً سے نظروں کا زاویہ موڑ گئی۔۔۔
اسکے گھبرانے پر باریس کے چہرے پر دهیمی مسکان ابھری۔۔۔
جسے دیکھ کر سٹوڈنٹس نے ہوٹنگ شروع کردی۔۔۔
او ہو کیا بات ہے پروفیسر باریس آج آپ بڑا مسکرا رہے ہیں۔۔۔
کسی پروفیسر نے جملہ کسا تو وه ہیر پر ایک نظر ڈال کر دھیمے سے ہنس دیا۔۔۔
کون ہے وه سر ۔۔۔ ؟؟
کسی لڑکی کی پر شوخ آواز گونجی۔۔۔
ہے کوئی پاگل سی۔۔۔ !!
وه مسکراہٹ دبا کر بولا تو وین میں ایک شور برپا ہو گیا۔۔۔۔
ہیر دھک دھک کرتے دل کے ساتھ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔۔
لیزا نے چمکتی آنکھوں سے باریس کو دیکھا۔۔۔
اور میرے سوا وه کون ہو سکتی ہے ۔۔۔؟
خوش فہمیوں کے جال بنتی وه باریس کے پاس جا کر بیٹھ گئی جہاں اور بھی کئی پروفیسرز موجود تھے جن میں سے چند ایک اسکے کلاس فیلوز رہ چکے تھے۔۔۔ وه ان کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگئی۔۔۔
وین اپنی منزل پر جا کر رک گئی ۔۔۔۔ سب سٹوڈنٹس پروفیسرز کی ہمراہی میں وین سے نیچے اترنے لگے۔۔۔
ہیر نے دروازے کے قریب قدم رکھا تو باریس نے بغیر اس کے کہے اسکا ہاتھ تھام کر اسے نیچے اترنے میں مدد دی۔۔۔۔
اسکے پیچھے اوینا شرارتی مسكان چہرے پر سجا کر دهپ کی آواز سے وین سے نیچے اتری۔۔۔
آرام سے زمین توڑنے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔!!
ایک کلاس فیلو اس کے ساتھ چلتا اس سے مخاطب ہوا تو وه تیوری چڑھا کر اسکی طرف پلٹی۔۔۔
زمین ٹوٹے یا نہ پہلے تیرا منہ ضرور ٹوٹے گا۔۔۔ ہونہہ !!
لڑاکا لڑکیوں کی طرح بول کر وه آگے جاتی ہیر کے پیچھے بھاگی۔۔۔
موسیٰ بھی سٹوڈنٹس کا ہجوم چیڑ کر ان سے آ ملا۔۔۔
شام تک وه مری کے چند قابلِ سیاحت مقامات میں تفریح کرتے رہے۔۔۔
اب ان کا رخ ” نتھیا گلی ” کی جانب تھا جہاں شام کے ملگجے اندھیرے میں انتہائی دلکش نظارہ ان کا منتظر تھا۔۔۔
وه اوینا کا ہاتھ تھامے بچوں کی طرح خوش ہوتی ہرے بھرے درختوں میں گھری نتھیا گلی میں چہل قدمی کے انداز میں چل رہی تھی۔۔۔
ان سے ذرا فاصلے پر باریس ان کے پیچھے آ رہا تھا۔۔۔
بالاخر وه اس مقام پر پہنچ گئے جہاں سے دهند میں لپٹی پہاڑیاں پوری شان و شوکت سے کھڑیں ان کا استقبال کررہی تھیں۔۔۔
وه دونوں بھاگتی ہوئیں آئیں اور جنگلے پر ہاتھ ٹکا کر کھڑی ہو گئیں۔۔۔
ونڈرفل !! دونوں کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔۔
ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وه حقیقی دنیا سے تصوراتی دنیا میں آ گئی ہوں۔۔۔ جہاں کی وه ملکہ ہیں اور اونچے پہاڑ انکے آگے جھکے انہیں انکی سلطنت میں خوش آمدید کہہ رہے ہوں۔۔۔
ہیر نے خوشی سے تمتماتے چہرے سے اسے دیکھا۔۔۔
یار جلدی کرو پکس بناؤ۔۔۔
اوینا نے اپنا سمارٹ فون نکالا۔۔۔
تقریباً سب ہی سٹوڈنٹس ساتھ لائے كیمروں اور کچھ اپنے فونز میں اس حسین منظر کو قید کررہے تھے۔۔۔
ہیر اپنا رخ اوینا کی جانب موڑ کر اس طرح کھڑی ہو گئی کہ اس کے پیچھے دهند میں لپٹے پہاڑ بہت دلکش نظارہ پیش کر رہے تھے۔۔۔
اوینا نے اپنا فون ہاتھ میں پکڑ کر بلند کیا۔۔۔ ساتھ ہی اسکی نگاہ جنگلے کے قریب کھڑے باریس پر پڑی جو ابھی ابھی سٹوڈنٹس کے ساتھ تصویر بنا کر فارغ ہوا تھا۔۔۔
اوینا کو شرارت سوجھی۔۔۔
ہیر تھوڑا لیفٹ سائیڈ پر ہو،، ہاں تھوڑا اور بس !!
ہیر نے کسی احساس کے تحت گردن موڑ کر بائیں جانب دیکھا جہاں باریس جنگلے کے پاس کھڑا موبائل پر مصروف تھا۔۔۔
ادھر اس نے سر اونچا کر کہ اسے دیکھا ہی تھا کہ ادھر اوینا کے فون میں تصویر محفوظ ہو گئی۔۔۔
اس نے محظوظ ہو کر تصویر کو زوم کر کے دیکھا۔۔۔
اسے انگوٹھا دکھاتی وه اسے مزید پوز دینے کا اشارہ کرتی کھچا کھچ تصویریں اتارنے لگی۔۔۔
اس کے بعد انہوں نے چند اکٹھی تصویریں بنانے کے لیے باریس کو اپنے پاس بلا لیا۔۔۔
باری کہاں تھے تب سے میں تمہیں کب سے ڈھونڈ رہی ہوں میری کچھ پكس بنا دو پلیز ۔۔
باریس کو ان کی تصویر لینے کے لئے کھڑے دیکھ کر وه جھٹ سے اسکے سامنے آتے ہوئے بولی۔۔۔
ہیر اور اوینا نے سلگ کر اسے دیکھا۔۔۔
او ہیلو،، مائکل جیكسن کی بہن! کل آنا ۔۔۔۔
ہیر سكارف سے نکلتی لٹ کو انگلی پر لپیٹتی اداۓ بےنیازی سے بولی۔۔۔
اوینا کی ہسی نکل گئی۔۔۔۔
باریس بچارا پهس گیا تھا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وه کچھ کہتا موسیٰ بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوا۔۔۔
کیا ہوگیا سب ایسے کیوں کھڑے ہو۔۔۔؟؟
جواباً لیزا معصومیت سے اسے دیکھ کر کہنے لگی۔۔
ایکچولی میں باری سے کہہ رہی تھی کہ میری کچھ پکس بنا دو۔۔۔ لیکن وه دونوں بھی اسی لئے کھڑی ہیں۔۔
اس نے کچھ فاصلے پر کھڑی ہیر اور اوینا کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
تم ایسا کرو ان کی پکس بنا۔۔۔۔۔۔
موسیٰ نے اسکی بات کاٹ کر اسکے ہاتھ سے كیمرہ پکڑ لیا۔۔۔
وه ہکا بكا سی اسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔
تو کوئی مسلہ نہیں لائیں میں بنا لیتا ہوں۔۔ ایسی ایسی پکس لوں گا نہ کہ آپ یاد رکھیں گی۔۔۔
وه ہیر کو آنکھ مار کر گویا ہوا۔۔۔۔
لیزا اندر سے كلس کر رہ گئی۔۔۔
اوکے چلو ۔۔۔ !!
وه تن فن کرتی ان سے تھوڑے فاصلے پر چلی گئی۔۔۔
اپنی طرف سے اس نے بہترین پوز دیا۔۔۔
موسیٰ نے ریڈی کہہ کر کلک کی آواز سے تصویر كیمرہ میں محفوظ کر لی۔۔۔
اہاں اہاں !!
اس نے ہنسی روکنے کو مصنوئی کھانسنا شروع کر دیا۔۔
کیوں کہ تصویر میں اسکا آدھا منہ غائب تھا۔۔۔
اسی طرح اسنے اسکی بے شمار تصویریں اتاریں جن میں کسی میں اس کی ٹانگیں بڑی آ رہی تھیں تو کسی میں اسکا منہ پورا غائب تھا۔۔۔
ہیر اور اوینا بھی تب تک فارغ ہو چکی تھیں۔۔۔ اتنا خوشگوار موسم تھا کہ انکا یہاں سے جانے کو دل ہی نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔
بھائی یہاں سے اب کہاں جانا ہے۔۔ ؟؟
اوینا باریس سے ہم کلام ہوئی۔۔۔
” ایوبیہ کی پہاڑیوں پر”
پھر واپسی کے لئے نکلیں گے ۔۔۔ اس سے پہلے کسی جگہ رک کر کچھ ریفریشمنٹ کا انتظام کر لیں گے۔۔۔
اتنے میں ہیر کا ایک کلاس فیلو اس کے پاس آتا اسکے ساتھ تصویر بنانے کے لئے اسرار کرنے لگا۔۔۔
ہیر نے گہری سانس بھر کر حامی بھری۔۔۔
اس سے پہلے کہ وه موبائل میں تصویر اتارتا باریس نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کیا۔۔۔
جبڑے بھینچ کر اسے دیکھتے وه سرد لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
وه کسی “میل پرسن” کے ساتھ پکس نہیں بنواتی۔۔۔
اسے جانے کا اشارہ کر کے وه وہاں سے واپسی کے راستے چلا گیا۔۔۔
یہ کیا تھا۔۔۔؟؟
ہیر نے تنک کر اسکی پشت کو دیکھا۔۔۔
اوینا میری برداشت کی حد ختم ہوتی جا رہی ہے۔۔۔
وه غصے سے نتھنے پھیلا کر بولی۔۔۔
یار میں اب کیا کہہ سکتی ہوں مجھ پر کیوں غصہ کررہی ہو۔۔۔
وه خفگی سے بولی تو ہیر اسکا بازو پکڑ کر دوسرے سٹوڈنٹس کی دیکھا دیکھی واپس وین تک جانے لگی۔۔۔
موسیٰ بھی لیزا کے ہمراہ جلدی سے اس کے پیچھے آیا۔۔
یار ہمیں کیوں بھول جاتے ہو بار بار !!
وه شکوہ کر گیا۔۔۔
تو بھولنے والی شے ہے کھوتے ؟؟
ان کے بلکل پیچھے ہیری کا ایک دوست لا پرواہ انداز میں چل رہا تھا۔۔۔ اس نے ہیر کو دھکا دینے کے لئے ہاتھ آگے کیا لیکن دھکا لیزا کو جا لگا کیوں کہ ہیر موسیٰ کو چھیڑ کر وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔
لیزا دھڑام سے نیچے گری۔۔۔ اس کے میک اپ زدہ چہرے پر کالے نشان پڑ گئے جب کہ ہاتھ اور گھٹنے ذرا سے چھل گئے۔۔۔۔
اس نے نیچے جھکے ہی اس لڑکے کو دیکھ لیا تھا جو اسے دھکا دے کر تیزی سے بھاگا تھا۔۔۔
یو ایڈیٹ !!
اس نے جلدی سے اٹھ کر اسکے پیچھے بھاگتے ہاتھ میں پکڑا بیگ اسکے سر پر دے مارا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وه اسے روک پاتی وه وہاں سے فرار هو گیا۔۔۔
پاگل انسان سارا میک اپ خراب کر دیا۔۔
جلدی سے بیگ سے ٹشو نکال کر چہرہ تهپتهپاتی وه وین کی طرف بھاگی۔۔۔
سب نئی منزل کی جانب رواں ہو گئے۔۔۔ ہیر اوینا کے سنگ کھلکھلاتی اس بات سے بے خبر تھی کہ اس کے ساتھ تصویر بنانے کے بہانے وه اسکا موبائل فون چرا کر جا چکا تھا۔۔۔
ایوبیہ کی پہاڑیوں پر قدم رکھتے ہی وه مسمرائز ہو گئی۔۔۔
ایسا لگتا تھا وقت وہیں ٹھہر گیا ہو۔۔۔
چاروں جانب سے قد آور سرسبز و شاداب درختوں سے گھری پہاڑیاں کچھ ایسا ہی دلکش منظر پیش کر رہی تھیں۔۔۔
اونچی نیچی گھاس کی چادر بچھی پہاڑیوں کے وسط میں چھوٹی سی جھیل چاروں جانب پھیلے درختوں کا عکس اپنے اندر محفوظ کر رہی تھیں۔۔۔۔
ٹھنڈی ہوا کے زبردست جھونکے سے اسکے سر سے سكارف سرکتا کاندھوں پر آ ٹھہرا۔۔
کالے گھنے سلكی بال لہرا کر ادھر ادھر ہوا میں اڑنے لگے۔۔۔ اس نے ہاتھ پھیلا کر آنکھیں موند لیں۔۔۔
ویلکم می ایوبیہ!!
دھیمی مسكان چہرے پر سجاتی وه ان ہواؤں سے سرگوشی کر گئی۔۔۔
“کاش یہ خوشگوار موسم آپ کے دل کا موسم بھی بدل دے”
وه جانے کب اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
اسے مسحور دیکھ کر وه اسکے قریب جھکتا سرگوشی کرتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
وه اسکے کہے الفاظ پر ساکت کھڑی رہ گئی۔۔۔
اچانک اس کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔۔
مجھے “آپ” کہا۔۔۔۔
پھر ایكا ایكی اسکی مسکراہٹ سمٹ گئی۔۔۔
اسکا انکار یاد آتے ہی اسکا چہرہ سپاٹ ہوگیا۔۔۔
دور دوربین سے دیکھتے ایک شخص نے اس پر فوکس کر کے اپنے ساتھی کو طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھا۔۔۔
اوینا نے پریشانی سے پیشانی مسلی۔۔۔
ہیر یار کہاں ہو کال کیوں نہیں اٹھا رہی۔۔
وه خود کلامی کرتی ادھر ادھر نظر دوڑانے لگی۔۔۔
پہاڑی پر چڑھتے ہی وه ہیر سے جدا ہو گئی تھی۔۔۔ اکسائٹمنٹ میں اسے خیال ہی نہ رہا کہ ہیر بہت پیچھے رہ گئی تھی۔۔۔
اب جب وه اسے تلاش کرنے لگی تو وه اسے کہیں بھی نہ ملی۔۔۔ پریشانی سے وه رو دینے کو ہوئی۔۔۔
اس نے موسیٰ کو کال ملائی اور ساری صورتحال اسے بتا دی۔۔۔
وه جلدی سے سٹوڈنٹس کے ہجوم میں اسے ڈھونڈتا ہوا اس تک پہنچا۔۔۔
اسے دیکھ کر اوینا کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔۔ کب سے رکے آنسو اسکی آنکھوں سے بہہ کر گال پر گرنے لگے۔۔
شش،، چپ کرو پاگل ہو تم ایسے رو گی تو سب وجہ پوچھیں گے پھر کیا جواب دو گی۔۔۔ ؟؟
وه اسے ڈپٹ کر بولا تو اس نے فوراً سے آنسو پونچھے۔۔۔
اچھا اب بتاؤ وه تمہارے ساتھ ہی تو آئی تھی پھر الگ کہاں ہوئی۔۔ ؟؟
وه پیشانی مسل کر بولا۔۔۔
اوینا کی آنکھیں پھر سے نم ہو گئیں۔۔۔
“یار مل جائے گی وه کیا ہوگیا ہے یہیں کہیں ہو گی ریلیکس رہو پلیز۔۔۔”
وه بے چارگی سے بولا۔۔۔
اوینا نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
میں جب ہیر کو ڈھونڈ رہی تھی تو وه ہیری میری طرف دیکھ کر طنزیہ ہنسا تھا۔۔
میں تو جانتی بھی نہیں اسے پھر کیوں اس نے مجھے سمائل پاس کی۔۔۔
ضرور انہوں نے کچھ کیا ہے،، موسیٰ میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔۔
وه گیلی سانس کھینچ کر ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
موسیٰ پر سوچ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“k” گروپ کو وه کئی بار ہیر کے گرد منڈلاتا
دیکھ چکا تھا لیکن وه اتنا بڑا قدم ۔۔۔۔ ؟؟
سر جھٹک کر اس نے خیالات کی بہتی رو کو روکا۔۔۔
میں بھائی کو انفارم کرتا ہوں۔۔۔ تم ریلیکس رہو کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے ورنہ ہیر کی ذات پر انگلیاں اٹھیں گی۔۔۔ اوکے !!
اسکا گال تهپتهپا کر وه تیز قدم اٹھاتا موبائل پر باریس کا نمبر ملاتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
وه دل ہی دل میں اسکی سلامتی کے لئے دعا گو ہوئی۔۔۔
