Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kithe Phas Gayi Heer Episode 5

Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan

معصومہ بی صحن میں رکھے تخت پوش پر بیٹھیں پیسے گن رہی تھیں۔۔ انھوں نے شہادت کی انگلی پر تھوک لگائی اور آرام سے پیسے گننے لگیں۔۔

مطلوبہ رقم علیحدہ کر کے انہوں نے باقی پیسے دوپٹے کے کنارے سے باندھ کر گرہ لگا لی۔۔

مہینہ ختم ہونے والا تھا ان کی کریموں کا ڈھیڑ ختم ہونے والا تھا لہٰذا وه کچھ خریداری کرنے کے لئے بازار جانے والی تھیں۔۔

اب دیکھیے محلے کے کس لڑکے کی قسمت پھوٹنے والی تھی کیوں کہ موسیٰ تو انکے بازار جانے کا سن کر ہی رفو چکر ہوجاتا تھا۔۔

بے بے کہاں کی تیاری ہے آپ کی ۔۔ ؟؟

شاہانہ نے وہاں سے گزرتے ہوئے اپنی بڑی بڑی تیز آنکھوں سے معصومہ کو نوٹ گنتے دیکھا تو پوچھے بغیر نہ رہ سکیں۔۔

نی تو کوئی میری اماں لگی ہے یا میرے باوا جی نے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے تجھے میرے سر پر کن سوئیاں لینے کے لئے مسلط کیا تھا جو میں تجھے بتاؤں۔۔

یہ اپنی باندری جیسی شکل لے کر بار بار میرے سامنے نہ آیا کر۔۔

معصومہ بی تخت پوش کا سہارا لے کر کھڑی ہوتے ہوئے بولیں۔۔

ہائے نند کی سوں !! اس چھنو باندری کو تو آپ اک اک گل جا کر بتاتی ہیں میں نے پوچھ لیا تو کوئی طوفان تو نہیں آ گیا۔۔

اور خود بُسے منہ کے ساتھ مجھے باندری کہنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔۔۔ میری شکل پر تو ایک زمانہ مرتا ہے۔۔

وه ایک ادا سے دیدے نچا کر بولیں تو معصومہ بی نے بتیسی نکالی جس کے “اگلے دو دانت” غائب تھے۔۔

ہاں یہ تو صحیح کہا تو نے جو بھی تیری منحوس بوتھی دیکھ لے اس نے خوف سے مر ہی جانا ہے۔۔

بغیر شاہانہ کی اگلی بات سنے وه خراماں خراماں چلتیں گھر کی دہلیز عبور کر گئیں۔۔

یہ ابھی ان کی جوانی ہے جو رینگ رینگ کر چل رہی ہیں بڑھاپے میں تو پھر یہ زمین کے سینے سے لگی نظر آئیں گی۔۔ ہنہ !!

او شکیل ادھر آ ۔۔!!

گلی کے نُکر پر کھڑیں وه آنکھوں پر ہاتھ رکھے چنی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھتیں محلے کے کسی لڑکے کو تلاش کر رہی تھیں۔۔ شکیل پر نظر پڑھتے ہی وه اسے پکار بیٹھیں۔۔

شکیل نے دور سے انہیں دیکھ کر واپس مڑنا چاہا لیکن تب تک وه اسے دیکھ چکیں تھی۔۔

آج تو میری قسمت پھوٹی ہی پھوٹی !!

ہاں جی اماں جی کیا حال ہے ٹھیک ہی لگ رہے ہو میں ذرا کام سے جا رہا تھا پھر ملتا ہوں خدا حافظ !!

عجلت بھرے انداز میں کہہ کر وه جانے لگا تو معصومہ بھی نے تنک کر اسے دیکھا۔۔

وے ٹٹ مرنيا ایتھے آ کیتھے پج ریا ایں ۔۔ ادھر آ میرا پتر مجھے یہ بازار تک تو لے جا بس آدھا گھنٹہ تو لگنا ہے چل میرا چنگا پتر ۔۔

شروع میں كلس کر بولتیں آخر میں اپنے لہجے کو شیریں کرتے ہوئے بولیں۔۔

“اللّه کدھر پهس گیا ہوں میں” اچھا اماں میں موٹر سائیکل لاتا ہوں۔۔

منہ کے زاویے بگاڑتا وه جا کر بائیک لے آیا۔۔

معصومہ بی نے اسکے کندھے کو دبوچا تو وه كراه کر رہ گیا۔۔

بڑی تگ و دو کے بعد وه اسکے پیچھے بائیک پر بیٹھیں تو ۔۔۔

بائیک آگے سے اوپر اٹھ گئی۔۔۔

شکیل گھبرا کر ہوا میں ٹانگیں چلانے لگا۔۔

وے شکیلا شودیا مینوں مارن دا ارادہ اے تیرا۔۔

اسکی گردن میں بازو کا پهندا ڈال کر سہارا لیتیں وه اسکی گردن پر چپیڑیں مارنے لگیں۔۔

اس سے پہلے کہ موٹر سائیکل الٹتی کسی راہگزر نے جلدی سے انکی مدد کرتے بائیک کو سیدھا کیا۔۔

معصومہ بی جیسے ہی بائیک سے اتر کر سانس ہموار کرنے کے لئے رکیں وه بغیر پیچھے ددیکھے بائیک اڑا لے گیا۔۔

پیچھے وه اسے آوازیں ہی دیتی رہ گئیں لیکن وه ایسا بھاگا کہ پلٹ کر نہ دیکھا۔۔

گاڑی کا دروازہ کھول کر وه باہر نکلا۔۔ لیزا نے بھی اسکی تقلید کی۔۔

شیری یہ جگہ کچھ پرانی پرانی نہیں ۔۔۔ ؟؟

اپنی سن گلاسز کو سر پر ٹکاتی وه “عالم ولا ” کے سامنے آ کر رکتی جائزہ لیتی نظروں سے دیکھنے لگی۔۔

نہیں بہت زبردست محل ہے یہ اندر سے دیکھو گی یہاں کے مکینوں کے ذوق کی قائل ہو جاؤ گی۔۔

تم نے باری کو بتا تو دیا تھا نا کہیں اس کے گھر والے سین نہ کری ایٹ کر دیں۔۔

ہمم!! انفارم کر دیا تھا۔۔ آتا ہی ہوگا ۔۔

تقریباً پانچ منٹ کے بعد باریس بڑا سا داخلی دروازه دھکیل کر باہر نکلا۔۔

ہائے بڈی !! کیسے ہو ۔۔ ؟؟ شہریار اس سے بغلگیر ہوا۔۔

فائن !! مسکرا کر کہتے وه لیزا کی طرف پلٹا۔۔

کیسی ہو ۔۔ ؟؟ اندر چلو باقی حال چال اندر چل کر پوچھتے ہیں۔۔

باریس خوشگواری سے کہتا انہیں ساتھ لئے اندر کی جانب بڑھا۔۔

باری کتنا بدل گئے ہو تم ۔۔ !! تمہاری لكس بھی پہلے سے کافی اچھی ہو گئی ہیں ۔۔ لیزا نے اس کے ساتھ چلتے کہا۔۔

لیزا کے ریمارکس پر وه محض مسکرا دیا۔۔

گھر کے بڑوں کو کو وه پہلے ہی ان کی آمد کا بتا چکا تھا۔۔ لیزا شہريار کی کزن تھی جو باہر کے ملک سے پڑھ کر حال ہی میں پاکستان آئی تھی۔۔

یہاں وه پاکستان کے خوبصورت مقامات کو دیکھنے کی چاہ میں آئی تھی۔۔ یہاں آنے کے بعد رہائش کا مسلہ بنا تو اس نے شہریار سے مدد مانگی۔۔

شہريار خود اکیلا فلیٹ میں رہتا تھا ایسے میں اسے اپنے ساتھ رکھنا کچھ مناسب نہ تھا۔۔ اسی سلسلسے میں وه باریس سے مشورہ مانگے آیا تھا کیوں کہ جس طرح کے حالات تھے لیزا کا اکیلے گھر میں رہنا اس کے لئے قابلِ قبول نہ تھا۔۔۔

لیزا اسکی کزن ہونے کے ساتھ اسکی اور باریس کی دوست بھی تھی۔۔۔ باریس سے اسکی دوستی یوں ہوئی کہ ایک بزنس ڈیلنگ کے سلسلے میں باریس عباد عالم کے ساتھ یو کے گیا تھا وہیں شہریار کے ہمراہ لیزا سے اسکا تعارف ہوا اور موبائل کے زریعے بھی وه رابطے میں تھے۔۔۔

باریس نے اسکی پریشانی کا حل یوں نکالا کہ اسے اپنے عالیشان محل میں رہنے کی پیشکش کی جسے شہریار نے کافی پس و پیش کے بعد قبول کر لیا۔۔

باریس نے کہہ تو دیا لیکن وہی جانتا تھا کہ اس نے گھر والوں کو کس طرح منایا تھا۔ گھر کے بچے ابھی اس بات سے لا علم تھے۔۔

جونہی وه باریس کے ہمراہ اندر داخل ہوئی صحن میں موجود تمام خواتین کا منہ کھل گیا۔۔

بلیک جینز شرٹ میں ملبوس وه لڑکی انہیں ایک آنکھ نہ بھائی۔۔۔

لیزا بظاہر مسکرائی لیکن دل ہی دل میں شدید کوفت کا شکار ہوئی۔۔۔

درخشاں کو سب سے پہلے ہوش آیا۔۔ آؤ بیٹا وہاں کیوں کھڑے ہو تم لوگ ۔۔

ان کے کہنے پر وه آگے بڑھتے ان سے ملے۔۔

شہریار ان کے سامنے پیار لینے کے لئے جھکا تو وه اس سے پیار بھرا شکوہ کر گئیں۔۔

بیٹے بڑی دیر بعد شکل دکھائی کیا ماں کی یاد نہیں آتی ؟؟

شہریار شرمندہ ہوگیا۔۔۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔

وه ان سے معذرت کرتا باقی خواتین کو سلام کر گیا۔۔

اف شروع ہوگیا مڈل کلاس لوگوں کا ڈرامہ۔۔۔ لیزا نے كلس کر سوچا ۔۔ وه جلد از جلد اپنے کمرے میں جانا چاہتی تھی۔۔۔

ان کو وہاں بٹھا کر وه اوینا کو آواز دیتیں کچن میں گئیں۔۔

آواز سن کر اوینا ہیر کے ساتھ صحن سے گزرتی کچن میں جانے لگی کہ باریس کے ساتھ چپک کر بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا اور اس سے بڑا جھٹکا ہیر کو لگا جب اس نے صحن کے ایک طرف رکھے بھاری بھرکم بیگ کو دیکھا۔۔۔

ہیر نے معصومہ بی کو اشارہ کیا جو تیکھی نظروں سے لیزا کو سر تا پیر گھور رہی تھیں۔۔

ان کو اپنی طرف متوجہ نہ ہوتے دیکھ کر وه اوینا کا بازو تھامے کچن میں گئی جہاں درخشاں چائے کا پانی چولہے پر رکھ چکی تھیں۔۔

ادھر آؤ دونوں یہ چائے بنا دو مہمان آئے ہیں اور موسیٰ کو بھیج کر کچھ دوسرا سامان بھی منگوا لو ۔۔

لیکن ماما یہ لڑکی کون ہے جو باہر بھائی کے ساتھ چپکی بیٹھی ہے ۔۔ ؟؟ اوینا تنک کر بولی ۔۔

اور وہاں ایک بیگ بھی پڑا ہے۔۔ ہیر بھی سوالیہ ہوئی۔۔

باریس کی دوست ہے اسکا رہائش کا مسلہ بن رہا ہے اس لئے وه چند ماہ یہیں رہے گی۔۔ چلو اب زیادہ باتیں نہ بناؤ موسیٰ کو بلا لو۔۔

ان کے جانے کے بعد وه ہیر کی طرف پلٹی۔۔

ہیر یہ وہی لڑکا ہے۔۔ !! وه منہ کے زاویے بگاڑ کر بولی۔۔

ہیں کونسا یہ جو باہر بیٹھا ہے اس چڑیل کے ساتھ ۔۔ ؟؟

ہیر فوراً سے پہلے بولی۔۔

ہاں وہی مجھے بہت غصہ آرہا ہے دونوں پر ۔۔۔ اور اس لڑکی کو دیکھا ہے کیسے کپڑے پہن کر بیٹھی ہے مجھے تو دیکھ کر ہی شرم آ رہی ہے۔۔

یار وینا اب تو یہیں رہنا اس نے ویسے جس طرح وه پروفیسر کے ساتھ چپک کر بیٹھی ہے مجھے تو اس کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے۔۔

باریس کے ساتھ کسی لڑکی کو دیکھ کر اندر ہی اندر وه جلن کا شکار ہوئی۔۔

بھاڑ میں جائے وه ابھی تو تم یہ چائے وغیرہ باہر لے کر جاؤ۔۔۔ اس شودے کے سامنے میں تو نہیں جا رہی۔۔

اوینا خوامخواہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔۔

اوہ ہو۔۔!! تمہیں شرم آ رہی ہے کیا ۔۔ ؟؟

وه اسے چھیڑنے لگی ۔۔

ہونہہ شرم آتی ہے میری جوتی کو ۔۔

ہیر شرارتی مسكان سے اسے دیکھتی لوازمات سے بھری ٹرے اٹھا کر باہر نکل گئی۔۔

انکو سلام کر کے وه انہیں چائے پیش کرنے لگی۔۔

لیزا نے اسکا تفصیلی جائزہ لیتے استہزائیہ مسکرا کر سر جھٹکا۔۔

ارد گرد دیکھتے اس نے ہیر سے چائے کا کپ پکڑتے جان بوجھ کر ہاتھ ہلایا جس سے تھوڑی سی چائے اسکے ہاتھ پر گر گئی ۔۔

آہ !! تم پاگل ہو دیهان کہاں ہے تمہارا عجیب لا پرواہ ملازمہ رکھی ہوئی ہے آپ نے ۔۔

اس نے اسے جان بوجھ کر ملازمہ کہا تھا حالانکہ یہاں آنے سے پہلے وه اس گھر کے ہر فرد کے بارے میں معلومات لے کر آئی تھی۔۔

سب کے چہروں پر گہری سنجیدگی چھا گئی۔۔

ہیر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔ وه جلدی سے اٹھتی وہاں سے چلی گئی۔۔

وه میری کزن ہے لیزا ،، کوئی ملازمہ نہیں ہے!!

باریس شاہانہ کے سنجیدہ چہرے کو معذرت خوانہ نظروں سے دیکھتے لیزا سے بولا۔۔۔

اوہ آئی ایم سوری باری!! اسکا گیٹ اپ ایسا تھا اس لئے مجھے لگا کہ وه ۔۔۔۔

شاہانہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئیں۔۔

اوکے یار میں چلتا ہوں اب ۔۔ شہریار کھڑا ہوا تو باریس بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔

بیٹا اتنی جلدی جا رہے ہو۔۔ درخشاں کے سوال پر وه مسکرا دیا۔۔

انشااللہ پھر آؤں گا ۔۔ اور لیزا کی طرف سے معذرت کرتا ہوں۔۔

وه ان کے سامنے سر جھکاتا ہلکی آواز میں بولا تو مسکرا دیں ۔۔

کوئی بات نہیں بیٹا اسے پتہ نہیں تھا۔۔

اوکے سب کو خدا حافظ !! باریس کے ساتھ وه باہر چلا گیا لیکن جاتے جاتے کچن سے جھانکتی اوینا پر گہری نظر ڈالنا نہ بھولا۔۔

اسکی گہری اندر تک اترتی نظر پر اوینا کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا ہوا۔۔

ٹھرکی۔۔ !!

اسے نئے لقب سے نوازتی وه لیزا کے بارے میں مزید معلومات لینے کے لئے درخشاں کے کمرے کی طرف بڑھی۔

ہیر اپنے کمرے میں گم صم سی بیڈ پر اوندھی لیٹی تھی۔۔ آج لیزا نے جو حرکت کی تھی اس کا دل بہت دکھا تھا۔۔

اس کی چہرے پر پھیلا استہزا اسے بہت کچھ باور کرا گیا تھا لیکن اسے یہ سمجھ نہی آ رہا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ کیوں ایسا کیا۔۔

اوپر سے باریس کا چپ رہنا اسے اور بھی کھل رہا تھا۔ پتہ نہیں کیوں لیکن وه چاہتی تھی کہ باریس اسکی حمایت کرے۔۔

اس کے کھلنڈرے کونپل سے نرم و شفاف دل میں محبت کی سنہری کرنیں پھوٹنیں لگی تھیں جس سے ابھی وه خود بھی بے خبر تھی ۔۔

ہیر ۔۔۔ !!! اوینا مشکل سے اپنی چیخ روکتی آندھی طوفان بنی اسکے کمرے میں آئی۔۔

اللّه میں اتنی خوش ہوں اتنی خوش ہوں کہ تمہیں بتا نہیں سکتی۔۔ اللّه میری دلی مراد پوری ہونے جا رہی ہے۔۔

وه اسے اٹھاتی فرطِ مسرت سے نان اسٹاپ بولتی جا رہی تھی۔۔

ہوا کیا ہے ۔۔۔ ؟؟ کچھ بتاؤ گی بھی ۔۔ ؟؟

اس کے گول گھمانے پر ہیر نے چکرتے سر پر ہاتھ رکھتے اس سے پوچھا۔۔

یار میں ابھی دادی کے کمرے کے پاس سے آئی ہوں۔۔ وہاں ماما بابا، دونوں چاچو مطلب سب ہی اکٹھے ہوئے ہیں۔۔

بچوں کو بہانے سے انہوں نے دوسری طرف بھیجا تو مجھے شک پڑ گیا کہ ضرور کوئی بات ہے ۔۔ وه ہاتھ ہلا ہلا کر بتانے لگی۔

یار اتنی لمبی لمبی نہ پھینک سیدھی طرح بتا۔۔ ایک تو پہلے ہی میرا موڈ خراب ہے اوپر سے تم بک بک کئے جا رہی ہو۔۔

وه اکتا کر بولی تو اوینا کی چلتی زبان کو بریک لگا۔۔

کیوں کیا ہوا ہے موڈ کیوں خراب ہے ۔۔ ؟؟

چھوڑ اس بات کو۔۔ وه منظر پھر سے یاد آتے اسکی آنکھیں گیلی ہونے لگیں۔۔

اوینا تو اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر تڑپ گئی۔۔ مجھے بتا کسی نے کچھ کہا ہے میں اسکا منہ توڑ دوں گی۔۔

اسکا پٹاخہ موڈ اون ہوگیا۔۔

اوینا کے مسلسل اسرار پر اس نے ساری بات اسے کہہ سنائی۔۔ اوینا کا غم و غصے سے برا حال ہوگیا۔۔

ہیر تو ٹھیک کہہ رہی تھی ضرور یہ کسی اور مقصد سے آئی ہے یہاں۔۔۔ لیکن تو ٹینشن نہ لے۔۔ موقع ملنے پر اس سے اس بے عزتی کا بدلہ ضرور لیں گے۔۔

اچھا چھوڑو اسے میں اس کے بارے میں بات بھی نہیں کرنا چاہتی۔۔ تم کیا کہہ رہی تھی۔۔ ؟؟

ہیر بیڈ کے کنارے ٹکتے ہوئے بولی تو اوینا چمکتی آنکھوں سے اس کے ساتھ بیٹھی۔۔

یار میں دروازے سے کان لگا کر انکی باتیں سن رہی تھی۔۔ دادا جان کہہ رہے تھے کہ سب بچیاں جوان ہو گئی ہیں اب ان کے بياه کے بارے میں سوچو۔۔ خیر سے اس سال تعلیم بھی مکمل ہو جائے گی ان کی تو دادی کہتیں کہ رشتے تو گھر میں بھی ہیں۔۔

سمجھ رہی ہو ۔۔ ؟؟ وه شرارتی مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگی۔۔

کک کیا مطلب ۔۔ ؟؟ ہیر نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔۔

یار ہاہاہا مجھے تو سوچ کر بھی ہنسی آ رہی ہے وه موسیٰ اور ربیعہ کے رشتے کی بات کر رہے تھے۔۔

ہاہاہا !! اس کی دیکھا دیکھی ہیر بھی ہنسنے لگی۔۔

اور اور تو نہ ۔۔۔۔۔۔ میری بھابھی بننے کے لیے تیار ہو جا۔۔۔

اوینا نے اس کے سر پر دهماکہ کیا۔۔ وه پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔

ہہ ہو ۔۔ ہوش میں تو ہو کیا کہہ رہی ہو پروفیسر تو کبھی نہیں مانیں گے نیور !!!

وه نفی میں گردن ہلانے لگی۔۔۔

بھائی سے ابھی بات کریں گے نہ پاگل۔۔ ابھی تو بڑوں میں ہے یہ بات۔۔ تم اپنی بتاؤ تم تو راضی ہو نہ۔۔ ہوں ۔۔۔ !!

وه اسے کندھا مارتی چھیڑنے لگی تو ہیر زندگی میں پہلی بار شرما گئی۔۔

او ہو لوگوں کو شرم آ رہی ہے۔۔ !!

اوینا کے چھیڑنے پر وه سرخ چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی۔۔

اگلی صبح تینوں نے یونی سے چھٹی کر لی۔۔ سبكتگین عالم نے باریس کو بھی جلدی آنے کا کہا تھا کہ انہوں نے ضروری بات کرنی تھی۔۔

سب ناشتے کی میز پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے کہ لیزا ڈھیلی سی ٹی شرٹ ٹراؤزر میں جمائی روکتی آئی اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔۔

“گڈ مارننگ ایوری ون!!! “

اوینا اور ہیر نے اسے دیکھ کر آنکھیں گھمائیں جب کہ رجا اسے دیکھ کر مسکرا دی۔۔

جواباً لیزا بھی اسے دیکھ کر مسکرائی ۔ یہ بندی اسے کچھ بہتر لگی تھی۔۔

ربیعہ نے ہیر کے کان میں سرگوشی کی ۔۔

یہ مجھے بلکل اچھی نہیں لگی جس حساب سے اس نے منہ پر پلاسٹک سرجری کروائی ہے مجھے تو مائیکل جیکسن کی بہن لگ رہی ہے۔۔۔

اسکی گوہر افشانی پر ہیر کے حلق میں نوالہ پھنس گیا جب کہ اوینا کی ہسی نکل گئی۔۔

سب کھانا چھوڑ کر انہیں دیکھنے لگے تو وه سر جھکا کر شرافت سے ناشتہ کرنے لگیں۔۔

لیزا نے تیکھی نظروں سے انہیں دیکھا۔۔

موسیٰ جلدی سے ناشتہ ختم کرتا اٹھا اور ان تینوں کو لان میں آنے کا اشارہ کرتا وہاں سے چلا گیا۔۔

ناشتہ کرنے کے بعد انہوں نے جلدی سے برتن سمیٹے اور لان میں چلی آئیں۔۔

رجا نے ناگواری سے ربیعہ کو ان کے ساتھ جاتے دیکھا۔۔ اسے ربیعہ کا ان کے ساتھ میل جول ذرا پسند نہیں آیا تھا۔۔

لان میں صبح کی ٹھنڈی تر و تازہ ہوا نے ان کا استقبال کیا۔۔ پھولوں سے اٹھتی دهیمی مہک میں گہرے سانس لیتی وه واک کرنے لگیں۔۔

موسیٰ اچانک ان کے پیچھے سے نمو دار ہوا۔۔

اوینا نے کوفت سے اسے دیکھا ۔۔ کیا ہر وقت بندروں کی طرح ادھر ادھر پھدکتے رہتے ہو۔۔

اسکو بندر کہنے پر ربیعہ نے مسکان دبائی جو موسیٰ کو ایک آنکھ نہ بھائی۔۔

وه اپنے اقبال صاحب ہیں نہ ۔۔ !!

وه گویا ہوا تو ہیر نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا ۔۔

کون اقبال صاحب ۔۔ ؟؟

“ارے وہی اپنے شاعرِ مشرق علامہ اقبال”

ہیر کا ہاتھ جوتے تک جاتا جاتا رکا۔۔

ارے تیرے باوا لگے ہیں کیا وه ہونہہ !!

“بڑا آیا اپنے اقبال صاحب “

اپنی ستھری ہونے پر وه ڈھیٹوں کی طرح مسکرا دیا۔۔

اچھا سن تو وه کیا کہتے ہیں میرے بارے میں۔۔!!

مت سہل ہمیں جانو ،، پھرتا ہے فلک برسوں!! تب خاک کے پردے سے ۔۔۔۔۔

“کدو” نکلتے ہیں!!!

موسیٰ جو “انسان” کہنے لگا تھا،، ہیر نے اسکا شعر اچک لیا۔۔

اور گدھے یہ اقبال کا نہیں میر تقی میر کا شعر ہے۔۔

ہاہاہا اوینا اور ربیعہ ہنس ہنس کر دوہری ہو گئیں۔۔

ہیر بھی ہنستی ہوئی وہاں سے بھاگی کیوں کہ موسیٰ خطرناک تیورروں سے اسکی طرف بڑھا تھا۔۔

اوینا ربیعہ کے ساتھ پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو گئی کیوں کہ اب پورے گھر میں طوفانِ بدتمیزی مچنے والا تھا۔۔