Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kithe Phas Gayi Heer Episode 1

Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan

وه تیز ہواؤں کے سنگ چھلانگیں لگاتی ہوئی اپنے محبوب کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہوا کے زور سے بال اس کے منہ پر ٹھا کر کے “وجے” تو اس نے انہیں اپنے کھردرے ہاتھوں سے نرمی سے پیچھے ہٹایا اور بادلوں سے ڈھکے آسمان کو دیکھ کر جناتی قہقہہ لگاتی اپنے محبوب کی نازک پناہوں میں سما گئی۔۔

اس کے “دل کے چین پلس فرائینگ پین” جیسے منہ والے محبوب نے شرما کر رخ موڑا تو وہ بتیسی نکال کر اسکے کندھے سے کندھا مارتی شرمانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔۔

اس کے “رج کے کوجے ٹُٹی ٹھوٹھی” جیسے محبوب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا تو وہ اس نازک اندام کی اس حرکت پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔

ہیییییییر ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ایک مردانہ کڑک دار آواز اسے خیالوں کی دنیا سے باہر لے آئی۔۔ اس نے پٹ سے آنکھیں کھولی۔۔ عینک سے جھانکتی کالی بڑی بڑی آنکھیں اپنے سامنے موجود شخص کو دیکھ کر پھیل گئیں۔۔ تب اسے احساس ہوا کہ وه یونیورسٹی میں موجود تھی۔۔

ماتھے پر گرے بے بی کٹ بالوں کو آنکھوں سے ہٹا کر اس نے تھوک نگل کر اپنے ہاتھ کو دیکھا جس سے اس نے اپنے پروفیسر کے کالر کو جکڑ رکھا تھا۔۔

سس سوری پرو۔۔۔ ہاتھ فوراً سے پیچھے ہٹاتے اس نے منمناتے کی کوشش کی۔۔۔

“شٹ اپ جسٹ شپ اپ۔۔!! آج تمہیں کوئی رعایت نہیں ملے گی۔۔۔ میرے ساتھ آفس آؤ۔۔”

پروفیسر کے تیکھے نقوش میں سرخی گھلی دیکھ کر اسے آج اپنی خیر ہوتی نظر نہیں آئی ۔۔

دیکھیں پروفیسر باریس میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا وه غلطی سے ۔۔۔ ایک نظر پروفیسر پر ڈال کر دوسری نظر اس نے پاؤں میں مقید جوگرز پر ڈالی۔۔

ون ٹو تھری ۔۔۔۔ بالوں میں بندھے پراندے کو جھٹکے سے پیچھے ڈالتے بیگ پکڑ کر اس نے دوڑ لگا دی۔۔

ہیر ۔۔۔؟؟ رکو ۔۔!! پروفیسر باریس نے دانت پیس کر اسے دیکھا۔۔

“پکڑو اسے۔۔” ارد گرد موجود سٹوڈنٹس پروفیسر کا اشارہ پا کر شلوار قمیض میں ملبوس پرانده جهلا کر دوڑتی ہوئی ہیر کے پیچھے بھاگے۔۔

ہیر جو سانس درست کرنے کے لیے رکی تھی اپنے پیچھے آتے اتنے سٹوڈنٹس کے ہجوم کو دیکھ کر سر پر پیر رکھ کر بھاگی۔۔

“ہائے او ربا کتھے پهس گئی ہیر !!!”

“عالم وِلا” میں آج معمول سے ہٹ کر چہل پہل تھی۔۔ اشتہا انگیز کھانوں کی خوشبو کچن سے نکل کر بڑے سے صحن سے ملحقہ اوپر گولائی میں جاتی سیڑھیوں سے ہوتی کونے والے کمرے میں دستک دیتی ہیر کے ناک میں گھسی۔۔

پٹ سے آنکھیں کھولتی وه جمائی لے کر اٹھ بیٹھی۔۔ “آج اس کھڑوس کی وجہ سے جتنی ستھری ہوئی ہے میں یاد رکھوں گی۔۔ سڑا ہوا کدو کہیں کا۔۔”

اسے دل ہی دل میں القابات سے نوازتی وه پیروں میں چپل اڑستی کن سوئیاں لینے کے لئے کمرے سے باہر نکلی۔۔

بڑے سے صحن کو عبور کر کے وه کچن میں آئی جہاں درخشاں تائی اور بلقیس چچی کھانے کے انتظامات دیکھ رہی تھیں۔۔

اسے اندر آتے دیکھ کر درخشاں عرف شنو نرمی سے مسکرا دیں جبکہ بیلقیس نے چہرے کے زاویہ بگاڑے۔۔ ہیر نے سلگ کر انہیں دیکھا اور انہیں منہ چڑایا تو شنو نے نظروں سے اسے ڈپٹا۔۔

تائی جان آج کچھ خاص ہے کیا ۔۔ ؟؟ وه پلیٹ سے کاجو اٹھا کر منہ میں ڈال کر بولی۔۔

ہاں خاص تو ہے۔۔!! وہ مصروف سے انداز میں بولیں تو ہیر ان سے لپٹ گئی۔۔

“بتائیں نہ میری پیاری تائی جان۔۔”

اچھا اچھا پیچھے تو ہٹو۔۔”اوینا کو لڑکے والے دیکھنے آئے ہیں۔۔”

کیا ۔۔۔۔۔؟؟ مجھے کسی نے بتایا بھی نہیں۔۔ اسے صحیح معنوں میں صدمہ پہنچا۔۔

تم بڑی کوئی پرائم منسٹر ہو جو تمہیں ہر بات بتائی جائے۔۔ بیلقیس جلے کٹے انداز میں بولی۔۔

ہاں پرائم منسٹر تو وہ آپکی دو من کی بیٹی ہے نہ جس کو ہر بات بتانی ضروری ہے۔۔ ان کی چھوٹی بیٹی کے موٹاپے پر چوٹ کرتی وه پراندہ جهلاتی اپنے ازلی بےپرواہ انداز میں مہمان خانے کی طرف بڑھی۔۔

ہائے او ربا!! یہاں تو پوری ينگ پلٹن کھڑی ہے۔۔ آہستہ آہستہ بغیر آہٹ کیے وه ان کے پیچھے جا کھڑی ہوئی جو ایک قطار میں ایک دوسرے پر چڑھے دروازے سے کان لگائے کھڑے تھے۔۔

“بھاؤ!!”

اپنے پیچھے آواز ابھرنے پر وه سب کے سب سیدھے ہونے کی کوشش میں توازن کھو کر دھڑام سے نیچے گڑے۔۔

“منحوسو کمبختو!! دفع ہو جاؤ ایتھو نئی تے میں لا جتی لینی اے تے تواھڈی منحوس بوتھیاں دا نقشہ بدل دینا اے۔۔”

شاہانہ بیگم کی کڑک آواز پر وه سب کے سب بجلی کی سپیڈ سے دوڑے ۔۔

صحن میں آ کر رکتے وہ کڑے تیوروں سے ہیر کی طرف مڑے۔۔ ہیر یہ کیا بدتمیزی تھی۔۔؟ موسیٰ خفگی سے گویا ہوا۔ ہم ایک ٹیم ہیں تو پھر تم نے ایسا کیوں کیا۔۔؟؟

“ارے کیری ٹیم کتھے دی ٹیم ” تم نے کونسا مجھے اوینا کے رشتے کا بتایا۔۔ میری پارٹنر کا رشتہ طے ہورہا ہے اور مجھے پتہ ہی نہیں۔۔ وه دیدے نچا کر بولی۔۔

ہیر آپی آپ کی وجہ سے ہمیں ڈانٹ پڑی۔۔ لڈو کے بولنے پر ہیر نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔۔

ابھے “لڈو کی پھوٹی ہوئی قسمت،، کدو کے بگڑے نصیب” چل نکل یہاں سے نہیں تو تجھے ساتھ والوں کے کتے کے ساتھ باندھ آوں گی۔۔

اپنی حد میں رہو تم بندری!! رِجا کو اپنے بھائی کی بےعزتی برداشت نہ ہوئی۔۔

لو جی اب یہ کمپلیکس کی ماری مجھے میری حد بتائے گی۔۔ چلو شاباش اپنی “زہریلی بھینس” اور “پِدّے بھینسے” کو لے کر نکلو یہاں سے۔۔ وه موسیٰ کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑی۔۔

تم بچو اب مجھ سے۔۔!!

رابعہ اسکے “زہریلی بھینس” کہنے پر تپ کر اس کی اوڑھ بڑھی تو موسیٰ درمیان میں آ گیا۔۔

چلو بس بہت ہوگیا۔۔ ان کو ہٹا کر وه ہیر کا بازو پکڑتا مہمان خانے کی طرف آیا۔۔

ہیر نے ذرا سا دروازہ کھولا اور وہ دونوں سانس روکے اندر کا منظر دیکھنے لگے۔۔

“بے بے آپ تو ایسے تیار ہو کر بیٹھی ہیں جیسے آپ کا رشتہ دیکھنے آئے ہیں۔۔” شاہانہ کی گوہر افشانی پر کمرے میں دبی دبی ہنسی گونجی۔۔

ہاں بس اپنی اپنی بات ہوتی ہے نہ میں اس عمر میں بھی اتنی حسین و جوان نظر آتی ہوں اور ایک تم ہو جو مجھ سے چھوٹی ہو کر بھی ایسی لگتی ہو جیسے کسی نے كسُنّے مار مار کے منہ نیلا کر دیا ہو۔۔ کیوں جی!!

معصومہ اپنے ساتھ براجمان سبکتگین عالم کو ٹہوکا دے کر بولیں تو چچا وہاج عالم اور تایا عباد عالم کھنکارے۔۔

ابراہیم عالم نے موقع کی نزاكت کو بھانپتے کونے میں کھڑی اپنی بھتیجی کو اشارہ کیا۔۔

وه سہج سہج کر قدم اٹھاتی صوفے پر آ کر بیٹھ گئی۔۔ لمبے کرتے اور جینز میں ملبوس وه بمشکل چھوٹا سا دوپٹہ سر پر ٹکائے بیٹھی تھی۔۔

اس نے بار بار پلکیں جھپک کر سامنے صوفے پر بیٹھے میاں بیوی کو دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرا دیے۔۔ جواباً وه دوپٹہ دانتوں میں دبا گئی۔۔۔

ماشاءالله آپ کی بیٹی تو بہت شرمیلی لگتی ہے۔۔

ہاں جی بہت شرمیلی اور معصوم ہے ہماری اوینا اپنے نام کی طرح اور شاہانہ کے بلکل برعکس !!

معصومہ بی اپنا سفید غرارہ ٹھیک کرتے ہوئے بولیں تو شاہانہ نے تپ کر ان کو دیکھا۔۔

نہ تو کیا آپ پر گئی ہے۔۔؟؟ ہاہاہا اللّه معاف کرے آپ پر چلی جاتی تو آپکی طرح بوڑھی گھوڑی لال لگام بنی پھرتی۔۔

شاہانہ نے اپنی فراٹے بھرتی زبان سے معصومہ بی کے تن من میں آگ لگا دی ۔۔

مہمان گو مگو کی کیفیت میں انہیں دیکھنے لگے۔۔

“اوینا بیٹا مہمانوں کو چائے دو ۔۔” عباد عالم بیٹی سے مخاطب ہوئے تو وه اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

ایک قدم بڑھا کر وه ذرا سا لڑکھڑائی ۔۔ حد سے زیادہ کانپتے ہاتھوں سے اس نے ٹرے اٹھائی اور مہمانوں کے سامنے جھکتے ان کو سرو کرنے لگی۔۔

ہاتھ کپكپانے سے اس کے اوپر تھوڑی سی چائے گر گئی۔۔

سس!! بس بے بے مجھ سے اب اور اداکاری نہیں ہوتی۔۔ وه ہاتھ جھاڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

اس نے چھوٹا سا دوپٹہ سر سے اتار کر گلے میں ڈال لیا۔۔ میں ایسی ہی ہوں ۔۔ اپنے نام کے بلکل الٹ۔۔ معصوم تو کہیں سے نہیں ہوں۔۔ اگر ایسے ہی منظور ہوں تو ٹھیک ہے ورنہ۔۔

وه اپنی اونچی پونی جھلا کر بولتی مہمانوں کو حیران کر گئی۔۔

ٹٹ مرنیئے تھوڑی دیر ہور تیرے کولو اداکاری نہیں ہوندی سی۔ سارے کیتے کرائے تے “واٹر” پھیر دیتا ای۔۔ شاہانہ نے افسوس سے سر پر ہاتھ مارا۔۔

مہمان جلدی سے اٹھے۔۔ ہم چلتے ہیں۔۔ پتہ نہیں کن پاگلوں میں پهس گئے ہیں۔۔

“ایتھے آ تینوں دساں کون پاگل اے۔۔ تیری بے بے ہوئے گی پاگل۔۔” شاہانہ کا بس نہ چل رہا تھا کہ ان کو پاگل کہنے والوں کی گِچی مروڑ دیں۔۔

تے تیرا ابا ہوئے گا پاگل ۔۔ معصومہ بی بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھیں۔۔

مرد حضرات سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔۔

موسیٰ اور ہیر مہمانوں کے جانے کے بعد ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑے۔۔ اپنے جگر سے یہی امید تھی مجھے ۔۔ ہیر آنکھیں بند کر کے فخریہ انداز میں بولی۔۔

یکدم موسیٰ کی ہنسی کو بریک لگا۔۔ وہ آرام سے نیواں نیواں ہوتا وہاں سے کھسک گیا۔۔

ہیں اے کِتھے گیا۔۔!! وه آنکھیں کھول کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔

دفعتاً اپنے ہاتھ پر مضبوط مردانہ گرفت دیکھ کر اس نے فوراً دائیں طرف دیکھا جہاں باریس کڑے تیوروں سے اسے دیکھتا اس کا بازو کھینچ کر اسے مہمان خانے سے پرے لے آیا۔۔

کیا کہا تھا سب سے کہ کسی کو بھی مہمان خانے کے پاس بھی آنے کی اجازت نہیں ہے تو تم کیا کررہی ہو ادھر۔۔؟؟ وه غصے سے ماتھے پر بل ڈال کر بولا۔۔

اس کے دهونس بھرے انداز پر ہیر کو پتنگے لگ گئے ۔۔ “آپ نے جو یونیورسٹی میں میرے ساتھ کیا ہے نہ وه بھولی نہیں ہے ہیر۔۔ اور گھر میں آپ میرے پروفیسر نہیں ہیں اس لئے یہ دهونس نہ مجھے نا دکھایا کریں۔۔”

اپنا پراندہ جھلا کر آنکھوں پر چشمہ ٹھیک طرح ٹکاتی وه جانے کے لئے پلٹی۔۔ ہنہ!! کھڑوس کہیں کے۔۔

باریس نے تند نظروں سے اسے دیکھتے اس کا بازو پکڑ کر جھٹکے سے اسے اپنی طرف کیا۔۔ کیا کہا تم نے۔۔؟

“کھڑوس کہا میں نے آپ کو۔۔” وه بھی تیکھے لہجے میں بولی۔۔

میرے سامنے اپنی قینچی کی طرح چلتی زبان کم چلایا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے تمہاری ٹر ٹر چلتی زبان کو بند کرنے کا مستقل بندوبست کرنا پڑے۔۔

اس نے جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیلا تو وه وہاں سے بھاگ گئی۔ “ہیر کی زبان بند کرنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا سڑو پروفیسر۔۔”

جاتے جاتے بھی وه زبان کے جوہر دکھا گئی۔۔

“عالم وِلا” کے صحن میں جنگِ عظیم چھڑ چکی تھی۔۔ معصومہ بی اور شاہانہ نے رشتہ نہ ہونے کا قصور وار ایک دوسرے کو ٹھہرایا تھا۔۔ گھر کے سب بڑے ان کے درمیان صلح صفائی کرانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن سب بے سود۔۔

شاہانہ اب تم ہی بس کر چلو۔۔ درخشاں نے آگے بڑھتے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔

“نہ شنو بھابھی میں کیوں چپ کروں،، ان کو نہیں دیکھتیں جو نام کی ہی معصومہ ہیں اللّه معاف کرے معصوموں والے کام تو کبھی دیکھے نہیں ان کے۔۔”

شاہانہ نے ہنسی چھپانے کو دوپٹہ منہ پر رکھ لیا۔۔

درخشاں نے انہیں آنکھیں دکھائیں۔۔

“دیکھا سبکتگین کیسے یہ آپ کی نُوں مجھے لذیذ میرا مطبل ہے ذلیل کر رہی ہے۔۔”

معصومہ بی نے تنک کر سبكتگین عالم کے کندھے پر ہاتھ مارا۔۔

ہا!! اللّه بھلا کرے کہتی تو ٹھیک ہے میری نُو۔۔ سبکتگین عالم کندها دبا کر بولے تو سب مرد حضرات نے مسکراہٹ دبائی ۔۔

اگر غلطی سے بھی ان کی ہنسی چھوٹ جاتی تو معصومہ بی نے انہیں پولے پولے پیروں سے ٹُھڈے مار کر دنیا کے دوسرے کونے میں پہنچا دینا تھا۔۔

ہائے میں صدقے جاواں ابا جی تسی ہی بس مینوں سمجھدے او۔۔

شاہانہ کی خوشی دیکھ کر معصومہ بی نے نتھنے پھلا کر انہیں دیکھا۔۔”جے میں معصوم نہیں تے تُو کیڑی معصوم ایں۔۔ پیٹھے ورگے منہ دے نال ہر وقت بک بک کردی رہنی ایں۔۔ نام شاہانہ تے مزاج در فٹے مانا۔۔”

معصومہ بی بھی اپنا سفید غرارہ کس کر میدان میں اتریں۔۔

“واہ!! دادی کیا ڈائلاگ مارا ہے۔۔” موسیٰ کے تبصرے پر شاہانہ نے اسکی گردن پر چنڈ ماری۔۔

شنو بھابھی اس کا منہ بند کروا لیں نہیں تو میں نے اسکی تون پہ چپیڑیں مار مار کر اسکی تون ای ڈینگی کر دینی ہے۔۔

موسیٰ کی عزت افزائی پر ربیعہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔

“موٹی بھینس اپنی بتیسی اندر کر۔۔” وہ سلگ کر بولا تو ربیعہ نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔۔

جاؤ تم دونوں یہاں سے ۔۔ ابرہیم عالم کے سختی سے کہنے پر وہ شرافت سے وہاں سے کھسک گئے۔۔

بے بے آپ سے تو ٹھیک ہی ہوں میں اور یہ اپنی ناسیں اتنی نا پھلائیں جیسی آپ کی عمر ہے کہیں پاٹ ای نہ جائیں ۔۔

سبكتگین عالم نے منہ پر ہاتھ رکھ کر چہرہ دوسری طرف کر لیا لیکن ہنسی روکنے کے چکر میں ان کے جسم کو بار بار جھٹکے لگ رہے تھے۔۔

عباد عالم ، ابراہیم عالم اور وہاج عالم میں نظروں کا تبادلہ ہوا۔۔

“جاؤ اماں کو کمرے میں لے جاؤ۔۔۔” عباد عالم ، ابراہیم عالم کے کان میں آہستہ سے بولے کیوں کہ معصومہ بی سب سے زیادہ ان کی ہی سنتی تھیں۔۔

اللّه جنت نصیب کرے آپ کے ابا حضور کو ویسے تو کوئی نیک کام مجھے یاد نہیں ان کا لیکن جاتے جاتے بھلا ایک اچھا کام ہی کر جاتے،،، آپ کو بھی ساتھ لے جاتے۔۔

شاہانہ کی فراٹے بھرتی زبان کو رکتا نہ دیکھ کر درخشاں انہیں گھسیٹ کر اپنے کمرے میں لے گئیں۔۔

ہائے او رباں یہی دن دیکھنا باقی رہ گیا تھا۔۔ کسی کو اپنی طرف متوجہ نا پا کر معصومہ بی سینے پر ہاتھ مار کر جھوٹ موٹ کا بین کرنے لگیں۔۔

اماں ادھر آئیں ، آئیں میرے ساتھ کیوں پریشان ہوتی ہیں۔۔ شاہانہ سے بات کروں گا میں اسکو آپ سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی آخر آپ بڑی ہیں گھر کی ۔۔ ابراہیم عالم ان کے گرد بازو حائل کرتے انہیں مسکے لگاتے ہوئے وہاں سے لے گئے۔۔

ہا!! اللّه ہی مالک ہے ان کا۔۔ سبکتگین عالم اپنے بڑے اور چھوٹے بیٹے کو دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئے۔۔

اٹھ گئیں۔۔؟ وہاج عالم بیلقیس کی نیند خراب ہونے کے خیال سے دبے قدموں کمرے میں داخل ہوئے لیکن انہیں جاگتا دیکھ کر پوچھ بیٹھے۔۔

تو کیا آپ کو میں ابھی تک نیند میں نظر آ رہی ہوں۔۔ وه برا سا منہ بنا کر بولیں۔۔

بیگم کبھی میٹھے بول بھی بول لیا کرو ہر وقت سڑتی رہتی ہو۔۔ وه شکوہ کر گئے۔

یہ جو آپ کی بھابھی اور اماں نے گھر کو ہر وقت میدانِ جنگ بنایا ہوتا ہے وہ آپ کو نظر نہیں آتا۔۔ سر میں درد کر دیا ہے۔۔ بندہ اب سکون سے سو بھی نہیں سکتا۔۔

بڑبڑا کر وہ دوبارہ سر تک چادر تان کر لیٹ گئیں۔۔ وہاج عالم بس نفی میں سر ہلا کر رہ گئے۔۔

ممی میری ۔۔۔۔۔ او ہو ۔۔!!

ممی میری۔۔۔ آ ہا ۔۔!!

ممی میری شادی کردو مئی جون جلائی میں۔۔!!

ممی میرا دل نہیں لگتا یونیورسٹی کی پڑھائی میں۔۔!!

ہیر دوپٹہ پکڑے سر کے اوپر گھماتی زور و شور سے گاتی بھنگڑا ڈال رہی تھی۔۔ اوینا بھی اس کا ساتھ دیتی اوٹ پٹانگ سٹیپس کر رہی تھی۔۔

اس کا ہاتھ ابھی ہوا میں ہی تھا کہ موسیٰ ناچتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔ ارے رک کیوں گئے ہو۔۔ پکچر ختم ہو گئی کیا۔۔؟

اب منظر کچھ یوں تھا کہ وه تینوں اوٹ پٹانگ سٹیپس کرتے زور و شور سے گا رہے تھے۔۔

ان کے کمرے کے پاس سے گزرتی معصومہ بی شور کی آواز سے رک گئیں۔۔ ہیں یہ ان کو کیا دوڑا پڑا ہے۔۔

انہوں نے دروازه ذرا سا دھکیل کر اندر جھانکا۔۔ خودبخود ان کے ہاتھ اٹھے اور وہ بھی دانت نکال کر بهنگڑا ڈالنے لگیں۔۔

دفعتاً وہ رکیں اور چہرے پر سنجیدہ تاثرات سجائے دروازه دهكیل کر اندر انٹری ماری۔۔

تینوں کو وہیں سٹاپ لگ گیا۔۔ وه تینوں جلدی سے بیڈ سے نیچے اترے۔

یہ کیا بے حیائی پھیلائی ہوئی ہے۔ گجب خدا کا۔۔۔

دادی گجب نہیں غضب خدا کا۔۔ موسیٰ ان کی بات کاٹ کر گویا ہوا ۔۔

ہیر اور اوینا سر نیچے جھکائے پهس پهس کرنے لگیں ۔۔

ہاں وہی ۔۔!! گجب خدا کا بہنوں کے ساتھ ناچتے انہیں گانے سنا رہے ہو ۔۔۔ کوئی شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے لیکن تم چھچھوندروں کو کیا پتہ کہ کیا ہوتی ہے۔۔

وه کڑے تیور دکھا کر بولیں تو موسیٰ کی زبان میں کھجلی ہوئی۔۔

استغفرالله دادی !! میں اور گانے ۔۔ ؟ توبہ توبہ ۔۔ میں تو انہیں نعتیں سنا رہا تھا ۔۔۔

وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر بولا تو معصومہ بی اپنی چپل پیر سے نکلنے کے لئے نیچے جھکیں۔۔

مجھے بہری سمجھتے ہو۔۔ پاغل ہوں میں۔۔ موسیٰ تیزی سے باہر بھاگا لیکن معصومہ بی نے تان کر اپنی چپل اسکی کمر پر دے ماری۔۔

اری کمبختو کبھی پڑھ بھی لیا کرو ۔۔ ہر وقت ہاہا ہوہو ہی ہی کرتی رہتی ہو ۔۔ بڑی شادی کی آگ لگی ہے تمہارے اباؤں کو بتاتی ہوں ۔۔ توبہ ہے ہم تو اتنے شرمیلے ہوتے تھے اور ان کو دیکھو۔۔

وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر کمرے سے جانے لگیں تو وہ دونوں ایک دوسرے کو اشارہ کرتیں ان سے لپٹ گئیں۔۔

ہماری اچھی دادی آپ بابا سے بات نہ کرنا پلیز۔۔ آئندہ ہم دل لگا کر پڑھیں گے نا ۔۔۔ ہیر ان کے گال پر بوسہ دے کر بولی تو ان کے ماتھے کے بل کم ہوئے۔۔

دادی اتنا غصہ کیوں کرتی ہیں آپ۔ اتنی پیاری سکن ہے آپ کی اور ایسی گلو کہاں نظر آتی آج کل کی لڑکیوں کے منہ پر جیسی آپ کے منہ پر ہے۔۔ غصے سے آپ کے خوبصورت چہرے کی چمک چلی جائے گی۔۔ اوینا نے کہتے ہوئے ہیر کو دیکھ کر آنکھ ماری۔۔

معصومہ بی کے ماتھے کے باقی بل بھی غائب ہوگئے۔۔ ہاں کہتی تو تم ٹھیک ہو۔ میری جیسی حسین لڑکیاں کہاں آج کے زمانے میں۔۔ وہ ایک ادا سے مسکرا کر غرارہ سنبهالتیں کمرے سے نکل گئیں۔۔

ہاہاہاہا !!! وہ دونوں ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہہ لگا گئیں۔۔