Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan NovelR50480 Kithe Phas Gayi Heer Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Kithe Phas Gayi Heer Episode 7
Kithe Phas Gayi Heer by Mirha Khan
مردان خانے سے باہر نکل کر وه اپنی ہی دھن میں اوینا کے کمرے کی جانب جا رہی تھی کہ اچانک سامنے سے آتی لیزا سے ٹکڑا گئی۔۔۔
اف اندھی کہیں کی۔۔ !!!
لیزا نے نفرت سے اسے دیکھ کر کہا۔۔۔
ہیر نے تیکھی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔۔۔
” میں اندھی ہوں تو تم دیکھ کر چل لیتی۔۔۔ idiot کہیں کی۔۔۔”
ہیر تیکھے لہجے میں کہتی جانے لگی کہ لیزا نے اس کا بازو پکڑ لیا۔۔۔
تم سمجھتی کیا ہو خود کو ۔۔ ہاں یہ بال بڑھا کر ڈریسنگ چینج کر کے تم باریس کے دل میں اپنی جگہ بنا لو گی۔۔ ؟؟
یہ ستی سوتری بن کر اس کے سامنے اس لئے جاتی ہو تا کہ وه تمھیں دیکھتا رہ جائے۔۔ ؟؟ تمہاری بھول ہے وه صرف میرا ہے اور مجھے بے حد پسند کرتا ہے۔۔۔
وه ہیر کے بدلے حلیے کو دیکھ کر شدید جلن کا شکار ہوئی تھی اور اسی جلن کے زیرِ اثر دل کی باتیں زبان پر آ گئی تھیں۔۔۔
ہیر بے حد محظوظ ہوئی۔۔۔
ویسے بات ہے تو ٹھیک تمهاری وه واقعی مجھے دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔ لیکن وه کیا ہے نہ کہ اب مجھے اسکی نظروں کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی اس کے دل میں جگہ بنانے کی خواہش ہے۔۔ اور رہی بات تمہاری۔۔۔۔۔۔۔
وه اس کے قریب ہوتی سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگی۔۔
” تو تم اس کو اپنے پاس ہی رکھو کیوں کہ تم دونوں ایک دوسرے کو ہی ڈیزرو کرتے ہو۔۔”
جھٹکے سے اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کراتے اسے سر تا پیر تمسخر بھری نگاہوں سے دیکھتے وه وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔۔
لیزا سلگتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جب اپنے پیچھے آہٹ پر پلٹی۔۔۔
باریس آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس کے چہرے کے تاثرات يقیناً خوشگوار نہیں تھے۔۔۔
باری تم نے دیکھا وه تمہاری کزن کس طرح مجھے ٹیز (تنگ ) کرتی ہے۔۔۔ آہ!!! اتنی زور سے میرا بازو پکڑا اس نے ۔۔۔
وه تیزی سے اس کے پاس آتی مظلوم بنتے ہوئے بولی۔۔۔
لیزا تم مجھے دودھ پیتا بچہ نہ ہی سمجھو تو بہتر ہوگا۔۔۔ اور ہیر نے تمہارا بازو پکڑا تھا یا تم نے ۔۔۔۔ ؟؟
وه طیش بھرے لہجے میں بولا۔۔۔
میں تمھیں بھی اچھی طرح جانتا ہوں اور اسے بھی۔۔ اور بہتر ہوگا کہ تم اپنی حد میں رہو۔۔۔
وه اسکی طرف جھکتا سرد لہجے میں بولا۔۔۔
تم میری دوست ہو کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ یہ دوستی بھی ختم ہو جائے،،، سمجھ تو گئی ہوگی تم۔۔۔۔
اس پر ایک اچٹتی نظر ڈال کر وه تیز قدم اٹھاتا چلا گیا۔۔۔
وه سبکی کے احساس کے زیرِ اثر اسے اپنے سے دور جاتا دیکھتی رہی۔۔۔
ہیں سچی ۔۔۔ ؟؟
اوینا تو اسکی بات سن کر اچھل ہی پڑی۔۔۔
ہاں نہ میں نے منا لیا تایا جان کو۔۔۔ اب بس تیاری کرو جانے کی۔۔۔
ہیر چٹکی بجا کر بولی۔۔
ہائے تھینک یو یار !!! اوینا اس سے لپٹ گئی۔۔۔
ارے پیچھے ہٹو موٹی۔۔۔۔
وه ابھی کچھ کہتی کہ اوینا نے اس کی بات کاٹ دی۔۔۔۔
یار ابھی نا تین دن ہیں ٹرپ میں۔۔۔ کل اپنا نام اور پے منٹ وغیرہ کروا آؤں گی۔۔۔ ابھی میری بات سن۔۔۔
لیزا اور رجا ڈائن سے بدلہ لینے کا وقت آ گیا ہے اب،، بہت ڈھیل دے دی۔۔۔ میرے پاس ایک پلین ہے ۔۔ سن !!!
وه ہیر کے قریب ہوتی اسکے کان میں سرگوشی کرنے لگی جو بمشکل بیڈ کے کنارے ٹکی ہوئی تھی۔۔۔
کمرے کے کھلے دروازے کے باہر باریس فون کان سے لگائے کھڑا تھا۔۔۔ وه مقابل کی بات سنتا کچھ کہنے لگا تھا کہ اوینا کے کمرے سے کھلکھلاہٹ کی آواز سن کر وه پلٹا کھلے دروازے سے اندر دیکھنے لگا جہاں ہیر اپنے کان کے قریب جھکی اوینا کی کسی بات پر کھلکھلا رہی تھی۔۔۔۔
اسکے ہنسنے سے سرخ پڑتے گالوں کے اطراف میں سیاہ ریشمی بالوں کی لٹیں بکھریں اسے بے حد حسین بنا رہی تھیں۔۔۔
ہنستے ہنستے اس کی آنکھوں میں پانی آ گیا۔۔۔ دفعتاً پاگلوں کی طرح ہنستے ہنستے وه دھڑام سے بیڈ سے نیچے گری۔۔۔
بجائے اٹھنے کے وه نیچے قالین پر بیٹھی پیٹ پکڑتے ہنستی جا رہی تھی۔۔۔
اوینا ہنستی ہوئی بیڈ سے نیچے جھانکتی اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کچھ کہہ رہی تھی۔۔۔
اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ کب وه اسے دیکھتے ہوئے مسکرانے لگا تھا۔۔۔
موبائل سے ہیلو ہیلو کی آواز پر وه چونک کر ہاتھ میں پکڑے فون کو دیکھنے لگا جسے وه چند لمحوں کے لیے فراموش کر بیٹھا تھا۔۔۔ مقابل کی کسی بات کا جواب دیتے وه سر جھٹک کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔
وه جو اپنے ہی کسی خیال میں گم لان میں کھڑا تھا ربیعہ کو لان میں آتا دیکھ کر اس کی جانب قدم بڑھانے لگا۔۔۔
اس نے لب کا کونہ دبا کر اسے دیکھا جو اس کے سامنے آتے ہی چھوئی موئی بن گئی تھی۔۔۔ ا
ہم اہم ___ سننے میں کچھ آیا ہے۔۔۔ عرض کرتا ہوں۔۔۔!!
محبت برسا دینا تو ساون آیا ہے !!
تیرے اور میرے ملنے کا موسم آیا ہے !!!
وه شرارتی مسكان چہرے پر سجا کر اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا جو سرخی چھلکاتے چہرے کے ساتھ اسکے سامنے کھڑی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔۔۔
وه اتنی شرمیلی تو نہیں تھی لیکن جب سے اس نے اپنے اور موسیٰ کے رشتے کی بابت سنا تھا وه اس کے سامنے آنے سے كترانے لگی تھی۔۔۔
موسیٰ اسے تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔۔۔ ربیعہ کا بدلا انداز اسے بہت بھایا تھا۔۔۔
وه بغیر کچھ کہے وہاں سے جانے لگی تو موسیٰ نے آگے بڑھتے اسکا راستہ روک لیا۔۔۔
موسیٰ پیچھے ہٹو کوئی دیکھ لے گا۔۔۔
وه ارد گرد دیکھتی کہنے لگی۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔۔۔ ؟؟
اوینا کی آواز پر اس نے شکر کا سانس بھرا۔۔۔
موسیٰ سر كهجاتا پیچھے ہٹا تو وه تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔۔۔
اوینا نے موسیٰ کے سر پر چپت لگائی۔۔۔ کیوں تنگ کرتے ہو اسے۔۔۔ دادی کو بتاؤں جا کے ۔۔ ؟؟
تمہاری ساری عاشقی باہر نکل جائے گی۔۔۔!! وه آنکھیں سکیڑ کر بولی۔۔۔
اچھا اچھا ٹھیک ہے زیادہ بننے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔
وه سیٹی پر کوئی شوخ سی دھن بجاتا وہاں سے جانے لگا تو اوینا نے اس کی شرٹ کھینچ کر اسے روکا۔۔۔
ہیر گینگ ان ایکشن !!!
وه آنکھ دبا کر بولی تو موسیٰ نے آنکھیں پھیلائیں۔۔۔
کیا مطلب پھر سے کوئی کارنامہ ۔۔۔ ؟؟
وه اسکی بات کا جواب دیے بغیر اسے بازو سے پکڑ کر کھینچتی ہوئی ہیر کے کمرے کی جانب چلی گئی۔۔
شش!!!
ہیر نے تنبیہی نظروں سے موسیٰ کو دیکھا جو میز سے ٹھوکر لگنے سے گرتے گرتے بچا تھا۔۔۔
اس وقت وه تینوں لیزا کے کمرے میں موجود تھے جو منہ کھولے گہری نیند سو رہی تھی۔۔۔
اسے تو دیکھو کیسے منہ پھاڑے سو رہی ہے۔۔۔ سو لے بیٹا ابھی دیکھنا کیسے نیند حرام کرتے ہیں تیری تو نے غلط لوگوں سے پنگا لے لیا۔۔۔
اوینا بازو کہنیوں تک موڑ کر اس سے مخاطب ہوئی جو اس سب سے بے خبر نیند کے مزے لوٹ رہی تھی۔۔۔
ہیر نے ہاتھ میں پکڑا باكس زمین پر رکھا۔۔۔ پنجوں کے بل زمین پر بیٹھتے وه باكس میں سے پوسٹر كلرز کی چھوٹی چھوٹی شیشیاں نکالنے لگی۔۔۔
چہرے پر آتے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے ہٹا کر اس نے اپنے سامنے کھڑے موسیٰ اور اوینا کو ایک ایک شیشی پکڑا دی ۔۔۔
وه برش ہاتھ میں پکڑ کر لیزا کے قریب بیڈ پر بیٹھ گئے۔۔۔
ہیر نے ایک بلیک كلر ٹیوب پکڑی اور ان کے پیچھے جا کھڑی ہوئی جو لیزا کے چہرے پر عجیب و غریب نقش و نگار بنا رہے تھے۔۔۔
ہیر نے ہنسی روکنے کو منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔
ذرا سا جھک کر اس نے ہاتھ میں پکڑی ٹیوب کا ڈھکن کھولا اور لیزا کے ادھ کھلے ہونٹوں پر لپ سٹک کی مانند لگا دی۔۔۔۔
پیچھے ہٹ کر کھڑے ہوتے وه اسکا چہرہ دیکھنے لگے۔۔۔
چہرے پر جا بجا سرخ نیلے پیلے رنگوں سے کھوپڑیاں اور ڈراؤنے چہرے بنے اسکے چہرے کو عجب مضحکہ خیز بنا رہے تھے۔۔۔ اور اس پر اس کے ہونٹوں کے نیچے لمبے نوکیلے دانتوں نے رہی سهی کسر بھی پوری کر دی تھی۔۔۔
اپنے کارنامے سے مطمئن ہوتے وه دبے قدموں کمرے سے باہر نکل گئے۔۔۔
یہی عمل انہوں نے رجا کے ساتھ دوہرایا اور پینٹ باكس لڈو کے کمرے میں سائیڈ ٹیبل پر سامنے کر کے رکھتے اپنا مشن کامياب ہونے پر ہائے فائے کرتے اپنے کمروں میں بھاگ گئے۔۔۔۔
ایک گهنٹے بعد جب “عالم ولا” میں چہل پہل شروع ہوئی تو وه مندی آنکھوں کو رگڑ کر بظاہر جمائی روکتے ناشتے کی میز پر آ بیٹھے جہاں ان سے پہلے سب آ کر بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔
دادی بڑی چپ چپ نظر آ رہی ہیں آج ۔۔۔۔!!!
موسیٰ نے خاموش بیٹھی معصومہ کو چھیڑا۔۔۔
پتر تیری دادی کو کل بیوٹی پارلر نہیں لے کر گیا اس وجہ سے یہ مجھ سے ناراض ہے۔۔۔
سبكتگین عالم نے مسکرا کر کہا تو معصومہ بی ہنکارا بھرتیں رخ موڑ گئیں۔۔۔
سب کے چہروں پر مسکراہٹ ابھری۔۔۔
السلام علیکم ،، صبح بخیر !!! باریس سلام کرتا کرسی سنبهال کر بیٹھ گیا۔۔۔
اس کے پیچھے پیچھے ربیعہ سوئی سوئی صورت لیے نمودار ہوئی۔۔۔
پتر رجا نہیں اٹھی ابھی۔۔ ؟؟
شاہانہ نے درخشاں کے ساتھ مل کر سب کو ناشتہ سرو کرتے ہوئے ربیعہ سے پوچھا۔۔۔
نہیں تائی جی وه سو رہی ہے ابھی۔۔
موسیٰ ، ہیر اور وینا میں نظروں کا تبادلا ہوا۔۔۔
آاآآ۔۔۔۔!!!
سب ناشتہ کرنا شروع کر رہے تھے کہ لیزا کے کمرے سے چیخنے کی آواز آئی۔۔۔
ہیر نے وینا کی طرف دیکھ کر مسکراہٹ چھپائی اور بمشکل چہرے کو نارمل کرتے باقی سب کی طرح اس کے کمرے کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
کس نے یہ حرکت کی ہے۔۔۔ ؟؟
اچانک لیزا کمرے سے باہر نکل کر چلائی۔۔۔۔
اس کا چہرہ دیکھ کر سب کی ہسی نکل گئی۔۔۔
باریس نے منہ پر مٹھی رکھتے بے ساختہ امڈ آنے والی مسكراہٹ کو چھپانے کی کوشش کی۔۔۔
اتنے میں رجا بھی اسکی چیخ سن کر مندی آنکھیں بمشکل کھولتی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔۔
آاآ ۔۔۔۔
اچانک اس کے سامنے آنے سے لیزا کی چیخ نکل گئی کیوں کہ رجا کے بال بھی اڑے ہوئے تھے۔۔۔۔
“تم کیوں چیخ رہی ہو مجھے دیکھ کر ،، بھوتنی تو تم لگ رہی ہو۔۔۔۔”
رجا نے نا سمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
اپنی شکل دیکھو جا کر پہلے پھر مجھ سے بات کرنا۔۔۔۔!!
وه تنک کر بولی تو رجا جلدی سے کمرے میں گئی۔۔۔۔
باریس کو اپنی طرف مسکرا کر دیکھتے اس کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے لیکن حقیقت تو کچھ اور تھی۔۔۔۔
بتا کیوں نہیں رہے کس نے یہ گندی حرکت کی ہے۔۔۔ ؟؟
وه سب کو دیکھتی طیش بھرے لہجے میں بولی جن کے کان پر اسکی چیخ و پکار سے جوں تک نہ رینگی تھی۔۔
ہاں بھئی بتاؤ کس نے پہلے سے بنی چڑیل کو مزید چڑیل بنایا ہے۔۔۔ ؟؟
معصومہ بی نے اداۓ بے نیازی سے کہا۔۔۔
سب کے چہروں پر دبی دبی ہنسی ابھری۔۔۔
دادی کل میں نے لڈو کے پاس پینٹ باكس دیکھا تھا ویسے۔۔۔۔ اوینا معصومیت سے بولی۔۔۔
بلقیس نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔ سب ہی جانتے تھے کہ یہ کارنامے کون کر سکتا ہے۔۔۔
بچے کی شرارت ہے۔۔۔ بیٹا میں اس کی طرف سے معذرت کرتا ہوں۔۔۔ عباد عالم معاملہ سنبهالنے کو بولے تو وه بغیر کچھ کہے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔
اب آیا نہ مزا۔۔!!!
موسیٰ نے ہیر کی طرف جھک کر سرگوشی کی جو باریس کے کانوں تک بھی پہنچ گئی۔۔۔ اس نے پر سوچ نظروں سے انہیں دیکھا۔۔۔۔
جب سب ناشتہ کر کے جا چکے تو وه درخشاں کے پیچھے کچن میں داخل ہوا جو ناشتے کے برتن سنک میں رکھ رہی تھیں۔۔۔
ماما کب تک ناراض رہنے کا اراده ہے آپ کا۔۔۔؟؟ وه انکا ہاتھ تھام کر گویا ہوا۔۔۔
تمہیں کیا پرواہ کسی کی ناراضگی کی۔۔۔۔اب بہت بڑے ہو گئے ہو اپنے فیصلے خود کر سکتے ہو۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے بڑے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔۔۔
وه اپنا ہاتھ چھڑا کر مصروف سے لہجے میں بولتیں سلیب صاف کرنے لگیں۔۔۔
“ماما آپ تو ایسے نہ کریں۔۔۔” وه بے چارگی سے انہیں دیکھنے لگا۔۔۔
جاؤ بیٹا میں نہیں ناراض۔۔۔ جاؤ شاباش مجھے بہت کام ہیں۔۔۔ وه سنجیدگی سے بولیں تو وه لب بھینچتا کچن سے باہر چلا گیا۔۔۔
کچن سے نکلتا وه اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ کیے ہوئے تھا لیکن لان سے شور و غل سن کر وه اپنا اراده بدل گیا۔۔۔
گرے ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پہنے وه سنجیدہ چہرے کے ساتھ لان میں آ گیا جہاں ساری ينگ پلٹن موجود تھی۔۔۔
اوینا ہیر موسیٰ لڈو کرکٹ کھیل رہے تھے جب کہ رجا اور لیزا قدرے ایک طرف گھاس پر بیٹھیں خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔۔۔
آج موسم بے حد خوشگوار تھا۔۔۔ ٹھنڈی ہوا کے تهپیڑے جسم سے ٹکراتے روح تک کو فرحت بخش رہے تھے۔۔۔
وه لان کی سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا تو ہوا سے اس کے بال ماتھے پر بکھر گئے۔۔۔ وه آنکھیں چھوٹی کیے لان کے اس حصے کی جانب دیکھنے لگا جہاں کرکٹ کھیلا جا رہا تھا۔۔۔
اس کی نگاہ موسیٰ سے ہوتی ہیر پر ٹھہری جو گہری نیلی كیپری شرٹ میں دوپٹہ کمر پر باندھے اوینا کو ریڈی رہنے کا اشارہ کررہی تھی۔۔۔
اس کے جوڑے میں بندھے سیاہ ریشمی بال ہوا کے زور سے جوڑے سے نکل کر لٹوں کی صورت جا بجا گردن اور چہرے کے اطراف میں بکھرے ہوئے تھے۔۔۔
لینز لگی گرے آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔۔۔
ایک خوش کن احساس نے اسے گھیر لیا۔۔۔ وه چہل قدمی کے انداز میں چلتا ہوا ان کے قریب چلا آیا جہاں اوینا نے موسیٰ کو ابھی ابھی آؤٹ کیا تھا۔۔۔
باریس کے قریب آنے پر وه اسکی طرف دیکھنے لگی جب کہ ہیر بیٹ کو ہاتھ میں تھام کر دائیں بائیں ہلانے لگی۔۔۔
اس نے باریس کو سرے سے نظرانداز کر دیا تھا جسے موسیٰ کے علاوہ باریس نے بھی شدت سے محسوس کیا تھا۔۔۔
بھائی آپ بھی کھیلیں ہمارے ساتھ۔۔۔!!!
موسیٰ پر جوش ہو کر بولا تو ہیر نے اسے آنکھیں دکھائیں۔۔۔
دور گھاس پر بیٹھیں رجا اور لیزا نے ناگواری سے انہیں دیکھا۔۔۔
اوکے !! باریس کے حامی بھرنے پر موسیٰ کا جوش قابلِ دید تھا۔۔۔
یا ہو !!! بھائی آپ میری ٹیم میں ہیں۔۔۔ اب دیکھنا تم دونوں کو منٹوں میں آؤٹ کر دیں گے بھائی۔۔۔
باریس کو دیکھ کر وه ساتھ کھڑی ہیر اور اوینا سے مخاطب ہوا۔۔۔
دیکھتے ہیں۔۔۔!!
ہیر نے چیلنج کرنے والی نظروں سے باریس کو دیکھا اور بیٹ کو ٹھیک طرح پکڑ کر اپنی جگہ جا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔
باریس نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا اور لڈو کے ہاتھ سے بال پکڑ کر دور جا کر اپنی پوزیشن سنبهال گیا۔۔۔
موسیٰ اور لڈو نے اپنی اپنی پوزیشن سنبهالی۔۔۔۔
ہیر بیٹ زمین پر ٹکا کر جھکی۔۔۔
باریس نے پوری قوت سے بھاگتے گیند اسکی طرف اچھالی۔۔۔۔
اوینا دم سادھے ہیر کو دیکھنے لگی۔۔۔
بال بیٹ سے ٹکرائی۔۔۔۔
ہیر نے پوری قوت سے بال کو بیٹ سے ہِٹ کیا جس سے بال لان سے باہر جا گری۔۔۔
“چھکا”۔۔۔!!!
اوینا چیختی ہوئی آ کر ہیر سے لپٹ گئی۔۔۔
میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو بال لے کر آؤ۔۔۔
موسیٰ سلگ کر لڈو سے بولا تو وه منہ بناتا بال لینے چلا گیا۔۔۔
ہیر نے ڈھیلے جوڑے کو کھول کر بال لہرا کر سیدھے کیے اور انہیں دوبارہ جوڑے میں باندھنے لگی۔۔۔
اہم اہم ۔۔۔۔ !!
اوینا اس کے قریب ہوتی کھنکاری۔۔۔
ہیر نے اسے ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔۔۔
وه بھائی تمہیں دیکھ رہے ہیں کب سے۔۔۔!!
وہ مسکراہٹ دبا کر گویا ہوئی۔۔۔
ہیر کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کو سست ہوئی لیکن پھر معمول کے مطابق چلنے لگی۔۔۔
اچھا !!!
سپاٹ چہرے کے ساتھ بول کر وه قریب ہی زمین پر رکھی پانی کی بوتل اٹھا کر گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگی۔۔۔
بال گم گئی ہے !! لڈو ہانپتا ہوا آیا۔۔۔
لو جی !! یہی ہونا باقی تھا۔۔ موسیٰ بڑبڑا کر وہیں گھاس پر بیٹھ گیا۔۔۔
باریس بھی گھاس پر ٹانگیں سیدھی کرتا بیٹھ
گیا۔۔۔
ہیر اندر جانے کو پلٹی۔۔۔ جتنا خوشگوار موسم تھا اس کا دل تو نہیں چاہ رہا تھا جانے کو لیکن باریس کو اپنے سامنے برداشت کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔۔۔
یار کدھر جا رہی ہو ادھر بیٹھو اتنا اچھا موسم ہورہا ہے۔۔۔۔
اوینا نے نیچے بیٹھتے اس کا بازو پکڑ کر اسے روکا۔۔۔
موسیٰ کے اشارے پر وه گہری سانس لیتی اوینا کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔۔
آنکھیں بند کر کے چہرہ اوپر اٹھاتی وه ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرنے لگی۔۔۔
آسمان پر گہرے بادل چھا چکے تھے۔۔۔ کچھ ہی دیر میں بارش شروع ہونے والی تھی۔۔۔
اگزامز کی تیاری کیسی جا رہی ہے تم دونوں کی۔۔۔؟؟
وه موسیٰ اور اوینا کو دیکھ کر بولتا ماتھے پر بکھرے بال سمیٹ گیا۔۔۔
اچھی ہے بھائی ۔۔۔ انشاءاللہ اس دفعہ اچھا جی پی اے آئے گا۔۔۔ اوینا سادگی سے کہنے لگی۔۔۔
اور تمہاری ۔۔۔ ؟؟؟
باریس نے ہیر کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو اوینا اور موسیٰ نے مسکراہٹ دبائی۔۔۔۔
ہیر ۔۔ ؟ بھائی کچھ پوچھ رہے ہیں۔۔۔
اوینا نے اسے ٹہوکہ دیا تو وه چونک کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
کیا ۔۔۔ ؟؟ وه سواليہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
باریس نے اسکی گرے آنکھوں میں اپنی سیاہ گہری آنکھیں گاڑ دیں۔۔۔
پڑھائی کیسی جا رہی ہے تمہاری۔۔۔؟؟
ہیر نے جبڑے بھینچ لیے۔۔۔
نن آف یور کنسرن !!!
تیکھے لہجے میں اسے بولتی وه رخ موڑ گئی۔۔۔۔
باریس کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھا گئی۔۔۔
دفعتاً بارش کی بوندیں تیزی سے گرنے لگیں تو سب اندر کی طرف بھاگے۔۔۔
باریس لان کی سیڑھیاں چڑھتا ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ ابھی اسکا اندر جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔
ہیر جو سب سے آخر میں تھی اس نے بارش سے بچنے کے لیے تیزی سے لان کی سیڑھی پر قدم رکھا کہ اچانک اسکا پیر پهسلا۔۔۔
اسکے گلے سے دل خراش چیخ بلند ہوئی جو باریس کا سانس ایک لمحے کو روک گئی۔۔۔
