Khuwab O Lams By Binte Aaslam Readelle50317 (Khuwab O Lams) Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
(Khuwab O Lams) Episode 9
وہ دونوں اس وقت کسی ڈھابے نما جگہ پر موجود تھے ۔وہ ایک گھنٹے سے زائر کا انتظار کر رہے تھے اس نے دوبجے کا وقت دیا تھا مگر اب تک نہیں آیا تھا ۔لمس جو اس کے ایٹیٹیوڈ سے پہلے ہی تنگ تھی اس وجہ سے وہ اور بیزار ہوگئی تھی ۔ تین بجے کے قریب وہ وہاں آ یا ۔حسن کی بھیجی ہوئی تحریری انفورمیشن پڑھ لی تھی اسے وہ ا یک عام سی آفیسر ہی لگی تھی
کوئی خاص بات نہیں تھی ۔ وہ ٹیبل پر پڑے گلاس کو الٹ پلٹ رہی تھی جب وہ اسے نظر آ یا وائٹ شرٹ اور بلیک جینز میں وہ راعب دار شخص ان کی میزکی طرف آرہا تھا وہ اٹھنا نہیں چاہتے تھے مگر پھر بھی کھڑے ہوگئے ۔ اسلام علیکم سر۔شاز یب نے خوش اسلوبی سے ہاتھ ملایا تھا ۔واعلیکم السلام ! وہ مسکرایا ۔لمس خاموش تھی وہ ابھی اسے صرف دیکھ ہی رہی تھی ۔ بیٹھیے ۔انھیں بیٹھنے کا اشارہ کر کے وہ کرسی پر بیٹھ چکا تھا ۔ تو بتائیں آفیسرز آپ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے تھے ۔اس نے چشمہ اتار کر میز پر رکھا تھا ۔ سر ہمیں آپ سے کچھ انفارمیش چاہیے اسے ٹوکا ۔
اور میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کی میرے پاس اللہ یار کے خلاف کچھ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ثبوت میں اس کیس میں اپکی کوئی مدد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سر میرے پاس آپ کے لیے ایک ڈیل ہے !!! بدلہ اس نے بھی پورا پورا لیا تھا ۔ کیسی ڈیل ۔۔۔اس نے پہلی دفعہ اسے غور سے دیکھا تھا ۔ سر ڈیل یہ ہے کہ آپ صرف ہماری اس کیس میں مدد کریں گے لڑکیاں بازیاب کروانے میں اور پچھلے کسی کیس کے مطلق ہم آپ سے نہیں پوچھے گے اور دوسرے بات میڈیا یا کسی کو بھی یہ پتہ نہیں چلے گا کہ آپ اس کیس میں ہماری مدد کر رہے ہیں ۔
اس نے بڑے نپے تلے انداز میں جواب دیا ۔ایمپریسو ! آپ کی ڈیل کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے ۔ اس نے
مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔ سر سوچنے کا وقت نہیں اب کرنا پڑے گا پلیز ۔اس نے بڑے نرم انداز میں کہا تھا ۔
وہ کچھ دیر سوچ میں پڑ گیا تھا پھر کچھ دیر بعد بولا” پوچھیےکیا پوچھنا چاہتے ہیں آپ ؟
اس کے اڈوں کے بارے میں ۔۔لمس اب پروفیشنل انداز میں واپس آگئی تھی اللہ یار کے ٹوٹل تین اڈے ہی ں پہلا یہاں کورنگی میں اس کی فیکٹری دوسرا رحمان گڑھ اسکا گاؤں یعنی اس کا ڈیری فارم اور تیسرا لاہور میں ہے میرا تعلق صرف یہاں سے تھا اس کی
فیکٹری سے باقیوں کا صرف وزٹ کیا تھا ۔ان کے بارے میں بہت کم انفارمیشن ہے مجھے ۔
اوکے ! تو آپ کو کیا لگتا ہے ان تینوں جگہوں میں سے لڑکیاں کہاں ہونگی ۔لمس نے بڑے غور سے اس کی بات سن کر کہا تھا اب اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے وہ کہاں رکھ سکتا ہوسکتا ہے کسی ا یک میں ہوں یا تینوں میں ۔۔۔اس نے کندھے اچکا کر کہا تھا ۔
مطلب ! لمس کچھ کنفیوز ہوئی ۔” لوڈو کھیلتی ہیں ؟ ” زائر نے لمس کی طرف دیکھ کر کہا تھا جی ! وہ حیران ہوئی تھی ۔ لوڈو کا اعلی پائے کا کھلاڑی کبھی بھی ایک گوٹ کو لیکر نہیں چلے گا وہ چاروں کو چلائے گا تاکہ ا یک ڈوب جائے تو باقی اسے کور کر سکے بلکل یہی کھیل اللہ یار کھیلتا ہے وہ کبھی بھی ایک جگہ نہیں ٹھہرے گا ۔ یعنی اس نے ہوسکتا ہے لڑکیوں کو تقسیم کردیا ہو ” لمس نے کہا بلکل اور اگر ا یسا ہوا تو کیس مشکل ہو جائے گا کیونکہ اگر پہلی دفعہ میں خوراک غار سے نکالی تو دوسری دفعہ شیر کے
منہ سے نکالنی پڑے گی ” زائر نے اگے ہوتے ہوئے کہا تھا ۔ مگر اب یہ پتا کی سے چلے گا کہ لڑکیاں کہاں ہو سکتی ہیں ؟ ” کیس اتنا آسان بھی نہیں تھا ۔
سرچ کرنا پڑے گا اس کی فیکٹری کا سرچ وارنٹ نکلوا سکتے ہو ؟ زائر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔
مگر ہم نے سرچ کیا تھا وہاں کچھ نہیں تھا سوائے چند گتوں اور دیواروں کے ۔۔۔۔شاز یب نے بتایا تھا ۔
دوبارہ نکلواو میں ساتھ چلو گا ۔نکلوا سکتے ہو ؟ اس نے دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔
کوشش کر سکتے ہیں ۔ شازیب نے کہا تھا ۔سر وہ آپ سے ایک دو سواالت پوچھنے تھے ۔شازیب نے
ہچکچاتے ہوئے کہا تھا ۔ جی ۔زائر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔ میں نے آپ سے پوچھنا تھا کہ آپ ان کا رکن بنے کیسے تھے کیونکہ جہاں تک میں نے سنا تھا اللہ یار کافی چوزی ہے؟ شازیب کو بڑا اشتیاق تھا سنے کا ۔ صحیح کہا آپ نے وہ کافی چوزی ہے مگر اگر اس کا قابل آدمی کسی کی شادھی دے تو وہ رکھ لیتا ہے جیسے کے رؤف اس کی کمپنی کامنیجر اور سرغنہ بھی اس کے زر یعے ملا تھا اس سے اس کے بیٹے کا سکول ٹیچر بن کر بس دو ا یک جھوٹ بولے مجبوری بتائی اور وہ پگھل گیا ا یک بھتہ خوری
سے مجبور ٹیچر ملا تھا اللہ یار سے اور اسے کہا تھا کہ وہ بھی ان سب کا حصہ بنا چاہتا ہے اس کے دو تین امتحانوں کو پاس کر کے ان کے اڈے کا رکن بن گیا ۔زائر نے بڑی رسانی سے سب بتایا ۔ پھر آپ نے ان کے خالف کوئی فائل بھی تیار کی تھی ۔ ” میں نے اس میں الگ الگ جگہ پر منی کیمرہ نسب کیے تھے اور وزٹ کے دوران بھی کیے تھے ۔وہاں سے انفارمیشن اکٹھی کی تھی ۔ اور وہ انفارمیشن ؟ شاز یب نے چھوٹتے ہی سوال کیا۔وہ ڈسکارڈ کر دین ی میں نے اور اس۔کی وجہ مجھ سے مت پوچھنا ۔اس نے تنبیہ کی تھی ۔ شازیب خاموش ہوگیا تھا اگر اس نے منع کردیا تھا تو واقعی نہیں بتائے گا ۔
” اور آپ بچ کے کیسے نکلے ” تھوڑی دیر بعد شازیب پھر بولا ” جب مجھے اللہ یار کا کیس دیا گیا تھا تو میں نے اس کے چند دن بعد میڈیا پر اس فائل کا ذکر کیا تھا اصل میں کوئی فائل تھی ہی نہیں وہ صرف ا یک ڈھکوسلہ تھا ۔ ۔۔۔۔۔ لمس اور شازیب نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔ ” ہاں اور اس کے بعد میں رؤف سے ملا تھا اس کے اڈے کا رکن بنا اور سب کچھ کرنے کے بعد میں نے چوری کی تھی لمس بڑے اشتیاق سے سب سن رہی تھی ” کیسی چوری ؟ شازیب نے پوچھا تھا ۔
اللہ یار کی گن کی چوری اس کی بندوق ُچرائی تھی میں نے اور جانتے ہو اس بندوق سے میں نے کیا کیا تھا ۔۔۔۔۔اس نے دونوں کو مسکراتے ہوئے کہا ۔
کیا؟ شاز یب نے پوچھا تھا ۔ فائر ۔۔۔۔اپنے اوپر اپنے بازو پر گولی چلائیی تھی میں نے اور میڈیا کو بیان دیا تھا کہ اللہ یار نے اس فائل کی وجہ سے مجھ پرقاتلانہ حملہ کیا ہے اور مجھے اس سے خطرہ ہے فارنزک کے زریعےبُلٹ میچ کر گئی تھی اس لیے مجھے پروٹیکشن دی گئی اب آگر مجھے کچھ بھی ہوگا تو اس کا زمہ دار اللہ یار ہوگا کیوں کے میڈیا کی نظر میں مجھے صرف اس سے خطرہ ہے اس لیے وہ مجھے مار تو کیا چھو بھی نہیں سکتا کیوں کہ اس کی ساکھ جائے گی اور پارٹی ٹکٹ بھی ۔۔۔اس نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا تھا ۔
…..Wow !!!!! Amazing sir
شازیب حیران رہ گیا تھا ۔
لمس خاموش تھی پھر اچانک بولی ۔۔۔۔۔
اور ڈی سی پی کورنگی کا مرڈر کیس ۔
اس کے بارے میں مجھے کچھ نہیں پتا اور نہ ہی کوئی ثبوت ہے صاف مکر گیا تھا اور اتنا سب کچھ کرنے کے بعد آپ خاموش کیوں ہو گئے ۔”
آخر اس نے وہ سوال کر ہی لیا ۔
…. Your question is rejected
وہ اٹھ کھڑا تھا وقت ختم ہوا میں چلتا ہوں ۔۔۔۔
مگر میری بات تو ۔۔۔۔۔۔۔لمس کہنے لگی تھی ۔۔۔جب سرچ وارنٹ مل جائے تو بتا دینا ۔۔۔۔بنا مڑے یہ کہ کر وہ
باہر چالا گیا تھا ۔ لمس دانت پیس کر رہ گئی تھی ۔
” شازیب کیا اس کی مدد لینا ضروری ہے ؟ ” اسنے غصے سے کہا تھا ۔ فلحال تو ہے . شازیب نے سرد آہ بھر کر کہا تھا ۔ ِتو دعا کرو خدا مجھے صبر ایوب عطاکرےورنہ یہ میرے ہاتھوں ضائع ہوگا ” پیر پٹختی واپس چلی گئی بھی ۔
وہ گاڑی میں بیٹھ چکا تھا ۔انکھیں اس نے موند لیں تھیں ” صارم کس کس کے سوالوں کو نظر انداز کرو کیا بتاؤ کےڈی سی پی کا تمہارے ہاتھوں قتل میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا”
وہ ڈسٹرب ہوگیا تھا وہ گھر واپس آگیا ۔نور دروازا کھول کر اندر چلی گئی تھی ۔وہ صوفے پر بیٹھ چکا تھا جب وہ پانی کا گلاس لائی ۔ پانی کا گلاس پکڑتے اس کی نظر نور کے ہاتھ پر پڑ ی ۔ ” یہ کیا ہوا ہے ” اس نے گلاس میز ہی رکھ دیا تھ برتن دھو رہی تو گگ۔۔گلاس ٹوٹ کے لگ گیا اس نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا تھا ۔ تم کیوں کر رہئ تھی کام والی نہںں آئی کیا ۔وہ اس کا زخم دیکھ کر تڑپ اٹھا تھا ۔اس نے نفی میں سر ہلا دیا ۔ اس نے اسے تڑپ کر سینے سے لگایا تھا اسکی آنکھیں نم ہوگئی تھیں ۔۔” کیوں کرتی ہو ایسا کیوں پہنچاتی ہو خود کو تکلیف کیا تمہیں نہیں پتا نہیں برداشت کر سکتا میں تمہاری تکلیف سانس بند ہونے لگتا ہے تمہیں درد میں دیکھ کر ” اس نے ہاتھ بڑھا کر
اس کے بالوں سے کلپ کھولا ۔ اتنی پریشانیوں اور تکلیفوں میں صرف ایک تم ہی تو جو سکون ہو میرا باقی تو کسی کروٹ تسکین نہیں ہے ۔سب جگہ جنگ چل رہی ہے وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ناجانے کیا کچھ کہ رہا تھا ” سب کھینچ رہے ہیں مجھے کوئی کھائی میں کوئی دلدل میں تکلیف میں ہوں میں سکون چاہتا ہوں جو مجھے تم سے ملتا ہے مت دیا کرو خود کو تکلیف ” اسنے اس کے بالوں پر لب رکھے تھے ۔
دوبارہ اسکا۔فون بجا تھا آفیسر لمس کی کال تھی اس نے تیوری چڑھا کر فون بند کر دیا تھا ۔۔ ناجانے کب اس سے جان چھوٹے گی اب ۔۔اس نے دل میں سوچا سوچنے سے کیا ہوتا ہے ہوتا تو وہی جو نوشتہ تقدیر میں لکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھا اس کی ہاتھ کی پٹی کھول رہا تھا ۔فَسٹ ایڈ باکس ٹیبل پر پڑا تھا ۔ ہاتھ کی ہتھیلی پر گہرا زخم تھا اور انگلیوں پر اندر کی طرف سے بھی خراشیں آئی تھیں ۔ اتنی لاپرواہی سےکام کر رہی تھی کہ اتنا گہرا زخم لگ گیا۔” وہ حیران تھا اس کی غائب دماغی سے ۔وہ کسی معصوم بچے
کی طرح اس کے سامنے بیٹھی تھی ۔ہاتھ اس کے ہاتھوں میں تھا جب دوبارہ فون بجا تھا ۔اس نے بیزار ہوکر فون کی طرف دیکھا تھا وہ حسن کی کال تھی۔
اس نے کال ر یسیو کر کے کان سے لگائے اور گردن ٹیڑھی کرکے فون کان اور گردن کے درمیان ٹکا لیا تھا اور اسکی دوبارہ پٹی کرنے لگا تھا ۔
” ہاں حسن بولو کیا کام ہے ” وہ زخم کو روئی سے صاف کر رہا تھا۔” یار حفضہ کوبتایا تیری شادی کا۔”
“اچھا تو پھر کیا ہوا کیا کہا بھابھی نے” وہ اس کے ہاتھ کے گرد
پٹی لپیٹ رہا تھا ۔
” کہنا کیا تھا وہی عورتوں والے گلے زائر بھائی نے بتایا نہیں بلایا نہیں ا یسا کیا ہوگیا ؟” ” حسن نے بیوی کی نقل اتارتے ہوئے کہا ۔
” تو تونے انھیں کیا بتایا ” اس نے مسکرا کر نور کی طرف دیکھا تھا جس نے نظرے جھکا لی تھیں ۔” جتنا ضروری اور مناسب تھا بتا دیا اور ہاں اس نے ڈنر کا بولاآج رات ہماری طرف دعوت تم دونوں کی سات بجے پہنچ جانا اصل اطلاع تو یہ تھی ۔
” اس کی کیا ضرورت تھی رہنے د یتے منع کر دیتے بھابھی کو ” وہ تکلف میں پڑ گیا تھا ۔ ایسے کیسے رہنے دیتے وہ مان گئی اتنی بڑی بات ہے ورنہ بم پھوٹنا تھا تیرے اور میرے سر پر چل اب بس کر اجائی ” یہ کہ کر حسن نے کال کاٹ دی تھی ۔ زائر نے نور کی طرف د یکھا تھا جو اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر رخ پھیر گئی تھی ۔” چلو ” اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ اٹھنے لگا
تھا ۔ کک کہاں ۔۔۔ وہ کھڑی ہوگئی تھی ۔ شاپنگ پر ۔وہ چابیاں اٹھا رہا تھا ۔ ۔۔۔۔۔وہ کچھ تذبذ کا شکار تھی ۔ کیوں؟
تم لڑکی ہو کر پوچھ رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ حیران تھا ۔
میں عام لڑکی بھی تو نہیں ۔ ناجانے اسنے ایسا کیوں کہا ۔ زائر نے ایک نظر حیرت سے اسے دیکھا کھا تھا پھر بولا تھا ” چلو”
میں نہیں جانا چاہتی . اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تھی ۔ مگر کیوں چلو یار ٹائم کم ہے ۔وہ اسے کھینچ رہا تھا ۔” کیوں کہ میں نہیں چاہتی کوئی مجھے پہچانے آپ کے ساتھ دیکھے ” اس نے رونا شروع کردیا تھا ۔
اور اسے حیرت پر حیرت ہوتی جارہی تھی ۔ میں نہیں چاہتی کوئی مجھے پہچان کر آپ کو غلط سمجھے آپ
کو حقارت کی نظر سے دیکھے میں داغ ندامت نہیں بنا چاہتی ” اس نےچہرا ہاتھوں میں چھپا لیا تھا ۔
زائر کو سمجھ آگیا تھا وہ احساس کمتری کا شکار تھی ۔اس نے بڑے پیار سے اس کا چہرا تھاما تھا ۔
” تمہیں یہ کس نے کہ د یا کہ تم میرےلیے داغ ندامت ہو تم تو میرے سر کا سہرا ہو جو خدا نے دیا ہے مجھے کوئی ہم دونوں کو دیکھے گا تو رشک کرے گا اور کہےگا یہ تو واقعی ا یک دوسرے کےلیے بنے ہیں ۔میں فخر محسوس کرتا ہوں تمہیں اپنے ساتھ دیکھ کر خود کو آدم اور تم حوا لگتی ہو مجھے کیوں ہمیں خدا نے ایک کیا کسی شادی کروانے والے نے نہیں یہ بات
اپنے دل سے نکال دو اور چلو شاپنگ کرتے ہیں ۔سمجھ ائی ۔اس نے مسکرا کر اس کو کہا اور اس نے بھیگے چہرے کو اثبات میں ہلایا تھا ۔
تو پھر چلیں ۔۔۔۔۔ میں برقعہ پہنوں گی ۔معصوم سی حفاظت کی کوشش۔ وہ مسکرایا تھا مسکان تو چہرے سے جا ہی نہیں رہی تھی ۔” تو میں منع تھوڑی کروں گا میں بھی یہی چاہتا ہوں کے تمہیں میرے سوا کوئی نہ دیکھے جاؤ پہن لو ” ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں مارکیٹ میں کھڑے تھے زائر اسے ایک مال میں لے گیا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا لے اور کیا نہیں اس میں بھی زائر ہی اس کی مدد کررہا تھا اس نے اسے آج رات کے لیے بہت ہی خوبصورت بلیک ا ینڈ وائٹ میکسی لے کر دی اور اس کے ساتھ میچنگ جیولری بھی اور باقی روزمرہ کے کپڑے جوتے۔ ڈنر کی بات سن کر
وہ ایک بار پھر پریشان ہوگئی تھی مگر زائر نے اسے منا لیا تھا تقریبا سات بجے وہ لوگ حسن کے گھر پر موجود تھے ۔وہ ان کے لیے گفٹ بھی لائے تھے حسن کی ابھی ا یک ڈیڑھ سال پہلے ہی شادی ہوئی تھی خدا نے انھیں ا یک شرارتی سا بیٹا دیا جوحفضہ کو کچھ زیادہ ہی مصروف رکھتا تھا ۔ اس وقت بھی تھا
وہ اسی کے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔نور اس میکسی میں بلکل پری کی طرح اڑنے کے لیے تیار کھڑی تھی اور زائر جو خود کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا ملسل اسے دیکھ رہا تھا وہ شرمائی شرمائی سیمٹی سی بے حد خوبصورت لگ رہی تھی حسن نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا” تمہاری ہی ہے گھر جا کر دیکھ لینا ” اسنے دانت نکال کر کہا تھا ۔نور کو حفضہ لے گئی۔ ۔” تو تمہیں کیا مسئلہ ہے تو بھی د یکھ اپنی بیوی کو کونسا ٹیکس لگ رہا ہے ” اس نے دانت پیس کر کہا تھا ۔” ہائے ایسا مت کہ
اگر میں نے اپنی بیوی کو دیکھنا شروع کردیا نہ تو ڈرامے لگ جانے ہیں ” اس نے زائر کی گردن کے گرد بازوں حائل کیے ۔
” او رومیوں کی اولاد پیچھے ہوکر بات کر ان دونوں نے دیکھ لیا تو ” اسنے اس کے بازوں پیچھے کیے تھے ۔ ٫تو کیا کہے گی دو دوست ہی تو مل رہے ہیں اور کیا ” مگر وہ اسے تنگ کرنے فل موڈ میں تھا ۔اور اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔اور بڑے پیار سے اس کے گالوں کو چھوا تھا
” تجھے کیا ہوگیا ہوش میں آ تیری بیوی نہیں ہوں میں دور ہٹ میری بیوی سے تو۔پہلے ہی میر ی بن نہیں رہی ابھی وہ ایسے دیکھے گی تو ۔کیا سوچے گی ۔
مگر حسن نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑا رہا تھاحفضہ اور نور واپس آئی تھیں ۔
آپ لوگ آئے نہیں ابھی تک ؟ حسن نے جھٹ سے زائر کا ۔ہاتھ چھوڑا تھا ۔چچ۔۔چلو بیگم چلتے ہیں یہ کہ وہ کھانے کی میز کی طرف بڑھ وہ دونو ان کے پیچھے حیرت سے دیکھ رہی تھیں ۔ ارے ہاں زائر تو ملا آفیسر لمس سے ؟حفضہ اور نور باتیں کر رہی تھی اور نور ہمیشہ کی طرح سن رہی تھی ۔ ” ہاں ملا تھا ” اس نے سادہ سے انداز سے کہا تھا ۔
” تو کیا کہا اس نے ؟ اس نے تجسس سے پوچھا تھا ۔کچھ نہیں ملک کے خالف مدد مانگ رہی تھی میں منع کردیا ” عام سا لہجہ ۔
کیییا ۔۔۔۔کیوں یار وہ اچھی آفیسر ہے تم دونوں مل کر اچھی ٹیم بنا سکتے ہو ۔حسن نے مشورہ دیا
حسن مجھے اس بارے میں بات نہیں کرنی خاص طور پر آج کے دن وہ اکتا گیا تھا اس نے ا یک نظر نور کو دیکھا تھا جو خاموش سی کھانا کھا رہی تھی ” پتہ نہیں کب سب کچھ ٹھیک ہوگا ۔” اسنے دل میں سوچا۔
حسن خاموش ہوگیا تھا وہ جانتا تھا وہ تو ضدی ہے ۔
دس بجے کے قریب وہ دونوں گھر واپس آئے تھے زائر روم چلاگیا تھا اور وہ کچن میں فریش ہوکر بیڈ پر بیٹھا کوئی فائل دیکھ رہا تھا جب وہ واپس آئی تھی اور ڈریسنگ کے سامنےکھڑی ہوگئی تھی وہ تھک گئی تھی اس زیبائش کے سامان سے وہ اتارنا چاہتی تھی ۔
کمرے۔کی کھڑکی کھلی تھی ۔اس نے سب سے پہلے بال کھولے تھے جو آبشار کی طرح کمر پر پھیل گئے تھے۔کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی نور جھمکے کے موتی سے ٹکرا کر زائر کے چہرے پر پڑ رہی تھی جب اس نے نظر اٹھا کر دیکھا سامنے ڈریسنگ کے ۔شیشے میں اسے اس کا عکس دیکھائی دیا ۔ اس کا دل مچل گیا تھا اس عکس کو چھونے کے لیے اسے پتا ہی نہیں چلا کہ کب اسکے قدم بیڈ سے اتر کر زمین پر جنبش کرنے لگے وہ قدم قدم چلتا اس تک پہنچا۔ وہ جو اپنے کام میں مصروف تھی اسے اچانک اپنے بازوؤں پر شناسا سے لمس کا احساس ہوا تھا ۔اور وہ اس کا چہرا سامنے شیشے میں دیکھ چکی تھی۔ اسنے ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد حائل کیا تھا اور دوسرے ہاتھ سے وہ اس کا چوڑ یوں والا ہاتھ تھامے ہوئے تھا ۔اس کے ہاتھوں کی گرفت سے چوڑیاں ٹوٹ ٹوٹ کر گرتی جارہی تھیں اور اسی کے ساتھ نور کے ہر حوصلہ بھی ۔ یہ اس قربت کا اثر تھا یا اس لمحے کا فسو کے اس کی ہمت نہیں ہورہی تھی کے مڑ بھی سکے ۔
جاری ہے
