Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Khuwab O Lams) Episode 5

۔۔پنڈال سج چکا تھا کرسیاں نواب زادوں رئییسوں سے بھر چکی تھیں ۔لڑکیوں کو ترتیب واہ بیٹھا دیا گیا تھا مگر سٹیج کے پیچھے ۔زائر کانام وہ گارڈ کو بتا آئی تھی مگر اب وہ سوچ رہی تھی کہ کاش وہ نہ آئے مگر وہ اسے آخری بار دیکھنا چاہتی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ تھا تیرا خیال بھی ۔۔۔۔۔۔۔
پروین شاکر کی غزل اور نصرت کی آواز اس کے جزبات کی عکاسی کررہے تھی ۔
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔۔۔
ہوتا رہا ملال بھی ۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم میں زائر ہو حیات نے بلایا ہے مجھے یہاں ۔گارڈ نے اسے پنڈال کی طرف اشارہ کرکے اندر بھیج دیا تھا اور راستے میں اس کی نظر نور پر پڑی تھی جو باہر اسے ہی دیکھنے آئی تھی ۔۔۔۔اج اس نے برقہ نہیں پہنا تھا وہ بلیک نیٹ کی فراک میں ملبوس تھی جس میں سے دودھیا بازو نظر آرہے تھے ۔چہرا چادر سے چھپا۔رکھا تھا ۔ سیاہ آنکھوں کو کاجل اور بلیک شمر کی شیڈ نے اور بھی
خوبصورت بنا دیا تھا ۔وہ اس لباس میں رات کی رانی لگ رہی
تھی ۔۔۔
بات وہ آدھی رات کی ۔۔۔۔
رات وہ پورے چاند کی ۔۔ چاند بھی ہے کے چیت کا ۔
اس پے تیرا جمال بھی ۔۔
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی ۔۔۔۔
کچھ تھا تیرا خیال بھی۔۔۔
وہ وہیں کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ایک کی آنکھوں میں ٹوٹیمحبت کا غم تھا تو دوسرے کی آنکھوں میں تعجب حیرت ۔مگر وہ دونوں ایک دوسرے کو مسلسل دیکھ رہے تھے ۔۔
سب سے نظر بچا کے وہ ۔۔
مجھ کو۔تھا ایسے دیکھتا
ایک دفعہ تو رک گئی ۔۔۔۔
گرد ِش ماہ و سال بھی ۔۔۔
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی ۔۔۔
کچھ تھا تیرا خیال بھی ۔۔
نور کسی احساس کے تحت اپنی سیٹ پر واپس آگئی تھی مگر وہ وہیں کھڑا تھا حیرت سے ادھر ادھر دیکھتا پھر وہ اندر چلا گیا ۔ زائر جب آیا تھا تب ساتویں بولی لگ رہی تھی جو ختم ہوگئی تھی ۔اب اس کی باری تھی وقت مشکل ہورہا تھا اس کے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے جب اسے آواز آئی ” طرائف نمبر 8 ” اس کی جان حلق کو آئی تھی ۔۔اواز پھر ائی ” طوائف نمبر 8 ” ۔نورتمہاری باری ہے اس کے ساتھ بیٹھی لڑکی نے اسے ہلایا تھا ۔وہ منہ چادر سے چھپائے سٹیج کی طرف بڑھی اور اسے دیکھ کر زائر کے قدم لڑکھڑا گئے تھے اگر وہ میز کو نہ تھامتا تو شاید گر جاتا ۔
اس کو نہ پا سکے تھے۔
۔ جب دل کا عجیب حال تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب جو پلٹ کے دیکھتے ۔۔۔۔
بات تھی کچھ محال بھی ۔۔۔۔
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی ۔۔۔۔
کچھ تھا تیرا خیال بھی۔۔۔
وہ سٹیج پر پہنچ چکی تھی ۔دونوں کی نظریں پھر ملی تھیں مگر زائر کے حواس تو ایک ہی لفظ نے شل کر دیے تھے ” طوائف ” نورِحیات چادر ہٹاؤ ۔وہ خانم کی آواز تھی ۔۔۔مگر وہ سن ہی کب رہی تھی ۔۔” نور چادر ہٹاؤ ۔۔۔۔ جواب ندارد ۔۔پھر خانم سٹیج پر خود آئی تھی اور نور نے پرنم آنکھوں سے التجا کی تھی ۔۔ مگر انھوں نے بےدردی سے چادر کھینچ کر اتاری تھی ۔ زائر اور
نور دونوں نے قرب سے آنکھیں بند کرلیں آنسو ٹوٹ کر گرے تھے ۔ہال میں بے ساختہ گونجا تھا ” ماشاللہ ۔وہ لڑکی نہیں حور تھی چہرا نہیں چاند کی برق تھی بولی شروع کی جائے ۔خانم نے کہا تھا ۔مگر وہاں سن کون رہا تھا وہ تو بس ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔ایک کی آنکھوں میں گلہ تھا دوسرے کی آنکھوں میں ندامت ۔کون کتنی رقم بول رہا ہے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا ۔تبھی ایک آواز گونجی تھی ۔” رکو ” وہ خانم کی آواز تھی ۔ایمرجنسی ہو گئی ہے تقریب روکنی ہو گی اسے اور باقی لڑکیوں کو لے کر کوٹھے پر پہنچے ۔وہ یہ کہتی نکل گئ تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باقیوں کی طرح وہ بھی وہاں سے آگیا تھا وہاں گزرا ایک ایک لمحہ قیامت تھا اس کے لیے ۔بار بار ایک لفظ سنائی دے رہے تھے طوائف طوائف نور حیات طوائف وہ ان دو لفظوں کو جوڑ نہیں پارہا تھا ۔ قدم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہے تھے ۔دل میں طوفان تھا سر درد سے پھٹ رہا تھا وہ سکون چاہتا تھا ۔ اس لیے قدم خود بخود مسجد کی طرف چلے گئے ۔۔
صحن میں آتے ہی وہ سجدے میں۔ گر گیا وہ زاروقطار رونے لگا تھا زبان پر ایک ہی لفظ تھا ۔ ” نہیں ۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔نو ۔۔۔نو ۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہوسکتا آپ ایسے کیسے کر سکتے ہو وہ میری نہیں ہوسکتی آپ اسے میرے حق میں کیسے لکھ سکتے ہو یا میرے مالک میں نہیں کر سکتا اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرلیں آپ کو آپ کے حبیب کا واسطہ ۔۔ ” اور ہم نے پیدا کردی تم ہی سے تمہاری عورتیں جن سے تم سکون پاؤ ” وہ التجا کر رہا تھا جب اس کے کان میں قرآن کی آیت کا ترجمہ پڑا وہاں کوئی قرآن پڑھ رہا تھا ترجمے کے ساتھ وہ آواز ہجرے سے آرہی تھی وہ اسی سمت چال گیا ۔
” بیشک نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں ہیں اور بد مردوں کے لیے بد عورتیں ہیں۔ ” وہ وہاں پہنچا تو سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر اور ٹوٹ گیا تھا وہ قدم قدم چلتا ان کے پاس بیٹھ گیا تھا ۔ بابا تلاوت ختم کر چکے تھے جب زائر کی طرف متوجہ ہوئے ۔
زائر تم کب آئے ۔۔۔ وہ جو دیوار سے ٹیک لگائے گھٹنے سینے سے جوڑے سر دیوار سے لگائے بیٹھا تھا ۔
بابا آپ کو سب پتا تھا نہ ۔اس نے انھیں بنا دیکھے کہا تھا ۔ کس کے بارے میں۔۔۔وہ بن رہے تھےنو۔۔نوِرحیات کے بارے میں اب تو اس کانام بھی حلق میں اٹکنے لگا تھا ۔ ہاں ۔جواب یک حرفی آیا تھا ۔ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔اس نے گلہ آمیز نظروں سے بابا کی طرف دیکھا تھا ۔ میں نے کہا تھا نہ صبر کرو خودی پتہ چل جائے گا ۔ یہ صبر میرے لیے عذاب بن گیا ہے بابا اس نے پھر رونا شروع کردیا تھا ۔” با با میں تو بد مرد نہیں ہوں پھر میرے نصیب میں بد عورت کیوں آئی ۔ اس کی اس معصوم سوال پر بابا مسکرائے تھے ۔” یہی تو فطر ِت انسان کی غلطی ہے کہ حکم خدا کا سنتا ضرور ہے مگر مطلب اپنے مطابق نکالتا ہے ۔تم یہ سوچ رہے کہ وہ بد عورت ہے تو کیا تم بد مرد ہوں تم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ تم نیک مرد ہو تو وہ بھی نیک عورت ہوگی ۔۔۔” بابا وہاں رہنے والا کوئی شخص نیک نہیں ہوتا ۔ اس نے سر گھٹنوں میں دے لیا تھا ۔
زائراسے خدا نے چنا ہے ۔۔۔۔۔۔
اس لیے تو رورو کر التجا کر رہا ہوں۔۔۔۔۔
وہ نصیب ہے تمہارا ۔۔۔۔۔
اتنا بدنصیب نہیں ہوسکتا میں۔۔۔۔۔
وہ تمہارے سر کا سہرا ہے ۔۔۔۔
میں یہ سر کٹوا دوں گا ۔۔۔۔۔
وہ پاکیزہ ہے۔۔۔۔۔۔
کیسے مان لوں۔۔۔۔۔
وہ نورِحیات ہے۔۔۔۔۔
آب ِحیات بھی ہوتی تو نہیں اپناتا ۔۔۔۔۔
وہ مصیبت میں ہے ۔۔۔۔۔۔
میں ازیت میں ہوں ۔۔
وہ بکھر جائے گی ۔۔۔۔۔۔
میں مر رہا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ عشق ہے۔۔۔۔۔۔
وہ طوائف ہے ۔۔۔۔۔ یہ بات اس نے بڑے ضبط سے با آواز کہا تھا ۔ بابا وہ طوائف ہے میں کیسے اپنا لوں اسے ۔۔ اس نے بابا کے گٹھنے کو پکڑ لیا تھا ۔
اچھا تو یہ بات ہے طوائف ہے کس کا طواف کرتی ہے ۔پیسوں کا مردوں کایا خواہشوں کا ۔۔۔۔وہ تو ساری دنیا کرتی ہے تو پوری دنیا طوائف ہوئی زائر ۔وہ شروع سے تو ان سب کا حصہ نہیں تھی وہ پاک ہے کھلے پھول کی طرح اب اسے کوئی توڑ کر لے گیا تو اس کا کیا قصور تمہیں اسے بچانے کے لیے چنا گیا اور تم انکار کر رہے ہوں خدا مدد۔کے لیے اسے چنتا ہے جس پر مکر رہے اسے مان ہوں خدا کا مان توڑ رہے ہو وعدے سےہوں ۔ان کو اب غصہ آرہا تھا ۔ پر بابا میں ایک ایسی عورت کو کیسےاپنے وجود کا حصہ بنا لو جس کا کردار ایک سوالیہ نشان ہوں ۔۔۔دل مان ہی نہیں رہا تھا۔ ” تم اس کے کردار کی بات کر رہے ہو جس کے کردار کی گواہی خدا نے دی ہے ۔تم کہتے ہو نہ اسے تمہارے لیے خدا نے چنا ہے تو خدا کی گواہی تمہارے لیے کافی نہیں۔ بابا کی باتیں سچ تھیں دل کو سکون مل رہا تھا دل اقرار کر رہا تھا ۔ “کہتے ہیں جو انسان کسی کی زندگی بچاتا ہے وہ فرشتہ ہوتا ہے میں کہتا ہوں وہ فرشتے سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے کیوں خدا اسے بچانے کے لیے فرشتے کو بھی بھیج سکتا مگر وہ انسان کو بھیجتا ہے کیوں کے فرشتے حکم کے آگے کچھ نہیں سوچتے مگر انسان سوچتا ہے نفع نقصان اس لیے انسان کو موقع دیا جاتا ہے ۔میری بات سمجھ رہے ہو نا زائر ۔۔۔۔۔ انھوں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔ ہمممم۔۔۔۔۔۔ اس نے اثبات میں سر ہالیا تھا ۔ تو ٹھیک ہے بچالو اسے۔۔۔۔۔۔ انھوں نے پھر کہا تھا ۔ مگر کیسے بابا کیسے وہ جنگل ہے ان بھیڑیوں سی کیسے بچاؤ اسے بھاگا کر لے بھی جاؤ تو کہاں تک وہ ڈھونڈ لے گے۔۔وہ
پریشان ہوگیا تھا ۔۔۔ بابا معنی خیز مسکرائے تھے ۔۔۔۔۔۔” تو خرید لو ۔۔۔۔۔ انھوں نے بڑی آسانی سے یہ کہاتھا ۔ زائر تڑپ کر ان کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔۔
تو خرید لو اسے ۔با با نے بڑی آسانی سے یہ کہا تھا ۔
زائر نے تڑپ کر بابا کی جانب دیکھا تھا ” یہ کیا کہ رہے ہیں آپ یعنی میں بھی اس کے جسم کی بولی لگا دوں باقی وں جیسا ہو جاؤ “
نہیں زائر تم باقیوں جیسے نہیں ہوں باقیوں جیسے ہوتے تو اس کے سر عام آنے پر تم ی ں دکھ نہ ہوتا تم بھی اس کا چہرا د یکھتے کبھی بھی اس کے بے پردہ آنے پر تڑپ نہیں رہے ہوتے تم نےتو اس کا چہرا دیکھنے کی خواہش نہیں کی یہ بات تو اسے بھی پتا ہے ۔ پھر بابا میں نہیں کر سکتا میں اپنی محبت کا مول نہیں لگا سکتا ” کہتے ہیں وقت سب ٹھیک کر دیتا ہے مگر وقت ہی سب خراب کرتا ہے ظالم ہوتا اس لیے تو گھڑی میں پھول نہیں سوئیاں ہوتی ہیں ۔ قسمت پتا ہے زائر کیا ہوتی ہے قسمت وہ ہوتی جو بدلی نہ جاسکے ۔جو کہتے ہیں دعا قسمت بدل دیتی ہے غلط ہیں وہ قسمت نہیں۔ ہوتی وہ حالت ہوتی ہے لوح محفوظ میں کچھ جگہوں
پر لکھا ہے جو تو چاہے وہ دعا منواتی مگر قسمت لوح محفوظ میں لکھی جاچکی ہوتی ہے وہ بدل نہیں سکتی وہ اٹل ہے تمہارا اور اس کا ملن قسمت ہے حاالت نہ ی جو تم بدل سکوں اسے بچانے کا کوئی اور طر یقہ ہے بولو؟ پر بابا میں کی سے خرید وہ انمول ہے اور وہاں ناجانے کتنے بڑے لوگ ہوں گے میں حقیر وہاں کی سے جاؤ گا میرے پاس کچک نہیں ہے اگر میری جان جانے سے اس کی زندگی بچت ی ہے تو
یہ لے ا یک ایک بوند نچوڑ لے” اس نے کالائی ان کے سامنے کی بابا نے اس کی کلائی پکڑ لی تھی ۔” تم تو بہت مالدار ہوں تمہارے پاس محبت ہے ،عزت ہے ،تحفظ ہے اسے دینے کے لیے تم سے کس نے کہا ۔تم غریب ہو ۔بابا کی معصومیت پر وہ مسکرایا تھا ” بابا یہ دنیا ہے یہاں جذبات نہیں کاغذ کے حقیر نوٹ چلتے ہیں ۔وہ نہیں ہے میرے پاس ۔ زائر ۔ بابا نے پڑے پیار سے پکارا تھا ۔ جی بابا ۔ وہ پھر ٹیک لگا چکا تھا ۔ سونا ہے ۔ وہ بستر پر سیدھے ہوکر بیٹھے تھے ۔ کیا بابا ؟ وہ حیران ہو تھا ۔ سونا ہے جاؤ بہت دیر ہوگئی ہے ۔وہ لیٹ گئے تھے ۔پر بابا زائر جاؤ انھوں نے غصے سے کہا تھا اور وہ خود کو سنبھالتا وہاں سے واپس گھر لوٹ آیا تھا سد شکر سب سو رہے تھے وہ سیدھا گیسٹ روم میں گیا تھا اور ریت کی طرح وہ بیڈ بکھر گیا تھا آنکھوں نے آنسو بہانے بند کردیے تھے ۔وہ صرف یہی سوچ رہا تھا ” کیوں کیا نور آپ نے آیسا کیوں کیا ؟ کیوں میری محبت کو سب کے سامنے رسوا کردیا
۔میرا عشق حقیرزدہ سا سٹیج پر کھڑا تھا ۔میری غیرت کی چادر کھینچ کر اتاری گئی میرے سرمائے کی بولی لگی کیوں کیا آپ نے آیسا اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
فارم ہاؤس آکر اسنے سب سے کمرے کا حشر بگاڑا تھا اور اب بیڈ سے ٹیک لگائے رونے میں مصروف تھی رمشا اس کے قریب بیٹھی اس کی حالت دیکھ کر کڑھ رہی تھی نور بس کردو کیوں تھکا رہی ہوخود کو شکر کرو اس نے تمہیں اس کے سامنے کسی اور کا ہونے سے بچالیا ۔ آج بچا لیا تو کل ؟ کل تو ہو ہی جاؤ گی کل تو وہ بھی نہیں آئے گا اپنے زندہ بچنے کی خوشی مناؤ یا اپنی ٹوٹی محبت کا ماتم ۔وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہ رہی تھی ۔” میں نے دیکھا تھا اسے وہ مر رہا تھا تڑپ رہا تھا اس سے کھڑا نہیں ہوا جا رہا
تھا وہ ٹیبل پکڑ کر کھڑا تھا ۔اپنی محبت کی نیلامی دیکھ رہا تھا ۔ وہ پھر رونے لگی تھی ۔ صبر کرو بی شک اللّٰہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اس نے قرآن کی آیت کا ترجمہ سنا یا تھا ۔ نہیں آرہا صبر نہیں آرہا اگر چاہتی ہو مجھے صبر آجائے تو مجھے زائر لادو یا دعا کرو مجھے موت اجائے کیوں کے مرے ہوؤں پر صبر آتا ہے زندوں پر نہیں اس نے منہ ہاتھوں میں
لےلیا تھا ۔ رمشا ہار گئی تھی ۔۔۔ تم ۔۔۔ تم رو لو شاید تمہیں سکون مل جائے ۔۔۔وہ آٹھ کر چلی گئی تھی پر اس کے حواس کہاں برابر تھے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج ایک محبت رسوا ہوئی تھی صبر کے باندھ ٹوٹ گئے تھے آسمان چھلک پڑا تھا بارش برس رہیتھی ۔ دو بت اپنی اپنی حالت پر رو رہے تھے ۔ ایک نے رو رو کر آنکھیں سوجا لی تھیں تودوسرے کی آنکھوں
نے آنسوؤں سے کنارہ کر لیا تھا ۔ ایک کا روم روم بھٹی کی طرح جل رہا تھا ۔ دوسرے کا انگ ا نگ احساِس ندامت میں ڈوبا تھا ۔ ایک کادل غِم بے وفائی سے مردا ہوگیا تھا تو دوسرے کا دل الزاِم بے وفائی سے پھٹ رہا تھا ۔ غم ِ ہجر اور فراق انھیں اندر سے بھگو رہا تھا اور باہر بارش برس رہی تھی ۔۔۔۔۔” اور بابا ان سے تو بہت گلے ہیں ان سے مجھے میرے دل میں اس کی محبت کی جوت جلا کر وہ کنارہ کر گئے کہ انھیں سونا ہے وہ ایسا کیسے۔۔۔۔۔۔۔ ا یک منٹ کیا کہا تھا انھوں نے سونا ہے اور اسی کے ساتھ وہ طوفان میل۔کی طرح اٹھا تو اس نے الماری کھولی تھی سیف میں وہ پوٹلی موجود تھی اب سے سب سمجھآرہا تھا کے اسے اس کی ضرورت کیوں پڑنے والی تھی ملک اللہ یار کی نہیں قدرت کی سازش تھی وہ انھیں مالنا چاہتے تھے
مگر کیا یہ واقعی قدرت کی سازش تھی یا اللہ یار اور قدرت کے علاوہ کوئی تیسرا بھی تھا ۔سب کچھ سمجھنے کے بعد بھی دل میں ایک وسوسہ تھا کی اس یہ کرنا چاہیے یا نہیں انھیں سوچوں میں اس کی آنکھ لگ گئی تھی ۔ ” وہ رو رہا۔ تھا گڑگڑا رہا تھا اندھیرا تھا چار سو اندھیرا تھا اور پھر چھن کر آتی روشنی اور اس کے ساتھ وہ قدموں کی آواز اس آدمی کو دیکھ کر وہ اٹھ کھڑا تھا ۔ابو کہاں تھے آپ آگئے اتنی د یر لگا دی آنے میں وہ ان کے گلے لگا تھا ۔ کیا ہوا زائر کس الجھن میں پھسے ہو جو مجھے اتنا یاد کیا کے آنا پڑا ۔وہ نورانی چہرا بولا تھا ۔ پتا نہیں۔ ابو ا یک مشکل میں پھنس گیا ہوں سمجھ نہیں آرہا کیا کرو دل کی سنو یا دماغ کی دل کہتا ہے مان لے سکون مل جائے گا اور دماغ کہتا ہے مت مان خسارہ ہے ۔کی لا کرو وہ ان کا
ہاتھ پکڑے رو رہا تھا ۔ ” زائر میں نے کہا۔ تھا نہ۔کبھی بھی یہ سوچ کرپیچھے مت ہٹنا کے وہ چیز تمہارے حق میں بہتر نہیں دماغ تو دنیا کے لیے ہے وہ تو شطرنج کی بساط ہے خود کوبچانے کے لیے سامنے والے
کو نہیں دیکھتا ختم کر دیتا ہے پھر تنہائی بچتی ہے مگر دلمعصوم ہے لکاچھپی کھیلتا ہے اور اس کے راز ڈھونڈنے میں بڑا مزا آتا ہے اگر کہتا ہے سکون ہے تو مان لو اس کی بات پا لو سکون وہ ویسے بھی دنیا میں نہیں ہے ۔”آپ سہی کہ رہے ہیں ابو میں اس کی ہی سنو گا ۔اس نے ان کا ہاتھ تھپتھپایا تھا ۔ اچھا اب میں چلتا ہو ملاقات کا وقت ختم ہوگیا ۔وہ اٹھ کرجاچکے تھے ۔ ابو! ابو ! رک جائے ابو! اور اسی کے ساتھ اس کی آنکھ کھل گئی تھی ۔جواب مل گیا تھا صبح ہوگئی تھی اندھیرا چھٹ گیا تھا نوِر حیات کو بچانا تھا کیسے بھی وہ کچھ سوچتا ہوا تیار ہوا اسے اور پوٹلی اٹھا کر باہر چلا گیا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت جیولر کی دوکان کی باہر کھڑا تھا اسے پتا کروانا تھا وہ سکے سونے کے ہیں بھی یا نہیں۔ وہ اندر جانے ہی لگا تھا جب اسے کسی کی آواز آئی ۔ مسٹر زائر ! اس نے مڑ کر دیکھا تھا وہ کوئی آدمی تھا ۔ یس ۔ اس نے حیرت سے اسے دیکھا ۔
If I am not wrong you are zair Momin ا
the journalist Zair Momin fro Karachiاس آدمی نے مسکرا کر کہا تھا ۔ جی پر آپ کون ؟ سر میں آپ کا بہت بڑا فین ہوں آپ کے کالم پڑھے ہیں میں نے آپ نے کتنے لوگوں کو انصاف دلایا ہے
you are awesome
!Thanks
دوکان میں لوگ آ جا رہے تھے اس نے ا یک نظر دوکان کو دیکھا پھر وقت کو مجھے لگتا ہے کسی ضر ور ی کام کے لیے جارہے تھے ا یم سوری! نہیں ۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں چلیں پھر ملاقات ہوتی ہے ۔اس نے ہاتھ ملایا تھا ۔ جی وہ تو ہونی ہی ہے اس نے اندر آتے ہی پوٹلی کاؤنٹر پر رکھی تھی I want to know is it real or not.کاؤنٹر بوئے نے پوٹلی سنار کی طرف اچھالی
سنار نے پوٹلی کھولی اور اس کے ہوش اڑھ گئے تھے
” سونے کے سکے آج کے دور میں کہاں سے آئے تمہارے پاس سنار نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔ اس پہلے کے تم کچھ اور سوچو تو یہ دیکھو میں۔ ا یک صحافی ہوں اور یہ کیس کا حصہ ہے بتاؤ اصلی ہے یا نہیں۔سنار نے کارڈ دیکھ کر سکے دیکھنے شروع کی ے ایک کے بعد ا یک وہ کل پچاس سکے تھے اور آخری سکے کو دیکھنے کے بعد اس نے زائر کو دیکھا تھا. ” یہ سب اصلی ہیں اور ان کی مالیت آج کے دور میں تقریبا ایک کروڑ جتنے ہوگی ” .سنار کی بات سن کر اس کے چہرے پر مطمئین سی مسکراہٹ آئی تھی وہ پوٹلی اٹھا کر باہر چلا گیا تھا جب سنار نے کسی کو
فون پر بتایا تھا ” آپ کا کام ہو گیا۔۔۔۔۔اج کا سارا دن اس کا خانم اور اس کے کوٹھے کی تفصیلات معلوم کرنے میں نکل گیا سب باتیں عام تھی سوائے ایک کے خانم اپنی لڑکیوں کا عام سودہ نہیں کرتی تھی وہ صرف بولی
لگاتی تھی یعنی زائر ابھی جا کر اسے سکے دے کر نور کو نہیں لے سکتا تھا سےا بھی بولی لگانی پڑنی تھی ۔ انھیں فکروں ُمیں شام سر پر تلوار کی طرح کھڑی ہو گئ تھی وقت آگیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہال سج چکا تھا آج وہ مہرون فراک میں جوڑا کیے کسی کہانی کی کالسیکل ہیروئن لگ رہی تھی سب سے پہلی بولی اس کی تھی مگر اب پروا کسے تھی وہ ٹوٹے قدموں سے سٹیج پر آگئی ۔چادر اس نے اتار کر کسی لڑکی کو پکڑا دی تھی ۔ بولی شروع کرے ۔خانم کی آواز آئی تھی ۔آج کان اپنی قیمت سن رہے تھے ۔۔پانچ لاکھ ۔۔۔نظر یں جھک گئیں تھیں ۔۔۔۔۔دس لاکھ ۔۔۔۔۔۔فراک کو ہاتھوں نے جکڑ لیا تھا ۔۔۔۔۔۔پندرہ لاکھ ۔۔۔۔دل کی دھڑکن رک رہی تھی مگر بولی نہیں دس سے چالیس لاکھ ہوگئے تھے خانم حیران تھی یہ اب تک کی سب سے بڑی بولی تھی ۔۔۔چالیس لاکھ ایک ۔۔۔۔دل کی دھڑکن رک گئی تھی۔۔۔۔چالیس لاکھ دو۔۔۔۔۔۔جان حلق تک آ گئی تھی ۔۔۔۔
…. Fifty gold coins