Khuwab O Lams By Binte Aaslam Readelle50317 (Khuwab O Lams) Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
(Khuwab O Lams) Episode 8
…… Singal
وہ اس وقت اس کی پروفائل چیک کررہی تھی ۔شاہ زیب اس سے کانٹیکٹ کرو یہ واقعی ہی ہماری ہیلپ کر سکتا ہے ۔ نہیں یہ ہماری مدد نہیں کر سکتا یہ کچھ دنوں تک ر یزائن کر رہا ہے ۔۔۔ کیوں پتہ نہیں جب یہ اللہ یار کے ڈیرے سے واپس آیا تھا اس کے فادر کی ڈیتھ ہوگئی اور اس کے بعد سے یہ میڈیا سے غائب ہے اس کا فون نمبر ملاو بات کرتے ہیں اس سے ۔۔وہ کچھ پریشان ہوگئی تھی ۔ اس کا نمبر کل 3 بجے سے بند ہیں مگر ہم کو شش کر رہے ہیں کرتے رہو کبھی تو کانٹیکٹ ہوگا اور ہاں جب کال ملے تومجھے بتانا ۔۔۔ یہ کہ کر وہ لیپ ٹاپ پر بزی ہوگئی ۔ یس میم ۔۔۔۔۔وہ باہر چال گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر واپس آیا ہی تھا جب اسے کچھ گرنے کی آواز آئی تھی ۔۔ وہ بھاگتا ہوا کچن میں گیا تھا ۔وہاں نورسٹول پر چڑھی اوپر کیبنٹ سے کچھ ڈھونڈ رہی تھی ۔اور سٹول ہل رہا تھا وہ گرنے ہی والی تھی جب زائر نے اس نے اسے بچایا تھا ۔وہ اس کی گود سما گئی تھی ۔
اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں ۔زائر اس کی اس حرکت پر فدا ہوگیا تھا ۔ وہ قدم قدم چلتا کاوئنڑ تک آیا تھا اور اسے وہاں بٹھا دیا تھا ۔نیچے زمین پا کر اس نے آنکھیں کھولیں تھیں اور سامنے زائر کو دیکھ کر بوکھلا گئی تھی ۔ ” کچن میں کیا کر رہی تھیں ۔” اس نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا تھا۔” وہ میں ۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔کچھ ڈھونڈ رہی تھی ” کیا ۔۔۔۔۔وہ اس کی بالوں کی خوشبو سے مدہوش ہورہا تھا بھیگی گردن پر اسکا نرم لمس گرم لگا تھا ۔۔۔۔۔۔ لگی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ ہچکچائی تھی ۔۔۔ اور اسے کے ساتھ زائر کے ہواس واپس آئے تھے وہ سیدھا ہواتھا ۔
” او ! خدایا میں بھی کتنا بے وقوف ہوں ۔۔۔مجھے یاد ہی نہیں رہا ابھی تو کچھ لایا بھی نہیں میں ۔۔۔۔اہہہہ۔۔سینڈوچ کھاؤ گی ۔۔۔۔۔ یا پزا روکوں میں فریج میں چیک کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ فریج کی طرف گیا تھا ۔۔۔۔وہ
فریج میں گھسا ہوا تھا جب وہ کاؤنٹر سے آگے ہوتے اسے دیکھ رہی تھی وہ گرنے لگی تھی سنبھل گئی تھی ۔۔۔۔ زائر نے اسے د یکھ لیا تھا ۔۔۔” یہاں سے گری تو صرف باہوں میں آؤ گی گود میں آنا ہے تو ویسے اٹھا لو ۔اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا وہ ڈائری سے نمبر ڈھونڈ رہا تھا ۔اس نے شرما کر رخ بدل لیا تھا ۔۔
تبھی اس کا فون بجا تھا کوئی انجان نمبر دیکھ کر اس نے کال ریسیو کی ۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔۔وہ ہنوز ڈائر ی کھنگال رہا تھا ۔۔۔
…….. .Is this zair Momin
۔…… Yes who are you
…… This is officer lums malik
اور اسی کے ساتھ اس نے ڈائری نیچے کی اور ا یک نظر نور کو دیکھا تھا ۔جو .اس کو اپنی طرف پاتا دیکھ کر رخ پھیر گئی تھی۔
Yes officer ! how can I help you?
وہ کچھ حیران تھا اسنے یہ نام سناتھاشاید پہلے کبھی ۔
ہمیں آپ کی مدد چاہیے کیا ہم مل سکتے ہیں ؟ لمس نے بڑے پروفیشنل انداز میں کہا تھا ۔
کس بارے میں ؟ وہ پھر سے ڈائری میں گھس گیا تھا
ملک اللہ یار کے بارے میں ۔ لمس نے بڑے نپے تلے انداذ میں کہا ۔
پر مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی میں بزی ہوں ۔اس نے خود کو پرسکون رکھتے ہوئے کہا ۔دیکھیے ہمیں اپ کی ضرورت ہے اپ ایک بار ہماری بات سن پر سکون تو وہ بھی خود کو رکھ رہی تھی۔
میں نے کہا نا نہیں کر سکتے میں مصروف ہوں ۔ اس نے درشتی سے جواب دیا تھا ۔
Can I ask you in which work you are to much busy?
اسے غصہ آرہا تھا اس کے رویے پر ۔
. I am with my wife.
یہ کہ کر اس نے فون ہی بند کردیا تھا
What a bloody idiot!
اس نے غصے سے فون کر یڈل پر رکھا تھا ۔
پرسکون رہیں ہمیں اس کی ضرورت ہے اسے ہماری نہیں تحمل سے بات کرتے ہیں ۔
ہمممم۔۔۔کوشش کرتے رہنا ۔یہ کر وہ باہر چلی گئ۔
کھانا اس نے منگوا لیا تھا وہ دونوں اس وقت کچن میں موجود ٹیبل اور چئیر پر بیٹھے تھے ۔
وہ دونوں ہی خاموش تھے ۔زائر نے بات شروع کی تھی ۔” مجھے اپ سے یہ کہنا تھا کہ جو کچھ بھی ہوا نہ میرے ہاتھ میں تھا نہ اپ کے ماضی جان نہیں چھوڑتا نہ ہی بدلتا ہے اسے ہمیں اگنور کرنا پڑتا۔ یادیں بری ہوں تو وہ راستے میں پڑے کانچ کی طرح ہوتی ہیں یہ ہمارا فیصلہ ہوتا ہے کہ ہم نے اس کانچ پر چل کر اپنا اپ زخمی کرنا ہے یا اسے اٹھا کر پھیکنا ہے ۔یہ فیصلہ اپ کو کرنا کیوں کے میں پھینک چکا ہوں ۔” وہ خاموش
ہوگیا تھا ۔ اپ نے ا یسا کیوں کیا ؟ سوال اب تک نہیں بدلاتھا۔ اس کا سوال سن کر وہ مسکریا تھا ۔” اپ یہ جاننا چاہتی ہیں کہ میں نے کیوں کیا تو سنیے ۔۔
میرا عشق تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا مشق تو۔۔۔۔۔۔۔۔
توہی آئینہ ۔۔۔۔۔۔۔
تو ہی روبرو۔۔۔۔۔۔
تیرے نام سے جڑ جائے جو۔۔۔۔۔۔۔
میرا نام ہو یا بدنام ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جو دن کہوں تو تیرا دن چڑھے ۔۔۔۔۔۔میں کہوں تو تب تیری شام ہو ۔۔۔۔
رہے انکھوں کے تو حصار میں۔۔۔۔۔۔۔
کوئی سحر ا یسا میں پھونک دوں۔۔۔۔۔۔۔
تیرے بس میں کچھ بھی نہ ہو تیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو وہی کرے جو بس میں کہوں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ خاموش ہوگیا مگر انکھیں اب بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی نے نظر یں جھکالی تھی۔وہ اس کی انکھوں تپشن برداشت نہیں کرسکتی تھی۔اسکی بات کا جواب نہیں دے سکتی تھی مگر دل وہ تو جھوم جھوم کر گا رہا تھا ۔۔
تیرے عشق میں کافر کافر میں۔۔۔۔۔۔۔
ہوئی عشق میں کافر کافر ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے تقریبا نو بج رہے تھے اور وہ سٹڈی میں بیٹھا تھا وہ سگریٹ نہیں پیتا تھا مگر کسی سوچ میں ہی گم تھا جب اسے صارم کی کال ائی تھی۔
اسلام وعلیکم صارم ! کیسے ہو؟ اسنے سادہ سے لہجے میں کہا
تھامیں تو ٹھیک ہوں بڈی مگر اپ کہاں گم ہو ۔” اس نے چھوٹتے کی سوال کیا تھا ۔
کچھ نہیں واپس آگیا ہوں گھر ۔کچھ مصروفیت کی وجہ سے تم سے بات نہیں ہوئی ۔وہ اب بھی پرسکون تھا۔
کونسے کام میں مصروف ہو آپ کے آپ کو پتا ہی نہیں کے کورنگی میں کیا واقعات ہوئے ہیں ۔ وہ حیران تھا ۔
کیا مطلب کیا ہوا ہے ؟ وہ اس کی بات پر متوجہ ہواتھا ۔ بڈی اپ کو واقع ہی نہیں پتا ؟ وہ اور حیران تھا ۔
پہیلیاں مت بجھاؤ سیدھی طرح بتاؤ ۔وہ اب پر یشان ہوگیا تھا۔ بڈی کورنگی کے کسی ٹرنسپورٹ کمپنی کے کلرک کا قتل ہوگیا اور تین دن کے اندر پندرہ لڑکیاں غائب ہوگئیں ۔ کییا!!!۔۔۔۔۔زائر کے تو چودہ طبق روشن ہوگئے تھے ہاں پولیس تو بیچاری ماری ماری پھر رہی ہے کچھ پتانہیں چلرہا سب کہ رہے ہیں ملک کا ہاتھ ہے مگر کوئی ثبوت ہی نہیںمل رہا اس کی تمام جگہوں کو پولیس چی لک کر چکی ہے مگر کچھ نہیں ملا مجھے تو حیرت ہے اپ کیسے ان سب سے ناواقف ہوسکتے ہیں اود وہ بھی ملک کے بارے میں۔وہ شوکڈ تھا۔ اب اسے افیسر لمس کی کال یاد آئی تھی ” صارم تو بھی جانتا ہے لڑکیاں کدھر ہیں پھر بھی ۔۔۔۔۔۔” اسنے دبے دبے غصے سے کہا تھا ۔ پر بڈی وہاں تو کچھ ملا نہیں انھیں ۔وہ ملک کی طرفداری کر رہا تھا صارم مجھے ابھی اس بارے میں کوئی اور بات نہیں کرنی بعد میں بات کرتے ہیں .وہ ڈسڑب ہوگیا تھا وہ صارم سے بحث کرنا نہیں ۔چاہتا اس لیے کمرے میں آگیا تھا مگر کمرے میں آتے ہی اسے ا یک وہ مسئلہ دیکھنے ملا۔نور اتنا بڑھا بیڈ چھوڑ کر صوفے پر سو رہی تھی ۔ اسے دکھ ہوا تھا دیکھ کر کل رات بھی وہ بے سکونی اور بے آرامی میں سوئی تھی ۔اس لیے اس نے اسے گود میں اٹھا یا تھا اور بیڈ پر لٹایا تھا بنا میک اپ کے بھی چہرا چاند کی طرح چمک رہا تھا ۔اس کے ہونٹ کسی کھلے
گلابی پھول کی طرح لگ رہے تھے اس کا دل کیا تھا کہ وہ اسے چھوئے مگر کسی خیال کے تحت وہ اس کے ماتھے پر لب رکھ چکا تھا کہتے ہیں قربت کے لمحوں میں اگر لب چھوڑ کر ماتھا چوم لے تو مانو سچا عشق وہ بھی تو کرتا تھا اس سے ۔وہ اسے دیکھ رہا تھا اسے سکون مل رہا تھا اسے دیکھ کر ” جانتی ہو حسن کہتا ہے میں پاگل ہوگیا ہوں تم نے کیا ہے مجھے پاگل صارم کہتا ہے آپ سب چیزوں سے ناواقف ہوگئے ہیں تم نے کیا ہے مجھے خود میں مصروف کسی اور کو سوچنے ہی نہیں مجھے پتہ ہی نہیں مجھے تم سے محبت کب ہوتی ہے جب تم مجھے دیکھ کر نظریں جھکاتی ہوں یا شاید تب جب ڈرتے ڈرتے مجھے سے بات کرتی ہو ۔ لوگ کہتے ہیں محبت ا یک بار ہوتی مگر مجھے تم سے ہر لمحہ ہر وقت ہوتی ہے ۔ محبت تو تم بھی کرتی ہو مجھ سے مگر کبھی اقرار نہیں کرو گی مگر میں منتظر رہوں گا ان خوبصورت الفاظ کا ان اوقات کا جب تم اپنا آپ مجھے سونپ دوگی ۔
……. I love you from the inner core of my heart
اسکے ماتھے کو ہلکا سا۔ چھو کر وہ دوسرے طرف لیٹ گیا تھا ۔ ابھی کچھ وقت گزرا ہی تھا جب اس کے کانوں میں آواز پڑی تھی۔۔
” بابا! بابا رک جائے مت جائے مجھے چھوڑ کر میں اکیلی کیسے رہو گی ۔۔۔۔” وہ نور تھی جو نیند میں بڑبڑا رہی تھی ۔
” بابا رک جائے پلیز پلیز بابا مت جائے میں کی سے رہوں گی آپ کے بغیر ” نور اسنے اس کا رخ اپنی جانب کیا تھا ۔اسے جگا رہا تھا مگر وہ گہری نیند میں بڑبڑا رہی تھی ۔۔” بابا اندھیرا ہورہا ہے مجھے ڈر لگتا ہے اندھیرے سےمجھے کون بچائے گا بابا رک جائے ۔۔۔۔۔” وہ اسے ہوش میں لا رہا تھا مگر وہ ٹھ نہیں رہی تھی مجبور اسے وہ کرنا پڑا جو وہ نہیں کرنا چاہتا تھا
وہ اس کے لبوں پر جھکا تھا اس کے نچلے ہونٹ کو اپنے لبوں کے حصار میں لیا تھا ۔ اپنے ہونٹوں پر دباؤ پا کر اس نے آنکھیں کھولیں تھیں اسنے اسے ہاتھوں سے پیچھے دھکیلا تھا ۔ نرم ہاتھوں کو اپنے سینے پر محسوس کر کے وہ سمجھ گیا تھا کے آنکھ کھل گئی ہے اس لیے نرمی سے پیچھے ہوا تھا اٹھنے لگی تھی مگر اس نے روک لیا تھا ۔ وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا زائر ہے یہاں تمہارے ہر اندھیرے کو روشن کرنے کے لیے ہر قہرے کے پیچھے کھڑا ہے ۔ ہاتھ ڈال کر اور اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا تھا ۔” سوجاؤ ” یہ کہتے اس نے بھی آنکھیں موند لیں تھیں ۔۔۔ اس کی دل کی دھڑکن اس کے لیے وبال بنی ہوئی تھی اب نیند کہاں آنی تھی ۔ پھر بھی اسنے آنکھیں بند کر لیں تھیں اس محبت کے حصار میں جو اسکی تھی خالص تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کال کی تھی دوبارہ اس نے آتے ہی پوچھا تھا ؟..۔
یس میم پر کوئی۔جواب نہیں فون بند جارہا ہے اس کا پتہ نہیں وہ
ہماری بات سنے گا بھی یا نہیں “
شازیب پر یشان ہوگیا تھا کرے گا کیوں نہیں کرے گا ہم۔اس سے ایک سودہ کرے گے
۔لمس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا ۔
کیا مطلب ؟ شازیب کچھ حیران ہوا تھا ۔
Need of the hour “
کیا ہے بھلا لڑکیوں کا پتہ لگانا اور ہمیں بھی اس کی مدد صرف اسلیئے چاہیے کو وہ اس جگہ کو جانتا ہے ۔ اس کی ہر حرکت سے واقف ہے صرف وہی ہمہیں بتا سکتا ہے
کہ لڑکیاں کہاں ہیں کیوں کے وہ اس کے اڈوں کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے۔” اس نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا تھا ۔ مگر اس میں سودہ کہاں تھا مطلب کس سودے کی بات کر رہی ہیں آپ مجھے سمجھ نہیں آ یا ؟ شاز یب پزل ہوگیا تھا ۔ دیکھو شازیب اس نے چپ جو ہے اللہ یار کے پیچھلے کیسز پر سادھی ہے مگر یہ آج کا ایجنڈا ہے پہلئ بار کورنگی سے لڑکیاں غائب ہوئیں ہیں ہم اس سے سودہ یہ کرے گے کہ وہ صرف اس کیس میں ہماری مدد کرے گا باقی کیسز سے ہمارا
کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم میڈیا اور کسی کو بھی یہ نہیں بتائے گے کہ جرنلسٹ زائر مومن اس میں ہماری مدد کر رہاہے۔” اس
نے بڑے نپے تلے انداز میں کہا تھا
کیا وہ مان جائے گا ۔۔۔شاز یب کو ابھی بھی تسلی نہیں تھی ۔وہ مانےگا مجھے۔ پوری امید وہ مانے گا۔۔۔۔اس نے بلند حوصلے سے کہا تھا ۔
مگر ایک سوال ہے میرے دل میں کے ملک اللہ یار کے بندے جو اڑتے پرندے کے پر گنلیتے ہیں ان سے یہ بچا کی سے ۔۔۔وہ
ایمپریس ہوا تھا اس سے ۔۔۔ یہ تو اب وہی بتا سکتا ہے ضرور اس کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی کڑی ہے اللہ یار کے خالف اس لیے وہ۔خاموش ہے ۔ملے گا تو۔ پتہ چلے گا ۔
………………….
صبح اس کی آنکھ نور سے پہلے کھلی تھی وہ معمول کےمطابق اٹھنے لگا جب اسے اپنے سینے پر نور کا سر نظر آ یا وہ سو رہی تھی ۔۔۔واقعی زندگی میں معصومیت کے ادوار کبھی کم نہیں ہوتے اور سب سے زیادہ معصوم انسان سوتے ہوئے لگتا ہے ۔
چنگا ہسدا تو لگدا ایں ۔۔۔۔۔
ہنجو ڈل ہی نا جائے ۔۔۔۔۔۔
دل ڈردا اے میرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تورل ہی نہ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور ! اس نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا ۔ہممم ۔۔۔۔۔۔ اس نے غنودگی میں کہا تھا ۔
وہ دل سے مسکرایا تھا دل کہ رہا تھا کاش یہ لمحے کبھی ختم نہ ہو ۔
” اٹھو صبح ہوگئی ہے ” ہاتھ اب بھی اس کے بالوں میں تھا ۔ اٹھ جاتی ہوں بابا ۔میں نے کونسا جہاز چلنا ” وہ اب بھی غنودگی میں تھی ۔
اس کی اس بات پر زائر دل کھول کر ہسنا چاہتا تھا ۔مگر اسے اور بھی سنا تھا ۔ جہاز تو نہیں چلانا مگر خدا کو تو منانا ہے نہ بس پندرہ منٹ رہ گئے ہیں ۔۔۔۔۔اس نے ٹائم دیکھتے ہوئے کہا تھا ہائے اللہ میر ی نماز ۔۔۔وہ یکدم اٹھی تھی ۔زائر دل۔کھول کر ہنس دیا تھا مگر وہ رو رہی تھی خواب ٹوٹ گیا تھا بابا چلے گئے تھے ۔
زائر اس کی طرف دیکھ کر خاموش ہوگیا تھا ۔اس نے اس کا نم چہرا اٹھا یا ۔
کیا ہوا ؟ ۔ وہ خاموش رہی تھی ۔زائر اسکے کھلے بالوں میں ہاتھ پھنسا چکا تھا اور اس کے کان کے پاس جاکر اس نے سرگوشی کی تھی ۔”
کیا ہوا ہے “
وہ ۔۔۔بابا کی یاد آرہی ہے ۔۔اس نے روتے ہوئے کہا تھا ۔زائر کا دل دکھا تھا اسلیے خاموشی سے پیچھے ہوا اور اس کے آنسو صاف کیے تھے ۔” جس کی یاد آئے اس پر درود اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں روتے نہیں ہیں وہ بھی تو پر یشان ہوتے ہوں گے۔۔۔اس نے چہرا اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا نے لب اس کے ماتھے پر رکھے تھے ۔اب اٹھو نماز پڑھنی ہے ۔یہ کہ کر وہ چلا گیا ۔دونوں نے نماز ایک ساتھ ادا کی تھی ۔ وہ اس وقت ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا نیوز پر بھی وہی کچھ چل رہا تھا جو صارم نے اسے بتایا تھا ۔ لڑکیوں کا غائب ہونا اور اللہ یار کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنا ۔اس کا فون پھر بجا تھا
۔نمبر وہی تھا ۔اس نے کال ر یسیو کی
جی۔۔۔۔۔دیکھئے مسٹر زائر ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے آپ بس چند منٹ ہماری بات ہی سن لے ۔لمس نے التجا کی تھی ۔ بولیے میں سنا چاہتا ہوں ۔اس نے ٹی وی دیکھتے ہوئے کہا ۔ صد شکر کیا ہم مل سکتے ہیں? ۔لمس نے سکھ کا سانس لیا تھا ۔
دیکھئے مجھے پتا چل چکا ہے آپ مجھ سے کیوں ملناچاہتی ہیں مگر میرے پاس اللہ یار کے خالف کچھ نہیں میں اس کیس کو چھوڑ چکا ہوں ۔۔۔۔۔ مگر ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔مگر میرے پاس کچھ نہیں وقت پورا ہوا اب بات ختم وہ فون رکھنے لگا تھا ۔۔۔۔۔
مسٹر زائر پندرہ لڑکیوں کی عزت کا سوال ہے ۔حوا داغ دار ہوجائے گی ۔وہ اب منتوں پر آ گئی تھی ۔
اور اسی کے ساتھ اس نے دوبارہ فون کان سے لگایا عزت کا سن کر ا یک ہوک اٹھی تھی دل میں نورحیات کا خیال آیا تھا ” میں کیا مدد کر سکتا ہوں آپ کی “.
کیا ہم مل سکتے ہیں ؟ لمس کا حوصلہ واپس آیا تھا ۔
کل دو بجے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جگہ میری پسند کی ہوگی ۔زائر نے احسان کیا ہو جیسے ۔
Ok done!
تھینک یو سو مچ آپ نہیں ۔۔۔۔۔۔وہ ابھئ کہہ ہی رہی تھی جب اس نے فون بند کردیا ۔ ” کھڑوس” اس نے ر یسیور کری ڈل پر رکھا ۔ اس نے حسن کو کال ملائی۔
ہاں حسن ایک کام تھا ۔۔۔۔ حکم کر ۔۔۔۔۔۔۔
انفورمیشن چاہیے کوئی آفیسر لمس ملک ہے ۔۔۔۔اس نے نام یاد کرتے ہوئے کہا ۔
کیا لمس ملک !!!! حسن حیران ہوا تھا ۔کیوں کیا ہوا تو جانتا ہے اسے ؟ زائر نے اس کا تاثر دیکھ کر کہا
یار اسکے بارے میں سنا بہت ہے بہت کیسزز حل کیے ہیں اسنے سینئیر انسپیکٹر ہے بڑی کرخ ہے مگر کبھی
ملاقات نہیں ہوئی ۔حسن نے اسے سب کچھ بتایا ۔ اچھا تو کھلوا اس کا کچھا چٹھا میں بھی تو دیکھوں کونسی ہرنئ ہے جس نے جنگل میں ادھم مچایا ہے ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
