Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Khuwab O Lams) Episode 4

مجھے زائر مومن سے ملنا ہو گا کل لازمی ۔۔اس نے لیٹ کر چھت کو گھورتے ہوئے کہا تھا مگر کیوں رہنے دو کل یونی میں اپنا آخری دن سکون سے گزارو ۔
نہیں ۔ رمشا مجھے اسے بتانا ہوگا میں نہیں چاہتے وہ کسی غلط فہمی میں رہے ۔
ویسے تم نے بتایا نہیں تمیں اس کانام کی سے ؟
تمہیں اب بھی سمجھ نہیں آئی اخبار سے ۔۔ مطلب ۔۔۔رمشا اٹھ بیٹھی تھی ۔ اففففف! یار پتا ہے وہ کون ہے ۔۔۔۔ اس نے آنکھوں میں چمکلے کر بوال تھا ۔
نہیں میں اخبار نہیں پڑتی ۔
یار وہ کراچی کا مشہور صحافی ہے زائر مومن ملک آئے دن اس کی خبر ہوتی تھی آج اسنے اس کو پکڑوا دیا اس قتل کیس کا معمہ حل کردیا۔ایک دور بار تو تصویر بھی چھپی تھی ۔ کیییا! ۔۔۔۔۔یعنی تو اس کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی ۔ وہ حیران تھی ۔
ہاں ۔اس کی عمر پچس سال ہے والدین کا انتقال ہوگیا ہے ۔حافظ قرآن ہے بس ۔۔۔ اس نے اطمینان سے جواب دیا ۔
یعنی تم اسے اب سے نہیں کب سے پسند کرتی ہو۔۔ اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔
میں تو بس مداح تھی وہ۔میری زندگی میں آجائے گا یہ تو سوچا ہی نہیں تھا۔مگر فائدا صبح سب ختم ہو جائے گا ۔ اس کی آنکھوں میں نمی آئی تھی۔
اور اگر وہ صبح نہیں آ یاتو ۔؟ اس نے ا یسے ہی پوچھا ۔۔۔
وہ آئے گا وہ ضرور آئے گا میرا دل کہتا ہے اور میں اس کی
بات ضرور سنوں گی اس نے اپنے آنسوؤں صاف کیے تھے ۔ مگر خانم کو پتا چل گیا تو ۔۔۔اشرف نے بتا د یا تو اسے فکر ہوئی تھی ۔ اس کا بھی بندوبست کر لیا ہے میں نے ا یک دن کے لیے خرید لیا ہے میں نے ۔اس نے اطمینان سے جواب دیا۔ کییا !!مگر کیسے تیرے پاس پیسے تو نے اپنی بالیاں اسے دے دی ۔اس نے اس کے کانوں کی طرف دیکھ کر کہا۔۔
یہی تھیں میرے پاس ۔اب سو جاؤ ورنہ وہ آتی ہوگی دیکھنے وہ لیٹ گئی تھی ۔ مگر ۔۔۔۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی ۔۔ بس ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کسی کے لیے ختم نہیں ہو رہی تھی ۔۔
نیند کوسوں دور تھی ۔۔۔۔
انتظار حائف تھا ۔۔۔۔۔
ایک کو اظہار کرنا تھا ۔۔۔
دوسرے کو انکار ۔۔۔۔۔۔
ایک کو محبت سر شار کر رہی تھی ۔۔۔۔
دوسرے کو مجبوری رلا رہی تھی ۔۔۔۔
ایک خدا سے قسمت پر گلے کررہا تھا ۔۔۔۔
دوسرا اپنے نصیب پر شکر گزاری ۔۔۔۔۔۔
بارش نے ڈیرے ڈال لیے تھے ایک زمین اپنے اندر محبت کی نمی کو محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔ تو آسمان کسی کی حالت پر رو رہا تھا ۔۔۔۔اور وہ چوغہ پوش ان دونوں کے درمیان رقص کر رہا تھا ۔۔۔ رات کسی کے لیے ختم نہیں ہو رہی تھی صبح کا سورج زائر کے لیے محبت کا آغاز بن کر نکال تھا ۔ اور اس کی کرنیں نور کی حوصلوں کو جھلسا رہی تھیں وہ اسمانی رنگ کے کرتےمیں نظرلگجانے کی حد تک خوبصورت لگ رہا تھا کرتے کی استینوں کو ہنوز موڑے گیلے بال ماتھے پر بکھیرے کمرے سے نکل رہا تھا خاور نے اسے بولا
حسن باجمال زائر مومن۔
دلنشین لالے دی شان زائر مومن ۔
ہائے خاور دی جان زائر مومن۔
یہ اسکا بہت پرانا ڈئیلاگ تھا جب کبھی وہ عید یا کسی فنکشن کے لیے تیار ہوتا ” ہاہاہا تمہاری یہ عادت گئی نہیں ابھی؟” ٹیبل پر بیٹھے ہنس دیا تھا ۔” نہیں زائر بھائی پتہ نہیں کیوں جب آپکو ایسے دیکھتا ہوں تو دل خودی بول اٹھتا ہے ویسے ایک بات بتائیں آج نہ تو آپکی سالگرا ہے نہ ہی عید شبرات تو پھر لڑکیوں پر قہر کیوں ڈھا رہے ہیں ؟” خاور کا اشارہ اس کام والی پر تھا جو اس تصویر کو چوتھی بار صاف کررہی تھی اور مسلسل زائر کو دیکھ رہی تھی زائر کے منہ میں گئی چائے پلٹ آئی تھی اسنے ایک نظر اس نوکرانی کو دیکھ کو شرمندہ سی ہوکر وہاں سے چلی گئی خاور لوٹ پوٹ ہوگیا تھا” چپ! اسنے خاور کو جھڑکا مگر اسکی اپنی خوشی نہیں رک رہی تھی وہ واقعی ہی آج بہت خوش تھا ۔
” بتائیں نہ کہاں جارہے ہیں چچا میاں پوچھے گے تو کیا کہوں گا ؟” …” ایک ضروری کام سے جارہا ہوں پورا ہوگیا تو ایک گڈ نیوز سناو گا.”
” بیسٹ آف لک زائر بھائی !” خاور کے دعائیں لیتا زائر نورحیات ملنے چلا تھا ۔وہ اس وقت شیشے کے سامنے کھڑی تھی ۔آج اسے اپنی ساری ہمت جمع کرنی تھی ۔اسے سب بتانا تھات ی ار ہو۔۔۔۔۔وہ رمشا کی۔ آواز پر چونکی تھی ۔
ہمم ۔۔۔۔۔ اس نے عبایا پہنتے ہوئے کہا تھا ۔ میں اب بھی کہ رہی ہوں چھوڑ دو اپنا راستہ بدل لو کل وہی سے ہی سب ختم ہو جانا ہے ۔رمشا نے آخر ی کوشش کی تھی ۔
نہیں مجھے اسے سب بتانا ہے آگر دوبارہ زندگی میں اس کی ملاقات ہوئی تو وہ اپنا راستہ بدلے ناکہ وہ مجھے سے
آکر پوچھے اور یقین جانو تب میرے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہوگا ۔ یہ کہتے ہی اس نے اپنا بیگ اٹھا یا تھا جب رمشا نے کہا ۔ ” ہوسکے تو اس سے آنکھ اٹھا کر بات مت کرناتمہاری آنکھوں میں پنپنے والے ہر جذبے کو پہچانتا ہے وہ کہی تمہاری آنکھوں میں اسے محبت دکھ گئی تو کیا جواب دو گی ۔”
رمشا کی نصیحتوں کو سنتی نورحیات زائر کی محبت سے
مکرنے چلی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت اسی جگہ موجود تھی جہاں سے سب شروع ہوا تھا اک اک لمحہ اس کی آنکھوں کے سامنے چل رہا تھا ۔ وہ ابھی تک نہیں آیا تھا ۔اس کے دل میں اک ٹیس اٹھی تھی آگر وہ واقعی نہیں آیا تو ۔ نہیں وہ اس سے ملے بنا نہیں جا سکتی ۔وہ ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی جب وہ اسے آتا دیکھائی دیا انھوں نے دوسرے کو دیکھ لیا تھا ۔وقت تھم گیا تھا دونوں قدم قدم چلتے ایک دوسرے کے پاس آرہے تھے ۔ زائر کے بڑھتے قدموں کے ساتھ دل کی دھڑکن بھی بڑھتی جا رہی تھی اور نو ِرحیات کا ہر اگلا قدم پہلے سی بھاری ہو رہا تھا
۔ایک محبت فتح کرنے آیا تھا تو دوسرا جنگ سے پہلے شکست قبول کرنے ۔زائر خوش تھا مگر نورحیات
گھڑی کی سوئیوں کو چھو رہے ہیں اس طرح ۔۔۔
جی سے مجرم گن رہا ہو سزا اپنی ۔۔۔۔۔۔۔
دونوں ا یک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے نظرے دونوں کی نیچی تھی ۔ ایک کی شرماہٹ محبت کی وجہ سے تھی تو دوسرا خوف کے مارے نظر نہیں اٹھا رہا تھا ۔
دونوں کو ہی سمجھ نہیں آرہی تھی کی بات شروع کیسے کرے دیر دونوں ا یک دوسرے سے نظریں چراتے رہی پھر ایک ساتھ بولے تھے مجھے بتانا ہے کچھ ۔ زائر مسکرا دیا تھا مگر نور کے حوصلے ٹوٹتے جارہے تھے ۔خاموشی پھر آگئی تھی پھر زائر نے کہا تھا ۔” کہی بیٹھ کر بات کریں ۔
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا کچھ دیر وہ دونوں کسی ہوٹل میں بیٹھے تھے ۔ ” آپ کو مجھے کچھ بتانا تھا مطب کہیے میں سن رہی ہوں ” نور نے نظریں جھکا کر کہا تھا اور اس کا یہ عمل زائر کی دل پر چھپ رہا تھا ۔ وہ ۔۔۔۔۔مجھے یہ بتانا تھا کہ شاید آپ کو کچھ عجیب لگے مگر یہ سچ ہے کہ مجھے۔۔۔مجھے سچے خواب آتے ہیں اور میں نے آپ کو خواب میں ہی دیکھا تھا میرا مطلب شاید خدا نے آپ کو
میرے لیے چنا ہے نہیں مجھے آپ کے لیے چنا یا شاید ہم دونوں کو ایک دوسرے کے لیے چنا ہے ۔اتنا کنفیوز تو کبھی امتحیان میں نہیں ہوا تھا
۔” خدا !! آگر وہ ہمیں ا یک کرنا چاہتا تو تم میں اور مجھ میں اتنا بڑا فرق نہ ہوتا ا یک کو آسمان دوسرے کو زمیں نہ کرتا ۔” یہ اس نے صرف دل میں سوچا تھا کہا تو صرف یہی تھا ۔” یہی کہنہ تھا آپ کو؟
نہیں کہنا تو یہ تھا کہ مجھے ۔۔۔۔مجھے آپ سے ۔۔۔۔۔مجھے آپ سے محبت ہے ۔۔۔۔اس نے اپنی ساری ہمت جمع کر آنکھیں بند کر کے کہا تھا ۔
” اس کے اس آخری جملے اور معصومانہ حرکت پر نور کا دل کسی نے مٹھی میں لیا تھا ۔ بس یہی تو وہ سنا نہیں چاہتی تھی ۔ میں سچ کہتا ہوں میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور میں کوئی آوارہ دیوانہ نہیں ہوں ۔ ایک شریف انسان ہو جو آپ کو اپنے نکاح کے حصار میں لے کر ایک سادہ زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں ۔ اس نے اپنے برقعے کو مٹھی میں جکڑا ہوا تھا اس کی ہمت نہیں ہورہی تھی اسے نظر اٹھا کر بھی دیکھ سکے ۔” اپ۔۔۔۔اپ کیوں
کرتے ہیں مجھ سے محبت ۔۔۔۔اس نے یہ کیوں پوچھا وہ خود نہیں جانتی تھی ۔
” پتا نہیں مجھے کیوں ہوئی میں نے کبھی کسی لڑکی کے لیے یہ محسوس نہیں کیا جو آپ کے لیے کرتا ہوں ۔
مجھے لگتا ہے مجھے آپ سے محبت اسلیے ہے کیونکہ آپ
کو مجھ سے خدا نے ملایا ہے یا شاید آپ میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی ہیں یا شاید مجھے آپکی آنکھوں سے محبت ہے مگر مجھے واقع ہی نہیں پتہ مجھے آپ سے محبت کیوں ہے آنکھیں بند کرتا ہوں تو آپ آنکھیں کھولتا ہوں تو آپ کی آواز سنائی دیتی ہے منزل کی طرف جاتا ہوں تو قدم خوبخود آپکے راستوں پر آجاتے ہیں محبت کا مفہوم تلاشتا ہوں تو آپ کس پورا وجود میرے سامنے کھڑا ہوجاتا ہوں بتائیں میں کیا کروں ؟”نور کا ضبط جواب دے گیا تھا اسنے نظر اٹھا کر دیکھا زائر کے ہوش ہی اڑ گئے تھے اسکی آنکھیں ضبط سے لال ہوگئی تھیں ۔
” آپ۔۔۔آپ رو کیوں رہی ہیں میری کوئی بات بری لگی آئیم سوری!” ۔۔” آپ میرا پیچھا چھوڑ دیں مجھے آپ سے محبت نہیں ہے ۔۔” ساری ہمت مجمع کرکے کہا ۔
” کیوں دیکھیں میں آپکو پہلے ہی بتا چکا ہوں میں کوئی آوارہ لڑکا نہیں جو صرف وقت گزار رہا ہے مجھے سچ میں محبت ہے میں آپکی فیملی سے ملنے کے لیے تیار ہوں ۔
” میری فیملی کبھی نہیں مانے گی مجھے آپ سے محبت نہیں ہے نہیں کر سکتی اور سوچے اگر میں ویسی نہ ہوئی جیسا آپ سوچتے ہیں تو ؟”کمزور دلیلیں دے رہی تھی ۔
” میں نے تو کبھی آپکے بارے میں سوچا ہی نہیں میں تو آپ کو سوچتا ہوں اس نقاب کے پیچھے کیسا چہرا مجھے کوئی غرض نہیں مجھے آپکو محسوس کرنا آپکے حسن سے مجھے کیا لینا ۔” جو اسے انکار کرنے آ ئی تھی اور اپنے بارے میں بتانے آئی تھی اس کے تمام حوصلے ٹوٹ چکے تھے الفاظ ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔سمجھ نہیں آرہا تھا ۔اس کی آخری بات پر اس کی بس ہو گئ تھی ۔ پھر اس نے کچھ سوچتے ہو ئی بیگ سے پیپر پین نکلا اور کچھ لکھنے لگی زائر اسے بڑی دلچسپ سے دیکھ رہا تھا ۔ اس نے نوٹ پھاڑ کر زائر کے ہاتھ میں د یا تھا ۔اور اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کے مجھے اپ سے محبت کی وں نہیں ہے تو کل اس جگہ آجائیے گا یہ کہ کر رکنا نہیں چاہتی وہ چل پڑی تھی اب وہ اور اس کے پاس نہیں تھی ۔ زائر نے بھی اسے نہیں روکا تھا یا شا ید وہ اُسے وقت دینا چاہتا تھا ۔ شہِری ار میں ۔۔۔۔۔ آج اک مدت گزر گئ ہمیں
دالسہ دل ابھی وقت ہے د یدار میں ۔۔۔۔۔۔
چِٹ نے ہاتھوں میں پکڑے وہ گھر واپس آگیا تھا۔خاور نے چہک کر پوچھا ہوا کام ؟
” نہیں ابھی تو نہیں مگر مجھے امید ہے ہوجاو گا ۔وہ یہ کہ کر کمرے میں ا یا اور ر یت کی طرح بیڈ پر بکھر گیا تھا ۔وہ یہ سوچ سوچ کر پاگل ہوگیا تھا اس نے انکار کیوں کیا کیا وہ مجھے باقیوں جیسا سمجھتی ہے تو پھر اس نے یہ کیوں دیا اس نے اک بار پھر چٹ دیکھی تھی ۔اب اسے کل کا انتظار تھا ۔ پتہ نہیں کل کیا ہوگا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
وہ بھاگتی روتی ہوئی اپنے کمرے میں۔ آئی تھی اور بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ کر آنسوؤں کو آزاد کرنے لگی تھی ۔۔ نور۔۔۔ نور کیا ہوا ہے ؟ رمشا نے اسے دیکھ لیا تھا اس لیے اس پیچھے آئی تھی ۔ وہ اب اس کے گلے لگی رو رہ ی تھی ۔رمشا۔میں نے کہا تھا نہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے میں بھی کرتی ہوں رمشا میں اسے بہت محبت کرتی ہوں یار ۔۔۔۔۔ وہ رو رو کر اظہار کررہی تھی ۔ نور تم نے اسے سب بتا د یا نا ۔۔ نہیں میں اسے کچھ نہیں بتا سکتی اس کے اظہار نے سارے حوصلے توڑ دیے ہیں میرے ۔۔۔۔ وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی ۔تو پھر ۔۔۔رمشا نے اسے خود سے الگ کیا ۔۔۔ رمشا وہ کہتا ہے کہ وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے میری فیملی سےملنا چاہتا ہے کہتا ہے اسے فرق نہیں پڑتا نقاب ۔۔پیچھے کیسا چہرا ہے مجھے تمہارے حسن سے کوئی لگاؤ نہیں ہے رمشا میں اس کے بغیر مر جاؤ گی بچالو مجھے ۔۔۔۔اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا ۔
نور رونا بند کرو تم تو اس سے دور جانا چاہتی تھی نہ اب۔۔۔۔؟؟؟؟ اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا میں نے کل اس کو فارم ہاؤس بلایا ہے ۔۔اس نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا تھا ۔ کیییا ۔۔۔۔۔یہ کیا کہ رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔ میں یہ چاہتی تھی کی اسے مجھ سے نفرت ہو جائے اور کل اسے مجھ سے نفرت ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔ یہ کیا کیا تم نے پتا نہیں اب کل کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے