Khuwab O Lams By Binte Aaslam Readelle50317 (Khuwab O Lams) Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
(Khuwab O Lams) Episode 2
” جی میں کچھ سمجھی نہیں !” آواز تھی یا سر بکھیرے تھے کسی نے وہ تو ساکن اسے دیکھ ہی رہا تھا جب وہ چلی گئی ۔چھٹ فٹ دو قد انچ کا زائر مومن جو منہ پر داڑھی تو نہیں رکھتا تھا مگر حافظے قرآن تھا الہامی خواب دیکھتا تھا کالے لباس میں کسی بھی لڑکی کا دل فنا کرسکتا تھا وہ اس وقت اپنے خدا کے انتخاب پر رشک کر رہا تھا ۔آستینیں موڑے ایک ہاتھ سینے پر باندھے دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی منہ پر رکھے ساکن تھا جب کان میں سر گوشی ہوئی” کیا سوچ رہے ہو تمہاری ہی ہے ۔” سر گوشی کافی واضع تھی اسنے ادھر ادھر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا ۔پھر سر جھٹک کر چل دیا فون مگر وہ تو گیا اب وہ حسن کو کیسے بتائے گا وہ مل گئی۔
” لیجیے زائر بھائی آگئے !” وہ دروازے سے آندر آیا ہی تھا جب خاور نے اسے لیپ ٹاپ پکڑا دیا ” کون ہے ؟”سکرین دیکھے بغیر ہی اسنے سوال کیا ۔” بھووو بڈی!!”سکرین پر مسکراتا دلنشین چہرے جگمگا رہا تھا۔
” او صارم کیسے ہو ؟” بغیر کوئی تاثر دیے لیپ ٹاپ لیکر کمرے میں آگیا ۔
” میں تو ٹھیک ہوں پر بڈی مجھے لگتا ہے آپ ٹھیک نہیں ہیں ؟”اسنے مسکراتے ہوئی کہا ۔
” نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے !” مسکرایا وہ پھر نہیں تھا ۔
” بڈی کیا بات ؟” چہرے کے تاثرات سنجیدہ کرتےوہ آگے جھکا ” صارم تمہارا ٹرانسپورٹ کا بزنس ہے نہ؟”
” جی بڈی آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ؟” وہ کچھ حیران ہوگیا اسنے ایک گہرا سانس لیا ” ملک اللہ یار سے تمہارا کیا تعلق ہے ؟” اس بات پر صارم کے چہرے پر واضع ایک رنگ آکر گیا تھا ۔
” بڈی کیا ہوا ہے ؟” لہجے کو تھوڑا بلند کرتے ہوئے وہ اور سنجیدہ ہوگیا تھا زائر کو اسکی ڈھٹائی پر رشک آرہا تھا ۔” میں نے پوچھا ملک اللہ یار سے تمہارا کیا تعلق ہے؟ دبے دبے غصے میں گراہٹ تھی ۔
” وہ ۔۔۔۔وہ دوست ہے .” اسنے اطمینان سے جواب دیا ۔
” اچھا کیسے بنا یہ دوست ؟” اسے اب غصہ آرہا تھا ۔
” ایک دوست کے زریعے ملا تھا اس سے مدد کی تھی اسکی تب بنا تھا۔” “دوست مائی فٹ! تمہارا وہ لیاری کا چھٹا ہوا غنڈا ہے سمگلر ہے ریپسٹ ہے کڈنیپر ہے اور مدد کس مدد کی بات کررہے ہو جس کے لیے تم نے ڈی سی پی حیات ملک کو مار دیا یہاں لاہور بلا کر ۔۔۔”اسکی بات سن کر اسے کچھ حیرت نہیں ہوئی تھی وہ جانتا تھا کہ وہ پتہ لگا ہی لے گا ۔” او تو آپکو سب پتہ چل گیا اب آپ میرے خلاف جائیں گے؟” اسکی بات پر وہ بے بسی سے مسکرایا” صارم جب تم پیدا ہوئے تھے نہ بابا سے ضد کر ہے تمہیں پہلا چمچ منہ پلایا تھا پورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی کہ میرا بھائی آیا ہے ہم آپ سب کو تنگ کریں گے تم نے تو سب کو ازیت میں ڈال دیا ۔”
” ایموشنل بلیک میل کررہے ہیں !” آنکھیں اسکی بھی پرنم ہوگئی تھیں ۔
” بلیک میل نہیں کررہا بس یہ کہہ رہا ہوں واپس آجاو میں بچا لوں گا اس سے پہلے تم تک کوئی پہنچ جائے ۔” اب وہ ایک مجبور بھائی تھا ۔
“بھائی آپ کو پتہ ہے طارق بن زیاد نے ہستیاں کیوں جلائی تھیں ؟”
صارم اس واقع کو غلط رنگ مت دینا!”اسنے تنبیہ کی۔” پتہ ہے کیوں جلائی تھی تاکہ جب انکا ڈر ان پر حاوی ہوجائے تو انکے پاس رہ فرار نہ ہو انکے سروں پر۔منڈلاتا سایہ انکے اپنوں تک نہ پہنچے میں بھی اپنی تمام کشتیاں جلا چکا ہوں آپکو پتہ ہے میں وہاں کیوں نہیں آیا کیوں ڈیڑھ سال سے امریکہ میں ہوں میں نہیں چاہتا کسی پتہ چلے آپ کے بارے میں ابا کے بارے میں اور خاور کے بارے میں یہی تو اپنے ہیں میرے اسلیے اب راہ فرار ممکن نہیں ہے ۔”کافی دیر ان دونوں کے بیچ خاموشی حائل رہی پھر صارم ہی بولا ” بڈی آپ کو تو مجھ نفرت ہوگئی ہوگی ؟”
” نہیں صارم میں تم سے کبھی نفرت نہیں کرسکتا چھوٹا بھائی ہے میرا !” وہ بے بسی سے مسکرایا ۔
“مگر میری گارنٹی نہیں جس دن مجھےآپ سے نفرت ہوئی اس دن میں آپکو بڈی نہیں بلاوں گا پورا نام لوں گا .” اسنے ماحول بدلنے کے لیے کہا” اور اس دن میں آپکا منہ توڑ دوں گا “صارم صارم نے ہنس کر کال ڈسکنکٹ کردی تھی ” آئی ہیٹ یو بڈی ! لیپ ٹاپ کی بند سکرین کو گھورتے ہوئے کہا ۔زائر نے لیپ ٹاپ بند کرکے میز پر رکھ دیا وہ پھر سے نورِحیات کی یادوں میں کھونا چاہتا تھا آنکھیں بند کرتا تھا تو وہ آنکھیں کھولتا تھا تو وہ۔۔۔اپنی حالت سے بیزار آگیا تھا وہ ججھنجھکا کر اٹھ بیٹھا جب زبان سے بے ساختہ نکلا
میری آوارگی میں تمہارا بھی دخل ہے محسن
تمہاری یاد آتی ہے تو گھر اچھا نہیں لگتا ۔
” ہووہائے زائر! کیا بول رہا ۔” وہ پریشان ہوگیا تھا مگر دل تھا کہ عجیب محبت بھرے شعر پڑھ رہا تھا ہائے ! زائر کیسی باتیں کر رہا ہے تو استغفار استغفار اس نے کانوں کو ہاتھ لگائے تھے مگر دل عجیب ہی محبت بھرے شعر پڑھ رہا تھا ۔ وہ اس کی یادوں میں پھر کھونا چاہتا تھا جب اسے
خیال آیا مجھے اس سے پھر ملنا ہو گا ہاں کل ملوں گا پھر۔تھینک یو اللہ جی تھینک یو سو مچ اور ہاں وہ بوجھ والی بات سیریس مت لیجیے گا ۔ وہ تکیاں اپنی باہوں میں سما کرپستر پر لیٹ چکا تھا ۔
اور وہی دور کھڑا وہ سفید پوش اس کی یہ حالت دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
ایسی عشق بازار دی ِریت دیکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
لکھاں سو آئے تے رسید کوئی نہ ۔۔۔۔۔۔۔
جنے اس جہان وچ پیر پایا۔۔۔۔۔۔
اودی غمی کوئی نہ اودی عید کوئی نہ۔۔۔۔۔۔
اگلے دن وہ وقت سے ہی اس جگہ پر موجود تھا جہاں اسے پہلی بار ملا تھا ۔آج وہ سفید شلوار قمیض میں دونوں ہاتھ سینے پرباندھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا تھا ۔سیاہ آنکھوں اور ماتھے پر بکھرے بالوں سے وہ معصومیت کا شہزاد لگ رہا تھا ۔اپنے جوتے کی نوک سے وہ زمین پر پڑے پتھر سے چھڑ چھاڑ کر رہا تھا۔
وہ کافی دیر سے اس کا انتظار کر رہا تھا جب وہ اسے آتی دکھ گئ ۔نظر اس کی طرف اٹھی اور پلٹنا بھول گئی کالاعبایا وہاں موجود ہر رنگ کو ماند کر رہا تھا ۔ اس کے بڑھتے قدموں کی چاپ نے اس کی حس سماعت کوسن کردیا تھا آنکھیں رات کی عکاسی کر رہی تھیں اس نے اسے دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا احساس تو تب ہوا جب وہ سامنے سے گزر گئی بات سنیے ۔۔۔۔۔اس نے پیچھے سے پکارا تھا تبھی وہ پلٹی تھی۔
آپ۔۔۔۔۔۔آپ پھر آگئے کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ ۔وہی عام لڑکیوں والی باتیں ۔
ایک منٹ میری بات تو سنے مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے
۔مگر مجھے کچھ نہیں سنا آپ جی سے۔۔۔۔۔۔۔
ارے یہ کیا۔کیا تو نے ۔۔۔۔اس کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی جب اس کے کانوں میں۔یہ آواز پڑی ۔ ان دونوں نے بیک وقت اس کی طرف دیکھا
کیا کیا مطلب؟ چھوڑ دیا ساتھ چائے کی دوکان پر دو پولیس
اہلکار بیٹھے تھے اس لڑکے نے تو اپنے دوستو کے ساتھ مل کر ایک لڑکی کا گینگ ریپ کیا۔تھا اور تو نے اسے چھوڑ دیا ۔” دوسرے اہلکار نے حیرت سے پوچھا ۔
ارے یار ! آئے دن ایسے ناجانے کتنے کیس الہور کی گلیوں میں ہوتے رہتے ہیں تو کیا سب کو انصاف ملتا ہے نہہیں نہ اور کیا سب ایمانداری سے کام کرتے ہیں وہ مجھے اچھی خاصی رقم دے رہے تھے اس کی ۔پہلے نے کہا ۔ پھر بھی تو نے اپنا ضمیر بیچ دیا ۔دوسرے نے کہا۔ بھوک سے مرنے سے تو اچھا ہے ضمیر بیچنا اور ویسے بھی اتنا سب کچھ کرنے کے بعد یہ حکومت ہمیں کیا دیتی ہے سینے پر ایک تمغہ اور قلیل تنخوا جو آدھی ٹیکسوں اور آدھی فیسوں میں چلی جاتی ہے باقی سب کے لیے خود سوچنا پڑتا ہی بھائی
۔اس نے اطمینان سے چائے کا کپ منہ سے لگایا ۔
“ویسے کبھی کبھی مجھے لگتا ہے پہال زمانہ ٹھیک تھا جب
جسموں کی بولی لگتی تھی ضمیر کی نہیں ۔اس نے انھیں دیکھتے ہوئے کہا تو مگر وہ اس کی طرف متوجہ ہو گئ تھی ۔ حیرت کی بات ہے نا ہمیں سکھایا جاتا ہے کے انسان ازل سے آزاد ہے پھر تب کوئی اپنے اوپر کسی کا بھی حق تسلیم کر سکتا تھا کوئی کیسے کسی کی خواہشات اور خیاالت پر حکمرانی کر سکتا ہے ؟ وہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ زمین پر ۔ ” مجبوری ” جب مجبوری کا قفل ربان پر پڑتا ہے نہ تو اپنی تمام خواہشات کو پ ِس پشت پر ڈالنا پڑتا ہے ۔ضمیر کو تھپکی دے کر سلانا پڑتا ہے ۔خدا جو چاہتا ہوتا ہے مگر اس کے لیے زمین والوں کو بہت کچھ سہنا پڑتا ہے ۔کوئی بھی انسان یہ نہیں چاہے گا کے اس کے جسم سوچ اور نفس کی بولی لگے ۔چاہے خدا کے ہر فیصلے میں بہتری کیوں نہ ہوں ہاتھوں میں زہر کے پیالے کو پینے سے پہلے انسان دس بار سوچیں گا۔ مصر میں چاہے حضرت یوسف کے لیے بادشاہت انتظار کر رہی تھی مگر اگر حضرت یعقوب کو پہلے پتہ ہوتا تو وہ کبھی بھی اپنے نو ِرنظر کو بازاروں میں بکنے نہ دیتے ۔مجبوری یہی تھی پتہ نہیں۔تھا ” وہ اب بھی زمین کو ہی دیکھ کر کہ رہ تھی۔ تمہاری آنکھوں کا ایک جزبہ تو زبان پر آگیا بے بسی ۔اتنی مجبور اور بے بس کیوں ہو ۔ یہی کہنا تھا آپ کو ۔۔۔۔اس نے نظریں اٹھائے بنا کہا تھا ۔ اور اس کے اس عمل پر وہ فدا ہو رہا تھا ۔
نہیں کہنا تو میں چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔
اشھد للا االللا ۔۔۔۔۔۔
وہ بولنے ہی لگا تھا جب ظہر کی اذان کی آواز آئی تھی۔
نماز ۔اگر اب میں نے بات شروع کی تو میری نماز رہ جائے گی
معاف کیجئے گا مگر میں نماز قضا نہیں کر سکتا آپ جا سکتی ہیں ۔ اور یہ پہلی بار تھا جب نور نے نظر اٹھا کر دیکھا تھا مگر وہ مڑ چکا تھا ایک عزت کا جزبہ اٹھا تھا اس کے دل میں یا شاید کسک اس لیے پکار اٹھی ۔۔
حی یا للا فلاح ۔۔۔۔۔۔۔
کا جواب دینے جارہے ہو ہو سکے تو اسے چھوڑ کر دوبارہ اس راستے پر مت آنا ۔۔۔۔۔۔۔ مڑی تھی ۔مگر زائر چند لمحوں کے لیے حیران رہ گیا تھا
جاری ہے ۔۔۔
