Khuwab O Lams By Binte Aaslam Readelle50317 Last updated: 10 November 2025
No Download Link
Rate this Novel
Khuwab O Lams
By Binte Aslam
اگلی صبح اسکی آنکھ جلدی کھل گئی تھی ۔ا یک عجیب سا سکون تھا ۔خوشی کی رمک تھی وہ واقعی ایک خوبصرت صبح تھی ۔نور کا سر اس کے سینے پر تھا رات کو بہت کوشش کے بعد بھی اس نے محبت کا ا یک لفظ نہیں کہا تھا ۔ لیکن پھر بھی ُ ایک تسلی مل گئی تھی کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے ۔دن پر نور تھا زائر کو بے ساختہ خواب یاد آیا تھا مگر اس نے اپنا ذہن جھٹک دیا تھا وہ کچھ بھی یاد کرنا نہیں چاہتا تھا خاص کر ابھی تو بلکل نہیں اسے پورا یقین تھا وہ اپنے رب کو منا لے گا ۔۔۔۔ اس نے اس کا سر تکیے پر رکھا اور اس کا چہرا بغور د یکھا تھا کتنی معصوم تھی کتنے خوبصورت تھی اور سب سے بڑ ی بات ساری کی ساری اس کی تھی یہ احساس ہی اس کے کا ملیت کا تھا ۔سوتے ہوئے تو وہ اور بھی پیاری لگتی تھی اس کے لیے تو بندہ قتل ہوجائے اور اس کے ہونٹ ِجسے رات کو پہلی باراس نے اتنی لمبی گفتگو کرتے سنا تھا اب خاموش تھے اس کا دل کیا تھا انھیں چھونے کا تبھی وہ اس کے لبوں پر جھکا تھا مگر تبھی اس نے اپنا گداز ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھا تھا جھٹ سے آنکھیں کھولیں تھیں زائر اس کی اس حرکت پر حیران رہ گیا تھا ۔ "زائر میرا ہاتھ ! اس نے درد سے کہاتھا ۔وہ اس سے فورا دور ہوا تھا وہ اور وہ بیڈ سے بھاگنے والے انداز میں اٹھ کھڑی تھی ۔ کیا ہوا ہاتھ ؟ وہ پریشان ہوگیا " کچھ بھی تو نہیں ہوا یہ دیکھے یہ تو ٹھیک ہے " اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔ " تو پھر تم نے ایسے کیوں کہا جھوٹ بولا " زائر کوحیرت جھٹکے لگ رہے تھے یہ ا یسی بھی ہے ۔ " ہاں اگر نہیں بولتی تو ابھی مجھ پر اٹیک ہونا تھا آپ کو شرم نہیں آتی کسی کے سونے کا کتنا غلط فائدا اٹھاتے ہیں آپ " اس نے مصنوعی غصے سے کہا تھا ۔ " وہ جو کسی ہے نہ میری بیوی ہے پورا حق میرا " اس نے بھی تن کر کہا تھا ۔ " اور اپنا بچاؤ کرنا میرا حق ہے " جواب بھی تڑاکے سے آیا ۔ اسنے الماری سے کپڑے نکالے تھے ۔"نور کمرا لاکڈ ہے اور کمرے تمہارے اور میرے سوا کوئی نہیں پھر تمہیں کون بچائے گا " یہ کہ کر وہ بیڈ سے اترا تھا وہ دو قدم اس سے پیچھے ہوئی اور وہ دوقدم آگے ۔ " واش روم " وہ واش روم گھس میں گئی تھی اور دروازہ بند کر لیا تھا ۔ اور دروازے کے باہر کھڑے زائر کی خوشی کہ انتہا نہیں تھی پہلی بار وہ نور کو ہنستے مسکراتے دیکھ رہا تھا اس کے آنکھوں میں شرارت کی چمک دیکھی تھی ایک دن میں کتنا کچھ ۔وہ بدل گیا تھا اس کی نور اس کی نور حیات بن گئ تھی وہ واپس بیڈ پر آگیا تھا جب اسنے فون آن کیا حسن اور آفیسر لمس کی کتنی ساری ِمسڈ کالز تھیں ۔وہ ابھی انھیں دیکھ ہی رہا تھا جب دوبارہ فون بجا آفیسر لمس تھی " آگئی صبح موڈ خراب کرنے " مگر کیس کو لیکر اسے فون اٹھانا پڑا ۔ جی آفیسر ؟ " " تھینک گاڈ آپ نے فون اٹھایا سر آپ اپنا فون کیوں بند رکھتے ہیں آپ کو کیا چور پڑتے ہیں جو ہر وقت چھپے رہتے ہیں ہم کل رات سے فون کر رہے ہیں آپ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" فضول بات یں مت کیجئے میرے پاس وقت نہیں ہے جلدی بولیں اس کی بات کاٹنا تو جیسے اس کی عادت بنتی جارہی تھی ۔ " سر آپ کو یہ بتانا تھا کے سرچ وارنٹ مل گیا ہے آج ہم نے فیکڑی جانا ہے " اس نے اپنے اوپر قابو پا کر کہا تھا ۔ اس کا دل ڈوب گیا تھا آج ہی کیوں وہ نور کو چھوڑ کر نہں جانا چاہتا تھا " آج جانا ضروری ہے ؟ " ۔ جی سر پلیز منع مت کیجیے گا آپ نے کہا تھا " اسے یقین تھا اگر اس نے یہ پوچھا ہے تو وہ انکار کر دے گا ۔ اچھا ٹھیک ہے کتنے بجے ؟ وہ اداس ہوگیا تھا ۔ سر گیارہ بجے ۔۔۔۔۔ہم آپ کو لینے آئے؟ اس نے شکر کیا تھا جلدی مان گیا ۔ "نہیں میں خود آجاؤ گا سیدھا فیکٹر ی" نور واش روم سے باہر آگئی تھی زائر کو فون پر دیکھ دبے پاؤں نکلنے والی تھی ۔۔ " اوکے سر تھنک و سو مچ سر اور پلیز اپنا فون۔۔۔۔۔۔کال کٹ گئی تھی ۔"سچ میں زائر مومن اگر آپ ہٹلر کے زمانے میں ہوتےتو ہٹلر کا دایاں ہاتھ ہوتے ۔" اسنے فون کو گھورتے ہوئے کہا تھا ۔ وہ دبے پاؤں ابھی دروازے پر ہی پہنچی تھی جب زائر نے اسے پکڑ کر دیوار سے پِن کیا تھا ۔اپنی چوری پکڑی جانے پر وہ دونوں ہنس پڑے تھے وقت کتنا خوبصورت تھا " کہاں جارہی تھی " اس نے اپنا چہرا اس کے قریب کیا تھا ۔گیلے بالوں کی خوشبو اسے مدہوش کر رہی تھی ۔ " کییچن " اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا آنکھوں میں شرارت کی چمک اب بھی تھی ۔ " کیا کرنے ؟" اس نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی کپڑے دھونے ۔ الٹے سوال کا الٹا ہی جواب آیا تھا ۔ وہ جھٹ سے سیدھا ہوا تھا ۔ ہیں !!!! کچن میں کپڑے !!!! وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ " ہاں عجیب ہے نہ کچن میں تو کھانا بنتا ہے تو میں بھی وہی بناؤ گی بھوک لگی ہے ناشتہ بنانے جارہی ہوں " نور نے رسانی سے جواب دیا ۔ہاں . بھوک تو مجھے بھی لگی ہے چلو ایک کام کرتے ہیں ا یک دوسرے کو کھا لیتے ہیں ۔۔ " آپ ہوں گے آدم خور میں نہیں ہوں آپ کا پیٹ بھرتا ہوگا اس سے میرا نہیں " وہ باہر چلی گئی تھی اور وہ وہی مجنوں کی طرح کھڑا تھا پھر واش روم میں گھس گیا تھا۔۔ وہ نہاں کر باہر آیا تھا جب وہ کچن میں کچھ بنا رہی تھی اور مسلسل مسکرا رہی تھی مگر خاموش تھی وہ بھی مسکرا رہا تھا مگر خاموش تھا ۔۔ خاموشیاں الفاظ ہیں ۔۔۔۔۔۔ تم سنے تو آؤ کبھی ۔۔۔۔۔۔۔ چھو کر تمہیں کھل جائے گی ۔۔۔۔ گھر ان کو بلاو کبھی ۔۔۔۔۔ بے قرار ہے بات کرنے کو کہنے دو ان کو زراااا ۔۔۔۔۔۔۔ خاموشیاں ۔۔۔۔ تیری میری ۔۔۔۔۔۔ خاموشیاں ۔۔۔۔۔۔وہ دیکھ کر حیران تھا کیا یہ وہی نور کے جسے وہ لاہور میں ملا تھا ڈری سہمی سی یہ تو اس سے زیادہ خوبصورت ہے لگتا ہے وقت رک گیا تھا اور آج ابھی سے شروع تھا خوشیوں سے ۔۔۔۔۔۔ کیا اس گلی سے کبھی تیرا جانا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ جہاں سے زمانے کے گزرے زمانہ ہوا ۔۔۔۔۔۔ میرا سمیں تو وہیں پر ہے ٹھہرا ہوا۔۔۔۔۔ بتاؤ تمیں کیا میرے ساتھ کیا کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاموشیاں اک ساز ہیں تم دھن کوئی لاو ذرا ۔۔۔۔۔۔ خاموشیاں ۔۔۔ تیری میری ۔۔۔۔ خاموشیاں ۔۔۔۔۔ وہ ٹیبل پر بیٹھا تھا جب اسنے اس کے سامنے کوئی ڈش رکھی تھی ۔ "زائر چکھ کر بتائے کیسا ہے " دیکھنے میں وہ کوئی سویٹ ڈش تھی ۔زائر نے مسکرا کر چمچ منہ میں ڈالا تھا اور واپس رکھ دیا تھا ۔منہ کے زاویے کچھ اور ہی تھے ۔ " نور تم کھانا مت بنایا کرو " اس نے افسوس سے سر جھٹکا تھا۔ " کیوں کیا ہوا میں انڈے کی حلوا مزے کا بناتی ہوں " وہ پریشان ہوگئی تھی ۔ " نہیں جب تم کھانا بناتے ہوئے وہ سپائس باکس اپنی ان انگلیوں سے کھولتی ہو نہ تو دل کرتا کے وہ میرے ہاتھوں میں ہوں ۔جب تم کنفیوز ہوکر ادھر ادھر دیکھتی ہو تو دل کرتا ہے باہوں میں بھر لوں ۔جب تم اپنا ماتھا پونچتی ہو تو دل کرتا ہے اسے چوم لوں اور جب تو اپنا ہونٹ دانتوں تلے دباتی ہو تو مت پوچھو مجھ سے کنٹرول نہیں ہوتا ۔اور یہ ڈش بہت مزے کی ہے مگر ان سے زیادہ نہیں اسنے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی تھی۔ " نہیں زائر ۔۔۔۔۔نو ۔۔۔نو۔۔۔۔۔وہ بھاگ کھڑی ہوئی تھی اور زائر اس کے پیچھے وہ دونوں ڈرائنگ روم میں آگے پیچھے بھاگ رہے تھے ۔ نور سیڑھیاں چڑھ کمرے میں جا بند ہوگئی تھی ۔زائر باہر کھڑا تھا ۔۔ " نور تم کیوں بھول جاتی ہو یہ میرا گھر ہے میرے پاس دوسری چابی ہے وہ ددوازہ کھول کر اندر آگیا تھا ۔ زائر نو ۔۔۔مگر اسے دیوار کے پن کیے اسکے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا دیوار کے ساتھ لگی کلائیاں آزاد ہونے کی کوشش کررہی تھیں آخر اسکو رحم آگیا چھوڑ کر اسکا لال سرخ چہرا دیکھا وہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی اسنے اسے سینے میں چھپا لیا " کیوٹ!" وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔شکل سے تو بڑے معصوم لگتے ہیں ۔" " میں نے کہا تھا نہ ایسے مت آیا کرو میرے سامنے تمہیں دیکھ کر تہذیب ادب کا ہر دائرہ بھول جاتا ہوں میں " اس نے بے بس ہوکر کہا تھا ۔نور اس کی اس بات پر منہ بصور گئی تھی ۔۔اس کے قربت کے لمحے جلد ختم ہوگئے تھے گیارہ بج گئے تھے آفی سر لمس طوفان میل کی طرح اسے فون کر رہی تھی اسلیے اسے بجھے دل کے ساتھ جانا پڑا ۔ نور بھی خاموش ہوگئی
