Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Khuwab O Lams) Episode 1

وہ بھاگ رہا تھا مسلسل بھاگ رہا تھا نہیں جانتا تھا پیچھا کرتے کرتے کہا آگیق تھا وہ رک کر اپنے گردو پیش کا جائزا لے رہا تھا رہا پھر سے بھاگنا شروع کیا جب اسکی ٹکر ایک نرم گداز وجود سے ہوئی وہ نقاب پوش چہرا اور بس آنکھیں عیاں ہوتی ہوئیں کیا نہیں تھا ان آنکھوں محرومی بے بسی دکھ اک الگ ہی جہان تھا جو ویران تھا اسی کے ساتھ اسکی آنکھ کھل گئی وہ اٹھ بیٹھا تھا جانتا تھا نیند آنا مشکل ہے یہ خواب اسکے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی اسکے خواب آنے والی حقیقتوں کا پیشہ خیمہ ہوتے تھے وہ آکثر دوسروں کے بارے میں ہوتے تھے مگر یہ پہلی بار تھا کہ وہ خوبصورت اس میں موجود تھا یعنی اسکی زندگی میں کوئی اہم بات ہونی والی یا ہو کہیں طوفان آنے والا تھا ۔
” زائر !زائر ! وہ اپنے کمرے میں پیکنگ کر رہا تھا جب حسن آوازیں دیتا وہاں آگیا اور ٹھٹک کر رک گیا سامنے کا منظر نہایت غیر متوقع تھا ۔” زائر تو کہیں جارہا ہے ؟”
” ہاں وہ چچا میاں بیمار ہیں تو انکے پاس لاہور جارہا ہوں صارم کام کی وجہ سے امریکہ میں ہوتا ہے اکیلے ہیں ۔۔” وہ نہایت الجھے الجھے انداز میں سامان باندھ رہا تھا ۔
” ہاں یہ بھی ٹھیک ہے تو جائے گا تو تیرا دل بھی لگ جائے گا یہاں پر تو ویسے بھی اکیلا ہوتا ہے میں بھی کام کی وجہ سے تجھ سے مل نہیں پاتا ۔”
ہم! اس حادثے کے بعد بس یہی جواب تھا اسکے پاس ہر سوال کا حسن کب سے اسے ایسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
” کیا بات ہے زائر تم ٹھیک تو ہو کوئی پریشانی ہے کیا ؟”وہ ایکدم پلٹا ” میں نے پھر سے ایک خواب دیکھا ہے کل رات !” اسنے ایک ہی سانس میں جواب دیا ۔
” یا اللہ خیر ! اب کیا دیکھ لیا ابھی تو انکل کی موت کو ایک سال نہیں ہوا !” وہ ڈر گیا تھا ۔
” میں بھاگ رہا تھا پتہ نہیں کونسی جگہ تھی رہا پھر بھاگا جب میں کسی لڑکی سے ٹکرایا ۔وہ آنکھیں !! وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں بیان کررہا تھا ۔
” کییا!!!حسن پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا” نہیں ایک منٹ تم نے لڑکی کہا یا میں نے غلط سنا لڑکی اور تیرے خواب میں!”
” ہاں اسنے نقاب کیا اسنے نقاب کیا تھا مگر اسکی آنکھیں ایسے جیسے مدد کے لیے پکار رہی ہوں میں بھلا نہیں پارہا تھا ۔”
” او ! مسٹر زائر مومن کن جذبات میں بہہ رہے ہو میرا نہیں خیال تم نے آج تک کسی لڑکی کو نظر اٹھا کر بھی دیکھا ہے چار گوڈ سیک وہ صرف ایک خواب تھا یار اتنا پریشان ہونے والی کونسی بات ہے ۔” اسنے اسے تسلی دی ۔
” نہیں میرے خواب بے مقصد نہیں ہوتے ہر ایک کوئی نہ کوئی اشارہ ہوتا ہے اور اس میں تو میں خود تھا یعنی اسکا تعلق مجھ سے جڑا ہے ۔”
” میں نے کہا تھا مسٹر زائر مومن ملک اتنے خواب نہ دیکھا کر کفارا کیسے ادا کرے گا یہ لڑکی کہیں وہی کفارا تو نہیں ہائے تجھے اس سے عشق تو نہیں ہونے والا ۔”حسن نے بات مزاق میں اڑا دی تھی ۔
” بکواس بند کر یہ لڑکی وڑکی کے چکر میں میں نہیں پڑتا میں بس خدا سے محبت کرتا ہو اور اپنی محبت کا معاملہ بھی میں نے خدا پر چھوڑ دیا ہے جو قسمت میں ہوگی مل جائے گی ۔”اسنے بیگ کی زپ بند کی اور کندھے پر اٹکا لیا بلیک شرٹ بغیر داڑھی مونچھ کے گول چہرا نہایت پر کشش لگ رہا تھا ستائیس سال کی عمر میں وہ ایک کامیاب جرنلسٹ تھا مگر ایک حادثے نے اسے اسکے پیشے سے دور کردیا ۔
” تو چل بیٹا خدا نے تیرے لیے چن لی عشق مبارک او سوری ہونا والا عشق مبارک!”
” چل اب یہ بک بک بند کر فلائٹ کا ٹائم ہورہا ہے چھوڑ کر آ۔۔۔۔”
” ہاں چل ! کہتے وہ باہر کی طرف چل دیے ۔
“وہ آئیر پورٹ پر بوڈنگ پوری ہونے کا انتظار کررہا تھا جب ایک آدمی پر نظر پڑی وہ ” بیٹا اپنا دھیان رکھنا صرف پڑھائی پر دھیان دینا !” اسکے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی تھی اسکا باپ بھی تو یہی کرتا تھا نصحتیں اسے آج بھی اسے وہ دن یاد تھا وہ بستر پر اپنے بیمار باپ کا ہاتھ پکڑے بیٹھا تھا ” زائر تمہارے خواب خدا کی طرف سے لوگوں کی فلاح چاہتے ہیں خوش نصیب ہو تم پر خدا کا فضل ہے میں نے تمہارا نام زائر مومن رکھا زائر یعنی مسافر ہمیشہ خدا کی تلاش میں مسافر بںے رہنا یہ وہ مسافت ہے جو تھکنے نہیں دیتی مومن یعنی خدا کی ماننے والا خدا کی مانا اپنی مت منوانا کبھی اس سے ضد میں مت کرنا وہ پوری تو کردے گا مگر بہت کچھ کھونا پڑے گا کبھی بھی یہ سوچ کر پیچھے مت ہٹنا کہ وہ چیز تمہارے حق میں بہتر نہیں ہے ۔
” جی بابا میں ہمیشہ یہ بات یاد رکھو گا اور عمل بھی کروں گا اب آپ آرام کریں ۔” ان پر کمفرٹر اڑھا کر وہ باہر آگیا اسی رات اسنے خواب دیکھا تھا کہ وہ اپنے بال کے ساتھ کہیں جارہا ہے پھر اچانک کچھ لوگ آئے اور اسکے باپ کو لے گئے وہ آوازیں دیتا رہ گیا ۔دو دن بعد اسکی موت ہو گئی ۔وہ فلائٹ میں بیٹھا تھا کہ اچانک اسکی آنکھ لگ گئی قدرت کو اسکے خواب کا دوسرا سرا جو جوڑنا تھا ۔
وہ صحن تھا مگر کس کا مسجد کا بادشاہی مسجد کا صحن تھا مسجد کا لال رنگ دلہن کی طرح نکھر آیا تھا مسجد کے صحن میں سارا نور اتر آیا تھا ۔دائیں طرف سے آتے چند لڑکے اور ان میں وہ سہرے والا چنبیلی کے پھولوں کا سہارا چاندی کا برق لگتا تھا وہ صحن کے وسط میں کھڑے تھے اور پردے کے پیچھے کوئی مارخ کھڑی تھی گھونگھٹ نکالے یہ تمام کاروائی مسجد کے ایک کونے میں کھڑے ایک چوغہ پوش کی آنکھوں کے سامنے ہورہی تھی جو مسکرا کو سب دیکھ رہا تھا ۔قاضی نے نکاح پڑھنا شروع کیا ” زائر مومن ولد بشر مومن آپکو یہ نکاح۔۔۔۔۔”
” بیٹا منزل آگئی لاہور آگیا !” الفاظ پورے ہونے سے پہلے ہی کسی نے اسے جگا دیا تھا ۔
” نکاح میرا نکاح مگر کس کے ساتھ یا میرے مالک مجھ پر ایسا کوئی بوجھ مت ڈالنا جو میں سنبھال نہیں پاوں ابھی تو ایک کا شکریہ ادا نہیں کرسکا ۔۔۔” وہ پتہ ہاتھ میں پکڑے سڑکوں پر گشت کر رہا تھا ٹرانسپورٹ والوں کی ہڑتال تھی ۔وہ تین سال بعد لاہور آیا تھا اسکے چاچا نے گھر بدل لیا تھا جو مل ہی نہیں رہا تھا ۔وہ پریشان ہوتا آگے بڑھ رہا تھا جب اسکی ٹکر کسی فقیر سے ہوئی۔” دافع ہوجاو کتے کی اولاد ! وہ ناجانے کسے مغلات سے نواز رہے تھے۔
” بابا آپ ٹھیک ہیں ؟اس فقیر نے اسے دیکھا ” تو ۔تو آگیا جو بچا لے اسے خدا بھیج دیا اسے جا بچا لے ۔۔”
” کک۔۔۔کسے بچا لوں بابا ! وہ انکے الفاظ سن کر پریشان ہوگیا تھا ۔
” وہ پاکیزا ڈال پر کھلنے والے پہلے پھول کی طرح اس پہلے اسے کوئی مسل دے بچالے وہ بےواقوف نہیں جانتی اپنی چاہ کو پانے کے لیے کس غلاظت میں قدم رکھ چکی ہے ۔بچا لے اسے زائر مومن!”
” کک۔۔کسے بچا لوں اور آپ کو میرا نام کیسے پتا ہے !” کاٹو تو بدن میں لہو نہ ہونے کے برابر تھا ۔
” نورِحیات کو ! اب تک یہی جواب آیا تھا۔
” نورِحیات! اسنے زیر لب دوہرایا ” نور حیات کون نورِحیات ؟”
” زائر بھائی آپ ! اسنے ابھی یہ سوال کیا ہی تھا جب اسکے عقب سے آواز آئی اسنے پلٹ کر دیکھا ” خاور تم !”
” جی زائر بھائی میں آپ یہاں کیا کررہے ہیں اور ائیر پورٹ سے کب نکلے ۔”
” ایک گھنٹہ ہوگیا پتہ میرے پاس ہے مگر مل ہی نہیں رہا تھا ۔میں یہاں اس بابا جی کی مدد کررہا تھا ۔
” کونسے بابا جی ؟” خاور نے ادھر ادھر نظر دوڑا کر پوچھا ۔
” یہ میرے پیچھے !” وہ پلٹا تو وہاں سچ میں کوئی نہیں تھا ۔” ابھی تو تھے یہیں!”
” چھوڑیں ہوگا کوئی چلیں گھر چلتے ہیں ۔” خاور اسے ہی لینے آیا تھا۔
جہاں سے زائر گیا تھا ٹھیک اسی جگہ وہ چوغہ پوش کھڑا تھا مسکرا کر اسے دیکھتا ہوا یعنی وہ خوابوں نہیں اسکی حقیقتوں کا حصہ دار تھا ۔
” پتہ نہیں زائر بھائی چچا میاں کیسے ہیں نہ کچھ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں بہت بیمار رہتے ہیں اوپر سے صارم بھائی بھی غائب رہتے ہیں پتہ نہیں کونسی ایسی نوکری کرتے ہیں کہ اتنی جلدی حویلی جیسا بنگلہ بھی خرید لیا ہم تو ٹہرے نوکر ذات آپ تو وہ ہیں نہ کیا کہتے ہیں ” جنرلسٹ آپ پتا کرو نہ وہ کیا کام کرتے ہیں ؟”
” جنرلسٹ نہیں جرنلسٹ ہوتا ہے خاور ۔۔” اتنے وقت میں پہلی بار اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ” اب تمہیں کیا بتاوں خاور وہ کس دلدل میں قدم رکھ چکا ڈیڑھ سال سے اسکی کالی کرتوتوں کو اکٹھا کیا ہے میں نے فائل بلکل ریڈی ہے مگر میں شاید کبھی اسکے خلاف نہ جا پاوں جو بھی ہے ایک ہی بھائی ہے میرا ۔۔۔” یک اسنے دل میں سوچا تھا ۔
” لیجیے باتوں باتوں میں گھر بھی آگیا اب تو شام ہوگئی چچا میاں آرام کر رہے ہوں گے آپ صبح مل لینا میں گیسٹ روم کھلوا دیتا ہوں یا صارم بھائی کہہ رہے تھے انکے کمرے میں بھی رک سکتے ہیں یہ خاص عنایت آپ کے لیے ہے ۔!”
” نہیں میں گیسٹ روم میں ہی رہوں گا ۔” خاور نے دروازہ کھولا ” آپ نہا لیں میں کھانا لاتا ہوں .”
کچھ دیر بعد خاور کھانا دے گیا تھا جو اسنے چند نوالے ہی کھائے تھے چیت لیٹا بس ایک ہی نام سوچ رہا تھا ۔
” نورِحیات کون ہے یہ نورِحیات اور مجھے اسے بچانے کے لیے کیوں چنا ہے وہ کس خطرے میں ہے وہ بابا جی کون تھے انھیں میرا نام کیسے پتا وہ کہاں چلے گئے کہیں وہ خواب والی لڑکی وہی تو نہیں اففف! سوال بہت تھے مگر جواب ندارد ۔
تہجد تک وہ جاگتا رہا اٹھا نماز پڑھی پھر سو گیا صبح اسکی آنکھ فجر کی آزان سے کھلی رات اسے کوئی خواب نہیں آیا تھا نماز اور قرآن کی تلاوت کے بعد وہ ناشتے کے میز پر آیا جہاں چچا میاں بیٹھے تھے یہ تو اسکے چچا نہیں تھے یہ تو ناجانےکون تھا جو اتنی بیماریاں گھسیٹ کر چل رہا تھا ۔سلام دعا کے بعد پہلے موزو بشر صاحب اور پھر صارم بن گیا تھا انھیں بھی اس سے وہی گلہ تھا کہ مہنگے سے مہنگا علاج کروا رہا ہے مگر خود نہیں آتا ڈیڑھ سال ہوگیا ہے شکل دیکھے اسکی ۔ناشتے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔
” زائر بھائی کہاں جارہے ہیں ؟” اسے باہر جاتا دیکھ خاور نے پوچھا ۔
” چچا کی یہ حالت دیکھ نہیں سکتا دم گھٹ رہا ہے باہر جارہا ہوں ۔” کہتا دروازہ پار کر گیا ۔
وہ ابھی کچھ دور ہی آیا تھا جب فون بجا کال یس کرنے کے لیے نکالا کی ایک چور نے جھچپٹا اور بھاگ ” ارے میرا فون ! وہ بھی اسکے پیچھے بھاگا ۔۔
وہ بھاگ رہا تھا مسلسل بھاگ رہا تھا نہیں جانتا تھا پیچھا کرتے کرتے کہا آگیا تھا رک کر اپنے گردو پیش کا جائزا لے رہا تھا جب دوبارا چور پر نظر پڑی پھر سے بھاگنا شروع جب کسی نرم گداز وجود سے ٹکر ہوگئی وہ نقاب پوش چہرا وہی تھی ہاں وہ وہی تھی وہ یہ آنکھیں بھول ہی نہیں سکتا یعنی اسکا خواب حقیقت بنا اسکے سامنے کھڑا تھا ۔
ان سے ملاقات کے قصہ ہے پر اسرار ۔۔
ٹکرائے تھے ہم ثنم سے سر بازار ۔۔۔
وہ چہرا تھا یا چاند کی برق۔۔۔
ٹکرائے جو گر گئے ہاتھوں سے چند ورق۔۔۔
ورقوں کو ترتیب دینے کی پریشانی تھی ۔۔۔
جانے کس کی صورت انھیں اس میں بنانی تھی۔۔
اک مومن خدا کا بندا دوسری نور زندگانی تھی
یہ آدم وحوا سی ایک کہانی تھی ۔
نورِحیات آجاو خانم بی انتظار کررہی ہونگی ناراض ہونگی !” وہ اسے دیکھ ہی آرہا تھا جب اسکی ساتھی نے آواز دی ۔
وہ مڑ گئی وہ ہکا بکا سا اسے دیکھ ہی رہا تھا پھر یاد ” رو۔۔روکیں !”وہ دونوں ایک ساتھ مڑی وہ بھاگتا ہوا ان تک پہنچا ” میں نے آپ کو خواب میں دیکھا تھا نہیں میرا مطلب صرف آنکھیں دیکھیں تھی ملطب آپ پوری آئیں میں نے صرف آنکھیں دیکھیں تھیں پھر بابا جی نے آپکو بچانے کو کہا تھا ۔او میرے خدایا کیسے سمجھاوں!” وہ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ حیران اسے دیکھ رہی تھی ۔
جاری ہے