Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Khuwab O Lams) Episode 10

Murder based # Journalist police story based # love game زائر نے بڑی محبت سے اس کی گردن سے بال پیچھے ہٹائے اور اس کے کان سے جھمکا نکالا۔ٹھیک اسی جگہ اپنے لب رکھے تھے ۔وہ اور بھی زیادہ گبھرا گئی تھی ۔کان سےشروع ہوا سفر اب کندھے تک پہنچ گیا تھا ۔ ہاتھ اب بھی کمر میں
ہی تھا دوسرا جھمکا بھی وہ اتار چکا اور وہاں بھی وہی عمل دہرایا تھا ۔اس کی سانسوں کے ساتھ ساتھ اس کے جسم میں بھی لرزش بڑھتی جارہی تھی ۔وہ مڑی اس سے الگ ہونے کی کوشش کی ۔” زائر ” مگر اسنے اس کی ہونٹوں پر انگلی رکھ دی تھی ۔وہ تو بلکل اس لمحے کے سحر میں کھو چکا تھا ۔” خاموش ! مت آ یا کرو میرے سامنے اس طرح تہذیب ادب کا ہر دائرہ بھول جاتا ہوں میں اور جو میرا حق ہے اسے لینے میں
مجھے زرا عار نہیں ” اسنے پھر اسے اپنے قریب کیا ہوا کا راستہ پھر بند ہوگیا تھا ۔اسے پہلے کے وہ وہ کچھ اور کہتی اسے اس کا نرم لمس اپن یبیوٹی بون پر محسوس ہوا ۔ ا یک جھٹکے سے اسنے اسے گود میں اٹھایا اور بیڈ پے لےآیا۔ اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر جھکا وہ اٹھنے لگی تھی مگر وہ کہاں چھوڑنے والاتھا ۔اسنے اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں انگلیاں پھنسا لی تھیں اور پور ی شدت سے اس کے لبوں پر۔جھک کر انھیں اپنی گرفت میں لیا نور نے آنکھیں بند کرلیں ۔وہ اس سے اپنے ہاتھ چھوڑا رہی تھی مگر وہاں ہوش کسے تھا وہ تو مدہوش تھااس نرم لمس میں بنا اس چیز کی غور کیے کہ ہاتھ میں سے خون دوبارہ نکلنا شروع ہوگیا تھا سانسوں کو محسوس کرکے اس سے الگ ہوکر دوبارہ اس کی گردن پر جھکا۔” کیا ہو تم کیوں رکھتی ہو خود میں اتنا مصروف کے کسی بات کا احساس ہی نہیں رہتامجھے ۔” اس نے اس کے گردن پر لب رکھے تھے ۔” کیوں رہتی ہو مجھ سے دورکیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتی ” اس نے اسے اپنے اوپر گریا ہاتھ میکسی کی زپ پر تھا ” زائ۔۔۔۔زائر پلیز اس نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا ۔” نہیں آج نہیں
کہا تھا مت آ یا کروں میرے سامنے ایسے تہذ یب ادب کا ہر دائرہ بھول جاتا ہوں میں اب مجھے کچھ یاد نہیں ” زپ کھلتی جارہی تھی میکسی ڈھلک گئی تھی ۔وہ پھر اس کی بیوٹی بون پر جھکا تھا ۔ “جانتی ہو جب جب میں تکلیف میں ہوتا تمہارے ساتھ سکون ملتا ہے مجھے ” وہ اپنے لبوں کو اسکے کان کے قریب لایا تھا
۔ زائر پلیز مت کریں ” وہ اسے خود سے دور کر رہی تھی اسکے ہاتھ میں درد ہو رہا تھا ۔” بڑھتا ہے شوق ان کی نہیں نہیں سے” اس نے غالب کے شعر کا آدھا فقرہ اس کے کان میں کہا تھا اور اسکی گرم سانسیں اس کی روح تک اتر رہی۔تھیں ” وہ دوبارہ اس کے لبوں پر جھکا تھا ۔وہ جتنی مزحمت کر رہی تھی
گرفت بڑھتی جارہی تھی ۔ ہر بات پر وہ نہیں نہیں کر تی ہی رہ گئی تھی ۔ رات خاموش ہوگئ تھی مدھم سانسیں سانسیں گنگنارہی تھی محبت مکمل ہوگئی تھی رات مکمل ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح جب وہ اٹھا تو اس کا سر درد کر رہا تھا نور بستر پر نہیں تھی۔ دماغ نے ہوش سنبھالا تو رات کا ا یک ایک لمحہ یاد آیا تھا آنکھوں میں خوشی نہیں حیرت در آئی تھی ۔اس نے سر پکڑ لیا تھا ” او میرے خدایا یہ کیا کیا میں نے ” اسے اپنے آپ پر حیرت ہو رہی تھی کے وہ کیسے اتنا بے خود ہوسکتا ہے ۔”
۔نہیں !!نہیں یہ میں کیسے کر۔سکتا ہوں میں نے تو اس کہا ۔تھامیں تب تک انتظار کرو گا جب تک وہ خود مجھے اپنے آپ سونپ نہیں د یتی ۔میں اتنا جاہل ہوسکتا ہو اپنے وعدے سے مکر
گیا ۔وہ کیا سوچ رہی ہو گی میرے بارے میں میں نے اپنی محبت کی بے حرمتی کردی ” اس کا سر چکرا رہا تھا ۔صد شکر کے نور وہاں نہیں تھی ورنہ وہ وہی زمین میں گڑھ جاتا ۔ ٹوٹے قدموں وہ واش روم میں گیا اسے اپنے آپ سے پھر نفرت ہورہی تھی اسے غصہ آرہا تھا خود پر ۔ وہ فریش ہوکر واپس آ یا ۔وہ کچن میں تھی شاید وہ اسے بنا دیکھے باہر چلا گیا ۔وہاں حسن بیٹھا تھا وہ شاید اسے کے لیے چائے بنا رہی تھی ۔وہ صبح صبح شاید کوئی بہت ضروری بات کہنے آ یا تھا ۔مگر اس کی آنکھیں دیکھ کر حیران رہ گیا تھا جو لال ہو چکی تھی ۔ زائر کیا ہوا ہے تو ٹھیک تو ہے ” مگر وہ خاموش۔شرمندہ تھا۔۔ زائر بول نہ کیا ہوا ہےتو ٹھیک تو ہے ؟ حسن اس کی حالت دیکھ کر پر یشان ہوگیا تھا ۔
” نہیں ہوں میں ٹھیک نہیں ہوں” اس کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیاتھا غلطی ہوگئی ہے مجھ سے غلطی نہیں گناہ ہو گیا ہے کبیرا گناہ خدا کی امانت میں خیانت کرد ی میں نے ۔خدا کی امانت کا حقدار بن بیٹھا ۔
یا اللہ خیر اب کونسا خواب د یکھ لیا تو نے اتنی صبح ۔حسن کو لگا شا ید اس نے کوئی خواب دیکھ لیا ۔” کاش یہ خواب ہوتا حقیقت ہوئی تو پشیمانی مار دے گی مجھےمیں اتنا پاگل کیسے ہو سکتا ہوں مجھے نفرت ہورہی ی ہے خود سے یہ میں نے سہی نہیں کیا وہ کیا سوچ رہ ہوگی میں اس کیسے کروں گا ۔” وہ رو رو کر ہلکان ہو رہا تھا ۔ زائر دیکھ بتا مجھے ہوا کیا ہے ۔ حسن اس کی حالت دیکھ کر گھبرا گیا تھا ۔
” میں ایسا نہیں ہوں تو جانتا ہے میں ایسا نہیں ہوں پر پتہ نہیں رات کو مجھے کیا ہوگیا تھا میں۔ کیسے خود کو سنبھال نہیں پایا وہ امانت تھی اور میں نے خیانت کردی اسی کو داغ دار کردیا بے حرمتی کر دی اپنی محبت کی میں تو محبت کرتا تھا اس سے پاک محبت میں ا یسا کیسے کر سکتا مجھے حفاظت کے لیے سونپی گئی تھی اور میں نے ہی اس کی چادر کو تار تار کردیا میں اتنا وحشی کیسے ہوگیا ۔” اسنے اپنے بالوں کو جکڑ لیا تھا ۔رات کاایک ا یک پل اسے شرمندہ کر رہا اپنی نظروں سے گرا رہا تھا ۔ خدا کے سامنے کیا جواب دوں گا کیوں کیا۔میں نے ایسا کیونکہ میں بے قابو ہوگیا تھا ۔ پر میر ی بیو ی بھی تو ہے وہ کیا وہ ۔میرا حق نہیں ہے ۔” اپنی رو بولے جا رہا تھا ۔
حسن سمجھ چکا۔تھا اسلیئے اسے اس کی حالت پر حیرت ہو رہی تھی وہ یہ سوچ بھی کیسے سکتا ہے ۔
” زائر تو پاگل ہے کیا کیا سوچ رہا ہے ایسا کچھ نہیں ہوتا ہاں وہ تیری بیوی ہے تیرا حق ہے اس پر کچھ غلط نہیں ہوا ۔وہ اسے سمجھا رہا تھا ۔”۔ نہیں میرا اس پر کوئی حق نہیں تھا میں نے زبردستی کی رضامند نہیں تھی ” لہجا ٹوٹ گیا تھا ۔ دیکھ زائر مجھے تجھ پر غصہ آرہا ہے تو ا یسا کیسے سوچ سکتا ہے کیا ہوگیا ہے تجھے ؟ حسن سکتے میں آگیا تھا ۔ پتا نہیں مجھے کیا ہوگیا ہے میں بدل گیا ہوں ۔ مجھے اس کی تکلیف سے ڈر لگتا مگر میں نے خود اسے تکلیف میں ڈال دیا
۔اگر یہاں آفیسر لمس ہوتی تو واقعی ہی دیکھ کر حیران رہ جاتی کہ زائر کا یہ روپ بھی ہے ۔ تو ان سے تو بات کر ۔ نہیں ۔ نہیں میں اس کے سامنے نہں جاسکتا تو مجھے لے جا دوست ہے نہ میرا مجھے لے جا ابھی یہاں سے پل ز وہ حسن کی منتیں کر رہا تھا ۔
حسن کو بھی یہی بہتر لگا تھا وہ اسے لے گیا تھا مگر بیچ راستے وہ گاڑی سے اتر گیا تھا ۔وہ مسجد جانا چاہتا تھا ۔ مسجد میں آنے کے بعد وہ سجدے میں گر کہا تھا۔۔
” یا میرے مالک مجھے معاف کردے میں میں جانتا ہوں نہیں میں معافی کے قابل مگر معاف کر دے اپنے اس
حقیر بندے کو ۔۔۔۔۔ وہ سجدے میں پھر گر گیا تھا لفظ ساتھ چھوڑگئے تھے تو صرف ندامت کے آنسو ۔۔۔۔وہ سفید چوغہ پوش اس کے پاس آیا تھا ۔ اج اس کے چہرے پر افسوس کی لہر تھی ۔۔۔۔۔ کہا تھا نہ جبر نہیں صبر کرو اب سزا ملے گی “
جاری ہے